Baaghi TV

Category: کیمیات

  • تمباکو  نوشی کی وجوہات  ونقصانات   تحریر   سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@

  • ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    وہ شخصیت جسے ہم محسن پاکستان کہتے ہیں اس کا نام ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    جی ہاں یہ وہ آدمی تھا جس نے ہالینڈ کی امریکی ڈالروں والی نوکری چھوڑی اور پاکستان میں کم پیسوں والی نوکری کی تاکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جا سکے جب ڈاکٹر صاحب پاکستان آنے لگے تو انھیں کچھ نقشے اور ایٹمی سینٹری فیوجز کی معلومات تصاویر درکار تھیں اس کو حاصل کر نے کے لئے ہالینڈ سے وہ معلومات اکٹھی کرنا بے حد ضروری تھا اس زمانے میں ہالینڈ جسے نیدرلینڈ بھی کہا جاتا ہے وہاں ایٹمی معلومات موجود تھیں اب باری تھی کہ ان کو حاصل کیسے کیا جائے اس کے لئے ڈاکٹر صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ کے زمے کام لگایا وہ وہیں کی شہریت رکھتی تھیں انھوں نے بغیر کسی انکار کے وہ سب معلومات حاصل کیں اور جب ہالینڈ سے پاکستان جانے کا وقت آیا تو ڈاکٹر صاحب نے اہلیہ سے پوچھا کیا تم میرے ساتھ چلو گی یا یہیں رہو گی ان کی اہلیہ نے کہا نہیں میں آپ کے ساتھ جاؤں گی اب مرحلہ آتا ہے کہ یہ معلومات رکھی کہاں جائیں اس کے لئے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے وہ معلومات بجائے سوٹ کیس یا بیگ میں رکھنے کے خاص جگاہوں پر چھپائیں جہاں کوئی نا محرم چیکنگ نہیں کرسکتا تھا اس زمانے میں اتنی ٹیکنالوجی نہیں آئی تھی کہ اتنی گہرائی میں اسکیننگ ہوسکے اس کے بعد ان کی اہلیہ نے وہ معلومات رکھیں اور دونوں پاکستان روانہ ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب تک جہاز پاکستانی سر زمین پر لینڈ نہیں کر گیا سارے راستے ٹینشن میں رہے کچھ معلومات یہ بھی آئیں تھیں کہ ہالینڈ کی حکومت کو علم ہو چکا تھا کہ کچھ معلومات یہاں سے حاصل کی گئیں ہیں لیکن جب تک دونوں پاکستان بخیریت پہنچ چکے تھے یہ ہے ان دونوں کا احسان ہمارے اوپر

    اب مرحلہ آیا کہ پاکستان میں سینٹری فیوجز اور ایٹمی معاملے سے متعلق چیزیں کس طرح پاکستان امپورٹ کی جائیں کیونکہ یہ معاملہ اتنا آسان نہ تھا اس کے لئے اس وقت کے مشہور تاجر سیٹھ عابد کو ایپروچ کیا گیا جن کا تعلق بڑی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں سے بزنس تھا
    سیٹھ عابد سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود ملے اور یہ معاملہ پھر باقاعدہ ریاستی اور حکومتی ہو چکا تھا ڈاکٹر صاحب نے سیٹھ عابد سے کہا کہ مجھے کچھ مال چاہیے کیا آپ منگوا سکیں گے جس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ حکم کریں پاکستان کے لئے جان بھی حاضر جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز چاہیے اب یہ آپ کیسے لائیں گے منگوائیں گے مجھے پریشانی ہے اس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ پریشان نا ہوں بس یہ حکم کریں کہ کیا چیز کس وقت اور کہاں چاہیے پہنچ جائے گی اور پھر کچھ مال اسکریپ کے زریعے کراچی امپورٹ ہؤا اور وہاں اس کو جان بوجھ کر اسکریپ میں ہی پڑا رہنے دیا گیا تاکہ اس وقت کی بین الاقوامی طاقتوں خاص کر امریکہ کو علم نا ہو اسی طرح آہستہ آہستہ یہ سب معاملات حل ہوتے چلے گئے ایٹمی سرنگیں تو کافی پہلے ہی کھودنا شروع کی چکی تھیں لیکن امریکہ ہمیشہ جاسوسی کرنے میں لگا رہتا تھا اور اسے شک بھی ہؤا تھا جس پر مختلف دور حکومت میں ایسے کمال کے اور گھما پھرا دینے والے بیانات آئے کہ امریکہ کو بہت دیر سے جا کے علم ہؤا کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار پر کام مکل کرلیا ہے بس اب تو صرف ٹیسٹ کرنے کی دیر ہے ایک دور میں امریکہ کو شک ہؤا لیکن پاکستان نے بڑی ہی خوبصورت لہجے میں یہ کہا کہ جناب ہمارے پاس ایٹمی طاقت کہاں ہے ہم تو غریب سے ملک کے لوگ ہیں لیکن جب ﷲ کومنظور ہوتا ہے تو سب کچھ ہو جاتا ہے اور پاکستان ایٹمی طاقت کی صلاحیت سے ہمکنار ہؤا

    یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر اس پر لکھا جائے تو کتابوں کے اوراق ہاتھ اور قلم سب ختم ہو جائیں مگر اس سے متعلق باتیں ختم نا ہوں
    ﷲ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے آمین پاکستان آج ایٹمی طاقت ہے اور اس نے یہ ہتھیار کم سے کم ڈیٹرینس کے لئے بنا کررکھے ہیں ورنہ یقین کریں آج اگر پاکستان ایٹمی صلاحیت سے محروم ہوتا (ﷲ نا کرے)
    تو صورتحال بلکل مختلف ہوتی جس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے

    آخری اور اہم نوٹ
    اس کالم میں کچھ ایسی معلومات بھی ہیں جو مجھے اپنے آباؤ اجداد سے ملی ہیں اگر کوئی اعتراض کرنا چاہے تو بلکل کرسکتا ہے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو میں نے سنا ہو وہ من و عن درست ہو

    اسی کے ساتھ یہ کالم اب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے

    @M1Pak Twitter id

  • رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں   زرتاج گُل

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں زرتاج گُل

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت ، زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے کی 57 مصنوعات جن میں کچھ بین الاقوامی برانڈز شامل ہیں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پرو پاکستا نی نیوز ویب سائٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 59 میں سے 57 کریم میں مرکری کی سطح 1pbm سے زیادہ ہے جو تشویش کی بات ہے۔

    گل نے کہا کہ رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کے تیار کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سال 2020 کے آخر تک مصنوعات سے پارہ یعنی مرکری کی سطح کو 1pbm تک کم کرے۔

    زرتاج گُل نے بتایا کہ حکومت جلد کی مصنوعات میں پارے اور دیگر نقصان دہ مادوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن اشتہاروں کی حوصلہ شکنی کریں۔

    پروپاکستانی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت صنعتوں کو مرکری فری مصنوعات بنانے کی ترغیب دے رہی ہے اور مرکری کے استعمال سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا سفید رنگ کی کریم بنانے والوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔

    زرتاج گل نے کہا "ہم نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے بہت سے مینوفیکچررز کے سی ای اوز سے ملاقات کی اور ان سے مصنوعات سے مرکری ختم کرنے کو کہا۔”

    زرتاج گل نے مزید کہا کہ رنگ گورا والی کریموں میں پارے کی ضرورت سے زیادہ مقدار خطرناک ہے۔

    گل نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی برانڈ ‘فیئر اینڈ لولی’ نے وزارت کی سفارش پر اپنا نام تبدیل کرکے ‘گلو اینڈ لولی’ رکھ دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) حکومت کو مالی اعانت فراہم کررہی ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو مرکری اورمرکری کےمرکبات سے بچایا جاسکے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے ٹوئٹ میں زرتاج گُل نے بتایا کہ رنگ چٹا کرنے والی ہر وہ کریم جس میں پارے کی مقدار خطرناک شرح تک ہے، اس کے خلاف میری وزارت ایکشن لے رہی ہے، لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔ ایسی ہر کریم کا غیر مناسب پرچار نہ صرف معاشرتی گراوٹ اور کم خود اعتمادی کا باعث ہے، بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ہے۔

    حریم شاہ کا خوبصورتی سے متعلق خصوصی پیغام

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

    سہانا خان کو رنگ پر تنقید کا سامنا ، سوشل میڈیا صارفین نے کالی چڑیل کہہ دیا