Baaghi TV

Category: کائناتیات

  • خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    ہر سال امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والی لاکھوں تتلیاں اڑ کر میکسیکو جاتی ہیں جہاں وہ ایک موسم سرما گزار کر واپس آ جاتی ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر گزرتے برس کے ساتھ ان تتلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر ماحولیات سارہ ڈائیکمین تتلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے نکل پڑی ہیں۔ وہ بھی تتلیوں کے ہمراہ میکسیکو سے شمالی امریکہ اور کینیڈا اور پھر واپس میکسیکو تک سائیکل پر سفر کیا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین ماہر ماحولیات کے ساتھ ایک استاد بھی ہیں سارہ وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے ’بادشاہ تتلیوں‘ کے امریکہ سے میکسیکو تک نقل مکانی کو دیکھنے کے لیے اپنے سائیکل پر 16,417 کلومیٹر کا لمبا سفر طے کیا ہے۔

    بی بی سی کو انٹر ویو میں سارہ نے بتایا کہ ا نہوں نے اپنے طویل سفر کا آغاز مرکزی میکسیکو سے کیا۔ انھوں نے بلند و بالا پہاڑوں پر دیکھا کہ ہزاروں تتلیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کود رہی ہیں، میکسیکو کے وہ پہاڑ جہاں یہ تتلیاں سردیاں گزارتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق ان پہاڑوں کا موسم اُن کے لیے بہت مناسب ہے۔ دس ہزار فٹ کی بلندی پر موسم نہ تو بہت گرم اور نہ ہی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شمال کی جانب سیرا مادرے پہاڑی سلسلے کی جانب سفر کرتی ہیں جب وہ امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہیں۔ اور انہیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے گوگل نقشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی دفعہ انھیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے سائیکل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے بتایا کہ تتلیاں کسی ایک کھیت سے راستہ نہیں بناتیں بلکہ رات کو ایک کسی کونے سے اگلے سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔ کبھی تو ان کا سفر شروع کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بہت ہی مشکل۔‘

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کا کہنا تھا کہ ایک مادہ تتلی 500 انڈے دیتی جس میں تقریباً ایک فیصد اپنی بلوغت تک پہنچ پاتے ہیں۔ بقیہ 495 انڈے دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔

    ایسی تتلیاں جو بلوغت کو پہنچ جاتی ہی اور امریکہ کی شمالی ریاستوں اور کینیڈا تک پہنج جاتی ہیں وہ میکسییکو میں اپنے قیام کے برعکس کسی اجتماع کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ کھلے علاقے میں پھیل جاتی ہیں –

    ڈائیکمین تتلیوں کے ساتھ اپنے سفر کے دوران ہر روز سائیکل پر نوے میل کا سفر طے کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم کو آرام دینے کے لیے ہر دس روز بعد ایک چھٹی کرتی ہیں لیکن تتلیاں کوئی چھٹی نہیں کرتیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بادشاہ تتلیوں کے رینگنے کے لیے بہترین درجہ حررارت پانچ سینٹی گریڈ جبکہ اڑنے کے لیے تیرہ سینٹی گریڈ ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں تتلیوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ چونکہ ان کے جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے اور اگر عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے تتلیوں کے وجود کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق وہ تتلیاں جو میکسیکو سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں وہ جب امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تتلیوں کی اگلی نسل دو سے پانچ ہفتوں تک زندہ رہتی ہیں۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ تک پہنچتے پہنچتے تتلیوں کی چوتھی نسل تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

    سارہ نے بتای کہ لیکن کینیڈا میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیوں کی نسل کا جسمانی حجم قدرے بڑا ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ آٹھ مہینے ہے، جو بہت بہت طویل ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے مزید کہا کہ کینیڈا اور شمالی امریکہ کے موسم خزاں میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیاں ہی ہیں جو سردیوں کے موسم میں میکسیکو کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں اور پھر موسم بہار میں واپس امریکہ لوٹ کر انڈے دیتی ہیں.

    انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں کینیڈا کی طرف سفر کے دوان ان کی توجہ انڈے دینے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن موسم خزاں کی ہجرت کے دوران ان کی زیادہ توجہ پھولوں سے رس چوسنے پر ہوتی ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے تتلیوں کے ساتھ دونوں جانب ہجرت کی ہے، میکسیکو سے امریکہ اور پھر امریکہ سے میکسیکو تک 264 دن سفر کیا-

  • سپرمون کو خونی چاند گرہن کا نام کیوں دیا گیا؟

    سپرمون کو خونی چاند گرہن کا نام کیوں دیا گیا؟

    چاند کو گرہن آج لگے گا، پاکستان میں دن ہونے کے باعث یہ دکھائی نہیں دے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس چاند گرہن کا آغاز پاکستانی ٹائم کے مطابق بوقت دوپہر 01:43:39 بجے ہوگا -جزوی گرہن کا آغاز 02:45 منٹ پر اور مکمل قمری گرہن کا آغاز سہ پہر 04:11 منٹس سے لے کر 4:26 منٹس تک ہو گا جبکہ گرہن کا اختتام 06:50 منٹس تک ہو گا گرہن کاکل دورانیہ 5 گھنٹے اور 5 منٹ کے قریب ہو گا-

    کوریا امریکہ فلپائن آسٹریلیا ، سنگاپور ،چین ،میکسیکو، تائیوان، پیرو، چلی ،انڈونیشیا، ہانگ کانگ، گوئٹے مال اور جاپان کے اکثر علاقوں میں مکمل یعنی Full Super Moon کا نظارہ کیا جا سکے گا-

    جبکہ کینیڈا ، برازیل ، کولمبیا، ویزویلا کیوبا ارجنٹائن ، ویت نام تھائی لینڈ ، برما اور بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس چاند گرہن کے موقع پر پاکستان میں دن کا وقت ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند بھی شام سات بجے کے بعد ہی طلوع ہوگا۔

    انڈیا کے کچھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرہن کا جزوی اختتامی حصہ دیکھا جا سکتا ہے –

    چاند زمین سے قریب ہونے کے باعث سپر فل مون بھی ہوگا۔ 26 مئی کے چاند کو سپر فلاور بلڈ مون کا نام دیا گیا ہے۔

    سُپر مون کب ہوتا ہے؟

    خیال رہے کہ ’’سپر مُون‘‘ تب ہوتا ہے جب چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہو جس کی وجہ سے وہ (زمین سے دیکھنے پر) وہ نہ صرف مکمل بلکہ ظاہری طور پر معمول سے بڑا بھی نظر آئے۔ (چاند اور زمین کا اوسط درمیانی فاصلہ 3 لاکھ 84 ہزار 400 کلومیٹر ہے۔)

    26 مئی والے چاند گرہن کا معاملہ بھی یہی ہوگا کیونکہ اس روز چاند اور زمین کا درمیانی فاصلہ، اوسط فاصلے سے لگ بھگ 26 ہزار کلومیٹر کم (تقریباً 3 لاکھ 58 ہزار کلومیٹر) ہوگا۔

    سُر فل مون کو خونی چاند گرہن یا سپر فلاور بلڈ مون کیوں کہتے ہیں؟

    اسے ’’خونی چاند گرہن‘‘ کہنے کی وجہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی بلکہ یہ سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے اور ہمیں چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    دوسری جانب سورج کی روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو آپس میں مل کر سفید روشنی بناتے ہیں چاند گرہن کے دوران بعض مواقع پر سورج کی روشنی، زمینی کرہ ہوائی سے ٹکرا کر منتشر ہوتی ہے اور چاند تک پہنچتی ہے لیکن زمینی کرہ ہوائی قدرتی طور پر نیلی روشنی جذب کرتا ہے۔

    نتیجتاً گرہن کے دوران چاند کی سطح تک پہنچنے والی روشنی میں سرخ رنگ غالب ہوتا ہے لہذا جب چاند کی سطح سے وہ روشنی منعکس ہو کر زمین پر آتی ہے تو ہمیں چاند گرہن کے دوران چاند کی رنگت بھی سرخی مائل دکھائی دیتی ہے۔

    یہی وہ کیفیت ہے جسے ’’خونی چاند‘‘ کہا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سال 2021 میں 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، تاہم پاکستان میں اس سال کے چاند اور سورج گرہن دکھائی نہیں دیں گے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا دوسرا چاند گرہن19 نومبر کو ہوگا، جو جنوبی اور مشرقی امریکا ، آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا، یہ جزوی سورج گرہن ہوگاجو ایشیا، افریقہ،یورپ،افریقہ اور مغربی امریکا میں دیکھا جاسکے گا سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن4 دسمبر کو ہوگا جو مکمل سورج گرہن ہوگا، جسے امریکا، جنوبی امریکا، پیسیفک، اور انٹارکٹکا میں دیکھا جاسکے گا-

    دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق 27 مئی جمعرات کو مکہ مکرمہ کے ٹائم کے مطابق سورج دوپہر 12 بج کر 18 منٹ پر سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا جس سے دنیا بھر میں قبلہ رخ کا صحیح تعین کیا جاسکے گا جب کہ اس وقت بیت اللہ کا سایہ بھی نہیں ہوگا۔

     

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سورج 27 مئی کو خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا عرب میڈیا

  • سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    سال کا پہلا قمری گرہن کل یعنی 26 مئی بروز بدھ کو لگے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس چاند گرہن کا آغاز پاکستانی ٹائم کے مطابق بوقت دوپہر 01:43:39 بجے ہوگا -جزوی گرہن کا آغاز 02:45 منٹ پر اور مکمل قمری گرہن کا آغاز سہ پہر 04:11 منٹس سے لے کر 4:26 منٹس تک ہو گا جبکہ گرہن کا اختتام 06:50 منٹس تک ہو گا گرہن کاکل دورانیہ 5 گھنٹے اور 5 منٹ کے قریب ہو گا-

    کوریا امریکہ فلپائن آسٹریلیا ، سنگاپور ،چین ،میکسیکو، تائیوان، پیرو، چلی ،انڈونیشیا، ہانگ کانگ، گوئٹے مال اور جاپان کے اکثر علاقوں میں مکمل یعنی Full Super Moon کا نظارہ کیا جا سکے گا0

    جبکہ کینیڈا ، برازیل ، کولمبیا، ویزویلا کیوبا ارجنٹائن ، ویت نام تھائی لینڈ ، برما اور بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں جزوی گرہن کا نظارہ کیا جا سکے گا جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں گرہن نظر نہیں آئے گا کیونکہ اس چاند گرہن کے موقع پر پاکستان میں دن کا وقت ہوگا جبکہ پاکستان میں چاند بھی شام سات بجے کے بعد ہی طلوع ہوگا۔

    انڈیا کے کچھ مشرقی ساحلی علاقوں میں گرہن کا جزوی اختتامی حصہ دیکھا جا سکتا ہے –

    واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نت سال کے شروع میں بتایا تھا کہ سال 2021 میں 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہوں گے، تاہم پاکستان میں اس سال کے چاند اور سورج گرہن دکھائی نہیں دیں گے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اس سال کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو ہوگا جو مکمل چاند گرہن ہوگا دوسرا چاند گرہن19 نومبر کو ہوگا، جو جنوبی اور مشرقی امریکا ، آسٹریلیا اور یورپ کے مختلف علاقوں میں دیکھا جاسکے گا۔

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سال کا پہلا سورج گرہن 10 جون کو ہوگا، یہ جزوی سورج گرہن ہوگاجو ایشیا، افریقہ،یورپ،افریقہ اور مغربی امریکا میں دیکھا جاسکے گا سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن4 دسمبر کو ہوگا جو مکمل سورج گرہن ہوگا، جسے امریکا، جنوبی امریکا، پیسیفک، اور انٹارکٹکا میں دیکھا جاسکے گا۔

    گرہن کیا ہوتا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟

    برطانوی خبررساں ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق گرہن ایک شاندار دلکش فلکیاتی عمل ہے یہی وجہ ہے کہ گرہن کا مشاہدہ کرنے والوں کے لیے سیاحت کی ایک الگ برانچ قائم ہو چکی ہے۔

    اہم گرہن کی متعدد اقسام میں سے یہ ایک ہے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’السٹریٹڈ آسٹرونومی‘ کے مصنف یوان کارلوس بیامن جو اٹانومس یونیورسٹی آف چلی کے سائنس کمیونیکیشن سینٹر میں بطور ایسٹروفزسٹ کام کرتے ہیں لکھتے ہیں کہ ’عمومی طور گرہن کی دو اقسام ہیں جن میں چاند اور سورج کے گرہن شامل ہیں۔

    تاہم اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ تکنیکی اعتبار سے دیکھیں تو ایک تیسری قسم بھی ہیں، جس میں دو ستارے شامل ہوتے ہیں۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    سورج گرہن
    چاند کی زمین کے گرد گردش کے دوران ایسے مواقع آتے ہیں جب یہ سورج اور ہمارے سیارے کے درمیان آ جائے تو یہ سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے اور یوں سورج کو گرہن لگ جاتا ہے دوسرے لفظوں میں چاند زمین کی سطح پر اپنا عکس ڈال دیتا ہے۔

    سورج گرہن کی مزید تین اقسام ہیں-

    مکمل سورج گرہن
    مکمل سورج گرہن کا عمل اس وقت ہوتا ہے جب چاند سورج اور زمین کے درمیان ایسے رکاوٹ بنتا ہے کہ وہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روک دیتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    کچھ سیکنڈوں کے لیے (یا متعدد مرتبہ چند منٹ کے لیے) مکمل طور پر اندھیرا ہو جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے رات کا وقت ہو۔

    ناسا کے مطابق: ’مکمل سورج گرہن زمین پر صرف ایک آسمانی یا خلائی اتفاق کے باعث ممکن ہوتے ہیں۔‘ یعنی سورج چاند سے چار سو گنا بڑا ہے لیکن یہ اس سے 400 گنا دور بھی ہے۔

    ناسا کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جیومیٹری کے باعث جب چاند عین سورج اور زمین کے درمیان موجود ہوتا ہے تو یہ مکمل طور پر سورج کی روشنی کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔‘

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چلی سے تعلق رکھنے والے آسٹروفزکس کے ماہر لکھتے ہیں کہ سورج گرہن کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ سات منٹ اور 32 سیکنڈ کا ہو سکتا ہے سورج گرہن کتنے دنوں بعد یا کتنی دیر میں ہوتا اس بارے میں شاید آپ کا خیال ہو کہ ایسا کم کم ہی ہوتا ہے لیکن اصل میں ہر اٹھارہ ماہ بعد ایک سورج گرہن ہوتا ہے۔

    لیکن زمین پر ایک ہی جگہ سے مکمل سورج گرہن کا دیکھا جانا، ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے اور ایسا 375 برس بعد ہی میں مکمن ہو سکتا ہے۔

    اس سال بھی مکمل گرہن ہونے والا ہے لیکن اس کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ قطب جنوبی میں ہوں کیونکہ یہ صرف وہیں نظر آئے گا۔

    سالانہ گرہن
    جب چاند اور زمین کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا ہے تو زمین سے چاند چھوٹا نظر آتا ہے اور اسی لیے یہ مکمل طور پر سورج کو چھپا نہیں پاتا۔ ایسے میں چاند کے گرد سورج ایک ہالے کی طرح نظر آتا ہے اور اس واقع کو سالانہ سورج گرہن کہا جاتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ گریٹی
    اس سال جون کی دس تاریخ کو سالانہ سورج گرہن شمالی عرضالبد کے انتہائی شمالی حصوں جن میں کینیڈا کے کچھ علاقے، گرین لینڈ اور روس میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا جبکہ یورپ، وسطی ایشیا اور چین کے بعض حصوں میں جزوی طور پر سورج گرہن ہو گا۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق یہ سورج گرہن عام طور پر خاصے طویل ہوتے ہیں اور سورج ایک گول دائرہ یا ہالے کے طور پر دس منٹ تک دکھائی دے سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ پانچ سے چھ منٹ تک دکھائی دیتا ہے۔

    ملا جلا گرہن
    بیمن نے وضاحت کی کہ ملا جلا گرہن جسے انگریزی میں ہائبرڈ گرہن کہتے ہیں وہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین سے اتنے فاصلے پر ہوتا ہے کہ یہ سورج کو پوری طور پر چھپا لے، لیکن جب یہ حرکت کرتا ہے تو یہ دنیا سے دور ہوتا جاتا ہے اور پورے سورج نہیں چھپا پاتا۔ یوں مکمل سورج گرہن سالانہ سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    اس طرح جب چاند زمین کی جانب حرکت کرتا ہے تو سلانہ سورج گرہن مکمل سورج گرہن میں بدل جاتا ہے۔

    ہائبرڈ یا ملا جلا گرہن کا ہونا شاز و نادر ہی ہوتا ہے ایسے گرہن صرف چار فیصد ہی ہوتے ہیں۔

    ناسا کے مطابق آخری سورج گرہن سنہ 2013 میں ہوا تھا اور ایسے دوسرے سورج گرہن کے لیے ہمیں 20 اپریل سنہ 2023 تک انتظار کرنا ہوگا جو انڈونیشیا، آسٹریلیا اور پاپوا نیو گنی میں دیکھا جائے گا۔

    2: چاند گرہن
    چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا دوسرے لفظوں میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔

    چاند گرہن کی تین اقسام ہیں-

    مکمل چاند گرہن
    مکمل چاند گرہن کے دوران، ناسا کے مطابق چاند اور سورج دنیا سے دو مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں چاند گرہن کے دوران چاند زمین کے سائے میں آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ روشنی چاند پر پہنچتی رہتی ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند گرہن کے دوران سورج کی روشنی زمین کی فضا سے گزر کر چاند پر پڑتی ہے اس ہی وجہ سے گرہن کے دوران چاند سرخ نظر آتا ہے جسے ’خونی چاند‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    آئی اے سی کے ہدایت نامہ کے مطابق دنیا کا قطر کیونکہ چاند کے قطر سے چار گنا بڑا ہے اس لیے مکمل چاند گرہن کا دورانیہ 104 منٹ تک ہو سکتا ہے اور چاند گرہن کی یہی وہ قسم ہے جو کل یعنی 26 مئی کو دیکھی جا سکے گی –

    جزوی چاند گرہن
    اس گرہن کے دوران چاند پوری طرح نہیں چھپتا ہے اور صرف چاند کا کچھ حصہ ہی زمین کے سائے میں آتا ہے گرہن کی نوعیت کتنے گہرے سرخ رنگ یا خاکی اور زنگ کے رنگ کی طرح ہو گی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ زمین کا عکس چاند کی تاریک سطح پر کسی طرح پڑتا ہے۔

    فوٹو بشکریہ ناسا
    چاند کے تاریک اور روشن حصے کے تضاد کی وجہ سے ہوتا ہے چاند کا روشن حصہ پر تو سائے کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور کی چمک برقرار رہتی ہے لیکن زمین کے سائے میں آنے والا حصہ تاریک ہو جاتا ہے۔

    ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہے لیکن جزوی گرہن سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے اگلا جزوی چاہد گرہن 18 اور 19 نومبر کو متوقع ہے جو شمالی اور جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا۔

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خفیف سا چاند گرہن
    یہ گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین کے خفیف سے سائے کے نیچے سے گزرتا ہے جو کہ بہت ہلکہ سا سایہ ہوتا ہے یہ گرہن اتنے ہلکے سے ہوتے ہیں کہ ان کا انسانی آنکھ سے دیکھے جانے کا امکان اس بات پر ہوتا کہ چاند کا کتنا حصہ اس عکس کے نیچے آتا ہے۔ جتنا کم حصہ اس سائے میں آتا ہے اتنا ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ زمین پر کسی انسان کو دکھائی دے۔

    یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے گرہن کا کیلینڈر میں ذکر نہیں کیا جاتا خاص طور پر ان کیلینڈروں میں جو سائنسدانوں کے علاوہ عام لوگ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

    20 سال قبل دریافت کیا گیا رواں سال کا سب سے بڑا سیارچہ 21 مارچ کو زمین کے پاس سے…

    سٹیلر گرہن
    صرف چاند اور سورج ہی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا کائنات کے دور دراز ستارے بھی گرہن میں جا سکتے ہیں بیمن اپنی کتاب ’السٹریٹڈ ایسٹرونومی‘ جو آن لائن پر مفت میں دستیاب ہے اس میں وجہ لکھتے ہیں پچاس فیصد ستارے دو یا دو سے زیادہ کے جھنڈ میں ہوتے ہیں-

    کیونکہ ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔

  • سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے زمین کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی سے باہر پتھریلی چٹانوں والے دیگر سیاروں پر موجود ماحول کو سمجھنے کے لیے بہترین جگہ ہو سکتی ہے س نئی دنیا کو ’گلیز 486b ‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے مگر اسے سپر ارتھ بھی کہا جا رہا کیونکہ یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

    سپر ارتھ کے نام کے باوجود یہ کئی لحاظ سے ہماری زمین سے مختلف ہے۔یہ سیارہ ہماری زمین سے 30 فیصد بڑا اور تقریباً تین گنا زیادہ بھاری ہے یہ اتنا گرم ہے کہ اس کی سطح پر سیسہ پگھل سکتا ہے اور وہاں لاوا کے دریا اس کی سطح پر بہتے ہیں۔

    ایک ستارے کے گرد گھومنے والا یہ سیارہ صرف 26 نوری سال دوری پر ہے جو کائنات میں ہمارا سب سے قریبی پڑوسی ہے گلیز 486b مدار میں گردش کرتے ہوئے اور ایک سرخ چھوٹے ستارے سے قربت کی وجہ سے محققین کی نظر میں آیا۔

    اس کی ایک حیرت انگیز وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک ’منتقل‘ ہونے والا سیارہ ہے اور جب یہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو سائنس دان اس کا اچھے طرح سے نظارہ کر سکتے ہیں اور اس کے ماحول کی جانچ کرسکتے ہیں یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اسے دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک تو اسے ستاروں کو عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور دوسرا ڈوپلر ریڈیل ویلاسٹی کے ذریعے بھی اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں طریقوں کو ملا کر اس سیارے اور اس کے ماحول کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

    اس کا ماحول خاص طور سائنس دانوں کو زیادہ پر پُرجوش بناتا ہے کیوں کہ یہ اتنا گرم ہے کہ اس کے ماحول کے پھیلتے ہوئے درجہ حرارت کی ماہر فلکیات پیمائش کر سکتے ہیں۔

    دوسرے سیاروں کے ماحول کو جاننے کا ایک کلیدی طریقہ ہے کہ آیا وہاں زندگی کے لیے کیا امکانات ہیں۔ اگر اس کا امکان کم ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس کا ستارہ غیر مستحکم ہے جو اسے کبھی بھی مٹا سکتا ہے۔

    شاید اسی وجہ سے یہاں زندگی کے امکانات کم ہیں زیادہ ترقی یافتہ ماحول یہ تجویز کرے گا کہ یہ زندگی کے لیے بہتر جگہ ہو سکتی ہے۔ گلیز 486b کی سطح کا درجہ حرارت 430 ڈگری سیلسیئس ہے اور اس طرح یہاں ہماری جیسی زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔

    لیکن سائنس دان امید کرتے ہیں کہ وہ اس ماحول کی مزید جانچ کر یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ آیا اسی طرح کے سیارے انسانوں کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں اور وہاں زندگی کا کتنا امکان ہو سکتا ہے۔

    اس مطالعے کے شریک مصنف بین مونٹیٹ نے ایک بیان میں کہا یہ وہ سیارہ ہے جسے دریافت کرنے کا ہم کئی دہائیوں سے خواب دیکھ رہے ہیں-

    ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ قریبی ستاروں کے آس پاس چٹانوں والے سیارے یا سپر ارتھز کا وجود ضرور ہے لیکن ہمارے پاس ابھی تک ان کی تلاش کے لیے ٹیکنالوجی نہیں۔‘

    ’یہ دریافت کرہ ارض کے ماحول کے بارے میں ہمارے خیالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘ سائنس دانوں کو اب امید ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں جدید ترین دوربینوں کی مدد سے اس کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کرسکیں گے۔

    ڈاکٹر مونٹیٹ کا کہنا ہے’گلیز 486b سیارے کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں ہم اگلے 20 سالوں میں مزید مطالعہ کریں گے۔ یہ بات نوٹ کرتے ہوئے کہ اگرچہ کائنات میں سپر ارتھز شاذ و نادر نہیں ہیں لیکن کائنات میں ہمارے اپنے پڑوس میں ان کا ملنا غیر معمولی ہے۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

  • زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    ایک ہزار ایک سو پندرہ فٹ بڑا 99942 نامی سیارچہ زمین کے قریب سےگزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین کے مطابق سیارچہ سطح زمین سے 10.4 ملین میل کے فاصلے سے گزرا جو کہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کے 44 بار بنتا ہے –

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 99942 اپوفس نامی سیارچہ پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا یعنی 1115 فٹ کا ہے اور اس کی چوڑائی فٹبال کے 4 گراؤنڈز کے برابر ہے اگر یہ سیارچہ زمین سے ٹکرا جاتا تو 88 کروڑ ٹن بارودی مواد کے بیک وقت دھماکے کے برابر تباہی ہوتی۔

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سائز کا اگلا سیارچہ اپریل 2029 میں زمین سے 19000 میل کے فاصلے سے گزرے گا۔