Baaghi TV

Category: تاریخی

  • چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    کرہ ارض پر خود زمین سے بھی پرانا ایک شہابیہ ملا ہے اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال بتائی گئی ہے یعنی یہ زمینی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نایاب ترین پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہےجو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔ 2020 میں جاپانی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے دریافت کیا تھا اور اگلے ہی دن اس پر غوروفکر شروع کردیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پتھرنظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہےاس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔

    اس شہابیے کو ایرگ چیک 002 کا نام دیا گیا ہے اور مختصراً اسے ای سی 002 پکارا جارہا ہے کے بارے میں فرانس فرانس کی یونیورسٹی آف ڈی بریٹاگین آسیڈینڈل کے ماہر جین ایلکس بیرے نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے شہابیوں پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔

    ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

    خیال ہے کہ یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانیٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیاتاہم ابھی اس پر تحقیق جاری ہے-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

  • جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائنسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا-

    البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ہے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البیرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی-

    ‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا-

    ‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔ یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے-

    ‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں-

  • سیاحت میں فروغ پر اہم پیشرفت ، وزیر اعظم نے سیاحتی مقام پہ پارکس کا افتتاح کر دیا

    سیاحت میں فروغ پر اہم پیشرفت ، وزیر اعظم نے سیاحتی مقام پہ پارکس کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے ٹلہ جوگیاں نیشنل پارک اور سالٹ رینج نیشنل پارک کا افتتاح کیا انہوں نے پدری وائلڈ لائف گیم رزارٹ سوہاوا میں زیتون کا پودا لگایا۔

    وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انکے ویژن اور قومی ٹوارزم اسٹریٹجی2030 کے تحت ملک بھر میں تاریخی اور قومی ورثہ کے حوالے سے اہم مقامات کی نشاندہی کی جارہی ہے جس سے ماحولیات اور جنگلی حیات کاتحفظ ہماری تاریخ اور قومی ورثہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بریفنگ میں بتایا کہ ٹلہ جوگیاں نیشنل پارک اور سالٹ رینج نیشنل پارکس چھ پروٹیکٹڈ ایریاز میں شامل ہیں۔ چھ پروٹیکٹڈ ایریاز میں ان نیشنل پارکس کے علاوہ خیری مورت نیشنل پارک، چھنجی نیشنل پارک، نمل ویٹ لینڈ اور چشمہ ویٹ لینڈ نیچر ریزروز  شامل ہیں۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سالٹ رینج ایکالوجی اور ہریٹیج پروینشن پلان سات مرحلوں پر مشتمل ہے ان میں سے آج پہلے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے، حکام کی طرف سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ سالٹ رینج ایسا تاریخی قدرتی ثقافتی ورثہ ہے جو ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔بتایا گیا کہ 300 کلو میٹر طویل علاقہ اکالوجیکل،بیالوجیکل کلچرل ہیریٹیج کوریڈور اور مختلف مذاہب کے تاریخی مقامات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ علاقہ قدیم تاریخی ورثہ اور قیمتی جنگلات کا حامل ہے جس میں بڑی تعداد جنگلی زیتون کی ہے۔یہ  خطے میں پری ہندو ازم سے لیکر بدھ مت یونان گھکھڑ اور مغلیہ دور لاتعداد آثار سے مالا مال ہے۔بابا گورونانک سکندر اعظم اور دیگر اہم شخصیات کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اس علاقے کو عالمی ثقافتی اور قدرتی تاریخی ورثے میں شامل کرنے کیلئے یونیسکو کو بھی کہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے وائلڈ لائف پدری گیم کی ریزرو کی طرف سے جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے اقدامات کو سراہا اور ہدایت کی اس مجوزہ منصوبے کو جلدحتمی شکل دی جائے

  • انتہائی قدیم شہر کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انتہائی قدیم شہر کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پیٹرا (ایک کھویا ہوا شہر)

    Reference:- National Geographic, Petra, 2019
    "تیزی سے لرزنے والے رنگ سرخ ، سفید ، گلابی ، اور ریت کے پتھروں کے چٹانوں پر بنی ہوئی نقش و نگار والا اردن کا ایک قبل از تاریخ شہر "پیٹرا” جو سینکڑوں سالوں سے مغربی دنیا سے "کھو گیا” تھا۔
    یہ اردن کی ہاشم مملکت کے جنوب مغربی کونے میں اب تک ناہموار صحرائی گھاٹیوں اور پہاڑوں کے درمیان واقع ہے،

    پیٹرا ایک زمانے میں ایک ترقی پزیر تجارتی مرکز تھا اور 400 بی-سی(قبل از مسیح) اور 106 سن عیسوی کے درمیان نباطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔

    یہ شہر صدیوں سے ویران ہوا پڑا ہے اور برباد شدہ ہے۔
    1800 کی دہائی کے شروع میں ایک یورپی سیاح نے اپنا بھیس ایک بدو میں بدلا اور اس پراسرار مقام میں خفیہ طور پر داخل ہوگیا۔”

    پیٹرا پہلے پتھر کے دور میں آباد تھا۔

    Reference:- Wikipedia, Petra, 2019
    ” اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ پیٹرا 9000 بی-سی (قبل از مسیح) کے شروع میں ہی آباد ہو گیا تھا۔ اور یہ ممکنہ طور پر چوتھی صدی بی-سی (قبل از مسیح) میں نباطینی سلطنت کے دارالحکومت کے طور پر قیام پذیر ہوا۔ نباطینی خانہ بدوش عرب ہوا کرتے تھے جنہوں نے پیٹرا کے نزدیکی تجارتی راستوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اسے ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر قائم کیا۔ اس شہر تک رسائی 1.2 کلو میٹر لمبی گھاٹی کے ذریعے کی جاتی ہے جسکا نام سک(Siq) ہے، جو سیدھے خزانے کی طرف جاتی ہے۔ یہ پتھر کو کاٹنے کے فن تعمیر اور پانی کے نل کے نظام کی وجہ سے مشہور ہے۔”

    یہ شہر پتھر کو کاٹنے کے فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔ سب سے مشہور عمارت خزانے کی ہے جو پہلی صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔ درج ذیل تصویر دیکھیں۔

    یہ بہت ہی جدید قسم کے ڈیزائن ہیں اور پانی کے نل کا نظام بھی جو ظاہری بات ہے کہ انکی پہلی عمارت نہیں ہوگی جو انہوں نے بنائی ہو، ان سے پچھلی نسلوں نے ان سے بھی بھاری حیران کر دینے والے گھر تعمیر کیے۔
    اور پانی کے نل کے نظام کی تصویر بھی درج ذیل ہے۔

    پیٹرا میں قدیم مکانات بھی بغیر کسی جادو کے پتھر میں بنے ہوئے تھے۔

    جبکہ آثار قدیمہ کے ماہرین جہاں پیٹرا کی خوبصورت نقش و نگار تلاش کر رہے تھے وہاں انہیں ایک سیدھی سل(پتھر کی پلیٹ) ملی جس پہ اللہ لکھا ہوا تھا۔

    Reference:- Wikipedia, Petra, 2019
    "نباطینیوں نے اسلام سے پہلے کے دور کے عرب کے ماننے والے خداوں اور ساتھ ہی معزز بادشاہوں کی پوجا کی۔
    لفظ Qosmilk(جسکا مطلب بادشاہ ہے) کے ذریعے نکلنے والا لفظ قوس-اللہ جسکا مطلب ” قوس اللہ ہے” یا "قوس خدا ہے” کے نام سے منسوب ایک پتھر کی پلیٹ پیٹرا میں پائی گئی۔ لفظ Qos جو ہے وہ Kaush, Qaush جسکا مطلب ہے "پرانے ادومیوں(عیسی کے قبیلے یا نسل کے لوگوں) کا خدا” کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ سل(اسٹیل) سینگدار ہے اور پیٹرا کے قریب واقعہ Edomite Tawilan (غالبا کوئی علاقہ ہے) سے مہر شدہ ایک ستارہ اور ہلال دکھاتا ہے۔ دونوں چاند دیوتا کے مطابق ہیں۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ اسکے ذکر میں دیر حاران(ترکی کے شہر) کے ساتھ تجارت کے نتیجے میں ہوسکتی ہے۔ Qos کی نوعیت کے بارے میں تاحال بحث جاری ہے جسکی شناخت شکار کرنے والا خدا اور قوس و قزاح (موسم کا خدا) کے ساتھ کی جاتی ہے حالانکہ اسٹیل کے اوپر کا ہلال بھی ایک خدا ہے(ان کے نزدیک)۔
    سینائی اور دوسری جگہوں میں نباطینی تحریروں میں وسیع حوالاجات کے ساتھ نام پیش کیے گئے ہیں جن میں اللہ، EI اور الات(خدا اور خدائی) اور علاقی حوالہ جات کے ساتھ العزہ، بعل اور منات لکھے گئے تھے۔ سینائی میں الات کا نام بھی پایا گیا تھا جو جنوبی عربی کی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ لفظ Allah خاص طور پر Garm-Allahi یعنی God Decided(یونانی گیرامیلوس) اور Aush-Allahi یعنی God Convenant(یونانی اوسلوس) سے لیا گیا ہے۔ ہمیں Shalm-lahi جسکا مطلب "اللہ امن ہے” اور Shalm-Allat جسکا مطلب "دیوی کا امن” ہے دونوں ملے ہیں۔ ہمیں یہ دونوں الفاظ Amat-Allahi جسکا مطلب "خدا کا ملازم” اور Halaf-Alahi جسکا مطلب "اللہ کا جانشین” بھی ملے ہیں۔”

    ان الفاظ میں لفظ Allah بھی پایا گیا تھا جسکا مطلب ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے خبردار کیے گئے تھے جبکہ انہوں نے اللہ کے علاوہ غیر اللہ کی پوجا رکھنا جاری رکھا۔
    تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پتھروں میں اپنے گھر بنائے، اللہ کی طرف سے خبردار کیے گئے لیکن انہوں نے اپنے خدا کے پیغام کو نظر انداز کیا اور یہ صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے۔
    مگر اس تحقیق کی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ

    Quran 15:80-83

    "اور بے شک پتھر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
    اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں بھی دی تھیں پر وہ ان سے روگردانی کرتے تھے۔
    اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔
    پھر انہیں صبح کے وقت سخت آواز نے آ پکڑا۔
    پھر ان کے دنیاوی ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔”

    پتھر والے لوگ وہ تھے جو پہاڑوں اور چٹانوں میں اپنے گھر بنایا کرتے تھے، یہ خبردار کیے گئے لیکن انہوں نے خدا کے پیغام کو نظر انداز کیا، تو فرشتوں نے اپنی چیخ سے انہیں ہلاک کر دیا، اسکا مطلب ہوا کہ انکے گھر تباہ نہیں ہوئے۔

    بلکل یہی بات ہمیں اس شہر پیٹرا میں ملی۔
    پتھروں کے دور کا شہر جس میں ابھی بھی لوگ پتھروں میں گھر تراش رہے ہیں اور وہ لوگ خبردار کیے گئے تھے۔

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے پتھروں کے دور کا شہر پیٹرا کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • انسان کا آسمان میں پہنچنے کے متعلق قرآن میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان کا آسمان میں پہنچنے کے متعلق قرآن میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان کا آسمان پہ پہنچنا۔

    1400 سال پہلے انسان اتنی اونچائی تک ہی پہنچ سکتا تھا جتنا وہ اچھل سکتا تھا۔ مگر قرآن نے تبھی بتا دیا تھا کہ ایک دن انسان آسمان پہ پہنچ جائے گا۔

    Quran 29:22

    اور تم زمین اور "آسمان میں” (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

    یعنی تم زمین کے ساتھ ساتھ آسمان میں بھی پہنچ جاو گے لیکن وہاں پہنچ کر بھی تم اللہ کی قدرت سے نہیں بچ پاو گے۔

    ایک اور جگہ فرمایا
    Quran 84:19

    کہ تم ایک تہہ سے دوسری تہہ کی سواری کرو گے۔

    یہ "Tabak طَبَقٍ” ایک اسم ہے جس کے معنی "پرت یا تہہ” ہے، اور یہ لفظ اڑنے والے قالینوں کے افسانوں سے اخذ کیا گیا ہے،

    اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ اڑنے والے ہوائی جہاذ کے متعلق ہے۔ کیونکہ حقیقت میں ایسے قالین موجود ہی نہیں ہیں۔

    اس ایک لفظ کے کئی مطلب ہیں
    ناون میں اسے لیئر کہا جاتا ہے
    جسکا مطلب ہوتا ہے پرت یا تہہ،

    اسے اڑتے قالینوں کے افسانوں سے اخذ کیا جاتا ہے،
    اس لحاظ سے اسکا اشارہ جہازوں کی اڑتی پرت کی طرف ہوا۔
    کیونکہ حقیقت میں اڑنے والے قالین موجود نہیں ہیں
    بلکہ جہاز موجود ہیں۔

    یہاں اڑتی تہہ کی طرف اشارہ ہے

    وہ جہاز بھی ہو سکتے،اآ

    اڑتی گاڑیاں بھی ہو سکتیں کیونکہ کہا جاتا ہے کچھ سالوں سے اڑتی گاڑیاں موجود ہوں گی۔

    اسکا تیسرا مطلب خلائی جہاز ہیں جو آسمانوں کو چیرتے چلے گئے سپیس میں،
    واللہ اعلم

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا تھا کہ انسان آسمانوں پہ پہنچ جائے گا؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Dead Sea
    بحیرہ مردار،
    زمین کا سب سے گہرا حصہ

    فارسیوں سے رومیوں کی شکست کے بعد قرآن نے بلکل ٹھیک پیشین گوئی کی کہ وہ دوبارہ فاتح ہوں گے۔ یہ جنگ ڈیڈ سی(بحیرہ مردار) کے قریب لڑی گئی۔

    Quran 30:2-3

    روم مغلوب ہو گئے۔(2)
    سب سے کم(نچلی، گہری) زمین میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔(3)

    اَدْنَى کے عربی میں دو مطلب ہیں، ایک ”نزدیک” اور دوسرا ”کم یعنی گہرا”. آج ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار(Dead Sea) زمین پر سب سے کم(گہرا) ترین پوائنٹ ہے۔ (سطح سمندر سے 423 میٹرز یا 1388 فٹ نیچے ہے۔)

    1400 پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے زمین کے سب سے گہرے مقام کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سمت کی نشاندہی کرنے والے کمپس کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    سمت کی نشاندہی کرنے والے کمپس کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    تاریخی اعتبار سے نقشوں پر سمتوں کو متعین کرنے کیلئے کئی طریقوں کا استعمال کیا جاتا رہا۔ مختلف طریقے مختلف سمتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ درج ذیل تصویر ایک پرانے کمپس اور پرانے نقشے کی ہے۔

    آخر کار تمام پرانے طریقے بےرنگ ہوگئے سوائے ایک کے۔ آج تمام نقشے ایک ہی طریقہ استعمال کرتے ہیں،

    اوپر شمال، دائیں جانب مشرق، بائیں جانب مغرب اور نیچے جنوب ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اگر آپ ایسے کھڑے ہیں کہ سورج آپکے دائیں جانب سے طلوع ہوتا ہے اور بائیں جانب غروب ہوتا ہے، تو آپ کا چہرہ شمال کی جانب ہے اور آپکی کمر جنوب کی طرف ہے۔

    جبکہ چودہ سو سال پہلے یہ بات قرآن میں درج تھی،

    Quran 18:17


    (الکھف 17)

    “اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے ان کے غار کے دائیں طرف سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان کی بائیں طرف سے کتراتا ہوا گزر جاتا ہے اور وہ اس کے میدان میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے تمہیں کوئی بھی کارساز راہ پر لانے والا نہیں ملے گا۔”

    یعنی غار کا منہ شمال کی جانب تھا جسکی وجہ سے سورج دائیں(مشرق) جانب سے طلوع ہوتا اور بائیں(مغرب) جانب غروب ہوتا تھا۔

    یعنی اگر سورج آپکے دائیں جانب سے طلوع ہوتا ہے اور بائیں جانب غروب ہوتا ہے تو یقینا آپ شمال کے سامنے اور جنوب آپکے پیچھے ہے۔ بلکل یہی طریقہ آج ہر نقشے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب صرف یہی طریقہ ہی تمام پرانے طریقوں پر سمت جاننے کیلئے غالب آئے گا؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • کاغذ کے پیسوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کاغذ کے پیسوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کاغذی رقم(نوٹ) جو بجائے سکوں(سونے اور چاندی) کے استعمال کیے گئے۔

    کاغذی رقم سب سے پہلے گیارویں صدی میں چین میں استعمال کیے گئے۔

    Reference: Wikipedia, Jiaozi(currency), 2019
    “جیاوزی جو کہ چین کی اسوقت کی کرنسی کا نام تھا، ایک بینک نوٹ کی طرح کا پیپر تھا جو گیارویں صدی کے آگے پیچھے چائنہ کے صوبے چینگدو کے دارالحکومت سیچوان میں سامنے آیا۔

    نیومسمیٹسٹس(ہندسوں کے ماہرین، سکے جمع کرنے والے) اسے پہلی کاغذی رقم قرار دیتے ہیں، جو کہ چینی سونگ خاندان کی ترقی کے طور پر جانا جاتا ہے
    (960-1279 CE)”

    جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ کاغذی رقم ان چینی لوگوں سے پہلے بھی جانی جاتی تھی اور استعمال کی جاتی تھی۔

    Quran 18:19

    "اور اسی طرح ہم نے انہیں(اصحاب کھف کو) جگا دیا تاکہ ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر ٹھہرے ہو، انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن سے کم ٹھہرے ہیں، کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے ہو، اب اپنے میں سے ایک کو یہ اپنے پیسے دے کر اس شہر میں بھیجو پھر دیکھے کون سا کھانا ستھرا ہے پھر تمہارے پاس اس میں سے کھانا لائے اور نرمی سے جائے اور تمہارے متعلق کسی کو نہ بتائے۔”(الکھف #19)

    “Warak in Arabic ورق” کا مطلب ہے کاغذی رقم،
    “بِوَرِقِكُمْ Biwarikikum” کا مطلب ہے تمہارے کاغذی پیسے، سکے نہیں۔ تو قرآن کہتا ہے کہ کاغذی رقم چینی باشندوں سے بھی کئی صدیوں پہلے استعمال کی جا چکی ہے۔

    ایک غیر معمولی انسان چودہ سو سال پہلے کیسے کاغذی رقم کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پومپائی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پومپائی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اٹلی میں ایک پرانے شہر کی باقیات کو دریافت کیا جو سن عیسوی 79 کے ایک آتش فشاں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا تھا. اس گرم آتش فشاں اور ملبے نے جلد ہی لوگوں کے جسموں کو سخت ترین کر دیا تھا, وہ منجمد ہوگئے تھے اور ان کے آخری عمل(ڈی کمپوزیشن) کو ختم کردیا.

    مگر 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ درج تھا کہ اللہ جہنم میں کافروں کی حرکت بند کردے گا، وہ حرکت نہیں کر سکیں گے، گلے سڑیں گے نہیں، منجمد ہوجائیں گے

    Quran 36:67

    (یس)
    اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں ان جگہوں پر مسخ/منجمد کر دیں پس نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ ہی واپس لوٹ سکیں۔

    خدا کافروں کو جہنم میں منجمد کر سکتا ہے، انکی حرکت کو ختم کر سکتا ہے. آج ہم جانتے ہیں کہ پومپئی کے لوگ آتش فشاں کی وجہ سے اپنے آخری عمل میں منجمد ہوگئے تھے(جیسا کے اوپر تصاویر میں دکھایا گیا ہے)
    یہ سارا عمل اسی طرح ہے جو قرآن میں جہنم میں ہونے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے.
    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کس طرح جان سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آخری عمل میں منجمد کیا جا سکتا ہے؟

    بقلم سلطان سکندر!!!