Baaghi TV

Category: خواتین

  • لذیذ اور عمدہ کھٹی میٹھی چٹنی بنانے کی ترکیب

    لذیذ اور عمدہ کھٹی میٹھی چٹنی بنانے کی ترکیب

    عمدہ کھٹی میٹھی چٹنی بنانے کی ترکیب
    اجزاء:
    املی کا گاڑھا رس 2 کپ
    سفید زیرہ 2 چائے کے چمچ
    چاٹ مصالحہ 2 چائے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    کا لا نمک 2 چٹکیاں
    سونٹھ پسی ہوئی 1 کھانے کا چمچ

    ترکیب:
    سفید زیرہ بھون کر پیس لیں املی کے رس میں سونٹھ چاٹ مصالحہ اور زیرہ ڈال کر پکائیں 7 منٹ بعد املی کے آمیزے سے آدھا آمیزہ نکال کر علیحدہ عکھ لیں باقی آدھے حصے میں چینی ملا لیں جو آمیزہ علیحدہ کیا تھا ٹھنڈا ہونے کے بعد اس میں کالا نمک اور نمک ملا کر مکس کر لیں مزیدارکھٹی میٹھی چٹنی تیار ہے

  • پشاوری چٹنی بنانے کی ترکیب

    پشاوری چٹنی بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    سبز مرچیں 4 عدد
    پیاز 2 عدد
    لہسن کے جوئے 6 عدد
    لیمن جوس 2 کھانے کے چمچ
    ٹماٹر 2عدد
    املی کا رس 4 کھانے کے چمچ
    سبز دھنیا 8 کھانے کے چمچ
    پانی حسب ضرورت
    نمک حسب ذائقہ
    پودینہ آدھی گٹھی

    ترکیب:
    تمام اجزاء کو لنگری میں موٹا موٹا پیس لیں اگر چوپر میں پیسیں تو بھی موٹا موٹا پیسنا ہے باریک پیسٹ نہیں بنانا ہے سب چیزوں کو موٹا موٹا پیس کر کسی باؤل میں نکال لیں اور فریج میں محفوظ کر لیں یہ مزیدار چٹنی کسی بھی ڈش کے ساتھ سرو کریں

  • گرمیوں میں کیسا میک اپ اور لباس استعمال کرنا چاہئے؟

    گرمیوں میں کیسا میک اپ اور لباس استعمال کرنا چاہئے؟

    گرمی کے موسم میں میک اپ کے سٹائل اور لوازمات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں گرمیوں میں میک اپ کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے

    موسم گرما میں ایسا کاسمیٹک استعمال کریں جو جلد کے لیے نقصان دہ نہ ہو بلکہ میک اپ خریدنے سے پہلے کسی ماہر بیوٹیشن سے مشورہ کر لیں اور اپنی سکن کے حساب سے میک اپ خریدیں جو آپ کی سکن کو سوٹ کرتا ہو گرمیوں میں چونکہ پسینہ زیادہ آتا ہے اس لیے میک ایسا ہونا چاہئے جو کہ نہ صرف چہرے پر جما رہے بلکہ اس کے منفی اثرات کا بھی سامنا نہ کرنا پڑے

    گرمیوں میں عام روٹین میں ہلکا پھلکا میک اپ ہی صحیح رہتا ہے مثلاً آپ کسی اطھی کمپنی کے سن بلاک کے ساتھ کوئی ہلکا آئی شیڈ بلش آن اور لپ اسٹک لگائیں گرمیوں میں آئی میک اپ میں ہلکے براؤن کلر کا آئی شیڈ اور ہلکے وائٹ سلور کلر کا آئی لائنر آنکھوں کو خوبصورت بناتا ہے

    گرمیوں می ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے ڈھالے لباس پہنیں کاٹن کے کپڑے بہترین رہتے ہیں سفید رنگ کو ترجیح دیں کیونکہ سفید رنگ دھوپ سے بچاتا ہے گرمیوں میں روزانہ کپڑے چینج کریں اگر روزانہ نہیں تو دوسرے دن لازمی لباس چینج کریں چھوٹے نوزایئدہ بچوں کو بھی کپڑے میں لپیٹ کر نہ رکھیں انھیں بھی ہلکے پھلکے لباس پہنائیں

    صبح اور دوپہر کے وقت بھی کھڑکیوں پر پردے ڈال دیں تاکہ دھوپ اندر نہ آئے اس مین گرمی کی حدت کم کرنے میں مدد ملے گی

  • گرمی کے سب سے زیادہ اثرات کس پر ہوتے ہیں؟

    گرمی کے سب سے زیادہ اثرات کس پر ہوتے ہیں؟

    ویسے یوں تو کوئی بھی گرمی سے متاثر ہو کر بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور گرمی ان پر بہت جلد اثر انداز ہوتی ہے لہذا گرمیوں میں ایسے لوگوں کا خآص خیال رکھنا چاہئے گرمیوں سے فرار ممکن نہیں اس لیے گرمی کا مقابلہ کرنا ہی عقلمندی ہے

    وہ لوگ جن کی عمر 65 سال سے زائد ہو ان میں گرمی سے لڑنے کی صلاحیت بہت معمولی ہوتی ہے گرم موسم کی سختی کا احساس بھی ان میں کم ہوجاتا ہے مگر گرمی ان پر اپنا منفی اثر ضرور ڈالتی ہے

    نو زایئدہ سے لے کر چار سال کی عمر تک کے بچے انتہائی حساس ہوتے ہیں انھیں گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچانا چاہئے بیما افراد خاص طور پر دل کے مریض اور ہائی بلڈ پریشر اور ڈپریشن والوں پر بھی گرمی زیادہ اثر انداز ہوتی ہے

    بھاری بھرکم اور زائدالوزن افراد بھی گرمی کے برے اثرات کی زد میں زیادہ رہتے ہیں کیونکہ ان کا موٹا جسم بیرونی درجہ حرارت کو فوراً جذب کر لیتا ہے اور زیادہ دیر تک اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے

    ہو افراد جو محنت والا کام کرتے ہیں اور ورزش کرتے ہیں ان میں ڈی ہائڈریشن کا خطرہ دوسرے افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے ایسے افراد گرم موسم کی مختلف بیماریوں کا شکار بھی ہو سکتے ہیں

  • گرمی کی شدت کو کم کرنے اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری اقدامات

    گرمی کی شدت کو کم کرنے اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری اقدامات

    گرمی کے موسم میں بے احتیاطی موسم کی شدت کا احساس بڑھانے کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی ببیماریوں کا سبب بھی بن جاتی ہے ایسے موسم میں جب گرمی عروج پر ہو حبس سے دم گھٹ رہا ہو سورج آگ برسا رہا ہو مناسب خوراک کا استعمال موسم کی ان تکالیف سے نجات دلا سکتا ہے خواتین کو چند ایسی ٹپس بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے وہ ڈٹ کر گرمی سے مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو اور اپنے گھر والوں کو مختلف امراض سے محفوظ رکھ سکتیں ہیں

    تلی ہوئی اور مصالحے دار چیزوں سے پرہیز کریں کیونکہ یہ جسم کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کرنے کا سبب بنتی ہیں صبح ناشتے میں حلوہ پوری اور انڈے پراٹھے کی بجائے ہلکا پھلکا ناشتہ کریں خاص طور پر وہ لوگ جنھیں ناشتے کے فورا بعد باہر جانا ہو وہ
    ہر گز بھاری ناشتہ نہ کریں اس سے معدہے کو ناشتہ ہذم کرنے میں مناسب وقت نہیں ملے گا اور کام کی نرفتار سست پڑ جاتی ہے بلکہ ہلکا پھلکا ناشتہ کریں اس سے طبیعت میں بھاری پن پیدا نہیں ہوگا اور معدے کا نظام بھی بہتر طور پر کام کرتا رہے گا

    دوپہر اور رات کے کھانے میں سبز پتوں والی سبزیاں اور کھیر ککڑی وغیرہ لازمی استعمال کریں یہ جسم کے درجہ حرارت میں کمی کا ذریعہ ہیں ان کے علاوہ خربوزہ اور تربوز کا استعمال بھی اپنی خوراک میں شامل رکھیں یہ بھی جسم کی گرمی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر استعمال کریں پہلے سے کٹے اور گلے سڑے پھل استعمال نہ کریں

    تیز دھوپ میں نکلنے سے لُو لگنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں اس لئے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے دن میں 10 سے 12 گلاس پانی لازمی پینا چاہئے یہ گرمی بھگانے کا سستا مفید اور آسان ترین ذریعہ ہے اور اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں کےپاس بھی ہر وقت پانی موجود رکھیں شکر اور چکنائی کا استعمال کم کر کے پھل اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں

    بازاری اور کولا مشروبات کی بجائے دہی اور دودھ کی لسی فالسے اور صندل کا شربت اور لیموں پانی استعمال کریں یہ پیاس بجھاتے ہیں اور گرمی میں اس سے راحت بھی ملتی ہے چائے اور کافی کا استعمال ختم کر دیں اس کی جگہ سبز چائے استعمال کریں

    دن کے درمیانے حصے میں خصاصا 11 سے 4 بجے کے درمیان سارج پوری طرح آگ برسا رہا ہوتا ہے اس وقت اس کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہو تی ہیں اس سے بچنے کے لئے چھتری لی لیں یا پھر سر کو اچھی طرح سے ڈھانپ لیں کہ اس سے چہرے پر بھی سایہ پڑارہے کیونکہ دھوپ سے ہمارے چہرے کی جلد ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اس کے علاوہ سن گلاسز بھی لگانا نہ بھولیں

  • جو کوشش کرتا ہے وہ پالیتا ہے کامیابی حاصل کرنے کا سنہرا اصول

    جو کوشش کرتا ہے وہ پالیتا ہے کامیابی حاصل کرنے کا سنہرا اصول

    "جو کوشش کرتا ہے وہ پا لیتا ہے” یہ ایک مشہور منقولہ ہے اور آپ نے بارہا سن رکھا ہوگا ہم بہت سی باتیں سن اور سمجھ لیتے ہیں لیکن ہم ان باےتوں کو عملی زندگی میں نظر انداز کر دیتے ہیں دراصل ہمیں اپنے لیے ان باتوں کی ضرورت اور اہمیت کا احساس ہی نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ بتیں دراصل دوسروں کے لیے ہیں ہمیں تو ان کی ضرورت ہی نہیں ہے مثآل کے طور پر شیخ سعدی کے اقوال زریں لے لیں بچپن میں ان کی حکمت و بصیرت سے بھر پور باتیں ان کے بیان کردو قصے نہ جانے کتنی بار پڑھے ہوں گے آپ بتائیں ان کی سنہری باتوں پر ان کے اقوال اور قصوں پر ہم نے آج تک کتنا عمل کیا کتنا غور کیا جو کوشش کرتا ہے وہ پا لیتا ہے اس منقولہ پر غور کیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ کامیابی کے لیے محنت جدو جہد اور کوشش کرنا ہی پڑتی ہے مگر یہ کام تو ہمیں سچ میں بہت ہی برا لگتا ہے ہم کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں مگر بغیر محنت کیے اس کی تعبیر چاہتے ہیں مگر ایک بات یہ بھی ہے کہ دیوانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا پنجابی کی ایک کہاوت ہے ” نہ ٹریں تے چا کینائیں نہ کھاویں تے کی کراں؟” جسکا مفہوم ہے کہ اگر تم چل نہ سکو تو میں اٹھا لوں گا لیکن اگر تم نہ کھاؤ تو میں کیا کروں ؟ یعنی جب آپ اپنے حصے کا کام نہیں کرتے تو آپ کی وجہ سے بہت سے لوگ مشکلات اور تکلیفوں کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں آپ کے یہل خانہ اور دوست احباب کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کے ساتھ آپ زندگی کے کسی بھی شعبے میں جڑے ہوئے ہوں اپنے حصے کا کام بہرحال آپ کو ہی سر انجام دینا ہے اگر آپ اپنے حصے کا کام کریں گے تو دوسروں کو آپ کی وجہ سے راحت فرحت اور سکون اور خوشی ہو گی ہر شخص کو اپنے حصے کا کام کرنا ہی پڑتا ہے یہی دنیا کی زندگی کا اصو ل ہے بدقسمتی سے آج ہر دوسرا شخص بڑی بڑی باتیں بنانا اور خواب دیکھنا تو خوب جانتا ہے اور سمجھتا ہے کام ہو گیا دنیا میں انقلاب آ گیا مگر ایسا حقیقت میں نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے خیالی دنیا میں اور باتوں سے بھلا کام کس کا بنا ہے اس کو تو خیالی پلاؤ کہتے ہیں اور پکانے والے کو شیخ چلی بڑے افسوس کی بات ہے بدنصیبی سے آج یہاں ہر دوسرا انسان شیخ چلی ہے انسان کچھ بو کر ہی کچھ کاٹتا ہے اہل جنت کو یہ نعمت ضرور نصیب ہو گی کہ ان کے کہنے سے ہی کام ہو جایا کریں گے لیکن ابھی تو فی الحال ہم اس دنیا میں ہیں یہاں پکی پکائی روٹی سامنے آ جائے تا بھی نوالہ خود ہی توڑ کر منہ میں ڈالنا پڑتا ہے ورنہ بھوک نہیں مٹتی اور کوئی بھی بڑے بڑے کام کے لیے ہاتھ پیر ثانوی حیثیت نہیں رکھتے اصل حیثیت تو دل و دماغ کو حاصل ہے یعنی قوت فیصلہ ہمت اور ذہانت جیسے کہ ایک صاحب ایک معذور شخص کو وہیل چیئر پر سیرو سیاحت کی غرض سے سفر کرتا دیکھ کر بہت حیران ہوئے انہوں نے اس شخص سے اپنی حیرت کا اظہار کیا تو اس نے ہنس کر کہا کیا ہوا میری ٹانگیں نہیں مگر دل اور دماغ تو ہے نہ” لہذا آپ کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوشش تو بہر حال کرنا ہی ہو گی اور کوشش کا صلہ کامیابی ہے حالات کو بدلنے اور کوئی بڑی تبدیلی لانے کے لیے بد گمانی کم ہمتی وسوسوں رنج و اندیشوں کو جھٹک کر کوئی عملی قدم اٹھائیں اگر رنج کی سو وجہ آپ کو نظر آ رہی ہوں تو امید کی بھی ہزار وجہ موجود ہوتی ہیں قدم اٹھانے سے کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے

  • قیمہ بھرے کریلے بنانے کا آسان طریقہ

    قیمہ بھرے کریلے بنانے کا آسان طریقہ

    اجزاء:
    قیمہ بیف یا مٹن 1 پاؤ
    کریلے 4 عدد
    گڑ آدھا چائے کا چمچ
    کلونجی 2 چٹکیاں
    پیاز 1عدد چھوٹی
    املی آدھا کپ
    سونف آدھا چائے کا چمچ
    ہلدی آدھا چائے کا چمچ
    ہری مرچ 3 عدد
    تیل 1 پیالی
    ادرک لہسن پیسٹ آدھا کھانے کا چمچ
    پسی لال مرچ آدھا کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ

    ترکیب:
    کریلے چھیل کے درمیان سے چیرا لگا کر بیج نکال دیں بغیر دھوئے نمک ہلدی اور گڑ لگا کر رکھ دیں آدھے گھنٹے بعد پانی سے دھو کر چھلنی میں نچڑنے کے لیے رکھ دیں پتیلی میں تھوڑا سا تیل ڈال کر گرم کریں اس میں پیاز ڈال کر فرائی کریں جب ہلکی گلابی ہو جائے تو نکال لیں پھر قیمہ ادرک لہسن کلونجی نمک ہلدی سونف اور مرچ ڈال کر اچھی طرح بھون لیں جب پانی خشک ہو جائے تو فرائی کی ہوئی پیاز اور ہری مرچ ڈال کر ڈھکن سے ڈھک کر 5 منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں پھر چولہا بند کر دیں اور ٹھنڈا ہونے دیں جب ٹھنڈا ہو جائے تو کریلوں میں بھر کر کریلوں کو اچھی طرح بند کر کے دھاگا باندھ دیں اب ایک پین یا کڑاہی میں تیل گرم کر کے اس مین اچھی طرح فرائی کر لیں جب گولڈن ہو جائیں تو نکال لیں اور قیمہ والی پتیلی میں رکھ دیں پھع املی کا رس اور تھوڑا سا گڑ ڈال کر 10 منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں جب تیل اوپر جائے تو قیمہ بھرے کریلے تیار ہیں

  • بیسن کی روٹی اور پودینے کی چٹنی بنانے کی ترکیب

    بیسن کی روٹی اور پودینے کی چٹنی بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    بیسن آدھا کلو
    آٹا 1 پیالی
    پودینہ آدھی گٹھی
    پسی لال مرچ حسب ذائقہ
    نمک حسب ذائقہ
    مکھن آدھا کپ
    سفید زیرہ چائے کا آدھا چمچ
    ہرا دھنیا آدھی گٹھی
    ہری مرچیں 2عدد

    چٹنی کے لیے اجزاء:
    پودینہ آدھی گٹھی
    گول لال مرچیں 3 عدد
    نمک حسب ذائقہ
    املی کا گودا آدھی پیالی
    ہری مرچیں 3 عدد
    لہسن جوئے 3 عدد
    گُڑ آدھا کھانے کا چمچ

    ترکیب:
    بیسن میں تمام اجزاء ملا کر سخت آٹا گوند لیں اور 15 سے 20 منٹ کے لیے رکھ دیں پھر اس آٹے کے پیڑے بنا کر روٹیاں بیل لیں روٹیوں کوتوےپر دونوں طرف سے اچھی طرح سینک کراتار یں اور ان پر مکھن لگاتے جائیں چٹنی بنانے کے لیے بلینڈر میں گُڑ نمک اور املی کے علاوہ تمام اجزاء ڈال دیں اور اچھی طرح سے مکس کر کے بلینڈ کر کے باؤل میں نکال لیں اس میں گُڑ املی اور نمک ملا کر پین میں ڈالیں چند منٹ پکا کر باؤل میں ڈال لیں بیسن کی روٹیوں کے ساتھ سرو کریں

  • پاکستان کی نامور خواتین

    پاکستان کی نامور خواتین

    خاتون سفیر
    بیگم رعنا لیاقت علی خاں پاکستان کی پہلی سفیر خاتون تھیں انھیں نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم ممالک کی پہلی سفیر خاتون کا اعزاز بھی حاصل ہے انہوں نے ستمبر 1954 سے جون 1961 تک نیدر لینڈ میں بطور سفیر اپنی خدمات سرانجام دیں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں کی اہلیہ تھیں

    خاتون ڈپٹی سپیکر
    مسز اشرف عباسی ڈپٹی سپیکر کے عہدے کا حلف اٹھانے والی پاکستان کی پہلی خاتون تھیں انھیں 11 اگست 1973 کو قومی اسمبلی کا ڈپٹی سپیکر منتخب کیا گیا

    خاتون سیکرٹری
    مس گلزار بانو پاکستان کی پہلی وفاقی سیکرٹری ہیں انھیں 3 فروری 1975 ء کو اس عہدے کے لیے منتخب کیس گیا اس سے پہلے وہ کامرس ڈویثزن کی ایڈیشنل سیکرٹری تھیں پھر انھیں مزید ترقی دے کر ملازمین کے بہبود فنڈ اور انشورنس فنڈ کی مینجننگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا

    خاتون سرجن
    ڈاکٹر کشور نازلی محمود پاکستان کی پہلی جنرل سرجن ہیں 1939ء میں امرتسرمیں پیدا ہوئیں ینہوں نے لاہور سے میٹرک اور فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا اور گنگا رام ہسپتال میں ملازمت اختیار کر لی 1964ء میں جنرل سرجری میں رائل کالج آف سرجنز انگلستان کی فیلو شپ ایف آر سی ایس کی ڈگری لی اور وہاں سے واپسی پر کراچی میں ملازمت اختیار کر لی اور بطور جنرل سرجن ان کا تقرر 1964ء میں ہوا

    خاتون شاعرہ
    پاکستان کی پہلی خاتون شاعرہ ادا جعفری ہیں ان کا اصلی نام عزیز جہاں ہے اور 1924ء کو بھارت میں پیدا ہوئیں انہوں نے گھر پر ہی تعلیم مکمل کی ان کے والد کا نام بدر الحسن تھا شاعری کے مجموعوں میں "غزالاں تم تو واقف ہو” 1974ء "شہر درد” 1968″ ” ساز سخن” 1982ء ” میں ساز ڈھونڈتی رہی ” 1950ء قابل ذکر ہیں ان کا کلام ملک کے معروف ادبی رسائل میں چھپتا رہا ہے انہیں تمغہ امتیاز بھی مل چکا ہے بائیکو لکھنے میں بھی مہارت رکھتی ہیں "شہردرد” پر انہیں 1968ء کا آدم جی ادبی ایوارڈ بھی مل چکا ہے

    پہلی خاتون وزیراعظم
    بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی وزیراعظم خاتون تھیں زوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں
    1973ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ ئنیورسٹی سے فلاسفی سیاسیات اور معاشیات میں گریجویشن کی اور دوران تعلیم آکسفورڈ کے انتخابات میں حصہ لیا اور یونین کی صدر منتخب ہوئیں پودٹ گریجویٹ مکمل کرنے کے بعد 1977 میں وطن واپس لوٹ آئیں 1988ء میں ضیاءالحق کی موت کے بعد ان کی پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور 34 سال کی عمر میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی کم عمر ترین وزیر اعظم بن گئیں 2 دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا

  • قربانی کا گوشت محفوظ کیسے کیا جائے؟

    قربانی کا گوشت محفوظ کیسے کیا جائے؟

    عیدالضحی مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے جس میں مسلمان گائے بکری بھیڑ اور اونٹ کی اللہ کی راہ میں قربانی کرتے ہیں شریعت کے مطابق قربانی کا یہ گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جات ہے ایک حصہ غریبوں کے لیے ایک رشتہ داروں اور ایک اپنے لیے رکھا جاتا ہے قربانی کے گوشت کی کٹائی اور اسے محفوظ کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے خصوصا گرمیوں میں گوشت کے خراب ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے گوشت کو 3 ماہ سے زیادہ سٹور نہیں کرنا چاہئے کیونکہ زیادہ عرصہ رکھنے سے گوشت کی غذائیت اور ذائقہ ختم ہو جاتا ہے اسی طرح فریج کے درجہ حرارت کو بار بار کم یا زیادہ کرنے سے گریز کریں اس سے گوشت کی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔

    قربانی کے گوشت کو محفوظ کرنے سے متعلق چند باتوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہےتازہ کٹے ہوئے گوشت کا درجہ حرارت تھوڑ زیادہ ہوتا ہے اس لیے اسے سب سے پہلے اسے ٹھنڈا کرنا ضروری ہے اس کے لیے گوشت کو ٹھنڈی جگہ رکھا جائے تا کہ اس کا درجہ حرارت کم ہو سکے قربانی کے گوشت کو فریزر اور فریج میں رکھنے میں تاخیر نہ کریں، فریج سے باہر دو گھنٹے تک گوشت کو چھوڑے رکھنے پر بیکٹریا کا حملہ ہوسکتا ہے، اس سے گوشت خراب ہوسکتا ہے۔

    قربانی کے گوشت کو فریز کرنے سے پہلے پارچوں کو اچھی طرح دھو لیں اور اس کو چھلنی میں رکھ کر اس کا پانی نکلنے دیں پھر چاہے اسے پارچوں کی شکل میں رکھیں بوٹیوں کی شکل میں یا قیمہ بنوا لیں عام طور پر جتنا گوشت ایک وقت میں استعمال کرتے ہیں اس حساب سے پیکٹ بنا لیں ائیر ٹائٹ تھیلیوں میں اس طرح بند کریں کہ نہ اس میں پانی ہو اور نہ اس میں ہوا ہو چاہے تو یہ پیکنگ ڈبل بھی کر سکتے ہیں تا کہ نمی برقرار رہے –

    ہڈیوں والے گوشت یا ہڈیوں کو پیک کرتے ہوئے یہ خیال رکھیں کہ نوکیلی ہڈی کی وجہ سے پیکٹ نہ پھٹے اس طرح فریزر میں موجود خشک ہوا پیکٹ میں داخل ہو کر گوشت کو خشک کر دے گی قربانی کے گوشت رکھنے سے پہلے فریزر کو ہائی کول پر کر دیں تاکہ گوشت جلدی ٹھنڈا ہو جائے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے گوشت رکھنے کے بعد فریزر کو بار بار نہ کھولیں اس طرح گوشت دیر میں فریز ہوگا گوشت کی تھیلیون کو ایک دوسرے پر نہ رکھیں اس طرح گوشت فریز ہونے میں وقت لگے گا اس لیے گوشت کی تھیلیوں کو فریزر میں پھیلا کر رکھیں تاکہ یہ آسانی سے فریز ہو جائیں گوشت کو فریز ہونے کے بعد تھیلیاں ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر جگہ بنا سکتے ہیں-

    فریز شدہ تھیلیاں ایک دوسرے سے نہ چپکیں گی نہ ہی ان کا شیپ خراب ہوگا قربانی کے گوشت کو پگھلانے کے لیے گوشت کو کچن کے کاؤنٹر پر نہ رکھنے یا گرم پانی میں ڈالنے کی بجائے ریفریجریٹر میں ہی پگھلائیں گوشت کو پکانے سے 8 یا 10 گھنٹے پہلے فریزر سے نکال کر ریفریجریٹر میں رکھ دیں آہستہ آہستہ گوشت پگھل جائے کا جراثیم سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ گوشت تازہ اور صحت بخش رہے گا اکثر لوگ پگھلا ہوا گوشت دوبارہ فریز کر لیتے ہیں جبکہ ایسا کرنا درست نہیں گوشت پگھل جائے تو اسے دھوکر دوبارہ استعمال کر لیں-

    قربانی کے گوشت پر نام لکھنا نہ بھولیں تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ اس میں کس طرح کا گوشت پسندے چانپیں اور قیمہ ہے اس طرح آپ کو اپنی ضرورت کا پیک ڈھونڈنا نہیں پڑے گا قربانی کے گوشت کی ہیک ختم کرنے کے لیے پکانے سے پہلے گوشت کو نمک پانی بیسن سرکہ یا لیموں کا رس مل کر دھولیں پھر پکائیں