Baaghi TV

Category: حیوانیاتی

  • بچوں کا جنسی استحصال   تحریر : علی حیدر

    بچوں کا جنسی استحصال تحریر : علی حیدر

    حیات انسانی کے اہم ترین ادوار میں اک دور بچپن کا ہے جو ایک انسان کی باقی ماندہ ذندگی پر مکمل طور پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ بچپن کا وقت انسان کی جسمانی, ذہنی اور نفسیاتی نشوونما کے لئیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انسان کا ذہن بچپن میں بڑھوتوی کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے چناچہ اس دورانیے میں ہونے والا کوئی خوش گوار یا ناخوشگوار واقعہ نہ صرف بچے کے ذہن پر ہمیشہ کے لئیے نقش ہو جاتا ہے بلکہ اس کی آنے والی ذندگی پہ اثر انداز ہوتا ہے۔
    بچوں کا جنسی استحصال بچے کی ذہنی , جسمانی اور نفسیاتی ذندگی پر بری طرح اثر ڈالتا ہے ۔ بچے کا حافظہ بچپن میں بہت تیز ہوتا ہے اس لئیے وہ بات بچے کو یاد رہتی ہے۔
    بچوں کی بچوں سے ذیادتی یا بڑی عمر کے افراد کا بچوں کا جنسی و جسمانی استحصال ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں ۔ ہر آئے روز نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں بچوں پہ تشدد کرنے کے بعد ان کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ظلم تو یہ ہے کہ کچھ کیسز میں جنسی استحصال کے بعد ان کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔
    اگرچہ حکومت نے ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن جب تک ان مسائل کی وجوہات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے سدباب کے لئیے مئوثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے یہ مسائل سماج میں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
    سب سے پہلے ہمیں بچوں سے ذیادتی کے پیچھے کارفرما عوامل کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ ہم وجوہات کو سمجھنے کے بعد کوئی مؤثر اقدامات اٹھا سکیں۔
    بچوں سے ذیادتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو بہلانا اور پھسلانا آسان ہے ۔ کمزور ٹارگٹ ہونے کی وجہ سے مجرم کو کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    اس لئیے والدین اور اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو اجنبی افراد کے ساتھ میل جول کی ممانعت کریں ۔ ان کو سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی اجنبی آپ کو کسی بہانے ورغلا رہا ہو یا اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہا ہو تو اس کے ساتھ ہر گز نہ جائیں بلکہ اپنے والدین کو اس شخص کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جسمانی و جنسی استحصال کے واقعات اکثر و بیشتر ملک کے ان حصوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔ چناچہ اس بات کو کبھی بھی بنیادی وجہ نہیں بنایا جا سکتا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی مرد و عورت کے اختلاط یا عورتوں کی بے پردگی یا سوشیل میڈیا کے استعمال سے جنم لے رہی ہے۔
    کالجز اور یونیورسٹیز میں اگرچہ مرد و عورت کا اختلاط عام ہے لیکن وہاں ایسے کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں کیونکہ وہ افراد دراصل باشعور اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک بات یہ بھی قابل غور ہونی چاہئیے کہ شہروں کی عورتیں تعلیم یافتہ اور جدت پسند ہوتی ہیں ۔ وہاں بچوں کے ساتھ ذیادتی کے کیسز بہت کم رونما ہوتے ہیں ۔
    جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو گاؤں اور دیہاتوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ مرد و عورت کا اختلاط بھی کم ہوتا ہے۔ سوشیل میڈیا کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن وہاں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    چناچہ جدت پسندی اور مرد و ذن کا اختلاط بچوں کے جنسی استحصال ایک وجہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ تعلیم کا فقدان اور شعور کی کمی ہے۔

    یہ بات لازمی نہیں ہے کہ جو جنسی استحصال کی وجہ ہو وہی جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنے ۔ مجرم ایسا جرم کرنے پہ آمادہ تب ہوتا ہے جب وہ انٹرنیٹ پہ فحش مواد دیکھتا ہے , یا فلموں اور ڈراموں کی بدولت اس کی ذہنی سازی ہوتی ہے لیکن وہ اپنی جنسی حوس کی تسکین کے لئیے کمزور اور اور کم مزاحمت والے ایسے افراد کو نشانہ بناتا ہے جو اسے فی الوقت میسر ہوتے ہیں چناچہ وجہ انٹرنیٹ پہ موجود مواد یا فلمیں اور ڈرامے ہو سکتے ہیں لیکن نتائج کوئی اور بھگت رہا ہوتا ہے۔
    معاشرے سے ایسے ناسور کو مکمل طور پہ ختم کرنے کے لئیے حکومت وقت کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کے طبقے کو تعلیم تک آسانی سے رسائی ہونی چاہئیے تاکہ ایک با شعور معاشرہ کا قیام عمل میں آ سکے۔
    بچوں کی ذہن سازی کے لئیے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذرئیعے موثر آگاہی کے لئیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بچے اس مجرم کے بہلانے اور پھسلانے کے طریقہ سے پہلے ہی آگاہ ہوں اور اس کے بہکاوے میں آنے سے پہلے ہی اس کے عزائم کو بھانپتے ہوئے وہاں سے فرار ہو کر والدین کو مجرم کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات کو روکنے کے لئیے مؤثر اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہونا چاہئیے کہ ایسے مقدمات کے فیصلے فوراً ہنگامی بنیادوں پہ کرتے ہوئے مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہئیے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور دوبارہ کوئی مجرم ایسا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے منطقی انجام سے پہلے ہی آگاہ ہو ۔

    @alihaiderrr5

  • بلا سود قرضہ دیا جائے گا صدر مملکت

    بلا سود قرضہ دیا جائے گا صدر مملکت

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت مگس بانی اور شہد کی پیداور کے متعلق اجلاس ہوا، جدید آلات اور مگس بانوں کی جدید خطوط پر تربیت سے پاکستان میں شہد کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے، ملکی آب و ہوا اور نباتات مگس بانی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، مگس بانی کے شعبے میں زرمبادلہ کمانے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے، نوجوانوں کو محدود سرمایہ کاری سے مگس بانی اور شہد کا کاروبار شروع کرسکتے ہیں، حکومت کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ، حکومت نوجوانوں کو کاروبار کیلئے 500،000 روپے تک بلاسود قرض فراہمی کررہی ہے.
    وزارت ماحولیاتی تبدیلی اور ایرڈ یونیورسٹی کی اجلاس کو مگس بانی کے فروغ کیلئے کیے جانے والے اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا شہد کی پیداوار میں اضافے کیلئے بیری کے 60 لاکھ درخت اور پھلاہی کے ۱ کروڑ درخت لگائے گا.

  • آب و ہوا میں تبدیلی  اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

    آب و ہوا میں تبدیلی اورہرجگہ منفی اثرات کی وجہ سےویسٹرن مونارک تتلیاں ناپید ہونے کے قریب

    ایریزونا: پچھلی چند دہائیوں کے دوران حالیہ کئی مطالعات میں کیڑوں میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہےجن میں ویسٹرن بٹرفلائی بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : ویسٹرن بٹر فلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور گزشتہ 40 سال سے اب تک ہرسال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980 سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے۔

    ’ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں،‘ تحقیق میں شامل سائنسداں کیٹی پروڈِک نے کہا جو جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھتی ہیں۔

    ان کے خیال میں ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جاپہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہورہا ہے اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جارہی ہیں۔

    اس تحقیق میں عام شوقین افراد، ماہرین اور تتلیوں سے وابستہ سائنسدانوں نے مغربی امریکا سے جمع کردہ 40 سالہ ڈیٹا پیش کیا ہے اس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور تتلیوں کے قدرتی مسکن اور زمین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم اس میں مغربی یورپ کے گنجان آبادیوں میں تتلیوں کا احوال بھی شامل ہے لیکن آب و ہوا میں تبدیلی ہر جگہ منفی اثرات کی وجہ بن رہی ہے اور تتلیوں کی اقسام معمولی گرمی سے بھی شدید متاثر ہورہی ہیں۔

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمِ بہار سمیت پورے سال موسمی حدت بڑھ رہی ہے یہ تتلی جیسے حساس جاندار پر دباؤ ڈال رہا ہے ان کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اورہائبرنیشن کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے ان کی خوراک اور پودے بھی کم ہوتے جارہے ہیں اسی وجہ سے تتلیوں کی کئی اقسام نقل مکانی پر بھی مجبور ہیں مثلاً سویلوٹیل بٹرفلائی اپنے اصل مسکن سے 325 کلومیٹر دور جاچکی ہے-

  • جالے بنانے والی مکڑیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جالے بنانے والی مکڑیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    بالغ نر مکڑی جالا نہیں بناتا،

    Reference:- Speeli, Do only female spiders
    build webs, 2019
    "آثار قدیمہ کے ادبی علوم میں یہ متفقہ طور پر قبول کیا گیا ہے کہ مادہ مکڑی عام طرح کے جالے بناتی ہے، جبکہ نر مکڑی جالا نہیں بناتا سوائے صحبت اور نطفہ شامل کرنے کیلئے”

    نر مکڑی جالا نہیں بناتا، اسکی بجائے وہ ریشم کو ملاپ کیلئے محفوظ رکھ لیتے ہیں، یہ مادہ مکڑیاں ہوتی ہیں جو جالے بناتی ہیں۔
    یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکی نشاندہی کردی گئی تھی۔

    Quran 29:41
    مَثَلُ الَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَـبُوْتِۚ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَـبُوْتِ ۘ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (العنکبوت 41#)

    "ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی مثال ہے، جس نے گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا ہے، کاش وہ جانتے۔”

    عربی میں "اِتَّخَذَ” کا لفظ نر جنس کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ مادہ جنس کیلئے "اِتَّخَذَتْ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مادہ مکڑیاں ہیں جو جالے بناتی ہیں۔

    1400 سال پہ رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ صرف مادہ مکڑیاں ہی جال بناتی ہیں۔۔۔؟؟؟؟؟

    مکڑیاں شکار کو پکڑنے کیلئے جالے بناتی ہیں۔ مگر ہر دفع جب وہ شکار کو پکڑتی ہیں تو جالے کو نقصان پہنچتا ہے یا جالا مکمل ٹوٹ جاتا ہے۔

    Reference:- Discover Wildlife, 14 incredible spider facts, 2019
    "بارش اور ہوا انکے جالے کی ساخت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جبکہ سرپل دھاگے(پیچ دار) پہ چپکنے والی کوٹنگ جو نزدیک اڑنے والےحشرات کے جالے میں آنے کی وجہ بنتی ہے، مٹی اور دھول کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اکثر جالے ہر رات بنائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں مکڑی کو 20 میٹر ریشم کی ضرورت پڑتی ہے۔”

    یہ ایسی مخلوق ہے جسکا گھر ہر دفعہ تباہ ہوجاتا ہے جب یہ اپنے شکار کو پکڑتی ہے۔ اور یہ جالا تو صرف ہوا کی وجہ سے بھی نقصان اٹھا سکتا ہے۔ "مگر مکڑیوں کا گھر ہی ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے”

    1400 سال پہ رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ کس مخلوق کا گھر سب سے زیادہ کمزور ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال سے برف میں محفوظ گینڈے کی لاش دریافت-

    باغی ٹی وی : سائبرین ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برفانی عہد کا یہ گینڈا اگست 2020 میں یوکیتیا کے خطے میں اس وقت دریافت ہوا جب وہاں کی برف پگھل گئی۔

    خیال کیا جارہا ہے کہ یہ گینڈے کا بچہ ہے جس کی عمر 3 سے 4 سال ہوسکتی ہے اور اس کی موت 20 سے 50 ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔

    جب سے اس کا جسم برف میں منجمد ہوکر محفوظ تھا اور اب بھی اس کے بال، نرم ٹشوز، آنتیں، دانت، چربی کے ٹکڑے اور سینگ جسم کا حصہ ہیں یہاں تک کہ اس کا آخری کھانا ابھی بھی برقرار ہے-

    یوکیتیا کے اکیڈمی آف سائنسز کی ڈاکٹر ویلری پیٹونیکوف نے بتایا یہ نوعمر گینڈا 3 سے 4 سال کا تھا اور ممکنہ طور پر ڈوب کر ہلاک ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے معلوم ہوگا کہ اس کی موت کب ہوئی مگر امکان ہے یہ 20 سے 50 ہزار سال سے پرانی لاش ہے۔

    اس سے قبل اسی خطے سے 2014 میں ایک ایسے ہی گینڈے کے بچے کے منجمد جسم کو دریافت کیا گیا تھا جو کہ 34 ہزار سال پرانا تھا۔

    ڈاکٹر ویلری نے وضاحت کی کہ اس نو دریافت شدہ گینڈے کا جسم گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا ہے، جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ اس زمانے کے گینڈوں نے کم عمری میں ہی سرد موسم سے مطابقت حاصل کرلی تھی۔

    یہ خطہ قدم عہد کے جانوروں کی دریافت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور اس نئی دریافت کو خطے کے صدر مقام یاتوسک میں بھیجنے کے لیے برف سے بنی سڑکوں کے بننے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

  • جانوروں کی کالونیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی کالونیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Colonies
    جانور کالونیوں میں اکٹھے رہتے ہیں۔

    Reference:- Wikipedia,Colony(biology), 2019
    "سماجی کالونیاں
    چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی طرح Eusocial نامی ایسے حشرات جو ملٹی سیلولر یعنی کثیر الجہتی(ایک سے زیادہ سیلز پہ مشتمل) ہوتے ہیں، ایک بڑی منظم سماجی ساخت کی طرح کالونیوں میں رہتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ سماجی کالونیاں سپر آرگینیزمز یعنی حیوانی جسم کی ساخت پہ مشتمل ہوتی ہیں۔
    جانور، انسانوں کی طرح اور کترنے والے جانوروں کی طرح، نشل کشی یا گھونسلا تشکیل دیتے ہیں، ممکنہ طور پر زیادہ کامیاب ملن کیلئے اور اولاد کی بہتر حفاظت کیلئے۔”

    آج ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ جانور برادریوں(کمیونیٹیز) میں رہتے ہیں اور ان کی اپنی زبانیں ہوتی ہیں۔
    جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ کہہ دیا گیا تھا۔

    Quran 6:38

    "اور ایسا کوئی زمین پر چلنے والا نہیں اور نہ کوئی دو بازوؤں سے اڑنے والا پرندہ ہے مگر ہاں یہ کہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں(برادریاں جانوروں کی) ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔”

    جانوروں کی بھی جماعتیں ہیں انسانوں کی جماعتوں کی طرح۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ جانوروں کی یہ جماعتیں کالونیوں میں رہتی ہیں۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ جانور کالونیوں میں رہتے ہیں؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جانوروں کی زبان کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی زبان کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔

    انسان نے کچھ پرندوں کی زبانیں ڈی کوڈ(سمجھنے کی کوشش) کی ہیں۔

    Reference: Popular Science, How to decode the secret language of birds, 2018
    صدیوں سے مقامی امریکیوں کا لوگوں اور دوسرے جانوروں کا ٹھکانہ معلوم کرنے کیلئے اس نام نہاد “پرندوں کی زبان” پر انحصار کرتے ہیں جو بصورت دیگر انسانی آنکھوں کیلئے پوشیدہ رہ جایا کرتے ہیں۔
    کوئیر نیچر کی شریک بانی(کو فاونڈر) مس پینار جو پرندوں کی زبان پہ کورسز پڑھاتی ہیں، کہتی ہیں کہ
    “مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بڑے شکاریوں کو جاننے کیلئے پرندوں کی زبان کا استعمال کرتے رہے ہیں، یہ سمجھانے کے قابل ہوتے ہیں اور جنگل میں ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں۔”

    اس تحقیق کے مطابق آج ہم جانتے ہیں کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
    مگر 1400 سال پہلے قرآن نے کہہ دیا تھا کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔

    Quran 27:16
    وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ (النمل 16)
    “اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔”

    سلیمان نے پرندوں کی بولی(زبان) سیکھ لی۔

    قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ تمام جانور اللہ کی تسبیح و تعریف کرتے ہیں مگر ہم لوگ انکی یہ تعریف نہیں سمجھ سکتے۔

    Quran 17:44
    تُسَبِّـحُ لَـهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْـهِنَّ ۚ وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُـمْ ۗ اِنَّهٝ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا (الاسراء 44)

    ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔

    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ جانوروں کی بھی اپنی کوئی زبان موجود ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ریپٹرز پرندوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ریپٹرز پرندوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے)

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔

    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔

    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!