Baaghi TV

Category: کھانےوترکیب

  • مٹن یخنی بنانے کی ترکیب

    مٹن یخنی بنانے کی ترکیب

    مٹن یخنی

    ٹائم: 2سے 2½ گھنٹے

    5سے 6 کپ

    اجزائے ترکیبی مقدار
    مٹن کی ہڈیاں ایک کلو
    ادرک (کترا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    ٹماٹر (کترے ہوئے) آدھاکپ
    ہرا دھنیا (کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    کالی مر چ (ثابت) 6سے 8 دانے
    لونگ 2سے 3عدد
    دار چینی ایک ٹکڑا
    سوکھا دھنیا 1چائے کا چمچ
    سجاوٹ کے لئے:
    ہرا دھنیا ایک کھانے کا چمچ

    طریقہ کار:
    ایک بڑے برتن میں دو لیٹر پانی ڈالیں اس میں مٹن کی ہڈیاں شامل کرکے 2منٹ تک پکائیں اور پانی پھینک دیں اور ہڈیاں الگ نکال لیں۔ اب تین لیٹر پانی شامل کرکے مٹن کی ہڈیاں دوبارہ ایک گھنٹے کے لئے ہلکی آنچ پر ابالیں۔ اب اس پر آیا ہو فالتو جھاگ اور گھی اتار دیں اور صاف یخنی الگ کریں۔ اب باقی تمام مصالحے شامل کرکے مزید ایک گھنٹہ درمیانی آنچ پر ابالیں۔اب ململ کے کپڑے سے اسے چھان لیں۔ اسے دوبارہ ابالیں تیز ابال آنے تک کچھ منٹ پکائیں۔ مٹن یخنی تیارہے۔ سجاوٹ کیلئے اس پر کٹا ہوا ہرا دھنیا چھڑک دیں۔ آپ اسی طریقے سے بیف، چکن یہاں تک کہ بٹیروں کی یخنی بھی بنا سکتے ہیں۔

  • دال اور ادرک کا سوپ ریسیپی

    دال اور ادرک کا سوپ ریسیپی

    دال اور ادرک کا سوپ

    وقت : 30سے35منٹ

    5 یا 6 کپ

    اجزائے ترکیبی مقدار

    مونگ کی دال (دھلی ہوئی اور کٹی ہوئی) آدھا کلو

    تیل 2کھانے کا چمچ

    پیاز (کٹے ہوئے) 1/4کپ

    درک لہسن کا پیسٹ 1چمچ

    ادرک (لمبائی میں کٹا ہوا) 1کھانے کاچمچ

    ٹماٹر (چھوٹے ٹکڑے) 1/4کپ

    چکن یا سبزی کا یخنی 4کپ

    نمک حسب ذائقہ

    سرخ مرچ پسی ہوئی 1چائے کا چمچ

    کالی مرچ ثابت 8سے 10 دانے

    لونگ 2عدد

    تیزپات 1درمیانہ

    موٹی الائچی 1عدد

    چھوٹی الائچی 2عدد

    دارچینی 1 ٹکڑا

    سجاوٹ کے لئے :

    SNP کا گرم مصالحہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ

    تلے ہوئے پیاز 2کھانے کے چمچ

    سوپ بنانے کا طریقہ :
    دال کو آدھے گھنٹے کے لئے بھگو دیں۔ ساس پین میں تیل گرم کریں پیاز شامل کرکے ہلکا براؤن تل لیں ادرک اور لہسن کا پیسٹ شامل کریں۔ اب کٹی ہوئی ادرک بھی شامل کرکے ایک منٹ تک پکائیں۔ اب ٹماٹر اور تمام مصالحہ جات شامل کرکے تھوڑا پانی ڈال کر چند منٹ کے لئے پکائیں۔ اب دال شامل کرکے چکن یا سبزیوں کا سوپ ڈال دیں۔ اب دال پوری طرح گلنے تک پکائیں۔ اس مکسچر کوگرائنڈ کریں اور برتن میں نکال لیں۔ فرائی کئے ہوئے پیاز اور گرم مصالحہ چھڑک کر پیش کریں۔ دوسری دالوں کا سوپ بھی آپ اسی طرح بنا سکتے ہیں۔

  • ملیگا تاؤنی سوپ بنانے کی ترکیب

    ملیگا تاؤنی سوپ بنانے کی ترکیب

    ملیگا تاؤنی سوپ

    وقت :50سے60منٹ

    پانچ سے چھ کپ کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار

    بغیر ہڈی کے چکن (ابلا اور ریشے کئے ہوئے) 100گرام
    چکن کی یخنی 6کپ
    مکھن(بغیر نمک) 3کھا نے کے چمچ
    پیا ز (موٹا کوٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    ادرک لہسن(باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    دال مسور (دھلی اور بھگوئی ہوئی) 1کپ
    ٹماٹر (کٹے ہوئے) 2چمچ
    سیب (پتلی کاشیں) 1چھوٹا
    کالی مرچ (ثابت) 6سے 7 دانے
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ (پسی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    ہلدی 1چائے کا چمچ
    زیرہ آدھا چمچ
    کالی مرچ (کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    ناریل کا پاؤڈر 1 کھانے کا چمچ
    لونگ 2سے 3دانے
    چھوٹی الائچی 3سے 4دانے
    تیزپات 1درمیانہ
    سفید آٹا آدھا کپ
    کریم آدھا کپ
    لیموں کارس 2سے 3 کھانے کے چمچ
    سجاوٹ کے لئے :
    سفید ڈبل روٹی کا فرائی ٹکڑے 1کپ
    گاڑھی کریم 1کپ
    ابلے چاول ½ کپ

    پکانے کا طریقہ:
    ایک بڑے ساس پین میں مکھن، پیاز، کترا ہواادرک ورلہسن اور دال مسور ڈال دیں۔ تین سے چار منٹ تک درمیانی آنچ پر رکھ دیں۔اس میں ٹماٹر، سیب، ثابت کالی مرچ، زیرہ، سرخ مرچ پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، ناریل کا پاؤڈر، لونگ، چھوٹی الائچی اور تیزپات شامل کردیں۔ آٹھ سے دس منٹ تک اسے مزید پکائیں۔ آٹا شامل کرکے چند منٹ کے لئے ہلائیں۔ اب اس میں چکن کی یخنی شامل کردیں اور اس وقت تک پکائیں جب تک مسورکی دال گل نہ جائے۔ اب اسے چولہے سے اتار کر اچھی طرح مکس کریں یہاں تک کہ وہ ملائم شکل اختیار کرلے۔ اب اسے علیحدہ برتن میں 20سے30منٹ تک گاڑھا ہونے تک پکائیں۔ چولہاہلکا کردیں اور چکن کے ریشے، نمک، کالی مرچ، کریم اور لیموں کا رس شامل کردیں۔ سوپ میں ڈبل روٹی کے فرائی ٹکڑے سجا کر اوپر کریم اور ابلے ہوئے چاول ڈال کر سجائیں اور گرما گرم پیش کریں۔ آپ چکن کے بغیر سبزی کا سوپ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس میں سبزیوں کی یخنی یا پانی شامل کرسکتے ہیں۔

  • کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    بالٹی:
    جسے کڑاہی بھی کہا جاتا ہے۔ خیبرپاس کے چھوٹے مختلف قصبوں سے یہ شروع ہوئی۔ 60کی دہائی کے شروع میں جب سیاحوں نے بڑی تعداد میں ان علاقوں کا رخ کیا تو انہیں کھلانے کے لئے ذرائع میسر نہیں تھے تو انہوں نے بالٹی میں دنبے کا گوشت پکانا شروع کیا۔ دنبے کا گوشت اپنی ہی چربی میں صرف نمک کے ساتھ تیز آنچ پر پکایا جاتا تھا۔ آخر میں چند ٹماٹراور کچھ سبز مرچیں بھی شامل کرلی جاتیں۔پاکستان کے دیگر علاقوں میں بالٹی کو کڑاہی کہاجاتا ہے اور اس میں زیادہ احتیاط سے پکایا جاتا ہے۔روایتی طور پر صرف دنبے یا مٹن کو اس طریقے سے پکانے کو بالٹی یا کڑاہی کہا جاتا تھا بعد میں چکن بھی بالٹی یا کڑاہی کے طورپر مشہور ہو گیاتاہم دال یا سبزی بالٹی جیسی کوئی چیزموجود نہیں۔

    پرات:
    پرات ایک چپٹے پیند ے والے 6سے8سینٹی میٹر گھیرے پر مشتمل ایک برتن ہے جو اشیا کو گوندھنے اور مکسنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ المونیم کا بنا ہوتاہے تاہم بعدمیں یہ سٹین لیس سٹیل میں بھی آنے لگا۔ اسے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیاجاتا ہے عام طورپر اس میں روٹی پکانے کے لئے آٹا گوندھا جاتا ہے۔

    اسٹیمر:
    یہ ایک تہہ دار ڈبہ ہے۔ جو کسی دھا ت یا بانس سے بنا ہوتا ہے جوکہ ابلتے ہوئے پانی پر رکھ دیا جاتا ہے۔ کھاناپکانے کے حصہ میں رکھ دیا جاتا ہے اور اوپر سے ڈھانپ دیاجاتا ہے تاکہ بھاپ باہر نہ نکل سکے بھاپ سے پکانے کا عمل ایک بہترین طریقہ ہے جس میں کھانے کی اصل شکل اور غذائیت برقرار رہتی ہے۔ مزید برآں بھاپ کے اس عمل میں تیل مشکل ہی استعمال ہوتاہے۔

    باسمتی چاول:
    باسمتی چاول پاکستان میں لمبے اورخوشبودار چاولوں کی ایک قسم ہے۔ بلاشبہ پاکستانی باسمتی چاول دنیا میں بہترین ہیں۔ پکانے پراس کے دانے اپنے سائز سے دگنے ہوجاتے ہیں اور ایک خوشبو دیتے ہیں۔ یہ کافی سخت ہوتے ہیں۔ ایک سال یا اس کے بعد یہ ذائقے میں بہترین ہوجاتے ہیں۔

    باتھو:
    یہ سبز پتوں پر مشتمل ایک پودا ہے جو گندم کے کھیتوں میں اگتا ہے۔ یہ صرف سردیوں کے موسم میں دستیاب ہے اور مختلف ڈشز اور رائتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آلو اور ساگ کے ساتھ اس کا ملاپ بہت مقبول ہے۔

    بھرتہ:
    بھرتہ پاکستانی اور بھارتی پکوانوں دونوں کا حصہ ہے۔ یہ مختلف سبزیوں سے بنایا جاتا ہے جیسا کہ بینگن یا آلو وغیرہ سے۔ بھرتہ میں سبزیاں پہلے پکائی جاتی ہیں پھر کاٹ کر کوٹا جاتا ہے اور اس میں مختلف مصالحہ جات بھی شامل کرلئے جاتے ہیں۔

    بھجیا:
    پکی ہوئی سبزی کی کسی بھی خشک شکل کو بھجیا کہا جاتا ہے۔ یہ آلو، بینگن، بند گوبھی، شلجم حتیٰ کہ انڈے کی بھی ہوسکتی ہے۔ بھجیا بناتے ہوئے زیادہ تر پانی ڈالا جاتا ہے اور پھر اسے تیار ہونے تک خشک کرلیا جاتا ہے۔

    بریانی:
    بریانی پکے ہوئے چاولوں کی ایک ایسی قسم میں جو گوشت، مرغی یا سبزی کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔ بہت سی بریانی مصالحے دار اور رنگدار ہوتی ہے اسے عموماً رائتے یا کچھ بھی ڈالے بغیر کھایا جاتا ہے۔

    بلانچنگ (چھلکے اتارنا) :
    بلانچنگ کا مطلب مغزیات یا دیگر پھل اور سبزیوں کو مختصر وقت کے لئے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر پھر انہیں فوری طور پر ٹھنڈے پانی میں ڈالنا ہے تاکہ ان کے چھلکے اتارے جاسکیں اور انکی شکل اورذائقے کو بھی برقرار رکھا جاسکے۔ ٹماٹر کو پورا بلانچ کرکے چھلکا اتارا جاسکتا ہے۔ بلانچنگ کچھ سبزیوں کو پکنے کے لئے یا فریز کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔

    بوٹی تکہ:
    گوشت،مچھلی یا مرغی کے ٹکڑے جو انگیٹھی پر پکائے جائیں۔

    بٹر فلائی:
    جب گوشت، مرغی یامچھلی کوعلیحدہ کئے بغیر کاٹا جائے تویہ عمل ”بٹرفلائی“ کہلاتا ہے۔مثال کے طورپر ایک ”پران“ کو لمبائی میں کاٹ کر سیدھا کریں تو یہ تتلی کی شکل سے مشابہت رکھے گی۔اسی طرح چکن کا سینہ یا بیف کوبھی اسی طریقے سے کاٹا جاسکتا ہے۔

    چاٹ:
    چاٹ سبزی، پھلوں اور دالوں پر مشتمل ایک مکسچر ہے۔ اس میں پیاز، سبز مرچ، چھوٹی الائچی اور مختلف مصالحے شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اس میں میٹھی یا کھٹی چٹنی بھی اضافے کے لئے شامل کرلی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر سنیکس کے طورپر استعمال کی جاتی ہے تاہم یہ دیگر کھانوں کے ساتھ بھی پیش کی جاسکتی ہے۔

    چھوہارا:
    چھوہارے خشک کھجوریں ہوتی ہیں۔ اسے خشک کرنے کا عمل اسے دیرپا رکھتا ہے اورکھانوں میں اس کا استعمال اضافی ہوتا ہے۔

    کڑی:
    کڑی نام کا استعمال پاکستان میں عام طورپر نہیں ہوتا تاہم پاکستان اور بھارت میں پتلی یا گاڑھی گریوی ڈش بنانے کے لئے مشہور و معروف ہے۔ آج کل تھائی، ملیشین اور انڈونیشیائی کڑی بھی مشہور ہو رہی ہے جو کہ برصغیر کی کڑی کے ساتھ مکس ہوتی جارہی ہے۔

    دَ م پُخت:
    دَ م پُخت کا مطلب ہے ہلکی آنچ پر بھاپ میں پکانا۔ یہ زیادہ تر اچھی طرح ڈھانپے ہوئے برتنوں میں پکایا جاتا ہے تاکہ بھاپ کہیں سے باہر نہ نکل سکے۔ اس طریقہ کار سے گوشت اپنے ہی پانی میں پکایا جاسکتا ہے۔

    ڈیپ فرائی:
    گرم تیل یا گھی میں تلنے کا طریقہ ”ڈیپ فرائی“ کہلاتا ہے۔ گھروں میں اس مقصد کے لئے عام طورپر کڑاہی استعمال کی جاتی ہے۔

    دیسی چکن:
    دیسی چکن کا مطلب حقیقت میں ”مقامی چکن“ ہے جو”اورگینک“ چکن ہے –

    ڈیوینڈ پرانز:
    یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ پران کو تیز چھری کے ساتھ ہڈی نکال دیتے ہیں اور اس کی خوراک کی نالی کو نکال دیتے ہیں۔

    دنبہ:
    دنبہ پاکستان میں بہت معروف ہے خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں جہاں ان کے لئے باڑے بھی موجود نہیں ہیں۔ چرواہے اپنے ریوڑ کے ساتھ کھلے کھیتوں میں نکلتے ہیں ان کی بھیڑیں وہاں قدرتی گھاس اور مقامی جڑی بوٹیاں کھاتی ہیں کیونکہ ان چراگاہوں میں کوئی کھاداور زرعی ادویات استعمال نہیں کی جاتیں لہٰذا دنبہ اور گینک اور فری رینج ہے۔

    تلے ہوئے پیاز کا پیسٹ:
    پیاز کے ٹکڑوں کو تیل میں براؤن اور خستہ ہونے تک تلیں اور اسے گاڑھابنانے کے لئے چٹو بٹا کا استعمال کریں۔

    کالا نمک:
    یہ چٹان سے حاصل کردہ نمک ہے جو پاکستان، بھارت اور دیگر جنوب ایشیا ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کوہ ہمالیہ کی سالٹ رینج میں پایا جاتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزا میں سوڈیم کلورائیڈ ہے تاہم اس میں سلفر بھی ہوتاہے جو اس کی تیز بو کا سبب ہے۔ اس کا رنگ گلابی بھورے سے گہرا چاغی ہوسکتا ہے یہ عام طورپر ہاضمے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    کھڑ ا مصالحہ:
    جب کسی بھی گوشت کو دہی اور ثابت مصالحہ جات کے ساتھ پکایا جائے تو اسے کھڑا مصالحہ کہاجاتا ہے یعنی تمام کری ثابت مصالحوں سے بھرپور۔ دہی کی اتنی مقدار میں ڈالا جاتا ہے کہ فالتو پانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ دہی اور ثابت مصالحوں کے استعمال اور براؤن پیاز استعمال نہ کرنے اورٹماٹر نہ استعمال کرنے کی وجہ سے اس کی کری کا رنگ عام کری سے مختلف ہوسکتا ہے۔

    کھچڑی:
    یہ چاول کی ایک ڈش ہے جو دال کے ساتھ پکائی جاتی ہے۔ اسے قدرے نرم اور چکنا رکھا جاتا ہے۔ آسانی سے ہضم ہوجانے کی خوبی کے باعث اسے مریضوں کو بھی تجویزکیاجاتا ہے۔

    کھوپرا:
    ناریل کی خشک شکل کو کھوپرا کہا جاتاہے۔ اسے برصغیر میں ٹکڑوں یا پاؤڈر کی صورت میں کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    گھی:
    مکھن کو گرم کرکے صاف کیا جائے تو گھی کہلاتا ہے تاہم پاکستان میں اسے دیسی گھی کہا جاتا ہے۔ بناستی گھی مختلف اقسام کے تیل سے تیار کیا جاتا ہے اوراس دانے دار بنانے کے لئے ہائیڈوجنائزڈ کیا جاتا ہے۔

    گلوکوز کاشربت:
    گلوکوز سیرپ ایکایسا گاڑھا شربت ہے جودنیا کے مختلف ممالک میں کسی بھی قدرتی خوراک جیسے گندم، چاول، مکئی، جو اور حتیٰ کہ ٹماٹر سے بھی بنایا جاتا ہے۔

    حلوہ:
    ایک مقبول میٹھا پکوان ہے جو دلئے، دالوں اور سبزیوں سے تیار کیا جاتا ہے-

    ہانڈی:
    یہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں کھا نا پکانے کا مشہور برتن ہے۔ جو روغنی، غیرروغنی اور مختلف شکلوں اورسائز میں ہوسکتاہے۔

    جولینی کٹ:
    سبزیوں کو لمبے ٹکڑوں کی شکل میں کاٹنے کو جولینی کٹ کہاجاتا ہے۔ عام طورپر ایک بہترین جولینی کٹ کا سائز تقریباً 5سینٹی میٹر ہوتاہے۔

    کچنار:
    اس کا نباتاتی نام ”پوہینا ویریگاٹا“یا پھر اسے آرچرڈ ٹری اور ماؤنٹین ایپوتی بھی کہا جاتاہے۔ یہ جنوب مغربی ایشیا سے مغربی چین اور پاکستان اور بھارت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے پھول سفیداور گلابی رنگ کے ہوتے ہیں۔ اسے کشمیر، نیپال اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بطور خوراک استعمال کیاجاتا ہے۔

    کچومر:
    سلاد کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنا ”کچومر“ کہلاتا ہے۔

    کوفتہ:
    قیمے، مرغی، مچھلی، دالوں یا سبزیوں سے بنے گولے۔

    ساگ:
    یہ ایک مقامی سبزی ہے جس کا کوئی انگریزی نام نہیں ہے۔ یہ فروری سے مئی تک کے موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اسے عموماً پالک کے ساتھ ملا کر پکایا جاتا ہے تاہم اسے گوشت یا آلو کے ساتھ بھی پکایا جاسکتا ہے۔

    لڈو:
    اس کے لئے بھی انگریزی میں کوئی نام نہیں تاہم بعض اوقات اسے انگریزی میں بھی لڈو ہی کہا گیاہے۔ لڈو میٹھے اور بہت ہی مزیدار ہوتے ہیں۔

    لیموں :
    لیموں ایک ترش پھل ہے۔ جس کا سائز 3سے 5 سینٹی میٹر ہوتاہے اسے عموماً لیمن ہی خیال کیا جاتا ہے جبکہ لیمن کا سائز اس سے بڑا ہوتا ہے اوروہ کم ترش ہوتاہے۔ لیموں بنیادی طور پر بھارت یا فارس کا پھل ہے اسے مختلف کھانوں، باربی کیو، دم پخت، بریانی، سمندری خوراک، سلاداور اچار میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور گرمیوں میں اس سے پیاس بجھانے کے لئے سکنجبین بھی تیار کی جاتی ہے۔

    مصالحہ:
    مصالحہ ایک بنیادی جزوہے جوکسی بھی سالن یا کری کو بنانے کیلئے ضروری ہے اس میں عام طورپر پیاز، ادرک، لہسن، ٹماٹر، تیل یا کچھ مصالحے ہوتے ہیں یہ آمیزہ مصالحوں کی ماں کہلاتا ہے۔

    میکھ:
    بچھرے،گائے یا دنبے کی ہڈی کا گودا ”میکھ“ کہلاتا ہے۔ اسے پہلے پکایا جانا چاہئے برصغیرکے علاوہ فرانس کے لوگ بھی میکھ کے انتہائی شوقین ہیں۔

    مٹن:
    برصغیر میں مٹن کی اصطلاح بکرے کے گوشت کے طورپر لی جاتی ہے۔ یہ نرم گوشت ہوتا ہے۔

    نرگسی کوفتے:
    روایتی کوفتوں کے برعکس نرگسی کوفتے ابلے انڈوں کے گرد قیمہ لپیٹ کر پکائے جاتے ہیں۔ انڈے کو دو حصوں میں کاٹنے پروہ نرگسی پھول کی طرح نظر آتے ہیں اسی بنا پر ان کا نام نرگسی گوفتے پڑ گیا۔

    نہاری:
    نہاری ایک مقبول ڈش ہے جسے گائے کی پنڈلی کے گوشت سے گریوی میں تیار کیا جاتا ہے اسے دیرتک حتیٰ کہ رات بھر ابلنے دیا جاتا ہے تاوقتیکہ یہ نرم نہ ہوجائے۔ یہ ناشتے کے لئے ایک مقبول ڈش ہے۔

    پکوڑہ:
    سبزیوں چکن یامچھلی وغیرہ کو بیسن لگا کر تلی ہوئی ایک ڈش-

    پین فرائی:
    تلنے کے اس عمل میں تھوڑا گھی یا تیل استعمال کیا جاتا ہے جوکہ فرائی پین یاکڑاہی میں کیا جاتا ہے۔گھی یا تیل کھانے کیصرف نچلے حصے تک ہی رہتا ہے۔

    کم ابلے چاول:
    چاول آدھے ایک گھنٹے کے لئے بھگو کر رکھے جاتے ہیں۔ اس میں کافی مقدار میں پانی نمک اور کچھ تیل ڈال دیاجاتا ہے اس کے بعد پانی کو ابال کر اس میں چاول شامل کرلئے جاتے ہیں اور چاول آدھے گل جائیں تو پانی کو انڈیل کر چاولوں کوکسی مطلوبہ ڈش کے لئے سائیڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔

    پھل مکھانہ:
    پھل مکھانے گندم کے دانوں کو پھلا کر بنائے جاتے ہیں۔

    پاؤچ:
    کھانے کو محلول میں اس انداز میں ہلکی آنچ پر پکانے کا نام ہے جس میں درجہ حرارت ابلنے سے کچھ کم رکھا جاتا ہے۔ پاؤچنگ میں پھل، سبزیاں مچھلی اورچکن وغیرہ شامل کئے جاسکتے ہیں۔

    پلاؤ:
    پلاؤ چاولوں کی ایک اور مشہور ڈش ہے یہ گوشت، چکن اور سبزیوں سے بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بریانی کی طرح مصالحے دار نہیں ہوتا اور عام طورپر کری کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
    قیمہ:
    گوشت، چکن یا مچھلی کے باریک باریک ٹکڑے-

    قورمہ:
    ایک گاڑھا خوشبودار سالن جس میں گوشت، دہی اور مختلف خوشبودارمصالحہ جات ڈالے جاتے ہیں۔

    قورمہ بادامی:
    جس میں پسے ہوئے یا ثابت بادام ڈالے جائیں قورمہ بادامی کہلاتا ہے۔

    سموسہ:
    گندھے ہوئےمیدے کا خول جس میں سبزیاں یاگوشت ڈال کر تلا جاتا ہے۔

    سوتے:
    سوتے ایک فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مکھن یا تیل کی تھوڑی سے مقدار میں کھانا بنانا۔

    تکہ:
    گوشت، مرغی یا مچھلی کا ٹکڑا جو کھلی انگیٹھی پر پکایا جائے۔

    وڑیاں :
    یہ ایک روایتی قدیمی کھانا ہے۔ یہ ٹکیاں ہوتی ہیں جو دال اورمصالحوں کے ساتھ بنا کردھوپ میں قدرتی طریقے سے سکھائی جاتی ہیں۔ایک دفعہ خشک ہونے پر اسے چھ سے چار ماہ کے لئے ہوا بند جار یں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

    یخنی:
    گوشت، چکن یا مچھلی کا شوربہ

    ٹیل آن پرانز:
    جب پران کے سر اور خول کو الگ کردیا جائے لیکن دم برقرار رہے اسے ”ٹیل آن پرانز“ کہتے ہیں۔

    ٹکاٹک:
    بعض اوقات اسے ٹکاٹن بھی کہا جاتا ہے اس ڈش میں زیادہ تر مٹن، چکن گردے اور کلیجی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اس میں گوشت ایک سیدھے توے پر ڈال کر پکایا جاتا ہے اور مزید چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہیں۔ یہ غالباً ان چند ڈشز میں سے ایک ہے جس کا نام اس کے پکنے کے طریقہ کار میں پیدا ہونے والی آوازوں پر رکھا گیا ہے۔

    تندوری:
    ایسے کھانے جو تندور میں پکائے جائیں وہ تندوری کہلاتے ہیں۔ تندو ر ایک چکنی مٹی یا اسٹیل کا بنا ہوا وون ہوتا ہے جس میں نان اور روٹی پکائی جاتی ہے یا بعض اوقات مرغی یا گوشت کے باربی کیو بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

    توا:
    یہ پاکستان کا انتہائی اہم اور عام برتن ہے۔ یہ چھوٹے سے لے کر بہت بڑے سائز میں دستیاب ہوتاہے۔ یہ عام طور پر گول ہوتا ہے۔ یہ سیدھا اور عمودی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ عام طورپرروٹی یا پراٹھا بنانے کے لئے استعمال ہوتاہے۔

    سیخ کباب:
    گوشت، چکن، مچھلی کا مصالحے دارقیمہ جو چوکور سیخوں پر لپیٹ کر کوئلوں کی انگیٹھییا سکلٹ پر پکایا جاتا ہے۔

    سیلا چاول:
    پہلے سے چھلکوں سمیت ابلے ہوئے چاولوں کوسیلا چاول کہتے ہیں۔ جسے پہلے بھگویا جاتا ہے بھاپ دی جاتی ہے اور چھڑائی سے قبل خشک کرلیاجاتا ہے۔ اس عمل کے بعداسکا رنگ ہلکا زرد ہو جاتاہے۔ تاہم اسے پالش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سیلا چاول پکنے میں کم وقت لیتے ہیں۔ یہ کھڑے اور کم چپکے ہوتے ہیں۔ سیلا چاول دیگ میں پکانے کے لئے انتہائی پسندیدہ ہیں۔

    شیلو فرائی:
    گھانا گرم تیل یا گھی کی درمیانی مقدار میں فرائی کیا جاتا ہے۔ اس طرح پکانے میں کھانے کومکمل طورپر گھی میں ڈبویا نہیں جاتا۔

  • کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    کھانا پکانے کی ہدایات
    (1)تیل
    سب سے اعلی تجویز کردہ تیل میں کارن آئل، سن فلاور آئل یا سویابین آئل ہے۔ عام زیتون کا تیل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انتہائی خالص زیتون کا تیل نہ صرف مہنگاہے بلکہ یہ پاکستانی کھانوں کے لئے موزوں بھی نہیں ہے۔ یہ صرف سلاد کی ڈریسنگ یا فوری تلنے کے عمل کے لئے بہت اچھا ہے۔
    (2)گھی ……
    گھی میں دیسی گھی تجویزکیا جا تا ہے کیونکہ بناسپتی گھی میں موجود ہائیڈرو جنیٹڈ اور آپ کی صحت کے لئے انتہائی مضرہے۔

    (3)چاول……
    باسمتی چاولوں کودو سے تین مرتبہ دھوئیں اور کم از کم آدھے گھنٹے کے لئے پانی میں بھگوئے رکھیں۔ سیلا چاول ایک گھنٹہ کے لئے بھگوئے رکھیں۔

    (4) مونوسوڈیم گلوٹامیٹ (MSG)……
    جسے چائنا نمک یا اجینوموتو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نمک کی طرح کا پاؤڈر گلوٹامیک ایسڈ کا ہوتا ہے جو امینو ایسڈخاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جاپانی اور چینی کھانوں میں ذائقوں کوبڑھانے کے لئے بہت مقبول اور مشہور ہے۔ اب پاکستانی کھانوں خصوصاً باربی کیو میں بھی یہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگوں کو (MSG)سے الرجی کی شکایت بھی ہوجاتی ہے جس کے باعث سردرد، سر چکرانے کے ساتھ قے بھی آ جاتی ہے۔یہ بچوں اوربڑوں کے لئے خاصا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ (MSG) کی حمایت میں بہت سی دلیلیں بھی دی جاتی ہیں کہ یہ بے ضرر ہے تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ MSG کا استعمال کسی کھانے میں بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔

    (5) کچھ کھانے تیار کرنے کے لئے زیادہ گھی یا تیل درکار ہوتاہے ڈش تیار کرنے کے بعد فالتو آئل نکل دینا چاہئے۔

    (6) مصالحوں یا نباتات کی مقدار علاقوں اور موسموں کے مطابق ہوتی ہے۔ برائے مہربانی آپ مصالحوں کا استعمال اپنی ضرورت اور ذائقے کے مطابق کریں۔ اسی طرح نمک کا استعمال بھی حسب ِ ضرورت کریں۔

    (7) کسی بھی ڈش کے لئے مصالحہ تیار کرتے ہوئے اس کے مصالحے کو جلنے یا برتن سے چپکنے سے بچانے کے لئے آپ تھوڑا سا پانی بھی استعمال کرسکتے ہیں اگر ضروری ہو تو پانی ایک سے زائدبار بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    (8)اگر غلطی سے کسی ڈش میں نمک کی مقدار زیادہ ہوجائے تو آپ ایک یا دو پیڑے آٹے کے شامل کردیں جو نمک کی زائد مقدار کو جذب کرلے گا۔

    (9) اگر آ پ مصالحوں کا تیزذائقہ لینا چاہتے ہیں تو ثابت یا پسے ہوئے مصالحے کو توے پر یا نان سٹک برتن میں بھون لیں۔ ا س بات کو یقینی بنائیں کہ وہ جلیں نہیں۔ مصالحوں کو اکٹھا نہ بھونیں کیونکہ کچھ مصالحے جلد پک جاتے ہیں۔

    (10)دالیں پکنے میں نسبتاً کم وقت لیتی ہیں اگر انہیں پکنے سے ایک گھنٹہ قبل پانی میں بھگو دیا جائے۔ پھلیوں کے لئے رات بھر بھگونا تجویز کیا جاتا ہے-

    (11)گوشت کومصالحہ لگا کر رکھنے کے لئے دھاتی برتن کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ سرکہ یا لیموں اس عمل میں اپنی تیزابی خاصیت کی وجہ سے ری ایکشن کرسکتے ہیں۔ گلاس، چائنہ یا فوڈ گریڈ اسٹین لیس سٹیل کے برتن اس مقصد کے لئے بہترین ہیں۔

    (12)تمام تراکیب میں چکن بغیر سکن کے استعمال کیا جاتا ہے تاوقتیکہ اسے دوسرے طریقے سے پکانا مقصودہو۔ جہاں چکن بغیر ہڈی کے پکانا مقصود ہ اس کی ترکیب الگ ہوتی ہے۔ مٹن اور بیف کے لئے بھی یہی طریقہ ہوگا۔

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

  • برصغیر میں کھانا پکانے کا حیران کن برتن

    برصغیر میں کھانا پکانے کا حیران کن برتن

    دیگ—– برصغیر میں کھانا پکانے کا خاص برتن:
    دیگ برصغیر میں کھانا پکانے کا حیران کن برتن ہے۔ اس قسم کے مفید اور منفرد برتن کی کم ہی مثالیں موجود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا برتن ہوتا ہے جو زیادہ مقدار میں کھانا بنانے کے لئے استعمال کیاجاتا ہے۔ زیادہ تر دیگیں شادیوں کے موقع پر استعمال ہوتی ہیں یا دیگر بڑی تقریبات میں جہاں کھانا زیادہ مقدار میں درکار ہوتا ہے۔ جو کھانا دیگ میں پکایا جائے اسے دیگی کھانا کہتے ہیں۔

    دیگیں 10,5یا 12 کلوگرام کے مختلف سائز میں ہوتی ہیں۔ بڑے سائز میں ہونے کی وجہ سے یہ بات حیران کن نہیں کہ ایک دیگ سے پچاس سے زیادہ لوگ کھانا کھا سکتے ہیں دیگیں غالباً پہلی بارمقامی فوجوں نے اپنے بڑے لشکروں کو کھانا فراہم کرنے کیلئے استعمال کیں۔ دیگوں کی ساخت اس قسم کی ہوتی ہے کہ دو دیگیں بیک وقت اکٹھی اٹھائی جاسکتی ہیں۔ دیگ کی موٹائی اور اس کا گول پیندہ کھانوں کو گرم رکھنے میں مدد دیتاہے۔ اس کے کنارے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے اسے صاف کرنا آسان ہوتاہے۔ دیگ کی ساخت بڑی ہونے کی وجہ سے اسے پانی ابالنے، چاول بنانے، کھانا بھاپ میں پکانے یہاں تک کہ زیادہ مقدار میں چائے بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    تندور…… برصغیر میں کھانا پکانے کا ایک اہم آلہ:
    تندور مٹی سے بنی گول نما بھٹی ہوتی ہے جوکہ بنیادی طور پر روٹی اور نان بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اپنے بڑے سائز اور شدید گرم ہونے کی بنا پر یہ زیادہ مقدار میں پکائی کے لئے بہت مفید ہے۔ روایتی تندور کو لکڑیوں سے جلایاجاتا ہے تاہم جب سے گیس مختلف شکلوں میں آج کل عام دستیاب ہے زیادہ تر تندور گیس پرمنتقل ہوچکے ہیں۔ مورخین کے مطابق تندور کا پہلی بار استعمال قبل از مسیح ہو جوکہ قدیم وادی ئ سندھ اور ہڑپہ تہذیب میں کیاگیا۔ یہ علاقے صوبہ سندھ اور پنجاب میں واقع ہیں۔

    دوسرے ملکوں میں تندور کا استعمال چکن باربی کیو اور گوشت کے دیگر پکوان بنانے میں کیا جاتا ہے۔ تندور کا استعمال کب شروع ہوا اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ مغل بادشاہوں کے سر بھی اس کا سہرا جاتا ہے خصوصاً جہانگیر بادشاہ کو لیکن اس بارے میں بھی حتمی طور پر کوئی شواہد موجود نہیں۔

    1920 میں موتی محل پشاور کے ایک ریسٹورنٹ میں تندوری چکن تکہ بنانے کا آغاز ہوا جس کا سہرا کند لعل گجرال کو جاتا ہے۔ بعد ازاں 1947 میں دہلی منتقل ہوگئے اور وہاں دریا گنج میں اسی نام سے ایک ریسٹورنٹ کھولا۔مختلف بزرگ لوگوں سے معلوم کرنے سے یہ اندازہ ہوا کہ وہ ایسی کسی ڈش سے لاعلم ہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنے کسی بزرگ سے تندوری چکن تکہ کے بارے میں کچھ سنا۔ ابھی تک پشاور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ایسی کسی تندوری ڈش کا وجود نہیں۔ پاکستان میں سوائے چند پرتعیش مغربی ہوٹلوں کے چکن تندوری زیادہ مقبول نہیں ہم ابھی تک چار کول گرل پر چکن تکہ بنانا ہی پسندکرتے ہیں۔

  • پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    (1)بھُنائی (2)تڑکا (3)دم

    یہ ہمارے کھانوں کی روح ہیں۔
    (1)بھُنائی:
    بھُنائی ہمارے کھانوں کے پکانے میں ایک اہم جزو ہے۔ بھُنائی کا طریقہ کار زیادہ ترسبزیوں اور گوشت کی ڈشز تیار کرنے میں استعمال ہوتاہے۔ بھُنائی کا مقصد پکے ہوئے کھانے میں موجود اضافی رطوبت کو ختم کرنے اور سبزی یا گوشت کو مصالحوں کے ساتھ کوکنگ آئل میں بھون کرذائقے میں اضافہ کرنا ہے۔ بھوننے سے اضافی رطوبت خشک ہو جاتی ہے اور سبزی اور گوشت میں موجود آئل اور مصالحے اندر تک جذب ہو کرذائقہ بڑھاتے ہیں۔ بھُنائی ایک دفعہ گوشت کے نرم ہونے تک کی جاتی ہے اس کے بعد ہلکی اور درمیانی آنچ پر اسے بھونا جاتا ہے۔ بھونتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تیل کی مقدار مناسب ہو تاکہ گوشت پیندے کے ساتھ نہ چپک جائے۔ بعض اوقات بھُنائی کے لئے زیادہ آئل استعمال کیا جاتا ہے جو بعد میں نکال دیاجاتا ہے۔

    زیادہ تر گوشت اور سبزیوں کی ڈشز بھُنائی کے بعد مکمل ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد سجاوٹ کے ساتھ پیش کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے۔ تاہم گاڑھے شوربے والے سالن میں بھُنائی کاطریقہ کار ذرا سا مختلف ہے۔ جب گوشت 80 فیصد پک جائے تو بھُنائی ہو جاتی ہے اس کے بعد پانی شامل کیاجاتا ہے اور مکمل تیار ہونے تک پکایا جاتا ہے۔ آلو گوشت کی صورت میں بھُنائی کے بعد آلو اورپانی شامل کیا جاتا ہے۔ جتنی دیر میں آلوپکتے ہیں ساتھ ہی گوشت بھی گل چکا ہوتا ہے۔

    بھُنائی برصغیر کا روایتی طریقہ کار ہے جبکہ دوسرے ممالک میں جہاں سالن کھائے جاتے ہیں یہ طریقہ اتنا معروف اور مقبول نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پاکستانی عورتوں میں یہ طریقہ کار عام ہے لیکن چونکہ یہ بہت زیادہ وقت لیتاہے اس لئے یہ پیشہ ور باورچیوں میں عام نہیں۔ چونکہ غیرملکی شیف ہمارا کھانے پکانے کا طریقہ کار انہی پیشہ ور بارچیوں سے سیکھتے ہیں لہٰذ اوہ بھُنائی کی اس مہارت سے مکمل آگاہ نہیں ہیں اسی وجہ سے دنیا کے زیادہ تر لوگ پاکستان کے روایتی کھانوں کے حقیقی ذائقے اور لذت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

    (2) تڑکا:
    تڑکا برصغیر میں کھانے پکانے میں عام استعمال ہوتا ہے۔ تیل یا گھی کی تھوڑی سی مقدار گرم کرنے کے بعد اس میں پیاز، ادرک، لہسن، ثابت یا پستے ہوئے مصالحوں کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف چند منٹ لیتاہے۔ گرم تیل مصالحوں کے ساتھ پہلے سے پکی ہوئی ڈشز مثلاً دال وغیرہ میں فوراً شامل کردیاجاتاہے۔ تڑکے کا یہ عمل نہ صرف دال میں مصالحوں کی خوشبو شامل کردیتاہے بلکہ اس کے ذائقہ کو بھی بڑھا دیتا ہے۔

    (3) دَم:
    دَم کا مطلب ہے کھانے کو دھیمی آنچ پر ڈھک کر بھاپ سے پکایا۔ گوشت یا دوسرے کھانے ان کے اپنے ہی پانی یا تھوڑا سا مزید پانی شامل کرکے پکایا جاتا ہے۔ دَ م اصل میں پانی کی زیادتی سے بچانا ہے اور مصالحوں کو گوشت،چاول یا سبزیوں میں بھرپور طریقے سے سرایت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دَم کا یہ عمل گوشت وغیرہ کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ عمل چاولوں کی ڈشزتیار کرنے میں بھی استعمال ہوتاہے۔ چاولوں کو دم اس طریقہ کار سے ان کی اضافی نمی ختم ہوجاتی ہے جس سے چاول پھول جاتے ہیں۔

  • کافی کا زیادہ استعمال دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    کافی کا زیادہ استعمال دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    ایک نئی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی کا زیادہ استعمال دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    کافی سے متعلق طبی و غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے تک اگر ایک دن میں 5 سے 6 کپ کافی کا استعمال کیا جائے تو اس کے سبب دل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، زیادہ کافی پینے کے نتیجے میں انسانی خون میں فیٹ کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے جس کے سبب ہارٹ اٹیک کے خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

    آسٹریلین یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی دنیا کی پہلی جینیٹک اسٹڈی کے نتیجے میں شائع ہونے والی ہیلتھ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے وزن میں کمی، بھوک مٹانے یا دماغی کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال کی جانے والی کافی کا لمبے عرصے تک زیادہ استعمال دل کے لیے مضر صحت ہے اور ہارٹ اٹیک میں بننے والے اسباب میں سے ایک سبب زیادہ کافی کا استعمال بھی ہے۔

    تحقیق کے دوران کافی کے استعمال اور خون میں موجود کولیسٹرول لیول اور لیپیڈز میں گہرا تعلق پایا گیا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا کافی کا زیادہ استعمال کیا جائے گا اتنا ہے دل کے عارضے کے بڑھنے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

    یونی ایس اے کی ریسرچر پروفیسر ایلینا ہائیپونن کہتی ہیں کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دل کی صحت کے لیے اسکے استعمال میں توازن رکھنا ہوگا۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ لوگ جنھیں ہائی کولیسٹرول کی شکایت ہے وہ تو کافی کے انتخاب میں بھی محتاط رہیں۔ کافی اور کولیسٹرول میں مقدار کا آپس میں تعلق ہے، زیادہ غیر فلٹر شدہ کافی کے استعمال سے خون میں چکنائی (کولیسٹرول) بڑھ جاتی ہے۔

    پروفیسر ایلینا ہائیپونن کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہتر ہے کہ ہمشیہ فلٹر شدہ کافی کا استعمال کیا جائے اور وہ بھی بہت زیادہ نہیں بلکہ ایک توازن میں رہتے ہوئے کرنا چاہئے۔

  • انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے ، رحمان ملک

    انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے ، رحمان ملک

    سابق وزیر داخلہ و چئیرمن سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا صحت مند خوراک کا حصول پر تربیتی سیمینار سے خطاب کیا۔ سینیٹر رحمان ملک سیمینار میں بطور مہمان خصوصی مدعو ہیں،
    صحت مند آبادی ملک کی معیار زندگی، اقتصادی اور معاشی ترقی کو بڑھاتی ہے، پاکستان میں بیماری میں اضافہ غیر محفوظ خوراک کیوجہ سے ہے، جس شرح سے پاکستان میں صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں وہ تشویشناک ہے،غیر محفوظ خوراک نئی قسم کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں جن کا علاج مشکل ہے،محفوظ اور صحت مند خوراک کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو محفوظ اور حفظان صحت کے کھانے کی دستیابی کو یقینی بنائے، محفوظ اور صاف ستھری خوراک تمام بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کی پہلی لائن ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملکوں میں غیر محفوظ اور غیر صحتمند اشیائے خورد و نوش فروخت ہو رہے ہیں، دارالحکومت سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے،یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے، ہماری موجودہ قانونی نظام غذا میں ملاوٹ پر قابو پانے کے حوالے سے بہت کمزور ہے،
    ریستوراں اور اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی غیر محفوظ کھانا پیش کیا جارہا ہے، اسکولوں اور کالجوں کے باہر ریڑھیوں پر غیر معیاری کھانے کی اشیاء اور مشروبات فروخت ہورہے ہیں، غیر صحتمند کھانا ہمارے بچوں کی صحت کو بھی بری طرح متاثر کررہا ہے، 2018 میں بطور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کرنے کا نوٹس لیا تھا، ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کا گوشت اسلام آباد اور راولپنڈی میں فروخت کیا جا رہا ہے، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قانون سازی اور آئی سی ٹی فوڈ اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی تھی، اسلام آباد و ملک کے ہر ضلع میں سلاٹر ہاؤس کے قیام کی بھی سفارش کی تھی، ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دئیے تھے، خالص فوڈ اتھارٹی بل 2019 کو میری کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا، کمیٹی کے اجلاس میں خالص فوڈ اتھارٹی بل 2019 پر مکمل غور و خوض کے بعد اس کی منظوری دی گئی تھی، اس بل میں دارالحکومت میں فوڈ اتھارٹی کے قیام اور عہدیداروں کی تقرری کی درخواست کی گئی تھی،
    بل میں اشیائے خوردونوش کے نظم و نسق اور انتظام کے لئے ایک جامع طریقہ کار موجود ہے، بل میں ملاوٹ اور غیر صحتمند کھانوں کے کاروبار میں ملوث افراد کے لئے سزاؤں کا تعین بھی کیا گیا، جب تک وفاقی اور صوبائی سطح پر فوڈ اتھارٹی قائم نہیں ہوتے محفوظ خوراک کا حصول ممکن نہیں، قومی سطح پر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی کی اشد ضرورت ہے۔

  • ساہیوال:مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کی کمر توڑ دی،انتظامیہ بے بس،لوگ فاقہ کشی پر مجبور

    ساہیوال:مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کی کمر توڑ دی،انتظامیہ بے بس،لوگ فاقہ کشی پر مجبور

    ساہیوال:ضلعی انتظامیہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام،پھل وسبزیاں بدستورمہنگی،آلو130روپے فی کلو تک جا پہنچے،پیاز و سبزمرچ کے نرخ بھی آسمان پر،دکانداروں کی من مانی،شہری پریشان۔ساہیوال بھر میں اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی اور دکاندار من مانی قیمت وصول کرتے رہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی نے شہریوں کاجینا محال کردیاہے،مارکیٹ میں سرکاری ریٹ لسٹ کے برعکس گزشتہ روزسیب(اول)150سے210روپے فی کلو،سیب(دوئم)130سے150روپے،سیب(گولڈن)110سے130روپے،امرود85سے100روپے،ناشپاتی80سے 105روپے،انارقندھاری160سے180روپے،انگور300سے350روپے کلو،کیلا(اول)80سے100روپے درجن،کیلا(دوئم)60سے80روپے درجن،آلو(اول)110سے 130 روپے کلو،آلو(دوئم)80سے 100روپے،پیاز(اول)90سے110روپے،ٹماٹر(اول)200سے 210روپے،ٹماٹر(دوئم)160سے190روپے کلو،لہسن 230سے270روپے کلو،ادرک700سے 800روپے کلو،سبزمرچ 200سے250روپے،شملہ مرچ220سے250روپے،کھیرا80سے100روپے کلو،کریلا90سے110روپے،پھول گوبھی70سے90روپے،بندگوبھی110سے 125روپے،گھیا60روپے،بیگن50روپے،بھنڈی80سے100روپے،شلجم40سے50روپے،مولی40سے45روپے،گاجر70سے80روپے،اروی140سے200روپے،ٹینڈہ 70روپے،حلوہ کدو50روپے،میتھی فی گڈی40روپے،دھنیا20سے30روپے اورپالک فی(گڈی)40روپے سے50روپے فروخت ہوئی،جبکہ چکن مٹن اور بیف کے ساتھ ساتھ انڈوں کی قیمتیں بھی اسی طرح رہیں،ضلعی انتظامیہ ذرائع کے مطابق سرکاری قیمتوں پرعملدرآمدکیلئے 40سے زائد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس فیلڈ میں ہیں جبکہ زمینی حقائق کے مطابق پھل وسبزیاں سرکاری نرخوں کی بجائے دکاندارمن مانی قیمت پر فروخت کررہے ہیں-عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب،کمشنروڈپٹی کمشنرساہیوال سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے-