Baaghi TV

Category: خواتین

  • ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    عالمی اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ دنیا بھر کی طرح ذیابیطس بھی پاکستان کی وسیع آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے 16-2017 میں ہونے والے ایک قومی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے اس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    ذیابیطس ایسا متعدی مرض ہے جو کہ خون میں شکر کی مطلوبہ حد سے تجاوز کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اثرات کے لحاظ سے نہ صرف مہلک ہے بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن صبح کے وقت ناشتے میں اس غذا سے ذیابیطس اور اس سے قبل کی کیفیت کو بہت حد تک قابو کیا جاسکتا ہے۔

    ذیابیطس کی غذاؤں کی ماہر، ڈاکٹر لورین ہیرس کئی کتابوں کی مصنف ہیں جو کہتی ہیں کہ صبح کے ناشتے میں ریشہ، پروٹین اور لحمیات متوازن ہوں تو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ناشتے میں مکمل دلیہ (اوٹ میل) کو پروٹین بھرے دہی میں ڈال کر کھانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے یہ بطورِ خاص ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے اس کا جادوئی اثر پورے دن خون میں شکر معمول پر رکھتا ہے دلیے میں فائبر کی بھرپور مقدار ہوتی ہے جو ایک کپ میں 8 گرام تک بھی ہوسکتی ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    دنیا کی اکثریت کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ 25 سے 38 گرام فائبر یا ریشے دار غذا کھائے یہ چینی کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور جسم میں انسولین کی پیداوار بھی بڑھاتا ہے اس طرح فائبر کی عادت ٹائپ ٹو ذیابیطس روکنے میں بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔

    دلیے کو دہی میں ملا کر کھانے سے پروٹین کی ضرورت پوری ہوتی ہے جس سے ناشتے کی توانائی حاصل ہوجاتی ہے اس میں مونگ پھلی کا مکھن بھی ڈالا جاسکتا ہے لیکن چینی ملانے سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا پھلی کے علاوہ اخروٹ کا مکھن بھی بہت مفید ہوتا ہے اور اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ موجود ہوتے ہیں۔

    علاوہ ازیں دلیے میں مونگ پھلی، بادام، پستہ اور اخروٹ وغیرہ ملاکر کھانے سے بھی اچھے اثرات مرتب ہوتےہیں ان تمام گریوں میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو انسولین کی تاثیر کو بڑھاتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

  • گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    اگر آپ قدرتی طریقے استعمال کرتے ہوئے فٹ رہنے کی تلاش میں ہیں تو گُڑ کو فوراََ اپنی غذا میں شامل کرلیں گُڑ اپنی قدرتی خصوصیات کی وجہ سے فوری طور پر جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے جو طویل عرصے تک قائم رہتی ہے انرجی بوسٹر کے علاوہ، گُڑ کے نیم گرم پانی کے کچھ بہترین طبی فوائد بھی ہیں اور یہ آپ کی صحت کے لیے حیرت انگیز کام کر سکتے ہیں گُڑ آئرن، اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے، اس لیے یہ آپ کو وزن کم کرنے سے لے کر آپ کے جسم کو گرم رکھنے تک مختلف قسم کے فوائد فراہم کرتا ہے-

    صبح میں گُڑ کا گرم پانی پینے کے فوائد:

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    سرد موسم میں گُڑ کا نیم گرم پانی قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے گُڑ میں موجود وٹامنز اور معدنیات موسمی نزلہ زکام کی علامات کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں اس میں موجود متعدد فینولک مرکبات آکسیڈیٹیو تناؤ سے بہت اچھی طرح لڑ سکتے ہیں او جسم کو آرام پہنچا سکتے ہیں، انفیکشن کے خلاف مزاحمت کو بڑھا سکتے ہیں۔

    گُڑ کی گرمی سردیوں میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ جسم کے درجہ حرارت کو مستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے گُڑ جسم میں گرمی پیدا کر سکتا ہے، جمی ہوئی سردی میں بھی، خون کی شریانوں کو کھولتا ہے میٹابولزم کو بھی بڑھاتا ہے اور جسم سے زہریلے مادوں کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    اگر ہیموگلوبن کی تعداد کم ہے تو قدیم زمانے سے اکثر گُڑ کھانے کا مشورہ دیا جاتا تھا یہ آئرن اور فولیٹ سے بھرپور ہوتا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جسم میں آر بی سی کا شمار اچھی طرح سے برقرار ہے خواہ وہ حاملہ خواتین ہوں، یا خون کی کمی کا شکار افراد، گُڑ کا نیم گرم پانی پینے سے جسم میں ہیموگلوبن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

    گُڑ کے بہت سے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ جسم میں الیکٹرولائٹ کے توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہے جس سے وزن کم ہوسکتا ہے اس کے علاوہ گُڑ ہڈیوں کو مضبوط کرنے، جوڑوں کے درد کو دور کرنے اور ہڈیوں کی بیماریوں کا علاج کرنے اور جسم کو سکون بخشنے کے لیے جانا جاتا ہے پوٹاشیم اور سوڈیم کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے گرم پانی میں گُڑ ملا کر پینے سے جسم میں بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    گڑ کا پانی بنانے کا طریقہ:

    ایک پین میں ایک گلاس پانی گرم کریں اور اس میں گڑ کا 1 انچ کا ٹکڑا ڈالیں۔ اتنا ہلائیں کہ یہ پگھل جائے۔ تھوڑا سا ٹھنڈا ہونے پر چھان کر پی لیں علاوہ ازیں آپ گڑ کو پیس کر باریک پاؤڈر بنا سکتے ہیں اور اسے براہ راست گرم پانی کے گلاس میں ملا سکتے ہیں یاد رکھیں کہ گڑ بہت طاقت ور ہے اور اس میں کیلوری کی مقدار بہت زیادہ ہے اس لیے بہتر ہو گا کہ آپ یہ گڑ ہر دوسرے دن پی لیں یا معمول کے درمیان وقفے وقفے سے وقفہ پئیں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میٹھے مشروب کا ذائقہ بھی اچھا ہے۔

  • فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    لندن: پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد فیٹی لیورکی شکارہے تاہم اب تحقیق سے بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیفیت ایک اور خوفناک اورزندگی بھر ساتھ رہنے والے مرض ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف برونل نے ہزاروں افراد کا جائزہ لیا ہے جس کا موضوع فیٹی لیوراورذیابیطس کے درمیان تعلق دریافت کرنا تھا اس کے لیے سائنسدانوں نے 32859 افراد کے ایم آرآئی اسکین دیکھے جس میں جگرکی جسامت کا بغور جائزہ لیا گیا اور فیٹی لیورکی جینیاتی وجوہ جاننے کی بھی کوشش کی چربی بھرے جگر کے مرض کا پورا نام ’نان الکحلک فیٹی لیورڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی) ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اگر جگر پر چربی 5 فیصد بڑھ جائے تو ذیابیطس کا خدشہ 27 فیصد تک بڑھ سکتا ہے یعنی ثابت ہوا کہ اگرجگرچکنائیوں سے بھرا ہوتو اس سے شوگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    تحقیق کے سربراہ ہینی یاغوٹکر نے اپنے بیان میں کہا ہمارے تحقیقی نتائج بتاتے ہیں کہ این اے ایف ایل ڈی کا علاج کرکے نہ صرف لوگوں کو وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے ذیابیطس کا خطرہ بھی دور بھگایا جاسکتا ہے اگرچہ چربی بھرے جگر کی سب سے بڑی وجہ شراب نوشی ہے لیکن شراب نہ پینے والوں میں بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں تین میں سے ایک فرد اس کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    ذیابیطس کی ماہر ایرن پیلنکسی کہتی ہیں کہ این اے ایف ایل ڈی اور انسولین کی حساسیت کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جگر کو چکنائیوں سے پاک رکھیں کیونکہ چکنائی معمول سے تھوڑی بڑھ جائے تب بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ آگھیرتا ہے۔

    روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے ماہرین

    غذائی ماہرین چکنائیوں، روغنی کھانوں اور کریم بھری کافی سے پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں ورنہ اس سے پہلے جگر متاثر ہوگا اور بعد میں ذٰیابیطس کا عارضہ چمٹ جائے گا اس لیے ضروری ہے کہ پھل، ہرے پتے والی سبزیوں اور دارچینی وغیرہ کے استعمال کو بڑھایا جائے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ماہرین نے کہا ہے کہ جگر کو صاف اور تندرست رکھنے کے لیے پالک، سیب، بیریاں، شاخ گوبھی، مغزیات، دالوں، فائربھری اشیا ضرور استعمال کیجئے اس طرح دوہری بیماریوں کو دور بھگایا جاسکتا ہے۔

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

  • بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    بہترین اوقات جن میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے

    پانی جتنا زیادہ پیا جائے اتنا صحت کیلئے مفید ہے انیسویں صدی کے آغاز تک زیادہ پانی پینا بری بات سمجھا جاتا تھا اونچے طبقے کے افراد زیادہ پانی پینا اپنی توہین سمجھتے تھے انہیں لگتا تھا کہ پیٹ کو پانی سے بھرنا تو غریبوں کا کام ہے۔ وہ ایسا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

    تاہم آج کل دنیا بھر میں خوب پانی پیا جاتا ہے۔ امریکہ میں بوتل بند پانی کی مانگ سوڈے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ دن رات لوگوں کو خوب پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے زیادہ پانی پینے کو اچھی صحت کا راز اور خوبصورت جلد کی وجہ بتایا جا رہا ہے اس کے علاوہ زیادہ پانی پی کر کینسر اور وزن سے چھٹکارے کے نسخے بھی عام ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    سنہ 1945 میں امریکہ میں فوڈ اینڈ نیوٹریشن بورڈ آف نیشنل ریسرچ کونسل نے بڑوں کو مشورہ دیا کہ انہیں ہر کیلوری کو ہضم کرنے کے لیے ایک ملی لیٹر پانی پینا چاہیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ دن میں دو ہزار کیلوری لینے والی خاتون ہیں تو آپ کو دو لیٹر پانی پینا چاہیے۔ ڈھائی ہزار کیلوری لینے والے مردوں کو دو لیٹر سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔

    اس میں صرف سادہ پانی شامل نہیں ہے بلکہ پھلوں، سبزیوں اور دوسری پینے کی چیزوں سے ملنے والا پانی بھی شامل ہے۔ پھلوں اور سبزیوں میں 98 فیصد تک پانی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانی جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہمارے جسم کے کل وزن کا دو تہائی حصہ پانی ہی ہوتا ہے۔ پانی جسم سے خراب عناصر کو باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    ہمارے جسم کا درجہ حرارت درست رکھنے کے لیے، جوڑوں کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے علاوہ بھی پانی کئی اہم کام کرتا ہے۔ جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں ہم پسینے، پیشاب اور سانسوں کے ذریعہ پانی جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں بے حد ضروری ہے کہ ہم جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔

    معروف میڈیکل نیوز ویب سائٹ WebMD کے مطابق 24 گھنٹوں میں کچھ اوقات ایسے ہیں جس میں پانی پینا انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے دن و رات کے ان اوقات میں پانی پینے کا فائدہ دوچند ہوجاتا ہے-

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    جب آپ کو بھوک لگ رہی ہو تو کھانا کھانے سے پہلے پانی پیئں ، جب آپ سو کر اٹھیں: کیونکہ طویل نیند کی وجہ سے آپ کا جسم ایک طرح سے روزے کی حالت میں ہوتا ہے، نہ کچھ کھایا گیا ہوتا ہے اور نہ پیا؛ جب بھی پسینے آنا شروع ہوں تو ایسی حالت میں زیادہ دیر بغیر پانی کے رہنا طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    ورزش سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد پانی پیئں طبیعت خراب ہونے کے دوران جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنا ہی بیماری سے افاقے کی کنجی ہے۔ اسہال، اُلٹی، بخار وغیرہ جسم سے پانی کی سطح کو کم کردیتے ہیں، جب آپ ہوائی جہاز میں ہوں جی ہاں! جتنی زیادہ اونچائی ہوگی ہوا میں نمی کا تناسب اتنا ہی کم ہوگا جسکی وجہ سے جہاز کی اندرونی ہوا خشک رہتی ہے کوشش کریں پانی کی بوتل اپنے ساتھ رکھیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    خواتین کیلئے مخصوص ایام کے آغاز میں جو درد کی لہریں اٹھتی ہیں یہ dehydration کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اگر حیض سے پہلے ہی زیادہ مقدار میں پانی پینا شروع کردیا جائے تو اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔

    بعد دوپہر کے ہم میں سے اکثریت اپنی توانائی کسی نہ کسی کام یا سرگرمی میں صرف کرچکی ہوتی ہے تھکاوٹ محسوس ہورہی ہوتی ہے۔ ایسے میں کافی یا چائے پینے کے بجائے پانی پی لیا جائے تو وہ زیادہ فائدہ مند ہے ،سر میں درد ہونے کی سب سے عام وجہ پانی کی کمی ہی ہے دماغ کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔

    وزن گھٹانے کی پلاننگ میں پانی صرف پیٹ بھرنے والی کیلوری فری شے ہی نہیں بلکہ یہ ہاضمہ بھی اچھا کرتی ہے پانی جسم میں موجود چربی کو گُھلانے کے عمل کو تیز بھی کرتا ہے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • فاسٹ فوڈ کے فوائد

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    فاسٹ فوڈ ایک ایسا تیار کھانا ہوتا ہے جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بہت جلدی تیار شدہ حالت میں پیش کیا جا سکے دیگر کھانوں کےمقابلے میں یہ خوراک عام طور پر کم غذائیت کی حامل مگر مہنگی ہوتی ہے۔ آج کل لوگوں ، بالخصوص نوجوان طبقے اور بچوں، میں فاسٹ فوڈ کھانے کا رجحان بڑھتا جا رہاہے۔

    فاسٹ فوڈ کو جہاں انسانی صحت کے لئے نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے وہیں اس کے فوئد بھی ہیں فاسٹ فوڈ کے فوائد زیادہ تر اس کی سہولت سے متعلق ہیں جن میں ٹائم کی بچت ،کچھ نہ ہونے سے ہونا بہتر،کم پیسوں میں زیادہ کیلوری کی مقدار حاصل کرنا وغیرہ-

    دماغی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں

    تاہم کبھی کبھار فاسٹ فوڈ کھانے سے آپ کی غذا پر لازمی طور پر اثر نہیں پڑے گا جب تک کہ آپ ان غذاوں سے پرہیز کریں جن میں کیلوری اور غیر صحت بخش چربی زیادہ ہوتی ہے کبھی کبھار فاسٹ فوڈ کھانے سے آپ کی غذا پر لازمی طور پر اثر نہیں پڑے گا جب تک کہ آپ ان غذاوں سے پرہیز کریں جن میں کیلوری اور غیر صحت بخش چربی زیادہ ہوتی ہے۔ عملدرآمد شدہ اقسام پر پورا کھانا کھائیں اور جب بھی ممکن ہو کچی سبز کا انتخاب کریں تاکہ تیار کھانے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکے زیادہ تر ایسے کھانوں کو پسند کیا جاتا ہے جو جلدی سے تیار اور پیش کی جاسکتی ہیں-

    ناشتے میں کی جانے والی چند غلطیاں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں

    فاسٹ فوڈ کے فوائد:

    بعض لوگوں کے معمولات بہت ٹف ہوتے ہیں جس کے دوران ان کے پاس کھانے کا بھی وقت نہیں ہوتا جس سے کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے ایسے میں فاسٹ فوڈ بڑا فائدہ دیتا ہے کھانا تیار ہونے میں وقت بھی کم، کیلوریز بھی زیادہ اور بھوک بھی مٹ جاتی ہے،اگر کم پیسوں میں زیادہ کیلوری کی مقدار کو دیکھا جائے تو فاسٹ فوڈ ابھی بھی سب سے سستا کھانا ہے۔ تاہم دن میں تینوں ٹائم فاسٹ فوڈ لینا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ایسی غذائیں جو عمر سے پہلے بوڑھا کرتی ہیں

    فاسٹ فوڈ کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کھانے میں کیا ملنے والا ہے اور اس پر خرچہ کیا آئے گا اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بہترین سروس بھی مل جاتی ہے جو عمومی طور پر گھروں میں دستیاب نہیں ہوتی۔

    خشک جلد اور چہرے کی رنگت نکھارنے کے لئے بہترین ماسک

    دن کے کچھ اوقات ایسے مخصوص ہوتے ہیں جن میں اگر کھانا بھی پکایا جائے تو کئی کام ادھورے رہ جاتے ہیں، مثلاً اسکولوں کی چھٹی کے وقت اور اس کے بعد یعنی رات تک کا انتظام کرنا۔ ایسے وقت میں دوپہر کا کھانا تیار کرنا بھاری پڑسکتا ہے، لہٰذا فاسٹ فوڈ یہاں بھی بہت سی آسانیاں پیدا کردیتا ہے۔

    روزمرہ زندگی میں کھائی جانے والی غذائیں جو دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں

    غذائیت کا مکمل علم ہونا بھی اس کا بڑا فائدہ ہے کیونکہ اکثر بین الاقوامی فاسٹ فوڈز چینز آپ کو اپنے مینو میں تمام کھانوں میں موجود غذائیت سے آگاہ کرتی ہیں مثلاً فلاں برگر میں کتنی کیلوریز اور کاربوہائڈریٹس موجود ہیں۔

    ڈائٹنگ کے دوران کی جانے والی غلطیاں

  • حکومت غیر متعدی بیماریوں  سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے     ماہرین

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض سے جاں بحق اور معذور ہوجانے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ان سے بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ملکی و غیر ملکی ماہرین صحت نے پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی 19ویں سالانہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سوسائٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کینسر سمیت گردوں کی بیماریوں کے سیلاب کا خطرہ ہے اور اگر فوری طور پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان میں نوجوان افراد میں مرنے اور معذور ہونے کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا ڈاکٹروں کی تنظیمیں تحقیق اور شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس کام کے لیے تعاون نہیں کریں گی غیر متعدی امراض سے بچاؤ ممکن نہیں ہے اب وقت آگیا ہے کہ ذیابیطس اور دل کی بیماریوں پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی حفاظتی ٹیکہ جات اور متعدی امراض سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہے، پاکستان کے ہسپتالوں میں اتنی سکت نہیں ہے کہ بڑھتے ہوئے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد نے کہا کہ 3 کروڑ 30 لاکھ ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ پاکستان میں دل، گردوں اور آنکھوں کی بیماریوں کے افراد کی تعداد کروڑوں میں پہنچ جائے گی جس سے نمٹنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امپیریل کالج لندن کے ذیابیطس سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر نیاز خان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کی اوسط عمر باقی لوگوں کے مقابلے میں 10 سال کم ہوتی ہے جبکہ ایسے مریضوں میں دل کی بیماریوں کی شرح دگنی ہوجاتی ہے۔

    دبئی ذیابیطس سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر حامد فاروقی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران ٹیکنالوجی کی مدد سے ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال کی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ سکیں ٹیلی میڈیسن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ذیابیطس سمیت دیگر نان کمیونیکیبل ڈیزیز (متعدی امراض) میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    کانفرنس سے برطانوی ماہر رچرڈ کوئنٹن سمیت دیگر ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے خطاب کیاماہرین نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے۔

    کانفرنس کے دوران مختلف اداروں اور پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے مابین باہمی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

  • ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے     تحقیق

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موٹاپے، انسولین کی حساسیت یا ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا خواتین میں دیگر کے مقابلے میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق موٹاپے، انسولین کی حساسیت یا ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا خواتین میں دیگر کے مقابلے میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اگرخاتون سُن یاس (مینوپاز) کا شکار ہو تو چھاتی کے سرطان کے خدشات مزید بڑھ سکتے-

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    فربہ خواتین میں استحالہ (میٹابولزم) اور سوزش جیسی کیفیات بڑھ جاتی ہیں لیکن اب بھی اس پورے عمل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر جیرالڈ اور پروفیس شپلے نے انکشاف کیا ہے کہ ایکسوسومز( کئی اقسام کے خلیات کے میں موجود سوراخ سے خارج ہونے والے معائات) بریسٹ کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور اسے مزید پیچیدہ بناکر علاج کو ناممکن بناتے ہیں اپنی خاص کیفیات کی بنا پر ذیابیطس اور موٹاپا خواتین میں پیچیدہ قسم کا بریسٹ کینسر پیدا کرسکتا ہے جو ہماری تمام موجودہ ادویہ کو بھی ناکام بنا سکتا ہے۔

    روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے ماہرین

    ان میں سے ذیابیطس کو بڑھانے والے عوامل برسٹ کینسر کو بھی بڑھاتے ہیں پھر خون میں گلوکوز، اے ون سی کی بڑھی ہوئی سطح، کولیسٹرول اور دل کے امراض کے طبی عوامل یعنی سی آرپی وغیرہ مل کر چھاتی کے سرطان کے خدشات کو مزید بڑھاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ سرطان کے ماہرین نے اب تک اس پر دھیان نہیں دیا ہے۔

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

    انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں سائنس داں بڑے پیمانے پر خواتین کا سروے کریں گے تاکہ اس مفروضے کی حمایت یا رد میں کوئی بات سامنے آسکے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

  • فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک، انہیں کیسے محفوظ رکھا جائے؟

    فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک، انہیں کیسے محفوظ رکھا جائے؟

    فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ درحقیقت، آلودگی بڑوں کے مقابلے بچوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ ان کے جسم کے اہم اعضاء یا پھیپھڑوں کی نشوونما جاری ہے بالغوں کے مقابلے بچوں میں سانس کے مسائل بہت آسانی سے پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، ایسے وقتوں میں، جب اردگرد کی ہوا بہت آلودہ ہو، بچوں کا زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

    فضائی آلودگی س محفوظ رکھنے کیلئے بچوں کو چہرے کے ماسک پہننے کی ترغیب دیں،جب بھی آپ کے بچے گھر سے باہر نکلنے والے ہوں تو انہیں ماسک پہننے کو کہیں نیز ان کو اس کی اہمیت بھی سمجھائیں۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    بچوں کو باہر کی آلودگی سے بچانا چاہیے کیونکہ یہ ان کی صحت پر مضر اثرات مرتب کر سکتا ہے انہیں آلودہ ہوا کے رابطے میں آنے سے روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انہیں زیادہ تر وقت گھر کے اندر رکھا جائے، آپ انہیں ان کی پسند کے کچھ تخلیقی آرٹ ورک میں مصروف کر سکتے ہیں۔ جب بچے گھر پر ہوں تو یقینی بنائیں کہ وہ صرف ٹی وی یا موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھنے کے بجائے فیملی کے ساتھ معیاری وقت گزار رہے ہیں۔

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    گھر کے اندر فضائی آلودگی کو کم کرنے اور صاف ہوا کو سانس لینے کے لیے اپنے گھر میں ایلو ویرا، اسپائیڈر پلانٹ، بانس کھجور اور دیگر مختلف پودے رکھیں۔

    بچوں کو فضائی آلودگی کے منفی اثرات سے بچانا ہے تو آپ کو ان کی خوراک کا خیال رکھنا ہوگا۔ آپ کو بچوں کی خوراک میں زیادہ وٹامن سی شامل کرنا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے سبزیاں کھائیں جیسے ساگ، گوبھی وغیرہ۔ انہیں آملہ، موسمبی یا امرود دیں، یہ وٹامن ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کو فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

  • روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے   ماہرین

    روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے ماہرین

    چینی طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ روزانہ 2 سے 3 کپ کافی یا 3 سے 5 کپ چائے پیتے ہیں، ان میں فالج اور ڈیمنشیا (دماغی بیماریوں کے مجموعے) کا امکان بھی بہت کم رہ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین میں 50 سے 74 سال کی عمر کے صحت مند افراد پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کافی پینا فالج سے متاثر ہونے کے بعد ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے تیان جن میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں یوکے بائیو بینک کے 3 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی، جن کی خدمات 2006 سے 2010 تک حاصل کی گئی اور 2020 تک ان کی مانیٹرنگ کی گئی۔

    ان رضاکاروں نے کافی اور چائے کے استعمال کو خود رپورٹ کیا اور تحقیق کی مدت کے دوران 5079 افراد ڈیمینشیا اور 10 ہزار 53 کو کم از کم ایک بار فالج کا سامنا ہوا۔

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

    تیانجن میڈیکل یونیورسٹی چین کے یوآن ژانگ اور ان کے ساتھیوں نے ان ہی اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا، جس پر انہیں معلوم ہوا کہ روزانہ باقاعدگی سے چائے اور کافی پینے والوں میں یہ مشروبات نہ پینے والوں کی نسبت فالج کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا بہترین اثرات اُن رضاکاروں میں دیکھے گئے جو روزانہ 2 سے 3 کپ کافی، 3 سے 5 کپ چائے یا مجموعی طور پر چائے اور کافی کے 4 سے 6 کپ پیتے ہیں۔

    ان افراد میں فالج کا خطرہ، چائے اور کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں 32 فیصد کم جبکہ ڈیمنشیا کا خطرہ 28 فیصد کم دیکھا گیا چائے اور کافی، دونوں کا اہم ترین مشترکہ جزو ’’کیفین‘‘ ہے جو اعصابی خلیوں اور دماغ کے درمیان پیغام رسانی کی رفتار بڑھاتے ہوئے دماغ کو کو عارضی طور پر تقویت پہنچاتا ہےایک کپ کافی میں اوسطاً 40 ملی گرام جبکہ چائے کے ایک کپ میں 11 گرام کیفین ہوتی ہے۔

    پچھلے دس سال میں مختصر پیمانے پر کیے گئے بعض مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین کا استعمال ڈیمنشیا سے بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے تازہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس میں ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کی ایک وسیع تعداد کو شامل کیا گیا ہے۔

    اگرچہ نئی تحقیق سے بھی ڈیمنشیا اور فالج سے بچاؤ میں کیفین کی اہمیت واضح ہوئی ہے لیکن اب بھی یہ جاننا باقی ہے کہ کیفین کس طرح سے دماغ اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنا کر ہمیں اہم دماغی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ معتدل مقدار میں کافی اور چائے کا الگ الگ یا اکٹھے استعمال فالج اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    اس تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس‘‘ (پی ایل او ایس) نیٹ ورک کے آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

    اس سے قبل جریدے جرنل جے اے سی سی: کلینکل Electrophysiology میں شائع کی گئی 2018 میں آسٹریلیا کے الفریڈ ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چائے یا کافی پینے کی عادت دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے یا کافی میں موجود کیفین مرکزی اعصابی نظام کو حرکت میں لاکر ایڈی نوسین نامی کیمیکل کے اثرات کو بلاک کرتا ہے جو کہ atrial fibrillation یا اطاقی فائبرلیشن کا باعث بنتا ہے ا طاقی فائبرلیشن دل کی دھڑکن کا سب سے عام مرض ہے جس میں دل بہت تیزی سے دھڑکتا ہے اور علاج نہ کرایا جائے تو فالج بھی ہوسکتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کیفین سے دل کی دھڑکن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، تاہم کافی اور چائے وغیرہ اس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور ایڈی نوسین کو بلاک کرنے کی خصوصیت ہے اس حوالے سے روزانہ 3 کپ ان مشروبات کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

  • ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ذیابیطس کا مرض اس وقت وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42کروڑ 22لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق چالیس سال قبل کے اعدادوشمار کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ مرض پہلے کے مقابلے میں چار گنا بڑھا ہے۔ صرف پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد اس مرض کے سبب معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ایک سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کا سبب بننے والی آٹھویں بڑی وجہ ہے اور 2005ء کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    16-2017 میں ہونے والے ایک قومی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔ اس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔

    ذیابیطس ایسا متعدی مرض ہے جو کہ خون میں شکر کی مطلوبہ حد سے تجاوز کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اثرات کے لحاظ سے نہ صرف مہلک ہے بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

    ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں جسمانی محنت کی کمی، موٹاپا اور غیر متوازن غذا شامل ہیں جن کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اس مرض کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 25برسوں میں یہ تعداد 14ملین تک بڑھنے کا امکان ہے۔ ذیابیطس پر مؤثر کنٹرول کے لیے متوازن غذا، منصوبہ بندی، باقاعدہ ورزش اور ادویات کا استعمال ضروری ہے۔

    ذیابیطس کی معروف علامات میں تھکاوٹ کا احساس،بھوک اور پیاس میں اضافہ ، پیشاب کی زیادتی، ہاتھوں یا پیروں کا سن ہونا یا جھنجھناہٹ، انفیکشن کا با ر بار ہونا، بینائی میں دھندلاپن، زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا، خشک کھردری جلد/خارش کا ہونا اور جنسی مسائل شامل ہیں۔ لہٰذا کسی ایک یا زائد علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

    چونکہ ذیابیطس کے بارے میں شوگر ٹیسٹ / سکریننگ سے ہی معلوم ہوتا ہے، اس لیے ایسے افراد جن کی عمر چالیس برس سے زائد ہو، خاندان کے دیگر افراد میں ذیابیطس موجود ہو، خواتین جن کو دوران حمل ذیابیطس ہو چکی ہو، خواتین جنہوں نے 9پونڈ سے زیادہ وزن کے بچے کو جنم دیا ہو اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو احتیاطاًسکریننگ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ بیماری کی صورت میں بروقت علم ہو سکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    ذیابیطس ٹائپ 1۔ بچپن یا اوائل عمری میں ہوتی ہے، اس میں انسولین قدرتی طور پر جسم میں کم پیدا ہوتی ہے ، اس کا علاج انسولین کے بغیر ممکن نہیں۔

    دوسری قسم کو ذیابیطس ٹائپ 2کہا جاتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں میں دس میں سے کم از کم نو ٹائپ 2میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً بڑی عمر کے افراد میں ہوتی ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم میں جسم میں بنتے والی قدرتی انسولین موثر طور پر استعمال نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ سے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

    لو بلڈ شوگر کی علامات میں کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا، جلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپاہٹ محسوس ہونا، چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ، دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا اور مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا شامل ہے ۔اس کا امکان ان مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے جن میں حال ہی میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہو۔ اگر مریض مکمل طور پر ہوش و حواس میں ہو تو اسے کوئی میٹھا مشروب یا کوئی گلوکوز ٹیبلیٹس دینی چاہیے۔

    ذیابیطس کے شکار افراد اکثر اپنے ساتھ گلوکوز کی ڈوز یا کوئی میٹھی چیز رکھتے ہیں، جس کا ڈاکٹر بھی انہیں مشورہ دیتے ہیں۔ اگر مریض کچھ کھانے یا پینے کے بعد فوری طور پر حالت میں بہتری محسوس کرنے لگے تو اسے ایسی غذا دیں جو آہستگی سے کاربوہائیڈریٹ ریلیز کرتی ہو جیسے سینڈوچ، پھل کا ایک ٹکڑا، بسکٹ اور دودھ وغیرہ۔ اس کے بعد مریض کا گلوکوز لیول چیک کریں۔ اگر حالت زیادہ خراب ہونے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    بلڈ شوگر بڑھنے کی علامات میں بہت زیادہ پیاس، بہت زیادہ پیشاب آنا (خاص طور پر رات کو)، وزن میں کمی، جلد پر خارش، زخموں کا دیر سے بھرنا اور مریض پر ہر وقت غنودگی طاری رہنا جو بے ہوشی کا باعث بن جائے شامل ہیں۔ اگر مریض گر جائے اور آپ کو بلڈ شوگر میں اضافے کا شبہ ہو تو فوری طور پر اس کی سانس چیک کرنی چاہیے اور ایمرجنسی طبی امداد کے لیے کال کرنی چاہیے۔ اگر مریض صحیح سانس نہیں لے رہا ہو تو اسے پہلو کے بل لٹا دیں، اس پوزیشن میں اس کی سانس کی گزرگاہ کھل جائے گی۔ اگر وہ پہلو کے بل لیٹ نہیں پا رہا تو اس کے حواس، سانس اور دھڑکن کو چیک کریں۔ طبی امداد کے آنے تک بار بار مریض کو چیک کرتے رہیں۔

    ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتائے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
    ذیابطیس کے مریضوں کیلئے کونسے پھل مفید ہیں؟
    ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    یہاں ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتا رہے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    سبز سیب:
    سبز سیب ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سُپر فوڈ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پھل زنک، آئرن اور دیگر ٹریس میٹلز سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ سبز سیب میں چینی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ سُرخ سیب کا انتخاب نہ کریں کیونکہ ان میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

    موسمبی:
    سائٹرک پھل ذیابیطس پر حیرت انگیز کام کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر موسمبی میں گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ موسمبی وٹامن سی، فلیوونائڈ اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔

    ناشپاتی:
    ناشپاتی کا گلائیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، اس لیے یہ خون میں شوگر کی سطح کو جلدی نہیں بڑھا سکتا۔ یہ وٹامن اے، سی، ای، بی1، بی2، بی3 اور بی9 سے بھرپور ہے۔ ناشپاتی میں پوٹاشیم، کیلشیم اور زنک کی اعلیٰ مقدار ہوتی ہے۔ ناشپاتی کو ریشے دار ہونے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور کیروٹینائڈز ہوتے ہیں۔

    جامن:
    جامن شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے اس میں وٹامن اے، سی، گروپ بی اور ڈی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہائی بلڈ شوگر لیول کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    امرود:
    کم گلیسیمک انڈیکس ہونے کے علاوہ امرود میں سوڈیم کی مقدار کم اور پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ذیابیطس کے مریض کی صحت کے لیے ضروری ہے امرود میں بھی موسمبی کے مقابلے چار گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے-

    ذیابیطس کی روک تھام کرنے والی 9 غذائی عادات

    ذیابیطس سے بچاﺅ یا لاحق ہونے پر اسے پھیلنے سے روکنا زیادہ مشکل نہیں اور طبی سائنس نے اس کے حوالے سے چند غذائی عادات پر زور دیا ہے۔

    گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دینا
    ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں (ہفتے میں کم از کم 11 بار) ان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 13 فیصد کم ہوتا ہے۔ گھر میں بنے کھانے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھتے ہیں جو ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر ہے۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    اجناس کا زیادہ استعمال
    جو لوگ دلیہ، گندم اور دیگر اجناس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ طبی جریدے جرنل ڈائیبٹولوجی میں شائع ایک تحقیق میں کیا گیا تھا۔

    اخروٹ کا روزانہ استعمال
    امریکا کی یالے یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص میں ذیابیطس کی تشکیل کا خطرہ ہو تو وہ تین ماہ تک روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کا استعمال کرے تو اس کی خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اور یہ دونوں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخروٹ کے استعمال سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ نہیں ہوتا اور انہیں کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے۔

    غذا میں ٹماٹر، آلو اور کیلوں کی شمولیت
    یہ سب پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ منرل ذیابیطس کے شکار افراد کے دل اور گردوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور غذا کھانے سے گردے کے افعال میں خرابی آنا سست ہوجاتا ہے جبکہ خون کی شریانوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

    غذائی تجربات سے گریز
    امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ کھانوں میں بہت زیادہ تنوع پسند کرتے ہیں ان میں میٹابولک صحت خراب ہوتی ہے اور موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ مخصوص غذاﺅں تک ہی محدود رہتے ہیں وہ عام طور پر صحت بخش کھانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح ان میں ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

    دہی کا استعمال
    روزانہ دہی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ اٹھارہ فیصد تک کم کردیتا ہے اور یہ بات ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تھقیق میں سامنے آئی۔ محققین کے مطابق دہی میں ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت بہتر کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاہم پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ دہی کے استعمال سے نقصان کوئی نہیں ہوتا ذیابیطس کے شکار افراد کو اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ دن بھر میں 6 بار کم مقدار میں کھانا کھائیں مگر زیادہ مقدار میں کم تعداد میں غذا زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔ چیک ریپبلک کی ایک تحقیق کے مطابق کم مقدا رمیں زیادہ بار غذا کا استعمال کچھ اتنا فائدہ مند نہیں، اس کے برعکس تین بار میں پیٹ بھر کر کھالینا بلڈشوگر میں کمی لاتا ہے اور جسمانی وزن بھی متاثر نہیں ہوتا اور ہاں بھوک بھی محسوس نہیں ہوتی۔

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    پھلوں کا بہتر انتخاب
    جو لوگ جوسز کی بجائے پھل خاص طور پر بلیو بیریز، سیب اور انگور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی ہفتے میں کم از کم دو بار تو ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق پھلوں کے جوس جتنے بھی صحت بخش قرار دیئے جائیں مگر وہ میٹابولزم امراض بالخصوص ذیابیطس کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔

    جبکہ کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا مریض بننے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کرنا جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت دل اور ذیابیطس جیسے امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔