Baaghi TV

Category: ارضیات

  • انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں 6.1 شدت کے زلزلے میں 1300 عمارتیں منہدم اور آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں-

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی ساحل میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا سب سے زیادہ نقصان سیاحتی مقام بالی میں ہوا جہاں ہزار سے زائد گھر اور دیگر عمارتیں گر گئیں۔ عمارتوں کے ملبے سے آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں شہری لاپتہ ہیں۔

    تاہم اب بھی درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جن کے بچنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔


    ریسکیو ادارے کے مطابق سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے ہوسکتا ہے۔ حکومت نے مذکورہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آرمی کو بھی ریسکیو کاموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جاوا کا مشرقی ساحل اور گہرائی دس کلومیٹر تھی۔ مقامی ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز ملنگ شہر سے 67 کلومیٹر دور تھا، اسی وجہ سے بالی میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔

  • چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    کرہ ارض پر خود زمین سے بھی پرانا ایک شہابیہ ملا ہے اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال بتائی گئی ہے یعنی یہ زمینی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نایاب ترین پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہےجو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔ 2020 میں جاپانی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے دریافت کیا تھا اور اگلے ہی دن اس پر غوروفکر شروع کردیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پتھرنظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہےاس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔

    اس شہابیے کو ایرگ چیک 002 کا نام دیا گیا ہے اور مختصراً اسے ای سی 002 پکارا جارہا ہے کے بارے میں فرانس فرانس کی یونیورسٹی آف ڈی بریٹاگین آسیڈینڈل کے ماہر جین ایلکس بیرے نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے شہابیوں پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔

    ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

    خیال ہے کہ یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانیٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیاتاہم ابھی اس پر تحقیق جاری ہے-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

  • جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائنسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا-

    البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ہے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البیرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی-

    ‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا-

    ‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔ یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے-

    ‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں-

  • زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلموں نے زمین کی ایک ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کو 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمو دیا-

    باغی ٹی وی : ہماری زمین پر ارضیاتی عدسے سے نظر دوڑائیں تو یہ ابلے ہوئے انڈے کی مانند جگہ جگہ سے چٹخی نظر آتی ہے۔ کیونکہ یہاں فالٹ لائنیں ہیں جو خشکی کے بڑے بڑے ٹکروں پر مشتمل ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے۔ اب ٹیکٹونک پلیٹوں کے مکمل ارتقا کو صرف ایک 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمویا گیا ہے –

    ٹیکٹونک ارضیاتی پلیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں ناخن بڑھنے کے رفتار کے تحت اوسط حرکت ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے تمام ٹیکٹونک معلومات کو ایک ہی ویڈیو میں سمودیا ہے جس میں ہرطرح کے حقائق درست ہیں۔ یوں زمین کا ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم مائیکل ٹیٹلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے اگرچہ یہ پلیٹیں سال میں چند سینٹی میٹر سرکتی ہیں لیکن جب اربوں سال تک انہیں نوٹ کیا جائے تو ان میں غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں آج کا انٹارکٹیکا سخت برفیلا ہے اور جب وہ خطِ استوا پر ہوتا تھا تو اس وقت ایک بہت خوبصورت اور تفریحی مقام تھا۔

    اسے سمجھتے ہوئے ہم زمینی موسم، آب و ہوا، ارضیات اور خود ہمارے مستقبل کے بارے مین بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو اب تک دستیاب جدید ارضیاتی ماڈؑل کی بنا پر تیار کی گئی ہے۔

  • سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال سے برف میں محفوظ گینڈے کی لاش دریافت-

    باغی ٹی وی : سائبرین ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برفانی عہد کا یہ گینڈا اگست 2020 میں یوکیتیا کے خطے میں اس وقت دریافت ہوا جب وہاں کی برف پگھل گئی۔

    خیال کیا جارہا ہے کہ یہ گینڈے کا بچہ ہے جس کی عمر 3 سے 4 سال ہوسکتی ہے اور اس کی موت 20 سے 50 ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔

    جب سے اس کا جسم برف میں منجمد ہوکر محفوظ تھا اور اب بھی اس کے بال، نرم ٹشوز، آنتیں، دانت، چربی کے ٹکڑے اور سینگ جسم کا حصہ ہیں یہاں تک کہ اس کا آخری کھانا ابھی بھی برقرار ہے-

    یوکیتیا کے اکیڈمی آف سائنسز کی ڈاکٹر ویلری پیٹونیکوف نے بتایا یہ نوعمر گینڈا 3 سے 4 سال کا تھا اور ممکنہ طور پر ڈوب کر ہلاک ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے معلوم ہوگا کہ اس کی موت کب ہوئی مگر امکان ہے یہ 20 سے 50 ہزار سال سے پرانی لاش ہے۔

    اس سے قبل اسی خطے سے 2014 میں ایک ایسے ہی گینڈے کے بچے کے منجمد جسم کو دریافت کیا گیا تھا جو کہ 34 ہزار سال پرانا تھا۔

    ڈاکٹر ویلری نے وضاحت کی کہ اس نو دریافت شدہ گینڈے کا جسم گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا ہے، جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ اس زمانے کے گینڈوں نے کم عمری میں ہی سرد موسم سے مطابقت حاصل کرلی تھی۔

    یہ خطہ قدم عہد کے جانوروں کی دریافت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور اس نئی دریافت کو خطے کے صدر مقام یاتوسک میں بھیجنے کے لیے برف سے بنی سڑکوں کے بننے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

  • ترکی زلزے پر تُرک اداکار جلال کا شدید دُکھ کا اظہار

    ترکی زلزے پر تُرک اداکار جلال کا شدید دُکھ کا اظہار

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی دتُرکش سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں بہادر سپاہی عبدالرحمٰن کا کردار نبھانےوالے تُرک اداکار جلال نے ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں آنے والے زلزلے پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ترک اداکار جلال نے ازمیر زلزلے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے ترک زبان میں اپنے پیغام میں افسوس کا اظہات کرتے ہوئے لکھا کہ آج یوم یکجہتی ہے آج ہم ازمیر اور اپنے اُن تمام بھائیوں کے ساتھ ہیں جو زلزلےسے متاثر ہوئے ہیں۔

    ترک اداکار جلال نے ریسکیو اہلکاروں کے لیے دُعا کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ تعالیٰ تمام رضاکاروں، امدادی کارکنوں اور میڈیکل اسٹاف کی مدد کرے جو اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر زلزلے سے متاثرہ افراد کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ارطغرل کے بہادر سپاہی عبد الرحمنٰ نے لکھا کہ ’للہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو شفا عطا کرے، آمین۔

    آخر میں اُنہوں نے لکھا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں ازمیر کے ساتھ ہیں۔

    واضح رہے کہ ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں 7.0 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق جبکہ 800 سے زائد زخمی ہوگئےجبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    ارطغرل کے علیار بے اور عبدالرحمن کی مداحوں کو عید میلاد النبیﷺ کی مبارک باد دی

  • اک ذرا سے جھٹکے سے  بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اک ذرا سے جھٹکے سے…
    جب دھرتی کاسینہ شق ہوا…
    کئی چاند چہرے چُھپ گئے…
    اور زندگی کا رنگ فق ہوا…
    سب موج میلوں میں گُم تھے…
    کہیں خوشیاں،کہیں غم تھے…
    دلوں میں لیئے کئی ارمان…
    آنکھوں میں کُچھ خواب نم تھے…
    کہ قدرت کے اک اشارے سے…
    کیا خوفناک تھا وہ اُفق ہوا…؟
    سورج کی اُن کرنوں میں …
    گردش کرتی خبروں میں …
    موت کا ہی رنگ نِکھرا…
    ہر سو اک غم بِکھرا…
    اس دنیا کی بے ثباتی کا…
    اور دولت آتی جاتی کا…
    سب پختہ گھر،عمارتوں کا…
    منصب اور وزارتوں کا…
    زعم زمیں بوس ہوا…
    یہ اک جھٹکے کا حال تھا…
    جب بگڑا حسن و جمال تھا…
    وہ بھاری چیز پھر کیا ہوگی؟
    ہیں جس سے غفلت میں سبھی…
    جب پردہ اُٹھے گا رازوں سے…
    نکلیں گے سب حجابوں سے…
    سب گزریں گے حسابوں سے…
    اُس سختی کا عالم کیا ہو گا…؟
    ہر غاصب،ظالم کھڑا ہو گا…!!!
    اُس وقت کو ہر دَم یاد رکھو…
    آخرت کا توشہ آباد رکھو…
    موت کے لیئے ہم تیار رہیں…
    کسی موڑ بھی نہ غدار رہیں…!!!!!
    (8 اکتوبر 2005)۔

  • زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Dead Sea
    بحیرہ مردار،
    زمین کا سب سے گہرا حصہ

    فارسیوں سے رومیوں کی شکست کے بعد قرآن نے بلکل ٹھیک پیشین گوئی کی کہ وہ دوبارہ فاتح ہوں گے۔ یہ جنگ ڈیڈ سی(بحیرہ مردار) کے قریب لڑی گئی۔

    Quran 30:2-3

    روم مغلوب ہو گئے۔(2)
    سب سے کم(نچلی، گہری) زمین میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔(3)

    اَدْنَى کے عربی میں دو مطلب ہیں، ایک ”نزدیک” اور دوسرا ”کم یعنی گہرا”. آج ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار(Dead Sea) زمین پر سب سے کم(گہرا) ترین پوائنٹ ہے۔ (سطح سمندر سے 423 میٹرز یا 1388 فٹ نیچے ہے۔)

    1400 پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے زمین کے سب سے گہرے مقام کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • رنگیلے پہاڑ کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    رنگیلے پہاڑ کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    معدنیات مختلف رنگوں پر مشتمل ہیں۔

    مختلف معدنیات مختلف رنگ کے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا بہت ہی شاذ و نادر ہوتا ہے کہ ایک ہی پہاڑ مختلف رنگوں پہ مشتمل ہو۔ مندرجہ ذیل تصویر پیرو(جنوبی امریکہ) کی ہے۔

    مگر قرآن میں یہ چودہ سو سال پہلے درج تھا۔

    Quran 35:27

     (الفاطر 27)

    کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر ہم اس کے ذریعے سے پھل نکالتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اور پہاڑ بھی مختلف رنگتوں کے کچھ تو سفید اور کچھ سرخ اور بہت سیاہ بھی ہیں۔

    پہاڑ مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مگر عرب کے صحرا میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ تصویر پیرو(جنوبی امریکہ) کی ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے مختلف رنگوں پہ مشتمل پہاڑ کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟ جبکہ تب امریکہ ابھی دریافت ہی نہیں ہوا تھا!!!

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زلزلے کا قرآن مجید میں ذکر: بقلم سلطان سکندر

    زلزلے کا قرآن مجید میں ذکر: بقلم سلطان سکندر

    زلزلہ
    زمین کا اپنی موجودہ جگہ سے اچانک ہِل جانا۔

    زلزلے زمین کی تھرتھراہٹ کو کہتے ہیں جو زمین کی اپنی جگہ سے اچانک ہلنے کے سبب آتے ہیں. یہ بات حال ہی میں معلوم ہوئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں کہا گیا,

    Quran 67:16

    "کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس جب اچانک وہ تھرتھراہنے لگے۔”(الملک 16#)

    یَخْسِفَ کا عربی مطلب زمین میں دھنسا دینا اور زمین کو اسکی اپنی جگہ یا مقام سے اچانک ہِلا دینا, جبکہ تَمُوْر کا مطلب تھرتھراہٹ ہے, یہاں پہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہِلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے؟؟؟

    اصل میں زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں,
    1:- مین شاک
    2:- آفٹر شاک

    مین شاک وہ پہلا زلزلہ ہوتا ہے جو اپنی پوری طاقت سے آتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے, زلزلے کی زیادہ تر انرجی اسی مین شاک میں ضائع ہو جاتی ہے,
    اور باقی ماندہ انرجی آفٹر شاکس کی صورت میں ضائع ہوتی ہے جنہیں ہم زلزلے کے جھٹکے بھی کہتے ہیں.
    قرآن نے ان دونوں کی وضاحت کی ہے.

    Quran 79: 6-7

    جس دن تھرتھراہنے والی(زمین) تھرتھراہے گی۔(6)
    اس کے پیچھے آنے والی(تھرتھراہٹ جھٹکوں کی صورت میں) پیچھے آئے گی۔(7)

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ آفٹر شاکس مین شاکس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!