Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • آب و ہوا میں تبدیلی  اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

    آب و ہوا میں تبدیلی اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

    ایریزونا: پچھلی چند دہائیوں کے دوران حالیہ کئی مطالعات میں کیڑوں میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہےجن میں ویسٹرن بٹرفلائی بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : ویسٹرن بٹر فلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور گزشتہ 40 سال سے اب تک ہرسال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980 سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے۔

    ’ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں،‘ تحقیق میں شامل سائنسداں کیٹی پروڈِک نے کہا جو جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھتی ہیں۔

    ان کے خیال میں ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جاپہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہورہا ہے اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جارہی ہیں۔

    اس تحقیق میں عام شوقین افراد، ماہرین اور تتلیوں سے وابستہ سائنسدانوں نے مغربی امریکا سے جمع کردہ 40 سالہ ڈیٹا پیش کیا ہے اس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور تتلیوں کے قدرتی مسکن اور زمین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم اس میں مغربی یورپ کے گنجان آبادیوں میں تتلیوں کا احوال بھی شامل ہے لیکن آب و ہوا میں تبدیلی ہر جگہ منفی اثرات کی وجہ بن رہی ہے اور تتلیوں کی اقسام معمولی گرمی سے بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمِ بہار سمیت پورے سال موسمی حدت بڑھ رہی ہے یہ تتلی جیسے حساس جاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اورہائبرنیشن کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے ان کی خوراک اور پودے بھی کم ہوتے جارہے ہیں اسی وجہ سے تتلیوں کی کئی اقسام نقل مکانی پر بھی مجبور ہیں مثلاً سویلوٹیل بٹرفلائی اپنے اصل مسکن سے 325 کلومیٹر دور جاچکی ہے-

  • وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    وہیل کے سینگ میں چُھپے ماحولیاتی راز

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سینگ والی وہیل کی ایک قسم ناروہیل کا سینگ اپنے اندر بہت سے ماحولیاتی راز رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی :کسی درخت کے دائروں کی مانند، نار وہیل کے سینگ پر ہر سال ایک دائرہ نموپذیر ہوتا ہے اور اس کے جائزے سے نہ صرف اس کی غذا، عادات اور دیگر عوامل کا پتا ملتا ہے بلکہ اطراف کے ماحول کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔

    اس ضمن میں ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی نے دس جانوروں کے سینگ دیکھے ہیں جو شکاریوں کےہاتھوں پہلے ہی مارے جاچکے تھے۔

    وہیل کے سینگوں کی لمبائی 150 سے 240 سینٹی میٹر تھی اور تمام سینگوں کو لمبائی کے لحاظ سے درمیان سے چیرا گیا اور اس کے اندر خدوخال یا دائروں کا جائزہ لیا گیا اس میں ایک جانب پارہ موجود تھا تو دوسری جانب ہردائرے میں کاربن اور نائٹروجن کے اسٹیبل آئسوٹوپس موجود تھے ان سے معلوم ہوا کہ آیا وہیل کھلے سمندر میں تھیں یا برفانی ساحلوں کے قریب ہی کہیں رہ رہی تھیں۔

    سینگوں کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ 1990 سے 2000 تک وہیل کو برف کی کمی کا سامنا تھا اور اس تناظر میں اس نے غذائی عادات بھی تبدیل کی تھیں ان تفصیلات پر ماہرین نے کہا ہے کہ وہیل پر اس انوکھی تحقیق سے ان کی خوراک، بقا اور دیگر عادات کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسے ہم سینگ قرار دیتے ہیں وہ نر وہیل کا لمبا دانت ہوتا ہے جو سینگ کی صورت میں چہرے سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

  • چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    کرہ ارض پر خود زمین سے بھی پرانا ایک شہابیہ ملا ہے اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال بتائی گئی ہے یعنی یہ زمینی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نایاب ترین پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہےجو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔ 2020 میں جاپانی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے دریافت کیا تھا اور اگلے ہی دن اس پر غوروفکر شروع کردیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پتھرنظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہےاس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔

    اس شہابیے کو ایرگ چیک 002 کا نام دیا گیا ہے اور مختصراً اسے ای سی 002 پکارا جارہا ہے کے بارے میں فرانس فرانس کی یونیورسٹی آف ڈی بریٹاگین آسیڈینڈل کے ماہر جین ایلکس بیرے نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے شہابیوں پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔

    ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

    خیال ہے کہ یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانیٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیاتاہم ابھی اس پر تحقیق جاری ہے-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

  • جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائنسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا-

    البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ہے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البیرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی-

    ‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا-

    ‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔ یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے-

    ‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں-

  • سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے زمین کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ محققین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی سے باہر پتھریلی چٹانوں والے دیگر سیاروں پر موجود ماحول کو سمجھنے کے لیے بہترین جگہ ہو سکتی ہے س نئی دنیا کو ’گلیز 486b ‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے مگر اسے سپر ارتھ بھی کہا جا رہا کیونکہ یہ ہماری ہی دنیا کی طرح ٹھوس اور پتھریلی زمین پر مشتمل ہے لیکن یہ ہمارے کرہ ارض سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

    سپر ارتھ کے نام کے باوجود یہ کئی لحاظ سے ہماری زمین سے مختلف ہے۔یہ سیارہ ہماری زمین سے 30 فیصد بڑا اور تقریباً تین گنا زیادہ بھاری ہے یہ اتنا گرم ہے کہ اس کی سطح پر سیسہ پگھل سکتا ہے اور وہاں لاوا کے دریا اس کی سطح پر بہتے ہیں۔

    ایک ستارے کے گرد گھومنے والا یہ سیارہ صرف 26 نوری سال دوری پر ہے جو کائنات میں ہمارا سب سے قریبی پڑوسی ہے گلیز 486b مدار میں گردش کرتے ہوئے اور ایک سرخ چھوٹے ستارے سے قربت کی وجہ سے محققین کی نظر میں آیا۔

    اس کی ایک حیرت انگیز وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایک ’منتقل‘ ہونے والا سیارہ ہے اور جب یہ اپنے ستارے کے سامنے سے گزرتا ہے تو سائنس دان اس کا اچھے طرح سے نظارہ کر سکتے ہیں اور اس کے ماحول کی جانچ کرسکتے ہیں یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ اسے دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک تو اسے ستاروں کو عبور کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور دوسرا ڈوپلر ریڈیل ویلاسٹی کے ذریعے بھی اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں طریقوں کو ملا کر اس سیارے اور اس کے ماحول کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو

    اس کا ماحول خاص طور سائنس دانوں کو زیادہ پر پُرجوش بناتا ہے کیوں کہ یہ اتنا گرم ہے کہ اس کے ماحول کے پھیلتے ہوئے درجہ حرارت کی ماہر فلکیات پیمائش کر سکتے ہیں۔

    دوسرے سیاروں کے ماحول کو جاننے کا ایک کلیدی طریقہ ہے کہ آیا وہاں زندگی کے لیے کیا امکانات ہیں۔ اگر اس کا امکان کم ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس کا ستارہ غیر مستحکم ہے جو اسے کبھی بھی مٹا سکتا ہے۔

    شاید اسی وجہ سے یہاں زندگی کے امکانات کم ہیں زیادہ ترقی یافتہ ماحول یہ تجویز کرے گا کہ یہ زندگی کے لیے بہتر جگہ ہو سکتی ہے۔ گلیز 486b کی سطح کا درجہ حرارت 430 ڈگری سیلسیئس ہے اور اس طرح یہاں ہماری جیسی زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔

    لیکن سائنس دان امید کرتے ہیں کہ وہ اس ماحول کی مزید جانچ کر یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ آیا اسی طرح کے سیارے انسانوں کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں اور وہاں زندگی کا کتنا امکان ہو سکتا ہے۔

    اس مطالعے کے شریک مصنف بین مونٹیٹ نے ایک بیان میں کہا یہ وہ سیارہ ہے جسے دریافت کرنے کا ہم کئی دہائیوں سے خواب دیکھ رہے ہیں-

    ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ قریبی ستاروں کے آس پاس چٹانوں والے سیارے یا سپر ارتھز کا وجود ضرور ہے لیکن ہمارے پاس ابھی تک ان کی تلاش کے لیے ٹیکنالوجی نہیں۔‘

    ’یہ دریافت کرہ ارض کے ماحول کے بارے میں ہمارے خیالات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘ سائنس دانوں کو اب امید ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں جدید ترین دوربینوں کی مدد سے اس کا مزید باریک بینی سے مطالعہ کرسکیں گے۔

    ڈاکٹر مونٹیٹ کا کہنا ہے’گلیز 486b سیارے کی ایک قسم ہے جس کے بارے میں ہم اگلے 20 سالوں میں مزید مطالعہ کریں گے۔ یہ بات نوٹ کرتے ہوئے کہ اگرچہ کائنات میں سپر ارتھز شاذ و نادر نہیں ہیں لیکن کائنات میں ہمارے اپنے پڑوس میں ان کا ملنا غیر معمولی ہے۔

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

  • زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    ایک ہزار ایک سو پندرہ فٹ بڑا 99942 نامی سیارچہ زمین کے قریب سےگزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین کے مطابق سیارچہ سطح زمین سے 10.4 ملین میل کے فاصلے سے گزرا جو کہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کے 44 بار بنتا ہے –

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 99942 اپوفس نامی سیارچہ پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا یعنی 1115 فٹ کا ہے اور اس کی چوڑائی فٹبال کے 4 گراؤنڈز کے برابر ہے اگر یہ سیارچہ زمین سے ٹکرا جاتا تو 88 کروڑ ٹن بارودی مواد کے بیک وقت دھماکے کے برابر تباہی ہوتی۔

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سائز کا اگلا سیارچہ اپریل 2029 میں زمین سے 19000 میل کے فاصلے سے گزرے گا۔

  • سیاحت میں فروغ پر اہم پیشرفت ، وزیر اعظم نے سیاحتی مقام پہ پارکس کا افتتاح کر دیا

    سیاحت میں فروغ پر اہم پیشرفت ، وزیر اعظم نے سیاحتی مقام پہ پارکس کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے ٹلہ جوگیاں نیشنل پارک اور سالٹ رینج نیشنل پارک کا افتتاح کیا انہوں نے پدری وائلڈ لائف گیم رزارٹ سوہاوا میں زیتون کا پودا لگایا۔

    وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انکے ویژن اور قومی ٹوارزم اسٹریٹجی2030 کے تحت ملک بھر میں تاریخی اور قومی ورثہ کے حوالے سے اہم مقامات کی نشاندہی کی جارہی ہے جس سے ماحولیات اور جنگلی حیات کاتحفظ ہماری تاریخ اور قومی ورثہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بریفنگ میں بتایا کہ ٹلہ جوگیاں نیشنل پارک اور سالٹ رینج نیشنل پارکس چھ پروٹیکٹڈ ایریاز میں شامل ہیں۔ چھ پروٹیکٹڈ ایریاز میں ان نیشنل پارکس کے علاوہ خیری مورت نیشنل پارک، چھنجی نیشنل پارک، نمل ویٹ لینڈ اور چشمہ ویٹ لینڈ نیچر ریزروز  شامل ہیں۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سالٹ رینج ایکالوجی اور ہریٹیج پروینشن پلان سات مرحلوں پر مشتمل ہے ان میں سے آج پہلے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے، حکام کی طرف سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ سالٹ رینج ایسا تاریخی قدرتی ثقافتی ورثہ ہے جو ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔بتایا گیا کہ 300 کلو میٹر طویل علاقہ اکالوجیکل،بیالوجیکل کلچرل ہیریٹیج کوریڈور اور مختلف مذاہب کے تاریخی مقامات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ علاقہ قدیم تاریخی ورثہ اور قیمتی جنگلات کا حامل ہے جس میں بڑی تعداد جنگلی زیتون کی ہے۔یہ  خطے میں پری ہندو ازم سے لیکر بدھ مت یونان گھکھڑ اور مغلیہ دور لاتعداد آثار سے مالا مال ہے۔بابا گورونانک سکندر اعظم اور دیگر اہم شخصیات کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اس علاقے کو عالمی ثقافتی اور قدرتی تاریخی ورثے میں شامل کرنے کیلئے یونیسکو کو بھی کہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے وائلڈ لائف پدری گیم کی ریزرو کی طرف سے جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے اقدامات کو سراہا اور ہدایت کی اس مجوزہ منصوبے کو جلدحتمی شکل دی جائے

  • زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلموں نے زمین کی ایک ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کو 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمو دیا-

    باغی ٹی وی : ہماری زمین پر ارضیاتی عدسے سے نظر دوڑائیں تو یہ ابلے ہوئے انڈے کی مانند جگہ جگہ سے چٹخی نظر آتی ہے۔ کیونکہ یہاں فالٹ لائنیں ہیں جو خشکی کے بڑے بڑے ٹکروں پر مشتمل ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے۔ اب ٹیکٹونک پلیٹوں کے مکمل ارتقا کو صرف ایک 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمویا گیا ہے –

    ٹیکٹونک ارضیاتی پلیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں ناخن بڑھنے کے رفتار کے تحت اوسط حرکت ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے تمام ٹیکٹونک معلومات کو ایک ہی ویڈیو میں سمودیا ہے جس میں ہرطرح کے حقائق درست ہیں۔ یوں زمین کا ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم مائیکل ٹیٹلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے اگرچہ یہ پلیٹیں سال میں چند سینٹی میٹر سرکتی ہیں لیکن جب اربوں سال تک انہیں نوٹ کیا جائے تو ان میں غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں آج کا انٹارکٹیکا سخت برفیلا ہے اور جب وہ خطِ استوا پر ہوتا تھا تو اس وقت ایک بہت خوبصورت اور تفریحی مقام تھا۔

    اسے سمجھتے ہوئے ہم زمینی موسم، آب و ہوا، ارضیات اور خود ہمارے مستقبل کے بارے مین بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو اب تک دستیاب جدید ارضیاتی ماڈؑل کی بنا پر تیار کی گئی ہے۔

  • جالے بنانے والی مکڑیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جالے بنانے والی مکڑیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    بالغ نر مکڑی جالا نہیں بناتا،

    Reference:- Speeli, Do only female spiders
    build webs, 2019
    "آثار قدیمہ کے ادبی علوم میں یہ متفقہ طور پر قبول کیا گیا ہے کہ مادہ مکڑی عام طرح کے جالے بناتی ہے، جبکہ نر مکڑی جالا نہیں بناتا سوائے صحبت اور نطفہ شامل کرنے کیلئے”

    نر مکڑی جالا نہیں بناتا، اسکی بجائے وہ ریشم کو ملاپ کیلئے محفوظ رکھ لیتے ہیں، یہ مادہ مکڑیاں ہوتی ہیں جو جالے بناتی ہیں۔
    یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکی نشاندہی کردی گئی تھی۔

    Quran 29:41
    مَثَلُ الَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَـبُوْتِۚ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَـبُوْتِ ۘ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (العنکبوت 41#)

    "ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی مثال ہے، جس نے گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا ہے، کاش وہ جانتے۔”

    عربی میں "اِتَّخَذَ” کا لفظ نر جنس کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ مادہ جنس کیلئے "اِتَّخَذَتْ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مادہ مکڑیاں ہیں جو جالے بناتی ہیں۔

    1400 سال پہ رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ صرف مادہ مکڑیاں ہی جال بناتی ہیں۔۔۔؟؟؟؟؟

    مکڑیاں شکار کو پکڑنے کیلئے جالے بناتی ہیں۔ مگر ہر دفع جب وہ شکار کو پکڑتی ہیں تو جالے کو نقصان پہنچتا ہے یا جالا مکمل ٹوٹ جاتا ہے۔

    Reference:- Discover Wildlife, 14 incredible spider facts, 2019
    "بارش اور ہوا انکے جالے کی ساخت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جبکہ سرپل دھاگے(پیچ دار) پہ چپکنے والی کوٹنگ جو نزدیک اڑنے والےحشرات کے جالے میں آنے کی وجہ بنتی ہے، مٹی اور دھول کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اکثر جالے ہر رات بنائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں مکڑی کو 20 میٹر ریشم کی ضرورت پڑتی ہے۔”

    یہ ایسی مخلوق ہے جسکا گھر ہر دفعہ تباہ ہوجاتا ہے جب یہ اپنے شکار کو پکڑتی ہے۔ اور یہ جالا تو صرف ہوا کی وجہ سے بھی نقصان اٹھا سکتا ہے۔ "مگر مکڑیوں کا گھر ہی ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے”

    1400 سال پہ رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ کس مخلوق کا گھر سب سے زیادہ کمزور ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال سے برف میں محفوظ گینڈے کی لاش دریافت-

    باغی ٹی وی : سائبرین ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برفانی عہد کا یہ گینڈا اگست 2020 میں یوکیتیا کے خطے میں اس وقت دریافت ہوا جب وہاں کی برف پگھل گئی۔

    خیال کیا جارہا ہے کہ یہ گینڈے کا بچہ ہے جس کی عمر 3 سے 4 سال ہوسکتی ہے اور اس کی موت 20 سے 50 ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔

    جب سے اس کا جسم برف میں منجمد ہوکر محفوظ تھا اور اب بھی اس کے بال، نرم ٹشوز، آنتیں، دانت، چربی کے ٹکڑے اور سینگ جسم کا حصہ ہیں یہاں تک کہ اس کا آخری کھانا ابھی بھی برقرار ہے-

    یوکیتیا کے اکیڈمی آف سائنسز کی ڈاکٹر ویلری پیٹونیکوف نے بتایا یہ نوعمر گینڈا 3 سے 4 سال کا تھا اور ممکنہ طور پر ڈوب کر ہلاک ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے معلوم ہوگا کہ اس کی موت کب ہوئی مگر امکان ہے یہ 20 سے 50 ہزار سال سے پرانی لاش ہے۔

    اس سے قبل اسی خطے سے 2014 میں ایک ایسے ہی گینڈے کے بچے کے منجمد جسم کو دریافت کیا گیا تھا جو کہ 34 ہزار سال پرانا تھا۔

    ڈاکٹر ویلری نے وضاحت کی کہ اس نو دریافت شدہ گینڈے کا جسم گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا ہے، جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ اس زمانے کے گینڈوں نے کم عمری میں ہی سرد موسم سے مطابقت حاصل کرلی تھی۔

    یہ خطہ قدم عہد کے جانوروں کی دریافت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور اس نئی دریافت کو خطے کے صدر مقام یاتوسک میں بھیجنے کے لیے برف سے بنی سڑکوں کے بننے کا انتظار کیا جارہا ہے۔