Baaghi TV

Category: ارضیات

  • ایگزو پلینٹ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ایگزو پلینٹ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Exoplanets
    ایسے سیارے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر یعنی سورج کی گرفت میں نہیں ہیں۔

    1400 سال پہلے لوگ زمین، چاند اور سورج کے بارے میں تو جانتے تھے لیکن ان باقی سیاروں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں، آخر کار کافی عرصے بعد جا کر ماہرین فلکیات نے معلوم کیا کہ ان تینوں سیاروں(یعنی زمین، چاند، سورج) کے علاوہ اور بھی کئی سیارے موجود ہیں۔
    جب سائنسدانوں نے زمین کے علاوہ باقی سیاروں پہ زندگی کیلئے تلاش شروع کی تو انہوں نے صرف وہ سیارے تلاش کرنا چاہے جن پہ پانی ہو کیونکہ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔

    Reference:- Universe Today, Water Discovered in the Atmosphere of an Exoplanet in the Habitable zone. It Might Be Rain, 2019

    "ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرنے والے ماہرین فلکیات نے اپنے ستارے کے رہائش پزیر زون میں ایک ایکسوپلینٹ(بغیر نظام شمسی والا سیارہ) کی فضا میں پانی کو تلاش کیا ہے۔ اگر تصدیق ہوجاتی ہے ، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب ہمیں زندگی کے لئے پانی کا ایک اہم جزو ملا ہے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایکسویلینٹ پر ہے۔ پانی کو آبی بخارات کے طور پر دریافت کیا گیا ہے لیکن سیارے کے درجہ حرارت کے مطابق اگر سیارہ پتھریلا ہے تو یہ اپنے اوپر پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ K2-18B کہلاتا ہے، اور یہ روشنی سے 110 سال دور ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ سیارہ ایک سپر ارتھ ہے، اور یہ زمین سے 2 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر 8 گنا زیادہ بڑا ہے۔ یہ K2-18B سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے, یہ سب سے پہلے 2015 میں کیپلر سپیس دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا۔”

    ایک ایکسوپلینٹ جو رہائش پذیر زون میں پانی کی موجودگی کے ساتھ 2015ء میں دریافت کیا گیا تھا،
    تاہم قرآن میں اسکی دریافت سے تقریبا 1400 سال پہلے اس بات کی تصویر کشی کر دی گئی تھی۔

    Quran 21:30

    "کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے تمام زندگیوں کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔؟”(الانبیاء 30)

    قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام زندگیاں جو زمین پہ ہیں اور باقی تمام زمینیں، پانی پہ منحصر ہیں۔

    ایک اور آیت کے مطابق، زمینیں 7 مختلف قسم کی ہیں اور ہر ایک زمین کا اپنا سیارہ ہے ارتھ(زمین) کی طرح۔

    Quran 65:12

    "اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔”(الطلاق 12)

    ساتوں زمینوں کے ہماری زمین کی طرح اپنے خود کے سیارے موجود ہیں۔ آج ماہرین فلکیات نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس پہ پانی یعنی زندگی موجود ہے، جو کہ ایکسوپلینٹ کہلاتا ہے۔

    لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ،
    1400 سال پہلے کا ایک غیر معمولی انسان کیسے ایکسوپلینٹ کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زمین کے گھومنے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گھومنے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین

    زمین کروی(سفیریکل) شکل میں گردش کر رہی ہے
    قرآن کہتا ہے کہ جب دن اور رات ایک دوسرے کے اوپر آکر ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں تو یہ ایک گیند(سفیئر) بناتے ہیں،

    Quran 39:5

    "اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے، اور اُس نے سورج اور چاند کو تابع کر دیا ہے، ہر ایک وقت مقرر تک چل رہے ہیں، خبردار! وہی غالب بخشنے والا
    ہے۔”

    عربی لفظ “Kura كرة” کا مطلب ہے گیند،
    اور قرآن نے اسکا فعل “Yukawer يُكَوِّرُ” استعمال کیا ہے جسکا مطلب ہے گیند بنانا ہے۔
    قرآن کہتا ہے کہ جن رات اور دن ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں تو ایک گیند(سفئیر) بناتے ہیں۔
    پھر قرآن کہتا ہے کہ
    “سب چل رہے ہیں(Kullon Yajree كل يجري)”
    یہاں قرآن اس بات کی طرف کہ “سب چل رہے ہیں” اشارہ کر رہا ہے کہ صرف چاند اور سورج ہی نہیں چل رہے بلکہ زمین بھی چل رہی ہے۔
    عربی زبان میں سنگولر(ایک)، بائنری(دو)، اور پلورل(تین یا اس سے زیادہ) ان تینوں میں فرق ہے۔ اگر یہاں پہ بائنری(یعنی صرف دو چیزیں چاند اور سورج کے گھومنے) کی بات ہو رہی ہوتی تو یہاں “Kulahuma Yajreean كلاهما يجريان” کے الفاظ استعمال ہوتے جبکہ یہاں قرآن نے کہا “Kullon yajree كل يجري” یعنی پلورل(تین یا تین سے زیادہ) کی بات کر رہا ہے۔
    جیسا کہ چاند اور سورج دو چیزیں ہیں لیکن قرآن تین یا تین سے زیادہ کی بات کر رہا ہے اور وہ تین چاند، سوج اور زمین ہیں۔
    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین، سورج اور چاند یہ سب حرکت میں ہیں؟؟
    قرآن کہتا ہے کہ زمین کا ڈائیا میٹر(قطر) ہے
    (ڈائیا میٹر(قطر) ریڈیئس سے دوگنا ہوتا ہے)

    Quran 55:33

    اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے اقطاروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، تم بغیر زور کے نہ نکل سکو گے (اور وہ تم میں ہے نہیں)۔

    ڈائیامیٹر کو عربی میں قطر کہتے ہیں، اور اسکا پلورل(تین یا تین سے زیادہ) اقطار ہے، ریڈیئس(radius) اور ڈائیامیٹر(Diameter) سرکلز(circles) یا سفئیرز(spheres) کی پراپرٹیز ہیں، یہ پچھلی آیت سے واضح ہوگیا کہ یہ رات اور دن کیسے زمین کو گیند(سفئیر) بناتے ہیں ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہوئے۔[Yukawer يُكَوِّرُ]

    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا ڈائیامیٹر(قطر) موجود ہے؟؟؟؟؟

    "Sateh سطح” کو عربی میں سرفیس(سطح) کہتے ہیں جیسا کہ اس سطح کی کوئی بھی شیپ(شکل) ہو سکتی ہے۔ چاند کی سطح کا مطلب “Sateh Al-Kamar سطح القمر ” ہوتا ہے اور یہ سفئیر(کرہ) کی شیپ(شکل) میں ہے۔ یہ کاٹھی کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔

    Reference:- Wikipedia,سطح سرجی، 2019

    السطح السرجي (بالإنجليزية: Saddle surface) هو سطح أملس يحتوي على نقطة مقعرة أو أكثر.أتت التسمية من شبهه بسرج الفرس والذي ينحني صعودا وهبوطا.

    “کاٹھی کی سطح ایک ہموار سطح ہے جس میں ایک یا ایک سے زیادہ مقاطعہ(کنکیو) پوائنٹس ہوتے ہیں، اسکی مثال گھوڑے کی کاٹھی سے ملتی ہے جو اوپر اور نیچے جھکتی ہے۔”

    یہ کاٹھی کی شیپ “Sateh سطح” کی ایک قسم ہے۔ یہ کوئی بھی شکل ہوسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے “Sateh سطح” کا مطلب کسی بھی صورت میں فلیٹ(ہموار) نہیں ہے۔ کیونکہ عربی میں ہموار سطح کو “musattah مسطح” کہتے ہیں جو کہ یہ پورے قرآن میں لفظ نہیں ہے۔

    Quran 50:7

    اور ہم نے زمین کو بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ ڈال دیے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔

    قرآن کہتا ہے کہ خدا نے زمین پھیلا دی، یعنی سطح کے رقبے میں اضافہ کیا۔ ہمارا نظام شمسی 4.57 بلین سال پرانا ہے۔ ہماری زمین سورج اور باقی ہمسائے سیاروں کے ساتھ فوری طور پر درست ہونا شروع ہوگئی جو کہ 4.57 بلین سال پہلے ایسا ہوا ہے۔ جیسا کہ درستگی کے عمل کے دوران زمین کا ریڈیئس بے ساختہ 6400 کلومیٹرز نہیں تھا بلکہ کچھ کلومیٹرز زیادہ سے آغاز ہوا اور آہستہ آہستہ ریڈئیس بڑھتا گیا۔
    مگر سطح کے رقبے کا فنکشن ریڈیئس ہے( surface area = 4πR2), یعنی جیسے جیسے ریڈیئس بڑھتا ہے تو ساتھ سطح کا رقبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تو قرآن نے سطح کے حصے میں اضافے کو صحیح طریقے سے بیان کیا ہے۔(اور یہ بائبل کے برخلاف ہے جہاں زمین کی تخلیق بےساختہ تھی)

    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین سفئیر شکل میں گھومتی ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سكندر!!!

  • پورے چاند کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پورے چاند کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر


    پورا چاند جو صرف رات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    بائبل میں یہ اصرار کیا جاتا ہے کہ عیسی علیہ السلام ایک بلند جگہ سے پوری زمین(دنیا) کو دیکھ سکتے ہیں (میتھیو 4:8)
    لیکن ایسا تبھی ممکن ہونا تھا اگر دنیا فلیٹ(چٹیل میدان) ہوتی۔ اور اگر دنیا چٹیل میدان ہوتی تو ہر شخص ایک ہی وقت میں پورے چاند کو دیکھ سکتا تھا۔
    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے کیونکہ ہم پورے چاند کو صرف رات میں ہی دیکھ سکتے ہیں، دن کی روشنی میں نہیں۔

    پورا چاند دیکھنے کیلئے سورج، زمین اور چاند کا ایک ہی سیدھی لائن میں آنا ضروری ہے، جیسا کہ سب سے اوپر وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    پورا چاند دیکھنے کیلئے آپکو زمین کی رات والے حصے کی طرف ہونا ہوگا جو چاند کے سامنے ہوگی، زمین کے رات والے حصے کی طرف ہی پورا چاند دکھائی دے سکتا ہے کیونکہ زمین کی دوسری طرف والا حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اس لیے سورج کی روشنی میں پورا چاند دیکھنا ناممکن ہے اس لیے ان لوگوں کو زمین کو روٹیٹ(گردش) ہونے تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک زمین چاند کے سامنے نہیں آجاتی، اور زمین کے روٹیٹ ہونے کے بعد دن والا حصہ رات میں تبدیل ہوجائے گا، اس لیے پورا چاند رات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے، دن کی روشنی میں نہیں۔

    Reference:- Time and Date, Why is the Full moon in the Daytime?, 2019

    “دن کے وقت چاند پورا کیوں دکھائی دیتا ہے؟
    پورا چاند عین اس وقت دکھائی دیتا ہے جب سورج، اور چاند زمین کی مخالف سمت میں سیدھ(ایک ہی سمت یعنی لائن) میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اوپر میں دیکھا جا سکتا ہے،
    آپ time and date کی ویب سائٹ پہ جا کر اپنی لوکیشن پہ ظاہر ہونے والے چاند کی حالت معلوم کر سکتے ہیں کہ پورا چاند کب آپکی طرف دکھائی دے گا۔

    اس سیدھ میں آئے ہوئے چاند کی یہ حالت ٹیکنیکلی طور پہ SYZYGY کہلاتی ہے، اس ٹرم کا مطلب ہے کہ چاند یا کسی دوسرے سیارے کا سورج کے ساتھ ہی برج میں جمع ہونا ہےُ(یعنی ایک ہی لائن میں سیدھا)
    پورا چاند دکھائی دینے کے عین وقت، چاند زمین کے صرف رات والے حصے کی طرف کچھ مستثنیات کے ساتھ دکھائی دیتا ہے،

    شام میں پورا چاند دکھائی دینا
    جبکہ اب بھی آپ کے علاقے میں شام کے وقت جب چاند ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے تو وہ پورا دکھائی دیتا ہے۔
    پورے چاند کے مرحلے کے آس پاس، چاند آسمان میں سورج کے طلوع سے غروب تک دیکھا جاتا ہے،
    بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ پورے چاند اور سورج دونوں کو ایک ہی وقت میں مخالف سمت میں طلوع و غروب ہوتا دیکھ سکیں۔”

    جیسا کہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پورا چاند صرف سورج کے طلوع سے لے کر غروب تک دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ زمین سفیریکل یعنی انڈے(شتر مرغ کے) کی شکل میں ہے اس لیے دن کی روشنی میں پورا چاند دیکھنا ناممکن ہے، اسکے لیے لوگوں کو زمین کی گردش مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ چاند کے سامنے نہ آجائے،(اگر زمین چٹیل میدان ہوتی تو ہر کوئی ایک ہی وقت میں پورا چاند دیکھ سکتا تھا)۔
    یہ تحقیق حال ہی میں مکمل کی گئی ہے جبکہ یہ بات 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھی،

    Quran 84: 16-18

    (‎ (16پس شام کی سرخی کی قسم ہے۔
    (17) ‎اور رات کی اور جو کچھ اس نے سمیٹا۔
    (18‎) اور چاند کی جب کہ وہ پورا ہوجائے۔

    یہاں پہ پورے چاند کا ذکر رات کے ساتھ کیا گیا ہے اور اسکا یہی مطلب ہے کہ پورا چاند شام سے لے کر رات گئے تک دیکھا جا سکتا ہے مگر دن میں نہیں۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ یہ بات سہی ہے کیونکہ زمین سفیریکل شیپ میں ہے، چٹیل میدان(فلیٹ) نہیں ہے۔ قرآن میں کوئی غلطی نہیں۔

    ایک غیر معمولی شخص چودہ سو سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ پورا چاند صرف رات میں نظر آ سکتا ہے، دن میں نہیں؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!