Baaghi TV

Category: خواتین

  • کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

    ایک انسان کے منہ میں 32 دانت ہوتے ہیں اور یہ تعداد اس وقت ہوتی ہے جب انسان کے 17 سے 25 سال کی عمر کے دوران منہ میں 4 دانت نمودار ہوتے ہیں (کچھ کے نہیں بھی ہوتے) تو اس کے بعد ہی دانتوں کی تعداد 32 ہوتی ہے۔

    اس داڑھ کو عقل داڑھ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اس وقت نکلتی ہے جب انسان بالغ ہوجاتا ہے اور عمر کے اس حصے میں وہ پہلے سے زیادہ عقل و شعور رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ تھرڈ مولر کو عام طور پر لوگ عقل داڑھ کہتے ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    کچھ لوگوں کو عقل داڑھ نکلنے کے عمل کے دوران کوئی پریشانی یا درد نہیں ہوتا ہے جبکہ کچھ افراد کے لئے یہ شدید درد کی وجہ بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ کھانا بھی نہیں کھا پاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل کا دانت آپ کے مسوڑھوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور چبانے کے کے دوران یہ جب مسوڑھوں سے ٹکراتا ہے تو تکلیف دیتا ہے۔

    درحقیقت اگر عقل داڑھیں نہ بھی ہوں تو بھی انسان کا گزارا ہوجاتا ہے بلکہ عام طور پر ان داڑھوں کا نکلنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور ان کے اگنے کے بعد بھی مسائل سامنے آسکتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ عقل داڑھ بچپن کی بجائے اتنی تاخیر سے کیوں نکلتی ہے؟اور ان کے نکلنے پر اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟-

    درحقیقت کسی بچے کے جبڑے میں اتنی گنجائش ہی نہیں ہوتی کہ عقل داڑھ نکل سکے، مگر عمر بڑھنے کے ساتھ جبڑے بھی چوڑے ہو جاتے ہیں جس کے بعد یہ دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں چونکہ موجودہ عہد کے انسانوں کے جبڑے بہت زیادہ چوڑے نہیں ہوتے تو عقل داڑھ نکلتے ہوئے کافی زیادہ تکلیف کا سامنا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عقل داڑھ کو نکلوانا بھی کافی عام ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    یعنی منہ میں اتنی جگہ نہ ہو جو اس داڑھ کو درکار ہو تو پھر اس کے نکلنے کی کوشش دانتوں کو ٹیڑھا کرنے کے ساتھ مسوڑوں کے لیے بھی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے جس سے انفیکشن، دانتوں کے گرنے اور مسلسل تکلیف کی شکایات ہوسکتی ہیں۔

    تاہم اگر منہ میں جگہ ہو تو ان داڑھوں کا نکلنا کسی قسم کے مسائل کا باعث نہیں بنتا اور بعد میں کبھی ان کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہو تو انہیں نکالنے کا آپشن موجود ہے مگر وہ بھی کافی تکلیف دہ طریقہ کار ثابت ہوتا ہے، جب ہمیں ان داڑھوں کی ضرورت نہیں تو یہ موجود کیوں ہیں؟ اور اب جبڑے پہلے کے مقابلے میں زیادہ چوڑے کیوں نہیں ہوتے –

    سائنس کے مطابق اس کا جواب ہزاروں یا لاکھوں سال پہلے کے انسانوں میں چھپا ہےزمانہ قدیم میں جب انسانوں نے آگ کو دریافت نہیں کیا تھا تو وہ گوشت کو کچا کھاتے تھے جبکہ سخت گریاں بھی غذا کا حصہ ہوتی تھیں تو اس طرح کی سخت غذاؤں کے باعث جبڑے زیادہ بڑے ہوجاتے تھے تو عقل داڑھوں کی بدولت کچے گوشت، گریوں اور سخت سبزیوں کو کھانا آسان ہوجاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ یہ بلوغت کے بعد ہی اگتی ہیں۔

    زمانہ قدیم میں سخت غذاؤں کے باعث لوگ عام داڑھوں سے جلد محروم ہوجاتے تھے تو اس وقت عقل داڑھ کا استعمال ہوتا تھا آسان الفاظ میں عقل داڑھیں بیک اپ کا کام کرتی تھیں ۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اب بھی ایسا ہوتا ہے مگر اب چونکہ لوگ نرم غذا کھاتے ہیں اور اپنے دانتوں کا زیادہ خیال رکھتے ہیں تو انہیں اس اضافی ٹول کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد (لگ بھگ 35 فیصد آبادی) میں یہ داڑھیں نہیں ہوتیں یا 4 کی تعداد میں نہیں ہوتیں۔

    ہزاروں سال کے عرصے میں ہمارا جبڑہ آگ کی دریافت کے بعد سے سکڑ چکا ہے مگر وہ جینز جو جبڑے کے حجم کا تعین کرتے ہیں، اس سے بالکل مختلف ہیں جو یہ تعین کرتے ہیں کہ انسان کو کتنے دانتوں کی ضرورت ہے اس کے نتیجے میں ہمارے چھوٹے جبڑوں میں اب بھی 32 دانت فٹ ہوجاتے ہیں اور عقل داڑھ کو اپنی جگہ بنانے کے لیے کافی محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ یہ سب سے آخر میں نمودار ہوتی ہے۔

    عام طور پر مستقل داڑھوں کی پہلی جوڑی 6 سال یا اس سے زائد عمر کے بعد نکلنا شروع ہوتی ہے یعنی اس وقت جب دودھ کے دانت ٹوٹنا شروع ہوتے ہیں اس کے بعد 12 سال یا اس سے زائد عمر میں داڑھوں کی دوسری جوڑی نکلنا شروع ہوتی ہے آخر میں 18 سے 25 سال (بلکہ کچھ افراد میں تو اس سے بھی زیادہ تاخیر سے) عقل داڑھ نکلنا شروع ہوتی ہے۔

    موجودہ عہد میں اکثر افراد عقل داڑھ کو نکلوا دیتے ہیں کیونکہ ان کے نکلنے کے دوران بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور مانا جاتا ہے کہ ان داڑھوں کو نکلوانے سے بعد کی زندگی میں مختلف طبی مسائل جیسے مسوڑوں کے امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے اور ہاں اگر عقل داڑھیں نہ بھی ہوں تو بھی انسان کا گزارا ہوجاتا ہے۔

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

  • اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹرابیری پھل دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتا ہے اور ذائقے کے لحاظ سے بھی بہترین ہے اسٹرابیری، موسم بہار اور موسم گرما میں ایک پسندیدہ پھل اپنی مزیدار میٹھی خوشبو اور ذائقے کی بدولت سب کا پسندیدہ بھل ہے اور اسکے ساتھ ساتھ، وٹامن اے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فولیٹ سمیت غذائی اجزاء کا ایک شاندار ذریعہ ہیں۔ مزید برآں ان کا شمار وٹامن سی اور مینگنیز سے بھرپور پھلوں میں بھی ہوتا ہے

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اسٹرابیری اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو دل کی صحت اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے فوائد رکھتی ہیں عام طور پر سٹرابیری کچی اور تازہ کھائی جاتی ہیں، مگر اس کی علاوہ ان کو مختلف قسم کے جیمز، جیلیوں اور میٹھوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اسٹرابیری بنیادی طور پر %91 پانی اور %7.7 کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں معمولی مقدار میں چربی (0.3%) اور پروٹین (0.7%) بھی موجود ہوتی ہے۔

    اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے اوپر ‘بیج’ پھل کے اندر ہونے کی بجائے اوپر موجود ہیں آپ یہ جان کر حیران رہ جئیں گے کہ اسٹرابیری کے اوپر جو بیج نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں بیج نہیں اور جو سرخ رنگ کا پھل ہم کھاتے ہیں وہ تکنیکی طور پر پھل ہی نہیں،اسٹرابیری کے اوپر جو بیج جیسی چیز نظر آتی ہے اسے ایچین کہا جاتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    یہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے کہ ایچین درحقیقت اسٹرابیری پودے کا پھل ہوتا ہے اور ہر ایچین کے اندر ایک بیج ہوتا ہےجہاں تک سرخ گودے کی بات ہے جسے ہم اسٹرابیری پھل تصور کرتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا ٹشو ہے جو پھول کو پودے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔

    جب اسٹرابیری کے ایک پھول کی تخم کاری ہوتی ہے تو یہ ٹشو نشوونما پاکر بدل جاتا ہے تو اسٹرابیری کی سطح پر جو متعدد بیج نظر آتے ہیں وہ درحقیقت پھل ہوتے ہیں، مگر یہ معلوم نہیں کہ آخر وہ چھوٹے اور خشک پھل اس سرخ میٹھے حصے کے باہر کیوں ہوتے ہیں۔

    بس یہ معلوم ہے کہ دیگر پھلوں کے برعکس اسٹرابیری کے پھول میں پھل نہیں پھولتا بلکہ اس کا ٹشو پھول جاتا ہے جبکہ حقیقی پھل چھوٹی خشک شکل میں نظر آتا ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹرابیری کے بیشتر پودوں کو اگنے کے لیے بیجوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی نقول بناکر پھیلتے رہتے ہیں۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • چھاتی کےسرطان کےتدارک کیلئےبروقت آگاہی مہم، احتیاطی تدابیراورعلاج بہت ناگزیر ہے،بیگم ثمینہ علوی

    چھاتی کےسرطان کےتدارک کیلئےبروقت آگاہی مہم، احتیاطی تدابیراورعلاج بہت ناگزیر ہے،بیگم ثمینہ علوی

    خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی کا چھاتی کے سرطان کی آگاہی مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور علاج سے خواتین کی اموات کو کم کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ ملک میں چھاتی کے سرطان سے خواتین کی ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لئے بھرپور آگاہی مہم اور اقدامات کی ضرورت ہے، چھاتی کے سرطان کے تدارک کیلئے بروقت آگاہی مہم، احتیاطی تدابیر اور علاج بہت ناگزیر ہے، یہ مہلک مرض انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے، پڑھی لکھی خواتین، ذرائع ابلاغ، تعلیمی ادارے اور سرکاری و غیر سرکاری ادارے چھاتی کے سرطان کی آگاہی مہم میں ساتھ دیں۔

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مقامی ہوٹل میں چھاتی کے سرطان کی آگاہی مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں طبی ماہرین، سفارت کاروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

    بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی تاخیر سے تشخیص کے باعث بڑے پیمانے پر جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں خواتین اس سے متاثر ہوتی ہیں جو باعث تشویش ہے، خواتین کو اس مہلک مرض سے بچانے کیلئے آگاہی مہم چلائی جارہی ہے، بھرپور قومی آگاہی مہم کے نتیجہ میں چھاتی کے سرطان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کے مرض میں مبتلا خواتین کے خاندان نہ صرف متاثرہوتے ہیں بلکہ اس کے علاج پر بے پناہ اخراجات بھی آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم کے لئے کی جانے والی کوششیں باعث تعریف ہیں اور اس کا مثبت نتیجہ برآمد ہورہا ہے۔

    بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ میڈیا نے اس مہم میں بھرپور ساتھ دیا ہے، چھاتی کے سرطان کی جتنی جلد تشخیص ہو گی اتنا زیادہ جان بچنے کا امکان بڑھ جائے گا، ہیمیں معذوروں اور خصوصی افراد کیلئے بھی کام کرنا ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    خاتون اول نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور علاج سے اس مہلک مرض سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کیا جاسکتا ہے، چھاتی کے سرطان سے ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لئے ملک بھر میں بھرپور آگاہی مہم چلائی جارہی ہے، چھاتی کے سرطان سے ہونے والی اموات کے نتیجے میں پورا خاندان متاثر ہوتا ہے، معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مہلک مرض کی روک تھام اور خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرے، گھر والوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متاثرہ خاتون کی ذہنی اور اخلاقی حمایت کریں۔ اس مہلک مرض سے بچنے کے لئے بروقت سکریننگ اور علاج کی ضرورت ہے۔

    خاتون اول نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری کوششیں ثمر ثابت ہورہی ہیں کیونکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوچکی ہے کہ چھاتی کے سرطان کا علاج صرف ابتدائی تشخیص سے ممکن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ چار سال سے اس موذی مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی تشخیص نہ صرف خواتین میں ہو رہی ہے بلکہ بدقسمتی سے مرد اور نوجوان لڑکیاں بھی اس بیماری کا شکار ہو رہی ہیں۔

    انہوں نے پاکستان بھر میں تمام رضاکار تنظیموں اور اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں آگاہی پیدا کررہی ہے۔ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ اب ہمیں ہسپتالوں میں مفت میموگرام کی سہولت فراہم سمیت عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے، چھاتی کے سرطان کا علاج رعایتی نرخوں پر ہونا چاہیے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان بھر کے بہت سے ہسپتالوں نے پسماندہ علاقوں کی خواتین کو مفت میموگرام کی سہولت فراہم کرنا شروع کردی ہے اور کچھ ہسپتالوں نے چھاتی کے کینسر کا علاج بھی رعایتی نرخوں پر شروع کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے لیکن جلد تشخیص سے قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے کہ خواتین میں اس کے بارے میں کافی حد تک آگاہی ہوئی ہے، شوکت خانم ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں بریسٹ کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، گذشتہ سال خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی جانب سے خیبر پختونخوا میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ہزاروں خواتین کا معائنہ کیا گیا تھا اور 16 میں چھاتی کے کینسر کا ابتدائی مرحلے پر پتہ چلا تھا، اس سال انہوں نے ایک بار پھر مفت میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا ہے اور اکتوبر کے پہلے ہفتے میں بریسٹ کینسر کے دو کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    انہوں نے ملک کے تمام صوبوں میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم میں شامل افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے مشنری جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ میں اپنی صحت کے مسائل اور پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے یہ توقع نہیں کر رہی تھی کہ ہم اپنی مہم کو اتنے وسیع انداز میں آگے بڑھاسکیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم پورے پاکستان میں بیداری کا یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انہوں نے میڈیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا پیغام پہنچانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

    جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے…

    خاتون اول نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور میں نے ہمیشہ ان کی صحت، تعلیم، انہیں بااختیار بنانے اور ان کے وراثت کے حقوق کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے خاندان میں کوئی خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہے تو اسے آپ کی اخلاقی مدد کی ضرورت ہے اور اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ خاندان کی انتہائی اہم رکن ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں معذور افراد کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ بھی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں، ہمیں انہیں بااختیار بنانے پر کام کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک اور اہم مسئلہ جس پر ہمیں توجہ دینی چاہیے وہ ذہنی صحت ہے، ہماری آبادی اور معاشرے میں ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ خاتون اول نے ”چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے متعلق پینل مباحثے“ کے اہتمام پر”رابطہ“ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

  • غذا ئیں جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہیں

    غذا ئیں جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہیں

    بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتیں ماند پڑنا شروع ہوجاتی ہیں، اس کے علاوہ ہمارہ دل بھی کمزور ہوجاتا ہےماہرین صحت بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑھتی عمر کے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے معیار زندگی کو بہتربنا نے،جسمانی ورزش کرنے کے ساتھ بہتر خوراک کا انتخاب کیا جائے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    محققین کے مطابق ہرے یا سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال بہتر ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ دل کے لیے بھی مفید ہیں جیسے پالک، بروکلی، دھنیا پودینہ وغیرہ۔ یہ وٹامن کے، لیوٹین، فولیٹ اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں۔

    ماہرین صحت کے مطابق فیٹی ایسڈ یعنی چکنائی بھی ہمارے جسم کے لیے انتہائی ضروری ہیں، لیکن چکنائی کا انتخاب سوچ سمجھ کے کیا جائے ورنہ یہ دل کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    صبح کے اوقات میں چائے یا کافی کا استعمال آپ کی یاداشت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس حوالے سے 2014 میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق 200 ملی گرام کیفین یاداشت کو بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔

    ماہرین صحت کے مطابق پروٹین کے حصول کے لیے مچھلی کے گوشت اور سبز سبزیوں کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی کا گوشت اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے یہ ہمارے جسم کو ضروری چکنائی فراہم کرتا ہے جو ہماری جلد، دماغ، دل کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

    ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ مچھلی کا استعمال کرنا چاہئے، لیکن اگر یہ ممکن نہیں ہے تو ڈاکٹرز کے مشورے سے اومیگا 3 سپلیمنٹ کا استعمال کیا جائے یا پھر میتھی دانہ، ایوکاڈو اور اخروٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں، اس کے ساتھ روزمرہ کے کھانوں میں زیتون یا کینولا کا تیل استعمال کرنا بہتر ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    ماہرین کے مطابق بیریز کا استعمال ہمارے ذہن کے لیے انتہائی مفید ہے، یہ یاداشت کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین ہفتے میں دو یا دو سے زائد بار اسٹرابیریز اور بیلوبیریز کا استعمال کرتی ہیں وہ بڑھتی عمر کے ساتھ یاداشت کی کمزوری کو روک سکتی ہیں۔

    خشک میوے پروٹین اور صحت مند چکنائی کے بہترین ذرائع ہونے کے ساتھ یاداشت اور مختلف ذہنی بیماریوں میں مفید ہیں اخروٹ میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جسے الفا لیپویک ایسڈ (ALA) کہا جاتا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

  • رات  دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

    وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

    اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

  • روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا  ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہیں-

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یونیورسٹی آف نیپلز فیدڑریکو دوم کےماہرین کہتےہیں کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کی تمام اقسام مساوی طور پر غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتیں ٹائپ 2 ذیابیطس تب واقع ہوتی ہے جب خلیے انسولین کےمزاحم بن جاتے ہیں۔انسولین وہ ہارمون ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتا ہے۔

    اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے اور امرضِ قلب، ہاتھ پیروں کے کاٹے جانے اور بینائی کے چلے جانے سمیت دیگر سنجیدہ مسائل کا سبب بن سکتا ہے خاموش قاتل کے طور پر جانے جانی والی یہ بیماری ہر سال 45 برطانیوں اور 3 کروڑ امریکیوں کو متاثر کرتی ہے۔

  • انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انار ایک سپرفوڈ ہے جوکئی بیماریوں سے بچاتا ہے ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق انار کھانا نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے۔

    اس خوش ذائقہ جنتی پھل کے استعمال سے آپ کئی ایسے فوائد حاصل کرسکتے ہیں جن کو مصنوعی طریقے سے حاصل کرنے کے لیے آپ کو کئی کڑوی اور مہنگی دواؤں کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    کم حراروں (کیلوریز) مگر وٹامن سی، وٹامن بی فائیو، پوٹاشیم اور فائبر سے بھرپور اس پھل کے سفید چھلکے اور پتلی باہری جلد بھی کھائی جاسکتی ہے بلکہ وہ پھل کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔ اس پھل میں اینٹی آکسیڈنٹس اور جراثیم کش خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

    غذائیت کی بین الاقوامی ماہرکہتی ہیں کہ فلے وینوئڈز، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگرغذائی اجزا سے بھرپور انار آپ کے جسم کو اندرونی طور پر ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔

    وٹامن اے ، سی اور دیگر قیمتی اینٹی آکسیڈنٹس کی وجہ سے انار دل و دماغ کا بھی دست ہےماہرین نے کہا ہے کہ اس کا رس پینے سےبہتر ہے کہ چبا کر کھایا جائے تاکہ فائبر اور دیگر اجزا بھی آپ کے جسم میں پہنچ سکیں۔

    انار کے دانوں کی سفید سے سرخ ہوتی رنگت اس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار بتاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ان بہترین اجزا سے لبالب بھرا ہوتا ہے بعض اناروں میں سبزچائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو ایل ڈی ایل یا مضر کولیسٹرول کم کرتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    پولی فینول عمررسیدگی کو خلوی سطح تک روکتے ہیں اور خون کی روانی کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس میں فائبر، فولیٹ، پوٹاشیئم اور وٹامن کے بھی خوب پایا جاتا ہے۔یہ دل کی رگوں میں مضر چکنائی جمع ہونے سے قبل ہی انہیں روکتا ہے۔ اس کے علاوہ رگوں کی بندش اور توند کو بھی کم کرتا ہے۔

    پھر 2017 میں آٹھ ایسی تحقیقات سامنے آئیں جن میں کہا گیا تھا کہ انار کا رس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ انسولین کی صورتحال بھی بہتر کرتا ہے۔ کئی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے ذیابیطس کے مریضوں کو اس سے بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس میں اندرونی سوزش(انفلیمیشن) کم کرنے والے اہم اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔

    انار کے بیج کے حیران کن فوائد

    انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے دورانِ حمل انار کا باقاعدگی سے استعمال انیمیا اور اکڑن سے محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب کئی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انار میں سبز چائے سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوتے ہیں۔ اگر اس کے استعمال کو معمول بنا لیا جائے، تو یہ چھاتی، بڑی آنت، اور مثانے کے کینسر سے بھی مدافعت فراہم کرتا ہے۔ اس کے چھلکے میں الیجک ایسڈ موجود ہوتا ہے، جو جلد کے کینسر کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے انار زیادہ کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی جبکہ ہاضمہ بھی صحت مند ہوتا ہے اور قبض کا خطرہ کم کوتا ہے۔ اس میں فیٹ نہیں ہوتا لہذا جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین غذا بھی تصور کیا جاتا ہے۔

    اگر آپ روزانہ آٹھ اونس انار کا جوس پیئں، تو آپ کی جلد دانوں سے پاک، جوان، اور چمکدار نظر آئے گی انار میں موجود فیٹی ایسڈ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے جس کی وجہ سے بال گرنے کی شکایت کم ہوجاتی ہے۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

  • پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں،تحقیق

    پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں،تحقیق

    ایسے لوگوں کی کہانیاں سننا عام ہے جو دعوی کرتے ہیں کہ "پہلی نظر میں محبت” کا تجربہ کیا ہے تاہم محققین کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی محققین کی حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزمرہ کی بنیاد پر اگرکسی سے بھی صرف چار منٹ کی مختصر گفتگو کی جائےتو انہیں جاننے میں مدد دیتی ہے لوگ بہت جلد دوسروں کے حوالے سے اندازہ لگا کر ان کے حوالے سے ایک تاثر قائم کرلیتے ہیں۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    محققین کا کہنا ہے کہ پہلی نظر میں محبت کا ہونا صرف افسانوی باتیں ہیں کیوں کہ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ کسی شخص کے لیے رومانوی جذبے کو بیدار ہونے میں کم سے کم تقریباً دو منٹ کی بات چیت کا ہونا ضروری ہے۔

    پچھلے مطالعات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ لوگ مختلف شخصیات سے ذاتی طور پر ملاقات اور بات چیت کے دوران ان کے بارے میں تیزی سے قیاس آرائیاں کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

    اس مطالعے کے لیے محققین نے مختلف انجان لوگوں سے آن لائن گفتگو کی، اس مشاہدے سے انہوں نے محسوس کیا کہ مختلف افراد کے مزاج ان کے شرمیلے پن یا پھر باتوں اور سماجی رابطوں کے شوقین رویے کے باعث یکسر مختلف تھے۔

    اس تحقیق کے دوران 168 شرکاء نے حصہ لیا اورایک دوسرے کے ساتھ چار منٹ کی گفتگو کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات لکھے پھر انہیں اس شخص کے ساتھ اسٹریٹجک گیم کھیلنے کی ہدایت کی گئی۔

    رشتہ دار نہ ہونے کےباوجود 2 افراد کی شکلیں ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں؟

    مطالعہ کرنے کی خاطر موازنہ کرنے کے لیے انہیں دیگر 170 شرکاء کے ساتھ بھی اسٹریٹجک گیمز کھیلنے کا کہا گیا جن سے انہوں نے پہلے کبھی کوئی بات نہیں کی تھی۔

    جو افراد گیمز سے قبل ایک دوسرے سے بات چیت کرچکے تھے انہوں نے ایک تاثر قائم کرلیا تھا جس کے باعث ان کے کھیل کی حکمت عملی متاثر ہوئی ایک کھیل کے دوران شرکاء نے ان افراد کے ساتھ، جو ایک سے باتیں کرنے اور سماجی رابطوں کے شوقین تھے، باہمی تعاون کا رویہ اختیار کیا۔

    قبل ازیں کئی دہائیوں کی تحقیق نے ماہرین نفسیات کو یہ تجویز کرنے پر مجبور کیا ہے کہ پہلی نظر میں محبت کا تصور ایک افسانہ ہے اور یہ کہ سچی محبت کو پروان چڑھنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    سائیکالوجی ٹوڈے، یونیورسٹی آف گروننگن کے محققین کے 2017 کے مطالعے میں پہلی نظر میں محبت کو ‘مثبت وہم’ قرار دیا گیا اس نے تجویز کیا کہ جوڑوں نے سوچا ہوگا کہ انہیں فوری محبت کا تجربہ ہوا ہے کیونکہ وہ برسوں بعد کیسا محسوس کرتے ہیں اس کے باوجود، محققین کا خیال تھا کہ پہلی نظر میں محبت کے احساس کے پیچھے ایک سائنس ہے۔

    ماہرین نفسیات اور سائنس دانوں نے یکساں طور پر کہا کہ یہ دماغ کا کیمیائی رد عمل ہے جو آپ کو محبت کا احساس دلاتا ہے۔ جب ہم اپنی پسند کے کسی سے ملتے ہیں تو ہمارا دماغ ڈوپامائن اور سیروٹونن خارج کرتا ہے۔ہمارا دماغ ان کیمیکلز کو چھوڑنے سے معدے میں تتلیوں، پتلیوں کی خستہ حالی اور بلندی محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ ہمیں اس شخص کی طرف فوری طور پر کھینچنے کا احساس کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے، اور جب کوئی باہمی لگاؤ ​​محسوس کرتا ہے، تو ایک تعلق بننا شروع ہو جاتا ہے اور اسے اکثر پہلی نظر میں محبت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ برس جرنل آف نیورو سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ‘پہلی نظر میں محبت’ ابتدائی کشش کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر لوگ کسی کو پرکشش پاتے ہیں تو تقریباً فوراً بتا سکتے ہیں۔ اس لیے ‘پہلی نظر میں محبت’ کو ‘پہلی نظر میں کشش’ کہنے سے بہتر ہو سکتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

  • لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46 ناموں کا انکشاف

    لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46 ناموں کا انکشاف

    لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46ناموں کا انکشاف ہوا ہے ،ایڈیشنل آئی جی کی جوائینٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کو داد دی اورتمام ٹیم کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے نقدانعام اور تعریفی سرٹیفیکیٹ دینے کااعلان۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ملتان میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق کی صدارت میں لیہ پورنوگرافی کیس پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا،ایڈیشنل آئی جی نے کیس سے جڑے تمام مشتبہ کرداروں کو گرفتار کر نے کی ہدایت کی انہوں نے کہا کہ وقوعہ کے مرکزی ملزم سمیت تمام کی گرفتاری اور پورنوگرافی کیلئے استعمال ہونے والے کتے کو حراست میں لینا پولیس کی بڑی کامیابی ہے ۔مقامی اخبار روزنامہ نیا کل ملتان کے مطابق ایس پی ربنواز تلہ نے تفتیش میں پیشرفت سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں ملوث فیض بھلڈ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس نے وقوعہ میں مرکزی کردار ادا کیا ،ملزم فیض نے متاثرہ کرن سے وقوعہ کے دن سے لے کر 20اگست تک 14426سیکنڈ کال کی اور متاثرہ خاتون کرن کے 46فرضی نام بنانے میں کردار ادا کیا ،م

    لزم فیض کی لالچ میں وصول کردہ رقم پولیس نے برآمد کرنے کے ساتھ ملزمان سے لیپ ٹاپ بھی برآمد کر لیا ہے جس سے تفتیش کے عمل کو مزید وسعت دی جارہی ہے اورڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے جس سے مزید انکشافات متوقع ہیں۔ایڈیشنل آئی جی کی جوائینٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ کو داد دی اورتمام ٹیم کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے نقدانعام اور تعریفی سرٹیفیکیٹ دینے کااعلان کیا ہے۔

  • ڈیرہ غازیخان : لیڈی ڈاکٹر اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کانشانہ بن گئی

    ڈیرہ غازیخان : لیڈی ڈاکٹر اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کانشانہ بن گئی

    ڈیرہ غازیخان : لیڈی ڈاکٹر اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا شکار،پولیس اہلکار سمیت 8 افرادکی زیادتی ،تھانہ صدر میں مقدمہ درج
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازی خان میں پولیس اہلکار سمیت 8 افرادنے لیڈی ڈاکٹرکو اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالاتھانہ صدر پولیس نے لیڈی ڈاکٹر کی درخواست پر پولیس ڈرائیور بلال سمیت6 نامزد ملزمان اور دو نامعلوم افرادکے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔

    لیڈی ڈاکٹرعائشہ کنول نے تحریری درخواست میں لکھاکہ سائلہ اپنی کلینک9:00 بجے رات نکلی تو الزام علیہان عدیل نواز ،حسن ولد محمد اشرف ، مظہر ، ملک عزیر نے زبردستی مجھے ڈالہ برنگ سفید ڈبل ڈورمیں ڈال کر اغوا کرکے گلبر گ کالونی ڈیرہ غازی خان میں مکان کے اندر لے آئے اور مجھے زبردستی شراب پلائی اورخاموش رہنے کا کہا اور قتل کرنے کی دھمکیاں دی تو اسی دوران الزام علیہان عدیل نواز ، حسن ، مظہر ، ملک عزیر سٹاپ اینڈشاپ نے زبردستی میرے ساتھ باری باری زنا بالجبر کرتے رہے اور مجھے نوچتے رہے اور میری ننگی ویڈیوز بناتے رہے جو کہ مسلح ہائے پسٹل تھے

    اسی دوران بلا ل اور اسحاق مستوئی اور دو کس نامعلوم افراد جن کو سامنے آنے پر پہچا ن سکتی ہوں وہ بھی زنا بالجبرکی خاطر آئے اور میں بے ہو ش ہو گئی صبح جملہ ملزمان مجھے دھمکی دی اگر ہمارے خلاف قانونی کارروائی کی تو آپ کی ننگی ویڈیوز نیٹ پر uploadکردیں گے،جس پولیس تھانہ صدرنے مقدمہ نمبر291/22زیردفعہ376،365B اور292 ت پ درج کرلیا ہے،پولیس ترجمان کے مطابق تفتیش جاری ہے، جلد اصل حقائق سامنے آجائیں گے۔