Baaghi TV

Category: ہزارہ

  • ہری پورمیں افسوسناک واقعہ، لین دین کے تنازعہ پر گولیاں چل گئیں، 7 جاں بحق، 8 زخمی

    ہری پورمیں افسوسناک واقعہ، لین دین کے تنازعہ پر گولیاں چل گئیں، 7 جاں بحق، 8 زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہری پور کے علاقے تھانہ کھلابٹ کی حدود افغان کیمپ میں رقم کی لین دین ہر تصادم کے نتیجے میں سات افغان مہاجرین جاں بحق جبکہ آٹھ افراد شدید زخمی ہو گئے

    ہری پور کے افغان کیمپ نمبر6/7کے رہائشیوں مین پیسوں کے لین دین میں تصادم گولیاں چل گئیں سیکٹر نمبر ایک چاندنی چوک ڈاکخانہ کےباہر افغان مہاجرین میں تصادم ہوا اس دوران جدید اسلحہ سے لیس افغانیوں نے فائرنگ کی جسمیں تاحال ساتھافغان مہاجرین کے جاں بحق اطلاعات ہیں

    8 افراد فائرنگ کی زد میں آگرشدید زخمی ہوئے جاں بحق اور شدید زخمیوں کو ٹرامہ سنٹر منتقل کیا جارہا ہے جاں بحق افرادکو ٹرامہ سنٹر جبکہ شدید زخمیوں کو ایبٹ آباد ریفرکیا جارہا یے.

    واقعہ کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے آئی جی کے پی سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے،آئی جی نے زخمیوں کے بہترین علاج معالجے اورملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے

  • سینیٹر طلحہ محمود کی قیادت میں ہزارہ صوبے کی تحریک ،اسلام آباد کی جانب ہو گا مارچ

    سینیٹر طلحہ محمود کی قیادت میں ہزارہ صوبے کی تحریک ،اسلام آباد کی جانب ہو گا مارچ

    سینیٹر طلحہ محمود کی قیادت میں ہزارہ صوبے کی تحریک ،اسلام آباد کی جانب ہو گا مارچ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین سردار محمد یوسف،سینیٹرمحمد طلحہ محمود ، سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی، سینیٹر پیر صابر شاہ ،ایم این اے سجاد اعوان ، ایم این اے ملک آفرین خان ، مرکزی کو آرڈی نیٹر سجاد قمر نے کہا ہے کہ ہزارہ صوبہ ایک کروڑ عوام کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ہزارہ صوبہ کے لیے تحریک کو منظم کیا جا رہا ہے۔پہلے مرحلے پر 19 فروری کو کراچی میں صوبہ ہزارہ کنونشن ہو گا۔ اور اس کے بعد مرحلہ وار ہزارہ کے تمام اضلاع اورایبٹ آباد میں مرکزی کنونشن اور پھر اسلام آباد میں مارچ کریں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹر محمدطلحہ محمود کی رہائش گاہ پر صوبہ ہزارہ تحریک کے اجلاس اور بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں مذکورہ رہنماؤں کے علاوہ سید جنید قاسم شاہ، سید ریاض علی شاہ،چیئرمین سجاد اعوان، مولانا عبدالمجید ہزاروی، مولانا ہارون رشید، قاری محبوب الرحمٰن، سید گل بادشاہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔

    جمعیت علماء اسلام ف کے سینیٹر طلحہ محمود بازی لے گئے، باقی سب دیکھتے رہے، ایسا کام کیا کہ عوام بھی حیران رہ گئی

    سینیٹر طلحہ محمود کا بیٹا بھی والد کے نقش قدم پر،غریبوں نے دی دعائیں

    چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ انتظامی حوالے سے مکمل میرٹ پر صوبہ بنتا ہے۔پاکستان میں جہاں جہاں انتظامی بنیادوں پر صوبے بن سکتے ہیں۔بنائے جائیں۔ ہزارہ کے عوام نے اپنی جانوں کی قربانی دے کے صوبے کے مطالبے کی بنیاد رکھی ۔اور پورے ملک کے پسے ہوئے طبقے کو زبان دی۔ ہم صوبے کے لیے آئینی قانونی طاقت کے ساتھ ساتھ بھرپور عوامی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کریں گے اور اس سلسلے میں 19 جنوری کو کراچی میں صوبہ ہزارہ کنونشن منعقد کیا جائے گا۔اس کے بعد ہزارہ تحریک کی قیادت ہزارہ کے تمام اضلاع کا دورہ کرے گی اور آخر میں ایبٹ آباد اور پھر اسلام آباد میں صوبہ بناؤ کنونشن اور مارچ کیے جائیں گے۔

    قومی اسمبلی و سینیٹ میں ہزارہ صوبہ بل کی حمایت کے لیے سینیٹرمحمد طلحہ محمود ،مرتضی جاوید عباسی ، سیںٹر پیر صابر شاہ پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئ۔جو تمام جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کرے گی ۔جبکہ سینیٹ میں بل لانے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔

    مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ پہلی دفعہ صوبوں کے حوالے سے قومی قیادت متفق ہے۔حکومت کی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔حکومت نے اتفاق رائے کے لیے وقت مانگا۔کافی وقت گزر چکا ہے۔اپوزیشن نے بھی دو تہائی اکثریت سے بل پاس کرانے کے لیے حکومت کو اپنی حمایت کایقین دلایا ہے۔

    سینیٹرمحمد طلحہ محمود نے کہا کہ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے۔اور ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ صوبہ ہزارہ بل پہلے سینیٹ میں لے آئیں۔اور اس کے لیے کام شروع کر رہے ہیں۔ تمام قومی قیادت کو اس پر جمع کریں گے۔ا نئے صوبے بننے میں کیا رکاوٹ ہے۔نئے صوبے کیوں نہیں بنائے جاتے۔نئے صوبے بننے سے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ ہزارہ صوبہ کے لیے منظم جدوجہد کریں گے۔اور ہر محاذ پر اپنی آواز بلند کریں گے۔

    سینیٹر پیر صابر شاہ، ممبران قومی اسمبلی سجاد اعوان ، ملک آفرین خان ، سید جنید قاسم ،سجاد قمر نے کہا کہ صوبہ ہزارہ عوام کا جائز مطالبہ ہے۔اور یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم سڑکوں پر بھی نکلیں گے اور پارلیمنٹ میں بھی اپنی آواز پہنچائیں گے۔انھوں نے کہا کہ انتظامی سطح پر نئے صوبے بنائے جائیں۔عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کے لیےہم نے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

  • بجلی کی حالیہ لوڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ سامنے آگئی

    بجلی کی حالیہ لوڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ سامنے آگئی

    ہری پور۔ (اے پی پی) تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی کے باعث تربیلا بجلی گھر کے 10 پیداواری یونٹ بند ہو گئے ، بجلی کی پیداوار کم ہو کر ایک ہزار 50میگاواٹ پر آگئی۔ تفصیلات کے مطابق تربیلا ڈیم کی ڈیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں کمی کر دی گئی ہے۔ڈیم سے پانی کا اخراج 40ہزار کیوسک کر دیا گیا، پانی کے اخراج میں کمی سے تربیلا بجلی گھر کے 17پیداواری یونٹوں میں سے 10پیداواری یونٹ نے پیدا وار بند کر دی ہے۔ سات یونٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ جن سے ایک ہزار پچاس میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد میں بھی کمی آگئی ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد 39ہزار نو سو کیوسک ہو گئی ہے۔ جبکہ ڈیم میں پانی کی سطح 1550فٹ سے کم ہو کر 1525.37فٹ پر آگئی ہے۔

  • آتشزدگی کے باعث 3 مکان اور مویشیوں کا باڑہ جل کر خاکستر

    آتشزدگی کے باعث 3 مکان اور مویشیوں کا باڑہ جل کر خاکستر

    مانسہرہ۔ (اے پی پی) بالاکوٹ کے موضع بھنگیاں میں آتشزدگی کے باعث تین مکانات اور مویشیوں کا باڑہ جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ متاثرہ افراد نے آتشزدگی کے واقعہ کو سابق رنجش قرار دیتے ہوئے ملزمان کو نامزد کر کے تھانہ بالاکوٹ میں ان کے خلاف مقدمہ کا اندراج کروا دیا ہے۔ اس حوالہ سے متاثرہ ہونے والے افراد محمد جاوید ولد محمد یوسف، غلام محمد ولد محمد یوسف نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ بالاکوٹ کے نواحی گاؤں شڑھی بھنگیاں کے رہائشی ہیں اور شوکت ولد محمد یعقوب اور ان کے دو ساتھیوں نے ان کے تین مکانات کو آگ لگائی۔ انہوں نے بتایا کہ تھانہ بالاکوٹ میں محمد شوکت ولد محمد یعقوب اور ان کے دو نامعلوم ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر وا دی ہے جبکہ آتشزدگی کے باعث غلام محمد ولد محمد یوسف کے مکان میں تین تولہ سونا اور 70 ہزار روپے جبکہ محمد جاوید ولد محمد یوسف کے گھر میں موجود تین تولہ سونا اور 30 ہزار روپے نقدی اور مال مویشی کا باڑہ بھی جل کر راکھ ہو گیا ہے۔ متاثرہ افراد نے ڈی پی او مانسہرہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ڈاکٹروں کی ہڑتال 21 روز میں داخل ،او پی ڈی بند ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈاکٹروں کی ہڑتال 21 روز میں داخل ،او پی ڈی بند ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ایبٹ آباد۔ (اے پی پی) ایبٹ آباد میں ڈاکٹروں کی ہڑتال 21 روز میں داخل ہو گئی ہے۔ ایبٹ آباد کی تین بڑی سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی بند ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں علاج کیلئے آئے مریضوں کے لواحقین نے صحافیوں کو بتایا کہ پرائیویٹ کلینکس پر ڈاکٹروں نے غریب مریضوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع رکھا ہے، ڈاکٹروں کے ساتھ کلاس فور اور دیگر ملازمین نے بھی کام چھوڑ دیا ہے۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں زیرعلاج مریٖضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی مریض کو بھی پرائیویٹ کلینکس کا ایڈریس دیا جا رہا ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے سینکڑوں مریض دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ شہریوں نے صوبائی حکومت سے ہڑتالی ڈاکٹروں اور دیگر ملازمین کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • تین مسلح ڈکیت موبائل شاپ سے اڑھائی روپے لاکھ لوٹ کر فرار

    تین مسلح ڈکیت موبائل شاپ سے اڑھائی روپے لاکھ لوٹ کر فرار

    ایبٹ آباد۔ (اے پی پی) ایبٹ آباد کے تھانہ میرپور کی حدود میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ایک ہفتہ کے دوران جناح آباد اور منڈیاں میں ڈکیتی کی دوسری بڑی واردات کے دوران تین مسلح ڈکیت موبائل شاپ سے اڑھائی لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو گئے۔ تھانہ میرپور کی حددو میں ایک ہی ہفتہ میں دو بڑی ڈکیتیاں مقامی پولیس کی لاوپراہی ہے۔ متاثرہ تاجراور مقامی افراد نے ڈی پی او ایبٹ آباد سے ایس ایچ او میرپور کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تھانہ میرپور کی حدود میں آئے روز ڈکیتی کی وارداتیں پولیس کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔

  • گھریلو ناچاقی پر سگے بھائی کو ہی قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا

    گھریلو ناچاقی پر سگے بھائی کو ہی قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا

    ہری پور۔(اے پی پی) ہری پور کی سٹی پولیس نے موضع گہر خان میں دو روز قبل گھریلو ناچاقی پر اپنے سگے بھائی کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا، اویس ولد ادریس نے دو روز قبل فائرنگ کر کے اپنے سگے بھائی عمر کو قتل کر دیا تھا جسے وہ بعد میں خودکشی کا رنگ دے رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق دو روز قبل پولیس تھانہ سٹی کی حدود موضع گہر خان میں اپنے سگے بھائی 17 سالہ عمر ادریس ولد محمد ادریس کو پستول سے قتل کرنے والے ملزم اویس ولد محمد ادریس کو ڈی پی او ہری پور ڈاکٹر زاہد اللہ جان کی خصوصی ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ سٹی صدیق خان نے گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا کہ اس کا چھوٹا بھائی عمر جذبانی اور غصیلہ تھا جس نے معمولی بات پر مجھ پر پستول تان لیا تھا، اس نے بھی چھوٹے بھائی سے پستول چھین کر اسے ڈرانے کیلئے اس کے پاؤ پر فائر کیا جو غلطی سے اس کے مثانہ میں جا لگا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔

  • ملزم نے گھریلو تنازعہ پر فائرنگ کر کے رشتہ دار کو قتل کر دیا

    ہری پور۔ (اے پی پی) کوٹ نجیب اللہ کے علاقہ سرائے گدائی میں ملزم شبیر نے گھریلو تنازعہ پر فائرنگ کر کے زاہد اختر نامی شخص کو قتل کر دیا، ملزم موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، پولیس نے مقتول کی اہلیہ کی رپورٹ پر مقدمہ درج کر کے نعش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالہ کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سرائے گدائی میں محمد شبیر ولد محمد صدیق اور زاہد اختر ولد محمد جاوید جو قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں، کسی بات کو لیکر جھگڑا ہوا جس پر محمد شبیر نے 12 بور رائفل سے زاہد اختر پر فائر کر دیئے گئے جس کے نتیجہ میں زاہد اختر موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ ملزم ارتکاب جرم کے بعد موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش کیلئے چھاپہ زنی شروع کر دی۔

  • ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے مُلا اور مِسٹر کے فرق کو دور کرنا ضروری ہے

    ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے مُلا اور مِسٹر کے فرق کو دور کرنا ضروری ہے

    ہری پور۔ (اے پی پی) وطن عزیز کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی خاطر ملا اور مسٹر کے فرق کو دور کرنا بہت ضروری ہے، یہ دو انتہائی سوچیں ہمارے معاشرے کی بدقسمتی سے تلخ حقیقتیں ہیں، افکار کی ان دو انتہاؤں نے ملک و قوم کو سب سے بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر مہیمن نے مدرسہ دارالعلوم عثمانیہ نور کالونی ہری پور اور ہری پور یونیورسٹی کے درمیان عملی تعامل کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلم دنیا کے زوال اور پستی کا واحد سبب مسٹر اور ملا کی تفریق ہے، دین اور دنیا کو جدا جدا سمجھ لیا گیا ہے، اس خلیج کو مزید گہرا کرنے میں دونوں طرف سے متشدد گروہوں کا ہاتھ ہے۔ اس موقع پر کرکٹ، فٹ بال اور بیڈمنٹن کے میچز بھی کھیلے گئے جس کے بعد طلبہ نے ملکر صفائی مہم میں حصہ لیا۔