Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • ٹھٹھہ: گورنمنٹ پرائمری سکول کھڈائی محلہ کی ابتر صورتحال، ڈائریکٹر محتسبِ سندھ کا دورہ

    ٹھٹھہ: گورنمنٹ پرائمری سکول کھڈائی محلہ کی ابتر صورتحال، ڈائریکٹر محتسبِ سندھ کا دورہ

    ٹھٹھہ (بلاول سموں)عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے صدر بلاول سموں کی شکایت پر محمد ہارون، ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ سندھ ٹھٹھہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کھڈائی محلہ کا دورہ کیا اور اسکول کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر محتسبِ سندھ کو شکایت سے متعلق اصل حقائق سے آگاہ کیا گیا۔

    دورے کے دوران بتایا گیا کہ سندھ ایجوکیشن ریفارمز پروگرام کے تحت مذکورہ اسکول سمیت ضلع ٹھٹھہ کے مزید پانچ اسکولوں کے ٹینڈر جاری کیے گئے تھے، تاہم متعلقہ ٹھیکیداروں نے پرانی عمارتیں منہدم کر کے لوہا اور پتھر فروخت کر دیا اور نئی تعمیر مکمل کیے بغیر اسکولوں کو خستہ اور ادھوری حالت میں چھوڑ دیا، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

    گورنمنٹ پرائمری اسکول کھڈائی محلہ کے ہیڈ ماسٹر آفتاب محمود کھڈائی نے ڈائریکٹر محتسب سندھ کو بتایا کہ اس وقت اسکول صرف ایک کمرے میں قائم ہے، جو خود بھی انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی خراب عمارت کے باعث طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، والدین بچوں کی جان کے خوف سے اسکول میں داخلہ کرانے سے گریز کرتے ہیں۔ جہاں ماضی میں طلبہ کی تعداد سینکڑوں میں تھی، اب وہ کم ہو کر چند درجن رہ گئی ہے۔

    اس موقع پر ڈائریکٹر محتسب سندھ ٹھٹھہ محمد ہارون نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران سے فوری رابطہ کر کے اسکول کی عمارت کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سنگین غفلت اور بدانتظامی میں ملوث ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور علاقے کے معصوم بچوں کے مستقبل کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

    دورے کے موقع پر ڈائریکٹر محتسب سندھ ٹھٹھہ کے ہمراہ محمد حنیف پنہور اسسٹنٹ رجسٹرار محتسب آفس ٹھٹھہ، ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن میڈم زینب، ایگزیکٹو انجینئر ایجوکیشن ورکس ٹھٹھہ فیض علی رند، آخوند برادیہ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر عاشق میمن سمیت تعلیم اور تعمیرات سے وابستہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • ٹھٹھہ: ہالیجی جھیل کے قریب آگ لگنے سے مزدور کے دو کچے مکانات جل کر خاکستر

    ٹھٹھہ: ہالیجی جھیل کے قریب آگ لگنے سے مزدور کے دو کچے مکانات جل کر خاکستر

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر، بلاول سموں)درگاہ امیر شاہ جیلانی کے قریب ہالیجی جھیل کے علاقے گاؤں حاجی میر بحر میں اچانک آگ لگنے کے باعث مزدور ممتاز میر بحر اور اس کے بھائیوں کے دو کچے مکانات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔ آتشزدگی کے نتیجے میں گھروں میں موجود بستر، راشن، کپڑے اور روزمرہ استعمال کا تمام سامان جل کر راکھ ہو گیا۔

    واقعے کے بعد متاثرہ خاندان شدید سردی میں کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑا ہے، جبکہ حادثے کو چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود کسی سرکاری یا فلاحی ادارے کی جانب سے کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

    آگ سے متاثرہ افراد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منتخب نمائندوں، مخیر حضرات اور متعلقہ اداروں سے فوری مالی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ معصوم بچوں کو شدید سردی سے بچایا جا سکے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ غریب مزدور ہیں اور ان کے کچے مکانات ہی ان کا واحد سہارا تھے، جو اس حادثے میں جل کر خاکستر ہو گئے، جس کے باعث انہوں نے سرد راتیں شدید اذیت میں گزاریں۔

  • ٹھٹھہ: ایس ایس پی کی زیر صدارت اہم اجلاس، امن و امان اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایات

    ٹھٹھہ: ایس ایس پی کی زیر صدارت اہم اجلاس، امن و امان اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایات

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر، بلاول سموں)ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی کی زیر صدارت ایس ایس پی آفس ٹھٹھہ میں ضلع بھر کے تمام افسران کے ساتھ ایک اہم جرائم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجموعی امن و امان، جرائم کی صورتحال اور پولیس کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں ضلع بھر کے ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز، انچارج سی آئی اے ٹھٹھہ، انچارج پولیس پوسٹس، انچارج 15 مددگار بیس ٹھٹھہ اور تمام ہیڈ آف برانچز نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران رپورٹڈ اور انرپورٹڈ جرائم، جاری پولیس کارروائیوں اور مجموعی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے آئی جی پی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق خان دھاریجو کے احکامات کی روشنی میں افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں جرائم پر کنٹرول کو مزید مؤثر بنایا جائے، جبکہ لسٹڈ عادی، اشتہاری اور انعام یافتہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث اشتہاری، روپوش اور مطلوب ملزمان کے خلاف بلا تاخیر اور ٹھوس کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ تمام گرفتار ملزمان کا CRO بروقت مکمل کیا جائے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر سرچنگ اور کومبنگ آپریشنز کو یقینی بنانے، پولیس پیٹرولنگ اور پکٹنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور دورانِ ڈیوٹی تمام افسران و اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔

    اجلاس میں اسپیشل برانچ کی جانب سے مرتب کردہ منشیات فروشوں کی کیٹیگری وائز فہرستوں (A+, A, B, C) کی روشنی میں ضلع بھر میں مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں مزید تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے تمام تھانوں اور پولیس دفاتر میں صفائی، نظم و ضبط اور ڈسپلن کو بہتر بنانے، جبکہ تھانوں میں آنے والے سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بھی ہدایات دیں۔

    اجلاس کے اختتام پر ایس ایس پی ٹھٹھہ نے واضح کیا کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کو تعریفی اسناد اور نقد انعامات سے نوازا جائے گا، جبکہ غفلت یا ناقص کارکردگی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ملک اس وقت شدید سیاسی بحران کا شکار ہے اور جب تک یہ بحران ختم نہیں ہوگا، معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں۔

    حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں والی ہیں، ایسی شامیں کسی اورملک میں دیکھنے کونہیں ملتیں،وہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی بات نہیں کرتے اور ہمیشہ برداشت اور رواداری کے قائل رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اورکبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا، موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب بحران پورے ملک کو ہلا رہے ہوں تواپوزیشن کا کرداربھی اتنا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ٕ

    وینزویلا پر حملہ،امریکی طیارہ گرفتار صدر کو لے کر نیویارک پہنچ گیا

    پیپلزپارٹی کے رہنما نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بانی پرجان قربان کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اپنی قائد کی شریک حیات کو چھوڑ کربھاگ گئے، اپوزیشن کواپنا کردارادا کرنا چاہیے جو وہ اس وقت نہیں کررہی، سیاسی جماعتوں نے اپنے فرائض ادا کرنے کے بجائے تما م بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے، حالانکہ سیاسی جماعتوں کو خود آگے بڑھ کر کردارادا کرنا چاہیے اگرحکومت معاملات درست نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو میدا ن میں آ کرملک کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی اشاروں کنایوں میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کا ڈاکٹر پرامیلا لال کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار

  • پتنگ بازی پرمکمل پابندی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

    پتنگ بازی پرمکمل پابندی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

    حیدرآباد میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق کمشنرحیدرآباد نے ضلع بھر میں آج سے دفعہ 144 نافذ کردی،جس میں کہا گیا ہے کہ پتنگ اُڑانے،ڈورکی خریدو فر وخت، تیاری اورذخیرہ اندوزی پرپابندی ہوگی،پتنگ بازی سےمتعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی یااجتماع کی اجازت نہیں ہوگی،خلاف ور زی کی صورت میں متعلقہ تھانےکاانسپکٹر کارروائی کامجازہوگا۔

    پتنگ بازی کےباعث بڑھتےحادثات کے سبب پابندی عائد کی گئی ،اطلاق یکم جنوری سے 31 مارچ 2026تک ہوگا۔

    کراچی : نیب نے 250 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرا لی

    قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب حکومت نے مشروط بسنت سے قبل صوبے بھر میں پتنگ سازی اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا –

    واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے صرف 6، 7 اور 8 فروری کو مشروط طور پر پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے تاہم ان مقررہ دنوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر پتنگ اڑانے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،سیکریٹری داخلہ پنجاب نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی انہوں نے مخصوص دنوں کے علاوہ پتنگ بازی کے واقعات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پابندی کے باوجود پتنگ بازی کیسے ہو رہی ہے۔

    پہلا ملک جہاں چار صدیوں بعد سرکاری ڈاک سروس کا مکمل خاتمہ

    اس حوالے سے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو پتنگ بازی کے مکمل تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گاکمشنرز کو پابندی پر فوری اور ہر صورت عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے پابندی پر سختی سے عملدرآمد کے لیے تمام اضلاع کو باقاعدہ مراسلے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، خلا ف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو غیر رجسٹرڈ پتنگ فروشوں اور ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔مہنگائی سے متعلق دسمبر 2025 کی ماہانہ رپورٹ جاری1

  • بن قاسم پولیس کی تاریخی کارروائی، اسٹیل ملز سے کروڑوں کی چوری میں ملوث گروہ گرفتار

    بن قاسم پولیس کی تاریخی کارروائی، اسٹیل ملز سے کروڑوں کی چوری میں ملوث گروہ گرفتار

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) بن قاسم پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز سے کروڑوں روپے مالیت کی مشینری اور قیمتی دھاتیں چوری کرنے والے منظم گروہ کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران 22 ویلر ٹرک سمیت بڑی مقدار میں چوری شدہ سامان بھی تحویل میں لے لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق کارروائی میں 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں اسٹیل ملز کے ملازمین بھی شامل ہیں، جو اندرونی سہولت کاری کے ذریعے پلانٹ کی قیمتی مشینری اور دھاتیں باہر منتقل کر رہے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم ندیم حسین اس گروہ کا مرکزی کردار تھا، جو چوری شدہ سامان کی سہولت کاری اور فروخت کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ برآمد ہونے والا لوہا اور مشینری اسٹیل ملز کے پلانٹ سے تعلق رکھتی ہے۔

    گرفتار ملزمان کی شناخت ندیم حسین، نصار، عبدالوحید، لیاقت خان، زاہد خان اور خالد شام کے نام سے ہوئی ہے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 36 ہزار کلوگرام سے زائد، یعنی تقریباً 36 ٹن مشینری اور لوہے کا سامان برآمد کیا، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان چوری شدہ سامان 22 ویلر ٹرک کے ذریعے منتقل کر رہے تھے اور مختلف گوداموں میں فروخت کیا جاتا تھا، جبکہ دیگر ملزمان اس نیٹ ورک میں معاونت فراہم کرتے تھے۔

    گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی چھان بین جاری ہے۔

  • ٹھٹھہ میں صوبائی وزیرِ تعلیم کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات جاری

    ٹھٹھہ میں صوبائی وزیرِ تعلیم کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات جاری

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں) صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کی صدارت میں جمخانہ کلب مکلی میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری منعقد ہوئی، جس میں ضلع ٹھٹھہ کے عوام نے تعلیم، صحت، سڑکوں، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل پیش کیے۔

    کھلی کچہری میں نو بھرتی شدہ اساتذہ کی تنخواہوں اور حقوق کے ریکارڈ، اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، ونڈ ملز کے سی ایس آر فنڈز، حیدرآباد–ٹھٹھہ اور ٹھٹھہ–سجاول ڈبل روڈ کی تعمیر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ بے ضابطگیوں، پانی کی وارا بندی اور ناجائز قبضوں سمیت مختلف مسائل پر شکایات کی گئیں۔

    تقریب میں صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی، ایم این اے صادق علی میمن، ایم پی اے رخسانہ شاہ، چیئرمین ضلع کونسل عبدالحمید پنہور، وائس چیئرمین ممتاز علی جلبانی، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو، ایس ایس پی فاروق احمد بجارانی سمیت متعلقہ محکموں کے افسران، پیپلز پارٹی کے رہنما، کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کے مسائل براہِ راست سن کر ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھٹھہ سندھ کی تاریخ کا ایک اہم شہر ہے اور یہاں آ کر کھلی کچہری منعقد کرنا باعثِ مسرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بند اسکولوں کو فعال کرنا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل سن کر متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور یہ مسائل صرف عوام کے نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام شکایات نوٹ کر لی گئی ہیں اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر ایم این اے صادق علی میمن نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا سلسلہ پیپلز پارٹی کی روایت ہے اور عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر سندھ بھر میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،حیدرآباد میں مقدمہ درج

    بلاول کیخلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،حیدرآباد میں مقدمہ درج

    پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کا معاملہ سامنے آیا

    حیدرآباد میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ ہٹڑی تھانے میں سپاف کے رہنما اظہر تالپور کی درخواست پر درج کیا گیا،بتایا گیا کہ لیاقت یونیورسٹی اسپتال کے انٹری ٹیسٹ کے دوران نامعلوم شخص گارڈ کے ہمراہ آیا، فریادی پر تشدد کیا اور بلاول بھٹو کے خلاف غیر اخلاقی زبان استعمال کی،ایف آئی آر درج کر لی گئی

    درخواست گزار اظہرالدین ولد صدرالدین تالپر، جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاف اسٹوڈنٹ یونٹ کے عہدیدار ہیں، نے پولیس کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2025 کو لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پیرا میڈیکل انٹری ٹیسٹ کے موقع پر سٹی لان کے باہر پارٹی کی جانب سے نئے آنے والے طلبہ کی خوش آمدید کے لیے جھنڈے اور پینافلیکس نصب کیے گئے تھے۔فریادی کے مطابق انٹری ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد جب وہ اپنے ساتھیوں عبدالغفار کاتیار اور سجاد چنہ کے ہمراہ باہر آئے تو دیکھا کہ رش کے باعث پارٹی کے جھنڈے زمین پر گر گئے تھے۔ جب وہ جھنڈے اٹھا رہے تھے تو اسی دوران ایک کالے رنگ کی ویگو گاڑی (رجسٹریشن نمبر KR-4533) موقع پر آ کر رکی، جس میں ایک نامعلوم شخص اور اس کے دو گارڈز سوار تھے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ نامعلوم شخص نے فریادی اور اس کے ساتھیوں کو گالیاں دیں، دھمکیاں دیں، پارٹی کے جھنڈے اور پینافلیکس زبردستی اٹھا کر گاڑی میں رکھ لیے اور پارٹی چیئرمین کے خلاف بھی غیر اخلاقی زبان استعمال کی، جس کے بعد گاڑی ہالہ ناکہ کی طرف روانہ ہو گئی۔واقعے کے بعد متاثرہ افراد نے پرامن احتجاج کیا اور بعد ازاں تھانہ ہنری میں رپورٹ درج کروائی۔ پولیس نے مقدمہ نمبر 403/2025 زیر دفعات 506/2، 504، 337-AI تعزیراتِ پاکستان کے تحت درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • ٹھٹھہ پولیس کی ضلع بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، امن و امان قائم رکھنے پر زور

    ٹھٹھہ پولیس کی ضلع بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، امن و امان قائم رکھنے پر زور

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) آئی جی پی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کے احکامات کی روشنی میں ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی کی ہدایت پر ضلع ٹھٹھہ میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کارروائی ایس ڈی پی اوز کی نگرانی میں ضلع بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے مقصد سے کی گئی۔

    آپریشن کے دوران ہوٹلوں، مسافرخانوں اور متعدد گاڑیوں کو سرچ کیا گیا جبکہ مختلف علاقوں میں سنیپ چیکنگ بھی کی گئی۔ متعدد مشکوک افراد کی شناخت پولیس کے جدید ٹیکنیکل سسٹم CRI اور تلاش سوفٹویئر کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے کہا کہ ضلع بھر میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن اور جنرل ہولڈاپ/ناکہ بندی کے ذریعے امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی مشکوک شخص یا خفیہ معلومات کے بارے میں علم ہو تو فوری پولیس کو اطلاع دیں تاکہ علاقے میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    ایس ایس پی نے مزید کہا کہ ضلع ٹھٹھہ میں قانون کی بالادستی اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور جرائم پیشہ عناصر اور سماجی برائیوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • محکمہ آبپاشی کا نہروں کی بندش کا  فیصلہ

    محکمہ آبپاشی کا نہروں کی بندش کا فیصلہ

    دریائے سندھ کے کوٹری بیراج سے نکلنے والی کے بی فیڈر نہر کو 25 روز کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    چیف انجینئر محکمہ ایری گیشن کوٹری بیراج نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نہر کی بندش 20 دسمبر سے 15 جنوری تک جاری رہے گی، نہر کی یہ عارضی بندش کراچی کے کے فور پراجیکٹ کی تکمیل کے سلسلے میں ضروری کاموں کے سبب کی جارہی ہے، تاکہ آئندہ برس شہر کو زیادہ اور معیاری پانی فراہم کیا جاسکے۔

    محکمہ آبپاشی کے مطابق کلری بگھار فیڈر کینال پراہم مرمتی اور توسیعی کام تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ ان کاموں کے باعث نہر کے بہاؤ میں عارضی تعطل رہے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مستقبل میں کراچی کو پانی کی مسلسل اور بہتر فراہمی کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔

    ایری گیشن حکام کا کہنا ہے کہ کام کی رفتار بڑھانے کیلئے خصوصی انجینئرنگ ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں جبکہ نہر کی بندش کے دوران متبادل انتظامات پر بھی غور کیا جارہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو،منصوبے کے بعد نہر کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور کراچی کے بڑے حصے کو پانی کی فراہمی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔