Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • تحریر: محمد عثمان  عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    تحریر: محمد عثمان عنوان: مغل بادشاہ ترقی کے خلاف رکاوٹ

    مغلوں کی تاریخ: مغلوں کی حکمرانی 1526ھ میں شروع ہوئی۔ ہندوستان میں مغلوں کا پہلا حکمران ظہورالدین بابر تھا۔ وہ مغل سلطنت کا بانی ہے۔ بنیادی طور پر ، مغل افغانی تھے۔ ان کو جنگھی خان (منگول کنگ) نے بے دردی سے شکست دی۔ وہ افغانستان میں پناہ مانگ رہے تھے۔ دریں اثنا ، اس حالت کو دیکھ کر ہندوستان کے مسلم قائدین نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ انہوں نے ظہورالدین بابر کو اپنی شکست خوردہ فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ اس نے ہندوستان پر حملہ کیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے فتح حاصل کی کیونکہ مرکزی رہنما اس کے حق میں تھے۔ وہ دراصل ایک نیک آدمی اور روحانی آدمی تھا۔ انہوں نے برصغیر میں اسلام کی تبلیغ کی۔ اس کی موت 1530a.h میں ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ، ان کے بیٹے ناصر الدین ہمایون نے سلطنت کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ ایک روحانی شخص بھی تھا اور حکومت کی رسم و رواج میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں بہت ساری عمارتیں بنائیں۔ صورتحال پر نگاہ ڈال کر آگرہ کے گورنری گورنر شاہ سوری نے ہمایوں کے خلاف سڑکیں نکالیں جب وہ کسی دوسرے ملک کے دورے پر تھے۔
    شیر شاہ سوری: شیر شاہ سوری افغانی تھے۔ اس نے ہندوستان پر صرف پانچ سال حکومت کی۔ حکمرانی کا ان کا مختصر وقفہ (1540 سے 1545) صدی کا سب سے جدید دور سمجھا جاتا ہے۔ سوری بہت ذہین اور موجودہ ذہن کا حکمران تھا۔ انہوں نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔ اس نے تنکا کی بجائے روپیہ متعارف کرایا۔ اس نے مسافروں کے لئے بڑی تعداد میں رہائشیں تعمیر کیں ، جہاں کوئی بھی کھانا کھا سکتا ہے اور دن کے کسی بھی وقت آرام کرسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے گرینڈ چوری روڈ (جی ٹی روڈ) کے نام سے ایک بہت لمبی سڑک بنائی۔ یہ سڑک بنگال سے شروع ہوتی ہے اور کابل میں ختم ہوتی ہے۔ اس نے مسافروں کو اپنا وقت بچانے میں مدد فراہم کی۔ اس سے برصغیر میں تجارت کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے قوم کے لئے اور بھی بہت کچھ کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں پوسٹ سسٹم بھی متعارف کرایا۔ اس کی حکمرانی کے چھوٹے دورانیے کو سنہری حد کہا جاتا ہے۔ 1545 میں ان کی اچانک موت کے بعد ، ان کے بڑے بیٹے کو بادشاہ مقرر کیا گیا۔ وہ اس اہم ذمہ داری کے اہل نہیں تھا۔ اپنی غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے ہمایوں کو واپس آنے کا راستہ ملا۔ اس نے سوری کی سلطنت پر حملہ کیا اور 1547 میں جنگ جیت لی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان نے ایک بار پھر ترقی کرنا چھوڑ دی۔
    مغلوں کے ذریعہ اختراعات:
    دراصل ، بہت سے مغل حکمران صرف روحانی اور اسلامی کلاس ہی پڑھائے جاتے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پوری دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ مغل دانشور تھے۔ انہوں نے ادب کے لئے کام کیا۔ ان میں سے کچھ اچھے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے شاعری پر اپنی کتابیں لکھیں۔ وہ اکثر شاعری کی جماعتیں کہتے تھے اور اچھے شاعروں کو بھی ان سے نوازا جاتا تھا۔ ظہورالدین بابر ، ہمایوں ، اورنگزیب عالمگیر اور بہادر شاہ ظفر مشہور مغل مصنفین ہیں۔ اورنگ زیب کے سوا سبھی حکمران موسیقی کے دلدادہ تھے۔ وہ ایسی موسیقی سنتے تھے جو روح کو چھوتی ہے۔ تان سنگھ اکبر کے زمانے کا مشہور موسیقار تھا۔ وہ مغل کے دور کے سب سے زیادہ ایوارڈ یافتہ موسیقار تھے۔ آج ہم سنتے ہیں کہ بہت سے راگ مغلوں نے متعارف کرائے تھے۔ راگ "سا رے گا” سب سے پہلے تن سنگھ نے گایا تھا۔ مزید یہ کہ مغلوں کے دور میں بڑی تعداد میں بے معنی عمارتیں سامنے آئیں۔ تاج مہل آگرہ ، لال قلعہ دہلی ، شاہی مسجد لاہور ، ہیران مینار اور بابری مسجد ان میں سے کچھ مشہور ہیں۔ مختصر یہ کہ اس بڑے دور میں کوئی سائنسی کام نہیں کیا گیا۔ ہندوستان روایتی زندگی گزار رہا تھا جبکہ پوری دنیا سائنسی لحاظ سے ترقی کر رہی تھی۔ مغلوں نے عیش و عشرت کی زندگی گزاری۔ ذرا تصور کریں کہ اتنی بڑی سرزمین کے بادشاہ کے پاس مہینوں شکار کرنے کے لئے وقت باقی رہتا ہے۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔
    جب ہندوستان نے ترقی کرنا شروع کی:
    مغلوں نے تین صدیوں تک برصغیر پر حکمرانی کی۔ 1857 وہ سال تھا جب ہندوستان نے اس قسم کے بادشاہوں سے نجات حاصل کی جب برطانوی فوج نے ہندوستان پر حملہ کیا اور انہوں نے مغل سلطنت کا خاتمہ کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ برطانوی فوج کو یہاں حملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ہم نے انہیں صرف یہاں تجارت کی اجازت دی ہے۔ لیکن ، میری رائے انگریزوں کے حق میں ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ان کی پالیسیاں مسلمانوں کے خلاف تھیں۔ انہوں نے ان پر تشدد کیا۔ ایک مسلمان کے لئے اچھی زندگی گزارنا مشکل تھا لیکن لوگوں کو مردہ نیند سے بیدار کرنے کی سخت ضرورت تھی۔
    دوسری طرف،برطانوی حکومت اپنے ساتھ بہت سی نئی چیزیں لے کر آئی۔ مثال کے طور پر ، انہوں نے ٹرین کے ذریعے سفر متعارف کرایا۔ انہوں نے موٹر کاریں ، فون کالز ، اسلحہ کی بہت ساری قسمیں اور بہت کچھ پیش کیا۔ انہوں نے فرٹلائجیشن میں نئی تکنیک بھی متعارف کروائی۔ انہوں نے یہاں فیکٹریاں لگائیں۔ وہ بہت ساری چیزیں لائے جو ہندوستان کے مقامی لوگوں کو نا معلوم تھے۔ آخر میں ، میں یہ کہوں کہ مغل سلطنت سائنسی دور کا تباہ کن دور تھا۔
    تحریر: محمد عثمان
    @Usm_says1

  • تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    تحریر: مجاہد حسین ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    ہمارے معاشرے میں ہمیں طرح طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہزاروں قسم کی فطرتیں دیکھنے میں آتی ہے۔ بہت سے لوگوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا یے۔ کبھی کبھی کوئی غیر ہمارے دلوں پر ایسا اثر اور نشان چھوڑ جاتا ہے جو کسی اپنے سے امید بھی نہیں کی جا سکتی۔
    کچھ ایسا ہی واقعہ آج ہمارے ساتھ پیش آیا۔
    آج سعودی عرب میں یوم العرفہ تھا۔ آج کو دن یہاں کے مقامی لوگوں کی اکثریت روزہ رکھتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ آپ نے اکثر سعودی پلٹ پاکستانیوں کے منہ سے کفیلوں کی برائیاں سن رکھی ہونگی۔ اور یقیناً ان میں سے اکثریت کے بارے میں ہماری رائے بھی ایسی ہی ہے۔ لیکن آج ہوئے واقعے نے ہمیں یہ سکھا دیا کہ "ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں”
    اللہ نے نفلی روزہ رکھنے کی توفیق دی، سارا دن گھر والوں سے باتوں میں، نماز اور ذکر اور سو کے گزر گیا۔ شام ہوئی تو دوست نے کہا کہ آج ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کے آتے ہیں۔ رہائش کے پاس ہی ایک ترک ریسٹورنٹ ہے۔ اکثر جانا ہوتا ہے وہاں پر۔ افطار کمرے میں کر کے جب ہم ریسٹورنٹ پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک باریش سعودی کھانا نوش فرما رہا تھا۔ میں نے رسماً انہں سلام کہا، انہوں نے میری طرف دیکھا مسکرا کر وعلیکم السلام کہا، میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں انہیں عید کی ایڈوانس مبارک بھی دے ڈالی، یہ سب دیکھ کر وہ مسکرائے اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
    اتنی دیر میں ہمارا آرڈر بھی آ گیا اور ہم نے بھی کھانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد ویٹر پیپسی لے کے ہمارے پاس آیا اور بولا، "یہ ان صاحب نے آپ کو دینے کے لئے کہا ہے” ہم نے قبول کی اور ان کا شکریہ ادا کر کے کھانا کھانے لگ گئے۔ انہوں نے اپنا کھانا ختم کیا اور کاؤنٹر پہ حساب کتاب کر کے پیسے دے دئیے۔ جاتے وقت مسکراتے ہوئے ہمیں "عید مبارک” بھی کہہ گئے۔
    ہم نے کھانے سے فارغ ہو کے، ہاتھ دھو کے جب بل دینا چاہا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا وہ نیک بندہ ہمارے پیسے بھی دے گیا ہے۔ ہم حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ ایسا کیوں کیا؟
    آخر ایسا کیا تھا جس نے اس شخص کو متاثر کیا؟
    ہوٹل میں اور بھی لوگ تو موجود تھے (کئی تو سعودی بھی تھے) تو ہمارا بل ہی کیوں؟
    کیا ریسٹورنٹ میں آتے ہی ہمارا اسے سلام کرنا، اس سے حال پوچھنا، عید کی مبارک دینا اسے پسند آیا؟
    اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن ایک بات تو ہے۔ اخلاق آپ کے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔ آپ کے قتل کے درپے لوگ آپ کے خادم بھی بن جایا کرتے ہیں یہ چیزیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے ملتی ہیں۔
    خیر، وجہ چاہے کچھ بھی ہو، جب آپ کسی سے اخلاق سے پیش آتے ہیں تو آپ کا ایک مثبت اثر اس کے دل میں اتر جاتا ہے۔ حضرت ابودردہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : "میزان میں حسن اخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہیں” ایک اور مقام پہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بیشک مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت روزے رکھنے اور قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے” اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حسن اخلاق سے نوازے۔ آمین
    @Being_Faani

  • 2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی آبی سطح میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ناسا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور خطرناک اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کے ذریعہ کی گئی تحقیق پر مبنی رپورٹ “نیچر” رسالہ میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں چاند پر ہونے والی ہلچل کی وجہ سے زمین پر آنے والے خطرناک سیلاب کو”نیوسنس فلڈ” کہا گیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

  • بلا سود قرضہ دیا جائے گا صدر مملکت

    بلا سود قرضہ دیا جائے گا صدر مملکت

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت مگس بانی اور شہد کی پیداور کے متعلق اجلاس ہوا، جدید آلات اور مگس بانوں کی جدید خطوط پر تربیت سے پاکستان میں شہد کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، ملکی آب و ہوا اور نباتات مگس بانی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، مگس بانی کے شعبے میں زرمبادلہ کمانے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے، نوجوانوں کو محدود سرمایہ کاری سے مگس بانی اور شہد کا کاروبار شروع کرسکتے ہیں، حکومت کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ، حکومت نوجوانوں کو کاروبار کیلئے 500،000 روپے تک بلاسود قرض فراہمی کررہی ہے.
    وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور ایرڈ یونیورسٹی کی اجلاس کو مگس بانی کے فروغ کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا شہد کی پیداوار میں اضافے کیلئے بیری کے 60 لاکھ درخت اور پھلاہی کے ۱ کروڑ درخت لگائے گا.

  • سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے ملازمت کرنے والے افسران کی شامت

    سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے ملازمت کرنے والے افسران کی شامت

    سندھ کا ڈومیسائل بناکر غیرقانونی طریقے سے سی ایس ایس کرکے گریڈ 17 میں ملازمت حاصل کرنے والے افسران کی شامت آگئی۔

    سندھ حکومت نے معاملے پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے رابطہ کرلیا۔

    دیگر صوبوں کے 8 امیدواروں نے جعلی طریقے سے سندھ کا ڈومیسائل بناکر سال 2020 میں سی ایس ایس پاس کیا ۔
    محکمہ داخلہ سندھ نے اس سلسلے میں خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ افسران کے تعلیمی اسناد و ڈومیسائل کے دستاویز سندھ حکومت کے حوالے کیے جائیں۔

    مشکوک افسران میں 5 ایڈمنسٹریٹو سروس آڈٹ اکائونٹس جے 2 اور او ایم جی گروپ کا ایک افسر شامل ہے۔افسران میں ارسلان چوہدری، کامران احمد، اسداللہ گوندل، ملک سردار اشرف اور اویس احمد نے سندھ اربن کے ڈومیسائل پر ایڈمنسٹریٹو سروس میں گریڈ 17 کی ملازمت حاصل کی ہے۔

    آڈٹ اکائونٹس میں راجہ عبدالسلام، رانا ضیا الرحمٰن اور او ایم جی گروپ میں سبین منہاس نے سندھ رورل کا ڈومیسائل بناکر ملازمت حاصل کی ہے۔
    آٹھوں افسر نے جعلی طریقے سے سندھ کے ڈومیسائل بناکر 17گریڈ حاصل کیا ہے.

  • کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے-

    باغی ٹی وی : کوہاٹ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے باہر نکل آئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ کی شدت 4.8 ریکارڈ کی گئی-

    زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز کوہاٹ کے نزدیک تھا، اور زیرزمین گہرائی 20 کلو میٹر تھی-

    واضح رہے کہ اس سے 4 دن قبل بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.7 اور زیرزمین گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی تھی زلزلہ پیمامرکز نے بتایا تھا کہ زلزلے کا مرکز  ژوب سے 82کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔

  • شجر کاری مہم میں مزید تیزی لائ جائے گورنر پنجاب

    شجر کاری مہم میں مزید تیزی لائ جائے گورنر پنجاب

    پریس ریلیز ملتان
    شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق
    چیئر مین پی ایچ اے اعجاز حسین جنجوعہ اور وائس چیئرمین پی ایچ اے ملک امجد عباس کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور صوبائی وزیر ہاﺅسنگ میاں محمودالرشید سے ملاقات مختلف امور پر تبادہ خیا ل کیا گیا.

    گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پی ایچ اے ملتان کی شجر کاری مہم کی تعریف کی ہے اور کاوشوں کو سراہا ہے، اُنھوں نے مزید کہا کہ پی ایچ اے ملتان شہر کو سر سبز وشاداب بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، چیئرمین پی ایچ اے سے گورنر پنجاب نے ملتان آنے کا وعدہ بھی کیا ہے، صوبائی وزیر ہاﺅسنگ میاں محمود الرشید نے بھی شجر کاری مہم اور پی ایچ اے ملتان کے محتلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شجر کاری کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرنے پر بھی زور دیا ہے، اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان کی کلین اینڈ گرین مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، پنجاب کے تمام پی ایچ ایز شجر کاری کے فروغ کے لئے بھر پور اقدمات کریں پارکوں میں شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں، تاکہ کلین اینڈ گرین وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے۔

  • ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

    ذرائع آبی وسائل اسلام آباد

    ملک میں پانی اوربجلی کا ایک اوربحران پیدا ہونے کا خدشہ ہونے کو ہے، دریاوں کے بہاؤ میں کمی، ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہونے لگا ہے، سکردو اور دیگر شمالی علاقہ جات میں درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے، ایک ہفتہ یہی صورتحال رہی توپانی کا شارٹ فال 32 فیصد تک ہوسکتا ہے، دریاوں میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزارسے کم ہو کر 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک تک رہ گیا ہے، منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج مزید کم کردیا گیا ہے، وفاقی حکومت کی بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیموں سے پانی کا اخراج بڑھانے کی ہدایت ‏کر دی گئی ہے، ارسا نے منگلا اور تربیلا سے پانی کا اخراج کی تجویز مسترد کردی ہے، بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کا بحران پیدا نہیں کرسکتے،
    موجودہ صورتحال برقرار رہی توتربیلا اور منگلا سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل ‏جائےگی، قادرپور گیس فیلڈ مرمت کے باعث بند رہے گی، قادرپور گیس فیلڈ کی بندش سے ایل این جی کی ترسیل بھی متاثر ہوگی، سسٹم سے تھرمل بجلی کی بڑی مقدار بھی نکل سکتی ہے،
    یہی صورتحال رہی توپانی کا شارٹ فال 32 فیصد تک ہوسکتا ہے، دریاوں میں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزار سے کم ہو کر 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک تک رہ گیا، منگلا ڈیم سے پانی کا اخراج مزید کم کردیا گیا ہے.

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔

  • وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

    وظائف شروع کرنے سے قبل سات شرطیں نہایت ہی اہم اور انتہائی ضروری ہیں کہ جن کے بغیر قرآنی اعمال میں تاثیرات کی امید رکھنا نادانی ہے اور وہ سب شرطیں حسب ذیل ہیں ۔

    حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا، سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا، نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ رب العزت ہی کے لئے کرنا، شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا ، ﷲ رب العزت کے دین کے ستونوں کی تعظیم کرنا، جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری کے ساتھ پڑھنا اور جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا اور پختہ عقیدہ رکھنا اگر تذبذب یا تردد رہا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔

    وظائف کے ضروری آداب

    اعمال و وظائف کے کچھ ضروری آداب بھی ہیں ہر عمل کرنے والے کو لازم ہے کہ ان آداب کا بھی لحاظ خیال رکھے ورنہ دعاؤں اور وظیفوں کی تاثیرات میں کمی ہو جانا لازمی ہے –

    ہر عمل کرنے یا تعویذات لکھنے کے وقت نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ خداوند قدوس کی بارگاہ میں عاجزی و نیاز مندی کا اظہار کرے ہر عمل اور وظیفہ شروع کرنے سے پہلے کچھ صدقہ و خیرات کرے ہرعمل ہر وظیفہ کے اول و آخر درود شریف کا ورد کرے ۔

    وظیفوں کے بعد جب اپنے مقصد کے لئے دعا مانگے تو ایک ہی مرتبہ دعا مانگ کر بس نہ کر دے بلکہ بار بار گڑگڑا کر خدا سے دعا مانگے اور جہاں تک ہو سکے ہر دعا اور وظیفہ وغیرہ عملیات کو تنہائی میں پڑھے جہاں نہ کسی کی آمد و رفت ہو نہ کسی کی کوئی آواز آئے۔

    کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر گز ہرگز نہ کوئی عمل کرے نہ کوئی وظیفہ پڑھے،جب کوئی عمل کرے یا وظیفہ پڑھے تو اس دوران میں بہت کم کھائے اورسادہ غذا کھائے بھر پیٹ نہ کھائے کیونکہ پیٹ بھرے لوگ دعاؤں کی تاثیر سے اکثر محروم رہتے ہیں ۔

    اعمال اور وظائف پڑھنے کے دوران بدن اور کپڑوں کی پاکی اور صفائی ستھرائی کا خاص طور پر خیال و لحاظ رکھے بلکہ خوشبو بھی استعمال کرے اور ظاہری پاکی و صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار اور باطنی صفائی کا بھی اہتمام رکھےہر عمل اچھی ساعت میں کرے-