Baaghi TV

Category: تاریخی

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع ترین مواقع موجود،حکومت  ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی ،وزیراعظم

    پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع ترین مواقع موجود،حکومت ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی ،وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے –

    ویانا میں پاک آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات دہائیوں پر محیط تاریخی حقائق پر مبنی ہیں فورم میں شرکت سے پاکستان اور آسٹریا کے اقتصادی تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوگاپاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں اور حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات اور تحفظ فراہم کرے گی پاکستان میں توانائی، آئی ٹی اور زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں جبکہ قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں آسٹریا کا تعاون قابل تعریف ہے۔

    انہوں نے کہاکہ آسٹریا کے چانسلر کرسچن سٹاکر کے ساتھ ون آن ون اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے اور ان کے ساتھ بہت مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کیلئے کوشاں ہے نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں، غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے پر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    عمران خان کی بینائی سے متعلق میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری

    قبل ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے فورم کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کرسچن سٹاکر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی اپنے محل وقوع اور معاشی مواقع کی وجہ سے پاکستان اہم مارکیٹ ہے معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے فورم کا انعقاد اہم ہے۔

    محسن نقوی کی سری لنکن پولیس کو پاکستان میں ٹریننگ کی پیشکش

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آسٹریا کے دورے میں میزبان ملک کے ساتھ ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تاریخ، ثقافت اور عالمی سفارت کاری کے شہر ویانا میں پہنچ گئے ہیں جہاں پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کے بندھن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں ہماری توجہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ بھی بات چیت کا خواں ہوں اقوام متحدہ کی صنعتی ترقی کی تنظیم کی قیادت کے ساتھ پرامن جوہری توانائی، انسداد منشیات اور جرائم پر قابو پانے، پائیدار صنعتی ترقی اور مشترکہ پیش رفت میں اپنے تعاون کو گہرا کرنے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہوں۔

  • ترکی کے عوام کی دعائیں، دل اور امداد پاکستانیوں کے ساتھ ہیں،ترک خاتون اول

    ترکی کے عوام کی دعائیں، دل اور امداد پاکستانیوں کے ساتھ ہیں،ترک خاتون اول

    ترک خاتون اول امینہ اِردوان نے پاکستان کی سیلابی صورت حال پر اپنا جذباتی پیغام سوشل میڈیا پر جاری کیا ہے۔

    سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں امینہ اِردوان نے پاکستان کے سیلاب متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے انہوں نے بتایا کہ 2010ء کے سیلاب میں وہ پاکستان گئی تھیں اور وہاں متاثرین کی حالت زار و بے بسی کو قریب سے دیکھا تھا،اُس وقت بھی ترکی اُن اولین ممالک میں شامل تھا، جنہوں نے پاکستان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا، آج بھی ترکی کے عوام کی دعائیں، دل اور امداد پاکستانیوں کے ساتھ ہیں۔

    https://x.com/EmineErdogan/status/1961413455895806381

    امینہ اِردوان نے کہا کہ ترک ہلال احمر متاثرہ علاقوں میں حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور صحت، رہائش، خوراک اور پانی کی فوری فراہمی کے انتظامات کررہا ہےانہوں نے بارشوں اور سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی امینہ اِردوان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھی ان مشکل دنوں میں پاکستان کی مدد کرے تاکہ ہمدردی اور یکجہتی کے جذبے سے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔

    آن لائن جوئے پر پابندی کے بعد انڈین کرکٹ کونئے سپانسر کی تلاش

    ووٹر ادھیکار یاترا نے مودی سرکار کی ووٹ چوری کو بے نقاب کر دیا

  • 27 جون  تاریخ کے آئینے میں

    27 جون تاریخ کے آئینے میں

    27 جون تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1693ء لندن میں پہلی خاتون میگزین ’’لیڈیز مرکری‘‘ کی اشاعت ہوئی۔

    1759ء برطانیہ کے فوجی افسر جنرل جیمس وولف نے کیوبیک پر قبضہ کرنے کی شروعات کی۔

    1867ء بینک آف کیلیفورنیا کا کام کاج شروع ہوا

    1905ء روسی جنگی جہاز ’پوتیمیکن‘ پر تعینات انقلابی فوجیوں نے اپنے افسروں کے خلاف تاریخی بغاوت شروع کی۔

    1914ء امریکہ نے اتھوپیا کے ساتھ سفارتی معاہدے دستخط کئے۔

    1940ء سوویت فوج نے رومانیہ پر حملہ کر دیا۔

    1941ء رومانیہ میں 13،266 یہودیوں کو قتل کر دیا گیا۔

    1944ء دوسری عالمی جنگ میں اتحادی افواج نے چیربرگ پر قبضہ کیا۔

    1946ء کینیڈا میں کینیڈین شہریت کی تعریف مقرر کی گئی۔

    1950ء امریکی صدر ہیرٹن ٹرومین نے شمالی کوریا کے ذریعہ جنوبی کوریا پر حملہ کرنے کے بعد اپنے فوجیوں کو جنوبی کوریا کی مدد کرنے کا حکم دیا۔

    1954ء دنیا کا پہلا نیوکلیائی پاور پلانٹ ماسکو کے نزدیک اوبنسک میں قائم ہوا۔

    1957ء امریکہ کے لوسیانہ اور ٹیکساس میں آندرے طوفان سے 526 افراد کی موت ہو گئی۔

    1964ء ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی رہائش گاہ تین مورتی کو قومی میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔

    1967ء ہندوستان میں تیار پہلا اے وی آر او مسافر بردار طیارہ انڈین ایر لائنز کو سونپا گیا۔

    1967ء برطانیہ کے شہر لندن کے اینفیلڈ میں دنیا کا پہلا اے ٹی ایم قائم کیا گیا۔

    1974ء امریکی صدر رچرڈ نکسن نے روس کا دورہ کیا۔

    1976ء فلسطینی انتہا پسندوں نے ایر فرانس کے ایک طیارے کو اغوا کر لیا جس پر 258 افراد سوار تھے۔

    1980ء ہندوستان میں بنایا گیا پہلا مسافر طیارہ ایچ ایس 748 انڈین ائرلائنس کو سونپا گیا۔

    1981ء کمبوڈیا نے اپنا آئین بنایا۔

    1983ء ناسا نے خلائی طیارے ایس 205 لانچ کیا۔

    1997ء بروسیلس میں منعقدہ کانفرنس میں 95 ملکوں نے بارودی سرنگیں استعمال نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے۔

    1998ء ملائیشیا میں کوالالمپور بین الاقوامی ہوائی اڈا کھولا گیا۔

    2000ء ہندوستان میں متعدد گرجا گھروں میں عیسائی پادریوں پر حملے کے بعد امریکہ کے 21 اراکین کانگریس نے ہندوستان کو دہشت گرد ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

    2007 گورڈن براوَن ٹونی بلیئر کی جگہ وزیراعظم بنے۔

    2008ء مائیکروسافٹ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو بل گیٹس نے فلاحی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے مائیکروسافٹ سے استعفی دیا۔

    تعطیلات و تہوار :

    1977ء افریقی ملک جبوتی فرانس کی ماتحتی سے آزاد ہوا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان

    گوہر جان

    منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ وہ آرمینیائی نسل کی عیسائی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہائش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گئیں ۔ وکٹوریہ کا اسلامی نام ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گائیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گئی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیرائی مل گئی۔ گوہر جان گائیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گائی ہوئی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گائیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے مائی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گئی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • 25 جون  تاریخ کے آئینے میں

    25 جون تاریخ کے آئینے میں

    25 جون تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1529ء مغل بادشاہ بابر بنگال پر قبضے کے بعد دارالحکومت آگرہ پہنچے۔

    1654ء برطانیہ اور ڈنمارک کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے۔

    1658ء چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب نے اپنے والد بادشاہ شاہ جہاں کو گرفتار کر کے آگرہ قلعہ میں نظر بند کر دیا۔

    1788ء "ورجینیا” امریکی آئین نافذ کرنے والی دسویں ریاست بنی۔

    1868ء امریکی صدر اینڈریو جانسن نے سرکاری ملازمین کے لئے دن میں 8 گھنٹے کام کرنے کا قانون منظور کیا۔

    1911ء اٹلی نے ترکی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1932ء ہندستانی کرکٹ ٹیم نے برطانیہ کے لارڈز کے میدان میں اپنا پہلا باضابطہ ٹیسٹ میچ کھیلا۔

    1940ء جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر نے پیرس، فرانس میں نپولین کی قبر اور ایفل ٹاور دیکھا۔

    1941ء فن لینڈ نے سوویت یونین کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1945ء ہندستان کے وائسرائے لارڈ واویل نے سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے کے لئے ہندستان کے چوٹی کے سیاسی لیڈران کے ساتھ ملاقات کی۔

    1949ء شام میں صدارتی انتخابات ہوئے، کچھ خواتین کو ووٹ دینے کی اجازت دی گئی۔

    1950ء شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔

    1951ء امریکی ٹیلی ویژن اور ریڈیو نیٹ ورک سی بی ایس نے نیویارک سے چار شہروں میں پہلے رنگین ٹی وی پروگرام نشر کیا۔

    1951ء اسرائیل ایرلائن آئی آئی اے آئی ون نے اپنی خدمات شروع کی۔

    1961ء عراق کی جانب سے کویت کو عراق کا حصہ ہونے کا دعوی، تاہم کویت نے انکار کر دیا۔

    1966ء سوویت یونین کا پہلا موسمی سیارہ کوسموس 122 کا تجربہ کیا گیا۔

    1975ء بھارتی صدر فخر الدين علی احمد نے ملک میں ایمرجنسی لگانے کی حکومتی تجویز کو منظوری دے دی۔

    1983ء ہندستان نے ویسٹ انڈیز کو 43 رنز سے ہرا کر پہلی بار کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔

    1984ء مصر اور اردن کے درمیان دوبارہ سفارتی روابط قائم ہوئے۔

    1993ء مراکش میں پارلیمانی انتخابات ہوئے۔

    1993ء کم کیپم بل کینیڈا کی 19ویں وزیر اعظم بنیں۔

    1994ء جاپان کے وزیر اعظم سوتومو ہاتا نے اپنے عہدے سے استعفی دیا۔

    1997ء ہندوستان اور امریکہ نے مفرور مجرموں کی حوالگی کے دو طرفہ معاہدہ پر دستخط کئے۔

    2005ء محمد احمدی نژاد بھاری اکثریت سے ایران کے صدر منتخب ہوئے۔

    2014ء لوئس سوایز پر فیفا عالمی کپ 2014ء کے دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو دانتوں سے کاٹنے کا الزام لگا۔

    2018ء ترکی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردگان 53 فیصد ووٹ لے کر ایک بار پھر ترکی کے صدر منتخب ہوئے۔

    2021ء۔۔پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کے فائنل میچ میں ملتان سلطان پشاور زلمی کو 47 رنز سے ہرا کر کپ جیت گیا

    تعطیلات و تہوار :

    1960ء مڈغاسکر فرانس سے آزاد ہوا۔

    1991ء کروشیا اور سلوینیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا۔

  • 24  جون  تاریخ کے آئینے میں

    24 جون تاریخ کے آئینے میں

    24 جون تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1206ء دہلی سلطنت کے پہلے بادشاہ قطب الدین ایبک کی لاہورمیں تاجپوشی ہوئی

    1314ء بینوکربن کی لڑائی کے بعد اسکاٹ لینڈ نے خود کو انگلینڈ سے آزاد کرایا۔

    1340ء فرانس اور برطانیہ کے درمیان 100 سال تک چلی لڑائی کے دوران سلوئس جنگ میں برطانوی بحریہ نے فرانسیسی بیڑے کو تباہ کیا۔

    1662ء ڈچ فوج کے مکاؤ پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش۔

    1763ء مرشدآباد پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسری بار قبضہ، میرجعفر کو نواب بنایا گیا۔

    1688ء فرانس نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1793ء فرانس نے پہلی بار جمہوریائی آئین کو اپنایا۔

    1881ء میکسیکو میں ٹرین کے پل سے نیچے پانی میں گر جانے سے 200 لوگوں کی ڈوب کر موت ہوگئی۔

    1894ء ہر چار برس کے بعد جدید اولمپک کھیلوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔

    1901ء پیرس میں ایک نوجوان ہسپانوی مصور پابلو پکاسو کی پہلی نمائش نے مصوروں اور نقادوں کو حیرا ن کر دیا۔

    1910ء جاپان نے کوریا پر حملہ کر دیا۔

    1911ء جان میک ڈرمٹ امریکی اوپن گولف ٹورنامنٹ جیتنے والے پہلے امریکی کھلاڑی بنے۔

    1915ء شکاگو میں ایکل اسٹیمر کے ڈوبنے سے اس پر سوار 800 لوگوں کی موت ہوگئی۔

    1931ء سابق سوویت یونین اور افعانستان نے ناوابستہ تحریک پر دستخط کئے۔

    1948ء سوویت یونین نے برلن کی ناکہ بندی شروع کی۔

    1963ء برطانیہ نے زنجیبار کو اندرونی خود مختاری کی اجازت دی۔

    1963ء بھارت میں ڈاک اور تار کے محکمہ نے نیشنل ٹیلیکس سروس کا آغاز کیا۔

    1966ء بمبئی سے نیویارک جانے والے ایئر انڈیا کا ایک طیارہ میں سوئزرلینڈ کے مونٹ بلانک میں حادثہ کا شکار ہوا، جس میں 117 افراد مارے گئے۔

    1975ء نیویارک JF ہوائی اڈے پر ایسٹرن 727 طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا جس میں 113 افراد مارے گئے۔

    1981ء اسرائیلی رہنما موشے دایان نے پہلی بار اعلان کیا کہ اسرائیل ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    1985ء خلائی شٹل جی اکیاون نے کامیابی سے مشن مکمل کیا، جس میں پہلے مسلمان عرب شخصیت سلطان بن عبدالعزیز السعود نے سفر کیا۔

    1986ء حکومت ہند نے کنواری ماؤں کے لئے بھی دیگر ماؤں کو ملنے والی رعایتوں کو منطوری دی.

    24جون 1989ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے انقلاب فرانس کی دوسو ویں سالگرہ کے موقع پرسات روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر انقلاب فرانس کی منظر کشی پر مشتمل ایک پینٹنگ شائع کی گئی تھی اور فرانسیسی زبان میں Bicentenaire de la Revolution Francaise کے الفاظ تحریرکیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

    2002ء افریقی ملک تنزانیہ میں ہوئے ٹرین حادثہ میں 281 افراد مارے گئے۔

    2004ء نیویارک میں سزائے موت پر پابندی۔

    24 جون 2008ء کو چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ کے نیفرو یورولوجی ڈپارٹمنٹ میں کیے گئے ایک آپریشن میں وزیر محمدجاگیرانی نامی ایک مریض کے گردے سے 620 گرام (21.87 اونس) وزنی پتھری برامد ہوئی۔ یہ آپریشن ڈاکٹر جی شبیر عمران اکبر اربانی اور ڈاکٹر ملک حسین جلبانی نے انجام دیا تھا۔ گنیز بک آف ریکارڈز(2010ء) کے مطابق یہ کسی مریض کے گردے سے نکالی جانے والی دنیا کی سب سے وزنی پتھری تھی۔

    2012ء اخوان المسلمین کے رہنما محمد مورسی مصر کے صدر منتخب ہوئے۔

    تعطیلات و تہوار :

    بہائی فرقے کا رحمۃ کا تہوار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 23 جون  تاریخ کے آئینے میں

    23 جون تاریخ کے آئینے میں

    23 جون تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1661ء انگلینڈ کے چارلس دوئم اور پرتگال کی کیتھرینا کی شادی ہوئی، بمبئی کو شہزادی کے جہیز کے طور پر انگلینڈ کو دیا گیا۔

    1757ء انگریز گورنر جنرل رابرٹ کلائیو نے 3 ہزار سپاہیوں ( 500 انگریز اور 2500 ہندوستانی) کے ساتھ جنگ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کی بظاہر 5 لاکھ سپاہیوں پر مشتمل فوج کو میر جعفر جیسے غداروں کی مدد سے شکست دیکر بنگال پر قبضہ کر لیا۔

    1758ء سات سال تک چلی کری فیلڈ کی جنگ میں برطانوی فوج نے فرانسیسی فوج کو شکست دی۔

    1810ء بمبئی میں ڈنکن بندرگاہ کا کام مکمل ہوا۔

    1868ء ٹائپ رائٹر کے موجد کرسٹوفر لیتھم شولر نے اس ایجاد کو اپنے نام کروایا۔

    1927ء آل انڈیا ریڈیو نے بمبئی اور کلکتہ سے اپنی نشریات شروع کیں۔

    1930ء سائمن کمیشن نے ہندوستان کی تشکیل اور برما کو الگ کرنے کی سفارش کی۔

    1956ء مصر کی عوام نے بھاری اکثریت سے جمال عبدالناصر کو جمہوریہ مصر کا پہلا صدر منتخب کیا، اپنے اقتدار کے 18 برسوں میں ناصر کو بے پناہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔

    1958ء امریکہ میں شکاگو کے ایک اسکول میں آگ لگنے سے 92 بچے اور تین راہبائیں ہلاک ہو گئیں۔

    1960ء جاپان اور امریکہ نے ایک دفاعی سمجھوتے پر دستخط کئے۔

    1968ء بیونس آئرس اسٹیڈیم میں فٹبال میچ کے دوران بھگڈر مچ جانے سے 74 افراد ہلاک ہو گئے۔

    1969ء وارین ای برگر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔

    1985ء ائر انڈیا کا جمبو جیٹ طیارہ مونٹریال، ٹورونٹو (کناڈا) سے انڈیا براستہ لندن جاتے ہوئے كنشكا کے بحر اوقیانوس میں گر کر تباہ ہوا، اس میں سوار تمام 329 مسافر جاں بحق ہو گئے۔ اس تلاشی میں کینیڈا کی انتظامیہ نے جہاز میں سے تین مشتبہ پیکٹ اتارے تھے۔ طیارہ آئرلینڈ کے ساحلوں کے قریب فضا میں ہی تباہ ہو گیا جب وہ لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ سے صرف 455 منٹ کی مسافت پر تھا۔ ممکنہ طور پر کارروائی سکھ علیحدگی پسندوں کی جانب سے جہاز میں بم رکھ کر کی گئی۔

    1993ء جرمنی کے شہر برلن میں امریکی افواج 48 برس قیام کرنے کے بعد واپس چلی گئی۔

    1994ء جنوبی افریقہ کا اقوام متحدہ میں اپنی رکنیت کے لئے دعوٰی۔

    1996ء شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے عہدہ کا حلف لیا۔

    1997ء چنئے کے اناّ روڈ ٹیلی فون ایکسچنج میں آگ لگنے سے کروڑوں روپے کے ٹرانسمیشن آلات تباہ ہو گئے۔

    2007ء کراچی میں شدید بارش سے 230 افراد ہلاک ہوئے۔

    2008ء پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو انتخابات کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا۔

    2012ء آسٹن ایٹن نے امریکی اولمپک مشن کے دوران ڈیکا تھیلون کا عالمی ریکارڈ کو توڑا۔

    2013ء نک والریڈا امریکہ کے گرینڈ كنين کی پہاڑی کو رسی پر کامیابی سے چل کر پار کرنے والے پہلے شخص بنے۔

    23جون 2000ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے قیام کی پچاسویں سال گرہ کے موقع پردویادگاری ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا جن پر اس کالج کا لوگو شائع کیا گیا تھااور انگریزی میں 50 YEARS OF INSTITUTE OF COST AND MANAGEMENT ACCOUNTS OF PAKISTAN کے الفاظ تحریر تھے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کی مالیت دوروپے اور پندرہ روپے تھی اور انھیں فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھا۔

    2017ء۔۔کوئٹہ میں آئی جی پولیس کے دفتر کے قریب خودکش دھماکے میں 13 افراد شہید

    23 جون 2017 کو، پاکستان میں دہشت گردی کے ایک سلسلے کا آغاز ہوا جس میں نتیجے میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 200 زخمی ہوئے۔ ان میں کوئٹہ خودکش دھماکا، جس میں پولیس کو نشانہ بنایا گا۔ اس کے بعد پاراچنار کے بازار میں دو دھماکے کیے گئے اور کراچی میں 4 پولیس افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

    2021ء۔۔نیوزی لینڈ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں بھارت کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے 8 وکٹوں سے شکست دے کر ٹیسٹ کرکٹ کا عالمی چیمپئن بن گیا۔ساؤتھ ہمپٹن میں پہلی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل کھیلا گیا جس میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔کیوی بولرز نے گھر کے شیروں کو باہر کھل کر نہ کھیلنے دیا اور پہلی اننگز کائل جیمیسن کی شاندار بولنگ کے آگے بھارتی بیٹسمین صرف 217 رنز ہی بناسکے۔نیوزی لینڈ کے کائل جیمیسن 5 وکٹیں لے کر نمایاں رہے بھارتی بیٹسمین اجنکیا رہانے 49 اور ویرات کوہلی 44 رنز بنا کر سرِ فہرست رہے۔نیوزی لینڈ کے بیٹسمین کم اسکور کا زیادہ فائدہ نہ اٹھا سکے اور پہلی انگنز میں صرف 32 رنز کی برتری لینے میں کامیاب ہوئے اور پوری ٹیم 249 پر آل آؤٹ ہوگئی۔اس اننگز میں نیوزی لینڈ کی جانب سے ڈیون کانوے 54 اور کین ولیمسن 49 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ بھارت کی طرف سے محمد شامی 4 وکٹیں لے کر کامیاب بولر بنے۔میچ کی تیسری اننگز میں بھارتی بلے بازوں کا حال اس سے بھی زیادہ برا رہا، اور پوری ٹیم صرف 170 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔رشبھ پنٹ کے 41 اور روہیت شرما کے 30 رنز کے علاوہ کوئی کھلاڑی خاطر خواہ کارکردی نہیں دکھا سکا جبکہ اس مرتبہ ٹم ساؤتھی نے سب سے زیادہ 4 شکار کیے۔کیوی ٹیم کو جیت کے لیے 139 رنز کا ہدف ملا جو اس نے صرف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔کپتان کین ولیمسن نے اعصاب شکن مقابلے میں 52 جبکہ روس ٹیلر نے 47 رنز کی یادگار اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔کائل جیمیسن کو مجموعی طور پر 7 وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔خیال رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں میچز 5 دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں، تاہم فائنل کے لیے ایک ریزرو ڈے رکھا گیا تھا، اور اس میچ کا فیصلہ بھی اسی ریزرو ڈے میں ہوا جو میچ کا مجموعی طور پر چھٹا دن تھا۔

    تعطیلات و تہوار :

    1991ء مالدووا نے آزادی کا اعلان کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے بیٹے کامران مرزاء نے 1530ء میں جب اس کا لاہور پر قبضہ ہوا تو باغ بنوایا جس میں 1540ء میں یہ بارہ دری تعمیر کروائی.
    یہی وہ بارہ دری تھی جہاں مغل بادشاہ جہانگیر کے سامنے اس کے باغی بیٹے خسرو اور اس کے ساتھیوں کو کو پیش کیا گیا تو بادشاہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے کی آنکجیں نکلوا دیں کہ "بادشاہ کا کوئی رشتے دار نہیں ہوتا” اور اس کے ساتھیوں کے قتل کا حکم دیا جن کو بارہ دری سے قلعہ تک کے راستے میں قتل کیا جاتا رہا قلعہ کی دیوار تک پہنچتے پہنچتے خسرو کے تین سو ساتھیوں کو قتل کردیا گیا تھا.
    کامران مرزاء سے موسوم یہ بارہ دری اور باغ موجودہ دور میں راوی کے درمیان ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے. جب اس کو تعمیر کیا گیا تھا تو راوی اس سے کہیں دور ہوتا تھا. راوی کے کنارے پرائیویٹ کشتی سروس آپ کو سو روپے میں آنے جانے کی سہولت فراہم کرتی ہے.
    اس میں جانے کا ایک اور راستہ ہے جو شاہدرہ سے ہوکر کچی آبادی کو اس بارہ دری سے ملاتا ہے جہاں دریائے راوی میں پانی کی مسلسل کمی کی وجہ سے تعمیرات اور کھیتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے بارہ دری سے آن ملا ہے جس کی وجہ سے ایک لحاظ سے جزیرے والا اسٹیٹس تو تقریباً ختم ہوچکا ہے.
    اگر محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ ٹورازم توجہ دے تو یہ لاہور شہر کے باسیوں اور بالخصوص فیملیز کے لیے ایک اچھی سیر گاہ بن سکتا ہے جس کے لیے آبادی والے راستے کو بند کرکے صرف راوی سے کشتی سروس والے راستے کو برقرار رکھا جائے اور وہاں باغ میں جھولے اور بنچ وغیرہ لگا دیے جائیں.
    اسی سلسلے میں ایک دلچسپ اور انتظامیہ کے تعاون کا واقعہ بھی پیش آیا ہوا کچھ یوں کہ شام سے کچھ دیر پہلے جب ہم وہاں پہنچے تو کشتی میں بیٹھے تو اس کو بولا کہ لائف سیفٹی جیکٹ دو اس کے جواب میں کشتی بان نے کہا کہ سر جیکٹس تو ہمارے پاس نہیں ہوتیں. بارہ دری سے واپسی پر کشتی میں دو تین لڑکیاں بھی تھیں تو کشتی چلانے والے کو مستیاں سوجھ رہی تھیں میں نے اس سے کہا بھائی تیری مستی کے چکر میں سارے مارے جائیں گے اور اک بھی جیکٹ آپ کے پاس نہیں پڑی جبکہ موجودہ دنوں میں پانی کا بہاؤ بھی اچھا خاصا ہے.
    قصہ مختصر میں نے اس ایشو پر ویڈیو بنائی کہ اللہ نہ کرے یہاں کوئی حادثہ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا اور ٹویٹر پر پنجاب حکومت اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو ٹیگ کرکے اپلوڈ کردی. جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ فوری ایکشن لے تھوڑی ہی دیر میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی ٹویٹ آگئی کہ جناب ہم نے 100 لائف سیفٹی جیکٹس کا اہتمام کرکے راوی کنارے کشتی سروس والوں کے حوالے کردی ہیں.
    یہاں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں سسٹم میں خرابی دیکھیں تو انتظامیہ کو بتانا چاہیے ہم نے اکثر دیکھا کہ کسی بھی ایشو کو جب سوشل میڈیا پر اٹھایا جاتا ہے تو اس کا یقیناً فائدہ ہی ہوتا ہے.

    محمد عبداللہ

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پہلی قسط
    حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
    کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
    "I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
    مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
    آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
    16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
    1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

  • جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت

    جدہ میں صدیوں پرانا آرٹ کا نمونہ دریافت، وزیر ثقافت نے تصاویر جاری کر دیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق پیر کو سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے تاریخی شہر جدہ کی ترقی اور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرنے والے فن پاروں کی تصاویر شائع کیں ان میں صدیوں پرانا پتھر کا ایک مجسمہ بھی شامل ہے جس پر کچھ نقوش اور عبارتیں درج ہیں۔


    وزیرثقافت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے دوران وضاحت کی کہ یہ تصاویر ایک تجارتی عمارت اور کھوکھے کو ہٹانے کے بعد سامنے آئیں آرٹ کا یہ نمونہ 1981 میں عظیم آرٹسٹ عبدالحلیم رضوی نے تیار کیا تھا۔


    تصویروں میں سجاوٹ کو "مچھلی” کی شکل میں دکھایا گیا تھا اور متعدد پتھروں میں تراشے گئے جملے جدہ میں گذرے وقت کی زندگی کا اظہار کرتے تھے۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے تاریخی جدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت "تاریخی جدہ کو زندہ کرنے” کے منصوبے کا آغاز کیا ہے جدہ کی ایک طویل تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔

    کچھ مورخین اس کی بنیاد تقریباً 3000 سال پر محیط قرار دیتے ہیں اسکالرز کی جانب سے نوادرات کے مطالعات پتا چلتا ہے کہ پتھر کے زمانے سے اس علاقے میں لوگ رہتے تھے مشرقی جدہ میں وادی بریمان اور شمالی جدہ میں وادی بویب میں ثمودی دور کی کتابت اور آثار ملت ہیں۔

    منصوبہ ولی عہد کی تاریخی مقامات کے تحفظ اور بحالی میں دلچسپی کے تناظر میں سامنے آیا ہے تاکہ وژن 2030 کے مقاصد کے حصول اور مملکت کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک کے طور پر عرب اور اسلامی گہرائی کو ظاہر کیا جا سکے۔