Baaghi TV

Category: خواتین

  • آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

    آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

    دُنیا بَھر کے ماہرینِ غذائیت کے مطابق آئرن انسانی جسم کے لیے ایک اہم جُز ہے، فولاد دماغ اور اعصاب کو مضبوط بناتا ہے، اس کے برعکس اس کی کمی ’اینیمیا‘ (خون کی کمی) کا سبب بن جاتی ہے جسے طبّی اصطلاح میں ’آئرن ڈیفیشینسی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکرا عید ایک سنہری موقع ہے کیوں کہ اس موقع پر کلیجی اور لال گوشت وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    پاکستانی کھانے پکانے کے تین اہم طر یقہ کار

    ماہرین کے مطابق اگر خون میں فولاد کی کمی واقع ہوجائےتو گردشِ خون کے مسائل جنم لے سکتے ہیں، دِل، پھیپھڑوں کی کارکردگی کم زور پڑ جاتی ہے، نتیجتاً سانس لینے کا دورانیہ مختصر (سانس پھولنے لگتا ہے) ہو جاتا ہے اس کے علاوہ جِلد اور بالوں کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

    آئرن کی کمی کی علامات میں شدید تھکاوٹ، جِلد کی رنگت پیلی پڑ جانا، سَر درد، ناخنوں کا ٹوٹنا، سانس پُھولنا، چکر آنا، ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ اور زبان کی سوزش یا درد وغیرہ شامل ہیں ماہرین کے مطابق اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو معالج سے فوری رجوع کرنا چاہیے۔

    دوسری جانب تحقیق سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جو افراد سُرخ گوشت کا کم یا سرے سے استعمال نہیں کرتے، ان میں فولاد کی کمی زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ ہرے پتّوں والی سبزیاں بھی استعمال کرنا لازمی ہے۔

    ماہرینِ غذائیت کے مطابق آئرن حاصل کرنے کے دو ذرائع ہیں جنہیں ہیم (Heme) اور نان ہیم (Non-Heme) سے موسوم کیا گیا ہے۔

    کھانا پکانے کی چند اہم ہدایات

    ہیم سے مُراد وہ فولاد، جو جانوروں کے ذریعے حاصل کیا جائے، اس میں گوشت، مرغی اور سمندری غذائیں شامل ہیں جبکہ نان ہیم آئرن پودوں میں پایا جاتا ہے، یہ ہر قسم کے اناج، گِری دار میووں، بیج، پھلیوں اور پتّوں والی سبزیوں میں موجود ہوتا ہے ان دونوں ذرائع سے حاصل کیے جانے والے فولاد کے اثرات جسم پر مختلف انداز سے مرتّب ہوتے ہیں۔

    ماہرینِ غذائیت کا بتانا ہے کہ نان ہیم غذاؤں سے فولاد کو خون میں جذب ہونے میں دیر لگتی ہے جبکہ نان ہیم غذا کے ساتھ وٹامن سی کا استعمال کیا جائے تو فولاد کے خون اور جسم میں جذب ہونے کا عمل جلد شروع ہو جاتا ہے۔

    ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ جب نان ہیم غذائیں استعمال کی جائیں تو ساتھ میں ایسے پھل بھی کھائیں جن میں وٹامن سی زائد مقدار میں پایا جاتا ہے، لہٰذا اپنے غذائی شیڈول میں گوشت، مُرغی، مچھلی، سبزیوں میں پالک، چقندر، بروکلی، لال اور ہری شملہ مرچ، پھول گوبھی، جبکہ پھلوں میں مالٹا، سیب اور انار وغیرہ شامل کرلیں، تاکہ جسم فولاد کی کمی کا شکار نہ ہو۔

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    ایک پلیٹ کلیجی کھا لینے سے 6 ماہ کے آئرن کی مطلوبہ مقدار پوری ہو جاتی ہے۔

    گائے کی 110 گرام کلیجی میں 153 کیلوریز، 23 گرام پروٹین، 4 گرام چربی یا چکنائی، 4 گرام کاربو ہاہیڈریٹس اور 0 گرام فائبر ہوتا ہے اسی طرح گائے کے دل کی 110 گرام میں 127 کیلویرز، 20 گرام پروٹین، 4 گرام چربی یا چکنائی جبکہ کاربوہائیڈریٹس یا فائبر موجود ہوتے ہیں گائے کے ان حصوں کا گوشت غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے اور متعدد وٹامنز اور منرلز بشمول وٹامنز بی، آئرن اور زنک جسم کو ملتے ہیں۔

    کلیجی میں وٹامن بی 1 موجود ہوتا ہے اور تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ یہ وٹامن الزائمر کا خطرہ بڑھانے والے عناصر جیسے یادداشت سے محرومی اور دیگر کی روک تھام کرتا ہے کلیجی کھانے سے جسم میں آئرن کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور جسمانی توانائی کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے۔

    جبکہ جگر اور گردوں میں آئرن کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور آئرن کی کمی خون کی کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔ جسم میں آئرن کی کمی سے تھکاوٹ اور جسمانی توانائی سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

    ہمارا مذہب عورتوں کو بھرپور آزادی دیتا ہے ہمارے لئے وہی آزادی بہت ہے

    وٹامن بی 2 جسم کو کینسر کی مخصوص اقسام سے تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے، یہ وٹامن کلیجی اور گردوں میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے یہ وٹامن خون میں ایسے مخصوص امینو ایسڈز کی سطح کو کم کرتا ہے جو دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

    تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ وٹامن بی 2 پھیھپڑوں اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ اس وٹامن کی جسم میں کمی غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے کلیجی، گردے اور مغز وغیرہ میں وٹامن بی 12 کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جس کے ساتھ فولیٹ بھی جسم کو ملتا ہے۔

    جگر، کلیجی اور دل میں زنک نامی جز کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ زنک مدافعتی نظام کے افعال کے لیے بہت اہم ہوتا ہے اور زنک کی کمی کا سامنا کرنے والے افراد میں بیماریوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    جہاں کلیجی دل اور گردوں کا استعمال مفید ہوتا ہے وہیں ان کی زیادہ مقدار کھانے سے یہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں کلیجی اور دل میں کولیسٹرول کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تو کلیجی کی معتدل مقدار کا استعمال کرنا چاہیے جوڑوں میں تکلیف کا سامنا کرنے والے افراد کو کلیجی یا گردے وغیرہ کھانے سے گریز کرنا چاہیےکیونکہ ان میں موجود اجزا جوڑوں کی تکلیف کو بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    اگر جسم میں آئرن کی مقدار زیادہ ہو تو ایک بیماری Hemochromatosis کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جیسا اوپر درج کیا جا چکا ہے کہ کلیجی وغیرہ میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو اس وجہ سے ان کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

    گرلڈ مٹن چانپیں بنانے کا طریقہ

  • گوشت کوکم وقت میں کیسے گلایا جائے؟ چند آسان ٹپس

    گوشت کوکم وقت میں کیسے گلایا جائے؟ چند آسان ٹپس

    عید الاضحیٰ کے سب ہی مزیدار کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں قربانی کے گوشت سے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں دعوتیں بھی ہوتی ہیں، اور ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ کم از کم وقت میں پکوان تیار کیے جائیں، جس کے لیے ضروری ہے کہ گوشت تیزی سے گلایا جائے۔

    مگر اکثر اس میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے خاص طور پر اگر گوشت کو فریز کیا گیا ہو اور پھر پکانے کے لیے استعمال کیا جائےاس کے لئے آج ہم آپ کو کچھ ٹوٹکے بتائیں گے جس سے گوشت منٹوں میں گل جائے گا۔

    گوشت جلدی گلانے کے ٹوٹکے:

    نمک
    سمندری نمک کو گوشت پر اسے پکانے سے ایک گھنٹہ پہلے چھڑکیں، یہ نمک گوشت کو گلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس کی ساخت بھی بہتر ہوتی ہے۔

    چائے یا کافی
    چائے میں ٹینن نامی نامیاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر گلانے میں مدد دیتے ہیں۔ اسٹرونگ سیاہ چائے کے ایک یا 2 کپ لیں، انہیں ٹھنڈا کرکے گوشت کو میری نیٹ کرنے کے لیے استعمال کریں یا کافی کی کچھ مقدار کو تیار کریں، اسے ٹھنڈا کرکے گوشت گرل کرنے سے 24 گھنٹے پہلے اس میں میری نیٹ کریں۔

    ترش عرق یا سرکہ
    ترش عرق یا سرکے میں ایسا تیزابی اثر ہوتا ہے جو گوشت کو نرم کرنے کے ساتھ اس کا ذائقہ بھی بڑھاتا ہے۔ ترش عرق کے لیے لیموں یا انناس کو استعمال کریں، جبکہ سرکے میں سیب کا سرکہ بہترین ہے مگر عام سفید سرکہ بھی مدد دے سکتا ہے۔

    بیف نہاری بنانے کی ترکیب

    ٹماٹر کی چٹنی یا مصالحہ
    ٹماٹر میں بھی تیزابیت ہوتی ہے اور اس کی چٹنی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہے ٹماٹروں کو پیس کر اس میں لیموں کا رس شامل کریں اور اس مکسچر کو گوشت پر لگادیں اور 10 منٹ کے لیے رکھ دیں، اب گوشت پکائیں اور دیکھیں کہ یہ کتنا جلدی گلتا ہے۔

    بکرے کی مزیدار کلیجی بنانے کی ترکیب

    کچی انجیر یا پپیتا
    گوشت کو گلانے میں کچا پپیتا مددگار ہوتا ہے جبکہ کچی انجیر بھی بالکل اسی طرح کام کرتی ہے۔

    ادرک اور لہسن کا عرق
    ادرک میں موجود انزائمے قدرتی طور پر پروٹین بریک ڈاﺅن کرتے ہیں ادرک کے عرق کو 30 منٹ کے لیے گوشت پر لگا کر رکھیں، اس طریقہ سے بھی گوشت جلد گلتا ہے ابلتےگوشت میں لہسن کے درمیان میں موجود ڈنڈی ڈالنے سے بھی گوشت جلدی گل جاتا ہے۔

    کولا
    گوشت کو کولا (ڈائیٹ نہ ہو) سے بھی میری نیٹ کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے کم از کم آدھے گھنٹے تک گوشت کو کولا میں میری نیٹ کریں، اس میں موجود تیزابیت اس حوالے سے مدد دیتی ہے۔

  • جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی

    جام پور۔بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ، متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں
    باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میں اکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے

  • خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    جرنل برین میں شائع ہونےوالی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یعنی خواتین مردوں سے زیادہ گرم دماغ ہوتی ہیں کیونکہ ان کے دماغ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں مالیکیور بائیولوجی کی ایم آر سی لیبارٹری کے محققین کو ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں کی نسبت 0.4 ڈگری سیلسیئس زیادہ گرم ہوتا ہے۔

    کسی خونی اور فسادی احتجاج کی اجازت نہیں ہو گی،وفاقی وزیر اطلاعات

    تحقیق کے مطابق دماغ کے زیادہ درجہ حرارت میں یہ فرق ممکنہ طور پر خواتین کے مخصوص ایام کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس تحقیق کے لئے محققین نے 20 سے 40 سال کے درمیان 40 رضا کاروں کا انتخاب کیا مطالعے میں ایڈنبرگ کے رائل انفرمری میں ان رضاکاروں کے دماغوں کو ایک دن کے وقفے سے صبح، دوپہر اور شام کے آخر حصے میں اسکین کیا گیا۔

    صحت مند انسانی دماغ کے درجہ حرارت کی پہلی چار جہتی تصویر بنانے والے محققین نے تحقیق میں دیکھا کہ انسانی دماغ کا اوسط درجہ حرارت جو پہلے 38.5 ڈگری سیلسیئس خیال کیا جاتا تھا اب اس سے زیادہ تھا لیکن دماغ کی ساخت کی گہرائی میں درجہ حرارت تواتر کے ساتھ 40 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ پایا گیا مشاہدے میں آنے والا سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.9 ڈگری سیلسیئس تھا۔

    مسلح افراد کی کھلے عام رات کے اندھیرے میں ڈکیتی کی واردات

    جبکہ سائنس دانوں نے تحقیق میں 20 برس سے زیادہ کے شرکاء میں درجہ حرارت میں اضافے کو بھی دیکھا۔ یہ اضافہ دماغ کے اندر کے حصے میں دیکھا گیا جہاں اوسط اضافہ 0.6 ڈگری سیلسیئس تھا جسم کے دوسرے کسی حصے میں اس درجہ حرارت کا ہونا عموماً بخار کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ دماغ کے صحت مند ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے۔

    کیمبرج یونیورسٹی کے گروپ لیڈر ڈاکٹر جان او نیل نے کہا کہ میرے لیے ہمارے مطالعے سے سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صحت مند انسانی دماغ اس درجہ حرارت تک پہنچ سکتا ہےجس کی تشخیص جسم میں کسی اور جگہ بخار کے طور پر کی جائے گی ماضی میں دماغی چوٹوں والے لوگوں میں اس طرح کے اعلی درجہ حرارت کی پیمائش کی گئی ہے، لیکن یہ فرض کیا گیا تھا کہ یہ چوٹ کا نتیجہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی اچھی وجہ ہے کہ یہ روزانہ کی تبدیلی طویل مدتی دماغی صحت کے ساتھ منسلک ہے – ایسی چیز جس کی ہم آگے تحقیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔

    امید ہے ٹاسک فورس کی آمد کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،بلاول بھٹو

  • سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تیزابیت کے سبب سینے میں پیدا ہونے والی کی جلن ایک ایسی پریشانی ہے جو کہ عموماً ہرشخص کے کبھی نا کبھی اور بعض کو عموماً درپیش رہتی ہے۔ سینے کی جلن کی بنیادی وجہ تیزابیت ہی ہے جب آپ کا پیٹ خوراک کو ہضم کرنے سے انکارکردیتا ہے تو خوراک کو ہضم کرنے والا تیزازب آپ کے کھانے کی نالی میں آجاتا ہے جس سے آپ کو سینے میں اور بعض اوقات حلق میں بھی جلن محسوس ہوتی رہتی ہے-

     

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    معدے کی تیزابیت کی علامات:

    گیسٹرو ایسو فیزل ریفلکس ڈیزیز (جی ای آر ڈی) ، ایسی حالت ہے جس میں جلن کا احساس ایک علامت ہوتی ہے۔ پیٹ میں موجود تیزاب غذائی نالی میں چلا جاتا ہے اور درد کا سبب بنتا ہے اس درد کو اسٹرنم یا چھاتی کی ہڈی کے پیچھے جلن کے احساس کے طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے ، ایسڈ ریفلیکس کا درد کئی بار غلط فہمی کے طور پر دل کے دورے کے درد کے لئے لے لیا جاتا ہے۔

    جلن کا درد نچلے سینے میں رہ سکتا ہے یا یہ گلے کے پچھلے حصے تک جاسکتا ہے اور واٹر بریش کے ساتھ وابستہ ہوسکتا ہے ، جو گلے کےپچھلےحصےمیں ایک کھٹا ذائقہ ہےاگر گلے میں لیرنکس (آواز پیدا کرنے والا باکس) کے قریب جلن ہو تو ، اس سے کھانسی کےواقعات ہوسکتے ہیں ۔ طویل عرصے تک ریفلکس کافی شدید ہوسکتا ہے کہ تیزاب دانتوں پر تامچینی باندھ دیتا ہے اور اس کی خرابی کا سبب بنتا ہے بھاری کھانے ، آگے جھکاؤ ، یا سیدھا لیٹنے کے بعد علامات اکثر خراب ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ افراد اکثر جلن کے ساتھ نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں۔

    معدے کی تیزابیت سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں:

    سینے کی جلن پیچیدگیوں کے بغیر نہیں ہے اگر نظرانداز کیا جائے تو ، اکثر جلن اور غذائی نالی کی سوزش سے السر ہوسکتے ہیں ، ایسے چھوٹے چھوٹے حصے جہاں پر سے ٹشو خراب ہو جاتے ہیں۔ ان سے شدید خون بہہ سکتا ہے اس کے علاوہ ، زخم بننا جی ای آر ڈی کی دیگر اہم پیچیدگیاں ہیں غذائی نالی کے استر کے خلیوں کی قسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ایسڈ ریفلیکس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے ، جس کو بیریٹ ایسوفیگس کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو کہ غذائی نالی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرہ سے وابستہ ہے۔

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    سینے میں جلن، تیزابیت، الٹی یا ابکائی جیسی کیفیت اگر ہفتے میں دو سے زائد بار محسوس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ صحت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، کیوںکہ آپ ایسیڈیٹی یعنی تیزابیت کا شکار ہیں طبی ماہرین کے مطابق خوراک میں تھوڑی سی تبدیلی کھانے کی مقدار اور کھانے کے اوقات کار میں تبدیلی کر کے سینے کی جلن اور تیزابیت کی دیگر علامات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے مسالوں، تیل اور چکنائی والی غذائیں مکمل طور پر چھوڑ کر زیادہ الکلائن والی غذائیں یعنی پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کم کی جا سکتی ہے۔

    تیزابیت سے بچاؤ کے لیے مندرجہ ذیل غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے-

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    چاکلیٹ اور چکنائی والی غذائیں:
    چاکلیٹ بھی سینے میں جلن کا باعث بنتی ہے، اس میں موجود کیفین، کوکوا پاؤڈر اور دیگر کیمیائی اجزا نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔جب کھانا پیٹ میں زیادہ دیر تک رہتا ہے تو جواباً جسم زیادہ تیزاب پیدا کرتا ہے وہ تمام کھانے جن میں چکنائی زیادہ ہو وہ مضرصحت ہیں، جیسے تلی ہوئی غذائیں،اس کے علاوہ دودھ اور دہی سے تیار کردہ مصنوعات جو نظام ہاضمہ کو سست کر دیتی ہیں، صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

    مرچ مسالے اور لہسن :
    مرچ مسالوں سے بھر پور غذاؤں کا استعمال جسم میں ایسڈ ریفلکس کو مزید تیز اور کھانوں میں موجود ’کیپساسین‘ نظامِ ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے، اسی لیے اِن کا استعمال بھی کم سے کم کرنا چاہیے اس کے علاوہ لہسن کا استعمال بھی تیزابیت کو بڑھا دیتا ہے، بالخصوص کچّا لہسن صحت مند لوگوں میں سینے کی جلن اور پیٹ کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔یہ تیزاب کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے جس سے سینے کی جلن کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔

    کیفین اور سافٹ ڈرنکس :
    وہ تمام غذائیں جن میں کیفین کی مقدار زیادہ ہو ان سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ تیزابیت کی شکایت کو دور کیا جاسکے اس کے علاوہ سافٹ ڈرنکس، چائے اور کافی کے استعمال کو بھی کم سے کم کر دینا چاہیے تاکہ تیزابیت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

    علاوہ ازیں تنگ کپڑوں کے استعمال سے گریز کیجئے اگر آپ کے پیٹ کے گرد بیلٹ کس کر بندھی یا آپ کی قمیض یا جینز بہت چست ہے تو تو آپ کو تیزابیت کی شکایت ہوگی لہذا تنگ کپڑوں کو ترک کرکے نارمل کپڑے استعمال کیجئے۔

    سگریٹ اور شراب کا استعمال آپ کے نظامِ انہضام کو کمزور کرتا ہے لہذا اسے ترک کردینا ہی بہترہے ان دونوں اشیا میں شامل الکحل اور نیکوٹین آپ کے جسم کے تمام امور کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے-

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ گھٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے ” دی گارجئین” کے مطابق تحقیق کے نتائج جرنل ون ارتھ میں شائع کئے گئے تحقیق کے مطابق اچھی نیند صحت اور شخصیت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رات کے وقت کےد رجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اوسطاً عالمی سطح پر ایک فرد ہر سال 44 گھنٹے کی نیند سے محروم ہورہا ہے یا 11 راتوں تک وہ 7 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہے جو کہ ناکافی نیند کا طے شدہ معیار ہے –

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    نیند کے کمی کا وقت درجہ حرارت میں اضافے سے بڑھ رہا ہے مگر کچھ گروپس دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ 65 سال کی عمرکے افراد دگنا زیادہ اور کم ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی 3 گنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس تحقیق کے لیے68 ممالک سے تعلق رکھنے والے 47 ہزار افراد کے رسٹ بینڈ سلیپ ٹریکرز کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا۔

    درجہ حرارت میں اضافہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک، خودکشیوں اور ذہنی صحت کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے نیند کی کمی سے بھی ان اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے اور محققین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم کا وہ اہم ترین میکنزم متاثر ہوتا ہے جو درجہ حرارت کے صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کام کرتا ہے تاہم ڈیٹا سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ لوگ گرم راتوں کے مطابق نیند کو بہتر بنانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے قائد اور ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیلٹن مائنر نے کہا کہ ہم سب کے لیے نیند روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے اور ہم اپنی زندگیوں کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں، مگر متعدد ممالک میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مناسب وقت تک سو نہیں پاتے اس تحقیق میں ہم نے پہلی بار ایسے شواہد فراہم کیے ہیں کہ اوسط سے زیادہ درجہ حرارت انسانی نیند کو متاثر کرتا ہے، ہمارے خیال میں تو لوگوں پر اس کے اثرات تحقیق کے نتائج سے زیادہ بدتر ہوں گے۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    محققین نے پایا کہ گرم راتوں کا نیند پر اثر تمام ممالک میں دیکھا گیا، چاہے وہ قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو یا گرم موسم، جب رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے تو اس کا اثر واضح ہوتا ہے غریب ممالک میں لوگ زیادہ نیند کھو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھڑکیوں کے شٹر، پنکھے اور ایئر کنڈیشننگ جیسی ٹھنڈک خصوصیات تک رسائی کم ہے۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمیں یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ پہلے سے ہی گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگوں کو درجہ حرارت میں اضافے کے حساب سے زیادہ نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑا،‘‘ مائنر نے کہا۔ "ہم نے توقع کی تھی کہ ان افراد کو بہتر طریقے سے ڈھال لیا جائے گا۔” مزید برآں، اعداد و شمار کے مطابق، لوگوں نے بعد کے اوقات میں نیند پوری نہیں کی۔

    مائنر نے کہا کہ اس تحقیق کے پالیسی سازوں کے لیے اہم مضمرات ہیں، جنہیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت تھی کہ شہروں، قصبوں اور عمارتوں کو گرمی سے اچھی طرح ڈھال لیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے صحت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یوکے حکومت کے سرکاری مشیروں نے 2021 میں خبردار کیا تھا کہ وہ لوگوں کو موسمیاتی بحران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات بالخصوص ہیٹ ویوز سے بچانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    مطالعہ میں استعمال ہونے والا ڈیٹا بنیادی طور پر امیر ممالک سے آیا، حالانکہ اس میں بھارت، چین، کولمبیا اور جنوبی افریقہ سے کچھ شامل تھے۔ کلائی پر پٹیاں ایسے لوگ پہنتے ہیں جنہیں گرم درجہ حرارت کی وجہ سے نیند میں خلل کا خطرہ کم ہوتا ہے، جیسے ادھیڑ عمر، امیر مرد۔

    مائنر نے کہا کہ "کم آمدنی والے لوگوں کو اعداد و شمار میں کم دکھایا گیا ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت شفاف ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جو پہلے ہی دنیا کے گرم ترین علاقوں میں شامل ہیں، جیسے افریقہ، وسطی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے۔ تحقیق نیند کے معیار کا اندازہ لگانے سے قاصر تھی، جیسے کہ نیند کے مختلف مراحل، لیکن لوگوں کی رات میں جاگنے کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    مائنر نے کہا کہ دنیا نے جو راستہ اس لحاظ سے چنا ہے کہ سیارہ کتنا گرم ہے اس کے نتائج ہر ایک کی نیند کے لیے ہوں گے۔”ہمارے فیصلوں، اجتماعی طور پر معاشرے کے طور پر، نیند کے لحاظ سے کی گئی تحقیق پر کافی لاگت آئے گی۔”

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    جاپان: سائنسدانوں نے حمل ضائع کرنے والے جین کا انکشاف اور علاج بھی دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے چوہوں میں حمل ضائع ہونے اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والی ایک اہم جینیاتی کیفیت معلوم کرلی ہے اور اس کا علاج بھی معلوم کیا ہے یہ جین ایکس کروموسوم میں پایا جاتا ہے اور اگر اس کی سرگرمی کو دبادیا جائے تو وہ مردہ بچے کی وجہ بن سکتا ہے یہ جین بیضے سے اگلی نسل تک جاتا ہےاوراس میں ڈی این اے سے وابستہ ایک پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہےدوسری جانب یہ بچے کی نشوونما میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

    جاپان کے مشہور رائکن سینٹر سے وابستہ میٹابولک ایپی جنیٹکس سے وابستہ تجربہ گاہ میں اس کا انکشاف ہوا ہے تحقیق کے سربراہ ازوسا انوئی کے مطابق اس تحقیق سے بے اولادی اور بچوں کی نشوونما کے مسائل کو نئے سرے سے جاننا ممکن ہوگا۔

    یہ جین نان کوڈنگ آراین اے پر مشتمل ہے جو ایک کروموسوم میں پایا جاتا ہے اور اسے Xist کا نام دیا گیا ہے ہم جانتے ہیں کہ دو طرح کے کروموسوم نارمل انداز میں ملیں تو حمل ٹھہرتا ہےان میں ایکس وائی اور ایکس ایکس کروموسوم کے جوڑے بنتے ہیں۔

    یوں ماں اور باپ کے جنسی کروموسوم کی جوڑوں میں سے ایک ہی آگے بڑھ کر ملاپ کرتا ہے تو کبھی مردانہ اور کبھی زنانہ جین حاوی ہوتاہے اسی سے بچے کی جنس کا تعین بھی ہوتا ہے ماہرین نے چوہوں میں ایسی جینیاتی سرگرمی دیکھی ہے جس میں بالخصوص نربچوں کی موت ہوجاتی ہے یا وہ مردہ پیدا ہوتے ہیں دوسری جانب مادہ کی آنول نال بھی غیرمعمولی بڑھی ہوئی دیکھی گئی ہے۔پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس عمل میں Xist کی سرگرمی بھی رک جاتی ہے جو مادہ کی جانب سے آتا ہے۔

    پھر ماہرین نے باری باری کئی جین کو بے عمل کرکے یا خارج کرکے دیکھا کہ اس سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب جیسے ہی Xist کو بحال کیا گیا تو چوہوں میں اسقاط کا عمل رک گیا اور معلوم ہوا کہ اگر اس جین کو سرگرم رکھا جائے تو حمل گرنے کا رحجان کم ہوجاتا ہے۔ عام حالات میں اسے Xist کی ناکارہ امپرنٹنگ کا نام دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے چوہوں ترقیاتی نقائص کا علاج کرنے میں کامیاب ہو گئے جو دوسری صورت میں ماؤں کی جانب سے نسل نو سے متعلق ایپی جینیٹک ہدایات کی کمی کی وجہ سے قبل از پیدائش مہلکیت اور نال کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں-

    محققین اس بات کا تعین کرنے کے لیے مزید تجربات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ جب انڈے کے خلیے بنائے جاتے ہیں تو یہ مخصوص حیاتیاتی ہدایات کیسے قائم ہوتی ہیں، اور کیا ماحولیاتی عوامل اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    تاہم انسانوں پر اس کے اطلاق کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے لیکن انسانی ادویہ پہلے چوہوں کو ہی دی جاتی ہیں اور چوہے طبی تحقیق میں ہمارے بہترین دوست اور معاون بھی رہے ہیں۔

  • پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    طبی تحقیقی ماہرین نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطیس کے مرض میں مبتلا نوجوان مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت ناصرف موٹاپے کا شکار ہے بلکہ ان میں سے اکثر سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    کراچی میں منعقدہ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے منعقدہ تیسری سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کراچی میں ذیابیطیس یا شوگر کے نئے مریضوں اوسط عمر 30 سے 35 سال ہے، جن کی اکثریت یعنی 77 فیصد مریض موٹاپے کا شکار ہیں-

    تحقیق کے مطابق شوگر کے مرض کا شکار نوجوان اور جوان مریض نہ صرف ان کنٹرولڈ شوگر یا شوگر کی زیادتی کا شکار پائے گئے بلکہ ان کے خاندان میں بھی شوگر کا مرض پایا گیا جس کی وجہ سے ان میں جلد دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں۔

    کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کرنے پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ عسکری کو کانفرنس کے دوران پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    دوسری جانب ایک دو نہیں بلکہ 11 تحقیقی مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ اگر موٹے افراد صرف تین ماہ تک اپنی غذا میں سبزیوں کی شرح بڑھادیں تو مثبت اثرات صرف تین ماہ میں ہی سامنے آسکتے ہیں اس سے نہ صرف وزن میں کمی ہوتی ہے بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی قابو میں آجاتی ہے اس ضمن میں 18 برس یا اس سے زائد عمر کے 800 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں پہلے سے ہی کئے گئے سروے کا دوبارہ جائزہ (میٹا اینالِسس) کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات بہت جلد ہی موٹاپے کی یورپی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

    کوپن ہیگن میں واقع اسٹینو ڈائبیٹس سینٹر کی ماہر اینی ڈیٹے ٹرمانسن اور ان کے ساتھیوں نے تمام ڈیٹا جمع کرکے اس کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اسے شائع بھی کرایا ہے۔

    تاہم یہاں سبزیوں والی غذاؤں کا مطلب، پھل، دالیں، لوبیا، اور گری دار پھل ہیں انہیں کھانے سے ٹرائی گلائسرائیڈ یا بلڈ پریشر پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن طویل مدتی استعمال سے کچھ اورنتائج ملے ہیں۔ اس ضمن میں مارچ2022 تک انگریزی زبان میں شائع شدہ تمام تحقیقات کو شامل کیا گیا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس ڈیٹا میں 800 سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئیں جن میں دل اور ذیابیطس کی وجہ بننے والے بایومارکرز یعنی وزن، بی ایم آئی، خون میں گلوکوز کی مقدار، بلڈ پریشر، ہر طرح کا کولیسٹرول اور دیگر چکنائیاں یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز شامل تھے۔ تقریباً ساری تحقیقات میں ہی شرکاکو دو گروہوں میں بانٹا گیا تھا جن میں عام گروپ کے لوگوں کو ان کی مرضی کی غذائیں کھانے کی آزادی تھی جبکہ کنٹرول گروپ کے شرکا کو پھل اور سبزیوں پر مشتمل غذائیں دی گئی تھیں۔

    ماہرین نے 12 ہفتے یعنی تین ماہ تک سبزیاں کھلائیں تو اکثر افراد کے وزن میں پانچ کلوگرام تک کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح خون میں شکر کی مقدار بہتر ہوئی، کولیسٹرول قابو میں آیا اور بی ایم آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔

    جبکہ عام غذا استعمال کرنے والے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بڑھے ہوئے وزن کے شکار اور خود ذیابیطس کے کنارے پہنچنے والے افراد اب بھی پھل اور سبزیوں کو اپنی غذا میں شامل کرکے اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • سفید لوبیا کا وائرس، سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت

    سفید لوبیا کا وائرس، سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت

    نیویارک: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سفید لوبیا پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچانے والا وائرس سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے مالیکیولر فارماسیوٹکس میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق جب اس وائرس کو سرطانی رسولیوں میں داخل کیا گیا تو اس نے اندر کا امنیاتی نظام سرگرم کردیا اور کینسر کا پھیلاؤ رکنے لگااسے انگریزی میں کاؤپی وائرس کہا جاتا ہے –

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    عام حالات میں یہ سفید لوبیا کے پتوں کو نشانہ بناتا ہے لیکن ایک پودے کا وائرس اب جانوروں اور انسانوں کے لیے شفا بن سکتا ہے اور عام حالات میں بھی انسانوں کے لیےبےضرر ہوتا ہے تاہم اس کام میں کئی سائنسداں شریک ہیں جن میں خردحیاتیات، نینوٹیکنالوجی، سرطان اور بایوٹیکنالوجی کے ماہرین قابلِ ذکر ہیں۔

    جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    جامعہ کلیفورنیا، سان ڈیا گو اورڈارٹ ماؤتھ کالج کےساتھیوں نے سات سالہ تحقیق کے بعد وائرس کو نینوذرات میں تقسیم کیا اسے کینسر امیونوتھراپی سے گزارا تو چوہوں اور کتوں پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب ہوئے نہ صرف یہ سرطانی رسولی میں داخل ہوکر اس کا علاج کرتا ہے بلکہ جسم کے اندر اپنا اثر بڑھا کر مستقبل کے سرطانی حملوں کو بھی پسپا کرسکتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یہ تحقیق کاؤپی وائرس نینوذرات کو مستقبل کی بہترین امینوتھراپی بناتی ہیں جیسے ہی اس کے نینوذرات کینسر ذدہ خلیات میں جاتے ہیں بدن کا دفاعی نظام خود کینسر کا دشمن بن جاتا ہے اسے مختلف اقسام کے سرطان پر آزمایا گیا ہے چوہوں کو جب جب جلد کے کینسر، بیضہ دانی، چھاتی، آنت اور دماغی کینسر میں مبتلا کیا گیا وائرس ان سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوا صرف یہی نہیں بلکہ یہ وائرس پورے بدن میں ہرطرح کی سرطان کے خلاف ایک دفاعی لہر پیدا کرتا ہے جو بہت خوش آئند بات بھی ہے۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

  • موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    طبی و غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے احتیاط سے غذا لینے کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب دن لمبے ہوتے ہیں اور زیادہ درجہ حرارت اورنمی آپ کےخون میں شوگرکی سطح پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اچھی طرح سےہائیڈریٹ ہونا، نشاستہ دار کھانوں سے پرہیز اور زیادہ فائبر والی غذا ذیابطیس کے شکار لوگوں کو گرم موسم میں صحت مند رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    پانی کی مناسب مقدار کے علاوہ ناریل کا پانی اور کھیرے کا جوس گرمیوں کی خوراک میں صحت بخش اضافہ ہیں ماہرینِ غذائیت نے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے موسم سرما کی مفید مشروبات، پھل اور سبزیاں بتائی ہیں۔

    مشروبات: شوگر فری لیموں پانی ، ناریل پانی ، تازہ پھلوں کا جوس ، ہربل چائے ، سبز یا کالی شکر کے بغیر چائے ، کھیرے کا جوس

    پانی کی کمی خون میں شوگر کی سطح کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ پانی ہاضمے میں بھی مدد کرتا ہے، جسم سے فضلہ کو صاف کرتا ہے اور بہت کچھ۔ پانی کی کمی کسی کی جسمانی صلاحیت اور دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    ذیابطیس کے مریضوں کے لیے، غیر نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خون میں شوگر کی سطح کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے سبزیاں اور نشاستہ دار سبزیاں صحیح خوراک پیش کرتی ہیں، جو ورزش کے ساتھ ساتھ صحت مند طرز زندگی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ فائبر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے تازہ سبزیاں بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

    سبزیاں: پالک ، بروکولی ، چقندر ، گوبھی ، پھلیاں

    پھل: اسٹرابیری ، بلیک بیریز ، بلیو بیریز ، نارنجی ، آڑو ، بیر ، ناشپاتی

    زیادہ تر تازہ پھل خون میں گلوکوز کی سطح میں تیزی سے اضافے کا سبب نہیں بنتے ہیں جیسا کہ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل کھانے کی اشیاء جیسے روٹی۔ آپ کی گرمیوں کی خوراک میں فائبر سے بھرپور پھل جیسے کیلے، سیب اور یہاں تک کہ بیر کو شامل کرنا صحت کے لئے مفید رہے گا تازہ سبزیوں کا سلاد مفید ہوتا ہے-

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے