Baaghi TV

Category: موسمیات

  • سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    سمندری طوفان تاؤتے کل کے مقابلے میں کراچی سے مزید قریب ہو گیا-

    باغی ٹی وی :محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق سمندری طوفان ’ٹاک ٹائی‘ کا رخ مزید شمال مغرب کی جانب ہو رہا ہے تاؤتے کراچی کے جنوب مشرق میں 1 ہزار 210 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طوفان شدت ضرور پکڑ رہا ہے، تاہم وہ پاکستان کی ساحلی پٹی سے دور ہو کر گزرے گا۔

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کے مطابق دور ہونے کے باعث کراچی میں بارش کے امکانات کم ہو گئے، البتہ طوفان کی وجہ سے جنوب مشرقی سندھ میں بارش ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں سمندری طوفان کے باعث گرد آلود تیز ہوائیں چل رہی ہیں کراچی میں 25 سے 30 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں، تاہم گرم ہواؤں کے باعث لو کی صورتِ حال رہے گی۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث کراچی کا موسم کبھی گرم اور کبھی شدید گرم رہے گا، جبکہ شہر گرد آلود ہواؤں کی لپیٹ میں رہے گا۔

    ان کے مطابق آئندہ 2 روز تک کراچی کا موسم گرم اور شدید گرم رہ سکتا ہے، جبکہ زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت 42 سے 43 سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے مرکز میں 130 سے 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ سمندری طوفان تاؤتے بھارتی ریاست گجرات کی جانب بڑھ رہا ہے، اس طوفان سے بھارت کی 6 ریاستیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

    کراچی والوں کے لیے خطرہ ہی خطرہ : محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان سےمتعلق پانچواں الرٹ جاری کردیا

    سندھ میں ایمرجنسی نافذ:سمندری طوفان کے پیش نظر سینٹرل کنٹرول روم قائم، کراچی…

    وزیر اعلیٰ سندھ نے سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات…

    بحیرہ عرب میں طوفان،وزیر اعلیٰ سندھ کی ایمرجنسی پلان بنانے کی ہدایت

    بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا

  • وزیراعظم عمران خان کاجنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے  حیاتیاتی تنوع پرخطاب کہا میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے

    وزیراعظم عمران خان کاجنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے حیاتیاتی تنوع پرخطاب کہا میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا75واں اجلاس،پہلاورچوئل سیشن جاری وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے حیاتیاتی تنوع پرخطاب میں کہا کہ میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے-

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اقوام متحدہ کا جاندار تنوع سے متعلق رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جو شمال سے جنوب ، مشرق سے مغرب تک ماحولیاتی لحاظ سے متوع ہے۔

    وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں12موسمیاتی زونز ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس عمودی ڈھلوان موجود ہے پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے پہلے 10ملکوں میں ہوتاہے-

    شمال میں پاکستان کا سب سے اونچا پہاڑ دنیا کا دوسرا بلند پہاڑ ، K2 بھی ہوتا ہے۔ وہاں سے سمندر تک 2000 کلومیٹر کی دوری ہے۔ لہذا ہم الپائن آب و ہوا زون سے دائیں مدارینی علاقوں تک جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میری حکومت نے پودوں اور حیوانات کے تحفظ کے لئے اس قدر قدرتی حیوانی تنوع کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اور اس کے لئے ہم حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور آب و ہوا میں تبدیلی لچک دونوں کے لئے مقامی کمیونٹیز کی مدد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ چونکہ پاکستان آب و ہوا کی تبدیلی کا شکار ہے ، لہذا ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں ہیں۔ اور اس کے لئے ہم نے 10 بلین درخت لگانے اور ان 10 ارب درختوں کو لگانے کا چیلنج اٹھایا ہے-

    وزیراعظم عمران خآن نے کہا کہ ہم نے مقامی کمیونٹیز کی مدد کو فہرست میں شامل کیا ہے۔ لہذا انہیں ملازمتیں دی جائیں گی جو جنگل کی حفاظت کریں نیز نرسریوں کو اگائیں گے تاکہ ہم اپنے 10 ارب درختوں کا ہدف حاصل کرسکیں۔

    وزیراعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ ہم نے CoVID دور میں شروع کردہ اپنے "پروٹیکٹڈ ایریاس انیشی ایٹو” کے حصے کے طور پر اپنے 2سالہ دورحکومت میں 9نیشنل پارکس کااضافہ کیا جن کی تعداد 30 سے 39 ہو گئی ہے ہماری حکومت کے 2 سالوں کے نتیجے میں ، ہم نے قومی پارک میں 9 یا 25٪ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ سب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے ہمارے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے-

  • باد صباء کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    باد صباء کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    (سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یعنی
    ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,

    سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.

    Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
    "ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”

    سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے

    اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
    یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.

    یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
    یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
    Quran 81:18

    اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)
    (التکویر 18#)

    لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)

    اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • "مائیکروبرسٹ جو انسانوں کیلئے خطرناک ہے” کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    "مائیکروبرسٹ جو انسانوں کیلئے خطرناک ہے” کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    مائیکروبرسٹ جو ہوائی جہازوں کیلئے خطرناک ہے اور انسانوں کیلئے بھی۔

    آسمانی کتاب بائبل "four winds” کے بارے میں بیان کرتی ہے، جس کا مطلب ہے زمین کے چاروں کونوں سے ہوا کا چلنا ہے، یعنی ایک ہوا جب ساوتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ زمین کے چاروں کونوں سے چلتی ہے تو اسے فار ونڈز کہتے ہیں، اگرچہ یہ غلط ثابت ہوا لیکن بائبل دراصل زمینی سطح کی ہوا کے متعلق بات کر رہی ہے۔
    زمینی سطح کی ہوائیں زمین کی طرف پیرالل یعنی متوازن(برابر) حرکت کرتی ہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس ہوا کے متوازن ٹکراو کو نہیں جانتا تھا جو زمین کو آ کر ٹکراتی ہیں۔ تاہم آج اس موسم کے مظاہر(ہوا، بادل، بارش، فوگ، مٹی کا طوفان وغیرہ) نے ہوابازی کی صنعت(جہاز بنانے والی انڈسٹریوں) کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔


    "مائیکروبرسٹ کا مطلب چھوٹے پیمانے پر ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا ہے جو مٹی کے طوفان یا مسلسل تیز بارش کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ مائیکرو برسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں
    1:- ویٹ(گیلا) مائکروبرسٹ (بارش میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا)
    2:- ڈرائی(خشک) مائیکروبرسٹ(مٹی کے طوفان میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا)
    یہ اپنے چکر میں تین حالتوں سے گزرتے ہیں، ڈاون برسٹ (ہوا کا نیچے کی طرف شدید جھکاو)، آوٹ برسٹ (پھاڑ دینے والا طوفان)، جھٹکے دار طوفان یعنی جس میں ہوا کے اچانک تیز جھونکے رونما ہوتے ہوں۔
    یہ مائیکروبرسٹ (ہوائی طوفان) خاص طور پر ہوائی جہاز کیلئے بہت خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاز کی لینڈنگ کے وقت جب ہوا کا جھونکا سامنے سے جہاز کو ٹکراتا ہے تو یہ اسکے لیے بہت مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
    پچھلی کچھ دہائیوں سے ہوائی جہازوں کے کئی تاریخی حادثات موسم کے مظاہر کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں، جہاز کے عملے کی بڑے پیمانے پہ تربیت اسی بات پہ ہوتی ہے کہ موسم کے ان مظاہر یعنی مائیکروبرسٹ اور مشکلات میں ہوائی جہاز کو کیسے بہتر طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

    مائیکروبرسٹ عام طور پر بہت ہی تیز اور شدید ہواؤں پہ مشتمل ہوتا ہے جو بڑے بڑے اونچے درختوں کو زمین پہ گرا دیتا ہے۔

    یہ عمل عام طور پر کچھ سیکنڈز سے کچھ منٹس تک جاری رہتا ہے۔”

    Reference:- Wikipedia, Microburst, 2018

    یہ شدید ڈاون کرافٹ(ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا اور زمین کو ٹکرا کر پھیل جانا) زمین کو ٹکراتا ہے اور درختوں کو گرا دیتا ہے، یہ متعدد انسانی اموات کے ساتھ ہوا بازی(ہوائی جہازوں) کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی یہ درج تھا،
    Quran 22:31

     (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے” یہاں پہ ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنے اور زمین سے ٹکرانے کی بات ہو رہی ہے یعنی ڈاون ڈرافٹ۔

    قرآن کے مطابق یہ ڈاون ڈرافٹ ہوا میں انسانوں کیلئے خطرہ ہے(ہوائی جہازوں کے کریش ہونے کی صورت میں)۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے ہوا میں خطرے کا باعث ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے یہ کیسے جان سکتا ہے کہ ایک ڈاون ڈرافٹ(ہوا کا دباو) بھی ہوتا ہے جو زمین سے ٹکراتا ہے اور تو اور ہوا میں بھی انسانوں کے خطرے کا باعث بنتا ہے جبکہ 1400 سال پہلے جہاز موجود ہی نہیں تھے؟

    بقلم سلطان سکندر!!!