Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    سمندری طوفان تاؤتے کراچی سے مزید قریب محکمہ موسمیات نے کراچی والوں کو خبردار کر دیا

    سمندری طوفان تاؤتے کل کے مقابلے میں کراچی سے مزید قریب ہو گیا-

    باغی ٹی وی :محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق سمندری طوفان ’ٹاک ٹائی‘ کا رخ مزید شمال مغرب کی جانب ہو رہا ہے تاؤتے کراچی کے جنوب مشرق میں 1 ہزار 210 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طوفان شدت ضرور پکڑ رہا ہے، تاہم وہ پاکستان کی ساحلی پٹی سے دور ہو کر گزرے گا۔

    محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر کے مطابق دور ہونے کے باعث کراچی میں بارش کے امکانات کم ہو گئے، البتہ طوفان کی وجہ سے جنوب مشرقی سندھ میں بارش ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں سمندری طوفان کے باعث گرد آلود تیز ہوائیں چل رہی ہیں کراچی میں 25 سے 30 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں، تاہم گرم ہواؤں کے باعث لو کی صورتِ حال رہے گی۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث کراچی کا موسم کبھی گرم اور کبھی شدید گرم رہے گا، جبکہ شہر گرد آلود ہواؤں کی لپیٹ میں رہے گا۔

    ان کے مطابق آئندہ 2 روز تک کراچی کا موسم گرم اور شدید گرم رہ سکتا ہے، جبکہ زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت 42 سے 43 سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔

    ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان کے مرکز میں 130 سے 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ سمندری طوفان تاؤتے بھارتی ریاست گجرات کی جانب بڑھ رہا ہے، اس طوفان سے بھارت کی 6 ریاستیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

    کراچی والوں کے لیے خطرہ ہی خطرہ : محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان سےمتعلق پانچواں الرٹ جاری کردیا

    سندھ میں ایمرجنسی نافذ:سمندری طوفان کے پیش نظر سینٹرل کنٹرول روم قائم، کراچی…

    وزیر اعلیٰ سندھ نے سمندری طوفان کے پیشِ نظر ایمرجنسی پلان ٹیم بنانے کے احکامات…

    بحیرہ عرب میں طوفان،وزیر اعلیٰ سندھ کی ایمرجنسی پلان بنانے کی ہدایت

    بحیرہ عرب میں ہوا کا کم دباﺅ طوفان ”تاوتے“ کی شکل اختیار کر گیا

  • ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    ’جنت کے پتھر‘ کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر

    خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں موجود مسلمانوں کی دو مقدس مساجد مسجد النبوی اور مسجد الحرام کے امور کی نگرانی کرنے والے ادارے رئاسة شؤون الحرمين کے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس سے ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جنھیں اب تک حجراسود کی انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی تصاویر میں شمار کیا جا رہا ہے۔


    رئاسة شؤون الحرمين کے مطابق ’فوکس سٹیک پینورما‘ نامی فوٹوگرافی تکنیک کے ذریعے بنائی گئی ان تصاویر کی سات گھنٹے تک عکس بندی کی گئی اور ان تصاویر کو اکٹھا کرنے میں تقریباً 50 گھنٹوں کا وقت لگا ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف تصاویر کو جوڑ کر ایک انتہائی مستند تصویر بنائی جاتی ہے جس کی کوالٹی بہترین ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تصویر کی باریکیوں پر بھی بخوبی نظر ڈالی جا سکتی ہے۔


    اس تکنیک کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ تصویر بنانے میں سات گھنٹے صرف ہوئے۔ اس دوران 1050 فاکس سٹاک پینوراما بنائے گئے اور بالآخر 50 گھنٹوں کی پراسیسنگ کے بعد جو تصویر سامنے آئی وہ 49 ہزار میگا پکسلز پر مشتمل تھی۔

    اس پتھر کی وضع انڈے جیسی ہے جس میں کالے اور سرخ رنگ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے اور یہ خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے پر دیوار کے ساتھ رکھا ہے۔


    ان تصاویر کے سوشل میڈیا پر شیئر ہوتے ہی اکثر صارفین اس پتھر کی خوبصورتی کے حوالے سے تبصرے کیے تو کسی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب میں حجر اسود کو سپر ریزولوشن میں دیکھ سکتا ہوں۔

    مسلمانوں کے لئے حجر اسود کی تاریخی اہمیت:

    مسلمانوں کے لیے حجر اسود کی تاریخی اہمیت ہے اور عمرے اور حج کی غرض سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے اس پتھر کا چومنا لازمی ہے لیکن بھیڑ کی وجہ سے ہاتھ کے اشارے سے بھی چوما جا سکتا ہے۔


    زائرین حج اسے چومنے کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرتے جب طواف میں بھیڑ کم ہو تاکہ ان کے حج کے ارکان پورے ہوں۔


    اس پتھر سے جڑی تاریخ دراصل مذہب اسلام سے بھی زیادہ قدیم ہے روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور انھیں تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک پتھر کی ضرورت تھی تو اس وقت یہ پتھر جنت سے اتارا گیا تھا –


    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت دینے جانے سے قبل خانہ کعبہ کی مرمت کے وقت حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے قبائل میں اختلاف ہو گیا تھا اور سب چاہتے تھے کہ یہ شرف انھیں حاصل ہو، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی فیصلہ کرے گا-


    اس دن سب سے پہلے وہاں تشریف لانے والی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اٹھا کر اپنی چادر پر رکھی اور تمام قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونوں کو پکڑ کر اسے اپنے ہاتھوں مبارک سے مطلوبہ جگہ پر رکھ دیا اور تمام قبائل اس فیصلے سے خوش ہو گئے –

  • اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    اہرام مصر سے بھی پرانی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات

    شمال مغربی سعودی عرب میں دریافت ہونی والی پتھر کی تعمیرات جنہیں ’مستطیل‘ کہا جاتا ہے تعمیرات پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مصر کے اہرام سے بھی پہلے کی ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پتھر کے زمانے کے آخری دور میں ہوئی یہ دیوقامت تعمیرات 7000 سال سے زیادہ پرانی ہیں۔


    عرب نیوز کے مطابق آثار قدیمہ کی اس دریافت سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مستطیلیں دنیاکی قدیم ترین یادگاروں میں شامل ہیں۔


    رائل کمیشن فار العلا (آر سی یو) نے اس دریافت کو ‘مستطیل’ کا نام دیا ہے اگرچہ ان مستطیلوں کے وجود کے بارے میں سب کو پہلے سے علم ہے تاہم نئی تحقیق کے دوران ان کی پہلے سے دگنی تعداد میں دریافت ہوئی ہے یہ تقریباً ایک ہزار کے قریب ہیں۔


    ہر مستطیل کے آخر میں ایک دیوار ہے جو دیگر طویل دیواروں سے جڑی ہوئی ہے اس سے ان دیوقامت مستطیلوں کے صحنوں کے سلسلے وجود میں آ جاتے ہیں جن کی لمبائی20 میٹر سے لے چھ سو میٹر تک ہے۔


    ہر مستطیل کے مرکزی داخلی راستے کے باہراس کی بنیاد میں گول یا نیم گول سیل بنائے گئے ہیں تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان مستطیلوں نے تقریباً دو لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ گھیر رکھا ہے یہ مستطیلیں ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ایک ہی زمانے سے ہے۔


    اس دریافت پر ہونے والی تحقیق یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے اس پراجیکٹ کا حصہ ہے جو وہ العلا اور خیبر کے صوبوں میں کر رہی ہے یہ منصوبہ آر سی یو کے آثار قدیم پروگرام میں شامل ہے۔


    پرتھ میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ میلیسا کینیڈی نے این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ’ہم انہیں یاد گاری لینڈ سکیپ خیال کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تقریباً دو لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ بڑے علاقے میں پائی گئی ہیں اور یہ شکل میں بالکل ایک جیسی ہیں۔ اس لیے شاید ان کے حوالے سے عقیدہ یا فہم بھی ایک جیسے ہیں۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔

  • پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سن 1843 سے سن 1849 تک سلطنتِ پنجاب کے حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ کے گھر 29 ستمبر سن 1869 کو لندن میں بیٹی پیدا ہوئی۔

    نومولود بیٹی کا نام بامبا صوفیہ جنداں دلیپ سنگھ رکھا گیا بامبا ان کی والدہ، صوفیہ نانی اور جند دادی کا نام تھا پنجاب کے سب سے معروف مہاراجہ رنجیت سنگھ شہزادی بمبا کے دادا تھے شہزادی بمبا نے لندن میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بامبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کر دئیے وہ ہمیشہ لاہور یا شملہ میں رہتی تھیں شہزادی بمبا کو لاہور اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے انگلستان کو چھوڑ کر تنہا ہی لاہور کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔

    انہوں نے ماڈل ٹاؤن کے اے بلاک میں مکان نمبر 104 خرید کر اس میں رہائش اختیار کر لی شہزادی بامبا نے اس گھر کا نام ’گلزار‘ رکھا اور اس میں اپنے ہاتھ سے کئی اقسام کے گلاب کے پودے لگا کر ان کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

    سن 1915 میں شہزادی بامبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیوڈ سدھر لینڈ کے ساتھ شادی کر لی اور ان کا نام شہزادی بامبا سدھرلینڈ ہو گیا۔

    شہزادی بامبا کی دادی کا انتقال سن 1863 میں ہو گیا تھا لیکن شہزادی بمبا نے سن 1924 میں ان کی باقیات لاہور منگوا کر اپنے دادا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں دفن کروائیں۔

    سن 1939 میں ڈاکٹر ڈیوڈ سدرلینڈ کے انتقال کے بعد شہزادی بامبا لاہور میں اکیلی رہ گئیں لیکن انہوں نے لاہور سے بے پناہ محبت کے باعث ماڈل ٹاؤن میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح اپنے مرحوم باپ دلیپ سنگھ کی روح کو کسی طور پر سکون پہنچا سکے گی۔

    اس دوران شہزادی بامبا کا شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا علامہ اقبال، شہزادی بامبا کی انتہائی عزت کرتے تھے۔ شہزادی بامبا کا 88 سال کی عمر میں اسی گھر میں انتقال ہوا وہ عمارت سن 1944 میں سات ہزار روپے میں خریدی گئی تھی آج بھی یہ عمارت ان کے خاص ملازم پیر بخش کی اولاد کے زیراستعمال ہے۔

    تقسیم کے ایک برس قبل 13جولائی 1946ء کو بامبا نے رنجیت سنگھ کی اولاد کا ایک حقیقی وارث ہونے کے ناطے اپنے ایک وکیل رگھبیر سنگھ ایڈووکیٹ فیڈرل کورٹ آف انڈیا کی وساطت سے اپنی پنجاب کی سلطنت کا مطالبہ کر تے ہوئے ایک خط یو این او کو بھجوایا لیکن اس خط کا کوئی بھی خاطر خواہ جواب نہ دیا گیا۔

    تقسیم کے وقت شہزادی بامبا انگلینڈ، ہندوستان اور دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے کا حق رکھتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے دادا کی سلطنت پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ہر چیز پر ترجیح دی وہ لاہور میں رہ کر دلیپ سنگھ کی جائیداد اور دیگر معاملات کو دیکھتی رہیں وہ لاہور میں اکثر اپنی گاڑی پر مال روڈ اور دوسرے علاقوں میں چلی جاتیں اور عہد رفتہ کی عمارات کو دیکھتی رہتی تھیں۔

    شہزادی بامبا نے ایک مرتبہ ایک سرکاری افسر سے گلہ کیا کہ میں اس بادشاہ کی پوتی ہوں جس کی ملکیت میں تمام پنجاب تھا اور مجھے بس میں الگ سے کوئی نشست بھی نہیں دی جاتی بامبا کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ تھے وہ اپنی وفات سے دو برس قبل ہی کانوں سے بہری ہو چکی تھیں، آنکھوں سے خاص دکھائی بھی نہیں دیتا تھا اور فالج کے حملے کے باعث وہ اپنے دستخط بھی نہ کر سکتی تھیں۔

    ان تمام حالات کی خبر شہزادی کے قریبی رشتہ داروں میں سے پریتم سنگھ کو مکمل طور پر تھی 10 مارچ سن 1957 کو بامبا انتقال کر گئیں اور پاکستان میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ان کی عیسائی رسومات کی ادائیگی کرنے کے بعد شیر پاؤ پُل کے قریب جیل روڈ کےگورا قبرستان میں دفنایا گیا۔

    ان کی وصیت کے مطابق ان کی قبر کے کتبے پر فارسی کے دو اشعار لکھے گئے جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

    حاکم اور محکوم میں تفریق باقی نہیں رہتی
    جس لمحے تقدیر کا لکھا آن ملتا ہے
    اگر کوئی قبر کو کھود کر دیکھے
    تو امیر اور غریب کو الگ الگ نہیں کر سکتا

    علاوہ ازیں شہزادی بامبا کی قبر کے کتبے پر درج ذیل تحریر رقم ہے۔

    Here lies in eternal peace The Princess Bamba Sutherland Eldest Daughter of Maharajah Daleep Singh and Grand Daughter of Maharajah ranjit Singh of Lahore.Born on 29th September 1869 in London-Died on 10th March 1957 at Lahore.

    شہزادی بامبا کو آرٹ سے گہرا لگاؤ تھا اور جب ان کا انتقال ہوا ان کے پاس بیش قیمت پینٹگز کا پورا خزانہ موجود تھا جوان کی وصیت کے مطابق ان کے خاص ملازم پیر کریم بخش سپرا کے سپرد کیا گیا اس خزانے میں واٹر کلر، ہاتھی کے دانتوں پر پینٹنگز، مجسمے اورآرٹ کے دیگر شاہکار نمونے شامل تھے۔

    جبکہ لندن میں بچی ہوئی دلیپ سنگھ کی وسیع و عریض جائیداد کا کوئی بھی وارث نہ بچا اور نہ ہی کسی نے اس کا مطالبہ کیا اور یوں وہ تمام جائیداد تاج برطانیہ کو منتقل ہو گئی۔

    لیکن لندن میں موجود سکھ خاندان کے نوادرات وصیت کے مطابق پیر کریم بخش نے حکومت پاکستان کے تعاون سے لاہور منگوانے کی درخواست دائر کی متعلقہ بنک نے انتہائی ایمانداری سے وہ خاندانی نوادرات ایک ہفتے میں لاہور بھجوا دیئے۔

    ان نوادرات کوشہزادی بامبا کی رہائش گاہ میں محفوظ کر کے ’اورئینٹل میوزیم‘ کھولا گیا 1962ء میں حکومتِ پاکستان نے شہزادی بامبا کے آرٹ کے اس خزانے کو قومی اثاثہ قرار دے کر خرید لیا اور اسے لاہور کے شاہی قلعے میں محفوظ کر لیا۔

    سن 2018 میں اس کولیکشن کو عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا اسے دیکھ کر پنجاب میں سکھوں کی حکمرانی کی شان و شوکت کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں 6.1 شدت کے زلزلے میں 1300 عمارتیں منہدم اور آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں-

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی ساحل میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا سب سے زیادہ نقصان سیاحتی مقام بالی میں ہوا جہاں ہزار سے زائد گھر اور دیگر عمارتیں گر گئیں۔ عمارتوں کے ملبے سے آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں شہری لاپتہ ہیں۔

    تاہم اب بھی درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جن کے بچنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔


    ریسکیو ادارے کے مطابق سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے ہوسکتا ہے۔ حکومت نے مذکورہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آرمی کو بھی ریسکیو کاموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جاوا کا مشرقی ساحل اور گہرائی دس کلومیٹر تھی۔ مقامی ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز ملنگ شہر سے 67 کلومیٹر دور تھا، اسی وجہ سے بالی میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔

  • ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

    کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

    وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔

    وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

    آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

    بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔

    اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

  • کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔

    پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

    منی پلانٹ کے فوائد:
    منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔

    منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
    منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔

    منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
    اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔

    منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
    نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔

  • پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔

    باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

    اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

    معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔

    ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

    آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

    کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

    ’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘