Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • امریکہ: ریاست الاسکا میں 7.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، سونامی وارننگ بھی جاری

    امریکہ: ریاست الاسکا میں 7.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے ، سونامی وارننگ بھی جاری

    امریکہ کی ریاست الاسکا میں 8.2 کے زوردار زلزلے کے جھٹکوں نے ساحلی علاقے کے مکینوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی جیولوجیکل سروے کی جانب سے جاری کر دہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ شدید نوعیت کے زلزلے کا مرکز الاسکا کے شہر ” پیری ویل “ کے جنوب مشرق میں 91 کلومیٹر دوری پر واقع ہے جس کی گہرائی 46.7 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے ۔

    زلزلے کے بعد شدید نوعیت کے دو آفٹر شاکس ریکارڈ کئے گئے جن کی شدت 6.2 اور 5.6 رہی ۔

    تاہم بعد ازاں ریاست کے متعدد علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے امریکی اداروں کی جانب سے ہوائی میں بھی سونامی کی نگرانی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    سونامی کے انتباہ کی وجہ سے ساحلی علاقوں کے مکین اونچی جگہوں کی جانب منتقل ہونے لگے ہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں لوگوں کی لمبی قطاروں کو اونچی جگہوں پر منتقل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک جزیرے میں مقامی ہائی سکول اور کیتھولک گرجا گھر نے لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے۔

  • سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    دولت عثمانیہ 1299 میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سلطنت جس کے حکمران "ترک” تھے،
    سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ سلطنت دنیا کے تین براعظموں میں پھیل چکی تھے،
    سلطان سلیمان 15 سال کی عمر میں گھوڑے پر بیٹھے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جنگوں میں گزارا انہوں نے ایشیا اور یورپ کے کئی علاقوں کو فتح کیا اور تمام فتح کیے علاقوں کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنایا،
    سلطان سلیمان 1494 کو ترابزون (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے,
    وہ 1520 کو عثمانی سلطنت کے دسویں سلطان کے طور پر تخت نشین ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے 89 خلیفہ بھی منتخب ہوئے,
    جس دور میں آپ تخت نشین ہوئے اس دور میں مسیحی مغربی طاقتیں متحد ہو رہی تھیں یورپ کی سلطنتیں قرون وسطیٰ کے خلفشار سے نکل کر عہد جدید کی معرکہ آرائیوں کے لئے تیار ہو رہی تھی، وہ سب آپس کے مذہبی اختلافات بھلا کر عثمانی سلطنت کے خلاف اگٹھے ہو رہے ہیں،
    کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے سلطنت عثمانیہ اور مغربی طاقتوں کے درمیان کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی سلطان سلیمان کے والد سلیم اول کی زیادہ تر توجہ تمام اسلامی ریاستوں کی طرف مبذول رہی، اس مدت میں یورپ کی سلطنتوں نے بہت نمایاں طور پر ترقی کر لی تھی،

    اسپین سے مورس کا اخراج ہو چکا تھا وہاں کی چھوٹی چھوٹی مسیحی ریاستیں متحد ہو کر ایک فرمانروا کے زیر حکومت آ چکی تھیں، فرانس بھی اپنے اندر کی مذہبی انتہا پسندی اور خانہ جنگی پر قابو پا کر دوسرے ملکوں کی فتوحات کی طرف نکل چکا تھا،
    آسٹریا اور انگلستان میں بھی قوت و استحکام کی علامتیں موجود تھیں،
    اور چارلس پنجم جس کی سلطنت یورپ کے نصب حصے پر پھیلی ہوئی تھی اس مسیحی اتحاد میں پیش پیش تھا،
    اور دوسری طرف ایشیا میں ایران کی وسیع سلطنت سے بھی عثمانی سلطنت کو خطرات لاحق تھے، اور اس کے علاوہ شام اور مصر میں ہر وقت بغاوت کا خدشہ رہتا،
    ایسے میں سلطنت عثمانیہ کو چارلس پنجم اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج درپیش تھا، چناچہ سلیمان حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 46 سالہ دور اقتدار میں کسی نہ کسی جنگی مہم میں مصروف رہے، جہاد کا جذبہ سلطان سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس جذبے نے انہیں آخری وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا،
    سلطان سلیمان تخت نشین ہونے کے اگلے سال ہی بلغراد فتح کرنے نکل گئے سلطان نے وہاں سب سے بڑے گرجا گھر میں نماز ادا کی اور اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا،
    بلغراد کی سرحدوں کے دوسرے قلعوں پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کرلیا اور اس طرح ہنگری بھی فتح کیلئے عثمانیوں کے سامنے کھلا پڑا تھا،
    سلطان سلیمان کی بلغراد فتح کا اثر یہ ہوا جمہوریہ وینس نے خود کو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار تسلیم کر لیا اور یوں انہوں نے عثمانیوں کو سلانہ خراج دینے پر اکتفا کر لیا،
    بلغراد اور رودوش یہی وہ دو معرکے تھے جن میں سلطان محمد فاتح کو شکست ملی تھی،
    اس کے علاوہ رودوش کے جہاز بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں مجمع الجزائر اور اناطولیہ کے ساحلوں پر لوٹ مار مچاتے رہتے تھے، اور مصر اور شام کے درمیان جو تعلقات قائم ہوگئے تھے ان میں مبارزین رودوش اپنے جہازوں کے ذریعے رخنہ ڈالتے رہتے تھے،
    بلغراد تو فتح ہوچکا تھا چنانچہ سلطان سلیمان نے ردوش فتح کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عثمانیوں پر لگے اس داغ کو بھی صاف کرنا چاہتا تھا،
    سلیمان عالی شان ایک لاکھ فوج لے کر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کی طرف بڑھا۔ سلطان 28 جولائی 1522 رودوش کے ساحل پر اترا اور اس نے جزیرہ رودوش کا محاصرہ شروع کر لیا،
    پانچ ماہ تک محاصرہ جاری رہا اور محاصرین کی قوت سے مجبور ہوکر بلآخر انہوں نے 6 دسمبر 1522 ینچروں کے اگئے ہتھیار ڈال دیئے سلطان نے مبارزین کو اجازت دے دی کہ وہ بارہ روز کے اندر اپنے تمام اسلحہ اور ساز و سامان کو لے کر اپنے ہی جہازوں پر رودوش سے چلیں جائیں، اگر ان کے جہاز کم پڑتے ہیں تو ہمارے جہازوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں،
    لیکن اکثریت میں رودوش کے باشندوں نے سلطان کی رعایا بننا پسند کیا اس کے بعد انہیں مکمل طور پر مذہبی آزادی دے دی گئی،پانچ سال کے لیے ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا اور ان کے کلیساؤں سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بلغراد اور روش کی فتح کے بعد ہنگری سسلی اور اٹلی کے راستے سلیمان کے لیے کھل گئے،
    لیکن مصر کی بغاوت اور ایشیائے کوچک کی شورش نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا، لیکن سلطان سلیمان نے اس پر بھی قابو پا لیا اور وہ ہنگری کی طرف سفر کے لیے تیاریاں شروع کرنے لگے،
    سلطان سلیمان نے ایک لاکھ فوج اور تین سو توپوں کے ساتھ قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے پانچ ماہ بعد 28 اگست 1526 کو موباکز کے میدان میں ہنگری کے شہنشاہ شاہ لوی اور اس کی فوج سے مقابلہ کیا،
    دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں سلطان سلیمان کو فتح حاصل ہوئی اور ساتھ ہی ہنگری کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گیا اور ہنگری کا شہنشاہ اور اس کے کچھ وزیر مشیر اور سپاہی بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کے مر گئے،
    چنانچہ سلطان سلیمان نے ہنگری کا اقتدار زاپولیا کو سونپا اور خود پایہ تخت واپس آگئے،
    لیکن ہنگری میں خانہ جنگی شروع ہو گئی،
    آرک بوک فرڈیننڈ جو شہنشاہ چارلس پنجم کا بھائی تھا، ایک صلح نامہ کی رو سے جو چارلس پنجم اور سابق شہنشاہ ہنگری شاہ لوئی کے درمیان ہو چکا تھا ہنگری کے تخت کا دعویدار ہو گیا،
    ایسے حالات میں زاپولیا اور اس کے حامیوں نے اپنی موافقت میں ہنگری کا ایک قدیم قانون پیش کیا جس کی رو سے ہنگری کے باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وہاں کا بادشاہ منتخب نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہاں کے امرا نے فرڈیننڈ کو منتخب کر لیا،
    چنانچہ جنگ ناگزیر ہوگئی لیکن فرڈیننڈ کے ساتھ آسٹریا کی مدد تھی اس نے زاپولیا کو شکست دے کر ملک سے بھگا دیا،
    زاپولیا نے پولینڈ میں پناہ لینے کے بعد سلطان سلیمان کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور مدد طلب کی، اور دوسری فرڈیننڈ نے بھی اپنا ایک سفیر سلطان سلیمان کے پاس بھیجا،اور اس نے سلطان سے ہنگری پر اپنا اقتدار تسلیم کرنے اور اس کے علاوہ بلغراد اور رودوش لینے کا مطالبہ کر دیا،
    ایسے میں سلطان سلیمان 1529 کو ڈھائی لاکھ کا لشکر لے کر ہنگری پر چڑھ دوڑا اس نے ہنگری کو دوبارہ فتح کرلیا اور پھر اقتدار زاپولیا کے حوالے کیا اس نے ہنگری سے سفر جاری رکھتے ہوئے ویانا کا محاصرہ کر لیا سلطان اس فتنے کی جڑ کو ہی ختم کرنا چاہتا تھا لیکن تین ماہ کے عرصے تک ایک قلعہ فتح ہو سکا موسم کی خرابی کی وجہ سے سلطان کو محاصرہ ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا تھا،
    ہنگری کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا چناچہ سلطان آسٹریا کے علاقے ویانا سے محاصرہ اٹھا کر واپس آ گیا لیکن یورپ کے قلب تک سلطان سلیمان اپنی سلطنت کو پھیلا چکا تھا،
    اس کے بعد اس نے ایران کا سفر کیا اور اس نے ایران کے بہت سے علاقوں اور آذربائیجان تک اپنی سلطنت کے رقبے کو وسیع کر دیا،
    سلطان سلیمان نے جب تخت نشین ہوئے تھے تو اس وقت سلطنت کا کل رقبہ 68 لاکھ کلومیٹر تھا لیکن جب اس کے 46 سالہ عظیم الشان دور کا اختتام ہوا تو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا کل رقبہ لگ بگ 1 کروڑ 48 لاکھ کلومیٹر تھا،
    عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت انہوں نے دولت عثمانیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس وجہ سے ترک قوم نے انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے نوازا اور یورپ کے مفسرین نے انہیں سلیمان ذیشان، سلیمان علیشان اور سلیمان اعظم جیسے ناموں سے مخاطب کیا،
    1565 میں آسٹریا سے جنگ پھر شروع ہوگئی جس میں مسیحیوں نے کچھ کامیابی حاصل کر لیں، سلطان اس وقت کافی بیمار ہو چکے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی فوج کی قیادت کرنے کیلئے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا،
    2 اگست 1566 کو ایک قلعہ کا محاصرہ کیا جو 8 ستمبر تک جاری رہا اور آخر کار قلعہ فتح ہوگیا،
    اس وقت جب لشکرِ اسلام خوشی سے جھوم رہا تھا وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کا محبوب سلطان اللہ کی رحمت میں جا چکا ہے،
    سلطان 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب اس فانی جہان سے رخصت ہو چکے تھے،
    سلطان کی میت کو واپس قسطنطنیہ لایا گیا وہاں ان کی تعمیر کردہ مسجد سلیمانیہ میں ان کو سپرد خاک کیا گیا،
    اللہ سلطان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے،
    آمین

    @zsh_ali

  • قدرتی آفات اور پاکستان  تحریر : حنا

    قدرتی آفات اور پاکستان تحریر : حنا

    آپ سب جانتے ہیں ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا سلسلہ کئ روز سے جاری ہے ۔۔جس سے بلوچستان کراچی اسلام آباد کے کچھ علاقے شدید متاثر ہورہے ہیں.قدرتی آفات خاص کر بارشوں سے تباہی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں جب بارشوں کا موسم ہوتا ہے تو شدید بارشوں کی وجہ سے نقصانات بھی ہوتے ہیں ۔پھر وہ ملک امریکہ جیسی سپرپاور ہو یا دنیا کا سب سے ترقی یافتہ جاپان.طوفانی بارشوں کی وجہ سے جتنا نقصان تقریبا ہر سال جاپان میں ہوتا شاید ہی کسی اور ملک ہو ۔۔اور پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظر میں جاپان دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے ۔۔کہنے کا مقصد ہے کہ قدرتی آفات سے اتنا ترقی یافتہ ملک بھی نہی بچ پاتا ۔۔وہ بھی اپنے مرتے لوگوں کو بہتے پانی سے زندہ نکال نہیں سکتا ۔۔کیونکہ موت کے آگے اس کی ترقی اس کی ٹیکنالوجی بھی نہیں چلتی ۔۔لیکن ہمارے پاکستان میں یہ معمول بن چکا ہے۔۔حکومت آج کی ہو یا پچھلی ۔۔ہم قدرتی آفات پر بھی انسانوں کو زمہ دار ٹھہرانے لگ جاتے ہیں ۔کہ فلاں کی وجہ سے عذاب ہے فلاں برا تھا اس وجہ سے عذاب آگیا ۔ ہمیں اپنے سماجی رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم قدرتی آفات کے متاثرین کو ان کے گناہوں کے نتیجے میں عذاب قرار دینے کی بجائے عملی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، میری نظر میں یہ درحقیقت قدرت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی کاہم خود کیسے سامنا کرتے ہیں اور انسانی ہمدردیوں کی بنیاد پردوسرے متاثرین کی کیسے مدد کرتے ہیں، انسان زمانہ قدیم سے قدرتی آفات کا سامنا کرتا آرہا ہے انسان تمام تر ترقی کے باوجود قدرتی آفات کے آگے بے بس ہے ۔۔پاکستان عوام قیام ِ پاکستان کے بعد سے ہی آفات کا حادثات کا شکار ہوتا آرہا ہے 2010ء کا سیلاب اپنی نوعیت کا خطرناک ترین تھا جس کے نقصانات کا تخمینہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 43ارب ڈالرز کا لگایا گیا تھا ایسے ہی قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سمیت بھارت، بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، جاپان، فلپائن، میکسیکو، سوڈان، افغانستان اور امریکہ وغیرہ شامل ہیں،لیکن ہم بطور پاکستانی یا ہماری حکومت ان آفات سے بچنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں نہ ۔ہمیں اس حوالے سے حقیقت پسندانہ رویے کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ انسان قدرت کے کاموں میں مداخلت کے قابل تو نہیں لیکن قدرتی آفات کے نتیجے میں نقصانات کی شدت کم ضرور کرسکتا ہے۔قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہ کاری کے بعد چندے اور امداد کی اپیل کی بجائے ہمیں پانی کے عظیم ذخیرے کو محفوظ کرکے قومی ترقی کیلئے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہئے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں
    دوسری اہم بات ایک دوسرے کو پارسا ثابت کرنے کے لیے قدرتی آفات پر ایک دوسرے کو گنہگار کے طعنے دینے سے بہتر ہے کہ ہم قرآن پاک کھول کر پڑھیں کہ قدرتی آفات آزمائش ہے۔آزمائش اور سزا میں فرق ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کو آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ وہ بندوں کی برداشت کی انتہا دیکھیں اور بندوں کی اپنے رب سے محبت کو دیکھیں ۔سورہ بقرہ کی آیت 155، 156 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور البتہ یقینا ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف ، کچھ بھوک ، کچھ مالی وجانی اور پھلوں کے نقصان کے ذریعے اور بشارت دو صبر کرنے والوں کو ، کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
    تو ثابت ہوا ۔آزمائش میں صبر کرنے والے ہی جیت جاتے ہیں ۔صبر کرنے والے ہی صبر کا صلہ پاتے ہیں اور صبر کرنے والے بڑی سے بڑی مشکل کو بھی ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں ۔۔برداشت کرنا سیکھیے ۔۔کیونکہ رب اپنے بندوں کو اس کی طاقت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا..

  • سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد  تحریر: احسان الحق

    سحر کی تاریخ اور برصغیر میں آمد تحریر: احسان الحق

    سحر کی ابتداء کے متعلق کوئی حتمی معلومات دستیاب نہ ہونے کے مترادف ہیں. سحر کب، کہاں اور کس جگہ سے شروع ہوا مکمل یقین کے ساتھ کچھ کہنا بہت مشکل ہے. مگر زمانہ قدیم میں مختلف قوموں اور تہذیبوں میں سحر اور جادو کا وجود ملتا ہے. آسٹریلیا، یورپ، افریقہ، ایشیا اور قدیم یونانی، رومی اور مصری تہذیبوں میں جادو یا سحر کے متعلق تفصیل کے ساتھ تاریخ موجود ہے. آسٹریلیا کے Aborigines قبیلے میں، امریکہ میں Red Indians لوگوں میں، افریقہ کے Azande and Cewa باشندوں میں، قدیم مصری، یونانی، رومی باشندوں میں سحر کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود رہا ہے.

    جادو یا سحر ہر زمانے میں ہر قوم کے لوگوں کے عقیدہ میں رہا ہے. قدیم مصر کے پجاری اسی جادوئی دعوے یا عقیدے کی بنیاد پر عبادت اور مذہب کی بنیاد رکھتے تھے. قدیم بابلی، ویدک اور دیگر روایات میں اپنے دیوتاؤں اور خداؤں کی طاقت کا منبع یا زریعہ جادو کو ہی تصور کیا جاتا تھا. دنیا کے مختلف حصوں کی دریافت شدہ باقیات یا غاروں میں ملنے والی تصاویر، تحاریر اور پتھروں پر تراشیدہ مجسموں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان میں سحر کی تصویر کشی کی گئی ہے مگر یہ محض دعویٰ یا قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے.
    سحر کے مظہر یا وجود کے متعلق زیادہ قابل بھروسہ معلومات قدیم مشرق وسطیٰ، یونانی، رومی، نصرانی یورپ اور ان کے ہم عصر تہذیبوں کے بارے میں موجود ہے. مصر اور mesopotamia جس کا زمانہ تقریباً 2300 قبل مسیح ہے کے سحر کے متعلق کافی مواد ملتا ہے جس سے جادوئی منتر، جادوئی قواعد و ضوابط اور ترکیبات کا احساس ہوتا ہے. اس کے بعد دیگر اقوام یا تہذیبوں میں جادو کا ذکر ملتا ہے ان میں انڈمان کے جزائر، کلاہاری سان، جنوب مغربی امریکا کے Navajo، ہمالیہ کے ترائی لوگوں میں بحرالکاہل کے جزائری، بابلی وینیوائی، قدیم مصری، کنعانی، یونانی اور رومی باشندوں میں.

    برصغیر میں سحر کی ابتداء اور ترویج کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ سحر کی ابتداء ارض فارس سے ہوئی اور یہیں سے یہ علم برصغیر اور عرب دنیا میں پھیلا. قدیم ایران میں مگ نامی ایک قوم آباد تھی جو زرتشت کے پیروکار تھے. سنسکرت زبان میں جادو کو "مای گگ” مطلب مگوں کا علم کہا جاتا ہے. انگریزی میں لفظ magic میجک اسی لفظ سے ماخوذ ہے. یہ قوم ایران سے جب یہ برصغیر میں آئی تو جادو کا علم بھی ساتھ لیکر آئی. یہاں کے باشندوں نے یہ علم سیکھا جس سے وہ لوگوں کو مفتون و مسحور کیا کرتے تھے. برصغیر میں زمانہ قدیم میں ہندوؤں کے نزدیک سحر کو خاص اہمیت اور شہرت حاصل رہی ہے. موجودہ دور میں بھی اس علم کو خاص اہمیت حاصل ہے بلکہ کچھ ہندو اس کو اپنے مذہب کا ایک جزو سمجھتے ہیں. ان کے نزدیک چار یوگوں میں سے "ہٹ یوگ” سحر کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے زبردستی، جبر، ہٹ، ضد اور زبردستی خالق کائنات تک پہنچنا.

    انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق لفظ ماگی Magus کی جمع ہے. یہ ایک ایرانی قبیلہ تھا جو مذہبی رسومات کے لئے مختص تھا. اسی سے لاطینی لفظ Magoi ہے اس کی اصل بھی ایرانی ہے. ماگی قبیلے کے لوگ ابتداء سے زرتشت تھے یا نہیں، اس بابت کچھ وثوق سے کہنا مشکل ہے. ماگی ساسانی اور پارسی ادوار میں ایک مذہبی طبقے کے طور پر جانا جاتا تھا. زرتشی مذہبی کتاب اویستا Avesta کا آخری حصہ غالباً اسی سے ماخوذ ہے.

    نوٹ: مندرجہ بالا تحریر کو لکھنے کے لئے ان کتب کا مطالعہ کیا گیا
    1: جادو کی حقیقت اور اس کا قرانی علاج
    2: انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا

    @mian_ihsaan

  • پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    1947 قیام پاکستان کے بعد ہی مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کے لیے، متعلقہ ادارہ تشکیل دیئے گئے تھے، ان میں سپیس ٹیکنالوجی کےلیے 1961 میں ڈاکٹر عبدوسسلام سپارکو(خلائی و بالائے فضائی تحقیقاتی مأموریہ) کی بنیاد رکھی گئی ۔ابتداء میں سپارکو نے خوب ترقی کی جس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ 7 جون 1962 کو ، رہبر راکٹ کے لانچ کیاجس سے پاکستان ،اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ، ایشیاء میں تیسرا ، اور بغیر پائلٹ خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔اسی کے ساتھ ہی کامیابیوں کا سفر طےکرتے ہوئے سپارکو نے متعدد ساؤنڈ راکٹ لانچ کیے , پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ -بدر 1 ، 1990 میں , بدر-بی کو 2001 میں ۔ 2011 میں ، پاکس سیٹ -1 جو پاکستان کا پہلا مواصلاتی مصنوعی سیارہ بن گیا۔
    1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کو معاشی طور پر کمزوری کی وجہ سے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی کی وجہ سے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2021 میں سپارکو کا بجٹ صرف 46 ملین ڈالر تو 1971 میں چند ملین تھا جس میں تمام معاملات چلانا ناممکن تھا جس سے پاکستان سپیس مشنز التوٰا کا شکار ہوتے گئے،یہئ سے سپارکو کا زوال شروع ہواجو کئی دہائیوں سے چل رہاہے، اس کے علاوہ ایک وجہ 70 و 80 کی دہائی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جووقت کی اہم ضرورت تھا جوعسکری و سیاسی توجہ کے سبب اس پرزیادہ کام ہورہاتھا ، جس سے فنڈ میں دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے سپیس مشنز کو بریک لگ گئی۔
    اس کے علاوہ چین کی طرف بڑھنے سے پاکستان کے جوہری عزائم کے بارے میں امریکی پالیسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، جو 1980 کی دہائی کے دوران تیزی سے واضح ہورہے تھے۔ مواصلاتی مصنوعی سیارہ لانچ کرنے کا منصوبہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا کیونکہ ضیا الحق کے دور حکومت میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ بجٹ میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ خلا میں مزید گھٹ جانے والے عزائم کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی آگیا جب پاکستان سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں اپنی جنگ میں مصروف تھا۔ پاکستان کے لئے سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نے سپارکو کی پیشرفت میں طوقیں ڈال دی ہیں۔
    لیکن سپیس ٹیکنالوجی کی طرف کم دھیان ہونے کی وجہ سے ریسرچ و ڈیلومنٹ کے ساتھ نئی سٹیلائٹ تیار کرناو لانچ بروقت نہیں کرسکا جو زیرالتوا ہوتے ہوتے 2000 کی دہائی تک مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔9/11 کے بعد کی دہشت گردی کی لہر نے امریکی پاپندیوں نے پاکستان کو مالی طور پر شدید کمزور کردیا جو 2015 تک پاکستان کے مستحکم ہونے تک سپیس مشنز بلکل ہی غائب ہوگئے۔
    سپیس ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بڑھ چکی کیونکہ سٹیلائٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی ، سیلاب ، ظوفان ، بارشوں کا وقت سے پہلے پتہ لگاسکتاہے، جس سے ناصرف بہت بڑی تباہی سے بچا جاسکتاہے، اسی تناظر میں موجودہ دور میں دفاعی میدان میں بھی سپیس ٹیکنالوجی بے انتہاہ ضروری ہے کیونکہ فوجی دستہ آپس میں خفیہ پیغامات بھی سٹیلائٹ کی مدد سے بھیجتے ہیں، میزائل بھی مقررہ ہدف کو کامیابی دے نشان بنانے کے لیے سٹیلائٹ کا استعمال کرتاہےاور اس کے علاوہ دشمن کے علاقہ کی جاسوسی کےلیے بھی سٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں موبائل کالز و میسجز آپس میں رابطہ کے لیے سگنلز سے جو سٹیلائٹ کی مدد سے ہی برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، مجموعی طور پر یہ بات کی جائے تو ایک ملک کے تمام معاملات حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے ساتھ جودراصل سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چل رہے ہوتے ہیں، جس کوچند منٹ میں مکمل تباہ بھی کیاجاسکتاہے جس پورا ملک مفلوج ہوسکتاہے، اس کی طاقت اس وقت روس ، امریکہ ، چین وغیرہ کے پاس جو ایک میزائل کی مدد سے کسی بھی ملک کی تمام سٹیلائٹس کوتباہ کرسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیاہے، جس کا صرف اس خطے میں ہی مقابلہ بہت مشکل ہے۔2022 میں چین کی مدد سے پاکستان سے ایک خلاباز خلا میں بھیجاجائے ، جس کاتکمیل موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ ناممکن نظر آرہاہے، اس کے علاوہ پاکستان خود سے سٹیلائٹ خلا ءمیں بھیجنا تو دور خودساختہ سٹیلائٹ بھی تیار نہیں کرپارہاہے،اس کے برعکس دنیا کے باقی ممالک چاند و مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ماحول کی دستیاب ہو جو اس کے لئے سازگار ہو اور سیاسی مرضی جو اس کا حامی ہو۔
    ایک پاکستانی ہونے کی ناطے حکومت ِوقت سے میری ذاتی طور پر گزارش ہے کہ خداراہ جس طرح ایٹمی پروگرام کو ممکن کربنایا تھا ، اسی طرح سپیس ٹیکنالوجی کی طرف بھی توجہ دی جائے جس سے ملک کی افواج و عوام اور کاروبار کو فائدہ ہوگا ناصرف قدرتی آفات کی تباہی سے بچنے میں مدد حاصل ہوگئی، اس کے علاوہ سپیس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوگاتو پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
    اللہ پاک پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی و عروج عطا فرمائے ، آمین۔
    Name Muhammad Haris MalikZada
    Twitter ID:@HarisMalikzada

  • اسلام اور جانوروں کے حقوق  تحریر: محمد اختر

    اسلام اور جانوروں کے حقوق تحریر: محمد اختر

    تمام جاندار – انسان، پرندے، جانور، کیڑے وغیرہ قابل غور اور احترام کے لائق ہیں۔ اسلام ہمیشہ جانوروں کو خدا کی مخلوق کا ایک خاص حصہ سمجھتا ہے۔ انسانیت اپنے پاس جو بھی ہے اس کے لئے ذمہ دار ہے، ان جانوروں سمیت جن کے حقوق کا احترام کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید، حدیث، اور اسلامی تہذیب کی تاریخ جانوروں کے لئے مہربانی، رحمت، اور ہمدردی کی بہت سی مثالیں پیش کرتی ہے۔اسلامی اصولوں کے مطابق، تخلیق کے تنظیمی ڈھانچے میں جانوروں کا اپنا ایک مقام ہے اور انسان ان کی صحت اور خوراک کے ذمہ دار ہیں۔اسلام مسلمانوں کو جانوروں سے ہمدردی کا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بد سلوکی ناکرنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن مجید کا بیان ہے کہ تمام مخلوق خدا کی حمد کرتی ہے، یہاں تک کہ اگر اس تعریف کا اظہار انسانی زبان میں نہیں کیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے صحابہ کو سختی سے منع فرماتے تھے جو جانوروں سے بدتمیزی کرتے تھے، اورآپ رحم اورہمدردی کے بارے میں ان سے گفتگو کرتے تھے۔
    قرآن پاک اور جانوروں کی فلاح و بہبود
    قرآن پاک متعدد مثالوں اور ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ مسلمان جانوروں کے ساتھ کس طرح سلوک کریں۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جانور اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں، بالکل اسی طرح:”ایسا کوئی جانور نہیں جو زمین پر رہتا ہے، اور نہ ہی کوئی جانور جو اس کے پروں پر اڑتا ہے، بلکہ وہ آپ کی طرح کی اجتماعی گروہ کی شکل میں ہیں۔ ہم نے کتاب سے کچھ بھی نہیں ہٹایا ہے اور وہ سب آخر کار اپنے رب کے پاس جمع ہوجائیں گے۔ (قرآن 6::38)قرآن مجید جانوروں اور تمام زندہ چیزوں کو، مسلمان ہونے کی حیثیت سے مزید بیان کرتا ہے – اس معنی میں کہ وہ اس طرح زندگی گذارتے ہیں جس طرح اللہ نے انہیں جینے کے لئے پیدا کیا ہے، اور فطری دنیا میں اللہ کے قوانین کی تعمیل کرتے ہیں۔”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ ہی ہے جس کی تعریف آسمانوں اور زمین میں موجود تمام مخلوقات کرتے ہیں، اور پرندے (ہوا کے) پر پھیلے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی اپنی (نماز) کیحمدوثناء جانتے ہیں، اور اللہ ان کے سب کاموں کو خوب جانتا ہے۔ (قرآن 24:41)”اور زمین کو، اس نے اس تمام جانداروں کے لئے ذمہ دار کیا ہے” (قرآن 55:10)۔جانور بڑی روحانی اور جسمانی دنیا کے جذبات اور روابط کے ساتھ زندہ مخلوق ہیں۔ ہمیں ان کی زندگیوں کو قابل قدر اور قابل احترام سمجھنا چاہئے۔یہ آیات ہمارے لئے یاد دہانی کا کام کرتی ہیں کہ جنگلی حیات، انسانوں کی طرح مقصد کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ ان کے احساسات ہیں اور وہ روحانی دنیا کا حصہ ہیں۔ انھیں بھی زندگیمیں تکلیف سے تحفظ کا حق ہے۔
    حدیث اورجانوروں کی حقوق
    حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی، اور جانوروں کے ساتھ بار بار ظلم سے منع کیا۔ ”جو کوئی چڑیا تک بھی رحم کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر مہربان ہوگا۔”کسی جانور کے ساتھ ایک نیک کام انسان کے ساتھ کیے جانے والے اچھے عمل کی طرح ہے، جب کہ جانوروں پر ظلم و بربریت کا ارتکاب انسان پر ظلم جتنا برا ہے۔انسانوں کو اللہ تعالٰی نے زمین کے نگہبانی اورنہگداشت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ضرورت کے بغیر قتل کرنا – جو تفریح کے لئے مار رہا ہے وہ جائز نہیں ہے۔
    نوٹ:
    آخر ہیں مندرجہ بالا مطالعہ کے بعد ہمیں اپنے آپ کو سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے – کیا ہم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلمپیغمبر کے واضح احکامات کے باوجود جانوروں کے حقوق کی پاسداری کررہے ہیں؟ نہ صرف ایسے موضوعات پر ہونے والی بحث میں، بلکہ مجموعی طور پر جانوروں اور ماحولیات کے تحفظ اور تحفظ میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہم جنگلی حیات سے محروم ہیں؟ ہم جس ملک میں رہتے ہیں اس ملک کے قوانین اسلامی اصولوں کی پاسداری کیسے کرتے ہیں؟اور آخر میں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ ہمیں جن مثائل کا سامنا ہے اس کا حل تلاش کرنے میں اسلام ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟ان سب سوالوں کے جواب ہمیں اس وقت ہی ملیں گے جب ہم اسلامی تعلیمات کا اس کی اصل روح سے مطالعہ کریں گے۔

    @MAkhter_

  • ہمیں مغرب سے کیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ تحریر:  طلحہ محفوظ خورشیدی

    ہمیں مغرب سے کیا سیکھنا چاہیے۔۔۔ تحریر: طلحہ محفوظ خورشیدی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات
    ہے یہ جملہ ہم نے درسی کتب میں پڑھا اور بہت سے واعظ خطبوں میں سنا یعنی ہمارا دین ہمیں زندگی ہے ہر شعبے میں رہنمائی دیتا ہے لیکن جب ہم معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو بات سمجھ نہیں آتی کیونکہ ہمارا عدالتی نظام انگریزوں کا سیاسی نظام بھی مغرب سے درآمد شدہ اور معاشی نظام سرمایہ دارانہ ہے یعنی کوئی چیز بھی اسلامی نہیں اس بات کو مثال سے سمجھیں ہم ٹی وی پر مختلف پروگرام دیکھتے ہیں جس میں علماء کرام سے رائے لی جاتی ہے کہ فلاں معاملہ پر دین ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے لیکن کبھی کسی عیسائی پادری پنڈت الغرض اسلام کے علاوہ کسی بھی مہذب کے پیشوا کو اپنے مذاہب کی تعلیمات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا ہمارا مذہب کی دنیاوی معاملات میں یہ تعلیمات بیان کرتے ہوئے کیونکہ تمام مذاہب نے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف صرف اسلام ہی نبرد آزما ہیں یہی وجہ ہے اسلام سے جڑیں شعائر کو ہر جگہ پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جیسے عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی، مغرب یقیناً ہم سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں لیکن اس کے علاوہ اسلام کا سیاسی نظام معاشی نظام الغرض تمام امور میں اسلام ہمیں واضح تعلیمات دیتا ہے اور اس پر محققین اور علماء کرام نے بہت کام کیا ہے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ مغربی ممالک معاشی طور پر مستحکم اور سائنس ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں اس لیے ہم ذہنی طور پرمرعوب ہوجاتے ہیں ، ان کی طرف سےآئی ہوئی ہر شئے کو قبول کرلیتے ہیں، جیسے ان جیسا لباس ان کا کلچر وغیرہ، معاشی طور پر مستحکم ہونا ترقی کی علامت ہے لیکن یہ مکمل حقیقت نہیں ، علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کا اصل چہرہ دیکھایا اور بتایا ہے کہ یہ چمک دمک ظاہری طور پر ہے
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
    صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
    بہرحال جدید علوم حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے لیکن اسلام اصل برکات اسی وقت ملیں گی جب ہم اسکو عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کریں یہی ایک صورت ہے کہ اسلام کے مکمل ثمرات سمیٹ سیکھیں گے، جزاک اللّہ

    @talha_mehfooz

  • وکٹوریہ بریج     تحریر : حسن ریاض آہیر

    وکٹوریہ بریج تحریر : حسن ریاض آہیر

    میری آج کی تحریر کا عنوان ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ملکوال اور ضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر موجود وکٹوریہ بریج ہے۔ یہ پل آج سے تقریباً 90 سال پہلے برٹش راج میں انگریزوں نے تعمیر کیا۔ یہ پل ٹرین کی آمد و رفت کے لیے بنایا گیا تھا جو ملکوال سے پنڈ دادنخان، کھیوڑہ اور غریبوال کیطرف چلتی تھی۔
    پنڈ دادنخان اور ملکوال کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ پل تھا اور افسوس کہ آج 90 سال بعد اس جدید دور میں بھی یہ ہی ایک ذریعہ ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ دو ضلعوں کے درمیان آمد و رفت کا واحد ذریعہ یہ ہے ان علاقوں کی عوام کے لیے تو غلط نا ہو گا۔ ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاؤالدین کے علاؤہ ڈویژن سرگودھا کے ضلع بھلوال، بھیرہ کی عوام بھی اسی پل پر انحصار کرتی ہے۔
    ہر سال عوام کے ساتھ متعدد حادثات اس لوہے کے بنے پل سے پیدل یا موٹر سائیکل گزارنے کے دوران پل سے گرنے کیوجہ پیش آتے ہیں یہاں سے اگر کوئی گرے تو نیچے موجود دریا اسے نگل جاتا ہے۔ عورتیں، بچے، بزرگ اور جوان متعدد جانیں یہاں گنوا چکے۔
    ہر الیکشن کے قریب حکمران ان علاقوں کی عوام سے وعدہ کر کے ووٹ لیتے ہیں کہ یہ پل ہم بنائے گے 5 دہائیوں سے عوام یہاں پل بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    پہلے یہاں پل کی تعمیر کا مطالبہ ایوب خان کے دور حکومت میں سامنے آیا، جنرل ضیاالحق نے 1996 میں اس منصوبے کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا، جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے ایک ارب روپے کی منظوری دی تھی، پھر چوہدری پرویز الٰہی نے اکتوبر 2007 میں ملکوال میں سنگ بنیاد رکھا اور 2018 میں شہباز شریف نے بھی سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے ووٹ مانگے۔
    اس پل کی تاخیر میں ایک بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں کچھ سیاسی اثرورسوخ والے پل چک نظام کے قریب اور کچھ دامن حضر کے قریب چاہتے ہیں۔

    حکومت وقت اور خاص طور پر ندیم افضل چن صاحب اور فواد چوہدری صاحب سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی اس مسلے پر توجہ مرکوز کریں اور پی ٹی آئی کے دور میں یہاں پل بنائے۔

  • امید پہ دنیا قائم ہے  تحریر:  محمد وقاص عمر

    امید پہ دنیا قائم ہے تحریر: محمد وقاص عمر

    امید ایک شے ہے جس کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔ہر ذی روح امید کے سہارے زندہ ہے۔امید ایک خوشی ہے بلکہ یوں کہنا ہر گز غلط نہ ہو گا کہ امید ایک نئی زندگی ہے۔اس دنیا کی زندگی سے الگ ایک زندگی جہاں انسان دنیا کی زندگی میں ہار مان جاتا ہے تب یہ امید اسے ایک نئی زندگی دیتی ہے۔جب انسان بالکل ناامید ہو جاتا ہے تو یہ امید ہی ہوتی ہے جو انسان کو خوشی اور سکون دیتی ہے۔یوں کہہ لیں امید برے حال کی دوا ہے جس سے انسان کو راحت نصیب ہوتی ہے جب اس کو مشکلوں اور غموں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔شاید امید اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دیا گیا سب سے الگ اور ایک انوکھا تحفہ ہے۔

    یہ کائنات امید پر ہی قائم ہے۔ آج کی اس ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں ہم رہ رہے ہیں اگر امید نہ ہوتی تو انسان کبھی یہاں تک نہ پہنچ سکتا۔ اگر امید نہ ہوتی تو انسان آج بہت ساری ایجادات سے محروم ہوتا۔اس کی جیتی جاگتی مثال انیسوی صدی کا موجد تھامسن ایڈیسن کی ایجاد ات ہیں۔سب سے بڑھ کر جو تحفہ اس نے مصنو عی روشنی یعنی بلب کی شکل میں دنیا کو دیا اس احسان کے نیچے دنیا کے تمام حسین و دلکش شہر آج بھی دبے ہوئے ہیں۔

    بلب کی ایجاد کے سلسلے میں ایڈیسن نے ایک ہزار کے قریب تجربات کیے جن میں نو سو ننانوے بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن جب بھی اس کا کوئی تجربہ ناکام ہوتا وہ امید کے سہارے اس ناکامی کو برداشت کر لیتا۔اسے امید تھی کہ ایک دن یہ بلب جل کر رہے گا اور امید نے اس کے اندر کی لگن کو مزید بڑھایا اور آخرکار تھامسن ایڈیسن نے بلب روشن کر کے دکھایا۔

    اس کی ایک اور مثال جب انسان کسی پرندے کو قید کرتا ہے تو پرندے کو اس قیدی تنہائی میں جو چیز زندہ رکھتی ہے وہ امید ہی ہوتی ہے۔اس ایک امید کا ہی سہارا ہوتا ہے کہ شاید وہ اس قید سے چھٹکارا پا لے گا اور ان بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں اور اس نیلے آسمان کو چیرتے ہوئے اپنی زندگی گزارے گا۔یہ امید ہی ہے جس کی وجہ سے وہ قید تنہائی کی اندر بھی زندگی بڑی خوشی سے گزار رہا ہے۔

    دوستو امید ایک مشکل وقت کی ساتھی ہے۔امید کے سہارے انسان کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔انسان کی زندگی میں ہر طرح کے اونچ نیچ آتے رہتے ہیں لیکن اگر انسان نا امید ہو جائے تو زندگی بیکار ہو جاتی ہے۔لیکن اگر انسان امید کا دامن نے چھوڑے تو امید انسان کو کھٹن سے کھٹن مشکلات طے کروا کر ہی دم لیتی ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کا امید کا دامن نہ چھوڑیں۔

    Twitter id @ waqasumerpk

  • پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر:   محمد کامران

    پاکستان میں موجود قدرتی وسائل تحریر: محمد کامران

    ،معدنیات ، بجلی ، پانی اور جنگلات جیسے وسائل کا کسی ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی پر بہت اثر ہوتا ہے ۔ کسی بھی ملک میں قدرتی وسائل ہونا ضروری ہے لیکن یہ معاشی اور معاشرتی ترقی کی ضمانت نہیں۔ کوئی ملک وسائل سے مالا مال ہو اور ان وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے تو معاشی اور معاشرتی ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے ماہرین، قدرتی وسائل اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے در میان اہم تعلقات قرار دیتے ہیں۔

     

    پاکستان معدنی ترقیاتی کارپوریشن کان کنی کی صنعت کی ترقی کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ قیمتی پتھروں کے لیے کارپوریشن آف پاکستان لمیٹڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا

    یہ کارپوریشن پتھر کی کان کنی اور پالش کرنے میں اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کو بطور سرکاری ادارہ دیکھتی ہے۔ معدنی وسائل کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا امیر ترین صوبہ ہے۔ جب کہ حال ہی میں سندھ کے تھر میں کوئلے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ۔ صوبہ خیبر پختون خواہ جواہرات کے لحاظ سے مالا مال ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے زیادہ تر معدنی جواہرات یہاں پائے جاتے ہیں ۔
    جوہری توانائی کے مقاصد میں استعمال ہونے والے تیل ، گیس اور باقی معدنیات کے لیے یہ صوبہ اہم ہے ۔ملک کے باقی صوبوں میں بھی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں

     چند ایک اہم معدنیات اور انکے وسائل درجہ زیل ہیں

    1. کوئلہ:
    کوئلہ جس کو بلیک گولڈ کا نام بھی دیا جاتا ہے ،

    تھر ، چمانگ ، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر بھاری مقدار میں پائی جاتا ہے۔
    تھر میں اسکے ذخائر کا تخمینہ 850 ٹریلین مکعب فٹ لگایا گیا یے ۔ جسے اگلے 100 سال تک بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یعنی دوسرے ہائیڈرو / تیل وسائل پر انحصار کیے بغیر صرف کوٰئلے سے بجلی بنائی جا سکتی ہے۔
    ۔ پاکستان نے حال ہی میں پنجاب میں ایک کم درجے کا چار درمیانے درجے کے کوئلے کے کوئلے کے سیل تلاش کیے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان اور اس کے قریب اسلام آباد میں سلفر کوئلے کے پائے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ پاکستان میں بٹومینس، سب بٹومینس اور لگنائٹ کوئلہ پایا گیا ہے۔ کوئلے کا تقریب 80٪ حکومت اور 20٪ نجی شعبے کے ذریعہ نکالا جاتا ہے ۔ اسکی صنعت قدیم صنعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے سب سے زیادہ استعمال کنندہ لوہے، اسٹیل اور اینٹوں کی صنعتیں ہیں۔ کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 175 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اس کی قیمت تقریباً618 بلین بیرل خام تیل کے برابر ہوگی۔ جب تیل کے ذخائر کے مقابلے میں یہ بڑے چار ممالک کی مقدار سے دوگنا ہے۔
    2.قدرتی گیس:

    قدرتی گیس پاکستان کا اہم قدرتی وسائل ہے جس کا زیادہ تر حصہ سوئی کے مقام سے نکالا جاتا ہے

    اسکے تخمینہ شدہ ذخائر 885.3 بلین مکعب میٹر ہیں۔ جن کے مزید 20 سال تک رہنے کی توقع ہے۔ گیس کے اعتبار سے سوئی گیس فیلڈ سب سے بڑا ہے ، جو پاکستان کی گیس کی 26 فیصد پیداوار کرتا ہے۔سوئی گیس کے ذخائر 1953 میں دریافت ہوئے۔ وہاں روزانہ کی پیداوار 19 ملین مکعب میٹر ہے۔ بلوچستان کے بنجر پہاڑوں اور سندھ کے ریتوں کے نیچے تیل اور گیس کے اچھے ذخائر موجود ہیں۔ قدرتی گیس کے زیادہ تر صارفین کراچی ، لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، راولپنڈی اور اسلام آباد ہیں۔

     3. خام تیل:

    پاکستان کا پہلا تیل کا کنواں 1952 کے آخر میں ایک بڑا سوئی گیس فیلڈ کے قریب بلوچستان می لگایا گیا ۔
    ٹوٹل ائل ریفائنری 122.67 مربع کیلومیٹر (47.36 مربع میل) پر محیط ہے۔
    پاکستان پیٹرولیم اور پاکستان آئل فیلڈز نے 1961 میں سوویت یونین کی مدد سے زخائر کی کھوج کی اور اس کی کھدائی شروع کی اور عملی کا 1964 کے دوران توت میں شروع کیا گیا
    ۔ پاکستان میں 326 ملین بیرل سے زیادہ موجود ہے

     

     

    4. یورینیم کی پیداوار:

    پاکستان کی مغرب میں اسکی وافر مقدر موجود ہے ۔ جنوبی پنجاب میں تمن لغاری کان ، ضلع میانوالی میں بگالچور کان ، ڈیرہ غازی خان مائن اور عیسیٰ خیل کی کانیں مشہور ہیں
    پاکستان نے حال ہی میں اپنے جوہری طاقت اور ہتھیاروں کے پروگراموں میں یورینیم کا کچھ استعمال کیا ہے۔ 2006 میں پاکستان نے تقریبا 45 45 ٹن یورینیم کو تیار کیا تھا

     5. معدنی نمک:

    خطے میں 320 قبل مسیح سے نمک کی کھدائی کی جا رہی ہے ۔ کھیوڑا نمک کی کان کانوں میں دنیا کی قدیم ترین اور سب سے بڑی نمک کی کان ہے ۔ تقریبا 110 مربع کلومیٹر کے زیرزمین علاقے میں 320 قبل مسیح سے کھیوڑا میں نمک کی پہلی بار کھدائی کی گئی ۔کھیوڑا نمک کی کان کے بارے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر اس میں 220 ملین ٹن راک نمک کے ذخائر ہیں۔ مائن سے موجودہ پیداوار 325،000 ٹن سالانہ ہے۔

     6. کاپر اور سونا:

    ریکو دیق بلوچستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اینٹوفاگستا کمپنی،جو ریکو ڈیک فیلڈ کے ساتھ کام کر رہی تھی ، ایک سال میں 170،000 میٹرک ٹن تانبے اور 300،000 اونس سونے کی ابتدائی پیداوار کو ہدف کے ساتھ کام کر رہی تھی۔اس منصوبے سے ایک سال میں 350،000 ٹن سے زیادہ تانبے اور 900،000 اونس سونا پیدا ہوسکتا تھا ۔
    چاغی ضلع میں واقع دشت کوہن ، نوک کنڈی میں بھی تانبے کے ذخائر موجود ہیں

    7. آئرن اور :آئرن اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں پایا جاتا ہے جن میں نوکندی ، چنوٹ اور کالاباغ (42 فیصد سے کم معیار) ، ہری پور اور دیگر شمالی علاقوں بھی شامل ہیں۔

     8. جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر:

    پاکستان میں مقامی اور برآمدی مقاصد کے لئے متعدد قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پالش کی جاتی ہے۔ اسکا مرکزی مقام خیبر پختونخوا ہے۔

    ان پٹھروں میں ایکٹینولائٹ ، ، آڈروکسی ، روٹائل ، ایکوامارین روبی ، ایمیزونائٹ ، کنزائٹ ، سرپینٹائن ، ایجورائٹ ، کیانیائٹ ، اسپیسارٹائن (گارینایٹ) ، بیرل ، ، اسپنیل ، زمرد شامل ہیں
    ان جوہروں سے برآمد 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

    TWITTER ID @KamranRMKS