Baaghi TV

Category: خواتین

  • آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں آواز کی لہروں سے کینسر کے علاج کا تجربہ ناصرف کامیاب رہا بلکہ کینسر زدہ پھوڑوں کے دوبارہ نمودار ہونے کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

    باغی ٹی وی : مشی گن یونیورسٹی میں چوہوں پر آواز سے کینسر کے علاج کا تجربہ کیا گیا ہے یہ غیرتکلیف دہ تھراپی ہے جس میں چوہوں کو پہلے جگر کے سرطان کا مریض بنایا گیا۔ پھر ان رسولیوں کا آواز کی لہروں سے علاج کیا گیا۔

    جب رسولیوں کی مناسب تعداد غائب ہوئیں توجگر فعال ہوگیا اور اس کا قوتِ مدافعی نظام جاگ اٹھا اوراس نےباقی بچ جانے والے رسولیوں کو ختم کردیا ، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بیماری نے ان چوہوں پر دوبارہ حملہ بھی نہیں کیا۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    اس حوالے سے زین ژو جوکہ جامعہ مشی گن میں بایو میڈیکل انجنیئرنگ کے ماہر ہیں، ان کا کہنا کہ ہم آواز کی لہروں سے رسولیوں کا مکمل خاتمہ کرسکتے ہیں کیونکہ جیسے ہی جگر کے اوپر کے سرطانی پھوڑے 50 سے 75 فیصد تک کم کردیئے جائیں تو مدافعتی نظام باقی بچ جانے والی رسولیوں اور سرطانی خلیات کو خود بخود ہی ختم کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ 80 فیصد چوہوں کو دوبارہ کینسر نہیں آیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کو ہسٹوٹرپسی کا نام دیا گیا ہے جس میں آواز کی لہروں سے ملی میٹر درستگی تک سرطانی پھوڑوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ انسانوں پر بھی اسے آزمایا گیا ہے لیکن ان کے نتائج میں ابھی وقت لگے گا۔

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    اگرچہ علاج کے دوران رسولیوں کو مکمل طور پر ختم نہ کرنا بظاہر عقلمندی کی بات نہیں ہے لیکن رسولی جسم میں کس جگہ موجود ہے ان کا سائز یا وہ کس درجے پر پہنچ چکی ہے، یہ ساری پیچیدگیاں آواز کی لہروں سے رسولیوں کے مکمل خاتمے کو ناممکن بنا دیتی ہیں-

    اسی لیے محققین نے 70 سے 75 فیصد رسولیوں کے خاتمے کے بعد مدافعتی نظام کے باقی بچ جانے والی رسولیوں پر اثر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اس ٹیکنالوجی کو انسانوں پر بھی آزمایا گیا ہے لیکن انسانوں پر کیے گئے اس تجربے کے نتائج سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    رمضان المبارک کے مہینے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان کھجوروں سے روززہ افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل اپنے اندر بھر پور غذائیت رکھتا ہے-

    قرآن پاک میں اس کا ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر آیا ہے، تاریخوں کے حوالے سے متعدد احادیث بھی ہیں حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    کھجور کو سپر فوڈز کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں اور اس کی غذائیت کی وجہ سے بہت سے لوگ افطار کے ساتھ ساتھ سحری میں بھی کھجور کھاتے ہیں۔

    ماہرینِ غذائیت کے مطابق کھجور میں کئی طرح کے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں اس میں کیلوریز، فائبر، پروٹین ہوتے ہیں معدنیات میں پوٹاشیم، میگنیشیم شامل ہیں وٹامن بی اور آئرن پر مشتمل ہے-

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    کھجور کا باقاعدگی سے استعمال کینسر کے امکانات کو بہت حد تک کم کرتا ہے ، دل کے مسائل پر قابو پانے میں کھجور کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کھجور دماغی صحت کے لیے بہت اچھی ہے کھجور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہے یہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے –

    دنیا بھر میں اس لذیذ پھل کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند اور غذائیت سے بھرپور ہے، مصر آج دنیا میں کھجور کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔

  • افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    تربوز ایسا پھل ہے جو درجہ حرارت بڑھنے پر جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اسے دیکھنا ہی ذہن کو تروتازہ کردیتا ہے جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تربوز میں موجود اجزا جیسے لائیکوپین، پوٹاشیم اور فائبر سمیت دیگر مختلف فائدے پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔

    گرمیوں کے موسم میں روزے کی وجہ سے انسانی جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے، تاہم تربوز کو افطاری کا حصہ بنانے سے نہ صرف اپنے جسم میں پانی کی مقدار کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ کئی طرح کے فوائد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

    پانی کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث تربوز ہیٹ اسٹروک سے بچاتا ہے، یہ ان چند پھلوں میں سے ایک ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے جبکہ گرمی سے جلن کے احساس پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے تربوز وٹامن بی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں توانائی کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں مگر توانائی زیادہ، جو دن بھر جسمانی طور پر متحرک رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

    تربوز میں موجود پوٹاشیم دن بھر کی مصروفیات کے باوجود تھکاوٹ کے احساس کو دور رکھتا ہے علاوہ ازیں پوٹاشیم جسم میں کیلشیئم کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کہ مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری جز ہے۔

    تربوز میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین جسم کو نزلہ زکام اور فلو سے لڑنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں میں دمہ کی علامات کو بھی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

    تربوز میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اس کے علاوہ تربوز میں موجود فائبر بھی ہاضمے کی کارکردگی بڑھاتا ہے جبکہ قبض کی روک تھام کرتا ہےتربوز پیشاب کی روانی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے مگر گردوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی طرح یہ پھل جگر کے افعال جیسے امونیا کے اخراج میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس میں خرابی کی صورت میں اضافی سیال مواد بڑھتا ہے اور گردوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔

    تربوز میں موجود لائیکو پین خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے جبکہ یہ ہڈیوں کی صحت کو بھی بہتر بنا ہے تربوز کا زیادہ استعمال خون کی شریانوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے کیونکہ اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کی سطح معمول پر آتی ہے-

    تربوز میں مختلف اجزاءجیسے فلیونوئڈز، کیروٹین اور دیگر شامل ہوتے ہیں، کیروٹین جسم میں ورم کی سطح میں کمی لانے اور مضر صحت اجزاءسے نجات میں مدد دیتا ہے۔ اس میں شامل tripterpenoid بھی ورم کش ہوتا ہے اور ایسے انزائمے روکتا ہے جو کہ جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    دُنیا کے کئی ممالک میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز ہوگیا جبکہ پاکستان میں کل یعنی بروز اتوار کو پہلا روز ہوگا،رمضان کے دوران روزہ رکھنے سے صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے اور روزہ جسم کو نقصان دہ زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے، صحت مند غذائی انتخاب کے نتیجے میں انسان کا میٹابولزم بہتر ہوتا ہے تاہم، افطار کے کھانے کے دوران زیادہ کھانا کھانا یا افطار اور سحری کے درمیان کافی مقدار میں ہائیڈریٹ نہ کرنا صحت کے مسائل یا موجودہ مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر غذائیت کا کہنا ہے کہ سحری کا مقصد ہمیں طاقت، توانائی اور پائیداری فراہم کرنا ہے یہ کھانا صحت بخش اور بھر پور ہونا چاہیے روزے کے دوران سحری جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے جبکہ افطار کا مقصد ہمارے جسم کو دوبارہ توازن اور ریچارج کرنا ہے
    روزے کو بہتر بنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں صحت مند خوراک کو اپنی غذا میں شامل کرنا چاہیے درج ذیل امور کا خیال رکھ کر آپ اس ماہ صیام کی بابرکت سعادتوں کو صحت مند زندگی میں تبدیل کرسکتے ہیں جن میں سبزیاں، اناج، گری دار میوے، پھل اور دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔

    ماہر غذائیت نے تجویز کیا ہے کہ رمضان المبارک میں افطار اور سحر میں وافر مقدار میں پانی پئیں سحری کے وقت خود کو پانی سے بھرلینا بھی کوئی اچھا خیال نہیں۔زیادہ بہتر یہ ہے کہ رات بھر میں اپنے جسم میں پانی کی سطح کو بڑھائیں۔ افطار میں دو گلاس پانی کے ساتھ آغاز کریں! سونے کے وقت تک ہر گھنٹے میں ایک گلاس پانی پیئیں۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    اس طرح آپ کو چھ گلاس پانی پی لینا چاہئے جبکہ سحری کے وقت دو گلاس پی کر آپ دن بھر کے لیے 8 گلاس پانی اپنے جسم کا حصہ بنالیں گے، جو عام طور پر کافی ثابت ہوتے ہیں۔سورج کی روشنی میں زیادہ دیر تک گھومنے سے گریز کریں تاکہ پسینے کی شکل میں جسم میں نمی کی کمی نہ ہو، یاد رکھیں کہ چائے اور کافی جسم کو ڈی ہائیڈریشن کا شکار کرتے ہیں اور یہ آپ کے انتخاب نہیں ہونا چاہئیے۔

    سحری میں متوازن کھانا کھائیں، افطار میں زیادہ سے زیادہ مشروبات لیں، اناج جیسے دلیہ اور جو وغیرہ کا استعمال کریں ،شہد کو لازمی افطار اور سحری میں شامل کریں، بادام، اخروٹ، زیتون اور ایوکاڈو شامل کریں-

    ماہِ رمضان میں مصنوعی کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں ، رمضان میں ڈائٹنگ نہ کریں ، افطار کے فوراً بعد بہت ٹھنڈا اور بہت گرم مشروبات نہ لیں پروسیس شدہ اور پیک شدہ کھانوں سے دور رہیں-

    بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    تلے ہوئی کھانوں سے پرہیز کریں خاص طور پر افطار میں، زیادہ چکنائی اور زیادہ کیلوریز والی غذاؤں سے پرہیز کریں افطار میں پکوڑوں کی بجائے صحت مند چنا چاٹ کو ترجیح دیں جس میں مختلف سبزیاں اور مصالحوں یا دہی بڑے موجود ہوں جو کہ کم تیل والے ہوتے ہیں-

    آپ گوشت کھانے کے شوقین نہیں، تو غذا میں انڈا، دودھ ، گری دار میوے اور دالیں ضرور شامل رکھیے یہ غذائیں ہمیں پروٹین فراہم کرتی ہیں جسم کے خلیے یہی عنصر پاکر اپنا کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔

    رمضان کے دوران قہوہ کے استعمال کے حیرت انگیز فوائد

  • رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی  مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    بیلجیئم:مرکری کو’’سیال چاندی‘‘بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام درجہ حرارت پر مائع حالت میں ہوتا ہے تھرمامیٹر سے لے کر دندان سازی، برقی آلات کاسمیٹکس تک، سینکڑوں مصنوعات و آلات میں مرکری کا استعمال کیا جاتا ہےلیکن ہر شعبے میں پارے کے استعمال کی محفوظ حدود متعین ہیں جن کے حوالے سے عالمی قوانین بھی موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک عالمی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیگر مصنوعات کی بڑی تعداد میں پارے (مرکری) کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے…

    کاسمیٹک مصنوعات میں پارے کی ’’محفوظ مقدار‘‘ ایک حصہ فی دس لاکھ (1 پی پی ایم) یا اس سے کم قرار دی جاتی ہے لیکن 17 ممالک میں کی گئی تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے کی مقدار اس محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔

    تحقیق کیلئے ماہرین نے ایمیزون، ای بے اور علی ایکسپریس سمیت 40 ای کامرس پلیٹ فارمز سے رنگ گورا کرنے والی 271 مصنوعات خرید کر ان کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا۔

    جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 129 مصنوعات میں پارے کی مقدار 1 پی پی ایم کی محفوظ حد سے کہیں زیادہ تھی رپورٹ میں ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ مرکری والی 43 فیصد مصنوعات یا تو پاکستان میں تیار شدہ ہیں یا پھر ان کی پیکنگ پاکستان میں کی گئی ہے ان میں رنگ گورا کرنے والی کچھ مشہور پاکستانی کریموں اور دوسری متعلقہ مصنوعات کے نام بھی شامل ہیں۔

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مصنوعات ایمیزون اور ای بے سمیت، دنیا کے تقریباً تمام بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں جو امریکا سے آسٹریلیا تک 100 سے زیادہ ممالک میں بلا روک ٹوک خریدی جارہی ہیں-

    یہ تحقیقی رپورٹ پارے کی آلودگی کے خاتمے پر کام کرنے والے عالمی ادارے ’’زیرو مرکری ورکنگ گروپ‘‘ نے مختلف ملکوں میں غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون و اشتراک سے شائع کی ہے۔

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

  • رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر ین کا کہنا ہے کہ رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نےحال ہی میں کراچی میں آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 کے دوسرے روز سائنٹیفک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے کیس کم ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے-

    دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرز کی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چکھنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔

    گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بلال جمیل کا کہنا تھا کہ گردوں کی بیماری کا شکار ایسے مریض جنہیں دل کی بیماری بھی لاحق ہو، انہیں روزے رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن صرف گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر مسرت ریاض کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق ایسی حاملہ خواتین جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں اپنی صحت یا اپنے ہونے والے بچے کو کسی طرح کا ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن چونکہ اکثر حاملہ خواتین روزہ رکھنے پر اصرار کرتی ہیں، اس لیے انہیں اپنی گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جو کہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے-

    ہر نمازکے بعد اللہ تعالیٰ کے 3 ناموں کا ورد، داغ دھبے اور دانے ہمیشہ کے لئے ختم

    دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھو کر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا تاہم مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں-

    فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسےمریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

  • دہی خواتین  کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    غذائی ماہرین کے مطابق دہی وٹامن سے بھر پور غذا ہے، دہی میں صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں، طبی لحاظ سے بھی دہی نا صرف خاصا مفید اثرات کا حامل ہے بلکہ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اس کا ایک کپ روزانہ کھانے سے جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 5، آیوڈین اور زنک کی کمی دور ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق دہی کے استعمال سے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ پائی جانے والی بیماری ’اوسٹیو پروسس‘ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے اور طویل عمری میں گھٹنوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دہی کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیلشیم جسم میں موجود چربی کو پگھلاتا اور وزن کو بڑھنے سے روکتا ہے دہی میں چکنائی اور کیلوریز انتہائی کم مقدار میں پائی جاتی ہیں، ایک کپ دہی میں صرف 120 کیلوریز ہوتی ہیں-

    دہی میں دیگر ضروری غذائی اجزاء جیسے کہ پروٹین بھی پایا جاتا ہے جسے انسانی پٹھوں کی نشونما کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے۔دہی کے 100 گرام مقدار میں ہزاروں گُڈ بیکٹیریاز کے ساتھ 59 کیلوریز، 0.4 فیصد گرام فیٹ، 5 ملی گرام کولیسٹرول، 36 ملی گرام سو ڈیم ، 141 ملی گرام پوٹاشیم ، 3.2 گرام شوگر، 11 فیصد کیلشیم ، 13 فیصد کوبالمین، 5 فیصد وٹامن بی 6 او 2 فیصد میگنیشیم پایا جاتا ہے، اسلئے غذائیت سے بھرپور دہی خواتین خصوصاً حاملہ خواتین کے لیے بے حد مفید قرار دیا جاتا ہے ۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    ماہرین کے مطابق دہی میں شامل کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور خصوصاً خواتین کو اِن ہی دو وٹامن اور منرل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کا روز مرہ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ ہڈیوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

    دہی میں موجود خصوصی اینٹی آکسائیڈز جلد کو بہتر نشوونما فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ جلد میں موجود ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ کرتے ہیں دہی میں موجود قدرتی صحت بخش اجزاء کی خصوصات جلد کو صحت مند اور بالوں کو مضبوطی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس میں بڑی مقدار میں (لیکٹک ایسڈ) کی خوبی موجود ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کی نگہداشت وحفاظت کے لیے بہت کارآمد ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دہی میں حیرت انگیزطورپر فری ریڈیکلز کوکنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاؤ کی خصوصیات بھی رکھتا ہے جو جلد پر باریک لکیروں اور جھریوں کو نمودار ہونے سے روکتا ہے دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ قبل ازوقت جلد کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

    جلد کو جھریوں سے دور، جوان، چمکدار کرنے کے لیے ایک چمچہ زیتون کا تیل اور تین چمچے دہی کو مکس کرکے 30منٹ تک چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں اس فیس پیک کو ہفتے میں تین بار ضرور استعمال کرنے سے جلد ملائم، نکھری نکھری تروتازہ ہو جائے گی۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

  • رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    کراچی: معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ذیابطیس میں مبتلا ہونا رمضان کے روزے نہ رکھنے کا جواز نہیں۔

    باغی ٹی وی : اینڈ حج اسٹڈی گروپ کی جانب سے منعقدہ آٹھویں انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2020 کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ماہرین کا کہنا تھا ذیابطیس کے مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد نہایت آسانی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں انھیں ڈاکٹروں اور ماہرین صحت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی گئی اس کانفرنس سے ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبد الباسط، پروفیسر یعقوب احمدانی، پروفیسر اعجاز وہرہ، متحدہ عرب امارات سے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسنین، لاہور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم، برطانیہ سے ڈاکٹر سلمہ مہر، ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر زاہد میاں سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ماہرین صحت کی رائے اور جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس سمیت بلڈ پریشر اور موٹاپے میں مبتلا افراد آسانی سے روزے رکھ سکتے ہیں، بلکہ جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس اور اس طرح کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے رمضان کے روزے رکھنا ان کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شریعت میں ہر طرح کی بیماری میں مبتلا افراد اور ہر طرح کے سفرکرنے والوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ان کا کہنا تھا کہ صرف وہ لوگ جنھیں روزہ رکھنے سےکسی جسمانی ضرر کا اندیشہ ہو انہیں ماہرین صحت کے مشورے کے بعد روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور وہ اس کی قضا ادا کرسکتے ہیں۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہر صحت پروفیسر اعجاز وہرہ کا کہنا تھا کہ روزہ نہ صرف تزکیہ نفس کا ایک اہم ذریعہ اور جسمانی عبادت ہے بلکہ یہ انسانی صحت کیلیے انتہائی مفید عمل ہے، ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے معالج کے مشورے سے روزے رکھنے چاہیے جس کے نتیجے میں ان کی شوگر کا کنٹرول بہت بہتر ہو سکتا ہے، روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر کسی شخص کی شوگر 70 سے کم ہو جائے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جائے، گھبراہٹ ہو اور پسینے آنا شروع ہوجائیں تو ایسے مریض کیلئے روزہ توڑنا جائز ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    معروف ماہر ذیابطیس اور ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ 2008 سے قبل 90 فیصد ماہرین صحت ذیابطیس میں مبتلا لوگوں کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیتے تھے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا اکثر لوگ اس اہم جسمانی روحانی عبادت سے محروم رہ جاتے تھے۔

    پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا وہ پچھلے 14سال سے رمضان اور حج کے حوالے سے ذیابطیس کے مریضوں میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب تک آٹھ کانفرنسز منعقد کروا چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے عوامی آگاہی کے پروگرامات سمیت ڈاکٹروں کی تربیت پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو حج، عمرہ اور رمضان کی عبادات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے لیے مدد فراہم کی جاسکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

  • بالوں کیلئے ملتانی مٹی کے حیرت انگیز فوائد

    بالوں کیلئے ملتانی مٹی کے حیرت انگیز فوائد

    ملتانی مٹی جہاں جِلد کو پُرونق اور خوبصورت بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے وہیں یہ خشک اور خراب بالوں کو گہری کنڈیشننگ سے لے کر سر کی جِلدی خارش کو کم کرنے تک، ملتانی مٹی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    ملتانی مٹی صدیوں سے بالوں کی بہترین صحت اور نشونما کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہے، یہ کیمیکلز سے بھی پاک ہے اور بالوں کے گِرنے اور خشکی سمیت آپ کے بالوں کے تمام مسائل سے نمٹنے کا قدرتی طریقہ ہے۔

    ملتانی مٹی کے چند حیران کُن فوائد:

    ملتانی مٹی اپنی نمی برقرار رکھنے کی خصوصیات کے ساتھ بالوں کی خشکی ختم کرتی ہے، اس کے لیے آپ ایک ماسک بناسکتے ہیں جس سے جلد ہی آپ خشکی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

    سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

    ملتانی مٹی خون کی گردش کو بہتر بنانے کے لیے ایک انتہائی موثر اور طاقتور جزو ثابت ہو سکتی ہے۔ بہتر خون کی گردش کا مطلب ہے صحت مند اور موٹے بال۔ اس کا مطلب بالوں کی بہتر نشوونما بھی ہے۔ بہتر خون کی گردش کا مطلب بالوں کا گِرنا اور گنج پن میں کمی ہے۔

    ملتانی مٹی ناصرف آپ کے بالوں کی نشونما کرتی ہے بلکہ یہ آپ کے بالوں کو اسٹریٹ کرتے ہوئے جڑوں کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ بالوں کو اسٹریٹ کرنے کے لیے اپنا خود کا ملتانی مٹی ہیئر پیک بنائیں کیونکہ اسٹور سے خریدے گئے ہیئر پیک میں دیگر نقصان دہ اجزا ہوسکتے ہیں-

    غذائیں جن کا استعمال موسم گرما میں زیادہ کرنا چاہیئے

    ملتانی مٹی کے چند ہیئر پیکس:

    خشکی ختم کرنے کیلئے: ایک مکسنگ پیالے میں دو کھانے کے چمچ تازہ لیموں کا رس، چار کھانے کے چمچ ملتانی مٹی اور ایک کھانے کا چمچ دہی ڈالیں۔ ان سب کو ایک ساتھ ملائیں جب تک کہ یہ ایک گاڑھا پیسٹ نہ بن جائے اور اسے اپنے بالوں اور سر کی جِلد پر لگائیں۔ اپنے بالوں کو شاور کیپ سے ڈھانپیں اور 30 منٹ تک لگا رہنے دیں، اُس کے بعد بال دھو لیں۔

    لیموں کی اینٹی مائیکروبیل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات خشکی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ سٹرک ایسڈ اور بیکنگ سوڈا کی اینٹی فنگل خصوصیات سے بھرپور، ملتانی مٹی خشکی کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے اور آپ کے سر کی جِلد کو صاف رکھتی ہے۔

    جاوتری کے صحت پر اثرات

    صحت مند سر کی جِلد کیلئے ایک پیالے میں برابر مقدار میں ملتانی مٹی اور ایلو ویرا جیل کو مکس کریں اور اس مکسچر میں لیموں کا رس شامل کریں۔ تمام اجزاء کو اس وقت تک مکس کریں جب تک کہ وہ آپس میں بلینڈ نہ ہوجائیں اور ایک گاڑھا، ہیئر پیک جیسا پیسٹ نہ بن جائے۔ اپنے بالوں کے سیکشن کریں اور برش کا استعمال کرتے ہوئے اس ملتانی مٹی ہیئر پیک کو جڑ سے سرے تک لگائیں، 20 سے 30 منٹ تک یہ پیک بالوں میں لگا رہنے دیں اور پھر ٹھنڈے پانی اور شیمپو سے دھولیں۔

    جھرجھری بالوں کیلئے ایک پیالے میں تقریباً ایک کھانے کا چمچ کالی مرچ پاؤڈر، تین کھانے کے چمچ دہی اور ملتانی مٹی ڈالیں۔ گاڑھا پیسٹ بنانے کے لیے انہیں اچھی طرح مکس کریں اور اسے اپنے بالوں اور سر کی جِلد پر لگائیں۔ اس ہیئر پیک کو آپ کے بالوں پر تقریباً 45 منٹ سے ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں اور بعد میں شیمپو سے دھولیں۔

    گھونگھریالے بالوں کیلئے ایک مکسنگ باؤل میں ایک انڈے کی سفیدی اور برابر مقدار میں ملتانی مٹی اور چاول کا آٹا ڈالیں، انہیں مکس کریں اور پیسٹ بنالیں، اس مکسچر کو اپنے تمام بالوں پر لگائیں اور کچھ دیر کے بعد شیمپو سے دھولیں۔

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

  • عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل

    دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل ہر عالمی دن اور خصوصی مواقع پر ڈوڈل جاری کرتا ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی گوگل نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ڈوڈل جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں خواتین کا دن آج منایا جارہا ہے آج کے دن کی مناسبت سے سرچ انجن گوگل نے بھی ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    عالمی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں بیک وقت منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کے لیے مارچ کے آغاز سے ہی تقریبات کا آغاز ہوجاتا ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

    امریکا سے لے کر یورپ، ایشیا سے لے کر افریقہ تک عالمی یوم خواتین کے دن پر کئی ممالک میں خواتین سڑکوں پر نکل کر نہ صرف ریلیاں نکالتی ہیں بلکہ رقص کرتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔

    عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایات

    جنگ زدہ ممالک سمیت شورش زدہ اور غربت کے مارے ممالک میں بھی خواتین عالمی دن کے موقع پر ریلیاں اور تقاریب منعقد کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

    پاکستان کے شہر لاہور میں عورت مارچ آج دوپہر 2 بجے لاہور پریس کلب سے ایجرٹن روڈ تک ہوگا جس کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے مارچ کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    عالمی یوم خواتین کا آغاز سوا ایک صدی قبل 1909 سے ہوا تھا، اس دن کو منانے کا آغاز 1908 سے قبل امریکی فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور خواتین کی جانب سے اپنی تنخواہ مرد حضرات کے برابر کرنے کے لیے کیے گئے احتجاجوں کے بعد ہوا۔

    خواتین کے احتجاج کے بعد ہی وویمن نیشنل کمیشن بنایا گیا، جس کے ذریعے خواتین کے حقوق کی تحریک چلائی گئی اور پہلی بار فروری 1909 میں عالمی یوم خواتین منایا گیا لیکن بعد ازاں اس دن کو 8 مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ (یو این) نے بھی 1977 میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کی منظوری دی اور تب سے اس دن کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر منایا جانے لگا ہے۔

    خواتین کا کاز اور پاکستان پیپلز پارٹی کا کاز ایک ہے ،بلاول نے عورت مارچ کی حمایت کر دی