Baaghi TV

Category: تاریخی

  • برِصغیر پاک و ہند  کے قدیم ترین پنجابی (دیسی) کیلنڈرکی تاریخ

    برِصغیر پاک و ہند کے قدیم ترین پنجابی (دیسی) کیلنڈرکی تاریخ

    پنجابی (دیسی) کیلنڈر:

    (چیت، وساکھ، جیٹھ، ہاڑ، سَون، بھادروں، اسو، کَتا، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن)

    بارہ دیسی مہینے۔۔۔ بارہ موسم

    1- چیت/چیتر (بہار کا موسم) ،
    2- بیساکھ/ویساکھ (گرم سرد، ملا جلا) ،
    3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ) ،
    4-ہاڑ/اساڑھ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز) ،
    5- ساون/ساؤن (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون) ،
    6۔ بھادوں/بھادروں (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں) ،
    7- اسُو/اسوج (معتدل) ،
    8- کاتک/کَتا (ہلکی سردی) ،
    9۔ مگھر (سرد) ،
    10۔ پوہ (سخت سردی) ،
    11- ماگھ/مانہہ (سخت سردی، دھند) ،
    12- پھاگن/پھگن (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

    برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا اغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کا اصل نام بکرمی کیلنڈر ہے، جبکہ پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر، اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

    بکرمی کیلنڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں اُس وقت کے ہندوستان کے ایک بادشاہ "راجہ بِکرَم اجیت” کے دور میں ہوا۔ راجہ بکرم کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔ اس شمسی تقویم میں سال "چیت” کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

    تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

    1: 14 جنوری۔۔۔ یکم ماگھ
    2: 13 فروری۔۔۔ یکم پھاگن
    3: 14 مارچ۔۔۔ یکم چیت
    4: 14 اپریل۔۔۔ یکم بیساکھ
    5: 14 مئی۔۔۔ یکم جیٹھ
    6: 15 جون۔۔۔ یکم ہاڑ
    7: 17 جولائی۔۔۔ یکم ساون
    8: 16 اگست۔۔۔ یکم بھادروں
    9 : 16 ستمبر۔۔۔ یکم اسوج
    10: 17 اکتوبر۔۔۔ یکم کاتک
    11: 16 نومبر۔۔۔ یکم مگھر
    12: 16 دسمبر۔۔۔ یکم پوہ

    بکرمی کیلنڈر (پنجابی دیسی کیلنڈر) میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے.

    ان پہروں کے نام یہ ہیں۔۔۔

    1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
    صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

    2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
    صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

    3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

    4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
    سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

    5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
    شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

    6۔ کفتاں ویلا:
    رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

    7۔ ادھ رات ویلا:
    رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

    8۔ سرگی/اسور ویلا:
    صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت

    لفظ "ویلا” وقت کے معنوں میں برصغیر کی کئی زبانوں میں بولا جاتا ہے

  • عقلمند طبیب اور بادشاہ    تحریر: مدثر حسین

    عقلمند طبیب اور بادشاہ تحریر: مدثر حسین

    پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ سے بہت پریشان تھا. اسکا موٹاپا اسے ایک انکھ نہ بھاتا تھا. اس نے ایک دن اپنے وزیروں اور طبیبوں کو بلا کر اس کے حل پہ بحث کی. مگر کوئی نسخہ یا دوا اثر نہ دکھا سکی. پھر اس ملک کے ایک بہت ہی قابل اور ذہین طبیب کو بلایا گیا. اس نے ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ اگر بادشاہ سلامت مجھے اجازت دیں تو میں علم نجوم کے زریعے سے بتا سکتا ہوں کہ بادشاہ کے لئے کون سی دوا فائدہ مند ثابت ہو سکے گی. اگلے دن طبیب بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت گستاخی معاف پر جو بات میں اپکو بتانے جا رہا ہوں وہ اپ کے لئے بہت تکلیف دہ ہے. بادشاہ نے بڑے انہماک سے اس کی طرف دیکھا اور بات کہنے کی اجازت دی.
    طبیب بولا، بادشاہ سلامت علم نجوم یعنی ستاروں کے مطابق اپکی زندگی صرف ایک ماہ باقی رہ گئی ہے. بادشاہ یہ سنتے ہی ششدر رہ گیا اور اس نے خلوت میں دن گزارنے شروع کر دیے، اپنی گدی اپنے بیٹے کو دے دی اور اپنی گزری ہوئی زندگی پر پشیمان رہنے لگا، جب پچیس دن گزر گئے تو بادشاہ کو پریشانی اور فکر مندی سے کافی کمزوری لاحق ہو چکی تھی، طبیب کو بلوایا گیا. بادشاہ نے اس سے باقی کے دنوں کا حساب لگانے کا پوچھا تو طبیب بولا کہ حضور مجھے تو اپنی زندگی کا پتہ نہیں میں بھلا کیسے آپکی زندگی کے معتلق جان سکتا ہوں؟؟ وہ تو میں فکر و پریشانی کو آپ پہ مسلط کرنا چاہتا تھا تا کہ اس فکر سے اپکی چربی پگھل جائے اور آپ کھانا پینا بھی کم کر دیں. آج دیکھیں آپ پہلے سے کافی دبلے ہو گئے ہیں.
    بادشاہ طبیب کے اس طریقہ علاج سے بڑا متاثر ہوا اور اسے بہت سارے ہیرے جواہرات سے نوازا.

    ‎@MudassirAdlaka

  • سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    دولت عثمانیہ 1299 میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سلطنت جس کے حکمران "ترک” تھے،
    سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ سلطنت دنیا کے تین براعظموں میں پھیل چکی تھے،
    سلطان سلیمان 15 سال کی عمر میں گھوڑے پر بیٹھے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جنگوں میں گزارا انہوں نے ایشیا اور یورپ کے کئی علاقوں کو فتح کیا اور تمام فتح کیے علاقوں کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنایا،
    سلطان سلیمان 1494 کو ترابزون (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے,
    وہ 1520 کو عثمانی سلطنت کے دسویں سلطان کے طور پر تخت نشین ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے 89 خلیفہ بھی منتخب ہوئے,
    جس دور میں آپ تخت نشین ہوئے اس دور میں مسیحی مغربی طاقتیں متحد ہو رہی تھیں یورپ کی سلطنتیں قرون وسطیٰ کے خلفشار سے نکل کر عہد جدید کی معرکہ آرائیوں کے لئے تیار ہو رہی تھی، وہ سب آپس کے مذہبی اختلافات بھلا کر عثمانی سلطنت کے خلاف اگٹھے ہو رہے ہیں،
    کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے سلطنت عثمانیہ اور مغربی طاقتوں کے درمیان کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی سلطان سلیمان کے والد سلیم اول کی زیادہ تر توجہ تمام اسلامی ریاستوں کی طرف مبذول رہی، اس مدت میں یورپ کی سلطنتوں نے بہت نمایاں طور پر ترقی کر لی تھی،

    اسپین سے مورس کا اخراج ہو چکا تھا وہاں کی چھوٹی چھوٹی مسیحی ریاستیں متحد ہو کر ایک فرمانروا کے زیر حکومت آ چکی تھیں، فرانس بھی اپنے اندر کی مذہبی انتہا پسندی اور خانہ جنگی پر قابو پا کر دوسرے ملکوں کی فتوحات کی طرف نکل چکا تھا،
    آسٹریا اور انگلستان میں بھی قوت و استحکام کی علامتیں موجود تھیں،
    اور چارلس پنجم جس کی سلطنت یورپ کے نصب حصے پر پھیلی ہوئی تھی اس مسیحی اتحاد میں پیش پیش تھا،
    اور دوسری طرف ایشیا میں ایران کی وسیع سلطنت سے بھی عثمانی سلطنت کو خطرات لاحق تھے، اور اس کے علاوہ شام اور مصر میں ہر وقت بغاوت کا خدشہ رہتا،
    ایسے میں سلطنت عثمانیہ کو چارلس پنجم اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج درپیش تھا، چناچہ سلیمان حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 46 سالہ دور اقتدار میں کسی نہ کسی جنگی مہم میں مصروف رہے، جہاد کا جذبہ سلطان سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس جذبے نے انہیں آخری وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا،
    سلطان سلیمان تخت نشین ہونے کے اگلے سال ہی بلغراد فتح کرنے نکل گئے سلطان نے وہاں سب سے بڑے گرجا گھر میں نماز ادا کی اور اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا،
    بلغراد کی سرحدوں کے دوسرے قلعوں پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کرلیا اور اس طرح ہنگری بھی فتح کیلئے عثمانیوں کے سامنے کھلا پڑا تھا،
    سلطان سلیمان کی بلغراد فتح کا اثر یہ ہوا جمہوریہ وینس نے خود کو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار تسلیم کر لیا اور یوں انہوں نے عثمانیوں کو سلانہ خراج دینے پر اکتفا کر لیا،
    بلغراد اور رودوش یہی وہ دو معرکے تھے جن میں سلطان محمد فاتح کو شکست ملی تھی،
    اس کے علاوہ رودوش کے جہاز بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں مجمع الجزائر اور اناطولیہ کے ساحلوں پر لوٹ مار مچاتے رہتے تھے، اور مصر اور شام کے درمیان جو تعلقات قائم ہوگئے تھے ان میں مبارزین رودوش اپنے جہازوں کے ذریعے رخنہ ڈالتے رہتے تھے،
    بلغراد تو فتح ہوچکا تھا چنانچہ سلطان سلیمان نے ردوش فتح کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عثمانیوں پر لگے اس داغ کو بھی صاف کرنا چاہتا تھا،
    سلیمان عالی شان ایک لاکھ فوج لے کر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کی طرف بڑھا۔ سلطان 28 جولائی 1522 رودوش کے ساحل پر اترا اور اس نے جزیرہ رودوش کا محاصرہ شروع کر لیا،
    پانچ ماہ تک محاصرہ جاری رہا اور محاصرین کی قوت سے مجبور ہوکر بلآخر انہوں نے 6 دسمبر 1522 ینچروں کے اگئے ہتھیار ڈال دیئے سلطان نے مبارزین کو اجازت دے دی کہ وہ بارہ روز کے اندر اپنے تمام اسلحہ اور ساز و سامان کو لے کر اپنے ہی جہازوں پر رودوش سے چلیں جائیں، اگر ان کے جہاز کم پڑتے ہیں تو ہمارے جہازوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں،
    لیکن اکثریت میں رودوش کے باشندوں نے سلطان کی رعایا بننا پسند کیا اس کے بعد انہیں مکمل طور پر مذہبی آزادی دے دی گئی،پانچ سال کے لیے ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا اور ان کے کلیساؤں سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بلغراد اور روش کی فتح کے بعد ہنگری سسلی اور اٹلی کے راستے سلیمان کے لیے کھل گئے،
    لیکن مصر کی بغاوت اور ایشیائے کوچک کی شورش نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا، لیکن سلطان سلیمان نے اس پر بھی قابو پا لیا اور وہ ہنگری کی طرف سفر کے لیے تیاریاں شروع کرنے لگے،
    سلطان سلیمان نے ایک لاکھ فوج اور تین سو توپوں کے ساتھ قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے پانچ ماہ بعد 28 اگست 1526 کو موباکز کے میدان میں ہنگری کے شہنشاہ شاہ لوی اور اس کی فوج سے مقابلہ کیا،
    دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں سلطان سلیمان کو فتح حاصل ہوئی اور ساتھ ہی ہنگری کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گیا اور ہنگری کا شہنشاہ اور اس کے کچھ وزیر مشیر اور سپاہی بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کے مر گئے،
    چنانچہ سلطان سلیمان نے ہنگری کا اقتدار زاپولیا کو سونپا اور خود پایہ تخت واپس آگئے،
    لیکن ہنگری میں خانہ جنگی شروع ہو گئی،
    آرک بوک فرڈیننڈ جو شہنشاہ چارلس پنجم کا بھائی تھا، ایک صلح نامہ کی رو سے جو چارلس پنجم اور سابق شہنشاہ ہنگری شاہ لوئی کے درمیان ہو چکا تھا ہنگری کے تخت کا دعویدار ہو گیا،
    ایسے حالات میں زاپولیا اور اس کے حامیوں نے اپنی موافقت میں ہنگری کا ایک قدیم قانون پیش کیا جس کی رو سے ہنگری کے باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وہاں کا بادشاہ منتخب نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہاں کے امرا نے فرڈیننڈ کو منتخب کر لیا،
    چنانچہ جنگ ناگزیر ہوگئی لیکن فرڈیننڈ کے ساتھ آسٹریا کی مدد تھی اس نے زاپولیا کو شکست دے کر ملک سے بھگا دیا،
    زاپولیا نے پولینڈ میں پناہ لینے کے بعد سلطان سلیمان کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور مدد طلب کی، اور دوسری فرڈیننڈ نے بھی اپنا ایک سفیر سلطان سلیمان کے پاس بھیجا،اور اس نے سلطان سے ہنگری پر اپنا اقتدار تسلیم کرنے اور اس کے علاوہ بلغراد اور رودوش لینے کا مطالبہ کر دیا،
    ایسے میں سلطان سلیمان 1529 کو ڈھائی لاکھ کا لشکر لے کر ہنگری پر چڑھ دوڑا اس نے ہنگری کو دوبارہ فتح کرلیا اور پھر اقتدار زاپولیا کے حوالے کیا اس نے ہنگری سے سفر جاری رکھتے ہوئے ویانا کا محاصرہ کر لیا سلطان اس فتنے کی جڑ کو ہی ختم کرنا چاہتا تھا لیکن تین ماہ کے عرصے تک ایک قلعہ فتح ہو سکا موسم کی خرابی کی وجہ سے سلطان کو محاصرہ ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا تھا،
    ہنگری کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا چناچہ سلطان آسٹریا کے علاقے ویانا سے محاصرہ اٹھا کر واپس آ گیا لیکن یورپ کے قلب تک سلطان سلیمان اپنی سلطنت کو پھیلا چکا تھا،
    اس کے بعد اس نے ایران کا سفر کیا اور اس نے ایران کے بہت سے علاقوں اور آذربائیجان تک اپنی سلطنت کے رقبے کو وسیع کر دیا،
    سلطان سلیمان نے جب تخت نشین ہوئے تھے تو اس وقت سلطنت کا کل رقبہ 68 لاکھ کلومیٹر تھا لیکن جب اس کے 46 سالہ عظیم الشان دور کا اختتام ہوا تو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا کل رقبہ لگ بگ 1 کروڑ 48 لاکھ کلومیٹر تھا،
    عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت انہوں نے دولت عثمانیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس وجہ سے ترک قوم نے انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے نوازا اور یورپ کے مفسرین نے انہیں سلیمان ذیشان، سلیمان علیشان اور سلیمان اعظم جیسے ناموں سے مخاطب کیا،
    1565 میں آسٹریا سے جنگ پھر شروع ہوگئی جس میں مسیحیوں نے کچھ کامیابی حاصل کر لیں، سلطان اس وقت کافی بیمار ہو چکے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی فوج کی قیادت کرنے کیلئے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا،
    2 اگست 1566 کو ایک قلعہ کا محاصرہ کیا جو 8 ستمبر تک جاری رہا اور آخر کار قلعہ فتح ہوگیا،
    اس وقت جب لشکرِ اسلام خوشی سے جھوم رہا تھا وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کا محبوب سلطان اللہ کی رحمت میں جا چکا ہے،
    سلطان 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب اس فانی جہان سے رخصت ہو چکے تھے،
    سلطان کی میت کو واپس قسطنطنیہ لایا گیا وہاں ان کی تعمیر کردہ مسجد سلیمانیہ میں ان کو سپرد خاک کیا گیا،
    اللہ سلطان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے،
    آمین

    @zsh_ali

  • سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد  تحریر: احسان الحق

    سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد تحریر: احسان الحق

    سحر کی ابتداء کے متعلق کوئی حتمی معلومات دستیاب نہ ہونے کے مترادف ہیں. سحر کب، کہاں اور کس جگہ سے شروع ہوا مکمل یقین کے ساتھ کچھ کہنا بہت مشکل ہے. مگر زمانہ قدیم میں مختلف قوموں اور تہذیبوں میں سحر اور جادو کا وجود ملتا ہے. آسٹریلیا، یورپ، افریقہ، ایشیا اور قدیم یونانی، رومی اور مصری تہذیبوں میں جادو یا سحر کے متعلق تفصیل کے ساتھ تاریخ موجود ہے. آسٹریلیا کے Aborigines قبیلے میں، امریکہ میں Red Indians لوگوں میں، افریقہ کے Azande and Cewa باشندوں میں، قدیم مصری، یونانی، رومی باشندوں میں سحر کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہا ہے.

    جادو یا سحر ہر زمانے میں ہر قوم کے لوگوں کے عقیدہ میں رہا ہے. قدیم مصر کے پجاری اسی جادوئی دعوے یا عقیدے کی بنیاد پر عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے. قدیم بابلی، ویدک اور دیگر روایات میں اپنے دیوتاؤں اور خداؤں کی طاقت کا منبع یا زریعہ جادو کو ہی تصور کیا جاتا تھا. دنیا کے مختلف حصوں کی دریافت شدہ باقیات یا غاروں میں ملنے والی تصاویر، تحاریر اور پتھروں پر تراشیدہ مجسموں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں سحر کی تصویر کشی کی گئی ہے مگر یہ محض دعویٰ یا قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے.
    سحر کے مظہر یا وجود کے متعلق زیادہ قابل بھروسہ معلومات قدیم مشرق وسطیٰ، یونانی، رومی، نصرانی یورپ اور ان کے ہم عصر تہذیبوں کے بارے میں موجود ہے. مصر اور mesopotamia جس کا زمانہ تقریباً 2300 قبل مسیح ہے کے سحر کے متعلق کافی مواد ملتا ہے جس سے جادوئی منتر، جادوئی قواعد و ضوابط اور ترکیبات کا احساس ہوتا ہے. اس کے بعد دیگر اقوام یا تہذیبوں میں جادو کا ذکر ملتا ہے ان میں انڈمان کے جزائر، کلاہاری سان، جنوب مغربی امریکا کے Navajo، ہمالیہ کے ترائی لوگوں میں بحرالکاہل کے جزائری، بابلی وینیوائی، قدیم مصری، کنعانی، یونانی اور رومی باشندوں میں.

    برصغیر میں سحر کی ابتداء اور ترویج کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ سحر کی ابتداء ارض فارس سے ہوئی اور یہیں سے یہ علم برصغیر اور عرب دنیا میں پھیلا. قدیم ایران میں مگ نامی ایک قوم آباد تھی جو زرتشت کے پیروکار تھے. سنسکرت زبان میں جادو کو "مای گگ” مطلب مگوں کا علم کہا جاتا ہے. انگریزی میں لفظ magic میجک اسی لفظ سے ماخوذ ہے. یہ قوم ایران سے جب یہ برصغیر میں آئی تو جادو کا علم بھی ساتھ لیکر آئی. یہاں کے باشندوں نے یہ علم سیکھا جس سے وہ لوگوں کو مفتون و مسحور کیا کرتے تھے. برصغیر میں زمانہ قدیم میں ہندوؤں کے نزدیک سحر کو خاص اہمیت اور شہرت حاصل رہی ہے. موجودہ دور میں بھی اس علم کو خاص اہمیت حاصل ہے بلکہ کچھ ہندو اس کو اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہیں. ان کے نزدیک چار یوگوں میں سے "ہٹ یوگ” سحر کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے زبردستی، جبر، ہٹ، ضد اور زبردستی خالق کائنات تک پہنچنا.

    انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق لفظ ماگی Magus کی جمع ہے. یہ ایک ایرانی قبیلہ تھا جو مذہبی رسومات کے لئے مختص تھا. اسی سے لاطینی لفظ Magoi ہے اس کی اصل بھی ایرانی ہے. ماگی قبیلے کے لوگ ابتداء سے زرتشت تھے یا نہیں، اس بابت کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے. ماگی ساسانی اور پارسی ادوار میں ایک مذہبی طبقے کے طور پر جانا جاتا تھا. زرتشی مذہبی کتاب اویستا Avesta کا آخری حصہ غالباً اسی سے ماخوذ ہے.

    نوٹ: مندرجہ بالا تحریر کو لکھنے کے لئے ان کتب کا مطالعہ کیا گیا
    1: جادو کی حقیقت اور اس کا قرانی علاج
    2: انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا

    @mian_ihsaan

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان

    چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان

    اگر ہم آج سے ایک ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو جو آج چین اور روس کا ہمسایہ ملک منگولیا ہے اس وقت یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے قبیلے آباد تھے یہ لوگ خانہ بدوش تھے اپنے لئے کسی مناسب جگہ کا انتخاب کرتے اور پھر وہاں زندگی گزر بسر کرنے چلے جاتے اور جب وہاں کی آب و ہوا اور ان کے مویشیوں کے لئے چارہ کافی نہ ہوتا تو یہ لوگ وہاں سے کسی سرسبز اور بہتر جگہ پر ہجرت کر جاتے ان قبیلوں کے اپنے اپنے سردار تھے اور تمام قبیلہ سردار کے ماتحت ہوتا تھا اور تمام قبیلے والے اپنے سردار کی عزت کرتے اور ہر بات مانتے تھے،
    ان قبیلوں میں سے ایک قبیلہ جس کا سردار یسوخئی نام کا جو ایک بہادر جنگجو بھی تھا اور اس کا تعلق بورجگین خاندان سے تھا اس کا ایک بیٹا جسکا نام تموجن جسے آج دنیا ”چنگیز خان” کے نام سے جانتی ہے پانچ سال کی عمر کا تھا اس کے باپ نے اپنے دوست کے قبیلے میں اس کی منگنی کروا دی ان خانہ بدوشوں کے تمام قبیلے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کے گویا جانی دشمن بھی تھے یہی وجہ تھی کہ ہر قبیلہ کے لوگ جنگی مہارت رکھتے تھے، یسوخئی کو ایک دعوت میں بلا کر زہر دے دیا گیا اور جس سے اس کی موت واقع ہوگئی،
    اب اس کے بیٹے کے خلاف قبیلے والوں نے بغاوت کردی کہ اس پانچ سال کے بچے کو ہم اپنا سردار نہیں مانتے انہوں نے تموجن اور اس کے گھر والوں کو قبیلے سے الگ ہونے کا کہہ دیا،
    لیکن سردار کے قبیلے سے بغاوت کرنے والوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ تموجن بڑا ہو کر کہیں ہم سے اس بغاوت کا بدلہ نا لے، انہوں نے اسے قتل کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے، کئی مہینوں تک یہ ان کے ہاتھ نہ آیا اور وہ مسلسل اس کی تلاش میں پھرتے رہے۔وقت گزرتا گیا تموجن بڑا ہو چکا تھا، لیکن آخر کار جو اس کی جان کے درپے تھے انہوں نے اسے پکڑ لیا اور زنجیروں میں جکڑکر اپنے ساتھ لے گئے،لیکن اسے مارا نہیں بلکہ قید میں ڈال دیا،
    تموجن کسی طرح ان کی قید سے نکلا اور گھر والوں کو ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا، اس نے اپنی منگیتر کو واپس لانے کا فیصلہ کیا، چند عرصہ گزرنے کے بعد کچھ دشمنوں نے اسے آ لیا اس کے گھر والوں پر یلغار ہونے والی تھی جس کا اسے پہلے ہی علم ہو چکا تھا، اس نے اپنی بیوی کو ایک چھکڑے میں چھپایا اسے دوسری طرف روانہ کرتے ہوئے خود پاس بہتے پانی کی طرف روانہ ہو گیا،
    سیانے کہتے ہیں کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی”
    اس کا باپ یعنی یسوخئی ایک عورت کو کسی دوسرے قبیلے سے اغوا کر کے لایا تھا، سو آج یہ سب اس کے بیٹے کے ساتھ ہونے جارہا تھا، تموجن تو جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جس طرف اس نے اپنی بیوی کو روانہ کیا تھا وہ چھکڑا پکڑا گیا اور وہ تموجن کی بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے، کہا جاتا ہے کہ یہ وہی قبیلے والے تھے جن کی عورت کو اس کے باپ نے اغوا کیا تھا، سو آج یہ قدرتی انصاف مکافات عمل پورا ہوا،
    مگر اس قسم کی باتیں وہ نہیں سوچتے تھے،
    خیر آگے بڑھتے ہیں اور اس تموجن کی کہانی کو مکمل کرتے ہیں،
    لیکن ابھی تو اس کہانی کی شروعات ہے۔ آپ اسے توجہ سے پڑھتے رہیں، شاید آپ کی معلومات میں تھوڑا اضافہ ہو سکے۔
    تموجن کافی عرصے کے بعد اپنے گھر والوں کا پیچھا کرتے واپس لوٹا تو دیکھا اس کی بیوی گھر میں نہیں تھی، چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کو واپس لائے گا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ایسے میں اس نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا جس کا نام جموکا تھا اس نے پہلے تو اسے خبردار کیا کہ تم ایک عورت کی خاطر جنگ کرو گے بعد میں تموجن کے اصرار پر اس کے دوست جموکا نے اسے اپنے قبیلے کے سپاہیوں کا ایک لشکر اس کی کمان میں سونپ دیا۔ یہ اپنی بیوی کو لینے چل دیا،
    اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان کے قبیلے پر یلغار کر دی اور اونچی اونچی آواز میں بورتچینا بورتچینا پکارنے لگا بورتچینا اس کی بیوی کا نام تھا، اس نے اور اس کے ساتھ آنے والے سپاہیوں نے قبیلے والوں کے سر دھڑ سےالگ کر کے رکھ دیئے،
    تموجن خیموں کی تلاشی کرتے کرتے اپنی بیوی تک جا پہنچا لیکن پھر کیا ہوا بیوی کو اغوا ہوئے 6/7 ماہ گزر چکے تھے اور اس کی بیوی اس عرصے میں امید سے ہو گئی تھی لیکن اس نے اپنی بیوی کو لیا اور وہاں سے گھر لوٹ آیا،
    تموجن جسے اس کے قبیلے والوں نے تکلیفوں سے دوچار کیا اور خود سے الگ کر دیا اب وہ ان سے ان سب زیادتیوں کا بدلا لینا چاہتا تھا،
    یہ اس قدر ضدی تھا کہ جس چیز کا دل کرتا وہ حاصل کرنے کسی بھی حد تک چلا جاتا۔ بچپن میں اپنے سگے بھائی کو تیر مار کے مار دیا، محض اس وجہ سے کہ وہ اس کی دریا سے پکڑی ہوئی مچھلی کھا جاتا تھا،
    آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ خانہ بدوش قبیلے ایک تو اپنی دشمنیوں کی وجہ سے بہترین جنگجو تھے دوسرا یہ کہ ان کا پیشہ بھی تھا وہ تیز دوڑتے گھوڑوں سے نشانہ لیتے اور تیر چلاتے تھے،
    تموجن اب اپنے باپ کی سرداری چھیننے والوں کے درپے ہو گیا اس نے قبیلے کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور اپنی سرداری میں انہیں امان دینے کا وعدہ کیا، کچھ تو اس کی بات مان گئے اور کچھ نے مزاحمت کی لیکن جنہوں نے مزاحمت کی اس نے ان کا تیاپانچا کر کے رکھ دیا،
    وہ کسی غدار کو زندہ نہیں چھوڑتا تھا،
    اس نے ارادہ کیا کہ وہ اب تمام قبائل کو متحد کرے گا چنانچہ اس نے مختلف قبائل کے سرداروں کو اپنے قبیلے میں ایک دعوت پر مدعو کیا جنہوں نے اس سے اتفاق کیا اور جنہوں نے نہیں بھی کیا ان کو بھی اپنی باتوں سے قائل کرلیا لیکن جنہوں نے اس کی ایک نہ مانی اس نے انکا برا حشر کیا جس ظلم اور سفاکیت سے آج وہ پہچاناجاتا ہے،
    ان کارستانیوں کو دیکھ کر اور اس کی باتیں سن کر مختلف قبائل اس کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے اس نے ان سے کہا کہ میں تم لوگوں کو یہ پوری دنیا دوں گا جیسے چاہو اور جہاں چاہو رہو اور جو چیز تمہیں اچھی لگے اسے حاصل کرو۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا اور مسئلہ اس کے بچپن کا دوست جموکا تھا۔منگول اپنے سردار کو خان کا خطاب دیتے تھے اور اب کیونکہ تموجن نے تمام قبائل کو اپنے ساتھ مل جانے کی دعوت دی تھی لیکن وہیں پہ دوسری طرف اس کا دوست بھی منگولوں کا خاقان بننا چاہتا تھا۔
    خاقان منگولوں میں سارے سرداروں سے بڑے سردار کو کہتے تھے لیکن اس وقت تک انہیں کوئی خاقان نہیں مل سکا تھا جو تمام قبیلوں کی نمائندگی کرتا،اب تمام قبیلوں میں اتحاد قائم ہو رہا تھا اور دونوں دوست اپنی اپنی فوج تیار کر رہے تھے، ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بھی شروع کر دیا تھا لیکن فیصلہ کن جنگ کرنا ضروری تھا۔ تموجن نے اپنے دوست جموکا کو اپنی سرداری تسلیم کرنے اور اس کےتابع ہوکر لڑنےکیلئے پیغام بھیجا اس نےلکھا کہ اس قوم کا مقدر میں ہوں اور میری کمان میں تم لڑو تو تمہارے لئے اچھا ہوگا ورنہ دو سورج ایک ساتھ نہیں چمک سکتے،
    اس کی اس بات پر جموکا نے جواب دیا کہ میں وہی ہوں جس کی مدد سے آج تم اس مقام پر ہو اور یاد کرو وہ دن جب تمہاری بیوی کی واپسی کیلئے میں نے تمہاری مدد کی تمہاری سرداری واپس دلوانے کے لیے بھی میں تمہارے ساتھ کھڑا رہا لیکن آج تم مجھے دھمکی دے رہے ہو۔ اگر تم میرے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہو تو یہ تم کر گزرو،
    چنانچہ تموجن نے اپنی فوج کو جموکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار کیا،
    اور بچپن کے دونوں دوست آج ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے بچپن میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر خون بہایا اور پھر دونوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے سے کہا کہ آج کے بعد ہم ایک دوسرے کے خونی بھائی ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تھالی میں کھاتے تھے اور ایک ہی بستر پر سوتے۔
    مگر اب فیصلہ کن جنگ شروع ہو گئی پہلے تو دونوں طرف کے سپاہی دیدہ دلیری کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے رہے لیکن نتیجہ جموکا کی گرفتاری کی صورت میں نکلا چناچہ تموجن جموکا کو اپنے خیمے میں لے گیا اور وہاں اس کو کھانا کھلایا اور اپنے دوست سے پوچھنے لگا اگر میں ایسے تمہارے پاس گرفتار ہو جاتا تو بتاؤ تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے،
    جموکا نے جواب دیا کہ وہ اسے مار دیتا کبھی زندہ نا چھوڑتا،
    تموجن نے کہا تم اب خود ہی بتاؤ میں تمارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اس نے کہا مجھے مار دو مجھے مار دو اگر میں زندہ رہا تو تم سے اس کا حساب لوں گا۔
    تموجن نے اسے کمان کی تار سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔
    تموجن چاہتا تھا کہ وہ اس کے خونی بھائی کا خون نہیں بہانا چاہتا، لیکن بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ تموجن نے جموکا کی لاش کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کروائے اور پھر اسے جنگل میں پھینک دیا۔
    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اپنی سفاکیت اور بربریت کی وجہ سے مشہور تھا۔
    اب اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے دیگر قبائل کو پھر مدعو کیا اور اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا۔
    آپ کو بتاتے چلیں کہ چین کے سرحدی علاقوں پر تموجن نے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا یہ لوگ چینی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے اور منگولوں کے قبیلوں میں لوٹ مار بھی کیا کرتے تھے،
    تموجن کے اس اقدام کو دیکھتے ہوئے چینی بادشاہ نے اس پر نوازشات کیں اور اسے چینی سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے سرحدی کمانڈر بننے کی پیشکش کی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جسے وہ معمولی سرحدی کمانڈر بنا رہا ہے وہ عنقریب ان کی سلطنت تباہ کر دے گا۔ وقت گزرتا گیا اور تموجن کے لشکروں میں اضافہ ہوتا گیا،
    لیکن ایک دن وہ اچانک غائب ہو گیا اور سب لوگ حیرت زدہ ہو گئے کہ ان کا سردار اچانک گیا تو کہاں گیا ؟
    کہا جاتا ہے کہ دو / تین دن بعد وہ اپنے قبیلے میں لوٹا اور بہت خوش تھا تمام لوگوں کو جمع کیا گیا اور اس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خدا نے اسے بشارت دی ہے کہ وہ پوری دنیاپر حکومت کرے گا۔ تم لوگ تیار ہو جاؤ یہ دنیا تمہاری ہے اور تم اس کے حکمران ہو،
    یہ سن کر تمام لوگ ہش ہش کر اٹھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہی ہے وہ جو ہماری طاقت میں اضافہ کرے گا،
    تموجن اب چنگیز خان کا روپ دھار چکا تھا۔ اور سب سے پہلے اس نے اپنے ہنسائے ملک چین پر یلغار کرنے کی منصوبہ بندی کی،
    لیکن چینیوں کے پاس اسلحہ تھا اونچی اونچی عمارتیں تھیں لمبی چوڑی دیواریں تھیں یہ سب کیسے ممکن تھا؟ اور اس نے ایسا کیوں سوچا تھا کہ وہ یہ سب کر سکتا ہے؟
    ان کے پاس گھوڑے تلواروں تیروں کے سوا کسی قسم کا کوئی اور ہتھیار نہ تھا جو چینی سلطنت سے مقابلہ کرسکتا اور ان سے ان کا ملک چھین سکتا،
    چنانچہ یہ سب کرنے کے لئے بھی اس کے پاس منصوبہ تھا، وہ اپنی عقل کو استعمال کرتا اور یلغار کر دیتا۔ اس نے طرح طرح کے منصوبے بنائے اور منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے اس نے چینی شہروں کے محاصرے کئے بھوک پیاس سے تڑپتے چینی شہری آخرکار شہر سے باہر نکلتے تو منگول شہر میں داخل ہو جاتے اور شہر تہس نہس کر دیتے ۔یہ منگول اپنا خوف اور دہشت پھیلانے کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرتے شہر میں موجود کیڑے مکوڑوں تک کو مار دیتے مردوں کے سر اڑا دیتے۔ عورتوں کو اپنے قبضے میں کر لیتے اور شہر کی خوب لوٹ مار کرتے اور جب شہر کو لوٹ لیتے اور تمام جانداروں کو قتل کر دیتےتو شہر کو آگ لگا دیتے ،
    ان کی اس سفاکیت اور بربریت نے دنیا کی باقی اقوام کو خوف میں مبتلا کر دیا۔
    سن 1300ء کے لگ‌بھگ منگولوں کی سلطنت میں شگاف پڑنے لگے۔‏
    ایشیا اور یورپ پر منگول ایک آندھی کی طرح آئے،‏ تھوڑے ہی عرصے کے لئے زوروں پر رہے اور پھر آندھی کی طرح جلد ہی تھم گئے۔‏
    مشہور ہے نا کہ، "ظلم جب حد بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے”

    @Imran1Khaan

  • بلبیر سنگھ  تحریر: علیہ ملک

    بلبیر سنگھ تحریر: علیہ ملک

    تاریخ اسلام ایسے ایسے روحانی و وجدانی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔
    اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اکثریتی تعداد غریب ہے دو چار کے علاوہ
    جس طرح ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ غریب تھے (دنیاوی لہاظ سے) اسی طرح اُس وقت کے مشرکین مکہ کے ساتھ جنگ کی سکت بھی نہیں رکھتے تھے
    اگرچہ اس وقت جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
    اس طرح چند سال گزر گئے لیکن اسلام کو طاقت میسر نہ آئی
    پھر ایک دن حضرت سیدنا عمر پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر لیتے ہیں
    اور ان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسلام طاقتور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
    پہلے دن ہی جناب عمر رضی اللہ عنہ مشرکین کو للکارتے نظر آتے ہیں
    مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
    یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مزید تیز ہوجاتا ہے
    مکہ سے حبشہ اور مکہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت ہوتی ہے
    مسلمان ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں
    جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے
    معرکہ بدر وجود میں آتا ہے
    کفار کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    اور کفار اس کا بدلہ لینے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں
    یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آجاتا ہے
    مسلمانوں پر کفار غالب آجاتے ہیں
    اور اس پر مسلمانوں کا بھاری نقصان خالد بن ولید اپنی کامیاب جنگی چال سے کرتے ہیں۔
    وقت گزرتا ہے وہی خالد بن ولید حضرت خالد بن ولید بن جاتے ہیں یعنی اسلام کو سینے سے لگا لیتے ہیں
    اور اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ” سیف اللہ” کا لقب پاتے ہیں اور فاتح شام و ایران ہوتے ہیں۔
    دنیاء کی "سپر پاور” قیس و کسریٰ کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔
    یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے اندر ایسے واقعات ملتے ہیں
    مذہب اسلام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نکلنے والی درندہ صفت ہلاکو خان کی فوج جب بہت سارے علاقے فتح کرلیتی ہے اور عباسی خلیفہ "معتصم باللہ” کو گرفتار کرکے گھوڑوں کے سونبوں تلے روند چکی ہوتی ہے تو ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی "برکہ خان” اپنی پوری فوج سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور ہلاکو خان کی قمر ٹوٹ کے رہ جاتی ہے۔
    یہ تاریخ اسلام کے سنہری باب ہیں
    اسی طرح بر صغیر میں مسلمانوں کے عقائد کا پرچم بلند ہوتا ہے اور ایک ہزار کے لگ بگ سال اسلامی حکومت رہتی ہے
    لیکن وقتاً فوقتاً ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جاتا ہے
    اسی دوران برطانیہ کا انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندستان آتا ہے اور قابض ہوجاتا ہے
    کایا پلٹتی ہے تو بھاگ کے برطانیہ تک ہی محدود ہوجاتا ہے
    مگر انگریز کا بویا ہوا بیج ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کو بڑھانا
    مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
    ہندستان کی قدیم اور سب سے بڑی مسجد "بابری مسجد” کو شہید کردیا جاتا ہے
    اور شہید کرنے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سب سے آگے رہنے والا "بلبیر سنگھ” ہوتا ہے
    مسلمانوں کے صرف جذبات مجروح نہیں کئے جاتے بکلہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئے جاتے ہیں۔
    وقت کی کایا ایک بار پھر پلٹتی ہے اور "بلبیرسنگھ” مسلمان ہوجاتا ہے
    مسلمان ہونے کے بعد یہی بلبیر جب بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو رو پڑتا ہے
    اور اس کا کفارہ اداء کرنے کیلئے ہندستان میں 100 مساجد تعمیر کرانے کا عہد کرلیتا ہے اور شب و روز اسی کار خیر میں گزارتا چلا جاتا ہے
    یہاں تک کہ 96مساجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور آج مورخہ 24/07/2021 کو یہ خبر گردش کرتی ہے کہ "بلبیرسنگھ” آج صبح اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے۔
    إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

    @KHT_786

  • مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟  تحریر: نویداختربھٹی

    مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟ تحریر: نویداختربھٹی

    قربانی کا فلسفہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن ہمیں تھوڑا وقت نکال کر غور کرنا ہوگا کہ ہر سال عیدالاضحٰی سے پہلے چھوٹا گوشت آخر مہنگا کیوں ہوجاتا ہے؟

    چھوٹا گوشت ہر گزرتے سال کے ساتھ عام پاکستانی کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
    چھوٹے گوشت کے شوقین لوگ بھی گائے کی قربانی دینے کو کیوں ترجیح دینے لگے ہیں؟

    دنبہ جو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کی جگہ قربان ہونے کیلئے جنت سے آیا تھا، موجودہ دور میں مسلمان اس کی قربانی کیوں نہیں کر رہے؟
    یہ حقیقت تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر ایک حلال جانور کی قربانی سنت ابراہیمی ہے اور سنت بھی ان کیلئے ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
    ابتدائے اسلام میں مسلمان کعبہ کے احاطے میں مینڈھوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک مینڈھوں کی پیداوار پریشان کن حد تک کم نا ہوگئی۔ منڈیوں میں مینڈھوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگ بکروں، چھتروں اور اونٹوں کی طرف آئے اور قربانی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اب چونکہ حالات کا فیصلہ یہی تھا کہ جو بھی حلال چوپایہ ملے اسے قربان کردیا جائے اس لئے کئی سو سال تک مسلمانوں کے کسی ملک میں جانوروں کی کمی کا سامنا نہیں کیا گیا۔
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے علاقوں میں بکرے اور چھترے کا گوشت خصوصی طور پر پسند کیا جاتا رہا ہے اس لئے اس خطے میں قربانی کیلئے بھی بکروں یا چھتروں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔
    بکروں اور چھتروں کی قربانی کے اس رجحان نے آہستہ آہستہ آنے والے ہر سال کے ساتھ ان کی کمی کا سبب بننا شروع کردیا اور اصول معاشیات کے مطابق جس چیز کی رسد کم اور طلب زیادہ ہوگی، اس کی قیمت بھی زیادہ طلب کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں عام دنوں میں گوشت 1300 روپے سے 1500 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں پر عمل کروانے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔
    اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مویشیوں کی افزائش کے حوالے سے کبھی کسی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر جاتے سال کے ساتھ ان جانوروں کی افزائش میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
    حکومت وقت کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل جب مرغیاں، انڈے اور مویشی پالنے کیلئے قوم کو متحرک کیا اور باقاعدہ پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تو پاکستان کے نام نہاد سکالرز اور میڈیا پر بیٹھی کالی بھیڑوں نے اس فلسفے کا مزاق اڑایا اور کہا کہ عمران خان دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے سے یو ٹرن لیتا ہوا مرغیوں اور انڈوں تک آگیا ہے۔
    موجودہ حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لائیو اسٹاک پر قابل قدر توجہ نہیں دی جارہی خصوصاً چھتروں اور بکروں کی افزائش جدید ریسرچ اور سائنسی بنیادوں پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے اس عیدالاضحٰی کے موقع پر دس سے پندرہ کلو گرام گوشت والا چھترا 20 ہزار جبکہ اسی وزن کا بکرا 30 ہزار میں فروخت ہوا ہے۔
    گائے کی پیداوار بھی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں دودھ کی کمی کا بحران ہے تو دوسری طرف جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ گائے قربان کرنے کا ایسا مقابلہ چل پڑا ہے جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بڑے گوشت کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور اس گوشت کے بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر جانے کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ ایک طرف تو لائیو اسٹاک میں بکرے پالنے والوں کو بلا سود قرضے دیں اور دوسری طرف بینکوں کو ہدایات دیں کہ وہ ان مویشی پال حضرات کی ماہرین کی مدد سے راہنمائی اور نگرانی کرائیں تاکہ ریاست کے اس بڑے مقصد کو نقصان نا پہنچے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
    وزیراعظم کو جو غیر مقبول اور دیرپا فیصلہ کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ علماء اکرام کی مشاورت سے کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے بکرے، مینڈھے اور چھترے کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دیں۔
    ہوسکتا ہے کہ جنونی مذہبی رجحان رکھنے والا طبقہ اس تحریر کو ناپسند کرے اور ایک لمبی بحث چھڑ جائے۔۔۔ مگر ان کو میری دعوت ہے کہ تاریخی اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر اس تحریر پر غور فرمائیں!

  • ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد اور ہم تحریر: محمد عاصم صدیق

    ھمارے آباؤ اجداد نے ہمیں نہ صرف آزاد ریاست دی بلکہ ہمیں زندگی کے کئی اصول بھی بتائے ۔
    آج اگر ہم سکون سے بغیر کسی خوف ،بغیر کسی در کے جہاں چاہئے اپنے ملک پاکستان میں ره رہے ہیں ۔ہر طرح کی آزادی ہمیں حاصل ہے ۔تو وہ صرف ھمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ۔لاکھوں لوگوں نے بےانتہا قربانیاں دی ھمارے لیے تا کہ ہمارا مستقبل خوبصورت بو ۔ہم عیش و عشرت سے رہ سکے ۔
    ہماری ماؤں نے اپنی بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتے دیکھا اپنی آنکھوں سے ۔بیٹوں کو قربان ہوتے دیکھا ۔یہ سب کس لیے تھا تا کہ میں آپ اور ہم سب غلامی سے نجات حاصل کر سکے ۔سکون کی سانس لے سکے ۔
    لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم آج اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد بھی کرتے ہیں ؟
    کیا ہم نے کبھی سوچا کے جن قربانیوں کے بعد یہ ملک ملا اِس کے پیچھے کوئی وجہ بھی تھی ؟
    آج ہم سب کچھ بُھول چکے ہیں اور اِس ملک کو بے دردی کے ساتھ ہر طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
    کاش کے ہم اُن لوگوں سے سیکھ لیتے جو ابھی تک آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتے
    اج ہم ایک آزاد قوم تو ہیں لیکن ھماری سوچ آج بھی غلامانہ ہے ۔ہم آج بھی انگریز اور ہندو کو اپنے سے بہتر سمجھتے ھیں اور ہر لحاظ سے انہی کے نقشے قدم پر چلنا پسند کرتے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد ہمیں آزاد ملک دے کر گئے تا کہ ہم اپنی پہچان بنا سکے ۔اپنے ملک کا نام روشن کر سکے ۔لیکن شائد ہم اپنے اسلاف کو بُھول گئے ۔
    آج ہم کرپشن ،چوری ، نا انصافی ،جھوٹ ہر طرح کے گناہ روز مرہ زندگی میں کر رھے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی روحوں کو دکھ پہنچا رھے ہیں ۔
    ھمارے آباؤ اجداد نے اپنا سب کُچھ قربان کیا ،گھر باہر سب چھوڑ دیا یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے بچوں تک وہی چھوڑ آئے کیوں کہ اُنکا خواب تھا اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا اور اس کے لیے وہ ہر حد تک گئے ۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے رستے پر چلائے اور اُنکی زندگی سے کُچھ سیکھنے کی توفیق عطا کرے
    امین!

    Written By : Muhammad Asim Siddiq
    Username : @Asimsiddiq_
    Email : asimsak47@gmail.com

  • جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم    تحریر. عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان

    آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
    یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی

    @Aamir_k2