Baaghi TV

Category: سری نگر

  • بھارت کا مقبوضہ جموں کشمیر میں ہندو دیوی دیوتاؤں پر تھیم پارک بنانے کا فیصلہ

    بھارت کا مقبوضہ جموں کشمیر میں ہندو دیوی دیوتاؤں پر تھیم پارک بنانے کا فیصلہ

    بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں کشمیرمیں وشنو دیوی کے مندر کے قریب ہندوستانی افسانوں ، خاص طور پر رامائن اور مہا بھارت کی نمائش کے لئے ڈزنی لینڈ طرز کا تھیم پارک بنانے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی خبر رساں ادارے ٹائمز ناؤ کی ایک رپورٹ کے مطابق ، کیترا تھیم پارک کا مقصد تعلیم اور تفریح ​​کو جوڑنا ہے۔

    سینئر سرکاری عہدیداروں نے کہا کہ علاقے کی ترقی کی کوشش سیمنٹ بنانے والی فیکٹریوں کی تعمیر سے نہیں ہوگی بلکہ انوکھے طریقے استعمال کر کے ہوگی۔

    کیترا تھیم پارک کا مطلب ہے کہ لگ بھگ 500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی اور اس کے لئے ڈزنی جیسے انٹر نیشنل ساتھی کی تلاش کی جا رہی ہے۔

    نیشنل نیوز چینل نے رپوٹ میں کہا کہ چونکہ تھیم پارک وشنو دیوی مندر کے قریب ہوگا (یہاں تین مجوزہ مقامات ہیں ، جن میں سے ہر ایک قریب ہے) ، جو ہر سال 8 ملین سے زیادہ زائرین کو راغب کرتا ہے ، ہر سال یہاں بڑی تعداد میں زائرین آئیں گے تو تھیم پارک ہر روز سیکڑوں عقیدت مندوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

    مرکز کی معاونت کے ساتھ ، مقبوضہ جموں کشمیر حکومت نے اس منصوبے میں غیرملکی شراکت دار کی تلاش شروع کردی ہے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ، کوشش ہے کہ ایک طاقتور مکی ماؤس کے بغیر ڈزنی لینڈ لیکن رام اور سیتا اور کرشنا اور ارجن پر مشتمل ایک عالمی معیار کا تھیم پارک بنایا جائے –

  • وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

    وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

    مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ‘ریپر’ مہک اشرف وادی کی پہلی خاتون ریپر بن گئیں ہیں۔

    باغی ٹی وی :ڈان آئیکون کی رپورٹ کے مطابق مہک اشرف نے اس وقت ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا جب وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں۔

    19 سالہ مہک اشرف نے امریکی ‘ریپر’ و موسیقار ‘امینم’ کی کہانی اور جدوجہد سے متاثر ہوکر اپنا نام بھی ‘منائم ام’ رکھا ہے۔

    مہک اشرف المعروف منائم ام اس وقت گورنمنٹ ویمن کالج سری نگر سے بیچلر مکمل کرنے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تاہم اب تک وہ پوری وادی سمیت پاکستان و بھارت میں اپنی منفرد گلوکاری کی وجہ سے مقبول ہو چکی ہیں-

    منائم ام کو 2016 میں اس وقت توجہ حاصل ہوئی جب قابض بھارتی فوج نے وہاں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان الدین وانی کو شہید کردیا تھا۔

    حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کے بعد وادی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث وہاں 6 ماہ کے لیےتعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے اور اسی دوران ہی مہک اشرف نے ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی نظروں میں آگئیں۔

    منائم ام کو ابتدائی طور پر مقامی ایف ایم ریڈیو کی خاتون ہوسٹ نے ریڈیو پر متعارف کرایا اور بعد ازاں انہوں نے 2 لڑکوں پر مشتمل ایک میوزیکل بینڈ کے ساتھ بطور گلوکارہ کام کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب گئیں۔

    منائم ام کے مطابق لڑکی ہونے کے ناطے ‘ریپر’ گلوکاری میں ان کا آنا معیوب سمجھا گیا اور ابتدائی طور پر ان کے والدین نے بھی ان کی گلوکاری کی مخالفت کی لیکن بعد ازاں والدین ان کے شوق کے آگے ہار گئے اور ان کی سپورٹ کرنا شروع کی۔

    منائم ام کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں کہا گیا کہ وہ محض شہرت حاصل کرنے کے لیے گلوکاری کر رہی ہیں اور انہیں بھارتی گلوکارہ ڈھنچک پوجا بھی قرار دیا گیا۔

    حکومت پاکستان نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے گردوارا بابا گرو نانک پر فلمائے…

    منائم ام نے بتایا کہ تاہم اب لوگ جان چکے ہیں کہ وہ محض شہرت کے لیے ‘ریپر’ گلوکاری نہیں کر رہی تھیں بلکہ وہ اس کے ذریعے مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    انہوں نے امریکی گلوکارہ و ریپر نکی مناج، کار ڈی بی، ڈریک اور ففٹی پرسنٹ کو اپنا پسندیدہ ریپر قرار دیا۔

    منائم ام مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی اور جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی گانے ریلیز کرنا چاہتی ہیں جب کہ وہ اپنی منفرد گلوکاری کے ذریعے وادی کشمیر کے سیاسی و سماجی مسائل کو بھی دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔

    رابی پیر زادہ مصوری میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی

  • انجینئر بننے کا خواب دیکھنے والا جوان جو مجاہدین کا کمانڈر بنا ، آج شہید ہو گیا، تحریر طہ منیب

    حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف ریاض نیکو آج دوپہر کو بھارتی فوج سے مقابلے میں شہید ہو گئے۔ چار دن قبل ہوئے ایک معرکے میں مجاہدین کے ہاتھوں تین افسروں (کرنل ، میجر ، ایس او جی انچارج ) اور متعدد فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی ، جس کے بعد بھارت پر جوابی کارروائی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ گزشتہ رات ریاض نیکو کی اپنے آبائی گاؤں آمد کی انٹیلیجنس پر بھارتی فوج نے انکے گاؤں کا گھیراؤ کیا، صبح نو بجے گن فائٹ کا آغاز ہوا جو چار گھنٹے جاری رہا ، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج نے بارود لگا کر انکے گھر کو تباہ کر دیا جس میں ریاض نیکو کی شہادت ہو گئی ، شجاعت و ہمت کا ایک باب مکمل ہوا۔

    ریاض نیکو انجنیئر بننے کے خواہاں تھے، لیکن 2010 میں کچھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ، بھارت کے خلاف تاریخی پتھراؤ تحریک چلی اس میں ریاض نیکو دوستوں کے ساتھ گرفتار ہو گئے اور ٹارچر سیلوں میں ہونے والی مار نے انجینئر بننے کا خواب چکنا چور کر دیا ، ریاض نیکو نے گن اٹھا کر پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا، بارہ لاکھ سر کی قیمت لیے گزشتہ آٹھ سالوں سے بھارت کا مطلوب ترین شخص ریاض نیکو ہی تھا۔ کیونکہ چار سال پہلے کشمیر کے پوسٹر بوائے برہان وانی کی شہادت کے بعد حزب کو آپریشنلی سںنبھالا اور بھارتی فوج کیلئے درد سر بنے رہے۔

    جس طرح برہان کے بعد سینکڑوں برہان کھڑے ہوئے ، ایک ریاض نیکو کے بعد ہزاروں جوان انکی جگہ لیں گے۔ کشمیری جان چکے کہ آزادی کی منزل کا راستہ کیا ہے، یہ قربانیوں اور غیرت کا راستہ طویل ضرور ہے لیکن نتیجہ خیز ہوگا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

  • مقبوضہ کشمیر،تصاویر اور ویڈیو گرافی، جان جوکھوں کا کام

    مقبوضہ کشمیر،تصاویر اور ویڈیو گرافی، جان جوکھوں کا کام

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم ہونے کے بعد وادی میں فوٹوجرنلزم (تصاویر کشی اورویڈیو ) صحافیوں کے لیے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

    مودی کا دورہ امریکہ، مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر مزید پابندیاں

    بھارتی میڈیا کے مطابق پانچ اگست کو جب جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کیا گیاتو انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند کر دی گئی۔سروس کی بندش کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ امور کو انجام دینے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

    فوٹوجرنلسٹ ذہیب جن کی 2016 میں عوامی احتجاج کی تصاویر کشی کے دوران پیلٹ لگنے کی وجہ سے ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی، نے کہا کہ کہا کہ ‘ کشمیر جیسے حساس خطے میں صحافت خصوصاً تصاویر یا ویڈیو گرافی کرنا کافی مشکل ہے۔ کشمیر میں صحافتی خدمات انجام دینا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

    ذہیب کے مطابق ‘ کئی بار سکیورٹی اہلکار تصاویر کو کیمرے سے ڈیلیٹ کروادیتے ہیں،اسی طرح بعض دفعہ صحافیوں کو گرفتار بھی کیا جاتا ہے۔ کشمیر میں صحافت خطروں کا کھیل ہے۔ ‘

    فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد متو کے مطابق ‘کشمیر میں عام حالات میں بھی کام کرنا آسان نہیں، آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش سے صحافیوں کا کام تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

    ثنا ارشاد نے بھارتی فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار شناختی کارڈ اور کرفیو پاس ہونے کے باوجود بھی صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکتے تھے۔“

  • عالمی یوم امن، مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ

    عالمی یوم امن، مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ

    دنیا آج امن کا عالمی دن منا رہی ہے۔ ایسے میں دہائیوں سے حل طلب مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کے لئے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

    مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات ضروری: اقوام متحدہ

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان 72سال سے تنازعہ چلا آ رہا ہے جو کسی بھی وقت جوہری جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کئی قراردادیں منظور کیں۔ لیکن بھارت ابھی تک ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مضبوط کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں فوجی طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہا ہے۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 1989 سے لے کر اپنی ریاستی دہشت گردی میں 95ہزار سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے پورے خطے کے امن کو داﺅ پر لگا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ 48دن سے کرفیو نافذ ہے جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔

  • مودی کا دورہ امریکہ، مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر مزید پابندیاں

    مودی کا دورہ امریکہ، مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر مزید پابندیاں

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کل سے امریکہ کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    مقبوضہ کشمیر: سری نگر کی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں ہفتہ نماز جمعہ پر پابندی

    مودی کے دورہ امریکہ سے قبل ہی مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیاں کافی سخت کر دی گئی ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو دنیا والوں کی نگاہ سے چھپایا جا سکے۔ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس تاحال بند ہے۔ جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے اخبارات کے آن لائن ایڈیشن بھی انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں۔

    دریں اثناء مقبوضہ وادی میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عائد ہے۔ قابض حکام نے وادی کے اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 47 ویں دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا۔ 5 اگست سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔مقبوضہ وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی تاحال بند ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر: بچوں کی گرفتاری، بھارتی سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کی

    مقبوضہ کشمیر: بچوں کی گرفتاری، بھارتی سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کی

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں بچوں کی گرفتاری پر بھارتی سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کر لی۔

    آرٹیکل 370 ہٹانے پر سپریم کورٹ کا مودی کو نوٹس، آئندہ سماعت کب ہو گی….جانیے

    سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے اور مقبوضہ وادی کے لوگ ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کر پا رہے۔ حذیفہ احمدی بچوں کے حقوق سے متعلق ایک غیرسرکاری تنظیم کے ذمہ داران اناشی گنگولی اور شانتا سنہا کی نمائندگی کررہے ہیں۔

    بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ وہ کشمیر میں بچوں کی مبینہ حراست سے متعلق درخواست کی تفتیش کرے گی کیونکہ اس میں نابالغوں سے متعلق ‘خاطر خواہ مسائل’ اٹھائے گئے ہیں۔

    دریں اثناء سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی جووینائل جسٹس کمیٹی کو اس معاملے پر ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    دریں اثنا آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں پانچ افراد کی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔

  • مقبوضہ کشمیر: سری نگر کی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں ہفتہ نماز جمعہ پر پابندی

    مقبوضہ کشمیر: سری نگر کی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں ہفتہ نماز جمعہ پر پابندی

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ساتویں ہفتہ سری نگر کی جامع مسجد اور کئی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہ کی جا سکی۔ جامع مسجد 5اگست سے بند ہے اور اس کے اردگرد بھارتی فوج کا کڑا پہرہ ہے۔

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی دکانوں کو آگ لگانے لگے

    دریں اثناءم قبوضہ کشمیر میں آج بھی سری نگر کے پائین شہر میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر ایک بار پھر پابندی عائد کی گئیں۔ اسی طرح دیگر 9 اضلاع دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی رہی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر مسلسل 47 ویں دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب رہا۔ 5 اگست سے تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔مقبوضہ وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی تاحال بند ہے۔

  • مودی حکومت کشمیری عوام کا معاشی قتل عام کرنے کے درپے

    مودی حکومت کشمیری عوام کا معاشی قتل عام کرنے کے درپے

    مودی حکومت نے مظلوم کشمیری عوام سے دشمنی کی ہر حد پار کر لی ہے اور اب ان کا معاشی قتل عام کرنا چاہتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں‌ بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 47 واں روز۔ مظالم جاری
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارت سرکار کی طرف سے لگائے گئے کرفیو کی وجہ سے سیب درختوں پرہی گلنے سڑنے لگے ہیں۔ درختوں سے سیب اتارے گئے اور نہ ہی منڈیوں تک پہنچائے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق سیب کے لیے مشہور اور لٹل لندن کہلانے والا سوپور شہر آج ویران پڑا ہے۔ سیب کی منڈیاں خالی جبکہ ٹرانسپورٹرز کو بھی پابندی کا سامنا ہے۔

    رائٹرز نے لکھا ہے کہ 35لاکھ کشمیریوں کا سیب کی فصل پر انحصار ہے۔ دریں اثنا معاشی مشکلات سے کشمیریوں میں بھارت کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ چکی ہے۔

  • کشمیری سیاستدان شاہ فیصل نے اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست واپس لے لی

    کشمیری سیاستدان شاہ فیصل نے اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست واپس لے لی

    کشمیری سیاستدان ، شاہ فیصل نے کہا ہے کہ سینکڑوں کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے پاس کوئی قانونی مدد نہیں ہے۔

    شاہ فیصل نے اپنی حراست کو چیلنج کرنے والی درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کرتے ہوئے ، ایک حلف نامے کے ذریعے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست پر عملدرآمد نہیں چاہتے کیوں کہ بیشتر کشمیری نظربندوں کے پاس قانونی مدد کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ .

    بھارتی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ٹشر مہتا نے ، جسٹس منموہن اور سنگیتا دھینگرا سہگل کے بنچ کو بتایا کہ انہوں نے فیصل کی اہلیہ کی جانب سے درخواست واپس لینے کے لئے دائر حلف نامے کے مندرجات کو تسلیم نہیں کیا۔ فیصل کی اہلیہ کے حلف نامہ داخل کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے فیصل کو اس کی درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔

    فیصل کی اہلیہ نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ حال ہی میں وہ فیصل سے حراست میں ملیں اور انہیں درخواست واپس لینے کے لئے ہدایات موصول ہوئی جس کے تحت حراست میں رکھے ہوئے کسی فرد کو عدالت کے روبرو لایا جانا ضروری ہے۔

    فیصل کی اہلیہ نے کہا کہ 10 ستمبر کو ، میں (بیوی) نے سری نگر کے حراستی مرکز میں درخواست گزار (فیصل) سے ملاقات کی جہاں اسے نظربند کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں ، مجھے درخواست گزار کی طرف سے موجودہ درخواست واپس لینے کے لئے واضح زبانی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔

    اہلیہ کے بقول درخواست گزار نے مجھے بتایا کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سینکڑوں دیگر کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے ، اس حقیقت سے بخوبی واقف ہونے کی وجہ سے کہ ان میں سے زیادہ تر حراست میں ہیں اور ان کے پاس کوئی قانونی مدد نہیں۔ وہ اب اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف قانونی طور پر موجودہ درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا اس عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ درخواست دہندہ کو موجودہ درخواست کو واپس لینے کی اجازت دیں۔

    یاد رہے کہ شاہ فیصل کے پیروکار کی طرف سے اس کی رہائی کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سابق بیوروکریٹ کو 14 اگست کو دہلی ہوائی اڈے پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں سری نگر واپس لے جایا گیا تھا ، جہاں انہیں نظربند رکھا گیا ہے۔