Baaghi TV

Category: خواتین

  • مٹن کنّا بنانے کی ترکیب

    مٹن کنّا بنانے کی ترکیب

    مٹن کنّا

    وقت :1¼سے 1½گھنٹے

    8 سے10 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدار …………

    مٹن ………… دو کلو
    گھی ………… 1کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ………… 1½ کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 2کھانے کے چمچ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 1½کھانے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 1½کھانے کا چمچ
    کالا زیرہ ………… 1½کھانے کا چمچ
    آٹا ………… 1½کھانے کا چمچ
    گندھا ہوا آٹا (برتن کو بند کرنے کے لئے) ………… حسب ضرورت

    طریقہ کا ر:
    مٹن کو تقریباً 200گرام کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ایک مٹی کا مٹکا لے کر کھلی انگیٹھی پر رکھیں۔ اس میں گھی اور پیاز لے کر ہلکا سے گولڈن براؤن ہونے تک تلیں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ اب نمک، سرخ مرچ اور دھنیا پاؤڈر شامل کریں مٹن ڈال کر 6سے 8منٹ تک بھونیں۔ 4کپ پانی اور زیرہ شامل کرکے ایک سے دو منٹ بھونیں، تھوڑا سا پانی ڈال کر آٹے کا قتل پیسٹ بنائیں اور مٹن کے مکسچر میں ڈال دیں۔ مٹکے پر ڈھکن دیں اور اسے آئل سے سیل کردیں۔ 50 سے 60 منٹ مکمل تیارہونے تک پکائیں۔ نان یا کشمیری روٹی کے ساتھ اسی مٹکے میں پیش کریں۔ اگر مٹکاموجود نہ ہو تو چھوٹی دیگ یا موٹے پیندے کا برتن بھی استعمال کیاجاسکتا ہے۔

  • الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں  ؟

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    الٹرا پروسیسڈ کھانے ہم بہت پسند کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال ہماری صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہے اس کے استعمال سے کم نیند، سینے اور معدے میں جلن، سستی، قبض، پائلز اور وزن میں اضافے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں-

    پکلنگ، کیننگ، پیسچورائزنگ، فرمنٹنگ، ری کونسٹیٹیوٹنگ ۔ یہ سب فوڈ پروسیسنگ کی شکلیں ہیں، اور حتمی نتائج اکثر کافی مزیدار ہوتے ہیں۔

    لیکن جو چیز ’الٹرا پروسیسڈ‘ فوڈز (یوپی ایف) کو منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انھیں پہچان سے کہیں زیادہ اور کیمیائی طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اس میں ایسے مختلف طریقے اور اجزا استعمال کیے جاتے ہیں جو ہم گھر پر کھانا پکاتے وقت عام طور پر استعمال نہیں کرتے۔

    الٹرا پروسیس کھانا کھانے سے بھوک کے لیے ذمہ دار ہارمونز میں اضافہ ہوتا ہے اور اس ہارمون میں کمی ہوتی ہے جس سے ہمیں پیٹ بھرنے یا سیری کا احساس ہوتا ہے، جس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے کیوں زیادہ کھانا کھایا اور وزن بڑھا لیا۔

    لیکن وزن میں اضافہ زیادہ یو پی ایف والی غذا سے وابستہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ کئی دیگر مطالعات میں دیکھا گیا ہے کہ یو پی ایف غذا کے طویل عرصے تک کھانے اور دل کی بیماری، موٹاپا، ذیابیطس کی دونوں اقسام، کچھ طرح کے کینسروں اور حتیٰ کہ ڈپریشن میں بھی ایک طرح کا تعلق ہے۔

    بی بی سی کے مطابق ماہرین کے مطابق یو پی ایف ایک مکینیزم پیدا کر دیتے ہیں جسے کو ’امید پرستی‘ کہا جاتا ہے جنک فوڈ کے لیے مثبت جذبات ہمیں فوری طور پر متاثر کرتے ہیں۔ لیکن منفی اثرات میں اضافہ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ہمارے لیے یہ یقین کرنا آسان ہے کہ ہمارے پاس بعد میں (اپنی کھانے کی عادات) کو تبدیل کرنے کا وقت ہو گا، یا اس کا نتیجہ بہرحال ناگزیر ہے آسان زبان میں: اب آپ اسے پسند کریں گے، لیکن بعد میں آپ کو پچھتاوا ہو گا۔

    آسٹریلین گائیڈ ٹو ہیلتھی ایٹنگ‘ میں ان کھانے کو ’صوابدیدی کھانیں‘ کہتے ہیں، کیونکہ یہ ضرورت نہیں، انتخاب ہیں۔‘

    ماہرین کے مطابق جن کے پاس انتخاب کی سہولت ہے انھیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’ہر ایک صحت کے لیے کھانے کے انتخاب کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ الٹرا پروسیسڈ کھانے طویل عرصے تک چلتے ہیں، آسانی سے سفر کرتے ہیں، اور ان کی تیاری میں بہت کم وقت لگتا ہے۔ جب ہمارے پاس وقت یا کیش کم ہو تو یہ توازن کے لیے اچھا آپشن ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ڈرانے والی اصل قوتیں وہ ہیں جو لوگوں کو صحت مند کھانے کے بجائے الٹرا پروسیسڈ کھانوں کے انتخاب کی طرف راغب کرتی ہیں مثال کے طور پر دائمی تناؤ، میٹھا، چربی اور نمکین کھانوں کے لیے ہماری بھوک بڑھا سکتا ہے۔ اور تناؤ اس وقت اور طاقت کو متاثر کر سکتا ہے جو ہم صحت مند خوراک کو دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ سب الٹرا پروسیسڈ کھانے لازمی طور پر جنک نہیں ہوتے پراسسڈ کھانوں میں کچھ اہم اور صحت مند کھانے بھی شامل ہیں، جیسے ڈبہ بند سبزیاں، پاستا، چاول، روٹی اور فائبر سے بھرپور ناشتے کے سیریئلز۔لیکن سب سے بڑھ کر، یہ مت بھولیے کہ کھانا اپنے مجموعی اجزاء سے کہیں زیادہ چیز ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانا ضرورت سے زیادہ بڑی چیز ہے، یہ ہماری خوشی، ثقافت، معاشرہ، سماجی میل جول اور بہت زیادہ چیزوں کا ایک حصہ ہے ہمیں صرف لوگوں کی مدد کرنی ہے کہ وہ خوشی اور صحت میں توازن پیدا کریں۔

    دوسری جانب فرانس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں ، محققین نے پتہ چلا کہ جن افراد نے روزانہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے انھیں جلد موت کا 14 فیصد زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ تحقیق کے لئے ، 45،51 سال کی عمر کے فرانسیسیو ں نے دو سال تک اپنی غذا ، صحت اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں معلومات پیش کیں۔ الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا استعمال شدہ کھانوں کے وزن میں سے تقریبا 14، 14 فیصد وزن اور کل کیلوری کی مقدار کا تقریبا 29 فیصد حصہ ہے۔

    بی ایم جے جریدے میں ایک مطالعہ شائع کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے انتہائی روزانہ کھانے کی روزانہ کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے ان کے مجموعی کینسر کے خطرے میں 12 فیصد اور چھاتی کے کینسر میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    اگرچہ مطالعہ میں قطعی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی وجہ سے کینسر کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ، محققین نے کئی نظریات پائے ایک نظریہ یہ ہے کہ کھانے میں نمک ، چینی اور چربی کی اونچی مقدار ہوتی ہے۔ ان اجزاء کو موٹاپا سے جوڑا گیا ہے ، جس سے کینسر کا زیادہ خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کچھ الٹرا پروسس شدہ کھانے میں کچھ اضافی چیزیں ہوتی ہیں جن میں کارسنجینک خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، کھانے کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کو سفید کرنے والے ایجنٹ کے طور پر یا فوڈ پیکیجنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عضلہ بڑی آنت یا معدے کی سوزش پر گھاووں کا سبب بن سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ ، ایک اور نظریہ اعلی درجہ حرارت ہے جو کھانے پر عملدرآمد کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے نو تشکیل شدہ آلودگی پیدا ہوسکتی ہے۔ آخر میں ، بی پی اے (بیسفینول اے) عام طور پر فوڈ پیکیجنگ میں استعمال ہوتا ہے اور وہ کھانے میں جنک سکتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت کے قومی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین کے ذریعہ کی جانے والی ایک تحقیق اور سیل میٹابولزم جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی پروسیسرڈ فوڈوں پر مشتمل ڈائیٹ کھانے سے لوگوں کو ضرورت سے زیادہ کھانے اور وزن بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔ محققین نے پایا کہ انتہائی پروسیسر شدہ غذا پر رضاکاروں نے ہر دن 508 مزید کیلوری کھائی اور دو ہفتوں میں اوسطا دو پونڈ حاصل کرلیا۔ مطالعہ کے شرکاء جنہوں نے پوری یا کم سے کم پروسیس شدہ کھانوں کو کھایا اسی مدت کے دوران تقریبا دو پاؤنڈ کھوئے۔

    اگرچہ الٹرا پروسیسرڈ کھانے کی صحت پر اس طرح کے اثرات مرتب ہونے کی صحیح وجوہات جاننے کے لئے مزید مطالعات کی ضرورت ہے ، تاہم ، یہ کہنا محفوظ ہے کہ ان کو کھانے کے نتائج فوائد سے زیادہ ہیں۔

  • ٹماٹر گوشت بنانے کی ترکیب

    ٹماٹر گوشت بنانے کی ترکیب

    ٹماٹر گوشت

    وقت : 70 سے80 منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیب ………… مقدار …………
    مٹن ………… ایک کلو
    تیل ………… ½کپ
    پیاز (باریک کٹے ہوئے) ………… 1کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 2کھانے کے چمچ
    ٹماٹر ………… ایک کلو
    نمک ………… حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ
    کالی مرچ ثابت ………… 8 سے 10 عدد
    ثابت موٹی الائچی ………… 2عدد
    دارچینی ………… 2ٹکڑے
    زیرہ ………… 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    ہرا دھنیا (کٹا ہوا) ………… 1 کھانے کا چمچ
    ادرک (لمبائی میں کٹا ہوا) ………… 1 کھانے کا چمچ

    طریقہ کار :
    مٹن کی درمیانے سائز کی بوٹیاں بنالیں اور ایک طرف رکھ لیں۔ ٹماٹروں کے چھلکے اتار کر موٹے کاٹ لیں او ر ایک طرف رکھ لیں۔ تل گرم کرکے پیاز کو ہلکا براؤن کریں۔ کٹے ہوئے ٹماٹر، نمک، سرخ مرچ، کالی مرچ، موٹی الائچی، دارچینی اور زیرہ شامل کریں۔ 10 سے 12 منٹ مصالحہ تیار ہونے اور گھی چھوڑنے تک پکائیں۔ مٹن اور 2کپ پانی شامل کرکے برتن کو ڈھک دیں۔ آنچ ہلکی کرکے 40 سے 45 منٹ تک مٹن کے گلنے تک پکائیں۔ ڈھکن اٹھا کر 5سے6 منٹ تک گھی چھوڑنے تک بھونیں۔ ہرے دھنیے اور ادرک کے ساتھ سجائیں۔ روٹی یا نان کے ساتھ پیش کریں۔

  • مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    مسورکی دال کو عام طور پر’ملکہ مسور ‘ بھی کہا جاتا ہے یہ انسانی خوراک کے لیے کاشت کی جانے والی نباتات میں سے ایک ہے جو قدیم زمانے سے خوراک کے طور پر مختلف طریقوں سے پکا کر کھائی جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق غذائیت کے لحاظ سے مسور کی دال میں 25 فیصد پروٹین، 60 فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 12 فیصد رطوبت پائی جاتی ہے جبکہ اس دال میں فاسفورس اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    خبردار خوش ذائقہ پھل تربوز صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے

    فائبر، میگنیشیم اور فولیٹ سے مالا مال ہونے کی وجہ سے مسور کی دال ہماری قلبِ صحت کو بہتر بناتی ہے، میگنیشیم پورے جسم میں خون، آکسیجن اور غذائیت کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔ فولیٹ سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ مسور کی دال میں موجود فائبر کا مواد جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔مسور کی دال میں ضروری وٹامنز، اینٹی آکسیڈینٹ اور معدنیات کی وافر مقدار جسم کی قوت مدافعت کے نظام کی تشکیل میں معاون ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آزاد ریڈیکلز کو تباہ کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہماری قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے۔

    آم کا استعمال جِلد کےمتعددمسائل کاحل اوررنگت میں واضح نکھارلاتا ہے لیکن کیسے؟

    مسور کی دال بڑھتے وزن کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے کیونکہ یہ فائبر اور پروٹین سے مالا مال ہوتی ہے اور ان دو غذائی اجزاء کی وجہ سے ہمارا پیٹ زیادہ دیر تک بھرا ہوا رہ سکتا ہے، اس طرح بڑھتے وزن سے پریشان افراد کو بھوک کم لگے گی اور اُن کے وزن میں کمی آئے گی علاوہ ازیں مسور کی دال اینٹی آکسیڈینٹ کا ایک پاور ہاؤس ہے جو ہماری جِلد کے خلیوں کے نقصان کو مؤثر طریقے سے کم کرسکتا ہے مسور کی دال کھانے سے ہماری جِلد صاف اور نکھرتی ہے، ایکنی ختم ہوتی ہے اور ساتھ ہی جھریاں بھی ختم ہوتی ہیں۔

    پاپ کارن ذیابیطس سے تحفظ کے لئے انتہائی مفید غذا

  • اچاری گوشت بنانے کا طریقہ

    اچاری گوشت بنانے کا طریقہ

    اچاری گوشت

    وقت : 60 سے 70 منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدار …………
    مٹن ………… ایک کلو
    تیل ………… ½کپ
    دہی ………… ½کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ………… ½کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 1کھانے کا چمچ
    ٹماٹر (گرائنڈ کئے ہوئے) ………… 1کپ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر ………… 1چائے کاچمچ
    زیرہ پاؤڈر ………… 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 1چائے کاچمچ
    کلونجی ………… ½ چائے کا چمچ
    میتھرے ………… ½چائے کا چمچ
    سونف ………… ½چائے کا چمچ
    مکس اچار(کٹا ہوا) ………… 3کھانے کے چمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    پورا مکس اچار ………… ½کپ

    طریقہ کار :
    مٹن کو تقریباً 2½سینٹی میٹر کے ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک طرف رکھ دیں۔ برتن میں تیل گرم کرکے پیاز کو ہلکا براؤن کریں۔ ادرک لہسن ک پیسٹ ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ تمام مصالحے ڈال کر دو سے تین منٹ تک پکائیں۔ ٹماٹر اور دہی ڈال کر 8سے 10 منٹ تک مصالحہ تیار ہو کر گھی چھوڑنے تک پکائیں۔ مٹن ڈال کر 3سے 4 منٹ تک بھونیں۔ 2 پر پانی شامل کرکے 40سے 45 منٹ تک مٹن کے نرم ہونے تک پکائیں۔ کٹا ہوا اچار شامل کرکے 5سے6منٹ تک تیل چھوڑنے تک بھونیں۔ ثابت اچار سے سجائیں۔ نان یا کشمیری روٹی کے ساتھ پیش کریں۔

  • آم کا استعمال جِلد کےمتعددمسائل کاحل اوررنگت میں واضح نکھارلاتا ہے لیکن کیسے؟

    آم کا استعمال جِلد کےمتعددمسائل کاحل اوررنگت میں واضح نکھارلاتا ہے لیکن کیسے؟

    پاکستان متعددپھلوں کی طرح آم کی پیداوار میں بھی دنیا بھر میں مشہور ہے دنیا بھر کے زرعی سائنسدانوں کے مطابق آم جیسا ذائقہ اور مٹھاس پورے کرہ ارض پر کہیں نہیں پائی جاتی پاستانی آم اپنے ذائقے کی وجہ سے بہت سے ممالک میں پسند کیا جاتا ہے فرانسیسی مورخ ڈی کنڈوے کی مطابق برصغیرمیں آم چار ہزار سال قبل بھی کاشت کیا جاتا تھا برصغیر کو آموں کا گھر بھی کہا جاتا ہے آم گرمیوں کی پیداوار ہے پاکستان میں آم کی سب سے زیادہ پیداوار پنجاب اور سندھ میں ہوتی ہے-

    آم کو ہرکوئی شوق سے کھاتا ہے اور ہر عمر کے افراد میں یکساں مقبول ہے اسکے خوش کن ذائقے اور لذت کی وجہ سے اسے پھلوں کابادشاہ بھی کہا جاتا ہے آم کی بہت سی اقسام ہیں جن میں چونسہ دسہری الماس سندھڑی لنگڑا انوررٹول الفانسو وغیرو ہیں-

    جامن کے حیرت انگیز فوائد

    آم کے صحت پر بے شمار طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں مگر زیادہ تر افراد آم کے خوبصورتی میں اضافے کے لیے استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے نے خبر ہیں-

    طبی و غذائی ماہرین کے مطابق تمام پھلوں کا بادشاہ آم ایک فرحت بخش موسمی پھل ہے، موسمی پھلوں میں قدرت نے بیش بہا خزانہ چھپا رکھا ہے، جہاں پھل کھانے سے مجموعی صحت پر طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اِن کے چہرے پر بطور فیس ماسک کے استعمال سے بھی جِلد صاف شفاف، نرم و ملائم اور کھِل اٹھتی ہے، رنگت صاف ہوتی ہے آم کے استعمال سے چہرے پرکیل مہاسے نہیں نکلتے-

    آم پھلوں کا باشاہ کے حیران کن فوائد

    آم ایک ایسا پھل ہے جس کے گودے میں بے شمار منرلز اور وٹامنز پائے جاتے ہیں، آم کا گودا براہ راست جِلد پر لگانے سے جِلد کے متعدد مسائل حل اور رنگت میں واضح نکھار آتا ہے۔

    صحت کے لیے مفید آم سے بننے والے حیرت انگیز نتائج کے حامل فیس پیک بنانے اور اسے چہرے پر لگانے کا طریقہ کار مندرجہ ذیل ہے:

    آم، دہی اور شہد سے بننے والا فیس ماسک

    چکنی جلد والوں کے لیے موسم گرما بہت سے مسائل اور شکایات ساتھ لاتا ہے، اس موسم میں چکنی جِلد کا علاج بھی آم سے باآسانی کیا جا سکتا ہے۔

    فیس پیک بنانے کا طریقہ

    پکے ہوئے میٹھے آم کا گودا ایک کھانے کا چمچ، ایک چائے کا چمچ دہی اور شہد لے لیں اور اب ان سب اجزاء کا اچھی طرح پیسٹ بنا لیں، اب اسے چہرے پر انگلیوں کے پوروں یا برش کی مدد سے لگائیں اور 10 منٹ بعد چہرہ ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔

    ایلوویرا کے فوائد

    آم اور بیسن سے بننے والا فیس ماسک

    پکے ہوئے میٹھے آموں کا گودا دو چائے کے چمچ، 2 چائے کے چمچ بیسن، ڈیڑھ چائے کا چمچ شہد اور چند بادام لے لیں۔

    اب ایک پلاسٹک یا کانچ کے برتن میں آم کا گودا، بیسن، پسے ہوئے بادام اور شہد اچھی طرح مکس کر لیں، اب اس مکسچر کی مدد سے نرمی سے چہرے پر گول دائروں میں مساج کریں، 10 سے 12 منٹ کے لیے لگا چھوڑ دیں، اس کے بعد پانی سے دھولیں۔

    اس عمل کو دن میں دو بار کیا جا سکتا ہے، اس فیس پیک کے لگانے سے رنگت دنوں میں صاف ہوتی ہے اور سورج سے جھلسی ہوئی جِلد کا بہترین علاج ہوتا ہے۔

    3: آم کا گودا جلد کی نمی بھی بحال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، رنگت صاف رکھنے اور جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لیے آم کا گودا لیں اور اس سے چہرے پر 2 سے 3 منٹ تک مساج کریں، پھر اسے 5 منٹ کے لیے لگا چھوڑ دیں اور بعد ازاں ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔

    قدرتی اجزاء سے چہرہ حسین بنائیں

    اس عمل سے جلد چمکدار، صاف، نرم و ملائم اور ایون ٹون ہو جائے گی مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے اس عمل کو ایک ہفتے میں 3 بار دہرائیں۔

    علاوہ ازیں آم قبض کشاء بھی ہے اور چہرے کی خوبصورتی بڑھانے کے ساتھ ساتھ بالوں کے لئے بھی مفید ہے جن کےبال گر رہے ہوں وہ آم کازیادہ استعمال کریں کیونکہ آم بالوں کو مضبوط بناتے ہیں-

    موٹے زیادہ وزن والے افراد آم کم استعمال کریں کیونکہ آم وزن بڑھاتا ہے کمزور یا دبلے پتلےافرد وزن بڑ ھانا چاہتے ہوں تووہ آموں کا استعمال باقاعدگی سے کریں آم مثانے کوبھی تقویت دیتا ہے اور آم کھانے والےافراددمے کا شکار بھی نہیں ہوتے اور جن کےمعدو میں گرمی ہووہ ساتھ کچی لسی کا استعمال ضرور کریں-

    بالوں کی حفاظت کیسے کی جائے؟

  • اسپیشل مٹن مٹر قیمہ بنانے کی ترکیب

    اسپیشل مٹن مٹر قیمہ بنانے کی ترکیب

    مٹر قیمہ

    وقت ………… 60 سے 70 منٹ

    3 سے 4 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدا ر…………

    مٹن قیمہ ………… ½کلو
    مٹر ………… 1کپ
    تیل ………… ½کپ
    پیاز (کٹا ہوا) ………… 1کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 1کھانے کا چمچ
    ٹماٹر (گرائنڈ کئے ہوئے) ………… 1کپ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر ………… ½چائے کاچمچ
    موٹی الائچی ………… 2عدد
    زیرہ ………… 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    ہرا دھنیا (کٹا ہوا) ………… 1کھانے کا چمچ
    ادرک (لمبائی میں کٹا ہوا) ………… 1کھانے کا چمچ
    گرم مصالحہ پاؤڈر ………… ½چائے کا چمچ

    طریقہ کار :
    برتن میں تیل گرم کرکے پیاز کو ہلکا براؤن کریں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے مزید 2منٹ پکائیں۔ گرائنڈ کئے ہوئے ٹماٹر، نمک، سرخ مرچ پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، موٹی الائچی زیرہ اور خشک دھنیا پاؤڈر ڈال کر تقریباً 10 منٹ تک پکائیں حتیٰ کہ مصالحہ تیار ہو کر گھی چھوڑ دے۔ مٹن قیمہ ڈال کر ایک کپ پانی شامل کریں۔ 30سے35 منٹ تک پکائیں حتیٰ کہ قیمہ گل کر گھی چھوڑ دے۔ اب قیمے کو 5 سے 6 منٹ تک بھون کر تازہ مٹر اور ایک کپ پانی شامل کردیں۔ درمیانی آنچ پر مٹروں کے گلنے تک پکائیں۔ دھنیے اور ادرک کے ساتھ سجائیں۔ گرم مصالحہ چھڑک کر روٹی یا نان کے ساتھ پیش کریں۔ آپ مٹن قیمہ کی جگہ بیف قیمہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

  • اچار کھانے کے حیران کن طبی فوائد

    اچار کھانے کے حیران کن طبی فوائد

    قدیم زمانے سے پاکستان، ایشیائی اور یورپی ممالک خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں اس غذا کو بنانے کا بڑا اہتمام کیا جاتا ہے جسے عام اصطلاح میں اچار کہتے ہیں اچار کھانوں کا لُطف دوبالا کر دیتا ہے اور پاکستان کے تقریباً سب ہی باورچی کھانوں میں موجود ہوتا ہے۔

    طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے اچار کے بے شمار فوائد گِنوائے جاتے ہیں، یہ ایک ایسی قدیم روایت جو آج بھی کئی گھروں میں خواتین بڑے اہتمام سے خصوصی مرتبانوں میں اچار ڈالتی ہیں اور یہ اچار گھر کے افراد سمیت ہر آنے والے مہمان کے سامنے بھی پیش کیا جاتا ہے۔

    اچار ڈالنا پاکستان کی روایتوں میں سے ایک خاص روایت ہے، اچار کا استعمال خصوصی طور پر اندرون سندھ، اندرون پنجاب اور متعدد شہروں میں بھی کیا جاتا ہے، سندھ کے شہر شکار پور کا اچار پاکستان بھر میں بہت مقبول ہے حتیٰ کے اسے درآمد بھی کیا جاتا ہے، یہ مکس مسالوں کا اچار نہایت لذیذ اور صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔

    خبردار خوش ذائقہ پھل تربوز صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے

    اچار جہاں گھروں میں خواتین بناتی ہیں وہیں اس کی متعدد برانڈز بھی ہیں جو کہ طرح طرح کے اچار بناتے ہیں اور مارکیٹ میں انہیں بڑی تعداد میں خریدا جاتا ہے، اچار کھانا تو ہر کوئی پسند کرتا ہے مگر اس کے بے شمار طبی فوائد سے بہت کم لوگ واقف ہیں جنہیں جاننا اور اس کا استعمال بڑھانا لازمی ہے۔

    طبی و غذائی ماہرین کے مطابق اچار میں استعمال کیے جانے والے سب ہی قدرتی اجزا مثلاً سرکہ، لال مرچ، سونف، سرسوں کا تیل، رائی دانہ، میتھی دانہ، ہلدی، کلونجی، نمک، کیری، لیموں، گاجر، لہسن، ہری مرچ، لسوڑے اور دیگر متعدد اجزا صحت کے لیے نہایت مفید ہوتے ہیں، ان سب میں اینٹی آکسیڈنٹ اینٹی انفلامینٹری خصوصیات، وائرل اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف اقسام کی چٹنیوں، مسالوں، فرمینٹڈ فوڈ کو حالیہ تحقیق میں صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔ اچار میں موجود قدرتی صحت بخش اجزا کینسر سے بچاؤ کا بھی سبب بنتے ہیں۔

    غذائی ماہرین کے مطابق ہر قسم کے اچار کھانے سے جسم کو بنیادی وٹامنز اور منرلز حاصل ہوتے ہیں جو کہ جسم کو تندرست اور چاق و چوبند رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

    اچارکھانے سے جسم کا مدافعتی نظام طاقتور ہوتا ہے اور انیمیا ( خون کی کمی) اور بینائی کی کمزوری دور ہوتی ہے اچار میں وٹامن سی اور اے کے علاوہ اور بھی بہت سے وٹامنز شامل ہوتے ہیں جو متعدد بیماریوں سے جسم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اچار میں ایسے اینٹی آکسیڈینٹ بھی پائے جاتے ہیں جو کہ موسمی الرجی جیسی بیماریوں کو بھی قابو میں رکھتے ہیں۔

    اچار میں سرکہ استعمال ہوتا ہے اور سرکہ ایسیڈک ایسڈ سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم میں ہیموگلوبن کو بڑھاتا ہے اچار میں شامل سبز مرچ اور لہسن شوگر لیول کو کم کرنے میں انتہائی مفید ہے، لہسن جسم سے مضر صحت مادوں کو خارج کر دیتا ہے اور بہت سی دوسری بیماریوں میں بھی انتہائی مفید ہے۔

    ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اچار کا اجوائن مسالہ نہ صرف بدہضمی، پیٹ میں درد، گیس اور ہاضمے کے دیگر مسائل میں کمی لاتا ہے بلکہ یہ خون میں چربی کی مقدار میں کم کرتا ہے-

    ویسے تو اس کے حوالے سے سائنسی شواہد موجود نہیں مگر متعدد افراد کا دعویٰ ہے کہ تھوڑی سے مقدار میں اچار کا عرق پینا ہچکیوں سے نجات دلانے کا اچھا علاج ہے، ہچکیاں آرہی ہوں تو آدھا چائے کا چمچ ہر چند سیکنڈ بعد اس وقت پینا جاری رکھیں جب تک ہچکیاں تھم نہیں جاتیں۔

    دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں

    اچار کے جوس میں موجود سوڈیم اور پوٹاشیم جسمانی ڈی ہائیڈریشن سے مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، سوڈیم اور پوٹاشیم جسم کو وہ الیکٹرولیٹس فراہم کرتے ہیں جو پسینے کے ذریعے خارج ہوجاتے ہیں، ویسے تو پانی بھی ڈی ہارئیڈریشن دور کرنے کے لیے موثر ہے مگر اچار کا جوس زیادہ تیز ریکوری میں مدد دیتا ہے۔

    امریکی تحقیق کے مطابق اچار کا عرق مسلز کے اکڑنے کے مسئلے کی روک تھام میں عام پانی کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، یہ عرق جسمانی پٹھوں کی اکڑن کی تکلیف میں 37 فیصد تیزی سے ریلیف دیتا ہے، ورزش کرنے والے افراد کے لیے اچار کھانا ناگزیر ہے۔

    اچار کے عرق میں موجود پرو بائیوٹکس معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما اور صحت مند توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

    نقصانات:

    گھر میں ڈالے گئے اچار صحت کے لیے مُفید ہوتے ہیں کیونکہ ان میں اچار کو لمبے عرصے تک محفوظ کرنے کے لیے کوئی ایسڈ یا کیمیکل استعمال نہیں کیا جاتا اورصاف سُتھرے مصالحوں کے ساتھ نیچرل پرسرویٹیو طریقے سے اچار کو محفوظ کیا جاتا ہے۔

    جبکہ مارکیٹ میں دستیاب ریڈی میڈ اچار ‘پرزرویٹوز’ استعمال کرتے ہیں جس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بازاری اچاروں کے ذائقے کو بڑھانے کے لیے تیل، سرکہ اور نمک استعمال کیا جاتا ہے اور ان چیزوں کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہے خاص طور پر نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر کو تیز کرتا ہے۔

    کُچھ بازاری اچاروں میں خاص طور پر آم کے اچار اور لیموں کے اچار میں شوگر استعمال کی جاتی ہے جو کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

    گرما کھانے کے حیران کن فوائد

    بازاری اچار خاص طور پر کُھلے اچار میں خدشہ ہوتا ہے کہ اچار کو صاف طریقے سے نہیں بنایا گیا اور ایسے اچار صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

  • مٹن کڑاہی بنانے کی ترکیب

    مٹن کڑاہی بنانے کی ترکیب

    مٹن کڑاہی

    وقت ………… 60 سے70 منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیب ………… مقدار …………

    مٹن ………… ایک کلو
    تیل ………… ½کپ
    دہی ………… ¼کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ………… ½کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 1کھانے کا چمچ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    ٹماٹر (کٹے ہوئے) ………… 2کپ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 1چائے کاچمچ
    زیرہ ثابت ………… 1چائے کا چمچ
    قصوری میتھی (خشک) ………… 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    ہرا دھنیا ………… 1کھانے کا چمچ
    ہری مرچیں ………… 1چائے کاچمچ
    ادرک (لمبائی میں کٹی ہوئی) ………… 1کھانے کے چمچ
    کڑاہی مصالحہ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ

    طریقہ کار :
    مٹن کو2½ سینٹی میٹر کے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ کڑاہی میں تیل گرم کرکے پیاز کو ہلکا براؤن کریں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ مٹن شامل کرکے 4سے 5منٹ خرید پکائیں۔ دہی، ٹماٹر، نمک، سرخ مر چ پاؤڈر، خشک دھنیا، زیرہ اور 2کپ پانی شامل کریں۔ 40 سے 45 منٹ تک مٹن کو نرم تک ہلکی آنچ پر پکائیں۔ قصوری میتھی ڈال کر 5 سے 6 منٹ تک گھی چھوڑنے تک پکائیں۔ ہرے دھنیے ہری مرچوں اور ادرک کے ساتھ سجائیں گرم مصالحہ چھڑک کر نان اور زیرے کے رائتے کے ساتھ پیش کریں۔ آپ گریوی کی مقدار کے حساب سے پیاز ٹماٹر اور دہی کی مقدار کم زیادہ کرسکتے ہیں-

  • دم پخت دیسی چکن بنانے کی ترکیب

    دم پخت دیسی چکن بنانے کی ترکیب

    دم پخت دیسی چکن

    وقت : 60 سے 70 منٹ

    3 سے 4 افرادکے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدار …………
    پورا دیسی گھی ………… ایک کلو
    تیل ………… ¼کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 1½کھانے کا چمچ
    لیموں (قتلے) ………… 4سے 6 عدد
    نمک ………… حسب ذائقہ
    کالی مرچ ثابت ………… 8سے 10عدد
    جاوتری ………… 1عدد
    آٹے کی لئی ڈھکن بند کرنے کیلئے ………… حسب ضرورت

    طریقہ کار :
    چکن کو 4ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک طرف رکھ دیں۔ مٹی کی ہانڈی میں ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے ہلکا براؤن کریں۔ کالی مرچ اور جاوتری شامل کرکے دو منٹ تک پکائیں۔ اب دیسی چکن شامل کرکے ہلکا براؤن ہونے تک پکائیں۔ ایک پانی، نمک اور لیموں کے قتلے شامل کریں ہانڈی کو ڈھک دیں اورچاروں طرف آٹے کی لئی لگا دیں۔ چکن کے مکمل تیا ر ہونے تک 45 سے 50 منٹ تک پکائیں۔ اسی ہانڈی میں نان اور پودینے کے رائتے کے ساتھ پیش کریں۔ پکنے کے دوران ڈھکن مت اٹھائیں۔ اس طرح بھاپ نکل جائے گی اور پکنے کا عمل متاثر ہوگا۔