Baaghi TV

Category: خواتین

  • نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے    تحقیق

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

    امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جس کے دوران دل کے پٹھوں، والو یا دھڑکن میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں تاہم نمک کا استعمال کم اور روزانہ کم از کم ایک کیلے کو کھانا عادت بنا کر اس جان لیوا امراض قلب کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق جس کے نتائج طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے ہیں ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا میں نمک کا کم استعمال اور پوٹاشیم کی زیادہ مقدار امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں لوگوں میں یہ الجھن پیدا ہوئی تھی کہ کیا واقعی غذا میں نمک کا کم استعمال مفید ہے یا اس سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہےاس تحقیق میں 10 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ڈیٹا سے ثابت ہوا کہ نمک کا کم استعمال دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ ہماری تحقیق کے لیے 6 بڑی تحقیقی رپورٹس کے معیاری ڈیٹا کو استعمال کیا گیا تھا جن میں نمک کی مقدار کے اثرات پر جانچ پڑتال کی گئی تھی ہمارے نتائج سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض کے حوالے سے نمک یا سوڈیم کے کردار کو واضح کرنے میں مدد ملے گی، نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق سوڈیم وہ جز ہے جو کھانے میں استعمال ہونے والے نمک اور کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے، مگر اس کی زیادہ مقدار اکثر پراسیس فوڈز کا حصہ ہوتی ہےاس کے مقابلے میں پوٹاشیم قدرتی طور پر پھلوں (جیسے کیلوں)، سبز پتوں والی سبزیوں، بیجوں، گریاں، دودھ یا اس سے بنی مصنوعات اور نشاستہ دار سبزیوں میں موجود ہوتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ پوٹاشیم سوڈیم سے متضاد اثرات مرتب کرتا ہے یعنی خون کی شریانوں کو پرسکون رکھنے میں مدد اور سوڈیم کے جسم سے اخراج کو بڑھاتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کو بھی کم کرتا ہےاس تحقیق میں 6 بڑی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس میں سوڈیم اور پوٹاشیم کے اخراج، امراض قلب کی شرح، اور دیگر پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    یہ ڈیٹا رضاکاروں کے متعدد بار حاصل کیے گئے پیشاب کے نمونوں سے اکٹھا کیا گیا تھا جس کو محققین نے سوڈیم کے جزوبدن بنانے کا سب سے قابل اعتبار طریقہ کار قرار دیا یہ نمونے 10 ہزار سے زیادہ صحت مند بالغ افراد سے حاصل کیے گئے تھے اور بعد ازاں لگ بھگ 9 سال تک ان میں امراض قلب کی شرح کی مانیٹرنگ کی گئی ان رضاکاروں میں سے 571 کو فالج، ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض قلب کا سامنا ہوا۔

    محققین نے دریافت کیا کہ نمک کا زیادہ استعمال امراض قلب کا خطرہ بڑھانے سے نمایاں حد تک منسلک ہے طبی ماہرین دن بھر میں 2300 ملی گرام نمک کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں یہ مقدار ایک چائے کے چمچ نمک کے برابر سمجھی جاسکتی ہے مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسم سے روزانہ ہر ایک ہزار ملی گرام سوڈیم کا اخراج امراض قلب کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھا دیتا ہے اس کے مقابلے میں روزانہ کی بنیاد پر ہر ایک ہزار پوٹاشیم کے کا اخراج امراض قلب کا خطرہ 18 فیصد تک کم ہوجاتا ہے طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ نئی تحقیق سے غذا میں بہت زیادہ نمک کے استعمال کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں۔

  • اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    رات کی رانی Night blooming Jasmine ایک چھوٹا سا خوشبو دار پھول ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ ناصرف خوبصورت ہے بلکہ اس میں صحت کے مختلف فوائد بھی ہیں اس پودے میں اینٹی آکسیڈینٹ، اینٹی سوزش اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہیں اس کی خوشبیو خواب آور ہے سر درد کو دور کرتی ہے اعصابی تناؤ اور ذہنی تھکاوٹ کو ختم کرتی ہے اختلاج قلب میں بھی مفید ہے-

    خشک کھانسی:
    ماہرین کے مطابق رات کی رانی کے چند پتّے لیں اور اُنہیں پیس لیں پپھر اس کا رس نکال کر شہد کے ساتھ پانی میں ڈال کر پی لیں، ایسا کرنے سے خشک کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور بےچینی:
    رات کی رانی کا تیل ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور بےچینی کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دماغ میں سیرٹونن کی سطح کو بڑھانے اور موڈ کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    نزلہ زکام:
    ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کی رانی کے پتّوں اور پھولوں کو پانی میں اُبالیں اور پھر اُسمیں تُلسی کے چند پتّے بھی شامل کرلیں، اس کو اتنا پکائیں کہ یہ قہوہ بن جائے اور پھر اُس قہوے کو پی لیں، موسم سرما میں روزانہ یہ قہوہ پینے سے آپ کو نزلے زکام کی شکایت نہیں ہوگی۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    بخار:
    3 گرام چھال اور 2 گرام پتے تلسی کے 2-3 پتوں کے ساتھ لیں اسے پانی میں ابالیں اور دن میں دو بار پی لیں بخار میں بے حد مفید ہے-

    رات کی رانی کے پھول میں رات کو کیوں خوشبو ہوتی ہے؟

    رات کی رانی منفرد نہیں بلکہ بہت سے اور پھول بھی ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ اگر کسی ایسی جگہ پر جائیں بہت سے پھول ہوں تو آپ کو وہاں پر دن کے مختلف اوقات میں خوشبو میں فرق محسوس ہو گا۔

    پھول خوشبو کیوں دیتے ہیں۔ پھولوں کی خوشبوایوولیوشن کی بڑی اچھی مثال ہے۔ جب پھول میں پولن ہوں تو خوشبو ان جانوروں کو اٹریکٹ کرنے کا طریقہ ہے جو اس پولن کو بکھیر سکیں۔ ماحول میں جس طرح کی حیات ہو گی، پھول کی خوشبو بھی اسی کے مطابق ملے گی۔ ایسے پھول جو رات کو خوشبو دیتے ہیں، وہ ہیں جن کو پولینیٹ کرنے والے جاندار رات کو ایکٹو ہوتے ہیں، جیسا کہ پتنگے یا چمگادڑ۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    زمین پر رہنے والی زندگی، خواہ وہ حیوان ہوں، نباتات یا بیکٹیریا، سراکیڈئین ردھم میں ہیں۔ یعنی چوبیس گھنٹے کے سائیکل میں ان کے سونے، کھانے پینے، دماغی ایکٹیویٹی، خلیاتی نظام، ہارمون پروڈکشن وغیرہ کے سائیکل اپنے آپ کو اس کے مطابق آہنگ رکھتے ہیں۔ اس لئے رات کی رانی ہو یا کوئی اور پھول، اس کی خوشبو اس سائیکل کے ایک معین وقت میں ہی ملے گی۔

    اس کی افزائش موسم بہار و برسات میں بذریعہ قلم کی جاتی ہےمئی سے اکتوبر تک خوشگوار موسم کی راتوں کو بہت دور دور تک خوشبو بکھیرتا ہےاسی لئے اسکو رات کی رانی کہا جاتا ہے۔ یہ پودا چونکہ بہت نازک مزاج ہے، اس لئے شدید گرم اور خشک موسم میں پتے وائرس کا شکار ہوتے ہیں سردی میں بھی اسکی نشوونما رک جاتی ہے۔ معتدل گرم اور مرطوب آب و ہوا میں بہتر افزائش کرتا ہے۔ آرائش اراضی میں جھاڑی دار پودوں کےساتھ متبادل لگایا جاسکتا ہے۔
    اس کو فنگس پوڈر اور نیم اسپرے کرتا رہنا چاہئے

  • خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں پائے جانے والے ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین کی مقدار سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ 19 سال پہلے ہی لگایا جاسکتا ہے، چاہے تب اس بیماری کا معمولی خطرہ بھی نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین و 1980ء کے عشرے میں دریافت کیا گیا تھا ویسے تو یہ تقریباً تمام جسمانی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار جگر (لیور) سے خارج ہوتی ہے Follistatin پٹھوں کے ریشوں کی تشکیل اور نشوونما کے لیے ضروری ہے-

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    تحقیق کے مطابق اب تک تولید اور استحالہ (میٹابولزم) کے حوالے سے اس پروٹین پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کے خون میں بھی اس پروٹین کی زیادہ مقدار دیکھی جاچکی ہے علاوہ ازیں، کچھ سال پہلے جانوروں پر مطالعات سے معلوم ہوا کہ انسولین کی کارکردگی متاثر کرنے میں بھی یہی پروٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    تازہ تحقیق میں ماہرین نے سویڈن میں برسوں سے جاری ایک مطالعے ’’مالمو ڈائٹ اینڈ کینسر کارڈیوویسکیولر کوہورٹ‘‘ میں شریک 5000 افراد کے خون میں فولسٹیٹن پروٹین کی مقدار کا مطالعہ کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار اوسط سے زیادہ رہی، وہ کئی سال بعد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    ایسے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ سے زیادہ وقفہ 19 سال نوٹ کیا گیا، یعنی ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے 19 سال پہلے ہی ان کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معمول سے بڑھ چکی تھی۔

    تحقیق مین ماہرین کو ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا مکمل دارومدار، ان کے خون میں فولسٹیٹن کی اضافی مقدار پر تھا چاہے وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معلوم کرنے کےلیے سادہ بلڈ ٹیسٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے جس سے کسی صحت مند شخص کے بارے میں بھی پتا چل سکے گا کہ کئی سال بعد وہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا واضح امکان رکھتا ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ انسولین ہی وہ ہارمون ہے جو شکر (گلوکوز) سے توانائی حاصل کرنے میں خلیوں کے کام آتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔

  • ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    پاکستان کے کئی شہروں میں ڈینگی کے کیسز بڑھ رہے ہیں جس سے صورتحال تشویشناک ہورہی ہے ڈینگی ایک بخار ہے جو اس وقت ایک وبائی بیماری کی شکل۔اختیار کر چکا ہے یہ بات عام ہے کہ ڈینگی مچھر کی افزائش صاف پانی میں ہوتی ہے لیکن آج کل گندگی کا ڈھیر اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ ہر جگہ مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے پاکستان کے کئی شہروں اور علاقوں میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور اموات واقع ہو رہی ہیں اور یہ عام بیماری مہلک بیماری میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے –

    ڈینگی بخار کو بریک بون فیور بھی کہتے ہیں کیونکہ اس بخار کے دارون ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے اس سے جسم میں انفیکشن ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر اسحے بروقت کنٹرول نہ کیا جائےتو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اس بخار کا ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہوتا ہے ڈینگی مچھر کے کاٹنے کے بعد اس کی علامات ٣ سے چار دن میں ظاہر ہونے لگتی ہیں وہ علامات درج ذیل ہیں-

    جسم میں ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہونا کمزوری محسوس ہونا جسم میں پانی کی کمی ہونا مستقل بخار رہنا جسم کے اعضاء کا صحیح کام نہ کرنا چکر اُلغی اور متلی آناجس کی کچھ عام علامات میں قے، شدید سر درد، متلی، خارش، جوڑوں کا درد، پٹھوں میں درد، آنکھوں میں درد اور سوجن شامل ہیں اگر ان علامات کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو تھکاوٹ، قے میں خون، مسلسل قے، مسوڑھوں سے خون بہنا، بے چینی اور پیٹ میں شدید درد جیسے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ڈینگی کا کوئی خاص علاج دستیاب نہیں ہے تاہم کچھ موثر گھریلو علاج ہیں جو آپ کو ڈینگی بخار سے تیزی سے صحتیاب ہونے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    موسمی کا جوس:
    وٹامن سی قوت مدافعت بڑھانے میں حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ موسمی کا جوس پینے سے آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور آپ کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد ملے گی۔

    پپیتے کے پتے:
    پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کے علاج کے لیے بہترین علاج ہیں یہ ان علامات کو دور کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور پلیٹلیٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد کرتا ہے آپ اس کے پتوں کو پیس کر دن میں دو بار پی سکتے ہیں۔

    ناریل پانی:
    ڈینگی الٹی کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی کمی ہوسکتی ہے، اس سے بچنے کے لیےاپنی غذا میں ناریل کا پانی شامل کر سکتے ہیں۔

    میتھی:
    میتھی ایک طاقتور درد کش دوا ہیں۔ آپ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور اگلی صبح وہ پانی پی لیں، اس سے آپ کو ڈینگی بخار سے جلد صحتیاب ہونے میں مدد ملے گی۔

    نیم کے پتے:
    نیم کے پتے اپنی دواؤں کی خصوصیات کے لیے مشہور ہیں، یہ جسم میں وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ سفید خون کے پلیٹلیٹ کی تعداد کو بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ آپ نیم کے کچھ پتوں کو پانی میں پیس سکتے ہیں اور اس کا پانی پی سکتے ہیں۔

  • خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    خمیر شدہ سویابین کی غذائی مصنوعات سے دمے کی علامات اور شدت میں کمی آتی ہے-

    باغی ٹی وی : تجربات کے دوران چوہوں کو خمیری سویابین سے بنا ہوا ایک غذائی سپلیمنٹ کھلایا گیا جو ’’اِمیوبیلنس‘‘ کے نام سے دستیاب ہے اس سپلیمنٹ میں ’آئسوفلیوونز‘ کہلانے والے اہم غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جنہیں نظامِ ہاضمہ کے علاوہ دماغ اور ہڈیوں کےلیے بھی مفید سمجھا ہے جبکہ یہ کینسر کی بعض اقسام کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    حالیہ برسوں میں کچھ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا تھا کہ سویابین کے استعمال سے دمے کی شدت بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس حوالے سے 2015 میں شائع ہونے والی ایک طویل طبّی آزمائش بے نتیجہ ثابت ہوئی۔

    اسی تسلسل میں ریسرچ جرنل ’’نیوٹریئنٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ سویابین والے فوڈ سپلیمنٹ کے استعمال سے چوہوں میں سانس کی نالی میں الرجی کم ہوتی دیکھی گئی تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں میں تصدیق ہونا باقی ہے۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    اس کے علاوہ، دمے سے متعلق خون کے سفید خلیات (اِیوسینوفلز)، پھیپھڑوں کی رگوں میں سوزش اور بلغم بننے کی مقدار میں بھی کمی کا مشاہدہ ہوا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دمہ اور سانس کی دیگر تکالیف میں خمیر شدہ سویابین میں شامل فائبرز کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس حوالے سے انہوں نے مزید محتاط اور فیصلہ کن انسانی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دمے کی صورت میں سویابین کے فوائد کی حتمی طور پر تائید یا تردید ہوسکے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    دمہ کیا ہے ؟
    دمہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو آپ کے پھیپڑوں پر اثر انداز ہو تی ہے۔ دمہ کی سب سے عام علامت سانس سے سیٹی کی آوازوں کا نکلنا ،کھانسی ہونا اور سانس لینے میں دشواری پیش آنا ہے،یہ علامتیں صحت کے کسی اور مسئلے کے باعث بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے پہلی مرتبہ آپکے ڈاکٹر کے لئے اس مرض کی تشخیص تھوڑی مشکل ہو گی،بالخصوص شیر خوار اور بہت چھوٹے بچوں میں۔

    دمہ آپ کےپھپھڑے عمر بھر کے لئے متاثر کر سکتا ہے۔ کبھی تو آپ اس سے نجات پر سکون محسوس کریں اور کبھی آپ کی حالت دمہ کے باعث بہت خراب ہو جائے گی۔

    دمےکے شناخت کی کئی علامتیں ہیں جیسےسانس لیتے وقت سیٹی کی آواز آنا، کھانسی،سانس پھولنا، سینے کا درد،نیند میں بے چینی یا پریشانی ہونا،تھکان اور بچوں کو دودھ پینے میں تکلیف ہونا وغیرہ۔اندرونی وبیرونی الرجی،دھول مٹی ،موسم کی تبدیلی اورسانس کی نالیوں میں انفیکشن سے دمہ اور بیڑی سگریٹ کے استعمال اورہوائی آلودگی ۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    دمے کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے مگر اسے مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔جسمانی جانچ اور میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے سے دمے کی پہچان ہوتی ہے۔خون کی جانچ،ایکسرے،خون میں آکسیجن کی مقدار ،پھیپھڑوں کی حرکت کی جانچ،اسپائرومیٹری اور الرجی ٹیسٹ کے ذریعے دمے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

    دمے کی روک تھا م دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ایک علاج اور دوسرے احتیاط سے۔احتیاط یہ ہے کہ مریض کو اپنے روزمرہ کے معمولات تبدیل کرنا ہوں گے۔اگر وہ کسی بھی قسم کے نشے کا عادی ہوتو فوراًاسے چھوڑ دے،دھول، مٹی اورفضائی آلودگی سے بچیں اور موسم کی تبدیلی سے نقصان ہوتا ہوتو اس کے لیے محفوظ اقدامات اختیار کریں۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    ساتھ ہی ایک بات یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نہ صرف سگریٹ چھوڑنا ہے بلکہ اسے استعمال کرنے والے افراد کی صحبت سے بھی بچناہوگا ،کیوں کہ اس کا دھواں دوسروں کے لیے بھی مضرہے۔

    دمے کے علاج کے لیے سب سے زیادہ دو چیزیں استعمال ہوتی ہے۔ایک میٹرڈ ڈوز اِن ہیلر اور دوسرے پاؤڈر اِن ہیلر۔ان دواؤں میں امید افزا بات یہ ہے کہ ان کے مضراثرات نہیں ہوتے۔اس لیے کہ اِ ن ہیلر (دمہ کا پمپ)سے دی جانے والی ادویہ کی بہت کم مقدار خون میں شامل ہوتی ہے۔سانس کی نالی جس جگہ خراب ہوتی ہے یہ دوائیں اسی جگہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ اِن ہیلر سانس کی نالیوں کو مزید خراب ہونے سے روکتا ہے۔

    اگر اِن ہیلر بند کردیاجائے اور فوری طور پر آرام کے لیے گولی و انجیکشن کا استعما ل بار بار کیاجائے ،جسے اسٹیرائیڈ کہا جاتا ہےتو ذہن نشین رہے کہ یہ ادویہ خون میں شامل ہوکر مزیدنقصان کا سبب بنتی ہیں ، جیسےہڈیوں کمزور ہونا،دیگراعضائے جسمانی کا متاثر ہونا وغیرہ ۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

  • مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے      نئی تحقیق

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    سویڈن: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ مسلسل بے خوابی سے عین اسی طرح کا فالج ہوسکتا ہے جو تمباکونوشی اور بلند بلڈ پریشر سے لاحق ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : فالج کی ایک قسم نازک دماغی رگ یا رگوں میں خون کا جمع ہونا ہے جس سے رگ غبارے کی طرح پھول جاتی ہے پھر یہ رگ پھٹ جاتی ہے اور ہیمریج یا جریانِ خون لاحق ہوجاتا ہے جو کئی مرتبہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے طبی زبان میں اسے انٹرکرینیئل انیوریزم بھی کہا جاتا ہے۔

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تین فیصد بالغان اس عمل سے گزرتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے صرف ڈھائی فیصد کیسز میں رگ پھٹ پڑتی ہے جسے ہم ایک قسم کا فالج کہہ سکتے ہیں اس میں رگ سے خون بہہ کر دماغ اور کھوپڑی کےدرمیان جمع ہوتا رہتا ہے اور اکثر جان لیوا ہوتا ہے۔

    اسٹاک ہوم میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر سوسانہ لارسن اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ دیگر کئی وجوہ میں بے خوابی بھی شامل ہے جو اس خطرے کو بڑھاسکتی ہے۔

    "گھی” جلد کو شفاف اور چمکدار بناتا ہے ،جانئے گھی سے خوبصورتی بڑھانے کا…

    سائنسدانوں نے 6300 اور پھر 4200 کیسز ایسے دیکھے جن کا جینیاتی تعلق تھا یعنی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جریانِ خون والا فالج ہوا تھا محتاط اندازے کےبعد معلوم ہوا کہ 24 فیصد جین کا تعلق اس جین سے نکلا جو نیند کی کمی کی وجہ بنتے ہیں۔

    اس سے قبل بے خوابی اور ہیمریج کے درمیان تعلق سامنے نہیں آیا تھا تاہم اس تحقیق سے اتنا ضرور پتا چلا ہے کہ خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہےتاہم ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

    تاہم 2016 میں ہی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک سائنسی جائزے کے بعد کہا گیا تھا کہ نیند کی کمی اور خرابی نیند سے بلڈ پریشر میں اضافہ ضرور ہوسکتا ہے –

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ۔
    2019 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نیورالوجسٹ ڈاکٹر نتالیہ راسٹ کا کہنا ہے کہ بے خوابی اور دل کے دورے کے درمیان تعلق پر یہ سب سے بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق ہےانہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک مکمل نتائج پر نہیں پہنچے لیکن اب تک کی تحقیق کے مطابق نیند پوری کرنا اشد ضروری ہے۔

    بے خوابی کی تین بڑی علامات

    امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے رسالے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 5 لاکھ چینیوں سے بے خوابی کی تین بڑی علامات کے متعلق سوال کیے گئے۔

    1۔ کیا انہیں نیند آنے اور اسے برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے؟

    2۔ کیا وہ صبح بہت جلدی اٹھ جاتے ہیں اور دوبارہ نہیں سو پاتے؟

    3۔ کیا نیند کی کمی کے باعث وہ دن کو کام پر پوری توجہ نہیں دے پاتے؟

    دس سال بعد ریسرچرز نے تحقیق میں حصہ لینے والوں کے دل کی صحت کا معائنہ کیا، انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد میں یہ تینوں علامات موجود تھیں انہیں دل کی تکلیف کے 22 فیصد امکانات زیادہ تھے جبکہ 10 فیصد کو دل کے دورے کا امکان ان افراد کی نسبت زیادہ تھا جو اچھی نیند لیتے تھے سگریٹ نوشی، جسمانی طور پر متحرک ہونے اور شراب نوشی جیسے معاملات کو بھی اس تحقیق میں شامل کیا گیا پھر بھی نتائج میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

    سائنسدانوں نے ایک ایک سوال کے حوالے سے الگ تحقیقات کیں تو یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ نیند کی کمی کے باعث کام پر توجہ مرکوز نہیں کر سکتے تھے ان میں 13 فیصد کے دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے امکانات تھے۔

    جن افراد نے جلدی اٹھا جانے اور پھر نیند نہ آنے کا جواب ہاں میں دیا تھا ان میں 7 فیصد جبکہ جنہوں نے سونے اور نیند کو برقرار رکھنے میں مشکلات کی شکایت کی تھی ان میں 9 فیصد کو دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کا امکان ان لوگوں کی نسبت زیادہ سامنے آیا جو نیند پوری کرتے تھے۔

    تحقیق کرنے والوں میں شامل پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر لمنگ لی کا کہنا ہے کہ بے خوابی کی علامات اور دل کے دورے کے درمیان تعلق نوجوانوں میں اور نارمل بلڈ پریشر والوں میں اور بھی زیادہ تھا۔

    2017 میں سونے میں مشکلات کے شکار ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا تو ان میں سے 27 فیصد میں دل کی تکلیف یا دورے کے امکانات پائے گئے تھے۔

    بے خوابی دور کرنے کے آسان ترین ٹوٹکے:

    گرم دودھ اور شہد کا استعمال
    رات کو سونے سے قبل ایک گلاس شہد ملا گرم دودھ بہترین نیند لانے کا زبردست گھریلو ٹوٹکا ہے۔ دودھ میں ایک امینو ایسڈ ٹرائیپٹوفان موجود ہوتا ہے جو ایک ہارمون سیروٹونین کی مقدار بڑھاتا ہے جو دماغ کو نیند کے سگنلز بھیجتا ہے۔ کاربوہائیڈیٹس جیسے شہد اس ہارمون کو تیزی سے دماغ میں پہنچاتے ہیں۔

    نیند دوست ماحول بنانا
    جو لوگ بے خوابی کا شکار ہوں، ان کے لیے پرسکون اور نیند والا ماحول بہتر ثابت ہوتا ہے، اس کے لیے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت تمام تر ڈیوائسز کو کمرے سے باہر یا کم از کم بستر سے دور رکھ دیں، کیونکہ ان پر آنے والے نوٹیفکیشن نیند میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔

    ورزش کو آزمائیں
    اگر کسی قسم کی بے چینی رات کو جگائے رکھتی ہے تو یوگا، مراقبہ یا ڈائری لکھنے کی کوشش کریں، تائی چی بھی ذہنی تناؤ میں کمی لانے والی طاقتور ورزش ہے، ایک تحقیق کے مطابق اس ورزش کی عادت لوگوں کو جلد سلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    سونے کا وقت طے کرلیں
    اگر آپ اکثر رات کو جاگتے رہتے ہیں تو آپ کے آسان ترین گھریلو نسخہ وقت طے کرلینا ہے، یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور صبح اٹھنے کو ترجیح بنالیں، اسی طرح سونے سے قبل مطالعہ یا موسیقی سننا بھی دماغ کو سکون پہنچا کر نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔

    نیم گرم پانی سے نہانا
    ویسے یہ طریقہ گرمیوں میں تو کارآمد نہیں تاہم سردیوں میں سونے سے ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے گرم پانی سے نہانے کی عادت اچھی نیند کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    ادویات کو دیکھیں
    متعدد ادویات نیند پر اثرانداز ہوکر بے خوابی کا باعث بنتی ہیں، اگر آپ کسی مرض کا شکار ہیں اور اکثر آپ کو نیند کا مسئلہ درپیش ہے تو اپنے ڈاکٹر سے بات کرکے ادویات یا ان کی مقدار میں تبدیلی کا مشورہ لیں۔

  • انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    ایک صحت مند ناشتہ دن کی اہم غذا ہے ناشتہ چھوڑنا ناصرف وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ یادداشت کو بھی متاثر کرتا ہے ایک صحت مند ناشتے کیلئے صبح سویرے ابلا ہوا انڈا بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔روزانہ ایک انڈا کھانے کے بے شمار فوائد ہیں۔

    صبح نہار منہ ایک انڈا کھانے سے سارا دن انسان چست و توانا رہتا ہے جبکہ بہت دیر تک بھوک کا احساس بھی نہیں ہوتا اس کے علاوہ روزانہ ایک انڈا وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے روٹین اور صحت مند فیٹ سے بھرپور انڈوں میں کیلوریز کی مقدار بہت کم ہوتی ہےانڈوں میں موجود پروٹین جسم میں ضروری امینو ایسڈ کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے چونکہ انڈوں میں پروٹین زیادہ ہوتے ہیں اس لیے یہ میٹابولزم کے عمل کو بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس ہیں، انڈوں کی زردی میں زنک اور سیلینیم ہوتا ہے یہ دونوں معدنیات قوت مدافعت بڑھانے کے لیے بہت اہم ہیں اگرچہ انڈے کی زردی کولیسٹرول بھی بڑھا سکتی ہے لیکن پھر بھی انسانی جسم کیلئے ایک دن میں کم از کم ایک مناسب طریقے سے پکا ہوا انڈا کھانا لازمی ہے۔

    دماغی صحت کو برقرار اور صحتمند بنانے کیلئے بھی انڈوں کا استعمال بہت ضروری ہے، انڈوں میں وٹامنز اور منرلز کی بہترین مقدار ہوتی ہے، انڈے میں موجود ضروری وٹامنز اور معدنیات دماغی خلیات، یادداشت، اعصابی نظام اور میٹابولزم کے کام کو برقرار رکھتے ہیں۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    انڈوں میں کیلوریز کم ہوتی ہیں ، اس کی زردی میں صرف 78 کیلوریز ہوتی ہیں تاہم، اگر آپ کچھ اضافی پاؤنڈ تیزی سے کم کرنا چاہتے ہیں تو صبح کے صحت بخش کھانے کے لیے آپ اپنے ناشتے میں دو سے چار انڈے شامل کر سکتے ہیں، جن میں 240 سے کم کیلوریز ہوتی ہیں۔

    انڈوں میں دو ایسے ضروری اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو آنکھوں کی بینائی بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں یہ اینٹی آکسیڈنٹس آنکھوں کی بینائی کو الٹرا وائلٹ شعائیں سے ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں اس کے علاوہ انڈے کم عمری میں موتیا ہونے کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

  • ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ نے ملک میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے کیسز کا نوٹس لے لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عدالت نے نوٹس کسی کی شکایت پر نہیں بلکہ دل کے مریضوں کیلئے سٹنٹس پر لیے گئے ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران لیا اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اسپتالوں میں بریسٹ کینسر کے علاج اور ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری اسپتال میں میموگرافی اور بریسٹ کینسر کے علاج کی سہولت نہیں۔سرکاری اسپتالوں میں علاج کیلئے خواتین کے پردے کا انتظام اور ماہرین پر مشتمل عملے میں خواتین بھی شامل ہوں بھی یقینی بنایا جائے-

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ خواتین میں بریسٹ کینسر کے ابتدائی اسٹیج پر تشخیص کیلئے کوئی انتطامات نہیں صرف صاحب حیثیت خواتین ہی مہنگا علاج کروا پاتی ہیں اکثریت نجی اسپتالوں سے مہنگا علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتیں خواتین معاشرے کا 50 فیصد حصہ ہیں چھاتی کا کینسر خواتین کو بہت تیزی سے متاثر کر رہا ہے ملک کی 50 فیصد آبادی کو چھاتی کے کینسر سے بچانا ہوگا۔

    عدالت نے تمام وفاقی اور صوبائی سیکرٹریز صحت کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہےعدالت نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر تمام سیکرٹریز اپنے علاقوں میں چھاتی کے کینسر کے علاج سے متعلق جواب دیں سپریم کورٹ نے چھاتی کے کینسر سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔

  • منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    اکثر اوقات بار بار منہ سوکھنے کی شکایات سامنے آتی ہیں جسے ہم پانی کی کمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن ماہرین نے بتایا ہے کہ بار بار منہ سوکھنے کی ایک بڑی وجہ شوگر بھی ہوسکتی ہے۔

    امریکی یونیورسٹی ’امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن‘ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق خون میں شو گر کی سطح غیر متوازن اور اکثر اوقات زیادہ رہنا منہ کے ہر وقت خشک رہنے کا سبب بنتا ہے، ماہرین کے مطابق بغیر کچھ کیے تھکاوٹ کا محسوس ہونا اور جسمانی وزن کا متوازن ہونے کے باوجود بھی اگر منہ خشک رہتا ہے تو یقیناً یہ ذیابطیس کی علامت ہے۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ماہرین کے مطابق جب خون میں گلوکوز کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو گردوں کی صلاحیت میں کمی آتی ہے، ایسے میں گردے مائع کو جذب کرنے کے بجائے پیشاب کی زیادتی کی مدد سے جسم میں سے پانی کو خارج کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جسم پانی کی کمی کا شکار ہو جا تا ہے اور منہ بار بار خشک ہو نے لگتا ہے۔

    پاکستان میں شوگر فری آموں‌ کی تین اقسام متعارف ، امریکہ تاحال شوگرفری سیب لانے میں‌ ناکام

    ماہرین کے مطابق منہ کے خشک ہونے کے سبب غذا کو ہضم کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ منہ میں تھوک کم مقدار میں پیدا ہونے لگتا ہے، اور اس کے نتیجے میں غذا کو ہضم ہونے میں درکار وقت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ایسی علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوراً اپنا تفصیلی طبی معائنہ کروانا چاہیے، بڑھی ہوئی شوگر کی تشخیص ہونے کے نتیجے میں اسے کنٹرول کرنے کے لیے مناسب غذا کا استعمال، روزانہ کی بنیاد پر ورزش اور معالج کی جانب سے تجویز کی گئی ادویات کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔

    شوگر کے مریض کون سی چیز کب کیسے اور کتنی کھائیں

    دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طبی معائنے میں ذیابطیس کی علامات ظاہر نہ ہوں تو ایسی صورت میں بار بار منہ سوکھنے کی شکایت سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچائیں کیفین والے مشروبات مثلاً چائے کافی سے پرہیز کریں، مرغن، مسالے دار، مرچوں والی، نمکین اور میٹھی غذاؤں سے پرہیز کریں۔

    شوگر جیسی خطرناک بیماری کا آسان گھریلو علاج