Baaghi TV

Category: خواتین

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات    تحریر:سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات تحریر:سمیع اللہ

    موضوع دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات

    تحریر سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

  • ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

    ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

    گوارصدیوں پُرانی ایک پھلی دار فصل ہے اور یہ پاکستان اور انڈیا میں کثرت سے پائی جاتی ہے دنیا میں پیدا ہونے والے گوار کا قریباً 95فیصد حصہ برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوتا ہے۔

    گوار ان علاقوں میں کاشت ہوتی ہے جہاں کا موسم گرم ہو مطلب اس کو گرم آب وہوا کی سخت ضرورت ہوتی ہےاور یہ گرم علاقوں میں ہی کاشت کیجاتی ہے۔

    اس میں لحمیاتی مادہ (پروٹین) قریباً 35 فیصد تک پایا جاتا ہے۔ جو کہ جانوروں کے گوشت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے گوار کو غیر پھلی دار چارہ جات مثلاً جوار، باجرہ اور مکئی وغیرہ کے ساتھ ملا کر بھی کاشت کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس کو سبزی اور دال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے –

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گوار کا پودا کافی سخت ہوتا ہے یعنی یہ اپنی جان کی ساخت کے حوالے سے کافی مضبوط ہوتا ہے،زرعی ماہرین کے مطابق اس فصل کو سبز کھاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے زمین کی زرخیزی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔

    دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں

    گوار کی فصل ایک سیزن میں فضا سے 300 پائونڈ نائٹروجن کا زمین میں اضافہ کرتی ہے۔ گوار کی فصل ملک دوست، کسان دوست، زمین دوست اور ماحول دوست ہےاور اس فصل کی خاص بات یہ ہے کہ پانی کی کمی کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اگر یہ جانوروں کو چارے کے طور پر دی جائے تو یہ جانوروں کے گوشت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فصل کو زیادہ تر توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی گوار کی فصل زیادہ تر کم بارشوں والے علاقے میں کیجاتی ہے اور اسی وجہ سے یہ پاکستان،انڈیا میں کثرت سے کاشت کیجاتی ہے۔

    پاکستان سمیت ایشائی ممالک خصوصاً بھارت، بنگلہ دیش میں گوار کی پھلی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے فائبر سے بھرپور یہ سبزی صحت کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے طب میں گوار کا استعمال صدیوں سے ہورہا ہے خاص طور پر دل کی بیماریوں ، شوگر اور رات کے اندھے پن کیلئے انتہائی مفید ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق پھلیاں انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہیں، پھلیاں اور ہرے رنگ کی تمام سبزیاں انسانی صحت اور معدے سے جڑی تمام شکایتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    گوار کی پھلی کا بطور سبزی یا اس کا چاولوں میں استعمال کرنا انسانوں کے لیے صحت مند غذا ثابت ہوتا ہے گوار پھلی کی سبزی انسانی خطرناک بیماریوں مثلاً شریانوں کے تنگ ہو جانے، دل کی متعدد شکایتوں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین غذا قرار دی جاتی ہے۔

    گوار پھلی کا استعمال متعدد طریقوں سے کیا جاتا ہے اسے عام روایتی طریقوں سے سبزی بنا کر یا گوشت کے ساتھ پکا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے گوار کی پھلی کے استعمال سے قبل اسے ابال کر پانی نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس پھلی کی سختی اور تیکھے ذائقے میں کمی لائی جا سکے۔

    نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کلونجی موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے

    علاوہ ازیں اس کے بیج میں ایک خاص قسم کا گوند (گوارگم) پایا جاتا ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں ٹیکسٹائل، بیکری، گن پائوڈر، پیپر، کاسمیٹکس، تمباکو، بارود، مرغیوں، مچھلیوں اور مویشیوں کی خوراک، ادویات، خوراک اور دیگر بہت سی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر کھودے جانے والے کنوئوں میں بہت زیادہ مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    پنجاب میں گوار کی کاشت زیادہ تر میانوالی، سرگودھا، بھکر، جھنگ، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں کی جاتی ہے۔ اس کی کاشت کیلئے گرم اور خشک آب و ہوا درکار ہوتی ہے۔

    اس کا پودا نہایت سخت جان ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سخت گرمی اور پانی کی قلت کو کافی حد تک برداشت کرلیتا ہے اور پانی کی زیادتی تو بالکل برداشت نہیں کرتا۔ گوار کی کاشت کیلئے ریتلی میرا زمین جہاں پانی کا نکاس اچھا ہو موزوں ہوتی ہے۔ یہ کلراٹھی زمینوں کے علاوہ باقی تمام زمینوں میں کاشت کیا جاسکتا ہے۔

    اس کی کاشت عموماً ریتلے اور کم بارش والے علاقوں میں کی جاتی ہے لیکن آبپاش علاقوں میں اس کی کاشت کامیابی سے کی جاسکتی ہے۔ بہتر پیداوار کیلئے زمین کا ہموار ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ نشیبی جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہوسکے اور اگائو بھی بہتر ہو۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

  • حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    حضرت محمدﷺ کا تجویز کردہ عمل حجامہ ، متعدد خطرناک بیماریوں کا علاج

    بیماریاں پہلےقدیم زمانے میں بھی ہوا کرتی تھیں مگر اُس وقت اُن کی سمجھ بوجھ اور علاج کا شعور نہیں تھا، آ ج کل جہاں سائنس نے بے حد ترقی کر لی ہے وہیں صدیوں سے استعمال کیے جانے والا طریقہ حجامہ ’ کپنگ تھیراپی‘ نہ صرف آج بھی اپنی اہمیت اور افادیت رکھتا ہے بلکہ اب حجامہ بھی نئی جدت کے ساتھ کیا جاتا ہے حجامہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والا سستا اور اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ علاج ہے-

    حجامہ کیا ہے؟

    حجامہ دنیا میں تیزی سے مقبول ہوتا ہوا اسلامی طریقہ علاج ہے جسے مغربی ممالک اور غیر اسلامی ممالک میں cupping therapyکے نام سے جانا جاتا ہے دراصل حجامہ عربی زبان کے لفظ حجم سے نکلا ہے‘‘ جس کے معنی کھینچنا/چوسنا ہے۔

    اِس عمل میں مختلف حصوں کی کھال سے تھوڑا سا خون نکالا جاتا ہے۔ انسانی صحت کا دار و مدار جسمانی خون پر ہے اگر خون صحیح ہے تو انسان صحت مند ہے ورنہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ بیماریاں اس فاسد خون کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔

    حجامہ اسلامی تعلیمات سے تصدیق شدہ:

    حجامہ ایک قدیم علاج ہے اور ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اور ملائکہ کا تجویز کردہ ہے اِس قدیم طریقہ علاج میں جسم کے 143 مقامات سے فاسد خون نکال کر مختلف بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔حضرت محمدﷺ نے حجامہ لگانے کو افضل عمل قرار دیا ہے۔

    حجامہ اور جدید میڈیکل سائنس:

    جدید میڈیکل سائنس اب تیزی سے حجامہ کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ مغربی سائنس دان اور تحقیقاتی ادارے حجامہ پر مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں،حجامہ سے علاج کا طریقہ 3000 سال قبل مسیح سے بھی پرانا ہےاس طریقہ علاج کا ذکر Ebers Papyrus(ریبس پائرس) نامی طبی کتاب میں بھی ہےجو 1550 قبل مسیح کی مشہور طبی کتاب ہے۔

    سائنس دان اس امر پر بھی حیران ہیں کہ ہزاروں سال قبل انسان نے میڈیکل کی اِس قدر پیچیدہ گتھی کس طرح سلجھائی تھی۔ اس کتاب کے علاوہ ماہرین آثار قدیمہ نے چائنیز تہذیب کی ایک قدیم کتاب بھی دریافت کر لی ہے۔

    اس کتاب کے مطابق چین میں حجامہ طریقہ علاج تین ہزار سال قبل مسیح سے رائج ہے۔ گریس کے مطابق تہذیب میں ہیپوکریٹس کے دریافت شدہ آثار میں ایسے کاغذات بھی دریافت ہوئے ہیں جو چار سو سال قبل مسیح میں تحریر کیے گئے تھے اور ان میں حجامہ طریقہ کار چار بنیادی نکات پیش کیے گئے تھے ان ہی چار نکات کو حضرت محمدﷺنے بہتر قرار دیا تھا۔ مشہور سائنس دان نے بھی اسی وجہ سے حجامہ کے بیان کردہ چار نکاتی فارمولے پر تحقیق کو آگے بڑھایا۔

    جدید سائنس میں حجامہ پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق حجامہ کروانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، جمنے والا فاسد خون خارج ہو جاتا ہے، جسم سے زہریلا مواد نکل جاتا ہے-

    نہ صرف جدید سائنس بھی اس کی افادیت کی ناصرف قائل ہو گئی ہے بلکہ اب تو مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد اور معروف شخصیات بھی جسم کو ڈیٹاکس کرنے کے لیے حجامہ کرواتے ہیں۔

    حجامہ متعدد بیماریوں کا علاج:

    حجامہ سے بلڈ پریشر، ٹینشن، جوڑوں کا درد، پٹھوں کا درد، کمر کا درد، ہڈیوں کا درد، سر کا درد (درد شقیقہ) مائیگرین، یرقان، دمہ، قبض، بواسیر، فالج، موٹاپا، کولیسٹرول، مرگی، گنجاپن، الرجی، عرق النساء وغیرہ اور اس کے علاوہ 70 سے زائد روحانی وجسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔

    یہ خون صاف کرتاہے اور حرام مغز کو فعال کرتا ہے، شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے، پٹھوں کا اکڑاؤ ختم کرتا ہے، دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کے لیے مفید ہے، آنکھوں کی بیماریوں کو بھی ختم کرتاہے، رحم کی بیماری ماہواری کے بند ہو جانے کی تکالیف اور ترتیب سے آنے کے لیے مفید ہے، گٹھیا عرق النساء اور نقرس کے درد کو ختم کرتا ہے، فشار خون میں آرام دیتا ہے، زہر خورانی میں مفید ہے، مواد بھرے زخموں کے لیے فائدہ مند ہےالرجی جسم کے کسی حصے میں درد کو فوری ختم کرتا ہے۔

    کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح انسان جادو کے اثر سے بھی نکل جاتا ہے۔سب سے بڑھ کر مسنون طریقہ علاج ہونے کی وجہ سے اہل ایمان کو ایک روحانی سکون ملتا ہے۔

    حجامہ کیسے کیا جاتا ہے؟

    حجامہ سے قبل مطلوبہ جسم کے حصے پر زیتون یا کلونجی کا تیل لگا دیا جاتا ہے جس سے جلد پرسکون رہتی ہے پھر جسم کے مختلف مقامات پر ہلکی ہلکی خراشیں لگا کر مخصوص قسم کے ٹرانسپیرنٹ کپ لگا دئیے جاتے ہیں۔

     خراش لگی ہوئی جگہوں سے خون کی بوندیں نکل کر کپ میں جمع ہوتی ہیں جنہیں پھینک دیا جاتا ہے۔ اور مریض خود کو ہلکا پھلکا اور تر و تازہ محسوس کرنے لگتا ہے ساتھ ہی اس کا مرض بھی دور ہوجاتا ہے۔

    بہت سے افراد جو کہ کسی مرض کا شکار نہیں ہیں محض جسم کو ہلکا پھلکا بنانے اور تر و تازگی حاصل کرنے کے لئے بھی ہر ماہ حجامہ کرواتے ہیں ۔ویسے بھی مہینے میں ایک دفعہ حجامہ کروانا عین سنت ہے۔یہ سارا عمل دس سے پندرہ منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے اور خراشیں لگانے کے دوران کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ایسے میں جسم گندے خون سے پاک ہو جاتا ہے اور انسان موجودہ شکایت سمیت متعدد بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔

    عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہوگا جبکہ حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے حجامہ عام طور پر پشت پر کیا جاتا ہے اور مریض کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب اسے پتا چلتا ہے کہ یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور اسے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوئی ۔

    چونکہ حجامہ ایک مکمل طریقہ علاج ہے اس لئے اس میں کسی طرح کی سخت پرہیز نہیں کرنی پڑتی جو کہ عام طور پر ایلو پیتھک ، ہومیو پیتھک ،یونانی یا دیگر علاج کے طریقوں میں کی جاتی ہیں۔ تاہم مکمل علاج کے لئے مریض کو سختی سے طب نبوی ﷺ میں دی گئی ہدایت کی پابندی کرنی چائیے۔

    حجامہ کے نتائج فوراً ہی ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔عام طور پر اگر کسی کو کوئی بیماری نہیں ہے اور وہ سنت نبوی ﷺ کے طور پر حجامہ کرواتا ہے تو حجامہ چند منٹوں میں ہی وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔

    ہر صحت مند انسان کو مہینے میں ایک بار سنت کے طور پر گدی پر حجامہ ضرور کروانا چاہئیے جس سے 72 ایسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے جن کا عام طور پر انسان کو خود بھی علم نہیں ہوتا۔

    خیال رہے کہ نیم حکیموں کی طرح حجامہ کے بھی جگہ جگہ کلینک کھولے گئے ہیں، حجامہ لگوانے کے لیے مستند اور تجربہ کارتھراپسٹ کا انتخاب ضروری ہے کیوں کہ ناتجربہ کار شخص صحیح حجامہ نہیں لگا سکتا جس وجہ سے علاج نہیں ہو پاتا اور مریض مایوس ہو جاتا ہے۔

    حجامہ کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں بلکہ کسی ایک مقام پر حجامہ کرنے سے دیگر بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ شوگر کے مریضوں کے زخم بھی 24 گھنٹوں میں بھر جاتے ہیں-

  • مرغابی کڑاہی بنانے کی ترکیب

    مرغابی کڑاہی بنانے کی ترکیب

    مرغابی کڑاہی

    وقت :60 سے70 منٹ

    6 سے 8 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    مرغابیاں 2پرندے (1 کلو کا ایک)
    تیل ½کپ
    دہی ½کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ½کپ
    ادرک (باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    ادرک لہسن کا پیسٹ 2کھانے کے چمچ
    ٹماٹر (باریک کٹے ہوئے) 2کپ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا (کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ
    زیرہ (کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے:
    ہرا دھنیا 1کھانے کا چمچ
    ہری مرچیں (قتلے) 1چائے کا چمچ
    ادرک (لمبائی میں باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ

    طریقہ کار:
    مرغابیوں کوچھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ مرغابی کا گوشت کڑاہی میں ڈالیں۔ اس میں پیاز، ہلدی ایک چمچ نمک اور ایک کپ پانی ڈال کر دو سے تین منٹ تک ابالیں۔ پانی پھینک دیں اور مرغابیوں کودھو کر ایک طرف رکھ دیں۔ کڑاہی میں تیل گرم کریں پیاز ڈال کر ہلکا براؤن کرلیں۔ اب ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے ایک سے دومنٹ تک پکائیں۔مرغابیاں شامل کرکے چار سے پانچ منٹ تک تیز آنچ پر بھونیں۔ ٹماٹر، مصالحے اور دو کپ پانی شامل کرکے 40سے 45 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں کہ گوشت گھل جائے۔ دہی شامل کرکے پانچ سے چھ منٹ تک تیل چھوڑنے تک بھونیں۔ ہرے دھنیے، ہری مرچوں اور ادرک کے ساتھ سجائیں۔ نان یا خمیری روٹی کے ساتھ پیش کریں۔ مرغابیوں کو ابالنے سے اس کا گندا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے۔

  • خرگوش کھڑا مصالحہ بنانے کی ترکیب

    خرگوش کھڑا مصالحہ بنانے کی ترکیب

    خرگوش کھڑا مصالحہ

    وقت : 60 سے 70منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    خرگوش 1پورا (تقریباً 1½ کلو کا)
    تیل ½کپ
    دہی 2کپ
    پیاز(قتلے) 1کپ
    نمک حسب ذائقہ
    خشک ثابت لال مرچ 6 سے8 عدد
    زیرہ ثابت 1چائے کا چمچ
    کالی مرچ ثابت 1چائے کا چمچ
    لانگ ثابت 8عدد
    ثابت موٹی الائچی 2عدد
    ثابت چھوٹی الائچی 4عدد
    دارچینی 2ٹکڑے (2½ سینٹی میٹر لمبا)
    تیزپات 1عدد

    سجاوٹ کے لئے :
    سرخ مرچ ثابت (تیل میں تلی ہوئی) 5 سے 6 عدد

    طریقہ کار :
    خرگوش کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور ایک طرف رکھ دیں۔ برتن میں تیل گرم کریں پیاز ڈال کر 4سے 5منٹ تک پکائیں لیکن براؤن نہ کریں۔ اب تمام مصالحے ڈال کر مزید 1سے 2 منٹ تک پکائیں۔ اب خرگوش کے ٹکڑے ڈال کر 4سے 5 منٹ تک تیز آنچ پر بھونیں۔ دہی اور 2 کپ پانی شامل کریں 40سے 45 منٹ تک ڈھکن دے کر ہلکی آنچ پر خرگوش کے تیار ہونے تک پکائیں۔ اب 5سے 6 منٹ تک تیل چھوڑنے تک بھونیں۔ ہلکی فرائی کی ہوئی سرخ مرچوں سے سجائیں نان یا خمیری روٹی کے ساتھ پیش کریں۔ پورا خرگوش بھی اسی طریقے سے پکایا جاسکتا ہے۔

  • پاپ کارن ذیابیطس سے تحفظ کے لئے انتہائی مفید غذا

    پاپ کارن ذیابیطس سے تحفظ کے لئے انتہائی مفید غذا

    پاپ کارن (مکئی) استعمال کی جانے والی ایک قدیم ،مکمل اور ہلکی پھلکی غذا ہے جسے بچے بڑے سب ہی بہت شوق سے کھاتے ہیں، پاپ کارن نہایت آسانی سے تیار ہو جانے والی غذا ہے جو صحت کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے-

    پاپ کارن میں وٹامنز، منرلز اور ڈائیٹری فائبر جیسے اہم غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ پاپ کارن میں پوٹاشیم، زنک، کاپر اور فاسفورس بھی اچھی مقدار میں موجود ہیں، اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور یہ غذا کیلوریز اور فیٹ میں کم ہونے کے ساتھ چینی اور سوڈیم کے بغیر ہوتی ہے۔

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

    امریکن ڈائیبٹِک سوسائٹی کے مطابق پاپ کارن کا استعمال خطرناک خاموش بیماری ذیابطیس اور دل کے امراض سے تحفظ میں مدد فراہم کرتا ہےپاپ کارن میں موجود فائبر جسم میں بلڈ شوگر اور انسولین کو لیول پر رکھنے میں مدد کرتا ہے اگر آپ ذیابطیس کے مریض ہیں تو آپ کو پاپ کارن کا ایک چھوٹا کپ اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنانا چاہیئے تا کہ آپ اپنے جسم میں بلڈ شوگر کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہ سکیں۔

    پاپ کارن میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور پولی فینولز دل سے متعلق امراض، بڑھتی عمر کے عوارض جیسے کہ ڈیمینشیا، الزائمر، نظر کی کمزوری، بالوں کا جھڑنا وغیرہ کے روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-

    تحقیق کے مطابق پاپ کارن میں سبزیوں اور پھلوں سے زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں چونکہ پاپ کارن میں شوگر اور چکنائی کی مقدار نہیں پائی جاتی ہے، اس میں کیلوریز بھی بہت کم پائی جاتی ہیں، ایک چھوٹے سے پاپ کارن کے کپ میں صرف 30 کیلوریز ہو سکتی ہیں۔

    اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے عالمی ادارہ صحت

    اس میں موجود فائبرآپ کی بھوک کو ایک طرف رکھ کر آپ کو خالی پیٹ ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتا، وزن کم کرنے والوں کے لیے پاپ کارن ایک اچھی خوراک ہے، لیکن لوگ ذائقے کے لیے اس میں فیٹ، چینی اور سوڈیم شامل کر دیتے ہیں جو کہ فائدہ دینے کے بجائے وزن بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

    فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث پاپ کارن خون کی شریانوں سے تمام تر اضافی کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، اس کے نتیجے میں دل بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور دل کے امراض اور اسٹروک وغیرہ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے پاپ کارن میں موجود فائبر قبض سے نجات دلاتا ہے-

    پاپ کارن میں پولی فینول نامی اینٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے جو جسم میں داخل ہوکر خلیوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو روکتا ہے پاپ کارن کا ایک پیالہ کسی بھی شخص کو ایک دن میں درکار پولی فینول کا 13 فیصد فراہم کرتا ہے پاپ کارن کے اندر کا سخت حصہ جو دانتوں میں پھنس جاتا ہے یہی سخت حصہ پولی فینول اور ریشے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مکئی کے دانوں کو مکھن، تیل یا نمک میں ڈال کر بھونیں تو اس کی غذائیت اور افادیت میں کمی آجاتی ہے اگر اسے بغیر کچھ ملائے بھونا اور کھایا جائے تو اس کے ایک پیالے سے ایک فرد کی پورے دن کی 70 فیصد غذائی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔

    کیوی کے حیرت انگیز طبی فوائد

  • مزیدار توا جھینگے بنانے کی آسان ریسیپی

    مزیدار توا جھینگے بنانے کی آسان ریسیپی

    توا جھینگے

    وقت : 25 سے 30 منٹ

    6 سے 8 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    پورے جھینگے 8بڑے مٹی کے جھینگے یا 12 نیلے جھینگے
    تیل 2کھانے کے چمچ
    ادرک (باریک کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    لہسن کے جوے (چھلے اور دو ٹکڑوں میں کٹے ہوئے) 3عدد
    ٹماٹر (چھلکے اترے اور بیج نکلے ہوئے) ½کپ
    ہرا پیاز (بڑا کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا (موٹا کٹا ہوا) ½چائے کا چمچ
    بادیان کا پھول 2ٹکڑے
    خشک اناردانہ (کٹا ہوا) ½چائے کا چمچ

    چھڑکاؤ کے لئے :
    گرم مصالحہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ

    طریقہ کار:
    جھینگوں کو صاف کرکے درمیانے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ جھینگوں کے پروں کو دراڑیں ڈالیں تاکہ مصالحہ اندر تک جذب ہو سکے۔ ایک بڑے موٹے توے پر تیل گرم کریں۔ لہسن کے جوے، ٹماٹر، نمک، سرخ مرچ پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، خشک دھنیا، بادیان کے پھول اور خشک انار دانہ شامل کرکے 3سے 4 منٹ تک پکائیں۔ اگر ضرورت ہو تو 2سے 3کھانے کے چمچ پانی شامل کرلیں تاکہ مکسچر توے پر نہ چپکیں۔ اب جھینگے شامل کرکے 5سے 6منٹ تک پکائیں۔اب ہرا پیاز، ادرک، سرخ اور سبزمرچ ڈالیں۔ اب ڈھکن سے ڈھانپ دیں اور مزید 4سے 5 منٹ تک جھینگے تیار ہونے تک پکائیں۔ زیادہ نہ پکائیں اس طرح جھینگے سخت اور خشک ہو جائیں گے۔ گرم مصالحہ چھڑک کر گرم گرم پیش کریں۔ توے کی بجائے آپ جھینگے کڑاہی میں بھی پکا سکتے ہیں۔

  • اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے    عالمی ادارہ صحت

    اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں ہارٹ اٹیک ، فالج اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت اور محنت کشوں کی عالمی تنظیم کی ایک مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اوور ٹائم کرنے سے ملازمین میں موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق روزانہ 9 گھنٹے یعنی ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دورانیے کی ملازمت سے دل کے دورے یا فالج کے باعث موت کا خطرہ بھی بہت بڑھ جاتا ہے یہ اوقاتِ ملازمت اور صحت میں باہمی تعلق پر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا عالمی تحقیقی مطالعہ ہے جس کے نتائج تحقیقی مجلے ’’اینوائرونمٹ انٹرنیشنل‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ تحقیق میں دو منظم ریویوز اور میٹا تجزیوں سے استفادہ کیا گیا جبکہ امراضِ قلب سے متعلق 37 اور فالج کے بارے میں 22 جامع مطالعات سے حاصل شدہ اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا مجموعی طور پر اِن 59 مطالعات میں 16 لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔


    اس تحقیق کےلیے 1970 سے 2018 کے دوران 154 ممالک میں کیے گئے 2300 سے زائد سرویز کا احاطہ کیا گیا ہے جو عالمی، علاقائی اور قومی سطح کے تھے۔

    تجزیئے سے معلوم ہوا ہے کہ 2016 میں فالج سے 3 لاکھ 98 ہزار اموات جبکہ امراضِ قلب سے 3 لاکھ 47 ہزار اموات کی وجہ ملازمت کے طویل اوقات تھے۔


    سال 2000 کے مقابلے میں فالج سے اموات کی یہ شرح 19 فیصد زیادہ، جبکہ امراضِ قلب سے اموات کی شرح 42 فیصد زیادہ تھی جو بلاشبہ تشویشناک ہے۔

    یہی نہیں بلکہ مردوں میں 72 فیصد اموات کا سبب کام کا مسلسل دباؤ اور زیادہ اوقات تھے جبکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد کا تعلق مغربی بحرالکاہل اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں سے دیکھا گیا تاہم 2000 سے 2016 تک 7 لاکھ 45 ہزار ملازم موت کے منہ میں چلے گئے-


    ملازمت کے اوقات میں زیادتی کے باعث مرنے والوں کی عمریں 60 سے 79 سال کے درمیان تھیں جبکہ انہوں نے 45 سے 74 سال کی عمر کے درمیان ہفتے میں 55 گھنٹے یا زیادہ دیر تک کام کیا تھا۔

    اس تحقیق کی روشنی میں عالمی ادارہ صحت نے تجویز کیا ہے کہ ملازمین پر کام کا دباؤ کم کرتے ہوئے ملازمت کے اوقات کم کیے جائیں اور اداروں میں ملازمین کو اوور ٹائم کرنے پر مجبور نہ کیا جائے-

  • گرلڈ مٹن چانپیں  بنانے کا طریقہ

    گرلڈ مٹن چانپیں بنانے کا طریقہ

    گرلڈ مٹن چانپیں

    وقت: 40سے 45منٹ

    5سے 6افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    مٹن چانپیں 1کلو
    دہی ½ کپ
    پیاز (گرائنڈ کئے ہوئے) ¼ کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ 2کھانے کے چمچ
    ہری مرچیں (باریک کٹی ہوئی) 1½ کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1½ کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    زیرہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    کچری پاؤڈر (گوشت گلانے کے لئے) 2کھانے کے چمچ
    لیموں کا رس 3کھانے کے چمچ
    گھی 2کھانے کے چمچ

    سجاوٹ کے لئے:
    پیاز کے ٹکڑے 8سے10ٹکڑے
    لیموں کے قتلے 6سے 8 عدد
    لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ
    چاٹ مصالحہ 1چائے کا چمچ

    طریقہ کار:
    مٹن کی چانپوں پر لیموں کا رس، نمک اور کچری پاؤڈر اچھی طرح ملیں اور دو گھنٹے کے لئے ایک طرف رکھ دیں۔ بڑے پیالے میں گھی کے علاوہ تمام اجزائے ترکیبی ڈالیں اور اچھی طرح مکس کرلیں۔ اب اس میں مٹن کی چانپیں ڈال کر 2گھنٹے کے لئے میری نیٹ کریں۔ لوہے کی سلاخوں پر مٹن کی 4یا5چانپیں پرو دیں اورکوئلوں کی انگیٹھی پر پکائیں۔ ان پر گھی لگاتے رہیں یہا ں تک کہ وہ مکمل طورپر پک جائیں۔ لیموں اورچاٹ مصالحہ چھڑکیں، پیاز اور لیموں کے قتلوں سے سجائیں اوراپنی پسند کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ انگیٹھی پر چانپوں کو پکاتے وقت تیل بجائے گھی استعمال کریں کیونکہ تیل تیزی سے جل جاتا ہے اور کڑوا ذائقہ دیتا ہے۔

  • غذائیں جن کا استعمال موسم  گرما میں زیادہ کرنا چاہیئے

    غذائیں جن کا استعمال موسم گرما میں زیادہ کرنا چاہیئے

    موسم گرما میں مرغن، تلی ہوئی بازار سے تیار شد ملنے والی غذاؤں کے استعمال سے گریز کر کے قدرتی، تازہ اور سادہ، صاف گھر میں بنے کھانوں کو ترجیح دینی چاہیئے اور یہی عادت گرمیوں میں متعدد شکایات اور گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے مفید بھی ثابت ہوتی ہے ۔

    طبی ماہرین کے مطابق گرمیوں میں بہت سے بیکٹیریاز اور وائرسز زیادہ متحرک اور جَلد افزائش پاتے ہیں اسی لیے غذائی ماہرین کی جانب سے گرمیوں میں تازہ اور سادہ غذا کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔

    مندرجہ ذیل درج غذاؤں کے استعمال سے نہ صرف گرمی کی شدت میں کمی آئے گی بلکہ صحت پہلے سے بہتر ہو جائے اور آپ خود کو شدید گرمیوں میں بھی پر سکون اور توانا محسوس کریں گے ۔

    زیادہ پانی کی مقدار:
    گرمی ہو یا سردی پانی کی مقدار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے، گرمیوں میں پسینے کے سبب جسم سے نمکیات اور پانی زیادہ خارج ہو جاتا ہے لہٰذا گرمیوں میں پانی کا استعمال دُگنا تجویز کیا جاتا ہے، ٹھنڈا پانی پینے کے سبب فوری طور پر معدے کی گرمی اور جسمانی درجہ حرارت نیچے آتا ہے، پانی اضافی گرمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زہریلے اثرات کے اخراج میں بھی مدد دیتا ہے ۔

    پانی والی غذائیں:
    طبی ماہرین کے مطابق گرمیوں میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں جن میں سیب، آڑو، تربوز اور کھیرا وغیرہ شامل ہے جبکہ کھٹی غذاؤں سے دور رہیں جو کہ تیزابیت کو بڑھا کر معدے کی گرمی میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

    دہی اور ٹھنڈا دودھ
    دہی معدے کی صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریاز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے، دہی کےاستعمال سے معدے کی گرمی میں کمی آتی ہے اور گرمیوں میں نکلنے والے دانوں سے چھٹکارہ حاصل ہونے میں مدد ملتی ہے جبکہ نظام ہاضمہ اور دیگر اعضاء بھی فعال ہوتے ہیں جبکہ ٹھنڈا دودھ بھی معدے کے درجہ حرارت اور تیزابیت کو کم کرنے میں مددگار ہے، ٹھنڈے دودھ کا گلاس رات کو پرسکون نیند سونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    ابلے ہوئے چاول:
    معدے میں گرمی کی اکثر علامات سامنے نہیں آتیں مگر بے آرامی، بھوک نہ لگنا، خالی پیٹ قے محسوس ہونا اور چکر آنا معدے کی گرمی کے اسباب ہوسکتے ہیں لہٰذا ایسی علامات سامنے آنے پر ابلے ہوئے سفید چاول بھی معدے کو ٹھنڈک پہنچا سکتے ہیں، دہی کے ساتھ سادے چاول کھانا اس اثر کو زیادہ تیز کردیتا ہے۔

    پودینہ:
    پودینہ بھی معدے کی گرمی دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے جس کی وجہ اس کی ٹھنڈی تاثیر ہے، پودینے کا بطور سلاد، مشروب میں شامل کر کے یا چٹنی بنا کر کھانے سے غذا جلد ہضم ہوتی ہے اور انسان خود کو تروتازہ پرسکون اور ہلکا محسوس کرتا ہے ۔

    سیب کا سرکہ:
    ایک گلاس پانی میں 2 سے 3 چائے کے چمچ سیب کے سرکے اور ایک کھانے کے چمچ شہد کو مکس کریں اور اس مکسچر کو پی لیں، یہ فرحت بخش احساس دلاتا ہے، یہ مشروب معدے ، سینے اور تیذابیت کا احساس کم کر کے گرمی کی شد میں کمی لاتا ہے۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز