Baaghi TV

Category: خواتین

  • شاہی کھیر بنانے کی ترکیب

    شاہی کھیر بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    دودھ 2 لیٹر
    چاول 200 گرام
    اسٹرابیری 100گرام
    چینی 600 گرام
    کاجو 100 گرام
    پستہ 100 گرام
    بادام 100 گرام
    کھویا 100 گرام
    چھوٹی الائچی 10 گرام
    ٹھنڈا پانی 2 کپ

    ترکیب:
    ایک برتن میں دودھ ڈال کر گرم کریں اس میں چاول چھوٹی الائچی ب ٹھنڈا پانی اور پستہ کاجو بادام آدھا ڈال کر اچھی طرح ابالیں اب اس میں چینی ڈال کر پینتیس سے چالیس منٹ تک درمیانی آنچ پر پکائیں اور اس دوران اس مین مسلسل چمچ ہلاتی رہیں اب اس میں کھویا ڈال کر اچھی طرھ ملا لیں اس کے بعد اسے فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیں اب بادام کاجو پستہ اور اسٹرابیری سے گارنش کر لیں مزیدار شاہی کھیر تیار ہے

  • گاجر کا حلوہ بنانے کا طریقہ

    گاجر کا حلوہ بنانے کا طریقہ

    اجزاء:
    گاجر 3 پاؤ
    دودھ ڈیڑھ کلو
    گھی آدھا کپ
    چینی 3 کپ
    چاول 1 پاؤ چاول ایک گنھٹے کے لیے بھگو دیں
    چھوٹی الائچی 3 عدد
    بادام پستے ایک ایک کھانے کا چمچ
    قلاقند حسب ذائقہ

    ترکیب:
    گاجروں کو اچھی طرح دھو کر چیھل لیں اور کدو کش کر لیں گاجریں اور چاولوں میں ایک کپ پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے کے لئے رکھ دیں جب چاول گل جائیں اور پانی خشک ہو جائے تو تب الگ برتن میں گھی گرم کر کے الائچی کا بگھار کریں اور گجروں میں ڈال دیں چینی بھی ڈال دیں ہلکی آنچ پر پکنے دیں پھر دودھ بھی ڈال دیں جب دودھ تقریباً آدھا رہ جائے تو ذائقے کے لیے تھوڑا سا قلاقند ملا دیں باؤل میں ڈال کر بادام اور پستے سے سجا دیں اور کھانے کے لئے سرو کریں

  • مزے دار بادام کی کھیر ریسیپی

    مزے دار بادام کی کھیر ریسیپی

    اجزاء:
    دودھ 1 کلو
    بادام 125 گرام پیس لیں
    کریم 125 گرام
    چینی 250 گرام
    الائچی چھوٹی 3 عدد
    چاول 25 گرام 1 گھنٹہ بھگو دیں
    کیوڑہ ایک چائے کا چمچ
    پستہ 15 گرام

    ترکیب:
    بھگوئے ہوئے چاولوں کو گرائینڈ کر لیں ایک دیگچی میں ڈال کر گرم کریں پھر اس میں پسے چاول الائچی پسے بادام اور چینی ڈال کر گاڑھا ہونے تک پکائیں پھر کریم ڈال کر تھوڑی دیر پکا کر چولہے سے اتار لیں کیوڑہ ڈال کر مکس کر لیں اور 2 سے 3 منٹ تک ڈھک کر رکھ دیں کسی ڈش میں ڈال کر پستے ارو چاندی کے ورق کے ساتھ سجا سرو کریں

  • شکر قندی کی کھیر بنانے کا طریقہ

    شکر قندی کی کھیر بنانے کا طریقہ

    اجزاء:
    دودھ 1 لٹر
    شکرقندی 1 کلو
    گھی 1 پاؤ
    کھوپرا آدھا پاؤ
    بادام 1 کھا نے کا چمچ
    سبز الائچی 8 عدد
    پستہ ا کھانے کا چمچ
    کیوڑہ 2 چائے کے چمچ
    چینی آدھا کپ یا حسب ذائقہ

    ترکیب:
    شکر قندی کو ابال کر چھیل لیں اور پیس لیں پھر دیگچی میں گھی ڈال کر گرم کریں اور اس میں سبز الائچی کے دانے ڈال کر 2 منٹ فرائی کریں پھر کھوپرا ڈال دیں اور پسی شکر قندی ڈال کر پکائیں ساتھ ساتھ دودھ ڈالتی جائیں خشک ہونے پر چینی شامل کر دیں اور چمچ مسلسل ہلاتی ریں اور آنچ ہلکی رکھیں چینی کا شیرہ گاڑھا ہو کر جذب ہونے لگے تو آدھا بادام اور پستہ ڈال دیں جب کھیر گھی چھوڑنے لگے تو چولہے سے اتار کر کیوڑہ ڈال کر 3 منٹ تک ڈھک دیں کسی باؤل میں نکال کر ڈرائی فروٹ سے سجا دیں بہترین شکر قندی کی کھیر تیار ہے

  • اخروٹ کی کھیر بنانے کا طریقہ

    اخروٹ کی کھیر بنانے کا طریقہ

    اجزاء:
    دودھ 1 کلو
    چینی 125 گرام
    چاول 50 گرام 4 گھنٹوں کےلئے بھگو دیں
    کیوڑہ آدھا چائے کا چمچ
    کٹے بادام 2 کھانے کے چمچ
    پسے اخروٹ آدھا کپ
    سبز الائچی آدھا چائے کا چمچ
    ناریل پسا 50 گرام
    اخروٹ کٹے ہوئے 1 کھانے کا چمچ
    چاندی کا ورق 1 عدد

    ترکیب:
    ایک دیگچی میں دودھ ڈال کر پکنے کے لیے رکھ دیں جب دودھ میں ابال آجائے تو اس میں چاول ڈال دیں اور ہلکی آنچ پر پکنے دیں جب چاول گل جائیں تو جب چاول گل جائیں تو چینی الائچی پاؤڈر اور پسے ہوئے اخروٹ ڈال دیں اور ہلکی آنچ پر تھوڑا گاڑھا ہونے تک پکنے دیں پھر آدھا ناریل ڈال کر 5منٹ پکا کر کر چولہے سے اتار لیں اور ٹھنڈا ہونے دیں پھر کسی ڈ ش میں ڈال کر اوپر سے بادام ناریل اخروٹ اور چاندی کا ورق لگا کر کھانے کے لئے سرو کریں

  • ذائقہ دار لذیذ کھیر ریسیپی

    ذائقہ دار لذیذ کھیر ریسیپی

    اجزاء:
    دودھ 2 لیٹر
    چینی 2 کپ
    چاول ایک پیالی
    کھویا ڈیڑھ پیالی
    الائچی 5 عدد
    بادام 8 عدد
    پستے 8 عدد
    چاندی کا ورق حسب ضرورت
    یا یہ تینوں چیزیں حسب پسند

    ترکیب:
    چاولوں کو دس منٹ کے لئے بھگو دیں ایک دیگچی میں دودھ ڈال کر ہلکی آنچ پر دس پندرہ منٹ ابال لیں پھر چاول شامل کر کے ہلکی آنچ پر پکائیں اور چمچ ہلاتی رہیں تا کہ کھیر نیچے نہ لگ جائے جب چاولوں کی سوندھی سی خوشبو آنے لگے تو پھر چینی بادام اور پستے اور الائچی شامل کر کے مزید بیس منٹ پکائیں پھر چولہے سے اتار دیں اور ٹھنڈا ہونے دیں جب تھوڑی ٹھنڈی ہو جائے تو کھویا ملاتے ہوئے بلینڈ کر لیں اور کسی بڑی ڈش مین ڈال کر چاندی کے ورق سے سجا دیں اور ٹھنڈی ہونے کے لیے فریج میں رکھ دیں لذیذ اور خوش ذائقہ کھیر تیارہے

  • لذیذ اور خوش ذائقہ بنانا ڈیلائٹ ریسیپی

    لذیذ اور خوش ذائقہ بنانا ڈیلائٹ ریسیپی

    اجزاء:
    کیلے 4 عدد
    کریم 1 پاؤ
    لیموں کا رس 1 کھانے کا چمچ
    بنانا جیلی آدھا پیکٹ
    چینی 2 کھانے کے چمچ
    بسکٹ 3 عدد کوئی سے بھی چاکلیٹ فلیور

    ترکیب:
    کریم کو کسی باؤل میں نکال کر ٹھنڈی ہونے کے لیے کچھ دیر فعیزر میں رکھ دیں پھر نکال کر اسے بیٹر سے اسے پھینٹیں جب تھوڑی سی گاڑھی ہو جائے تو اس میں چینی ملا کر پھینٹ لیں پھر بسکٹس کو موٹا پیس کر آدھا اس کریم میں ملا لیں اور کریم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فریج میں رکھ دیں اور ایک کیلا بھی اس میں مکس کر دیں پھر باقی کیلوں کو چھیل کر گول ٹکڑوں میں کاٹ لیں لیموں کے رس میں آدھا چائے کا چمچ چینی ملا کر کیلوں پر چھڑک دیں بنانا جیلی کو آدھی پیالی ابلتے پانی میں مکس کر کے ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں پھر شیشے کے باؤل میں تھوڑی سی کریم ڈالیں پھر اس پر بنانا جیلی پھیلا کر ڈالیں اس کے اوپر باقی کریم پھیلا کر ڈالیں کیلے اور بسکٹ کے باقی بچے ٹکڑوں سے سجا کر فریج میں رکھ دیں ٹھنڈا ہونے پر سرو کریں

  • مہمان اللہ کی رحمت ، جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں اللہ کی رحمت برستی ہے

    مہمان اللہ کی رحمت ، جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں اللہ کی رحمت برستی ہے

    مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں گھر میں مہمان بعد میں آتا ہے جبکہ اللہ رب العزت اسکا رزق پہلے بھیج دیتے ہیں ایک زمانہ تھا جب لوگ گھرون میں مہمان آنے کی خوشیاں منایا کرتے تھے اور یہ عالم ہوا کرتا تھا کہ اگر مہمان کسی ایک گھر میں آتاتو پورا محلہ کے سارے گھرانے ایک ایک کر کے مہمان کی تواضع کے متمنی ہوتے اور جب مہمان کسی دوسرے گھرانے کی دعوت قبول کر لیتا تو اس گھر میں خوشی کی لہر دور جاتی اور کسی مصروفیت کی وجہ سے مہمان موذرت کر لیتا تو اس گھرانے کے افراد کوئی اچھا سا پکوان خود اس کے گھر پہنچا دیا کرتے کیا اچھا زمانہ اور لوگ ہوا کرتے تھے ماضی کے لوگ اپنی وضع داری کو مقدم رکھتے تھے مہمان کی اہمیت نبی پاک
    صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث سے واضح ہوتی ہے اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہمان اپنا رزق لے کر آتا ہے اہل خانہ کے گناہ اپنے ساتھ لے کرجاتا ہے

    ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ بہت زیادہ اپنے دوستوں کو گھر دعوت دیتا رہتا ہے اور وہ ان کی مہمانداری میں کھانے بنا بنا کے تھک جاتی ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا وہ عورت چلی گئی کچھ دیر بعد اس عورت کے شوہرکو بلوایا اور فرمایا ،”آج میں تمہارا مہمان ہوں ” وہ آدمی بہت خوش ہوا اور جا کر اپنی بیوی کو بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج ہمارے مہمان ہیں ” اسک کی بیوی بے حد خوش ہو گئی اور محنت سے ہر چیز تیار کرنے میں لگ گئی اپنے معزز مہمان ہم سب کے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس پرتکلف اور زبردست دعوت کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے کہا کہ ” اپنی بیوی سے کہنا اس دروازے کو دیکھتی رہے جس میں جاؤں گا ” تو اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور دیکھتی رہی اس نے دیکھا کہ کس طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے نکلتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بہت سے مہلک حشرات اور بچھو بھی گھر سے باہر نکل گئے وہ یہ عجیب و غریب منظر دیکھ کر بے ہوش ہو گئی جب وہ ہوش میں آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے گھر سے مہمان جاتا ہے تو اپنے ساتھ ہر طرح کے خطرات مشکلات اور آزمائشیں اور مہلک جاندار گھر سے باہر لے جاتا ہے اور یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے جب تو محنت سے اس کی خاطر و مدارت کرتی ہو جس گھر میں مہمان آتے جاتے ہیں اس گھر سے اللہ محبت کرتا ہے اور ایسے گھر پر اللہ کی رحمت اور بخشیش نازل ہوتی رہتی ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” جب اللہ کسی کا بھلا چاہتے ہیں تو اسے انعام سے نوازتے ہیں پوچھا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس انعام سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مہمان اپنا نصیب لے کر آتا ہے اور جاتے ہوئے گھر والوں کے گناہ اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے مہمان جنت کا راستہ ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کے ساتھ بے لوث ہو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی و عنہ نے فرمایا اگر تمہارے گھر میہں کوئی مہمان آئے اور وہ بھوکا چلا جائے تو گویا وہ کسی قبرستان میں آیا تھا حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا یے میرے مالک جب تو خوش ہوتا ہے تو کیا کام کرتا ہے اللہ نے عرض کیا "بارش برساتا ہوں” حضرت موسی نے دوبارہ عرض کیا جب تو اور زیادہ خوش ہو تو؟ اللہ پاک نے فرمایا ” تو میں بیٹیاں پیدا کرتا ہوں ” حضرت موسی نے پھر عرض کیا اے خالق و کائنات جب تو سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے ؟ اللہ نے فرمایا پھر میں مہمان بھیجتا ہوں

  • اسلامی اصولوں کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے چند سنہرے اصول

    اسلامی اصولوں کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے چند سنہرے اصول

    نیک اولاد نعمت عظمی ہے نیک اولاد اللہ رب العزت کی بہت بڑی نیک اولاد وہ نعمت کبرٰی ہے جس کا پانے کی خواہش کا اظہار قرآن پاک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی صورت میں موجود ہے ترجمہ ” اے اللہ مجھے نیک اولاد عطا فرما دے” اور کہیں حضرت زکریا علیہ السلام دعا کر رہے ہیں ترجمہ: اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرمائیے یقیناً آپ دعا کو سننے والے ہیں
    نیک اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اوریہ نعمت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنی اولاد کی پرورش اسلامی اصولوں کی روشنی میں کریں اور اسلامی تعلیمات کو ہر صورت میں ان کے لیے مشعل راہ بنائیں بچوں کی تربیت کے متعلق چند ضروری نکات آپ کی پیش خدمت ہیں

    بچپن سے ہی بچے کے دل میں ایمان کی محبت اور ایمان کا بیج بو دینا چاہئے اور انھیں اس بات کی ترغیب دینی چاہئے کہ اللہ ہی ہمارا خالق و مالک اور مشکل کشا ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی ہر چیز پر قادر ہے اس کے سوا کوئی نہیں جو ہمیں روزی دے اور ہماری پریشانیاں دور کرے

    بچوں کو کبھی بھی بددعا نہ دیں بسا اوقات والدین غصے میں آکر بچوں کو بددعائیں دینا شروع ہو جاتے ہیں ایسے بد دعائیں دینے سے بچے سرکش و نافرمان بن جاتے ہیں اور بعض اوقات کوئی قبولیت کی گھڑی بھی ہو سکتی ہے اس لئے بددعائیں دینے سے گریز کرتے ہوئے ان کی اصلاح کے لئے دعائیں کرنی چاہئے اور انھیں نرمی پیار اور شفقت سے سمجھانا چاہئے بعض والدین بچوں پر ضرورت سے زیادہ سختی کرتے ہیں اور ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کر کے ان کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر انھیں بڑی سختی سے مارتے ہیں تربیت کے میدان میں یہ بہت بڑی غلطی ہے بچے تو والدین کے پیار و محبت اور شفقت و عنایت کے پیاسے ہوتے ہیں اس کے برعکس آپ کا یہ معمولی معمولی باتوں پر غصہ بچوں کو ڈھیٹ منہ پھٹ خود سر اور ضدی بنا دیتا ہے جس کا خمیازہ والدین کو بعد میں بھگتنا پڑتا ہے

    بچوں کو ہمیشہ سچ بولنے کا عادی بنائیں مذاق میں بھی ان سے کبھی جھوٹ نہ بولیں اور نہ ہی ان سے جھوٹ بلوائیں جھوٹ سے بچوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر اس طرح انھیں جھوٹ بولنے کی عادت بھی پڑ سکتی ہے ہمیشہ حلال کمائیں اور بچوں کو حلال رزق کھلائیں کیونکہ حرام کمائی کا بچوں پر برا اثر پڑتا ہے کبھی بھی بچوں کے سامنے غیر شرعی نا پسندیدہ اور منکر کام نہ کریں اس سے ان کی تربیت پر منفی اثر پرتا ہے مثلاً کسی کو برا بھلا کہنا کوسنا اور جھوٹ بولنا وغیرہ

    والدین اپنے بچون کی نفسیات نہیں سمجھتے یہ بات بھی اولاد کی صحیح تربیت میں رکاوٹ کا باعث ہے بعض بچوں کو بہت جلدی غصہ آتا ہے بعض بچے معتدل ہوتے ہیں اور بعض بچے متحمل مزاج ہوتے ہیں اس لیے ان سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ ان کی صحیح تربیت میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے ان کی نفسیات کو سمجھ کر ہی ان کی تربیت کی جا سکتی ہے والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ اولاد کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ دیں بظاہر تو ایک دو بچوں کی تربیتکریں گے اصل میں اس سے آئندہ آنے والی کئی نسلیں سنور جائیں گی اور یہ سلسلہ بہت دور تک جائے گا

  • اولاد کی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری

    اولاد کی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری

    نیک اولاد اللہ تعا لٰی کی بہت بڑی نعمت ہے اسی لئے انبیاء اکرام علیھم السام کثرت سے نیک اولد ملنے کی دعائیں مانگا کرتے تھے اور یہی نیک اولاد مومنین کے کیے صدقہ جاریہ بنتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی نیک اولاد کے سبب نیک اعمال کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا بلکہ جاری و ساری رہتا ہے جیسا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” انسان جب دارالعمل سے دارالجزا کی طرف روانہ ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلسہ منقطع ہو جاتا ہے لیکن تین چیزیں باقی رہتی ہیں ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے فائدہ حاصل ہو تیسری نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ بعض نیکیاں ایسی ہیں کہ انسان کے مرنے کے بعد بھی ان نیکیوں کا اجر ملتا رہتا ہے لیکن اولاد سے یہ نعمت حاصل کرنے کے لئے والدین کو بھی کچھ ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی اللہ پاک نے ہمیں اسلام جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے اس پر ہم اللہ کا جتنا شکر کریں کم ہے والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش اسلامی اصولوں کی روشنی میں کریں انھیں اس طرح سے جینا سکھائیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی میں ہی ان کی خوشنودی ہو اور اوسلامی تعلیمات کو ہر لحاظ ہر صورت میں ان کے لئے مشعل راہ بنائیں کہ اس میں ہی ان کی نجات پوشیدہ ہے اور یہی راہ حق بھی ہے اولاد کا بچپن والدین کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اسی لئے والدین اپنی بھر پور توجہ سے اپنے بچوں کا بچپن قرآن و حدیث
    کی روشنی میں سنوار سکتے ہیں ان کا بچپن تہذیب و اخلاق کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں علم تو وہ ہے جو بچپن میں سیکھا اور بردباری تو وہ ہے جو بڑے ہو کر سیکھی انسان کے اچھے یا برے اخلاق کا بنیادی وقت ان کا بچپن ہی ہوتا ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ” ہر ایک بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بناتے ہیں ، نصرانی بناتے ہیں، مشرک بناتے ہیں اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بچے تو فطرت اسلام پر پیدا ہوتے ہیں مگر ان کی تربیت والدین پر منحصر ہے اگر والدین نے اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق قرآن و حدیث کی روشنی میں کی ہوگی تو ان کے بچے ان کے والدین کے لئے صدقہ جاریہ بنیں گے لیکن اس کے برعکس ان کی تربیت ٹھیک نہ ہوئی تو ان کی زندگی تو برباد ہو گی ہی ان کی آنے والی نسلوں کے بگڑنے کا خدشہ رہتا ہے