Baaghi TV

Category: کائناتیات

  • زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    ناسا نےنومبر میں ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق زمین کو خلا میں موجود کئی سیارچوں سے خطرات لاحق ہیں ناسا نے زمین کا دفاع کرنے کی حکمت عملی کے تحت مشن شروع کیا ہے ٹیم کے مطابق یہ مشن زمین کی طرف آتے سیارچوں سے بچنے کے لیے مستقبل کے مشنوں میں قیمتی ان پٹ فراہم کرے گا۔

    یکم اکتوبر کو ناسا نے اعلان کیا تھا کہ کیوب سیٹ جو ڈارٹ کے ساتھ روانہ کیا جائے گا تنصیب کے لیے تیار ہے کیوب سیٹ کا وزن 31 پاؤنڈ ہے جو کسی بازو کی لمبائی سے بھی چھوٹا ہے۔

    ڈارٹ ناسا کی سیارچوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا پہلا حصہ ہے ، جسے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کو خطرناک سیارچوں کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔

    اس مشن کے تحت پہلی دفعہ ناسا ڈارٹ خلائی جہاز 24 نومبر کو اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے ڈیڈیموس بائنری کی طرف بھیجے گاجو 2 اکتوبر 2022 کو 2 میں سے 1 سیارچے ‘ڈیڈیمون’ سے 13،500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا جائے گا۔

    اس کے ذریعے ناسا سیارچے کی رفتار کو ایک فیصد ہی کم کر سکے گا تاہم سائنسدانوں کو سیارچے کی معلومات حاصل کرتے ہوئے اس کے تبدیل شدہ مدار کی پیمائش کرنے کا موقع ملے گا۔

    ڈیڈیمون سیارچہ 2003 میں زمین کے 3.7 ملین میل کے فاصلے پر آیا تھا ناسا کے مطابق ماہرین کو زمین کے قریب 25 ہزار سے زائد اشیا دریافت ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کی دریافت میں وقت درکار ہے۔

    160 میٹر چوڑائی پر ڈیڈیمون ایک بہت بڑی خلائی چٹان کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے ڈیڈیموس کہا جاتا ہے جو تقریبا 780 میٹر بڑا ہے۔

    ناسا کے مطابق دو سیارچوں میں سے ڈیڈیمون کا زمین سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے کہ اس کے سائز سے زیادہ خلائی چٹانیں موجود ہیں جس کا ناسا اور سنٹر فار نیر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ڈارٹ ٹیکنالوجی پہلی بار استعمال کی جائے گی، جس میں تیز رفتار خلائی جہاز کو خلا میں سیارچے سے مقابلے کے لیے بھیجا جائے گا۔

  • پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    1947 قیام پاکستان کے بعد ہی مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کے لیے، متعلقہ ادارہ تشکیل دیئے گئے تھے، ان میں سپیس ٹیکنالوجی کےلیے 1961 میں ڈاکٹر عبدوسسلام سپارکو(خلائی و بالائے فضائی تحقیقاتی مأموریہ) کی بنیاد رکھی گئی ۔ابتداء میں سپارکو نے خوب ترقی کی جس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ 7 جون 1962 کو ، رہبر راکٹ کے لانچ کیاجس سے پاکستان ،اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ، ایشیاء میں تیسرا ، اور بغیر پائلٹ خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔اسی کے ساتھ ہی کامیابیوں کا سفر طےکرتے ہوئے سپارکو نے متعدد ساؤنڈ راکٹ لانچ کیے , پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ -بدر 1 ، 1990 میں , بدر-بی کو 2001 میں ۔ 2011 میں ، پاکس سیٹ -1 جو پاکستان کا پہلا مواصلاتی مصنوعی سیارہ بن گیا۔
    1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کو معاشی طور پر کمزوری کی وجہ سے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی کی وجہ سے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2021 میں سپارکو کا بجٹ صرف 46 ملین ڈالر تو 1971 میں چند ملین تھا جس میں تمام معاملات چلانا ناممکن تھا جس سے پاکستان سپیس مشنز التوٰا کا شکار ہوتے گئے،یہئ سے سپارکو کا زوال شروع ہواجو کئی دہائیوں سے چل رہاہے، اس کے علاوہ ایک وجہ 70 و 80 کی دہائی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جووقت کی اہم ضرورت تھا جوعسکری و سیاسی توجہ کے سبب اس پرزیادہ کام ہورہاتھا ، جس سے فنڈ میں دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے سپیس مشنز کو بریک لگ گئی۔
    اس کے علاوہ چین کی طرف بڑھنے سے پاکستان کے جوہری عزائم کے بارے میں امریکی پالیسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، جو 1980 کی دہائی کے دوران تیزی سے واضح ہورہے تھے۔ مواصلاتی مصنوعی سیارہ لانچ کرنے کا منصوبہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا کیونکہ ضیا الحق کے دور حکومت میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ بجٹ میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ خلا میں مزید گھٹ جانے والے عزائم کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی آگیا جب پاکستان سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں اپنی جنگ میں مصروف تھا۔ پاکستان کے لئے سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نے سپارکو کی پیشرفت میں طوقیں ڈال دی ہیں۔
    لیکن سپیس ٹیکنالوجی کی طرف کم دھیان ہونے کی وجہ سے ریسرچ و ڈیلومنٹ کے ساتھ نئی سٹیلائٹ تیار کرناو لانچ بروقت نہیں کرسکا جو زیرالتوا ہوتے ہوتے 2000 کی دہائی تک مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔9/11 کے بعد کی دہشت گردی کی لہر نے امریکی پاپندیوں نے پاکستان کو مالی طور پر شدید کمزور کردیا جو 2015 تک پاکستان کے مستحکم ہونے تک سپیس مشنز بلکل ہی غائب ہوگئے۔
    سپیس ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بڑھ چکی کیونکہ سٹیلائٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی ، سیلاب ، ظوفان ، بارشوں کا وقت سے پہلے پتہ لگاسکتاہے، جس سے ناصرف بہت بڑی تباہی سے بچا جاسکتاہے، اسی تناظر میں موجودہ دور میں دفاعی میدان میں بھی سپیس ٹیکنالوجی بے انتہاہ ضروری ہے کیونکہ فوجی دستہ آپس میں خفیہ پیغامات بھی سٹیلائٹ کی مدد سے بھیجتے ہیں، میزائل بھی مقررہ ہدف کو کامیابی دے نشان بنانے کے لیے سٹیلائٹ کا استعمال کرتاہےاور اس کے علاوہ دشمن کے علاقہ کی جاسوسی کےلیے بھی سٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں موبائل کالز و میسجز آپس میں رابطہ کے لیے سگنلز سے جو سٹیلائٹ کی مدد سے ہی برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، مجموعی طور پر یہ بات کی جائے تو ایک ملک کے تمام معاملات حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے ساتھ جودراصل سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چل رہے ہوتے ہیں، جس کوچند منٹ میں مکمل تباہ بھی کیاجاسکتاہے جس پورا ملک مفلوج ہوسکتاہے، اس کی طاقت اس وقت روس ، امریکہ ، چین وغیرہ کے پاس جو ایک میزائل کی مدد سے کسی بھی ملک کی تمام سٹیلائٹس کوتباہ کرسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیاہے، جس کا صرف اس خطے میں ہی مقابلہ بہت مشکل ہے۔2022 میں چین کی مدد سے پاکستان سے ایک خلاباز خلا میں بھیجاجائے ، جس کاتکمیل موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ ناممکن نظر آرہاہے، اس کے علاوہ پاکستان خود سے سٹیلائٹ خلا ءمیں بھیجنا تو دور خودساختہ سٹیلائٹ بھی تیار نہیں کرپارہاہے،اس کے برعکس دنیا کے باقی ممالک چاند و مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ماحول کی دستیاب ہو جو اس کے لئے سازگار ہو اور سیاسی مرضی جو اس کا حامی ہو۔
    ایک پاکستانی ہونے کی ناطے حکومت ِوقت سے میری ذاتی طور پر گزارش ہے کہ خداراہ جس طرح ایٹمی پروگرام کو ممکن کربنایا تھا ، اسی طرح سپیس ٹیکنالوجی کی طرف بھی توجہ دی جائے جس سے ملک کی افواج و عوام اور کاروبار کو فائدہ ہوگا ناصرف قدرتی آفات کی تباہی سے بچنے میں مدد حاصل ہوگئی، اس کے علاوہ سپیس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوگاتو پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
    اللہ پاک پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی و عروج عطا فرمائے ، آمین۔
    Name Muhammad Haris MalikZada
    Twitter ID:@HarisMalikzada

  • امید پہ دنیا قائم ہے  تحریر:  محمد وقاص عمر

    امید پہ دنیا قائم ہے تحریر: محمد وقاص عمر

    امید ایک شے ہے جس کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔ہر ذی روح امید کے سہارے زندہ ہے۔امید ایک خوشی ہے بلکہ یوں کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ امید ایک نئی زندگی ہے۔اس دنیا کی زندگی سے الگ ایک زندگی جہاں انسان دنیا کی زندگی میں ہار مان جاتا ہے تب یہ امید اسے ایک نئی زندگی دیتی ہے۔جب انسان بالکل ناامید ہو جاتا ہے تو یہ امید ہی ہوتی ہے جو انسان کو خوشی اور سکون دیتی ہے۔یوں کہہ لیں امید برے حال کی دوا ہے جس سے انسان کو راحت نصیب ہوتی ہے جب اس کو مشکلوں اور غموں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔شاید امید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دیا گیا سب سے الگ اور ایک انوکھا تحفہ ہے۔

    یہ کائنات امید پر ہی قائم ہے۔ آج کی اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں ہم رہ رہے ہیں اگر امید نہ ہوتی تو انسان کبھی یہاں تک نہ پہنچ سکتا۔ اگر امید نہ ہوتی تو انسان آج بہت ساری ایجادات سے محروم ہوتا۔اس کی جیتی جاگتی مثال انیسوی صدی کا موجد تھامسن ایڈیسن کی ایجاد ات ہیں۔سب سے بڑھ کر جو تحفہ اس نے مصنو عی روشنی یعنی بلب کی شکل میں دنیا کو دیا اس احسان کے نیچے دنیا کے تمام حسین و دلکش شہر آج بھی دبے ہوئے ہیں۔

    بلب کی ایجاد کے سلسلے میں ایڈیسن نے ایک ہزار کے قریب تجربات کیے جن میں نو سو ننانوے بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن جب بھی اس کا کوئی تجربہ ناکام ہوتا وہ امید کے سہارے اس ناکامی کو برداشت کر لیتا۔اسے امید تھی کہ ایک دن یہ بلب جل کر رہے گا اور امید نے اس کے اندر کی لگن کو مزید بڑھایا اور آخرکار تھامسن ایڈیسن نے بلب روشن کر کے دکھایا۔

    اس کی ایک اور مثال جب انسان کسی پرندے کو قید کرتا ہے تو پرندے کو اس قیدی تنہائی میں جو چیز زندہ رکھتی ہے وہ امید ہی ہوتی ہے۔اس ایک امید کا ہی سہارا ہوتا ہے کہ شاید وہ اس قید سے چھٹکارا پا لے گا اور ان بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں اور اس نیلے آسمان کو چیرتے ہوئے اپنی زندگی گزارے گا۔یہ امید ہی ہے جس کی وجہ سے وہ قید تنہائی کی اندر بھی زندگی بڑی خوشی سے گزار رہا ہے۔

    دوستو امید ایک مشکل وقت کی ساتھی ہے۔امید کے سہارے انسان کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔انسان کی زندگی میں ہر طرح کے اونچ نیچ آتے رہتے ہیں لیکن اگر انسان نا امید ہو جائے تو زندگی بیکار ہو جاتی ہے۔لیکن اگر انسان امید کا دامن نے چھوڑے تو امید انسان کو کھٹن سے کھٹن مشکلات طے کروا کر ہی دم لیتی ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کا امید کا دامن نہ چھوڑیں۔

    Twitter id @ waqasumerpk

  • پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر:   محمد کامران

    پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر: محمد کامران

    ،معدنیات ، بجلی ، پانی اور جنگلات جیسے وسائل کا کسی ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی پر بہت اثر ہوتا ہے ۔ کسی بھی ملک میں قدرتی وسائل ہونا ضروری ہے لیکن یہ معاشی اور معاشرتی ترقی کی ضمانت نہیں۔ کوئی ملک وسائل سے مالا مال ہو اور ان وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو معاشی اور معاشرتی ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے ماہرین، قدرتی وسائل اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے در میان اہم تعلقات قرار دیتے ہیں۔

     

    پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کان کنی کی صنعت کی ترقی کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ قیمتی پتھروں کے لیے کارپوریشن آف پاکستان لمیٹڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا

    یہ کارپوریشن پتھر کی کان کنی اور پالش کرنے میں اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو بطور سرکاری ادارہ دیکھتی ہے۔ معدنی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہے۔ جب کہ حال ہی میں سندھ کے تھر میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ جواہرات کے لحاظ سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے زیادہ تر معدنی جواہرات یہاں پائے جاتے ہیں ۔
    جوہری توانائی کے مقاصد میں استعمال ہونے والے تیل ، گیس اور باقی معدنیات کے لیے یہ صوبہ اہم ہے ۔ملک کے باقی صوبوں میں بھی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں

     چند ایک اہم معدنیات اور انکے وسائل درجہ زیل ہیں

    1. کوئلہ:
    کوئلہ جس کو بلیک گولڈ کا نام بھی دیا جاتا ہے ،

    تھر ، چمانگ ، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھاری مقدار میں پائی جاتا ہے۔
    تھر میں اسکے ذخائر کا تخمینہ 850 ٹریلین مکعب فٹ لگایا گیا یے ۔ جسے اگلے 100 سال تک بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یعنی دوسرے ہائیڈرو / تیل وسائل پر انحصار کیے بغیر صرف کوٰئلے سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔
    ۔ پاکستان نے حال ہی میں پنجاب میں ایک کم درجے کا چار درمیانے درجے کے کوئلے کے کوئلے کے سیل تلاش کیے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان اور اس کے قریب اسلام آباد میں سلفر کوئلے کے پائے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پاکستان میں بٹومینس، سب بٹومینس اور لگنائٹ کوئلہ پایا گیا ہے۔ کوئلے کا تقریب 80٪ حکومت اور 20٪ نجی شعبے کے ذریعہ نکالا جاتا ہے ۔ اسکی صنعت قدیم صنعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ لوہے، اسٹیل اور اینٹوں کی صنعتیں ہیں۔ کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اس کی قیمت تقریباً618 بلین بیرل خام تیل کے برابر ہوگی۔ جب تیل کے ذخائر کے مقابلے میں یہ بڑے چار ممالک کی مقدار سے دوگنا ہے۔
    2.قدرتی گیس:

    قدرتی گیس پاکستان کا اہم قدرتی وسائل ہے جس کا زیادہ تر حصہ سوئی کے مقام سے نکالا جاتا ہے

    اسکے تخمینہ شدہ ذخائر 885.3 بلین مکعب میٹر ہیں۔ جن کے مزید 20 سال تک رہنے کی توقع ہے۔ گیس کے اعتبار سے سوئی گیس فیلڈ سب سے بڑا ہے ، جو پاکستان کی گیس کی 26 فیصد پیداوار کرتا ہے۔سوئی گیس کے ذخائر 1953 میں دریافت ہوئے۔ وہاں روزانہ کی پیداوار 19 ملین مکعب میٹر ہے۔ بلوچستان کے بنجر پہاڑوں اور سندھ کے ریتوں کے نیچے تیل اور گیس کے اچھے ذخائر موجود ہیں۔ قدرتی گیس کے زیادہ تر صارفین کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں۔

     3. خام تیل:

    پاکستان کا پہلا تیل کا کنواں 1952 کے آخر میں ایک بڑا سوئی گیس فیلڈ کے قریب بلوچستان می لگایا گیا ۔
    ٹوٹل ائل ریفائنری 122.67 مربع کیلومیٹر (47.36 مربع میل) پر محیط ہے۔
    پاکستان پیٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز نے 1961 میں سوویت یونین کی مدد سے زخائر کی کھوج کی اور اس کی کھدائی شروع کی اور عملی کا 1964 کے دوران توت میں شروع کیا گیا
    ۔ پاکستان میں 326 ملین بیرل سے زیادہ موجود ہے

     

     

    4. یورینیم کی پیداوار:

    پاکستان کی مغرب میں اسکی وافر مقدر موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب میں تمن لغاری کان ، ضلع میانوالی میں بگالچور کان ، ڈیرہ غازی خان مائن اور عیسیٰ خیل کی کانیں مشہور ہیں
    پاکستان نے حال ہی میں اپنے جوہری طاقت اور ہتھیاروں کے پروگراموں میں یورینیم کا کچھ استعمال کیا ہے۔ 2006 میں پاکستان نے تقریبا 45 45 ٹن یورینیم کو تیار کیا تھا

     5. معدنی نمک:

    خطے میں 320 قبل مسیح سے نمک کی کھدائی کی جا رہی ہے ۔ کھیوڑا نمک کی کان کانوں میں دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی نمک کی کان ہے ۔ تقریبا 110 مربع کلومیٹر کے زیرزمین علاقے میں 320 قبل مسیح سے کھیوڑا میں نمک کی پہلی بار کھدائی کی گئی ۔کھیوڑا نمک کی کان کے بارے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اس میں 220 ملین ٹن راک نمک کے ذخائر ہیں۔ مائن سے موجودہ پیداوار 325،000 ٹن سالانہ ہے۔

     6. کاپر اور سونا:

    ریکو دیق بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اینٹوفاگستا کمپنی،جو ریکو ڈیک فیلڈ کے ساتھ کام کر رہی تھی ، ایک سال میں 170،000 میٹرک ٹن تانبے اور 300،000 اونس سونے کی ابتدائی پیداوار کو ہدف کے ساتھ کام کر رہی تھی۔اس منصوبے سے ایک سال میں 350،000 ٹن سے زیادہ تانبے اور 900،000 اونس سونا پیدا ہوسکتا تھا ۔
    چاغی ضلع میں واقع دشت کوہن ، نوک کنڈی میں بھی تانبے کے ذخائر موجود ہیں

    7. آئرن اور :آئرن اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے جن میں نوکندی ، چنوٹ اور کالاباغ (42 فیصد سے کم معیار) ، ہری پور اور دیگر شمالی علاقوں بھی شامل ہیں۔

     8. جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر:

    پاکستان میں مقامی اور برآمدی مقاصد کے لئے متعدد قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پالش کی جاتی ہے۔ اسکا مرکزی مقام خیبر پختونخوا ہے۔

    ان پٹھروں میں ایکٹینولائٹ ، ، آڈروکسی ، روٹائل ، ایکوامارین روبی ، ایمیزونائٹ ، کنزائٹ ، سرپینٹائن ، ایجورائٹ ، کیانیائٹ ، اسپیسارٹائن (گارینایٹ) ، بیرل ، ، اسپنیل ، زمرد شامل ہیں
    ان جوہروں سے برآمد 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

    TWITTER ID @KamranRMKS

  • دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا فانی ہے تحریر : عائشہ شاہد

    دنیا اور آخرت مشرق اور مغرب کی مانند ہیں اور ہم سب یہاں کچھ پل کے چلنے والے مسافر ہیں یہاں اگر ایک انسان جتنا کسی کے نزدیک ہوگا اتنا ہی دوسرے سے دور ہوگا ۔
    دنیا راہ گزر ہے دنیا کی خوشی غم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے.
    ہزاروں خواہشات انسان پر غالب آجائیں تو یہ کہنا برا نا ہوگا کہ انسان سیدھے راستوں سے بھٹک جاتا ہے. غلط راستوں پر چلنے والوں کو فقط رسوائی ہی ملتی ہے..
    ہر انسان کے اپنے پوشیدہ یعنی چھُپے ہوئے نا بتانے والے دکھ ہوتے ہیں جو دنیا نہیں جانتی
    اور اکثر اوقات ہم کسی انسان کو بے حس کہتے ہیں مگر وہ صرف غمگین رنجیدہ ہوتا ہے
    کسی کا کردار تمہاری ذمہ داری نہیں
    کسی کی ذات تمہارا ٹھیکا نہیں ہے جو تم وہ صرف تم خود ہی ہو بس تم خود پر توجہ دو…
    لوگوں کے بارے میں زیادہ سوچنا خود کو اپنی ذات سے دور کرنا ہے.
    غمگین نا ہوں اگر آپ کسی کو اچھے نہیں لگتے
    تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں بس یہ سوچ لیں کہ ہرانسان کی پسند اچھی نہیں ہوتی.
    خاموش ہو جاؤلیکن گلے شکوے چھوڑ دو مت اپنا معیار گراو کسی کو کچھ بھی کہہ کر اور اس کو جواب دے کر اپنے عزت اور اپنے وقار کی خود حفاظت کرو.جہاں عزت نا ملے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لو عزت اور وقت بھیک میں نہیں ملتا اس لیے مانگنا چھوڑ دو. بےشک کسی بھی رشتے کا وجود اس کے بغیر باقی نا رہےعزت وہ نہیں جو باتوں سےسنائی جاتی ہےعزت وہ ہے جوعمل سےدکھائی دیتی ہے
    شکریہ

  • وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    اے شیخ کیا ڈھونڈے ہےشب قدر کا نِشاں
    ہر شب ہے شب قدر ،اگر تو ہو قدرداں!
    زندگی کا ہر لمحہ وقت ہے ۔ایک لمحہ اس وقت قیمتی ہوتاہے جب اسے قمیتی سمجھا جائے لیکن اگر اسکی قدر نہ کی جائے تو سال مہینے بھی بےکار اور بے معنی ہوجاتےہیں
    لوگ وقت کی قدروقیمت نہیں پہچانتے۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں اصل دولت وقت ہی ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کر دیا اس نے سب کچھ ضائع کر دیا ۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا دریا ہے ۔اسکا بہاؤ تیز اور زبر دست ہے ۔ یہ زد میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جاتا ہے ۔ یہ ایسا تیز رفتار گھوڑا ہے جسے روکا جاسکتا ہے اور نہ واپس لایا جا سکتا ہے.
    کسی کام کو تعین وقت پر انجام دینا’ پابندی وقت’ کہلاتا ہے ۔وقت کی پابندی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں ۔جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتی وہ ناکام و نامراد رہتی ہیں ۔
    اگر کائنات کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ھے کہ کیسے کائنات کا نظام بھی وقت کی پابندی میں جکڑا ہوا ہے ۔
    کائنات کے اس منظم نظام میں انسان کے لئے یہ سبق پو شیدہ ہے کہ وقت کی قدر کرے اور خود کو نظام کائنات سے ہم آہنگ کر کے فطرت کے مقاصد کی تکمیل کرے۔
    تاریخ ،وقت کا نا قابل تردید ریکارڈ ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں سر بلند قوموں نے کن اصولوں پر عمل کیا ۔دیگر ا صولوں سے قطع نظر وقت کی پابندی ترقی یا فتہ قوموں کی عظمت کا سب سے بڑا ذریعہ بنی۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی قوموں نے وقت کو اپنی جانوں سے بھی عزیز رکھا۔اُن کے اس طرز عمل کا نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا پر حکومت کرنے لگیں ۔
    وقت انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ جو اسکی قدر کرتا هے ۔یہ اُسے فتح و کامرانی عطا کرتا ہے اور جو سرسری لیتا ہے،اُسے ناکامی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے ۔ جو شخص وقت کا دامن تھام لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو خواب غفلت میں پڑا رہتا ہے ،وہ ناکام و نامراد ہو جاتا ہے ۔
    یوں وقت کی پابندی تمام تر افراد پر لازم ہے لیکن
    طلبہ کو بطور خاص اس کی قدر کرنی چاہیے ۔طلباء قوم کا قمیتی سرمایہ ہوتے ہیں ۔قوم کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے ۔ لہذا ہم سب پر ضروری ہے کہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کا ایک ایک لمحہ درست طریقے سے بسر کریں

    @M_Ashraf26

  • ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    ویڈیو اسسٹڈ ایکشن۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دُنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے ویسے ہی جدید ایجادات انسانی زندگی میں آسانی پیدا کر رہی ہیں۔ ان جدید ایجادات میں ایک ویڈیو شیئرنگ ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں ویڈیو اسسٹڈ کانفرنس، ویڈیو اسسٹڈ میٹنگز، ویڈیو اسسٹڈ تعلیم اور حتیٰ کہ ویڈیو اسسٹڈ سرجريز بھی ہو رہی ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بہت کچھ بدل دے گی۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم، علاج اور کاروبار آسان ہو جائے گا۔

    لیکن ہمارا پیارا پاکستان اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی سب سے آگے ہے۔ آج یہاں ہر چیز ویڈیو اسسٹڈ ہو چکی ہے۔ ہمارا معاشرہ اور تمام ادارے ویڈیو اسسٹنس کے عادی ہو چُکے ہیں۔ جب تک کسی جُرم، ظُلم یا زیادتی کی ویڈیو وائرل نہیں ہوتی مُجرم کے خلاف کوئی ریاستی ادارہ حرکت میں نہیں آتا۔

    گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مدرسے کا ایک استاد اپنے شاگرد کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ قبیح نکلا۔ متاثرہ لڑکا ایک عرصے سے اپنے استاد کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بن رہا تھا، لیکن جب اُس نے شکایت کرنے کی کوشش کی تو نہ ہی مدرسہ انتظامیہ نے اور نہ ہی پولیس نے کوئی ایکشن لیا۔ استاد کی گرفتاری کے لیے مجبوراً لڑکے کو ایک ویڈیو بنا کر وائرل کروانی پڑی، پھر جا کر ہمارے ادارے حرکت میں آئے۔

    ہمارے معاشرے میں پنپنے والی چھوٹی بڑی برائیوں کو اُس وقت تک بُرا نہیں سمجھا جاتا جب تک اس برائی کی ویڈیو فیس بک یا ٹویٹر کی زینت نہیں بنتی۔ کچھ عرصہ قبل ایک یونیورسٹی میں ایک لڑکے نے ایک ساتھی لڑکی کو پرپوز کیا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن پروپوزل قبول ہونے کے بعد دونوں نے سرِ عام نازیبا حرکات کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی اور جب بہت سارے مہذب شہریوں نے اس واقعے کی تنقید کی تو پھر جا کر یونیورسٹی نے ایکشن لیا۔

    ایک اور واقعہ جو کہ کچھ روز قبل ہی وقوع ہوا تھا، ایک موٹر سائیکل سوار لڑکے نے راہ چلتی لڑکی سے پرس چھینا اور دھکا دے کر گرا دیا۔ اس واقعے کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی، ہمارے ادارے حرکت میں آئے اور ایک ہی روز میں ملزم گرفتار ہو گیا۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ ملزم کافی عرصے سے یہ کام کر رہا ہے لیکن کبھی پکڑا نہیں گیا۔ اگر اس واقعہ کی ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو نا جانے کتنے اور جرم ہوتے۔

    حال ہی میں ایک ویڈیو سکینڈل منظر عام پر آیا۔ با اثر افراد نے ایک جوڑے (کپل) کو مارنے پینے کے ساتھ نہ صرف لڑکی کو برہنہ کیا بلکہ ان سے زبردستی نازیبا حرکات کروائی گئیں۔ اسکے بعد لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس سب کی ویڈیو بنائی گئی۔ یہ واقعہ تقریباً 8 ماہ قبل پیش آیا تھا، اتنے عرصے میں مُجرم کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کو اُنہیں گرفتار کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ شاید اسی لیے لڑکا یا لڑکی میں سے کسی نے پولیس رپورٹ نہیں کی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں انصاف نہیں ملے گا۔ ان کی بھی داد رسی ہوئی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ ہی دنوں میں نہ صرف سب مُجرم گرفتار ہو گئے بلکہ ان کے پاس سے ایسی کئی دوسری ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔

    اگر اس جوڑے کو انصاف کی تھوڑی سی بھی امید ہوتی تو شاید وہ بہت پہلے پولیس کے پاس چلے جاتے۔ لیکن انصاف ملا بھی تو رُسوا ہونے کے بعد۔ بلکہ ابھی انصاف کہاں ملا ہے۔ کچھ دن بعد ہم یہ قصہ بھول بھال کر ایک نئی ویڈیو وائرل کریں گے جیسے ہم سیالکوٹ موٹروے والے واقعے کو بھول چکے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، ظلم ہوتا رہے گا، ویڈیوز بنتی رہیں گے، ہم واویلہ کرتے رہیں گے اور کچھ دن بعد ایک نئی ویڈیو وائرل ہوتے ہی پچھلے واقعات بھولتے جائیں گے۔

  • درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ   تحریر : حسن ریاض آہیر

    درخت لگاؤ – مستقبل محفوظ بناؤ تحریر : حسن ریاض آہیر

    درختوں کے قتلِ عام میں ہم اشرف المخلوقات سرِ فہرست ہیں۔
    گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے مندرجہ ذیل تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شئیر کی اور ساتھ پیغام لکھا کہ ہم اس سال ریکارڈ شجر کاری کریں گے۔
    تصویر میں موجود درخت جو مختلف ممالک میں فی شخص درختوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، اسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے ہم پاکستانی ریگستان میں رہتے ہوں۔
    اس تصویر کے مطابق دیکھا جائے تو
    کینیڈا میں ایک انسان کے لئے دس ہزار ایک سو تریسٹھ درخت ہیں
    گرین لینڈ میں چار ہزار نو سو چونسٹھ
    آسٹریلیا جو کہ بظاہر ریگستان نما ہے اس میں فی شخص تین ہزار دو سو چھیاسٹھ
    امریکہ میں چھ سو ننانوے
    فرانس میں دو سو تین
    ایتھوپیا میں ایک سو تینتالیس
    چائنہ میں ایک سو تیس
    انگلینڈ میں سینتالیس
    ہندوستان میں اٹھائیس
    اور جبکہ ہمارے پیارے پاکستان میں ایک انسان کے حصے میں پانچ درخت آتے ہیں ۔۔۔
    ہم آج سے تیس سال پیچھے چلے جائیں تو شاید ہمارے ملک میں فی شخص ایک سو سے زیادہ درخت تھے لیکن پھر جمہوری قوتوں نے ملک سے درختوں کا صفایا کر دیا۔
    میں ان تمام نام نہاد سابقہ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کہ اتنے درخت کاٹنے کے بعد کیا تمہارا پیٹ بھر گیا ؟
    ہوس اور لالچ ہے کہ کبھی ختم ہو نہیں سکتی ۔۔۔
    اگر اتنے ہی تم انسانیت دوست اور عوام کے خیر خواہ ہوتے تو درخت کاٹنے کی بجائے پہلے سے دوگنے درخت اپنی جیب سے لگواتے اور جب تک زندہ ہو ان کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح اپنی اولادوں کی کرتے ہو۔
    تمھارا نام آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھتی اور تمہیں دعائیں دیتی۔
    صرف حکمران ہی نہیں ہم عوام کی بھی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔
    درخت لگانے سے موسوم خوش گوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ ہوا میں موجود آلودگی کم ہوتی ہے۔ زمین کٹاؤ سے بچی رہتی ہے اور چرند پرند کا یہ مسکن ہوتا ہے۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں میں درخت فلٹر کا کام کرتے ہیں اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے اور انکی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔
    حکومت پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں شجر کاری مہم میں پیش پیش ہے اور انکی اس محنت کا ادراک عالمی فورمز پر بھی کیا گیا ہے۔
    ہم سب پاکستانی خود سے عہد کر لیں اور اپنی ذات کے لیے ہی ایک ایک درخت لگانا شروع کر دیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ سکتی ہے، حکومت شجر کاری کر رہی ہے اور اس حوالے سے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے لیکن کچھ زمہ داری ہم عوام کی بھی بنتی ہے۔
    اللّٰہ پاک ہمیں ہمیشہ ہر قدرتی اور ماحولیاتی آفات سے بچائیں آمین !
    درخت لگاؤ
    زندگی محفوظ بناؤ

    @HRA_07

  • سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے ملازمت کرنے والے افسران کی شامت

    سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے ملازمت کرنے والے افسران کی شامت

    سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے سی ایس ایس کرکے گریڈ 17 میں ملازمت حاصل کرنے والے افسران کی شامت آگئی۔

    سندھ حکومت نے معاملے پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے رابطہ کرلیا۔

    دیگر صوبوں کے 8 امیدواروں نے جعلی طریقے سے سندھ کا ڈومیسائل بناکر سال 2020 میں سی ایس ایس پاس کیا ۔
    محکمہ داخلہ سندھ نے اس سلسلے میں خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ افسران کے تعلیمی اسناد و ڈومیسائل کے دستاویز سندھ حکومت کے حوالے کیے جائیں۔

    مشکوک افسران میں 5 ایڈمنسٹریٹو سروس آڈٹ اکائونٹس جے 2 اور او ایم جی گروپ کا ایک افسر شامل ہے۔افسران میں ارسلان چوہدری، کامران احمد، اسداللہ گوندل، ملک سردار اشرف اور اویس احمد نے سندھ اربن کے ڈومیسائل پر ایڈمنسٹریٹو سروس میں گریڈ 17 کی ملازمت حاصل کی ہے۔

    آڈٹ اکائونٹس میں راجہ عبدالسلام، رانا ضیا الرحمٰن اور او ایم جی گروپ میں سبین منہاس نے سندھ رورل کا ڈومیسائل بناکر ملازمت حاصل کی ہے۔
    آٹھوں افسر نے جعلی طریقے سے سندھ کے ڈومیسائل بناکر 17گریڈ حاصل کیا ہے.

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔