Baaghi TV

Category: خواتین

  • گرمی کی شدت کم کرنے والے مشروبات

    گرمی کی شدت کم کرنے والے مشروبات

    ملک بھر میں گرمی کی شدّت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے جسم میں پانی کی مقدار کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے، سال کے گرم مہینوں کے آتے ہی تیز دھوپ، تپتی دوپہر، گرمی اور لو کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی کے سبب دیگر مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

    غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیے گئے چند ایسے مشروبات مندرجہ ذیل ہیں جن کے استعمال سے شدید گرمی کے دوران بھی خود کو تروتازہ اور توانا رکھا جا سکتا ہے۔

    1: طبی ماہرین کے مطابق جسم میں نمکیات اور پانی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ہر انسان کو خواہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت گرمیوں کے آغاز سے ہی سادہ پانی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، اس دوران زیادہ میٹھے اور پروسیسڈ، ڈبے کے مشروبات سے پرہیز کریں۔

    2: گرمیوں میں لسی کا استعمال بھی لُو اور ہیٹ اسٹروک سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، لسی تاثیر میں ٹھنڈی اور ذود و ہضم مشروب ہے، دہی اور دودھ کی مدد سے میٹھی یا نمکین لسی بنا کر باہر سے آنے والے ہر فرد کو پیش کریں اور بچوں کو بھی وقتاً فوقتاً پلائیں۔

    کچی لسی نہایت مفید مشروب ہے، کچی لسی بنانے کے لیے ایک کپ دودھ کو ڈیڑھ یا دو لیٹر پانی میں شامل کریں اور ہلکا نمک شامل کر کے سارا دن اس مشروب کو پیئں، لو اور ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ ممکن ہوگا۔

    3: گرمیوں کے موسم میں لیموں پانی کا استعمال بھی بے حد مفید ہے لیموں پانی کے ساتھ استعمال سے جسم نا صرف ہیٹ اسٹروک سے بچ جاتا ہے بلکہ گلوکوز کا لیول بھی برقرار رہتا ہے، گرمیوں میں روزانہ 2 گلاس لیموں پانی کا استعمال لازمی کریں۔

    4: گرمیوں میں روزانہ دن میں 2 سے 3 مرتبہ ناریل پانی پینا چاہیے، اس سے نا صرف جسم کا درجہ حرارت کم رہتا ہے بلکہ بھرپور مقدار میں وٹامنز اور منرلز بھی حاصل ہوتے ہیں ناریل پانی میں کینسر کے خلاف لڑنے اور بڑھتی عمر کے اثرات روکنے کی بھی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

    5: موسمی پھل کیری کے شربت کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے گرمیوں کے موسم میں کیری کا شربت جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے، کیری میں موجود اجزا جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں گرمیوں میں کیری کا استعمال بطور سلاد یا اس کی چٹنیاں بنا کر بھی کیا جاتا ہے-

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

    گرما کھانے کے حیران کن فوائد

  • زعفران اور سونف چکن بوٹی آسان ریسیپی

    زعفران اور سونف چکن بوٹی آسان ریسیپی

    زعفران اور سونف چکن بوٹی
    وقت …………25سے 35منٹ
    6سے 8افراد کے لئے

    جزائے ترکیبی مقدار
    ہڈی کے بغیر چکن 1کلو
    تیل 3کھانے کے چمچ
    ہرا دھنیہ (باریک کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    ہری مرچیں (باریک کٹی ہوئی) 4کھانے کے چمچ
    زعفران ½ چائے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سفید مرچ پاؤڈر 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ

    زیرہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ
    سونف پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    کریم 1کپ
    لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ
    گھی ¼ کپ

    سجاوٹ کے لئے:
    لیموں کے قتلے 4سے 6ٹکڑے
    ٹماٹر اور پیاز کے قتلے 8سے 10ٹکڑے
    سلاد کے پتے 1چھوٹی گٹھی
    لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ

    طریقہ کار :
    چکن کو 30سے 35گرام کے چوکور ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ چکن کیوبز کو گھی کے علاوہ تمام مصالحے ڈل کر میری نیٹ کریں اور 2سے 3گھنٹے کے لئے فریج میں رکھ دیں۔ چکن کیوبز کو سادھی سلاخوں پر پرو کر کوئلوں کی انگیٹھی پر پکائیں۔ جب یہ 80فیصد پک جائے تو برش کی مدد سے گھی لگاتے جائیں۔ 1یا2 منٹ مزید پکائیں تاکہ چکن اچھی طرح تیار ہوجائے۔ لیموں ٹماٹر اور پیاز کے قتلوں اور سلاد کے پتوں سے سجائیں۔ لیموں کا جوس چھڑک کر دہی پودینے کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ اچھے ذائقے کے لئے چکن کو ساری رات میری نیٹ کرکے فریج میں رکھیں۔

  • ہیٹ ویو کے صحت پر اثرات، علامات اور احتیاطی تدابیر

    ہیٹ ویو کے صحت پر اثرات، علامات اور احتیاطی تدابیر

    جب کسی علاقے، شہر یا ملک میں، موسمیاتی تبدیلی کے باعث اوسط یا عمومی درجہ حرارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا جائے تو موسم کی اس کیفیت کو گرمی کی شدید لہر (Heat Wave) کا نام دیا جاتا ہے، اسے اردو میں ہم لُو کہہ سکتے ہیں-

    محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق رواں سال گرمی اوسط درجہ حرارت سے کئی درجے زیادہ پڑنےکا امکان ہے۔

    موسم گرما کا ابھی آغاز ہوا ہی ہے کہ ملک بھر کے کئی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور ابھی گرمیوں کی شدت کے مہینے یعنی جون اور جولائی آنے باقی ہیں، ایسے میں اس تپتی لُو، دھوپ اور ہیٹ ویو سے بچنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے چند مثبت عادات اپنا کر گرمی کے مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

    ہیٹ ویو کے باعث ’ہیٹ اسٹروک‘ یعنی گرمی کی شدت کے باعث حالت غیر ہو جانا ، ڈی ہائیڈریشن اور غنودگی کی شکایت پیدا ہوتی ہیں-

    ہیٹ اسٹروک کی علامات کچھ اس طرح ہیں:سانس لینے میں دقت محسوس کرنا، دل کی دھڑکن اور سانس کا بڑھ جانا، پسینہ آنا رُک جانا، متلی محسوس ہونا، قے کرنا، بے ہوشی کے دورے پڑنا، سر میں شدید درد محسوس کرنا، جسم میں پانی کی کمی ہو جانا، جلد کا گرم اور سرخ ہو جانا۔

    اس کے لئے چند احتیاطی تدابیردرج ذیل ہیں:

    طبی ماہرین کے مطابق گرمیوں کے موسم کے دوران پانی کا استعمال بڑھا دیں، جسم میں نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے او آر ایس اور لیموں کا پانی پیئیں کیونکہ پانی آپ کے جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھتا ہے چنانچہ گرمی کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق ایک دن میں 6 سے 7 لیٹر پانی پیئیں جبکہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 4 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔

    حالت غیر محسوس ہونے پر فوراً نہائیں، پنکھے کا رخ اپنی طرف کر لیں تاکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو سکےانتہائی شدید درجہ حرارت 106C-108C کی صورت میں اپنی گردن، بغلوں، گھٹنوں اور پیٹھ پر برف کے ٹکڑے رکھیں۔

    ہیٹ اسٹروک سے اُٹھنے والا بخار، دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتا اس لیے خود سے کوئی علاج نہ کریں علامات دور نہ ہونے کی صورت میں فوری طور پر اسپتال کا رُخ کریں۔

    ماہرین کے مطابق دن کے اوقات میں اگر باہر جانا ہو تو زیادہ دیر تک بند گاڑی میں بیٹھنے سے گریز کریں، کبھی بھی بچوں یا جانوروں کو گاڑی میں نہ چھوڑیں یہ عمل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

    گھر سے باہر نکلتے ہوئے سن اسکرین، دھوپ کے چشمے اور کیپ کا استعمال کریں سورج کی براہِ راست تپش سے جتنا زیادہ محفوظ رہیں اتنا بہتر ہے، باہر نکلتے وقت سر اور منہ کو گیلے کپڑے سے ڈھانپنا اور بھی بہتر ہوگا زیادہ بہتر ہے کہ کام صبح سورج نکلنے سے پہلے یا شام کے وقت نمٹا لیں۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

    گرما کھانے کے حیران کن فوائد

  • رمضان کے دوران قہوہ کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد

    رمضان کے دوران قہوہ کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد

    رمضان کے دوران افطار کے فوراً بعد چائے کی طلب ہوتی ہے، ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ افطار کے بعد دودھ والی چائے کے استعمال کے بجائے مختلف اقسام کے قہوے جیسے کہ دار چینی، سبز چائے، لیمن گراس، ادرک اور سونف کا قہوہ پینا نا صرف غذا کو جَلد ہضم کر کے تروتازہ محسوس کرواتا ہے بلکہ بہتر نیند، مضر صحت مادوں کے اخراج ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح متوازن رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

    طبی و غذائی ماہرین کے مطابق قہوہ کا باقاعدہ استعمال جہاں وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے وہیں رمضان کے دوران اس کے استعمال کے فوائد دگنے ہو جاتے ہیں اور قہوے کے استعمال سے وزن مزید تیزی سے کم ہونے سمیت جلد کی خوبصورت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    قہوہ میں موجود قدرتی مرکبات نظام ہاضمہ پر مثبت اور پر سکون اثرات مرتب کرتے ہیں، محققین کا ماننا ہے کہ سبز چائے میں موجود پولی فینولز معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی افزائش کو بڑھاتے ہیں۔

    ماہرین کےمطابق ذیابطیس ایک میٹابولک مرض ہے، روزانہ 2 سے 3 کپ قہوہ پینا ذیابطیس ٹائپ ٹو کا خطرہ 42 فیصد تک کم کر دیتا ہے جبکہ رمضان کے دوران افطار کے بعد ایک سے دو کپ قہوے کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق رمضان کے آتے ہی بہت سے افراد اُن کے پاس معدے کی شکایت لے کر آ تے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق روزہ افطار کرنے کے دوران مکس فروٹ چاٹ، چنا چاٹ ، دودھ اور دہی سے بنے مشروبات اور تلی ہوئی غذاؤں کے استعمال کے سبب معدے کی کاکردگی خراب ہو جاتی ہے اور روزے دور پیٹ سے متعلق متعدد بیماریوں میں گِھر جاتے ہیں جس کا حل ادرک اور سبز پتی کے قہوے موجود ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق قہوہ میں موجو تیزابیت آنتوں کی صفائی کرتی ہے جس سے جسم کو غذا ہضم اور جذب کرنے میں مدد ملتی ہے قہوے کے استعمال کے نتیجے میں آنتوں کی سوجن میں کمی آتی ہے قہوے کے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اس میں لیموں اور شہد کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

  • سائندانوں نے ماں سے نوزائیدہ بچوں میں ایڈز کی منتقلی روکنے کا علاج دریافت کر لیا

    سائندانوں نے ماں سے نوزائیدہ بچوں میں ایڈز کی منتقلی روکنے کا علاج دریافت کر لیا

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ علاج دریافت کیا ہے جس سے ماں سے نوزائیدہ بچے میں ایچ آئی وی (ہیومن امیونو ڈیفی شینسی وائرس) کی منتقلی کو روکا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی : اس طریقے سے ماں کے خون میں موجود ایچ آئی وی (ایڈز) کے وسیع پیمانے پر اسٹرینز کو بلاک کرنے کا طریقہ استعمال کیا جاسکے گا جس سے ایچ آئی وی کی نوزائیدہ بچے میں منتقلی کو روکنا ممکن ہوجائے گا۔

    ویل کورنیل میڈیسن اینڈ ڈیوک یونیورسٹی کی تحیقی ٹیم یہ جاننے کی کوشش کررہی تھی کیوں ایچ آئی وی انفیکشن ماں کے رحم میں کچھ بچوں میں منتقل ہوتی ہے لیکن دیگر میں نہیں ہوتی؟ –

    تاہم اب ماہرین نے یہ گتھی سلجھا لی ہے، اور انھیں نو زائید بچے میں اسکی منتقلی کی روک تھام کے حوالے سے طریقہ علاج مل گیا ہے۔

    تحقیقی ٹیم کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ایک ممکنہ طریقہ کار کے مطابق اب یہ پیش گوئی کرنا ممکن ہوگیا ہے کہ ماں سے نوزائیدہ بچے میں ایچ آئی وی کی منتقلی ہوگی یا نہیں اور اس نقطے کی نشاندہی ہوئی ہے کہ اسے کس طرح روکا جاسکے گا-

  • خبردار خوش ذائقہ پھل تربوز صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے

    خبردار خوش ذائقہ پھل تربوز صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے

    موسم گرما کے آتے ہی ہر کسی کا من پسند پھل تربوز بھی وافر مقدار میں بازاروں میں دستیاب ہوتا ہے جس کے استعمال کے صحت پر بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے رمضان کے دوران پانی کی کمی دور کرنے خوش ذائقہ پھل تربوز کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے جس کے استعمال سے صحت پر بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں-

    اس میں 92 فیصد حصہ پانی کا موجود ہوتا جو کہ گردوں اور آنتوں کی صفائی کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے علاوہ ازیں متعدد قدرتی اجزا جیسے کہ وٹامن اے، بی 6، سی، پوٹاشیم، لائیکوپین اور دیگر صحت کے لیے بنیادی قرار دیئے جانے والے اجزا بھی پائے جاتے ہیں-

    جہاں اس پھل کا استعمال صحت کے لئے مفید ہے وہیں اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق پانی انسانی جسم کے لیے بنیادی ضرورت ہے مگر جسم میں پانی کی وافر مقدار بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہے، جسم میں پانی کی مقدار بڑھ جانے سے سوڈیم (نمک) کی سطح کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں سر چکرانے سمیت دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    تربوز کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا جسم میں پانی کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے، پانی خارج نہ ہو نے اور زیادہ دباؤ کے سبب خون کا پریشر بڑ ھ جاتا ہے جس کے سبب ٹانگوں میں سوجن، تھکاوٹ، گردوں کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایت ہو سکتی ہے-

    یہ فایبر اور پانی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے زیادہ مقدار کھانے سے نظام ہاضمہ کے مسائل جیسے کہ ہیضہ، پیٹ پھولنے، گیس کی شکایت ہو سکتی ہے، تربوز میں موجود جُز لائیکوپین کی زیادہ مقدار بھی مضر صحت قرار دی جاتی ہے ۔

    پوٹاشیم سے بھر پور پھل تربوز دل کو صحت مند رکھنے، ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر حد سے زیادہ پوٹاشیم کا استعمال بھی خون کی شریانوں سے جڑے مسائل جیسے کہ دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کر سکتا ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق سو گرام تربوز میں 30 کیلوریز اور 6 گرام شوگر کی مقدار پائی جاتی ہے تاہم ایک دن میں آدھا کلو تربوز کا استعمال کیا جا سکتا ہے، تربوز کی اس مقدار میں 150 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔

    تربوز کی مقدار بڑھنے سے شوگر لیول اور کیلوریز بھی بڑھتی ہیں، آدھا کلو تربوز کی مقدار مییں شوگر کی مقدار 30 گرام تک پہنچ جا تی ہے، اسی لیے اس کے استعمال سے قبل کلوریز اور شوگر کی مقدار سے متعلق جاننا نہایت لازمی ہے۔

    تربوز کا استعمال بلڈ پریشر میں کمی کا باعث

  • روزے کی حالت میں سر درد کیوں ہوتا ہے؟ اور اس سے کیسے بچا جائے؟

    روزے کی حالت میں سر درد کیوں ہوتا ہے؟ اور اس سے کیسے بچا جائے؟

    رمضان المبارک رمضان کے آتے ہی 11 مہینوں سے بنی روٹین اچانک بدل جاتی ہے اس وقت عام طور پر روزہ تقریباً چودہ سے پندرہ گھنٹوں کے دورانیے کا ہے اور موسم عام طور پر گرم ہے کچھ افراد کو افطاری سے کچھ گھنٹے قبل سر درد کی شکایت رہنے لگتی ہے –

    روزے کے باعث ہونے والا سر درد ماتھے کے سامنے والے حصے کی جانب ہوتا ہے اس میں عام طور پر ہونے والے درد کی طرح دھمک نہیں ہوتی ہے مگر مائگرین کے مریضوں کے سر میں ہونے والا یہ درد بہت شدید ہوتا ہے اس کے علاوہ عام طور پر جو لوگ بار بار عام زندگی میں بھی سر درد کا شکار ہوتے ہیں ان کے سر میں روزے کے باعث ہونے والے سر درد کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں-

    طبی ماہرین کے مطابق رمضان میں اکثر افراد کے سر میں اُٹھنے والے درد کی متعدد بڑی وجوہات ہیں جن میں سحری سے قبل اُٹھنا یا سحری کا چھوٹ جانا، نیند میں کمی اور مطلوبہ غذائیت کا حاصل نہ کرنا ہے، عام دنوں میں جو افراد کیفین کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے خون میں کیفین کی اچانک کمی اور روزے کے سبب کھانا نہ کھانا بھی سر درد کی وجوہات میں شامل ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق سر درد کی وجوہات میں رمضان میں افطار کے بعد زیادہ مقدار میں پانی نہ پینا، جسم میں پانی کی کمی، قبض کی شکایت، مناسب پانی کی مقدار نہ پینا اور دوبارہ روزہ رکھ لینا، بلڈ پریشر کا کم ہونا شامل ہیں –

    علاوہ ازیں روزے کی حالت میں سر درد کی وجوہات ہائپو گلائسیمیا عام طور پر جب انسان ایک طویل وقت تک کچھ نہیں کھاتا ہے تو اس کے سبب اس کے خون میں شوگر کی مقدار عام طور پر موجود مقدار سے کم ہونے لگتی ہے جو کہ سر کے درد کا باعث بن سکتی ہے- مگر ماہرین کے نزدیک یہ کوئی حتمی وجہ نہیں ہو سکتی ہے کیوںکہ اکثر اوقات جب کہ خون کے اندر شکر کی مقدار نارمل لیول پر بھی ہو تو اس صورت میں بھی سر کا درد ہو سکتا ہے –

    ان سے بچاؤ کے لیے ماہرین کی جانب سے تجویز کیے گئے مشوروں سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق رمضان کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے اس کی آمد سے قبل ہی بھوک کم کر دینی چاہیے، اضافی کچھ بھی کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

    رمضان کے دوران سر درد سے بچنے کے لیے گرم مشروبات جیسے کہ کافی اور چائے کا استعمال کم کر دینا چاہیےسگریٹ نوشی کے عادی افراد کو سیگریٹ پینے سے پر ہیز کرنا چاہیے۔

    ماہرین کے مطابق جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ کے لیے افطار کے بعد ایک ساتھ زیادہ سارا پانی پینے کے بجائے ہر آدھے یا ایک گھنٹے بعد ایک گلاس پانی پئیں۔

    دن کے دوران کمپیوٹر، موبائل، لیپ ٹاپ کا استعمال کم کر دیں سر درد اٹھنے لگے تو سب سے پہلے موبائل کا استعمال چھوڑ دیں خود کو ذہنی سکون دینے کے لیے تھوڑی دیر آرام کریں اور اپنے ہاتھوں سے پیشانی اور سر کا مساج کریں مساج سے سر درد کم ہو جائے گا-

    علاوہ ازیں روزے کے دوران ہونے والے سر درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے نہایا بھی جا سکتا ہے لیکن اگر سر درد ٹھیک نہ ہوتو ڈاکٹر سے لازمی مشورہ کریں-

    رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے حیران کن فوائد

    کھجور کا ملک شیک ٹھنڈک اور صحت ساتھ ساتھ

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

  • بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    ورجینیا: ماہرین نے بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت کر لیا یہ بریسٹ کینسر، وی سی یو، میسی کینسر سینٹر کے تحقیق کار چارلس کلیوینجر(ایم ڈی، پی ایچ ڈی) اور انکی لیب نے دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے میسی کینسر سینٹر میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ چھاتی میں کینسر کی افزائش کا سبب بننے والا ایک ہارمون پروکلیٹین دراصل بریسٹ گروتھ کا سبب بنتا ہے-

    ہارمون پروکلیٹین حمل کے دوران ماں کے دودھ میں اضافے کی وجہ بھی ہوتا ہے یہ ہارمون بریسٹ کینسر کا اہم سبب ہے، اور اب یہ ٹارگیٹڈ دوا کی تیاری میں کافی مفید ثابت ہوگا جس سے کئی قسم کے کینسر کا علاج کیا جاسکے گا۔

    ماہرین کے مطابق بریسٹ کینسر کا براہ راست سبب بننے والے اس ہارمون کے سیلز کی سطح پر پروٹین موجود ہوتا ہے جسے رسیپٹرز کہتے ہیں جو کہ بائیولوجیکل پیغامات وصول اور بھیجنے کے ساتھ سیل کے افعال کو بھی ریگولیٹ کرتا ہے۔

    تحقیق جرنل برائے نیچر پارٹنر جرنلز میں شائع ہوئی ہے –

  • رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے حیران کن فوائد

    رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے حیران کن فوائد

    طبی ماہرین کی جانب سے نیم گرم پانی کا استعمال انسانی مجموعی صحت کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے، نیم گرم پانی کے استعمال سے صحت میں اضافہ، جسمانی اعضاء فعال اور بیماریوں سے نجات حاصل ہوتی ہے گرم پانی دل کی شریانوں اور جسم میں موجود خون کی تنگ رگوں کو کشادہ کرتا ہے جس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے اور متوازن بلڈ پریشر کے سبب جسمانی اعضاء کی کارکادگی بہتر ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کی جانب سے رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے بے شمار فوائد بھی گنوائے جاتے ہیں۔

    سحری کے بعد تقریباً 15 سے 16 گھنٹوں کے بعد افطاری ٹائم گھنٹوں کی بھوک کے بعد اگر پہلا گلاس نیم گرم پانی کا لے لیا جائے افطار کے بعد پیش آنے والی کافی شکایات سے نجات حاصل ہوتی ہے۔

    چقندر الزائمر ختم کرتا ہے اور کینسر سے بچاتا ہے

    گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کی صورت میں وزن میں کمی،ر دل، گردوں اور پھیپھڑوں کی صحت میں اضافہ اور جِلد صاف، خوبصورت ہوتی ہے، انسان خود کو چاق و چوبند اور توانا محسوس کرتا ہے، طبیعت کا بوجھل پن منٹوں میں غائب ہو جاتا ہے ۔

    افطاری میں بنانے والے چند پکوان

    نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کی صورت میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء فوراً فعال ہو جاتے ہیں اور جسم میں موجود مضر صحت مادوں کو بھی خارج ہونے میں مدد ملتی ہے۔

    سبز چائے کے طبی فوائد

    گرم پانی جسمانی میٹا بالزم کو تیز کرتا ہے جس سے وزن میں کمی ہوتی ہے، گرم پانی چربی کے خلیات کو بھی توڑنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔

    رمضان کے دوران اکثر اوقات نظام ہاضمہ خراب رہتا ہے، اس کی وجہ سحری اور افطار کے دوران پانی کا کم استعمال اور مضر صحت غذاؤں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، گرم پانی پینے کے نتیجے میں بڑی اور چھوٹی آنتوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، قبض سے بھی نجات ملتی ہے اور افطار کے دوران گرم پانی پینے سے غذا آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے۔

    طبی ماہرین کا روزہ داروں کو سخت احتیاط کا مشورہ

    گرم پانی معدے میں ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں کچھ زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹ دیر تک بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے وزن میں کمی ہوتی ہے –

    طبی ماہرین کے مطابق روزہ افطار کرنے کے دوران میٹھے اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال کرنے کے بجائے نیم گرم پانی کا استعمال لیموں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

    کھجور کا ملک شیک ٹھنڈک اور صحت ساتھ ساتھ

    لیموں میں الکلائن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے جو انسانی جسم میں ’پی ایچ‘ کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے لیموں پانی مضر صحت اجزاء بھی جسم سے نکال دیتا ہے جس سے انسان خود کو تازہ دم اور ہلکا محسوس کرتا ہے۔

    لیموں کا استعمال چہرے کی دلکشی اور شادابی کے لئے فائدہ مند

    نہ صرف سائنسی تحقیق میں بھی گرم پانی کے استعمال کے صحت پر بے شمار فوائد ثابت کیے جا چکے ہیں بلکہ طبی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر خود کی صحت اور خوبصورتی پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ایک ماہ تک مسلسل گرم پانی کا استعمال کر لیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والے صحت اور جِلد پر حیرت انگیز فوائد آپ کو حیران کر دیں گے-

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

  • ماہرین نے رمضان میں پروٹین والی غذاؤں کا استعمال کیوں ضروری قرار دیا؟

    ماہرین نے رمضان میں پروٹین والی غذاؤں کا استعمال کیوں ضروری قرار دیا؟

    غذائی ماہرین کے مطابق پروٹین انسانی غذا اور جسمانی نشونما کے لیے اہم اور بنیادی جز ہے جس کی کمی کے نتیجے میں صحت سے متعلق متعدد مسائل جنم لیتے ہیں پروٹین کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے مگر دوران رمضان اس کے استعمال سے جہاں دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں یہ روزہ نہ لگنے کا سبب بھی بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین غذائیت کی جانب سے رمضان کے دوران پروٹین سے بھر پور غذاؤں کے استعمال کو بڑھا دینا تجویز کیا جاتا ہے –

    انسانی جسم کے وزن کا 18 سے 20 فیصد حصہ پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے، پروٹین کی کمی کے نتیجے میں جسمانی کمزوری، جسمانی اعضاء کا سوجنا، بال، ناخن اور جِلد کا خراب ہونا، بھوک زیادہ لگنا، چڑچڑاپن محسوس ہونا اور تھکاوٹ شامل ہے۔

    عام طور پر انسانی جسم کے فی کلو گرام وزن کے لیے 0.8 سے1 گرام پروٹین تجویز کی جاتی ہے جبکہ ویٹ لِفٹر یا ایتھلیٹس کے لیے فی کلو گرام وزن کے حساب سے 1.4سے 2 گرام پروٹین حاصل کرنا تجویز کیا جاتا ہے ورزش کرنے کے آدھے گھنٹے کے بعد 15سے 25 گرام پروٹین کی مقدار لینے سے متاثرہ پٹھوں کو آرام ملتا ہے اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔

    پروٹین کی دو طرح کی اقسام ہیں جن میں ’اینیمل پروٹین‘ یعنی کے حلال جانوروں کے گوشت جیسے کہ گائے، بھینس، مرغی مچھلی، دودھ اور انڈوں سے حاصل کیے جانے والا جبکہ دوسرا ’پلانٹ پروٹین ‘ جس میں دالیں، جو، سبزیاں، پھلیاں اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

    پروٹین ہضم ہونے میں وقت لیتا ہے جبکہ اس کے استعمال سے تا دیر بھوک نہیں لگتی، پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو رمضان المبارک میں آئیڈیل غذا قرار دیا جاتا ہے۔

    غذائی ماہرین کی جانب سے بہت زیادہ پروٹین کی مقدار استعمال کرنے کو بھی مضر صحت قرار دیا جاتا ہے لہٰذا پروٹین سے بھر پور غذاؤں کے ساتھ کاربو ہائیڈریٹس اور فائبر کی مقدار لینا بھی ضروری ہے اگر آپ پروٹین ڈائیٹ پر ہیں تو گوشت کے ساتھ کچی سبزیوں کی شکل میں سلاد کا استعمال بھی لازمی کریں، ایک وقت کی غذا میں مکمل گوشت کا استعمال بھی مضر صحت ہے۔

    پروٹین کے بہتر مثبت انداز میں استعمال کے لیے دالوں اور گوشت کو ملا کر استعمال کریں، اگر صبح کے اوقات میں گوشت کھایا ہے تو شام میں دال کا سوپ اور سلاد لے لیں۔

    غذا میں جتنی پروٹین کی اہمیت ہے اتنی ہی اہمیت اس دوران خود کو ہائیڈریٹڈ رکھنے کو دی جاتی ہے، اگر آپ پروٹین حاصل کرنے کی غرض سے گوشت، دالوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں تو اس دوران ساتھ میں پانی کا استعمال بڑھانا بھی لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    سحری کے وقت کوشش کریں کے ایک پیالی دہی یا 2 سے تین گلاس دودھ اور دہی سے تیار لسی کا استعمال لازمی کریں، سحری کے اوقات میں انڈہ بھی غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟