Baaghi TV

Category: خواتین

  • 
سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ 45 سال بعد ریڈیو پاکستان سے رخصت

    
سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ 45 سال بعد ریڈیو پاکستان سے رخصت

    
سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے 45 برس تک خدمات انجام دینے کے بعد ریڈیو پاکستان کو الوداع کہہ دیا ہے۔
    ‎اپنے آخری ویڈیو پیغام میں عشرت فاطمہ نے کہا کہ گزشتہ روز ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ انہوں نے نہایت دکھی دل کے ساتھ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 1983 سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہیں اور 1984 میں خبریں پڑھنا شروع کیں۔ عشرت فاطمہ نے کہا کہ یہ کام ان کا جنون اور محبت تھا، اور شکر ہے کہ اب تک آنکھیں، سانس، آواز اور چہرہ ان کا ساتھ دیتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیشہ کوشش کی کہ اپنے کام سے انصاف کیا جائے۔
    ‎ویڈیو کے اختتام پر عشرت فاطمہ نے سامعین سے دعاؤں کی بھی درخواست کی۔

  • بھوت یا انسان؟ ٹوئنکل کھنہ نے بھارتی عورتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بتا دیا

    بھوت یا انسان؟ ٹوئنکل کھنہ نے بھارتی عورتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بتا دیا

    بھوت یا انسان؟ ٹوئنکل کھنہ نے بھارتی عورتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بتا دیا،انہوں نے کہا کہ اگر بھارت میں خواتین کو بھوت اور مرد میں سے کسی ایک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ بھوت کو ترجیح دیں ،

    بالی ووڈ اداکارہ اور مصنفہ ٹوئنکل کھنہ نے اپنے حالیہ کالم میں بھارتی معاشرے پر ایک گہرا سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارتی خواتین بھوتوں سے زیادہ مردوں سے ڈرتی ہیں۔ ٹوئنکل نے فلم اسٹری 2 پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں خواتین کے لیے مردوں کا خوف بھوتوں کے خوف سے کہیں زیادہ حقیقی ہے۔

    ٹوئنکل کھنہ نے کولکتہ میں ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہارر فلمیں ان واقعات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ٹوئنکل نے مطالبہ کیا کہ بھارت میں ایسا ماحول بنایا جائے جہاں عورتیں آزاد ہوں اور مرد ان سے خوفزدہ ہوں۔

    ٹوئنکل کھنہ نے حال ہی میں مصنفہ ہونے کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد بھارتی اخبار میں اداکار راج کمار راؤ اور شردھا کپور کی بلاک بسٹر فلم ”اسٹری 2“ پر کالم لکھا۔اداکارہ ٹوئنکل کھنہ کی جانب سے ویمن اسٹارر مووی ”استری 2“ پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’چندیری جیسی جگہ ہونی چاہیے جہاں عورتیں آزاد ہیں اور مرد خوفزدہ ہیں‘۔

    اداکارہ ٹوئنکل کھنہ نے اپنے کالم میں کولکتہ کی ٹرینی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے علاوہ بدلہ پور کے ایک اسکول میں چار سالہ دو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے واقعات کو بھی ہائی لائٹ کیا۔

    اداکارہ ٹوئنکل کھنہ کی جانب سے اپنے کالم میں بتایا گیا کہ ’بھارت میں موجود خواتین اتنی زیادہ غیرمحفوظ ہیں کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک جگہ پر بھوت اور جنات ہوں اور دوسری جانب مرد حضرات، تو بھارتی خواتین اندھیری گلی میں کسی مرد کے مقابلے میں بھوت کا سامنا کرنا زیادہ محفوظ سمجھیں گی‘۔

    ٹوئنکل کھنہ کا کہنا ہے کہ جب تک بھارتی معاشرہ مردوں کی سوچ میں تبدیلی نہیں لاتا، تب تک عورتیں محفوظ نہیں ہوسکتیں۔ بھارتی عورتوں کے لیے مردوں کا خوف بھوتوں کے خوف سے زیادہ حقیقی ہے۔

  • فریج میں ٹشو رول رکھنے کے حیران کن نتائج

    فریج میں ٹشو رول رکھنے کے حیران کن نتائج

    ٹشو رول صفائی کے علاوہ کئی طریقوں سے استعمال کئے جا سکتے ہیں ٹشوزکو صفائی کے علاوہ حیرت انگیز طریقوں سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،فریج میں ٹشو رول رکھنا فریج میں موجود عجیب بدبو کو ختم کردیتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ٹشوز پیپر سبزیوں کو تازہ بھی رکھتا ہے، فریج میں رکھنے کے باوجود بھی اکثر سبزیاں بوسیدہ ہوجاتی ہیں لیکن اس نئے استعمال سے حیران کن نتائج مل سکتے ہیں،کسی بھی سبزی کوتازہ رکھنے کیلئے ایک باکس میں ٹشو پیپر بچھا دیں اور سبزی رکھنے کے بعد اوپر دوبارہ ٹشو پیپر بچھا دیں،زیادہ تر پھل اور سبزیاں وقت کے ساتھ پانی چھوڑتے ہیں، یہ نمی کہیں نہیں جاتی اور فریج کے کرسپر باکس میں پھنس جاتی ہے یہ ٹشو رولز نمی کو جذب کرتے ہیں، جس سے سبزیوں کے نرم ہونے کا عمل سست ہوجاتا ہے۔

    بارڈرہیلتھ سروسزپاکستان کاملک کے ائیر پورٹس پرالرٹ جاری

    لیکن اس رول کو مہینے میں دو بار تبدیل کرنا ضروری ہے،لیکن اس رول کو مہینے میں دو بار تبدیل کرنا ضروری ہے اس سے فریج میں موجود پھل اور سبزیاں جتنی خشک ہوں گی، یہ اتنی ہی دیر تک چلیں گی۔

    ایک فائدہ ان خواتین کو ہوگا جو گندا فریج برداشت نہیں کرسکتیں فریج میں بننے والی اضافی نمی اور بو ٹشو رول کے اندر جذب ہوجائے گی اور لائٹ جانے کی وجہ سے فریج کا پانی پہنے کی شکایت بھی کسی حد تک دور ہوجائے گی۔

    ملک میں سونے کی قیمت میں مزید کمی

  • غذائیں اور مشروبات جو گرمی میں راحت پہنچاتے ہیں

    غذائیں اور مشروبات جو گرمی میں راحت پہنچاتے ہیں

    گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں

    زیادہ پانی کا استعمال اچھا ہے مگر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ کیا آپ موزوں مشروبات ہی حلق میں انڈیل رہے ہیں

    لسی: یہ گرمی میں سب سے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے میٹھی یا نمکین لسی دونوں ہی جسم کو پرسکون رکھتی ہیں

    جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے تربوز بہترین پھل ہے اس پھلے میں قدرتی طور پر 90 فیصد پانی پایا جاتا ہے

    بے انتہا گرمی نہ صرف پریشانی کا سبب بنتی ہے ایسے میں ہر کوئی متعدد بیماریوں اور پیٹ سے جڑی شکایتوں میں گھِرا نظر آتا ہے، گرمیوں میں موزوں غذاؤں کا انتخاب کر کے ہم جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اور قوت بخش رکھ سکتے ہیں طبی ماہرین کے مطابق موسم گرما کے آتے ہی سب سے پہلے ہر عمر کے فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانی کے استعمال کی مقدار بڑ ھا دے، اس کے علاوہ سادہ اور گھر میں بنے کھانوں، موسمی اور ٹھنڈی تاثیر والی سبزیوں کا استعمال اپنی غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے، سبزیاں نہ صرف انسانی مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ گرمی کی شدت اور لو سے بھی بچاتی ہیں۔

    قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

    گھر سے باہر نکلنے والے افراد کے لیے جھلستی گرمی کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس موسم میں جسم میں آسانی سے پانی کی کمی ہوسکتی ہے گرمیوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی مقدار کا برقرار رہنا بھی نہایت ضروری ہے، سال کے گرم مہینوں کے آتے ہی تیز دھوپ، تپتی دوپہر، گرمی اور لو کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی کے سبب دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ پانی کا استعمال اچھا ہے مگر یہ تسلی ضرور کرلیں کہ کیا آپ موزوں مشروبات ہی حلق میں انڈیل رہے ہیں یا نہیں بے تحاشہ میٹھے مشروبات یا کولڈ ڈرنکس پینا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے بھلے ہی آپ کو ان کی طلب ہو رہی ہو-

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

    سادہ پانی: طبی ماہرین کے مطابق جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہر انسان کو خواہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت گرمیوں کے آغاز سے ہی سادہ پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، اس دوران زیادہ میٹھے اور پروسیسڈ، ڈبے کے مشروبات سے پرہیز کریں۔

    ہم وزن املی اور خشک آلو بخارے کو رات بھر پانی میں بھگوئے رکھیں ، صبح گودا نچوڑ کر گٹھلیاں الگ کر لیں ۔ کڑاہی میں یہ پانی اور گودا ڈالیں اورحسب پسند چینی ڈال کر پکا لیں۔ پھر اس محلول کو چھان لیں۔ جگ میں حسب ضرورت شربت ، پانی اور برف ڈالیں، آپ کا فرحت بخش مشروب تیار ہے۔

    دہی یا دودھ سے بنی لسی: یہ گرمی میں سب سے بہترین مشروب سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کئی کمپنیوں نے گرمیوں میں لسی متعارف کروادی ہے۔ میٹھی یا نمکین لسی دونوں ہی جسم کو پرسکون رکھتی ہیں لیکن یاد رہے کہ رات کے وقت میٹھی لسی سے اجتناب کرنا چاہیے –

    شربت بادام: یہ پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ اسے بنانا بھی نہایت آسان ہے۔ دودھ میں حسب پسند بھیگے اور چھلے ہوئے بادام ،چٹکی بھرزعفران، سبز الائچی کے دانے اور حسب زائقہ چینی ڈال کر گرائینڈ کرلیں۔ مزیدار شربت تیار ہے۔

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    تربوز: موسم گرما میں جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے تربوز بہترین پھل ہے اس پھلے میں قدرتی طور پر 90فیصد پانی پایا جاتا ہے اور اس کے استعمال سے ہمارا جسم پانی کی کمی کا شکار نہیں ہوتا اور ساتھ ہی ہمیں گرمی کا احصاس بھی کم ہوتا ہے تربوز کے شربت کا ایک گلاس آپ کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ تربوز کاٹ کر بیج الگ کر لیں ۔ گرائنڈر میں تربوز کے ٹکڑے، تھوڑی چینی، حسب پسند نمک، لیموں کا رس اور تھوڑا سا پانی ڈال کر گرائنڈ کرلیں۔ مزیدار تربوز شربت تیار ہے۔

    کیلے کاشیک: یہ پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ایک کیلا زیادہ پسینے کے اخراج سے آپ کے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہےجبکہ جسم کو طاقت دینے کے لیے کیلے کا شیک بہترین ہے یہ آپ کی توانائی بحال رکھتا ہے۔ بنانا شیک میں بھرپور وٹامنز،منرلزاور ضروری چکنائی پائی جاتی ہے۔ دودھ اور کیلے کا یہ مکسچر سستی بھگانے کے ساتھ ساتھ جسم کی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرتا ہے۔

    آم: کچی کیری سے بننے والا مشروب قطعی طور پر فرحت بخش ہوتا ہے اور ہیٹ اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسے جیسے گرمیوں کا موسم گزرتا جائے گا ویسے ویسے زرد پیلے آم مارکیٹ میں نظر آنے لگ جائیں گے اور آپ ان کی بھرپور مٹھاس اور قوت بخش ملک شیکس کے لیے خود کو چھوٹ دے سکتے ہیں۔

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو …

    لیموں: علاوہ ازیں گرمی میں لیموں کی سکنجین سب سے اہم چیز ہے تازہ لیموں پانی بھی تازگی اور وٹامن سی سے بھرپور، اور صحت کے لیے مفید ہے اور آپ کو چاہیے کہ اپنی پیاس بجھانے کے لئے اس مشروب کا استعمال کریں، گرمی کے توڑ کے ساتھ ساتھ جسم میں وٹامن سی کی مقدار بھی مناسب رہے۔

    ناریل کا پانی: اس کی سادہ مٹھاس، الیکٹرولائیٹس اورضروری معدنیات جسم میں پانی کی مناسب مقدارقائم رکھتے ہیں اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ ناریل پانی میں کینسر کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی عمر کے آثار روکنے کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس کے اندر موجود گودے کو مزے لے کر کھائیں اور اس میں موجود وٹامنز، منرلز اور پوٹاشیم کی دعوت اڑائیں۔

    خربوزہ بھی گرمیوں کا ایک لذیذ پھل ہے جس میں 90 فی صد پانی موجود ہوتا ہے۔ یہ پودوں سے حاصل ہونے والی معدنیات، وٹامن اے اور زی زینتھن (جو کہ ایک اہم غذائی عنصر ہے) سے بھرپور ہوتا ہے۔ وٹامن اے اور زی زینتھن بینائی کے لیے زبردست ہوتے ہیں۔

    کولڈ کافی: اگر آپ کو اپنا دن شروع کرنے کے لیے بہت زیادہ کیفین کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ صبح کی کڑک کافی کی جگہ کولڈ کافی استعمال کرسکتے ہیں۔ کولڈ کافی سے جلد کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے جس کا شکار آپ اس جھلسا دینے والی گرمی میں ہوسکتے ہیں۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    سبز چائے: زیادہ چائے پینے کے بجائے سبز چائے کا استعمال کریں جو کہ ایک صحت بخش اور ہلکا پھلکا انتخاب ہے۔ اس کے ساتھ چائے ہی کی طرح آپ کو متحرک بنانے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ آئس ٹی بھی ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔

    کھیرے: اس قدرتی سبزی میں بھی پانی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں ان کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔آپ کو چاہیے کہ انہیں دہی یا لیموں کے ساتھ کھائیں کھیرے میں 96.4 فی صد پانی ہونے کی وجہ سے اس میں بے تحاشہ ٹھنڈک پہنچانے، پانی کی مقدار کو دوبارہ بحال کرنے اور زہریلے مادوں کے جسم سے اخراج کی خصوصیات موجود ہیں یہ فائبر سے بھی بھر پور ہوتے ہیں جو کہ قبض ختم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان میں وٹامن اے، بی 1، بی 6، سی اور ڈی، کیلشیم، پوٹاشیم اور فولیٹ شامل ہوتا ہے۔

    پودینہ: جب بھی سلاد بنائیں پودینے کا استعمال کریں کہ اس طرح نہ صرف آپ کا کھانا خوشبودار ہوگا بلکہ یہ معدے کو بھی ٹھنڈا رکھتے ہوئے جسم کو پرسکون رکھے گا، یہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد نہیں کرتا مگر پھر بھی یہ بہت فرحت بخش ہوتا ہے۔

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

    پیاز: دوپہر کو سلاد میں کھیرے اور پیاز کا استعمال کریں ۔پیاز میں یہ خاصیت موجود ہے کہ اسے بطور سلاد کھانے سے جسم کو نمکیات کی مطلوبہ مقدار میسر رہتی ہے،لال پیاز خصوصی طور پر ہلوطین سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ ایک قدرتی الرجی شکن ہے اور اینٹی ہسٹا مائین کے طور پر کام کرتا ہے ہسٹامائین تکلیف دہ عنصر ہوتا ہے جس کی وجہ سے گرمی کے زخم اور کیڑے مکوڑوں کے کاٹنے یا ڈنک مارنے سے شدید ردِعمل ہوتے ہیں۔ اس لیے روز پیاز کھانا گرمیوں کی شکایتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    ٹماٹر: یہ ایک پھل ہے مگر سلاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ ٹماٹر ایک قدرتی سن اسکرین کی طرح ہیں جو دھوپ میں رنگت خراب ہونے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس کے استعمال سے رنگت تیزی سے نکھرتی ہے جو دھوپ کے سبب خراب ہونے والی رنگت کو نکھارتا ہے اور متاثرہ جھلسی ہوئے جِلد کو صحت مند بناتا ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

  • قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

    قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا گوشت 2 سے 3 ہفتوں تک فریز کر سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرارالحق طور نے خبردار کیا ہے کہ عید الاضحیٰ پر بے احتیاطی بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔ دل کے امراض میں مبتلا افراد ، جِگر، ذیابطیس، کولیسٹرول، بلند فشار خون، گردوں اور یورک ایسڈ کے مریضوں کیلئے عید پر احتیاط لازم ہے۔

    ڈاکٹر اسرار الحق کا کہنا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض گائے کا گوشت کھانے سے پرہیز کریں جبکہ بازاری مصالحوں سے بنے کھانوں سے بھی پرہیز ضروری ہےشوگر اور دل کے مریض بھی گوشت اپنی عمر کے حساب سے کھائیں دو تین دن گوشت کھانے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن جو بزرگ افراد ہیں انہیں چاہیے کہ وہ گوشت صرف اتنا کھائیں جتنا ہضم کرسکتے ہیں حد سے زیادہ گوشت کھانے کے نتیجے میں پیٹ کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں آپ ڈائریا کا شکار ہوسکتے ہیں، ساتھ ہی بدہضمی اور پیٹ میں مروڑ بھی اٹھ سکتے ہیں

    عیدالاضحیٰ پر کون کون مزیدار پکوان کیے جا سکتے ہے؟

    انہوں نے کہا کہ قربانی کے گوشت کو دو سے تین ہفتوں سے زائد فریز کرنا درست نہیں۔ اس عمل سے گوشت کی افادیت متاثر ہوتی ہے اور گوشت میں بیکٹیریا کی نشونما ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کو پیٹ کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں-

    وزیراعظم اور آرمی چیف پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارنے پہنچ …

  • چائے میں دودھ پہلے ڈالنا چاہیئے یاپانی ؟ماہرین نے اس بحث کا حل نکال لیا

    چائے میں دودھ پہلے ڈالنا چاہیئے یاپانی ؟ماہرین نے اس بحث کا حل نکال لیا

    چائے میں دودھ پہلے ڈالنا چاہیئے یا پانی ؟ سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے چائے کے عالمی دن کے موقع پر اس بحث کا حل نکال لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :"ڈیلی میل” کے مطابق چائے کو انگلینڈ کا قومی مشروب سمجھا جاتا ہے، لیکن 1650 کی دہائی میں ہمارے ساحلوں پر پہنچنے کے باوجود، ایک سوال باقی ہے کہ کیا آپ کو چائے کا کپ بنانے سے پہلے دودھ ڈالنا چاہیے یا بعد میں؟

    لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن میکی کا دعویٰ ہے کہ ابلتے ہوئے پانی کو شامل کرنے سے پہلے ٹی بیگ پر دودھ ڈالنا ذائقہ دار چائے حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

    اسپیس کا سفر کرنے والی پہلی عرب خاتون ریانا برناوی

    ابلتے پانی کے نلکے بنانے والے ادارے آئی این ٹی یو کے ساتھ مل کر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ سخت پانی میں موجود معدنیات ذائقے کے مرکبات بننے سے روکتے ہیں۔

    ایلن میکی کے متنازع دعوے تحقیق پر مبنی ہیں جس میں دریافت کیا گیا ہے کہ پہلے دودھ ڈالنے سے ہارڈ واٹر کا مقابلہ کرنے میں مدد ملتی ہے اس مسئلے نے نصف سے زائد برطانوی شہریوں کو پریشان کررکھا ہے تاہم ایلن میکی کا کہنا ہے کہ کہ سخت پانی والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو پہلے دودھ کا طریقہ استعمال کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

    پروفیسر میکی کا کہنا ہے کہ دودھ میں موجود پروٹین پانی میں معدنی مواد کو کم کر تے ہوئے مشروب کو اضافی ذائقہ دیتے ہیں،خاص طور پر جب آپ ہارڈ واٹرکا استعمال کررہے ہوں ذائقہ چائے کے مختلف مرکبات سے پیدا ہوتا ہے جن میں خاص طور پرٹینن بھی شامل ہیں پانی میں جتنی زیادہ معدنیات موجود ہوتی ہیں ان مرکبات کے لیے ذائقہ پیدا کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے، اسی لیے آپ کو ایسے پانی والے علاقوں میں چائے ذائقہ دار نہیں لگتی۔

    نیو یارک میں موجود بلند و بالا عمارتیں شہر کے ڈوبنے کی وجہ بن رہی …

    چائے کو روایتی طریقے سے بنانے کیلئے گرم کھولتے پانی میں ٹی بیگ ڈالنے کے بعد اسے نکال کر دودھ شامل کیا جاتا ہےاس کے نتیجے میں ٹینن ذائقہ پیدا کرنے سے پہلے ہی ٹھوس میں تبدیل ہو جاتے ہیں تاہم اگر دودھ کو آغاز میں شامل کیا جائے تو اس کے پروٹین پانی میں موجود ٹینن اور دیگر معدنیات سے جڑکر انہیں ٹھوس ہونے سے روک سکتے ہیں – جس کے نتیجے میں آپ کو کہیں زیادہ بہتر ذائقہ ملتا ہے۔

    ہارڈ واٹر کیلشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ سوفٹ واٹر زیادہ خالص اور بے ضررآلودگیوں سے پاک ہوتا ہے ایکوا کیور کے مطابق معدنیات کی سطح میں اضافے کے ساتھ پانی کی سختی میں اضافہ ہوتا ہے-

    یہ تحقیق برٹش اسٹینڈرڈز انسٹی ٹیوشن (بی ایس آئی) کی سرکاری ہدایات کے کچھ وقت بعد سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دودھ کو پہلے کپ میں ڈالنا چاہیے اس میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ہر 100 ملی لیٹر کے لئے کم از کم 2 گرام چائے (پتی ) ہونی چاہے اور پانی 85 ڈگری سینٹی گریڈ (185 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ گرم نہیں ہونا چاہیے۔

    موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

  • کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانا ایک بہت بڑا رسک ہے کھانا پکانے کے دوران درست طریقے سے محفوظ نہ کی جانے والی خوارک، گلے سڑے کھانوں اور اس سے پیدا ہونے والے بیکٹریا ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں جو جان لیوا امراض کا سبب بنتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: "نیویارک پوسٹ” کے مطابق سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن نے اپنی ایک رپورٹمیں بتایا کہ ہر سال 6 میں سے ایک امریکی شہری فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوتا ہے جس کے باعث 1 لاکھ 28 ہزار ہسپتال میں علاج کے لیے جاتے ہیں جبکہ 3 ہزار افراد ایسے ہی امراض کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    اس قسم کی بیماریوں سے عام طور پر مناسب خوراک کی حفاظت اور ہینڈلنگ کے رہنما خطوط پر عمل کر کے بچا جا سکتا ہے۔باورچی خانے میں کھانا پکانے کے دوران ہم ایسی غلطیاں کرتے ہیں جسے ہم عام سمجھتے ہوئے نظر انداز کرلیتے ہیں اور یہی چھوٹی غلطیاں ہماری موت کا باعث بنتی ہیں لیکن ہم اپنی غلطیوں پر قابو پا کر ہم معدے سمیت دیگر امراض کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔

    1. کھانا پکانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہ دھونا

    ہاتھ دھونا کھانا پکانے کا بنیادی اصول ہے پھر بھی لوگ اس پر عمل کرنا بھول جاتے ہیں،کارنیل یونیورسٹی میں فوڈ سائنس کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر رابرٹ گراوانی نے بتایا کہ ہاتھ دھونے سے بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے،خاص طور پر اگر لوگوں نے ابھی بیت الخلاء استعمال کیا ہے یا ڈائپر تبدیل کیا ہے۔

    سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن کے مطابق بغیر ہاتھ دھوئے کھانے سے، آپ کی انگلیوں اور ناخنوں پر لگے ہوئے جراثیم آپ کے کھانے میں پہنچ سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی کھانے کی چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اینٹی بیکٹریل صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

    روزہ اور سائنس

    اپنے ہاتھوں کو صاف کرنے کا ماہر کا تجویز کردہ طریقہ یہ ہے کہ صابن اور گرم پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں اورکچے گوشت کو سنبھالنے کے بعد انہیں دوبارہ دھونا نہ بھولیں اور یہاں تک کہ آپ کے پسندیدہ مصالحے، گوشت سے بیکٹیریا پھیلا سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ کچا کھانا یا گوشت تیار کر رہے ہوتے ہیں، تو مسالوں کے استعمال کیلئے ڈبوں کو کھولتے ہیں گروانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "وہ مسالے کے ڈبے کچے گوشت سے آلودہ ہو سکتے ہیں جسے آپ نے ابھی چھوا ہے۔

    2.گوشت کو نلکے کے نیچے دھونا:

    اکثر لوگ گوشت کو نلکے کے نیچے دھوتے ہیں تاہم کنزیومر رپورٹس ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی ریسرچ اینڈ ٹیسٹنگ کے جیمز راجرز کا کہنا ہے کہ گوست کو سادے پانی سے دھونے سے بیکٹریا سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاسکتااسے نلکے کے نیچے دھونے کے بجائے کسی برتن میں پانی لیں اور پھر گوشت کو دھونا شروع کریں، کوشش کریں کہ پانی کے چھینٹے آپ کے کپڑوں پر نہ لگیں کیونکہ گوشت میں پہلے کئی جراثیم موجود ہوتے ہیں –

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    گوشت کو سادے پانی سے دھونے کے بعد اسے مصالحہ لگانے سے قبل ابلے ہوئے گرم پانی میں رکھ لیں یا ابال لیں تاکہ جراثیم سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے خوش قسمتی سے، کچے گوشت پر پائے جانے والے بیکٹیریا، جیسے کیمپیلو بیکٹر، کلوسٹریڈیم پرفرینجینز اور سالمونیلا مرجاتے ہیں جب مرغی کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ پر پکایا جاتا ہے-

    3. کچے اور پکے ہوئے گوشت کو سنبھالتے وقت ایک ہی برتن کا استعمال کرنا

    گروانی نے بتایا کہ گوشت کو کچا ہونے پر اور جب اسے پکایا جائے تو اسے سنبھالنے کے لیے ایک ہی برتن کا استعمال آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کچے اور پکے کھانوں کے لیے ایک ہی چمچ یا برتن استعمال کرنا بھی جراثیم کو دعوت دینے کے مترادف ہے-

    مثال کے طور پر گوشت کو کاٹنے والی چھری کو اگر دھوئے بغیر سلاد کے لیے استعمال کریں تو یہ مضر صحت ہے، گوشت کے بیکٹریا سلاد میں منتقل ہوجائیں گے اس لیے کچے اور پکے کھانوں کے لیے الگ الگ برتن، چمچ یا چھری کا استعمال کریں، یا پھر اسے اچھی طرح دھونے کے بعد استعمال کریں-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    4.جمے ہوئے گوشت کو باورچی خانے میں پگھلنے رکھنا

    فریزر سے گوشت نکال کر باروچی کھانے میں نرم ہونے کے لیے رکھنا بہت بڑی غلطی ہے، اسے سے گوشت میں موجود مائیکرو آرگنزم ہر طرف پھیل سکتے ہیں اس لئے اس کو پہلے فریج میں رکھیں یا اگر آپ جلدی میں ہیں تو اسے مائکروویو میں رکھیں۔

    5.پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر کھانے سے جراثیم کا خطرہ ختم ہوجاتا ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق یہ سچ نہیں ہے،بظاہر نظر نہ آنے والے جراثیم سادے پانی سے دھونے کے بعد بھی موجود رہتے ہیں اس لیےسبزیوں اور پھلوں کو سوڈیم ہائیپو کلورائیٹ والے پانی میں بھگوئے رکھیں اور پھر نلکے والے پانی سے دھو لیں، ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ابلے ہوئے گرم پانی میں سبزیوں کو بگھو دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    6.اپنے کھانے کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں – کم از کم کچن کاؤنٹر پر نہیں جو کھانا دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا گیا ہو اسے پھینک دینا چاہیے، ورنہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا پنپنا شروع کر سکتے ہیں۔

    گروانی نے انکشاف کیا کہ "لوگ خاص طور پر تعطیلات کے دوران کھانے کو زیادہ دیر تک باہر چھوڑ دیتے ہیں۔” "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمیں خراب ہونے والی خوراک اور بچا ہوا کھانا دو گھنٹے کے اندر فریج میں مل جائے لیکن خبردار رہے، فریج میں چار دن سے زیادہ بچا ہوا کھانا کھانے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی پچھلے سال، یونیورسٹی کے ایک 19 سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر سیپسس ہو گیا تھا، اور آلودہ بچا ہوا کھانے کے بعد اس کی ٹانگیں اور انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ چکھنا اور سونگھنا اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا کھانا اب بھی "اچھا” ہے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بیماری سے بچنے کے لیے کھانے کے ذخیرہ کرنے کے تجویز کردہ اوقات پر عمل کرنا یقینی بنائیں۔

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    سی ڈی سی کا کہنا ہےکمزور مدافعتی نظام کے لوگ 5 سال سے کم عمر کے بچے؛ حاملہ افراد؛ اور 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کوخاص طور پر کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔

    گروانی انڈوں کو آسان یا درمیانے نایاب اسٹیک پر آرڈر کرنے سے پہلے دو بار سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔یہ مصنوعات آلودہ ہوسکتی ہیں، حالانکہ ان میں سے زیادہ تر نہیں ہیں ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ، لہذا وہ خود کو بیماری کے امکان کے بارے میں نہیں جانچتے-

  • اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے

    امریکی ماہرین کے مطابق سوتے وقت اسمارٹ فون کا بند کیا جانا اور روشنی کا کم کیا جانا حاملہ خواتین میں جیسٹیشنل ذیابیطس کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ماہرین کے مطابق سوتے وقت اسمارٹ فون بند کرنے اور روشنی کو مدھم کرنے سے حاملہ خواتین میں حمل ذیابیطس کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

    سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے والوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھ جاتا …

    رائل کالج آف اوبسٹیٹریشینزاینڈ گائناکالوجسٹ کے مطابق، حمل کے دوران 100 میں سے کم از کم چار سے پانچ خواتین کو حمل کی ذیابیطس متاثر ہوتی ہے۔ اگر اسے اچھی طرح سے کنٹرول نہیں کیا جاتا ہے تو یہ پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، بشمول بچے کے لیے صحت کے مسائل-

    اب امریکن جرنل آف اوبسٹیٹرکس اینڈ گائناکولوجی میٹرنل فیٹل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن حاملہ خواتین کو سونے سے تین گھنٹے پہلے زیادہ روشنی کی روشنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے حمل کے دوران ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    جیسٹیشنل ذیا بیطس ایک قسم کی ذیا بیطس ہےجو حمل کے دوران ہوتی ہے اور تقریباً پانچ فی صد حاملہ خواتین اس سے متاثر ہوتی ہیں اکثر حمل معمول کے مطابق ہوتے ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد معاملات معمول کے مطابق ہو جاتے ہیں لیکن اس صورت میں مبتلا ہونے کا تعلق قبل از وقت پیدائش اور غیر معمولی جسامت کےبچوں کی پیدائش سےاورخواتین کے ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونےکےانتہائی خطرات سے ہوتا ہے۔

    گلیشیئرز پگھلنے سے پاکستان اور بھارت کوشدید خطرہ

    ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جن پر سونے سے تین گھنٹے پہلے تک زیادہ روشنی افشا ہوتی ہے ان میں جیسٹیشنل ذیا بیطس کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں محققین نے 741 ایسی خواتین کا مطالعہ کیا جو حمل کے دوسرے سہ ماہی میں تھیں۔ ان کی کلائی پر ایک آلا لگایا گیا جس نے لگاتار سات دنوں تک ان پر افشا ہونے والی روشنی کی پیمائش کی۔

    تحقیق میں دیکھا گیا کہ خواتین سونے سے تین گھنٹے قبل معمولی، تیز روشنی (10 lux)میں کتنا وقت گزارتی ہیں۔ آلے نے دھیمی روشنی میں گزارے جانے والے وقت کی بھی پیمائش کی۔lux روشنی کی شدت کی پیمائش کرنے والی ایک اکائی ہوتی ہے۔

    محققین نے ان خواتین کو تین گروہوں میں تقسیم کیا۔ وہ خواتین جن پر سب سے زیادہ معمول کی روشنی افشا ہوئی تھی(اوسطاً ایک گھنٹا اور 19 منٹ) ان کے جیسٹیشنل ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے ساڑھے پانچ گُنا زیادہ امکانات تھے۔

  • پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں-

    ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے ایک تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ذیابیطس کے شکار افراد پھل اور سبزیاں کھاکر خود کو ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کینسر جیسے جان لیوا امراض سے بچاکر عرصہ حیات بڑھا سکتے ہیں۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ذیابیطس کے مریض گوشت ک یجائے کم کاربوہائیڈریٹس کی غذائیں، پھل اور سبزیاں کھا کر کئی امراض کا خطرہ کم کرسکتے ہیں اور اپنی عمر بڑھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ذیابیطس کے لگ بھگ 10 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اس دوران کل 900 افراد کو کینسر ہوا اور 1400 افراد امراضِ قلب کے شکار ہوئے۔ ان میں سے جن افراد نے کم کاربوہائیڈریٹس کو اپنایا ان میں موت کی کم وجہ سامنے آئی جو ایک اہم بات ہے۔

    ماہرین کے مطابق سروے میں شامل تمام افراد ذیابیطس کے مریض تھے اور کیلوریز کا 30 تا 40 فیصد حصہ کاربوہائڈریٹس سے حاصل کررہے تھے۔ جن میں سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول اور آٹا وغیرہ شامل ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    دوسری جانب ایک طویل عرصے سے ذیابیطس کے شکار مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو مکمل اناج، پھل اور سبزیاں کثرت سے کھارہی تھیں اور ان میں امراضِ قلب اور سرطان کے آثار نہ تھے۔

    ماہرین کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا کہ ذیابیطس کے مریض پھل اور سبزیاں کھا کر اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں اور یوں زندگی بڑھا سکتے ہیں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

  • ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    بوسٹن: بوسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی، خون میں گلوکوز پر قابو پانے میں کچھ مدد ملتی ہے جس سے لامحالہ دل کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

    غذائی ماہرین نے مزید تحقیق اور طویل اثرات کے مطالعے پر زور دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ انڈوں کو نہ ہی مضر، نہ ہی مفید قرار دے رہے ہیں ان کا اثر یہ ہے کہ اس سے انڈے کھانے کی شرح کم رکھی جائے تو ہی بہتر ہوگا۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    انڈوں میں پروٹین ہوتا ہے، وٹامن ڈی جیسے فوائد ہوتے ہیں اور کولائن بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن انڈے خون کی رگوں میں تنگی پیدا کرسکتے ہیں اب انڈے کےجو فوائد سامنےآئے ہیں وہ براہِ راست کی بجائے بالراست ہیں عین یہی مؤقف محتاط ماہرین کا بھی ہےیعنی ایک انڈہ روزانہ اور وہ بھی زردی کے بغیر۔

    اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 1971 کے ایک سروے کو دیکھا ہے جس میں 5000 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کا فالواپ ہرچار سال بعد کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جن افراد نے ہفتے میں پانچ یا اس سے زائد انڈے کھائے ان کا بلڈ پریشر قدرے معمول پر رہا اور فاسٹنگ بلڈ شوگر بھی اوسط سے کم تھی۔ اس طرح زیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور بلڈ پریشر جیسی خاموش قابل بیماری بھی دور رہتی ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    اس تحقیق میں 30 سے 64 سال کے افراد شامل تھے جنہوں نے بعد میں 1983 سے 1995 تک ہر تین دن بعد اپنے کھانے پینے کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ ان میں سے طویل عرصے تک جن افراد نے زیادہ انڈے کھائے ان میں بلڈ پریشر کی کیفیت نہ تھی اور نہ ہی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں انڈے کھانے سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کو بھی شامل کرنا تھا جو دل کے امراض کی ایک اہم علامت بھی ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں