Baaghi TV

Category: خواتین

  • بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    ایک عرصے سے آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم اب امریکا میں ہونیوالی نئی تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران ڈپریشن اور ذہنی بے چینی یا انزائٹی سے آپریشن سے بچے کی پیدائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق یہ تحقیق مشی گن یونیورسٹی کے ماہرین نے کی اس سے قبل مزاج اور ذہنی بے چینی سے منسلک امراض کو حاملہ خواتین میں بچے کے کم پیدائشی وزن اور قبل از وقت پیدائش سے جوڑا جاتا ہے مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں حاملہ خواتین میں آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے اس بات کی اہمیت کا پھر اعادہ ہوتا ہے کہ حاملہ خواتین میں ڈپریشن اور انزائٹی امراض کی بہتر شناخت اور علاج کی ضرورت ہے یہ سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ کس طرح مزاج سے جڑے ذہنی امراض آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھاتے ہیں جس کے ماں اور نومولود پر مختصر اور طویل المعیاد اثرات پہلے ہی ثابت ہوچکے ہیں۔

    اس تحقیق میں 2008 سے 2017 کے دوران 15 سے 44 سال کی خواتین کے ہاں 3 لاکھ 60 ہزار بچوں کی ہسپتال میں پیدائش کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا محققین کے مطابق حمل کے دوران ڈپریشن اور انزائٹی کے ماں اور بچے پر متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ اگلی بار بھی بچے کی پیدائش اسی طریقے سے ہوگی، جبکہ اس طریقہ کار سے متعدد خطرات بشمول بلڈ کلاٹس کا امکان، انفیکشن اور دیگر جڑے ہوئے ہیں۔

    تحقیق میں شامل محققین کہنا تھا کہ ذہنی امراض اور آپریشن سے بچے کی پیدائش کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟-

    واضح رہے کہ پاکستان میں آپریشن کے زریعے بچوں کی پیدائش کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجوہات اکثر بچے کو جنم دینے والی ماؤں کو بھی پتہ نہیں ہوتیں جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کسی بھی ملک میں آپریشن کے زریعے بچے کی ولادت کا تناسب 15 فیصد سے تجاوز نہیں ہونا چاہئے پاکستان میں اس کا کیا تناسب ہے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں کیونکہ سرکاری سطح پر ہسپتالوں سے ریکارڈ اکھٹا نہیں کیا جاتا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سے بچوں کی ولادت کا تناسب پاکستان میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے ؟-

    اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، ” بعض اوقات کھبی کوئی مسلئہ ہوا مثلاً کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی ethical practice نہیں ہے۔‘‘

  • ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات    طبی ماہرین

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    عام طور پر لوگ صبح ناشتے میں ڈبل روٹی کا استعمال کرتے ہیں جو کہ ماہرین کے مطابق صحت کئے انتہائی نقصان دہ ہے طبی ماہرین کے مطابق عام عوام میں ایک یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈبل روٹی مریضوں کے کھانے کے لیے بہترین اور نرم غذا ہے جبکہ یہ تاثر نہایت غلط ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹارچ اور کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی ہونے کے سبب ڈبل روٹی کا استعمال معدے اور نظام ہاضمہ کے لیے نہایت نقصان ثابت ہوتا ہے، ڈبل روٹی میں فائبر اور گندم میں پائے جانے والی غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انسان متعدد بیماریوں میں گھِر سکتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    اسرائیل میں وائٹ بریڈ یعنی کہ عام دستیاب ڈبل روٹی پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائٹ بریڈ کے استعمال سے معدے اور آنتوں سے متعلق متعدد شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں قبض کی شکایت سر فہر ست ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    اس تحقیق میں وائٹ اور براؤن بریڈ کے درمیان موازنہ بھی کیا گیا کہ وائٹ اور براؤن بریڈ میں سے کون سی بریڈ صحت کے لیے زیادہ بہتر اور نقصان دہ ہے تحقیق میں شامل رضاکاروں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک گروپ کے افراد کو سفید یعنی ریفائن آٹے سے بنی وائٹ بریڈ جبکہ دوسرے گروپ کو براؤن یعنی کے مکمل غذائی اجزاء سے تیار کی گئی براؤن بریڈ استعمال کروایا گیا اور بعد ازاں دونوں گروپس کے رضاکاروں کے صحت سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح کی ڈبل روٹی کے فوائد صحت پر یکساں تھے البتہ براؤن بریڈ کو وزن کم کرنے اور آنتوں کے کینسر میں مبتلا افراد کے لیے قدرے بہتر جبکہ وائٹ بریڈ کو قبض، معدے میں درد اور نظام ہاضمہ سے متعلق دیگر چھوٹی موٹی شکایت کا سبب پایا گیا۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید

  • ورزش سے  کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا       تحقیق

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : نئی تحقیق کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش سے انسانی جسم میں میوکائنز جیسے پروٹین کا اخراج بڑھ جاتا ہے جس سے کینسر کی رسولیاں سکڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔

    پین اسٹیٹ یونیورسٹی میں کینسر میں مہارت رکھنے والے پبلک ہیلتھ کی پروفیسر کیتھرین شمٹز کا خیال ہے کہ ورزش اور کینسر کے مابین تعلقات کا تصور وہ جگہ ہے جہاں ورزش اور دل کی صحت کے درمیان تعلقات کا تصور کئی دہائیوں پہلے تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ،مریض کو بستر سے باہر نکالنا اور ہارٹ اٹیک کے بعد حرکت کرنا نقصان دہ سمجھا جاتا تھا آج دل کی صحت اور صحت یابی کے لیے ورزش کے فوائد مشہور ہیں۔

    شمٹز نے ہیلتھ لائن کو بتایا ، "آج اگر آپ نے آنت کے کینسر میں مبتلا کسیشخص سے پوچھا کہ اگر اسے ورزش کرنی چاہیے تو وہ شاید نہیں کہیں گے یا نہیں جانتے۔”

    شمٹز نے گول میز کی مشترکہ صدارت کی-جس میں امریکن کالج آف اسپورٹس میڈیسن ، امریکن کینسر سوسائٹی ، اور 15 دیگر گروپس کے ماہرین شامل تھے-جنہوں نے نئی رہنمائی کی۔

    اس ہفتے تین مقالوں میں شائع ہونے والی رہنمائی کا خلاصہ یہ ہے کہ ورزش مثانے ، چھاتی ، بڑی آنت ، غذائی نالی ، گردے ، معدہ اور بچہ دانی کے کینسر کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    ہدایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ ورزش چھاتی ، بڑی آنت اور پروسٹیٹ کینسر کے لوگوں کی بقا کی شرح کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے – نیز کینسر کے علاج کے مضر اثرات کو کم کرنے کے حوالے سے ان لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر کر سکتی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ کینسر کے علاج سے گزر رہے ہیں اگر وہ ہمت کر کے علاج کے ساتھ ورزش بھی شروع کر دیں تو وہ تیزی سے کینسر پر قابو پا سکتے ہیں –

    کتنی ورزش کرنی چاہیئے؟

    محققین تجویز کرتے ہیں کہ کینسر میں مبتلا افراد ہفتے میں 3 بار 30 منٹ ایروبک ورزش اور ہفتے میں 2 سے 3 بار پٹھے مضبوط کرنے والی ورزش کریں-

    ماہرین نے تحقیق کے لیے پروسٹیٹ کینسر کے 10 مریضوں کو 12 ہفتوں تک ورزش کے عمل سے گزارا جس میں ایئروبِک اور پٹھے مضبوط کرنے والی ورزشیں شامل تھیں۔

    ورزش کے ساتھ مریضوں کی خوراک کا بھی خیال رکھا گیا جس میں پروٹین سپلیمنٹ اور کم کیلوری والی غذائیں دی گئیں ان سب کا مقصد خون میں میوکائنز کی سطح معلوم کرنا تھا جو پٹھے بنانے والا ایک ہارمون ہے جو ورزش کے دوران جسمانی ڈھانچے سے خارج ہوتا رہتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ میوکائن کا اخراج سرطان کو روکنے کے ساتھ اسے پھیلنے سے بھی روکتا ہے تین ماہ کی ورزش سے جسم میں میوکائنز بڑھ جاتے ہیں جس کی تصدیق خون کے ٹیسٹ میں ہوئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ مائیوکائنز کینسر کے خلیات کو نہیں مارتے لیکن وہ جسم کے دیگر خلیات کو کینسر کی رسولیوں کو کم کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔

  • خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے؟

    خواتین کو جنسی ہراساں کیوں کیا جاتا ہے۔
    معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ہوتا ہے تو برقعہ پہننے والی خواتین اور چھوٹی بچیوں کا کیا قصور ہے۔
    یہاں تک کہ جانوروں تک کو نہیں بخشتے
    اگر آپ کہتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے کی وجہ سے ہوا تو کتنے کیسز ہیں جن میں گھر میں گھس کر ریپ کردیا گیا۔
    اگر آپ کہتے ہیں کہ اس لیے کیونکہ یہاں اپنی جنسی فرسٹریشن نکالنے کے مواقع میسر نہیں ہیں، یہاں قحبہ خانے نہیں ہیں تو عرض ہے کہ جن ملکوں میں قحبہ خانوں کی کثرت ہے اور اویلیبلٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہاں ریپ کیسز کی شرح اس قدر زیادہ کیوں ہے۔
    امریکہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ ریپ کیسز ہیں، زنا باالرضا پر وہاں کوئی پکڑ یا قدغن نہیں ہے۔ 18 سال سے زائد عمر کا لڑکا یا لڑکی جیسے چاہے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ اس پر حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔
    مزید اگر یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ میں ایک عورت کتنی محفوظ ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز موجود ہیں کہ نیویارک شہر میں کسی خاتون کو کس طرح چھیڑ ا جاتا ہے۔ a woman is cat called more than hundred times in a day, while she was walking through NYC.
    لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ دنیا کے ساتھ موازنہ کرکے کہنا کہ ہمارے ہاں تو یہ مسئلہ اس قدر نہیں ہے۔ یہ سراسر چشم پوشی ہے۔ ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ رپورٹ کم ہوتا ہے۔ اکثریت ایسا کوئی بھی واقع رپورٹ ہی نہیں کرواتی۔ اس لیے دنیا کے حقائق دینے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ نا م نہاد تقدیس مشرق کے حدی خوان بنے پھریں جو اب بہت خال ہی کہیں اپنا وجود رکھتی ہے۔
    لیکن اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اگر یہ سب کچھ کے باوجود بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں تو کیسے محفوظ ہوں گی۔
    لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ پوری دنیا میں مرد خواتین کو اس بری نظر سے ہی کیوں دیکھتے ہیں تو معاملہ اس قدر سادہ نہیں ہے۔ صرف چست یا تنگ کپڑے پہننا ایک فیکٹر ہوسکتا ہے مگر یہ وجہ نہیں ہے۔
    وجوہات بہت ساری ہیں جو مل کر اس قدر دماغ کو خراب کردیتی ہیں کہ محرم رشتوں تک کا احترام بھی انسان بھول جاتا ہے۔
    سب سے پہلے اور سب سے بڑی وجہ میڈیا انڈسٹری ہے۔ میڈیا سے مراد فلم اور فیشن اور میڈیا کے تمام شعبے ہیں ۔ آپ اپنی میڈیا انڈسٹری کو دیکھیں ، کیا یہاں عورت کو بیچا نہیں گیا، اور پھر یکمشت نہیں بیچا گیا ، بلکہ اب تو ناز الگ بکے اور انداز الگ، جسم بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے بیچا گیا۔
    میں دنیا کی بات نہیں کرتا ، ہمارے اپنے ملک کو دیکھ لیں، چہرہ ایسا کہ ہر کوئی دیکھتا رہ جائے،
    نظر اٹھے اور مڑ نا پائے،
    آپ جہاں نظریں وہاں۔۔۔۔
    تو یہ ساری ٹیگ لائن جو دن رات ہمیں ٹی وی اشتہارات کی صورت دکھائی گئی تھیں کیا ان کا مقصد عورت کی عزت کرنا سھنا تھا یا حوا کی اس بیٹی کو ایک پراڈکٹ بنا کر بیچنا تھا۔
    پھر فلم انڈسٹری دیکھ لیں، دنیا بھر میں آڈلٹ سینز کے بغیر فلم نہیں بنتی، نیٹ فلکس کی شرائط میں شامل ہے کہ فلم میں ایسے سینز ہونا ضروری ہیں۔ سنسر بورڈ جیسے ڈھکوسلے تو صرف ہمارے ہوں ہیں۔ ڈھکوسلے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان سے جو کچھ پاس ہوجاتا وہ سب بھی جنسی جذبات کو بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
    اب ہر طرف میڈیا میں ، بل بورڈز پر عورت کی بھرمار، یہاں تک کہ مردانہ ریزر بھی عورت ہی بیچے، یہ سب دیکھ کر جنسی فرسٹریشن اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔
    پھر یہاں ایک دوسری وجہ کا آغاز کرتا ہوں ۔
    کتنے لوگ ہیں جو شادیاں دیر سے کرتے ہیں۔ ضرورت انہیں بہت پہلے ہوتی ہے۔ بجا کہ شادی صرف اسی ایک ضرورت کا نام نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک ضرورت ہے۔ جب جائز طریقے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی تو پھر ایک انسان کب تک صبر کرسکتا ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو پارسائی کا یہ بوجھ سہتے ذہنی مریض ہوجاتے ہیں۔ اور رہ گیا ہمارا مذہبی طبقہ تو معذرت کے ساتھ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔مجے پتہ ہے کہ یہ جملہ بول کر میں بہت سی توپوں کا رخ اپنی طرف کررہا ہوں مگر حقیقت ایسی ہی ہے۔ ماسوائے چند ایک لوگوں کو چھوڑ کر یہی بھیڑ چال ہے۔
    اس سب کے بعد دماغ تو سن ہوجاتا ہے کہ پھر حل کیا ہے۔
    سن لیں جس طرح وجہ ایک نہیں ہے اسی طرح حل بھی ایک نہیں ہے۔ بلکہ ایک جامع لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ میرے جیسا بندہ چند گزارشات تو کر سکتا ہے مگر اس معاملے کو ہنگامی بنیاوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار و ارباب حل و عقد کو ایک مربوط لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ جلد شادیوں کو رواج دیں۔ اور آگہی ضرور ہونی چاہیے۔ ہمارے قوانین جو ابھی تک برطانیہ نے بنائے تھے ، وہی چل رہے ہیں ۔ یہ قوانین رعایا کے لیے تھے۔ ان قوانین کو ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔ قصہ مختصر حل بھی بہت ہوسکتے ہیں، بس اس کے لیے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں محفوظ رہ سکیں۔ ورنہ خوف کی فضا میں دم گھٹ جاتے ہیں۔ اور معاشرے مردہ ہوجاتے ہیں۔
    حنظلہ عماد
    @hanzla_ammad

  • صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں  نے ٹپس مداحوں کے ساتھ شئیر کر دیں

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے ٹپس مداحوں کے ساتھ شئیر کر دیں

    لاہور:صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے آسان ٹپس بتا دیں،اطلاعات کے مطابق معروف ماڈل ، اداکارہ صوفیہ مرزا جوکہ آج کل اپنے یوٹیوب چینل پر”خاص”نسخے بتانے کے حوالے سے زبردست گفتگو کررہی ہیں اور بہت مقبول بھی ہورہی ہیں ، بالوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک ایسا نسخہ کیمیا پیش کیا ہے کہ سننے والے حیران رہ گئے

    اپنے تازہ ویڈیو پیغام میں صوفیہ مرز ا نے بتایا ہے کہ اپنے بالوں کو صحت مند گھنے اور نرم و ملائم بنانے کے لئے خیال کس طرح رکھنا چاہیئے انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں مداحوں کو آسان ٹپس بتائیں جنہیں وہ خود بھی بالون کی خوبصرتی برقرار رکھنے کے لئے استعما کرتی ہیں-

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ بالوں کی صحتمندی کے لئے سب سے ضروری چیز تیل کی مالش ہے دو تین بعد سر میں کوئی اچھا تیل آلمنڈ آئل اور کوکونٹ آئل استعمال کریں-

    کھانے پینے کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے پانی زیادہ پینا چاہیے خشک گری دار میوے کھانا بہت ضروری ہے اب سردیوں کا موسم آ رہا ہے تو کوشش کریں ڈرائی فروٹس کھائیں-

    پیٹ کیسے کم کرنا ہے؟صوفیہ مرزا نے آسان حل بتادیا

    انہوں نے بتایا کہ سب سے ضروی چیز جو وہ خود بھی استعمال کرتی ہیں اور وہ ہے کچن کا مصالحہ میتھی کے بیج ہیں –

    انہوں نے میتھی دانے کا پیسٹ بنانے کا طریقہ بتایا کہ 5 چمچ میتھی دانے لیں اور انہیں اچھی طرح گرائنڈ کریں گرائنڈ کرنے کے بعد انہیں چھان لیں اور چھنے ہوئے پاؤڈر کو ایک باؤل میں ڈال لیں اور اس میں دو چمچ کسٹرآئل ڈال کر اچھی طرح مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اس کے علاوہ آلمنڈ آئل اور کوکونٹ آئل بھی استعمال کر سکتے ہیں-

    کسٹرآئل بالوں کو صحت مند ،بڑھوتری اور نرم وملائم کرنے کے لئے بہت مفید ہے-

    کسٹرآئل اور میتھی دانے کے پیسٹ کو دس منٹ کے لئے گرم پانی میں رکھ دیں اور اوپر سے ڈھک دیں بعد ازاں اسے بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح لگا لیں اور 25 سے 30 منٹ بعد سر دھو لیں اچھے نتائج کے لئے ہفتے میں دو مرتبہ استعمال کریں-

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بچ جانے والے پیسٹ کو محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے تاہم اس پیسٹ کو لگانے کے سے پہلے 5 منٹ کے لئے گرم پانی میں رکھ لیں اس کے بعد استعمال کریں-

    سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

  • میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    میتھی دانے کو جہاں خواتین کی صحت اور ہارمونز کے متوازن رکھنے کے لیے انتہائی اہم جز قرار دیا جاتا ہے وہیں اس کے استعمال سے دِنوں میں گرتے بالوں کا علاج بھی ممکن ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق میتھی دانے کا استعمال 12 مہینے کیا جا سکتا ہے، اس کا سفوف بنا کر نیم گرم پانی کے ساتھ ناصرف کھانا مفید ہے بلکہ اس سے بنا قہوہ پینا بھی بے شمار فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے۔

    ماہرین غذائیت کے مطابق میتھی دانہ غذائیت، فائبر اور نیوٹرا سیوٹیکل اجزا سے بھرپور جز ہے، اس کے باقاعدگی سے استعمال کے نتیجے میں کئی موسمی بیماریوں سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    خواتین کے لیے میتھی دانہ کھانے کے حیرت انگیز فائدے

    غذائی ماہرین کے مطابق میتھی دانے میں قدرتی طور پر اینٹی الرجی خصوصیات پائی جاتی ہیں، میتھی دانہ نزلہ، زکام، بے تحاشہ چھینکوں میں خصوصاً ڈسٹ الرجی کے شکار لوگوں اور سانس سے متاثرہ افراد کے لیے انتہائی مفید دوا قرار دی جاتی ہے جبکہ اس کا استعمال چہرے اور بالوں پر براہ راست کرنے کے نتیجے میں خوبصورتی میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    ماہرین جڑی بوٹیوں کے مطابق میتھی دانہ بالوں کی صحت کے لیے نہایت مفید غذا ہے، بال لمبے، گھنے، چمکدار اور ملائم بنانے کے لیے اس کے قہوے کا یا براہ راست استعمال بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ جھڑتے بالوں کو فوراً روکنے اور بالوں کو مضبوط بنانے کے لیے میتھی دانے کا ہیئر ماسک بنا کر بھی لگایا جا سکتا ہے۔

    بالوں سے جُڑی کئی شکایات کا فوری علاج ایک آسان ترین ماسک کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

    سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

    میتھی دانے سے بنے ماسک کے لیے میتھی دانے کے 2 سے 3 چمچ رات بھر کےلیے سادہ پانی میں بگھو کر رکھ دیں، صبح اسے گرائینڈ کر کے اپنے بالوں کی جڑوں سے سِروں تک لیپ کر لیں، یہ ہیر ماسک زیادہ سے زیادہ صرف 25 سے 30 منٹ کے لیے لگائیں اور بعد ازاں بال اچھی طرح سے دھو لیں۔

    اس عمل کو ہفتے میں صرف 1 سے 2 بار ہی دہرائیں، اس ماسک کے استعمال سے روکھے بالوں میں چند ہی دنوں میں جان آ جائے گی اور بال لمبے اور مضبوط ہونے لگیں گے۔

    میتھی دانہ موسمی وائرس سے محفوظ رکھتا ہے شوگر کے مریضوں کے لئے میتھی دانے کا استعمال خون میں شوگر کی سطح کو نارمل رکھنے کے لیے بہت مفید ہے گیس اور ڈائریا کی تکلیف میں دہی میں ملا کر کھانے سے آرام ملتا ہے

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    میتھی دانہ دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے مفید ہے ڈلیوری کے بعد ہونے والی کمزوریوں میں میتھی دانے کے استعما ل سے بہت فائدہ ہوتا ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو اسکے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں یہ ہڈیوں کو محفوظ کرتا ہے

    ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ ایک چٹکی میتھی دانہ کھانے سے ماہواری کے درد سے نجات ملتی ہے ذہنی تناؤ اور سٹریس کم کرنے کے لئے میتھی دانہ لیموں کا رس شہد تلسی کے چند پتے اور دار چینی کا ٹکڑا ایک کپ پانی میں ابال کر ٹھنڈا ہو نے پر پی لیں اس سے ذہنی تنؤ اور اسٹریس کم ہو جاتا ہے-

    میتھی دانہ وزن کم کرتا ہے بالوں کا روکھا پن دور کرتا ہے جگر کی حفاظت کرتا ہے دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے قبض اور پیچش میں آرام پہنچاتا ہے ہارمونز کی بے ترتیبی درست کرنے کے لئے ایک کپ پانی میں ایک چمچ میتھی دانہ ملا کر پی لیں اس کو دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کریں یہ ہارمونز کی ترتیب کے لئے جادو کا کام کرتی ہے

    جاوتری کے صحت پر اثرات

  • پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے    تحقیق

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    ماہرین کے مطابق پالک کھانے سے آنتوں کے سرطان کے خطرات سے محفوظ رہا جا سکتاہے-

    باغی ٹی وی : گٹ مائیکروبس نامی جرنل میں شائع ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پالک، جین ، آنتوں کی صحت اور کینسر کےدرمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے اس کے لیے ماہرین نے ایک موروثی کیفیت کا جائزہ لیا جسے ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کہا جاتا ہے یہ کیفیت والدین سے بچوں تک آتی ہے اور نوجوانوں میں غیرسرطانی رسولیوں کی وجہ بنتی ہے جنہیں آنتوں کے ابھار یا پولِپس کہا جاتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    اس مرض کے شکار افراد کی آنتوں میں بار بار گومڑیاں بنتی رہتی ہیں جنہیں سرجری سے نکال باہر کیا جاتا ہے اس طرح چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے ڈیوڈینم میں انہیں روکنے کے لیے ایک تھراپی کی جاتی ہے جو ایک زہریلا طریقہ علاج بھی ہے۔

    اس ضمن میں’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار جانوروں پر پالک کو آزمایا گیا برف میں جمی پالک جانوروں کو 26 ہفتے تک کھلائی گئی تو آنتوں میں رسولیاں بننے کے عمل میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی جو بڑی اور چھوٹی آنت میں موجود تھیں۔

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ پالک سے آنتوں کے بیکٹیریا کی ڈائیورسٹی میں اضافہ ہوا یعنی مددگار خردنامیوں کی تعداد بڑھی اور پھر ان کے جینیاتی اظہار میں بھی تبدیلی ہوئی جس سے کینسر کو روکنے میں مدد ملی اسی طرح پالک کھانے سے جانوروں میں اندرونی سوزش (انفلیمیشن) بھی کم ہوئی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ پالک کھانے سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جو ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار نہیں۔ پالک کھانے سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا بڑھتے ہیں جو سرطان کو روکتے ہیں اور ہرخاص وعام پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد

    ماہرین کے مطابق 10 سے 15 فیصد افراد میں آنتوں کا سرطان موروثی ہوتا ہے مضر کیمیکل اور سرطان والے ماحول میں کئی عشرے تک رہنے سے ان کے جین بدل جاتے ہیں اور سرطان کی جانب بڑھتے ہیں اس طرح پہلے غیرسرطانی رسولیاں بنتی ہیں اور اس کے بعد سرطان پیدا ہوتا ہے جن افراد کو جینیاتی طور پر آنتوں کے سرطان کا خطرہ ہوتا ہے ان میں بھی پالک بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    اس سے قبل آنتوں کے سرطان اور ہرے پتے والی سبزیوں کے باہمی تعلق پر بہت غور ہوچکا ہے سبزیوں کا باقاعدہ استعمال آنتوں کے سرطان کا خطرہ کم کرتے ہوئے اسے نصف کرسکتا ہے کیونکہ اس میں فائبر اور دیگر فائدہ مند اجزا موجود ہوتے ہیں۔

    ماحول دوست سبزی گوار کی پھلی کے حیرت انگیز فوائد

  • صدر مملکت کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال

    صدر مملکت کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے میڈیا کو بریسٹ کینسر کی آگاہی مہم کے حوالے سے خطوط ارسال کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین میں کینسر کے 44 فیصد کیسز چھاتی کے کینسر کے ہیں جلد تشخیص ہونے سے مرض سے نجات پانے کا امکان 98 فیصد ہے-

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ معاشرے میں ممنوع موضوع ہونے کی وجہ سے خواتین مرض کی جلد تشخیص نہیں کروا پاتی ،جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا 50 فیصد خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہر تین ماہ میں ایک مرتبہ اپنا معائنہ خود کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، آگاہی نہ ہونا، دیر سے ڈاکٹر سے رجوع چھاتی کے کینسر سے زیادہ شرح اموات کا باعث ہیں،دیر سے تشخیص کی وجہ سے ایک لاکھ میں سے 50 ہزار خواتین فوت ہو جاتی ہیں-

    بریسٹ کینسر کی وجہ بننے والا ہارمون دریافت

    صدر پاکستان نے مزید کہا کہ بیگم ثمینہ علوی اور ان کی ٹیم نے اکتوبر میں لوگوں کو آگاہی کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیے ہیں، ان پروگراموں میں خود تشخیصی اور مرض کی بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا-

    انہوں نے کہا کہ میڈ یا نے گزشتہ سال لوگوں کو بریسٹ کینسر بارے تعلیم دینے کیلئے مؤثر آگاہی مہم چلا ئی ،میڈیا خبروں ، ٹاک شوز، آرٹیکلز، کالمز اور ایڈیٹوریل کے ذریعے آگاہی پیدا کرے ،میڈیا چھاتی کے کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے حکومت اور سول سوسائٹی کی کوششوں کا ساتھ دے –

    انہوں نے کہا کہ میڈیا تنظیمیں بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنے لوگو کو "گلابی ” رنگ دیں-

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

  • سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

    سر سے خشکی کا خاتمہ کیسے کیا جائے؟

    خشکی کو عام زبان میں سکری بھی کہا جاتا ہے، اس کا کوئی موسم نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک جِلدی بیماری کی طرح حملہ آور ہوتی ہے جس کا علاج نہایت ضروری ہوتا ہےجِلدی ماہرین کی جانب سے خشکی بننے کی سب سے بڑی وجہ شیمپو کا زیادہ استعمال، شیمپو میں پائے جانے والے کیمیکلز، ذہنی دباؤ اور ہر وقت سر کو ڈھانپ کر رکھنے کو قرار دیا جاتا ہے، بالوں کو صاف نہ رکھنے سے بھی سر میں خُشکی کی افزائش ہوتی ہے-

    بالوں میں خُشکی کی سب سے عام علامت خارش اور بالوں میں سفید فنگس کا پایا جانا ہے، بعض اوقات یہ فنگس جَھڑ کر کپڑوں پر بھی گرنے لگتا ہے یا کنگھی کرنے کی صورت میں سر سے اُکھڑتا ہے خشکی کے خاتمے کے لیے مہنگے شیمپو، ٹانک اور بیوٹی پروڈکٹس سے علاج کرنے کے بجائے گھریلوٹپس زیادہ موزوں علاج ثابت ہوتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پیاز میں اینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو سر کی خُشکی جیسے فنگس کو ختم کرتی ہیں پیاز کے استعمال کے لیے سب سے پہلے پیاز کا رس نکال لیں اور پھر اُس رس کو سر کے اُس حصے پر لگالیں جہاں خُشکی اور فنگس کے ذرات موجود ہیں، اِس نسخے سے جلد ہی خُشکی سے نجات مِل جائے گی۔

    خوبصورتی میں اضافے کے لئے ادرک کا استعمال نہایت مفید

    لیموں میں قُدرتی طور پر سِٹرک ایسڈ پایا جاتا ہے جو سر سے خُشکی کے ذرّات کو نکالنے میں مدد کرتا ہےخُشکی سے نجات پانے کے لیے روئی کو لیموں کے رس میں بھگوئیں اور سر کی جِلد پر جہاں جہاں خُشکی ہے وہاں لگائیں اِس نسخے سے خُشکی ختم ہونے میں مدد ملے گی۔

    کھانے کا سوڈا، یعنی میٹھا سوڈا ہر گھر کے باورچی خانے کا اہم جزو ہوتا ہے، اِس میں موجود اینٹی فنگس خصوصیات سر کی جِلد سے خُشکی ختم کرنے میں اور سر کی جِلد پر قُدرتی تیل پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے پہلے بالوں کو گیلا کرلیں اور سر کی جلد پر کھانے کا سوڈا لگائیں، اِس کے بعد انگلیوں کے پوروں کی مدد سے رگڑیں اور کُچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں بعد ازاں سر کو صرف پانی سے دھولیں۔

    انڈے کی زردی میں اینٹی ڈینڈرف خصوصیت موجود ہوتی ہیں، انڈ ے کی زردی سر کی جلد پر لگانے سے خارش بھی ختم ہوتی ہے اور اِس کے علاوہ خُشکی سے بھی نجات ملتی ہے۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    ایلو ویرا وٹامنز، پروٹین اور معدنیات کی خصوصیات سے مالا مال ہے اور اِس میں اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل کی خصوصیات بھی ہوتی ہیں، ایلو ویرا کی مدد سے سر کی خُشکی ختم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خُشکی والے حصوں پر ایلو ویرا جیل لگالیں اور کُچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں، پھر سر کو دھولیں، اِس سے خُشکی ختم ہوجائے گی۔

    لہسن میں اینٹی فنگل، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی بائیوٹیک کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لہسن کے ذریعے سر سے خُشکی ختم کرنے کے لیے لہسن کو پیس لیں اور اِس کا پیسٹ بنا کر سر کی جِلد پر لگالیں، کُچھ دیر بعد سر دھولیں، خُشکی سے نجات حاصل کرنے کا یہ ایک بہترین آزمودہ نسخہ ہے۔

    ناریل کا تیل سر کی خُشکی ختم کرنے کا ایک موثر علاج ہے، ناریل کے تیل سے خُشکی ختم کرنے کے لیے اس کے تیل کی حسب ضرورت مقدار لے کر ہلکا گرم کریں اور پھر اِس میں لیموں کا رس مِلا لیں، اِس کے بعد اِس تیل کو اپنے سر کی جِلد پر لگائیں اور تھوڑی دیر مساج کریں، یہ عمل سر کی خُشکی ختم کرنے میں مفید ہے۔

    نیم میں قُدرتی طور پر اینٹی بیکٹیریل خصوصیات موجود ہوتی ہیں اور اِس کا تیل سر سے خُشکی ختم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے، نیم کے تیل سے مساج کرنے کے نتیجے میں خُشکی سے چھٹکارا مِل جاتاہے۔

  • ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    غذائیت حاصل کرنے کے لیے سُپر فوڈز کا استعمال ایک بہترین طریقہ ہے، یہاں ایک سپر فوڈز ہے جسے آپ اپنی خوراک میں آسانی سے شامل کر سکتے ہیں اور وہ مشروم ہے کیونکہ مشروم میں قدرتی طور پر کئی غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔

    طبی ماہرین نے اسے ایک ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ کہا جس میں پروٹین، بیٹا گلوکن، معدنیات اور مائیکرو نیوٹرینٹس ہوتے ہیں ماہرین نے حالیہ تحقیق میں بتایا کہ مشروم، ہمارے جسم میں غذائی اجزاء سٹیم سیل کی تخلیق نو اور ڈی این اے کی مرمت میں مدد کرتے ہیں مشروم صحت مند انجیوجینیسیس کی بھی حمایت کرتے ہیں، جو ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خون کے نئے خلیے بنتے ہیں۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    مشروم وٹامن ڈی کے بہترین غذائی ذرائع میں سے ایک ہیں جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مشروم بےحد مفید ہیں، مشروم ہماری جِلد کو ہائیڈریٹ کرتے ہیں اور ہمیں کیل مہاسوں جیسے مسائل سے بچاتے ہیں کیونکہ مشروم میں اینٹی ایجنگ کی خصوصیات ہوتی ہیں انہیں قدرتی موئسچرائزر کے طور پر جانا جاتا ہے اور چہروں پر لگائے جانے والے بہت سے سیرم میں مشروم شامل ہوتے ہیں۔

    وزن کم کرنے کے لئے مشروم سب سے بہترین انتخاب ہے کیونکہ مشروم میں کیلوریز کم لیکن فائبر اور پروٹین زیادہ ہوتے ہیں، وہ ہمارے جسم کو معدنیات جیسے تانبا، پوٹاشیم اور سیلینیم بھی فراہم کرتے ہیں۔

    آپ مشروم کو مختلف طریقوں سے اپنی غذا میں شامل کرسکتے ہیں، جیسے آپ مشروم کی سوس بنا سکتے ہیں، سوپ بناسکتے ہیں، پاستہ وغیرہ میں مشروم شامل کرکے کھاسکتے ہیں۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید