Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • ہائیپوکسیا کی بیماری کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہائیپوکسیا کی بیماری کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہائیپوکسیا کی بیماری آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔
    جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
    Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
    جو
    Euler-Liljestrand mechanism
    کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
    alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
    کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,

    یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
    یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.

    Quran: 6/125

     (الانعام 125)
    "سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے، اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”

    یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
    ‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.

    اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاو کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.

    آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
    آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,

    آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.

    Cyanosis (سائنوسِس)
    جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
    جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
    سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.

    آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.

    Quran: 20/102

     (طہٰ 102)
    "اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”

    مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.

    Hypoxia
    کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.

    Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
    بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاو کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
    دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
    دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
    ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
    ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
    سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.

    موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
    یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.

    Quran: 75/29

    (القیامہ 29)
    "اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”

    ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.

    قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.

    Quran: 22/2

    (الحج 2)
    "جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”

    مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
    Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
    ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
    دماغ کا ایک حصہ جسے
    Brain’s occipital cortex
    کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ

    Quran: 20/124

     (124)
    اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟

    قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.

    Quran: 14/16-17

    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔(ابراہیم 16)
    جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔ (ابراہیم 17)

    "گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.

    گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
    Quran: 88/6

    "ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”

    وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟

    یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • روشنی کی رفتار کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    روشنی کی رفتار کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    فرشتوں کا روشنی کی رفتار کے مطابق سفر کرنا 👇

    مومنوں (مسلمانوں) کا خیال ہے کہ فرشتے کم کثافت(low density) مخلوق ہیں،
    اور خدا نے انہیں روشنی(نور) سے پیدا کیا ہے۔
    وہ صفر(0) کی رفتار سے لے کر روشنی کی رفتار تک کا سفر کرتے ہیں۔
    یہ فرشتے ہیں جو خدا کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔
    فرشتے خدا کے عرش کی بجائے خلاء میں کسی محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) سے احکامات لیتے ہیں۔
    وہ اس محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ ہر وقت منسلک ہوتے ہیں تاکہ خدا سے اپنے لیے احکامات یہاں سے لیے جائیں۔
    مندرجہ ذیل آیات میں قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ منسلک فرشتے کیسے سفر کرتے ہیں۔
    اور وہ رفتار جسکے ذریعے وہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) سے رابطہ کرتے ہیں، کیسے روشنی کی رفتار کہلاتی ہے۔
    👇🏻

    (السجدہ 5#)
    "وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر یہ حکم/معاملہ(فرشتے کے ذریعے) اسے(مطلوبہ جگہ) صرف ایک دن میں پہنچا دیا جاتا ہے اور وہ ایک دن تمہارے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔”
    ۔
    مطلب فرشتہ جو ایک دن میں سفر کرتا ہے ہم وہی سفر ایک ہزار سال میں پورا کر سکتے ہیں۔ یہ فرشتے ہیں جو یہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔
    پچھلے لوگوں نے فاصلے کو صرف چلنے کی مقدار میں ماپا نہ کہ کلومیٹر کے سکیل یا میل کے سکیل میں، مثال کے طور پر
    اگر ایک گاوں دو دن کے فاصلے پر ہے تو اسکا مطلب یہ تھا کہ اس گاؤں تک پہنچنے کیلئے دو دن چلنا پڑے گا، یا 10 دن کے فاصلے پر ہے تو دس دن چلنا پڑے گا۔
    اسی طرح قرآن نے فرشتوں کے ایک دن کے سفر کرنے کی رفتار 1000 سال بتائی ہے، یعنی فرشتہ ایک دن میں 1000 سال کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
    پھر پچھلے لوگوں نے لونر کیلنڈر(چاند کا کیلنڈر) کو اپنا لیا جسکے ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔
    یہ مہینے چاند سے متعلق ہیں نہ کہ سورج کے متعلق۔
    چونکہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک ہزار سال میں 12000 مہینے ہوں گے۔
    یہ آیت اس فاصلے کا حوالہ دے رہی ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ چاند 12000 مہینوں تک جتنا سفر طے کرتا ہے، اتنا ہی سفر فرشتہ ایک دن میں طے کرلیتا ہے
    اور یہ دریافت کیا جا چکا ہے کہ "چاند کا 12000 مہینوں کا سفر”، روشنی کی رفتار کے برابر ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • کولیسٹرول کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کولیسٹرول کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کولیسٹرول
    دل کی شریانوں میں رکاوٹ

    1400 سال پہلے لوگ لوہے کا استعمال کرتے تھے جو ہمیشہ زنگ آلود ہوجایا کرتا تھا۔ زنگ لوہے کا آکسیجن اور پانی ملا مرکب کا عمل ہے(آکسیڈیشن) مگر اسوقت کوئی شخص بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ زنگ آلود عمل دل پہ بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ کولیسٹرول دو طرح کے ہیں،
    ایک قسم صحت کیلئے اچھی ہے اور دوسری بری ہے۔

    مگر برا کولیسٹرول درحقیقت آکسیڈائیزڈ ہے۔ اور اسے دوسرا نام آکسیڈائزڈ کولیسٹرول دیا گیا ہے۔

    Reference: Health, The Danger of Oxidized Cholesterol and Tips for prevention, 2020
    “آکسیڈائیزڈ کولیسٹرول کیا ہے؟
    وہ کولیسٹرول جو دل کی شریانوں میں خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے یعنی جمع ہوجاتا ہے، آکسیڈائزڈ کہلاتا ہے۔ آکسیڈیشن کا عمل کولیسٹرول کے خولیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عام طور پر آکسیڈیشن ایک نارمل جسم کا ایک عمل ہے مگر جب یہ کسی وجہ سے آکسیڈائزڈ(برے) کولیسٹرول کی زیادتی کا سبب بنتا ہے تو یہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ آپکا قوت مدافعت کا نظام بیکٹیریا کیلئے آکسیڈائزڈ کولیسٹرول بنانے کی غلطی کر سکتا ہے۔ پھر یہ قوت مدافعت کا نظام اس برے کولیسٹرول کو کم کرنے کیلئے لڑتا ہے، جو شریان کی دیوار میں سوجن کا باعث بنتا ہے اور یہ عمل دل کی بیماری ہارٹ اٹیک اور ایتھروسیکلیروسز(شریانوں کے تنگ ہونے والی بیماری کا نام) کا باعث بنتا ہے۔”

    آکسیڈائیزڈ کولیسٹرول شریانوں میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور دل کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں بیان کردیا گیا تھا،

    Quran 83:14

    “ہرگز نہیں، بلکہ ان کے (برے) کاموں کی وجہ
    سے ان کے دل زنگ آلود(آکسیڈائیزڈ) ہوچکے ہیں۔”(14)

    “Ran ران” کا مطلب ہے زنگ۔ آج ہم جانتے ہیں کہ زنگ آکسیجن اور پانی کا مرکب(آکسیڈائیزڈ) ہے اسی طرح جیسے برا کولیسٹرول آکسیڈائزڈ کولیسٹرول کہلاتا ہے۔

    Quran 47:24

    پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں۔(24)

    “دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں” کا مطلب ہے کسی چیز سے انکے دلوں میں رکاوٹ ہو رہی ہے،
    اس زمانے میں لوگ لوہے کے بنے تالے استعمال کرتے تھے جو زنگ آلود ہوجایا کرتے تھے(آکسیڈائزڈ لوہا)۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ آکسیڈائزڈ کولیسٹرول شریانوں میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ کیا چیز دلوں میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے؟
    جیسے لوہا آکسیڈائزڈ ہوجاتا اسی طرح دل بھی آکسیڈائزڈ(دل کی بیماری کا نام) ہوجاتا ہے۔

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زمین کے گھومنے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گھومنے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین

    زمین کروی(سفیریکل) شکل میں گردش کر رہی ہے
    قرآن کہتا ہے کہ جب دن اور رات ایک دوسرے کے اوپر آکر ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں تو یہ ایک گیند(سفیئر) بناتے ہیں،

    Quran 39:5

    "اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے، اور اُس نے سورج اور چاند کو تابع کر دیا ہے، ہر ایک وقت مقرر تک چل رہے ہیں، خبردار! وہی غالب بخشنے والا
    ہے۔”

    عربی لفظ “Kura كرة” کا مطلب ہے گیند،
    اور قرآن نے اسکا فعل “Yukawer يُكَوِّرُ” استعمال کیا ہے جسکا مطلب ہے گیند بنانا ہے۔
    قرآن کہتا ہے کہ جن رات اور دن ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں تو ایک گیند(سفئیر) بناتے ہیں۔
    پھر قرآن کہتا ہے کہ
    “سب چل رہے ہیں(Kullon Yajree كل يجري)”
    یہاں قرآن اس بات کی طرف کہ “سب چل رہے ہیں” اشارہ کر رہا ہے کہ صرف چاند اور سورج ہی نہیں چل رہے بلکہ زمین بھی چل رہی ہے۔
    عربی زبان میں سنگولر(ایک)، بائنری(دو)، اور پلورل(تین یا اس سے زیادہ) ان تینوں میں فرق ہے۔ اگر یہاں پہ بائنری(یعنی صرف دو چیزیں چاند اور سورج کے گھومنے) کی بات ہو رہی ہوتی تو یہاں “Kulahuma Yajreean كلاهما يجريان” کے الفاظ استعمال ہوتے جبکہ یہاں قرآن نے کہا “Kullon yajree كل يجري” یعنی پلورل(تین یا تین سے زیادہ) کی بات کر رہا ہے۔
    جیسا کہ چاند اور سورج دو چیزیں ہیں لیکن قرآن تین یا تین سے زیادہ کی بات کر رہا ہے اور وہ تین چاند، سوج اور زمین ہیں۔
    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین، سورج اور چاند یہ سب حرکت میں ہیں؟؟
    قرآن کہتا ہے کہ زمین کا ڈائیا میٹر(قطر) ہے
    (ڈائیا میٹر(قطر) ریڈیئس سے دوگنا ہوتا ہے)

    Quran 55:33

    اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے اقطاروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، تم بغیر زور کے نہ نکل سکو گے (اور وہ تم میں ہے نہیں)۔

    ڈائیامیٹر کو عربی میں قطر کہتے ہیں، اور اسکا پلورل(تین یا تین سے زیادہ) اقطار ہے، ریڈیئس(radius) اور ڈائیامیٹر(Diameter) سرکلز(circles) یا سفئیرز(spheres) کی پراپرٹیز ہیں، یہ پچھلی آیت سے واضح ہوگیا کہ یہ رات اور دن کیسے زمین کو گیند(سفئیر) بناتے ہیں ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہوئے۔[Yukawer يُكَوِّرُ]

    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا ڈائیامیٹر(قطر) موجود ہے؟؟؟؟؟

    "Sateh سطح” کو عربی میں سرفیس(سطح) کہتے ہیں جیسا کہ اس سطح کی کوئی بھی شیپ(شکل) ہو سکتی ہے۔ چاند کی سطح کا مطلب “Sateh Al-Kamar سطح القمر ” ہوتا ہے اور یہ سفئیر(کرہ) کی شیپ(شکل) میں ہے۔ یہ کاٹھی کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔

    Reference:- Wikipedia,سطح سرجی، 2019

    السطح السرجي (بالإنجليزية: Saddle surface) هو سطح أملس يحتوي على نقطة مقعرة أو أكثر.أتت التسمية من شبهه بسرج الفرس والذي ينحني صعودا وهبوطا.

    “کاٹھی کی سطح ایک ہموار سطح ہے جس میں ایک یا ایک سے زیادہ مقاطعہ(کنکیو) پوائنٹس ہوتے ہیں، اسکی مثال گھوڑے کی کاٹھی سے ملتی ہے جو اوپر اور نیچے جھکتی ہے۔”

    یہ کاٹھی کی شیپ “Sateh سطح” کی ایک قسم ہے۔ یہ کوئی بھی شکل ہوسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے “Sateh سطح” کا مطلب کسی بھی صورت میں فلیٹ(ہموار) نہیں ہے۔ کیونکہ عربی میں ہموار سطح کو “musattah مسطح” کہتے ہیں جو کہ یہ پورے قرآن میں لفظ نہیں ہے۔

    Quran 50:7

    اور ہم نے زمین کو بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ ڈال دیے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔

    قرآن کہتا ہے کہ خدا نے زمین پھیلا دی، یعنی سطح کے رقبے میں اضافہ کیا۔ ہمارا نظام شمسی 4.57 بلین سال پرانا ہے۔ ہماری زمین سورج اور باقی ہمسائے سیاروں کے ساتھ فوری طور پر درست ہونا شروع ہوگئی جو کہ 4.57 بلین سال پہلے ایسا ہوا ہے۔ جیسا کہ درستگی کے عمل کے دوران زمین کا ریڈیئس بے ساختہ 6400 کلومیٹرز نہیں تھا بلکہ کچھ کلومیٹرز زیادہ سے آغاز ہوا اور آہستہ آہستہ ریڈئیس بڑھتا گیا۔
    مگر سطح کے رقبے کا فنکشن ریڈیئس ہے( surface area = 4πR2), یعنی جیسے جیسے ریڈیئس بڑھتا ہے تو ساتھ سطح کا رقبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تو قرآن نے سطح کے حصے میں اضافے کو صحیح طریقے سے بیان کیا ہے۔(اور یہ بائبل کے برخلاف ہے جہاں زمین کی تخلیق بےساختہ تھی)

    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین سفئیر شکل میں گھومتی ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سكندر!!!

  • باد صباء کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    باد صباء کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    (سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یعنی
    ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,

    سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.

    Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
    "ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”

    سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے

    اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
    یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.

    یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
    یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
    Quran 81:18

    اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)
    (التکویر 18#)

    لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)

    اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جنس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جنس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔
    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر نر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46

    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔(النجم 45)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔(النجم 46)

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ٹرمینل ویلاسٹی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ٹرمینل ویلاسٹی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    فری فال کی تیز ترین رفتار

    فری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔

    "ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
    مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.

    سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
    دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار درج ذیل ہے۔

    پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
    Quran 22:31

    (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔

    لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • "مائیکروبرسٹ جو انسانوں کیلئے خطرناک ہے” کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    "مائیکروبرسٹ جو انسانوں کیلئے خطرناک ہے” کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    مائیکروبرسٹ جو ہوائی جہازوں کیلئے خطرناک ہے اور انسانوں کیلئے بھی۔

    آسمانی کتاب بائبل "four winds” کے بارے میں بیان کرتی ہے، جس کا مطلب ہے زمین کے چاروں کونوں سے ہوا کا چلنا ہے، یعنی ایک ہوا جب ساوتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ زمین کے چاروں کونوں سے چلتی ہے تو اسے فار ونڈز کہتے ہیں، اگرچہ یہ غلط ثابت ہوا لیکن بائبل دراصل زمینی سطح کی ہوا کے متعلق بات کر رہی ہے۔
    زمینی سطح کی ہوائیں زمین کی طرف پیرالل یعنی متوازن(برابر) حرکت کرتی ہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس ہوا کے متوازن ٹکراو کو نہیں جانتا تھا جو زمین کو آ کر ٹکراتی ہیں۔ تاہم آج اس موسم کے مظاہر(ہوا، بادل، بارش، فوگ، مٹی کا طوفان وغیرہ) نے ہوابازی کی صنعت(جہاز بنانے والی انڈسٹریوں) کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔


    "مائیکروبرسٹ کا مطلب چھوٹے پیمانے پر ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا ہے جو مٹی کے طوفان یا مسلسل تیز بارش کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ مائیکرو برسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں
    1:- ویٹ(گیلا) مائکروبرسٹ (بارش میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا)
    2:- ڈرائی(خشک) مائیکروبرسٹ(مٹی کے طوفان میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا)
    یہ اپنے چکر میں تین حالتوں سے گزرتے ہیں، ڈاون برسٹ (ہوا کا نیچے کی طرف شدید جھکاو)، آوٹ برسٹ (پھاڑ دینے والا طوفان)، جھٹکے دار طوفان یعنی جس میں ہوا کے اچانک تیز جھونکے رونما ہوتے ہوں۔
    یہ مائیکروبرسٹ (ہوائی طوفان) خاص طور پر ہوائی جہاز کیلئے بہت خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاز کی لینڈنگ کے وقت جب ہوا کا جھونکا سامنے سے جہاز کو ٹکراتا ہے تو یہ اسکے لیے بہت مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
    پچھلی کچھ دہائیوں سے ہوائی جہازوں کے کئی تاریخی حادثات موسم کے مظاہر کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں، جہاز کے عملے کی بڑے پیمانے پہ تربیت اسی بات پہ ہوتی ہے کہ موسم کے ان مظاہر یعنی مائیکروبرسٹ اور مشکلات میں ہوائی جہاز کو کیسے بہتر طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

    مائیکروبرسٹ عام طور پر بہت ہی تیز اور شدید ہواؤں پہ مشتمل ہوتا ہے جو بڑے بڑے اونچے درختوں کو زمین پہ گرا دیتا ہے۔

    یہ عمل عام طور پر کچھ سیکنڈز سے کچھ منٹس تک جاری رہتا ہے۔”

    Reference:- Wikipedia, Microburst, 2018

    یہ شدید ڈاون کرافٹ(ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا اور زمین کو ٹکرا کر پھیل جانا) زمین کو ٹکراتا ہے اور درختوں کو گرا دیتا ہے، یہ متعدد انسانی اموات کے ساتھ ہوا بازی(ہوائی جہازوں) کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی یہ درج تھا،
    Quran 22:31

     (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے” یہاں پہ ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنے اور زمین سے ٹکرانے کی بات ہو رہی ہے یعنی ڈاون ڈرافٹ۔

    قرآن کے مطابق یہ ڈاون ڈرافٹ ہوا میں انسانوں کیلئے خطرہ ہے(ہوائی جہازوں کے کریش ہونے کی صورت میں)۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے ہوا میں خطرے کا باعث ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے یہ کیسے جان سکتا ہے کہ ایک ڈاون ڈرافٹ(ہوا کا دباو) بھی ہوتا ہے جو زمین سے ٹکراتا ہے اور تو اور ہوا میں بھی انسانوں کے خطرے کا باعث بنتا ہے جبکہ 1400 سال پہلے جہاز موجود ہی نہیں تھے؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ریپٹرز پرندوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ریپٹرز پرندوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے)

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔

    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔

    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پومپائی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پومپائی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اٹلی میں ایک پرانے شہر کی باقیات کو دریافت کیا جو سن عیسوی 79 کے ایک آتش فشاں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا تھا. اس گرم آتش فشاں اور ملبے نے جلد ہی لوگوں کے جسموں کو سخت ترین کر دیا تھا, وہ منجمد ہوگئے تھے اور ان کے آخری عمل(ڈی کمپوزیشن) کو ختم کردیا.

    مگر 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ درج تھا کہ اللہ جہنم میں کافروں کی حرکت بند کردے گا، وہ حرکت نہیں کر سکیں گے، گلے سڑیں گے نہیں، منجمد ہوجائیں گے

    Quran 36:67

    (یس)
    اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں ان جگہوں پر مسخ/منجمد کر دیں پس نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ ہی واپس لوٹ سکیں۔

    خدا کافروں کو جہنم میں منجمد کر سکتا ہے، انکی حرکت کو ختم کر سکتا ہے. آج ہم جانتے ہیں کہ پومپئی کے لوگ آتش فشاں کی وجہ سے اپنے آخری عمل میں منجمد ہوگئے تھے(جیسا کے اوپر تصاویر میں دکھایا گیا ہے)
    یہ سارا عمل اسی طرح ہے جو قرآن میں جہنم میں ہونے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے.
    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کس طرح جان سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آخری عمل میں منجمد کیا جا سکتا ہے؟

    بقلم سلطان سکندر!!!