Baaghi TV

Category: ارضیات

  • شاہ رخ خان اوراداکارہ دپیکا پڈوکون کے خلاف  مقدمہ درج

    شاہ رخ خان اوراداکارہ دپیکا پڈوکون کے خلاف مقدمہ درج

    بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان اوراداکارہ دپیکا پڈوکون کے خلاف معروف کار برانڈ کی گاڑی میں تکنیکی خرابی سامنے آنے کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجستھان کے شہر بھرت پور کی وکیل کیرتی سنگھ نے کار برانڈ کی مینو فیکچرنگ میں مبینہ طور پر نقائص سامنے آنے کے بعد کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر، کل وقتی ڈائریکٹر، سی ای او اور شوروم مالکان کےخلاف مقدمہ درج کروایا ہے،مقدمے میں شاہ رخ خان اور دپیکا پڈوکون کو بھی نامزد کیا گیا ہے، دونوں پر الزام ہے کہ بالی وڈ کی یہ شخصیات خراب گاڑیوں کی تشہیر کر رہی ہیں،مقدمے میں شاہ رخ اور دپیکا پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے خراب پروڈکٹ کے اشتہارات کی تشہیر کر کے صارفین کو گمراہ کیا ‘۔

    ایف آئی آر میں کیرتی سنگھ نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے 2022 میں 23 لاکھ 97 ہزار بھارتی روپے کی کار بینک لون پر خریدی تھی، کار خریدنے کا فیصلہ معرو ف بالی وڈ اداکاروں کے اشتہارات دیکھ کر اور برانڈ کی جانب سے کار کے مکمل طور پر’Trouble free‘ ہونے کی یقین دہانی کے بعد کیا گیاتاہم استعمال کے چند مہینوں کے دوران ہی کار میں تکنیکی خرابیاں سامنے آنے لگیں حتیٰ کہ ان مسائل کی بنا پر کار کئی بار حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بھی بچی، ڈیلرشپ سے رابطے پر انہیں بتایا گیاکہ کار کی مینوفیکچرنگ میں خرابی ہے جسے درست نہیں کیا جا سکتا۔

    بھارت نے چمیرا ڈیم سےپانی چھوڑ دیا، دریائے راوی میں پانی کی سطح مزید بلند

    اس حوالے سے پولیس حکام کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں شخصیات کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ٹرمپ نے 4 بار فون کیے، مودی نے کالز وصول کرنے سے انکار کر دیا، جرمن اخبار کا دعویٰ

  • متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں زلزلے کے جھٹکے

    متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں زلزلے کے جھٹکے

    دبئی: متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 3:15 زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں زلزلہ آنے کے باعث یو اے ای میں جھٹکے محسوس کیے گئے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز ایرانی ساحلی شہر بندر لنگہ کے قریب تھا۔


    کئی سوشل میڈیا صارفین نے زلزلے کی ویڈیوز بھی شئیر کیں-


    https://twitter.com/RoyalIntel_/status/1504238457123934209?s=20&t=W92IP9ztYdBPO5-lOOvPGg


    2003 میں، 6 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے نے بام شہر کو تباہ کر دیا تھا، جس میں 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2017 میں ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے میں 7 شدت کے زلزلے سے 600 افراد ہلاک اور 9000 سے زائد زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں بھی گلگت، اسکردو، گانچھے، شگر اور چلاس سمیت گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے ے زلزلے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد کلمہ طیبہ کا ورد کرتی ہوئی گھروں و کاروباری مراکز سے باہر آگئی زلزلے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور ملوپہ کے مقام پر گلگت اسکردو روڈ بند ہو گیا تھا-

  • جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    ٹوکیو: جنوبی جاپان کے ساحل کے نیچے ایک آتشیں چٹان دریافت ہوئی ہے جسے ’کومانو پلوٹون‘ کا نام دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یہ چٹان ایک طرح سے مقناطیس یا برقی سلاخ کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہےاس کےمفصل تھری ڈی نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکٹانوک پلیٹوں کی توانائی اس چٹان کی اطراف پہنچتی ہے اور دھیرے دھیرے جمع ہورہی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    2006 میں سائنسدانوں نے کومانو پلوٹان پر توجہ کی تھی جو پگھلے ہوئے ارضی مادے سے بنی ایک چٹان ہے پلوٹون اس چٹان کو کہتے ہیں جو زیرزمین دیگر پتھروں کو ہٹا کر ایک ابھار کی صورت میں باہر پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے سرد ہوکر سخت ہوجاتی ہے-

    ماہرین نے تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ نانکائی سبڈکشن زون میں ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ میں دھنس رہی ہے جسے سبڈکشن کا عمل کہا جاتا ہے اس سے پلیٹوں پر توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور زلزلوں کی وجہ بنتی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک مقام پر پلوٹون چٹان موجود ہے ماہرین نے اس کے بعد مزید 20 سال کا ڈیٹا جمع کیا اور چٹان کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مزید نقشہ سازی کی۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    بحری ارضی سائنس و ٹیکنالوجی ایجنسی کے سینیئر سائنسداں سیوشی کوڈیرا کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے جاپان میں رونما ہونے والے ممکنہ زلزلوں کی پیشگوئی میں سہولت ہوگی تو دوسری جانب آتشیں چٹان اور ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ربط جاننے میں بھی مدد ملے گی ہم درست طور پر نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کہاں اور کس وقت بڑے زلزلے رونما ہوں گے لیکن ڈیٹا اور ماڈلنگ سے اس کا درست اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ معمولی ہو یا بڑا اس کے اثرات اپنے مقام سے تالاب میں دائروں کی طرح پھیلتےہیں، تباہی مچاتے ہیں اور دوبارہ لوٹ آتے ہیں ماہرین نے اس پورے عمل کی نقشہ سازی کی ہے جو نہایت محنت طلب کام ہے اسی مقام سے 1944 اور 1946 کے ہولناک زلزلے بھی پھوٹے تھے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پلوٹون کا کردار بہت اہم تھا۔

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • سعودی عرب میں 5 ہزار سے زائد معدنی مقامات ہیں،سعودی جیولوجسٹس

    سعودی عرب میں 5 ہزار سے زائد معدنی مقامات ہیں،سعودی جیولوجسٹس

    سعودی عرب میں ماہرین نے 5300 سے زائد معدنی مقامات دریافت کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق سعودی جیولوجسٹس کوآپریٹو ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسرعبدالعزیز بن لابن نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں 5300 سے زائد معدنی مقامات موجود ہیں-

    سعودی عرب نے معتمرین کے لیے ویزہ کے حصول کو مزید آسان بنا دیا

    عرب میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب الریاض میں ’پائیدارمستقبل معدنیات‘ کے موضوع پرپہلی وزارتی گول میزکانفرنس منعقد ہورہی ہے یہ مستقبل معدنیات فورم کا حصہ ہے۔

    پروفیسرعبدالعزیز نے بتایاکہ سعودی عرب میں معدنیات کی تلاش کے سابقہ عمل سے پتاچلا ہے کہ 5,300 مقامات میں متنوع دھاتی اورغیر دھاتی چٹانیں، تعمیراتی مواد،آرائشی چٹانیں اور جواہرات شامل ہیں معدنی دولت سےمالا مال چٹانیں عرب شیلڈ کےعلاقے میں پائی جاسکتی ہیں۔ان کا کل رقبہ قریباً 6لاکھ 30 ہزارمربع کلومیٹرپرمحیط ہے۔

    وژن2030: سعودی عرب نے غیر ملکی ملازمین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اگرچہ عرب شیلڈ کے ایک جامع معدنی سروے میں مزید معدنی وسائل کی تلاش کی جائے گی لیکن سعودی عرب کے کل رقبے کا قریباًایک تہائی حصہ دھاتی معدنیات مثلاً سونا، چاندی، تانبا،لوہااورنایاب اورتابکارعناصر پر مشتمل ہےانھوں نے تیل اور پیٹروکیمیکلز کے بعد معدنیات کو’’قومی معیشت کےلیےتیسرامعاشی ستون‘‘ قراردیا ہے۔

    چین میں تعینات افغان سفیر نے کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا

    دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے معادن کمپنی کے قیام کا انکشاف کیا ہے تاکہ بیرون ملک درکار وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی کان کنی کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران وزیر توانائی نے کہا کہ ہمارے پاس یورینیم کی بڑی مقدار موجود ہے اور ہم اس کا تجارتی طور پر بہترین استعمال کریں گے۔

    فرانس :کین شہرمیں یہود مخالف بیان کے الزام میں مسجد بند کر دی گئی

    انہوں نے کہا کہ ہم یورینیم کے ذخائر سے پوری شفافیت کے ساتھ نمٹیں گے، اور ہم مناسب شراکت داروں کی تلاش کریں گےہم ہائیڈروجن کی پیداوار میں سنجیدہ ہیں اور سعودی عرب صاف ہائیڈروجن توانائی پیدا کرنے والا سب سے سستا ملک ہوگا ہم شیل آئل کی صلاحیتوں میں بہتر پوزیشن رکھتے ہیں اور ہمارے پاس پیداوار کے لیے معیاری اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز ہیں۔

    سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی

  • پاکستان کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان کے بیشتر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے شہر سوات سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے ، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ گہرائی 120 کلومیٹر تھی زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا ۔

    زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

    زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

    زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

    کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

    پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

    یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہےاٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

    ریکٹر اسکیل کیا ہے؟

    ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

  • جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت، وزیر ثقافت نے تصاویر جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق پیر کو سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے تاریخی شہر جدہ کی ترقی اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرنے والے فن پاروں کی تصاویر شائع کیں ان میں صدیوں پرانا پتھر کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے جس پر کچھ نقوش اور عبارتیں درج ہیں۔


    وزیرثقافت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے دوران وضاحت کی کہ یہ تصاویر ایک تجارتی عمارت اور کھوکھے کو ہٹانے کے بعد سامنے آئیں آرٹ کا یہ نمونہ 1981 میں عظیم آرٹسٹ عبدالحلیم رضوی نے تیار کیا تھا۔


    تصویروں میں سجاوٹ کو "مچھلی” کی شکل میں دکھایا گیا تھا اور متعدد پتھروں میں تراشے گئے جملے جدہ میں گذرے وقت کی زندگی کا اظہار کرتے تھے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے تاریخی جدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت "تاریخی جدہ کو زندہ کرنے” کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جدہ کی ایک طویل تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔

    کچھ مورخین اس کی بنیاد تقریباً 3000 سال پر محیط قرار دیتے ہیں اسکالرز کی جانب سے نوادرات کے مطالعات پتا چلتا ہے کہ پتھر کے زمانے سے اس علاقے میں لوگ رہتے تھے مشرقی جدہ میں وادی بریمان اور شمالی جدہ میں وادی بویب میں ثمودی دور کی کتابت اور آثار ملت ہیں۔

    منصوبہ ولی عہد کی تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی میں دلچسپی کے تناظر میں سامنے آیا ہے تاکہ وژن 2030 کے مقاصد کے حصول اور مملکت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک کے طور پر عرب اور اسلامی گہرائی کو ظاہر کیا جا سکے۔

  • بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلے کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا جس نے ہرنائی میں تباہی مچا دی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔

    زلزلے کے باعث کئی مکانات گر گئے جن کے ملبے تلے پھنسے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جبکہ حکومتی مشینری پہنچنے کے بعد بھی ریسکیو کا کام جاری رہا زلزلے سے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد بلوچستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچنے پر طبی عملے کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

    ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  • زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    زمین کیطرف بڑھتے سیارچے کو راستے سے ہٹانے کیلئے ناسا کا ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان

    ناسا نےنومبر میں ڈارٹ مشن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق زمین کو خلا میں موجود کئی سیارچوں سے خطرات لاحق ہیں ناسا نے زمین کا دفاع کرنے کی حکمت عملی کے تحت مشن شروع کیا ہے ٹیم کے مطابق یہ مشن زمین کی طرف آتے سیارچوں سے بچنے کے لیے مستقبل کے مشنوں میں قیمتی ان پٹ فراہم کرے گا۔

    یکم اکتوبر کو ناسا نے اعلان کیا تھا کہ کیوب سیٹ جو ڈارٹ کے ساتھ روانہ کیا جائے گا تنصیب کے لیے تیار ہے کیوب سیٹ کا وزن 31 پاؤنڈ ہے جو کسی بازو کی لمبائی سے بھی چھوٹا ہے۔

    ڈارٹ ناسا کی سیارچوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی کا پہلا حصہ ہے ، جسے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کو خطرناک سیارچوں کے ممکنہ اثرات سے بچایا جا سکے۔

    اس مشن کے تحت پہلی دفعہ ناسا ڈارٹ خلائی جہاز 24 نومبر کو اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ سے ڈیڈیموس بائنری کی طرف بھیجے گاجو 2 اکتوبر 2022 کو 2 میں سے 1 سیارچے ‘ڈیڈیمون’ سے 13،500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرا جائے گا۔

    اس کے ذریعے ناسا سیارچے کی رفتار کو ایک فیصد ہی کم کر سکے گا تاہم سائنسدانوں کو سیارچے کی معلومات حاصل کرتے ہوئے اس کے تبدیل شدہ مدار کی پیمائش کرنے کا موقع ملے گا۔

    ڈیڈیمون سیارچہ 2003 میں زمین کے 3.7 ملین میل کے فاصلے پر آیا تھا ناسا کے مطابق ماہرین کو زمین کے قریب 25 ہزار سے زائد اشیا دریافت ہوچکی ہیں، جبکہ مزید کی دریافت میں وقت درکار ہے۔

    160 میٹر چوڑائی پر ڈیڈیمون ایک بہت بڑی خلائی چٹان کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے ڈیڈیموس کہا جاتا ہے جو تقریبا 780 میٹر بڑا ہے۔

    ناسا کے مطابق دو سیارچوں میں سے ڈیڈیمون کا زمین سے ٹکرانے کا زیادہ امکان ہے، اس وجہ سے کہ اس کے سائز سے زیادہ خلائی چٹانیں موجود ہیں جس کا ناسا اور سنٹر فار نیر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے ابھی تک مشاہدہ نہیں کیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ڈارٹ ٹیکنالوجی پہلی بار استعمال کی جائے گی، جس میں تیز رفتار خلائی جہاز کو خلا میں سیارچے سے مقابلے کے لیے بھیجا جائے گا۔

  • اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 4.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلہ کی گہرائی زیرزمین 23 کلومیٹر اورمرکز اٹک سے 28 کلومیٹر جنوب میں تھا۔

    سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت کتنی تھی؟

    ابتدائی طور پر زلزلے سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی زلزلے کے وقت لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    پاکستان میں زلزلہ پروف 5 مرلے کا گھر صرف 40 دن میں تیار ہو گا ، خالد منصور کا…

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.58 اور گہرائی 150 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

    جبکہ اس سے دو روز پہلے ( ہفتہ کو) بھی سوات میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت چار اور گہرائی 180 کلومیٹر زیر زمین تھی۔

    کراچی میں آج سے 4 روزہ جزوی ہیٹ ویو شروع ہونے کا امکان محکمہ موسمیات