Baaghi TV

Category: راجن پور

  • راجن پور کے ہسپتال میں‌ چوریاں ہونے لگیں

    راجن پور کے ہسپتال میں‌ چوریاں ہونے لگیں

    راجن پور: ضلعی انتظامیہ اور ہسپتال انتظامیہ کی نا اہلی سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راجن پور میں موٹرسائیکل چوری کی واردات بڑھ گئیں.

    تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل اسٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے. ہسپتال میں چوریوں کی وارداتیں بڑھ گئیں ہسپتال انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے. ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اپنی بھانجی کے علاج کیلئے رفیق احمد آیا اور کچھ دیر بعد اس کا موٹر سائیکل چوری ہو گیا. متاثرہ شخص رفیق نے کہا کہ تھانہ سٹی کی حدود میں چوری کی واردات عید کے پہلے روز کی گئی پولیس نے کہا چھٹیوں کے بعد کارروائی کریں گے، .متاثرہ شخص رفیق نے دعویٰ کیا کہ موٹر سائیکل چور کو سی سی ٹی وی کیمرہ کے زریعے دیکھا جا سکتا ہے.

  • راجن پور: کشتی ڈوبنے سے لاپتہ افراد کی تلاش اب تک جاری

    راجن پور: کشتی ڈوبنے سے لاپتہ افراد کی تلاش اب تک جاری

    دریائے سندھ میں راجن پور کے مقام پر 4 روز قبل ڈوبنے والی کشتی کے لاپتہ 3 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن آج چوتھے روز بھی جاری ہے، اب تک 2 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ راجن پور کے علاقے روجھان میں دریائے سندھ میں 4 روز قبل مسافر کشتی ڈوب گئی تھی جس میں 30 افراد سوار تھے۔

    مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور ریسکیو 1122 کے تیراکوں نے 25 افراد کو ڈوبنے سے بچا لیا تھا جبکہ 5 افراد لاپتہ ہو گئے تھے۔

    ریسکیو عملے نے آپریشن کے دوران 2 افراد عمران فاروق اور راجہ کی لاشیں نکال لی تھیں

    کشتی دریا کی نذر … سوار سبھی افراد غرق ، کتنے بچ سکے، کتنے موت کی آغوش میں، یہ سب کچھ تفصیل میں

  • بارڈر ملٹری پولیس اور کرپشن کلچر

    بارڈر ملٹری پولیس اور کرپشن کلچر

    راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر مشتمل اور صوبہ پنجاب کا بجانب مغرب و بلوچستان آخری ضلع ڈیرہ غازی خان ہے۔ جس کا 50 فیصد سے زائد رقبہ کوہ سلیمان کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے

    کوہ سلیمان کے قبائلی علاقہ کی پولیسنگ باڈر ملٹری پولیس( بی ایم پی) کی ذمہ داری ہے جبکہ بلوچ لیوی فورس ایک معاون فورس ہے جوکہ ہر وقت بی ایم پی کی معاونت کاری کے لیے تیار رہتی ہے۔ جبکہ بی ایم پی کے ورکنگ ملازمین بشمول نان یونیفارم ملازم کی تعداد 343 کے لگ بھگ اور بلوچ لیوی کے ورکنگ ملازمین بشمول نان یونیفارم ملازم کی تعداد 126 کے قریب ہے۔ آپریشنل ورک کے لیے بی ایم پی کے پاس 2 عدد فور بائی فور ڈبل کیبن گاڑیاں، 3عدد فور بائی فور سنگل کیبن گاڑیاں کل 5عد د گاڑیاں اور8 عدد موٹر سائیکل ہیں۔جبکہ بلوچ لیوی فورس کے پاس ایک عدد فور بائی فور ڈبل کیبن، 4عدد فور بائی فور سنگل کیبن گاڑیاں، ایک عد د ٹرک، ایک عد کوسٹر ، ایک عد د روکی جیپ کل 8 گاڑیاں اور 4عدد موٹر سائیکل ہیں
    دونوں فورسز کے پاس کل 13عدد گاڑیاں اور 12عدد موٹر سائیکل ہیں

    ایس ایچ او تھانہ سخی سرور، راکھی گاج اور بواٹہ کے زیر استعمال ایک سنگل کیبن گاڑی ہے۔ جس کا پٹرول سمیت تمام خرچہ ایس ایچ او حضرات خود برداشت کرتے ہیں کیونکہ یہی تین تھانے اہم بین الصوبائی شاہراہ بلوچستان پنجاب پر واقع ہیں اور اِسی بناپر یہی تھانے بی ایم پی میں کرپشن کا اہم گڑھ ہیں۔ اِن تھانہ جات میں پوسٹنگ کے لیے ایس ایچ او صاحبان لاکھوں روپے کی رشوت برائے پوسٹنگ پہلے ادا کرتے ہیں اور پھر افسران کو لاکھوں روپے ماہانہ منتھلی دیتے ہیں۔
    یہی کرپشن بی ایم پی فورس کی بدنامی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اور اِن تھانہ جات میں تعینات اہلکاروں کی کروڑوں روپے کی بے نامی جائیدادیں اور کاروبار ہیں حتی کہ اِن تھانہ جات میں تعینات سٹاف کے متعلق معتبر اداروں کی متعدد رپورٹس آن ریکارڈ موجود ہیں اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے کوئی بھی ادارہ یا فرد انکار نہیں کر سکتا۔

    کمانڈنٹ ، رسالدار فیلڈ اور رسالد ہیڈ کوارٹر کے زیر استعمال ایک ایک ڈبل کیبن گاڑی ، کل تین گاڑیاں ہیں جن کا فیول سرکاری ہوتا ہے۔
    سینئر کمانڈنٹ و ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان اور کمشنر ڈیرہ غازی خان کے حفاظتی دستے میں بھی بلوچ لیوی یا بی ایم پی کی ایک ایک گاڑی ہمراہ ہوتی ہے۔ یوں کل 13گاڑیوں میں سے 6 تا 7 گاڑیاں سرکاری فیول پر چلتی نظر آتی ہیں۔ قبائلی علاقہ میں فورس کا آپریشنل ورک دیگر فورس کی نسبت پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے۔ اِس لیے معمول کا گشت وغیرہ اِن علاقوں میں نہیں ہوتا۔

    نیز کرائم کی شرح سالانہ اوسطا ً 300 مقدما ت اور مجرمان کی تعداد بھی انتہائی مختصر ہوتی ہے۔
    جن اہلکاورں کے پاس موٹر سائیکلیں ہیں وہ بھی ذاتی خرچہ سے موٹر سائیکلیں چلاتے ہیں۔ انہیں سرکاری طور پر پٹرول نہیں ملتا۔ البتہ کاغذات میں اندارج لازمی کیا جاتا ہے۔ دونوں فورسز کے پاس کوئی تربیت یافتہ اور پڑھا لکھا ایم ٹی یعنی موٹر میکنک وٹرانسپورٹ انچارج موجود نہیں۔
    اِ س وقت نور خان سوار (کانسٹیبل ) ہے جس کو انچارج ایم ٹی آفس بنایا ہوا ہے کیونکہ یہ سوار گاڑیاں چلانا یعنی ڈرائیوری کرنا جانتا ہے جبکہ غلام قادر نائب دفعہ دار کو بطور فیول سپلائی انچارج بنایا ہوا ہے جوکہ وہ بھی زیادہ تعلیم یافتہ نہیں۔

    حکومت پنجاب ہرسال اِن گاڑیوں کے فیول کے لیے ایک خطیر رقم بجٹ میں فراہم کرتی ہے۔ گذشتہ چھ سالوں 2013-14تا 2018.19 تک بی ایم پی کو 3کروڑ 61لاکھ 60ہزار 376روپے اور بلوچ لیوی کو 2کروڑ 96 لاکھ 7ہزار 139روپے مجموعی طور پر دونوں فورسز کو 6کروڑ 57لاکھ 67ہزار 515روپے برائے POL مل چکے ہیں۔
    گذشتہ مالی سال 2018-19کے آخری ماہ جون کے آخری نو دنوں( 22جون تا 30جون تک) بی ایم پی نے فیول کی مد میں 993973روپے اور بلوچ لیوی نے فیول کی مد میں 126414روپے کل 1120387روپے خرچ کیے ہیں جبکہ مکمل مالی سال 2018-19میں بی ایم پی نے 6837376روپے اور بلوچ لیوی نے 7696139روپے، کل رقم 14533515روپے خرچ کی ہے۔

    معتبر ذرائع کے مطابق دونوں فورسز کے پاس جنتی گاڑیاں موجود ہیں اور جنتا اُن کا پٹرول کا خرچہ ظاہر کیا جاتا ہے یہ سب فراڈ اور جعل سازی ہے۔
    شعبہ اکاوئنٹس جعلی بل بناتے ہیں۔ افسران منظوری دیتے ہیں اور پھر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس سے بوگس بل منظور کروا کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔جوکہ انتہائی قابل افسوس ہے کہ جہاں تبدیلی لانے کے لیے موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف فرنٹ فٹ پر جنگ لڑ رہی ہے وہاں پر ہمارے سرکاری اداروں نے ابھی تک اپنا کرپشن کلچر تبدیل نہیں کیا۔

    معتبر ذرائع کے مطابق فیول کے اِس بجٹ کو استعمال کرنے کے لیے افسران بالا کی مشاورت سے ڈرائیور حضرات پہلے گاڑیوں کی لاگ بک میں بوگس ریڈنگ کا اندارج کرتے ہیں۔
    پھر شعبہ اکاؤنٹس کے کلرک بادشاہ جعلی رسیدوں سے بوگس بل تیار کرتے ہیں۔ افسران اُن پر منظوری کی مہر ثبت کرتے ہیں۔ پھر اُس جعلی بل کو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس سے پاس کراکے کیش کرایا جاتا ہے۔ ناجانے یہ سلسلہ کب سے شروع ہے اور اب ناجانے کب ختم ہوگا۔ کیونکہ جب کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور کمانڈنٹ جیسے معتبر افسران بھی اِس کھیل کا حصہ ہوں گے تو پھر بھلا کون اور کیسے اِن فیول کے بلوں کو جعلی اور بوگس ثابت کر سکتا ہے۔
    بہرحال دونوں فورسز کی کل 13گاڑیوں اور 12موٹر سائیکلوں پر سالانہ کروڑوں روپے کا فیول سرکاری خزانہ سے جلایا جارہا ہے۔

    موجودہ ضلعی اعلیٰ افسران کمشنر اسد اللہ فیض، ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق اور کمانڈنٹ سید موسی رضا ابھی تک ایماندارانہ شہرت کے حامل ہیں۔ اِن تمام افسران کو یہاں تعینات ہوئے ابھی چند ماہ گزرے ہیں۔ عوام اُمید کرتی ہے کہ کرپشن اور انسداد رشوت ستانی کے خلاف جاری قومی مہم کا حصہ بنتے ہوئے یہ افسران اِس کرپشن کی انکوائری کسی ماہر ٹیم سے کرائیں گے اور پھر انکوائری رپورٹ سے میڈیا سمیت عوام کو آگاہ کریں گے کہ کس طرح گذشتہ سالوں میں یہ جعل سازی ہوتی رہی ہے اور کون کون اِس میں ملوث رہا ہے۔ جبکہ بین الصوبائی شاہراہ پر واقع تمن لغاری کے تھانہ جات میں تعینات ایس ایچ او صاحبان کے متعلق معتبر اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں ہمہ قسمی اسمگلنگ کے خاتمہ کے لیے اُن کی تعیناتی پر نظر ثانی کریں گے۔

    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار اِسی ضلع کے باسی ہیں انہیں بخوبی علم بھی ہے کہ کس طرح کون سا ادارہ پٹرول کی مد میں کیسے فراڈ کرتا ہے اور پٹرول کی جعلی پرچیاں بناتا ہے کیونکہ افسران کی جانب سے پٹرول پرچی سے نوازنے کی عادت ضلع ڈیرہ غازیخان میں بہت پرانی ہے۔پنجاب حکومت کے سرکاری خزانے کو بچانے کی خاطر بی ایم پی اور بلوچ لیوی اور دیگر تمام اداروں میں فیول کا آڈٹ بہت ضروری ہے۔

  • جہالت یا لالچ۔ شادی شدہ عورت قتل

    جہالت یا لالچ۔ شادی شدہ عورت قتل

    راجن پور کے نواحی قصبہ فتح پور کی بستی سندھلانی بلوچ میں کاروکاری کے الزام میں فائرنگ سے ایک شادی شدہ یتیم لاوارث خاتون جاں بحق جبکہ ایک شخص شدید زخمی۔

    راجن پور کے نواحی قصبہ فتح پور کی بستی سندھلانی بلوچ میں غیرت کے نام پر فائرنگ سے سسی نامی شادی شدہ یتیم لاوارث خاتون جاں بحق اور اللہ داد سندھلانی نامی شخص شدید زخمی جس کو منہ پر گولی لگی۔ مبینہ طور پر ناجائز تعلقات کے الزام میں دیور اور اس کے دیگر رشتہ داروں نے سسی نامی خاتون کو قتل کردیا مبینہ قاتلوں میں خلیل ۔مرزا اور صدیق نے ملکر خاتون اور زخمی شخص پر فائرنگ کی جس سے خاتون موقع پر گھر میں ہی جاں بحق ہوگئی جبکہ زخمی شخص اللہ داد سندھلانی کو کسی اور مقام پر دکان سے خریداری کرتے ہوئے فائرنگ کرکے مارنے کی کوشش کی گئی جو منہ پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا جس کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ موقع واردات پر پولیس اسٹیشن صدر کی بھاری نفری ملزمان کی گرفتاری کے لیے پہنچ گئی ہے۔

    جبکہ مقتولہ عورت کا کوئی قریبی رشتہ دار بہن بھائی ماں باپ بھی حیات نا ہے صرف نانا نانی زندہ ہیں جو غریب اور کمزور ہیں جبکہ قاتل دیور اور دیگر اس دیور کے رشتہ دار ہیں جو خود ہی مدعی اور خود ہی قاتل ہیں جو کسی بھی وقت کیس واپس بھی لے سکتے ہیں پنچایتی فیصلے میں بھاری رقوم ملنے کی صورت میں ۔

    شنید میں یہ بھی آیا ہے کہ مبینہ طور پر ایسے کاروکاری کے الزامات صرف مخالف پارٹی سے اپنی دشمنیاں نبھانے یا بھاری رقوم وصول کرنے کے لیے کی جاتی ہیں جبکہ عدالتی فیصلوں سے پہلے ہی پنچایتی فیصلوں کے ذریعے بھاری جرمانے وصول کیے جاتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک پاکستان کا پولیس اور عدالتی نظام اتنا مشکل اور لمبا ہے جس میں سب سے پہلے پولیس قاتل اور مقتولین سے رشوت کھاتی ہے پھر تفتیشی افسر اس کے حق میں اپنی رپورٹ لکھتا ہے جو زیادہ پیسے دیتا ہے اور جس کا سیاسی اثر رسوخ بھی ہوتا ہے کیونکہ سیاست نے بھی اس ملک کے قانون کو کبھی اپنے سے زیادہ طاقتور نا ہونے دیا ہے اور نا ہونے دیں گے کیونکہ اسی سے وہ اپنی سیاست کی دکانداری چمکاتے اور اپنے سیاسی مخالفین کو کچلتے اور اپنے حوارین کو بچاتے نظر آتے ہیں ۔ پھر اس کے بعد عدالتوں میں حصول انصاف کے لیے قدم قدم پر وکیلوں اور عدالتی عملے کو پیسے دینا پڑتے ہیں اور پھر تاریخ پر تاریخ جس سے کئی کئی سال عدالتوں میں خوار ہونا پڑتا ہے غریب اور کمزور کو انصاف ملنا ناممکن ہی بنا دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں انصاف خریدنا پڑتا ہے کبھی پولیس کو کھلا پلا کر تو کبھی وکیلوں کو تو کبھی عدالتی عملہ کو پھر ایک عدالت پھر بڑی عدالت پھر اس سے بڑی عدالت اور پھر اپیل اور آخر میں صدر پاکستان کو اپیل انصاف کے حصول اور اس کی تلاش میں نسلیں گزر جاتی ہیں ایک سے دوسری اور پھر تیسری مگر انصاف نہیں مل پاتا ہے۔ کیونکہ اس ملک اور قوم کے ساتھ ہمارے سیاستدان ہی مخلص نہیں ہیں جو پاکستان بننے سے اب تک ستر سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایسی قانون سازی اور ایسا نظام نا بنا پائے جس سے انصاف کا حصول جلد اور سستا ہو جائے پولیس میں سیاسی مداخلت ہے بیوروکریسی من پسند لگوائی جاتی ہے اپنے اپنے حلقے میں تاکہ من مرضی کے کام اور فائدے حاصل کیے جائیں ۔۔۔۔

  • ٹریفک پولیس کا رشید خان انسانیت کی خدمت میں پیش پیش

    ٹریفک پولیس میں کچھ اہلکار ایسے بھی ہیں جو ڈیوٹی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ ایک ایسا فرض شناس سب انسپکٹر رشید احمد خان فیروز آباد میں تعینات ہے ۔

    رشید خان کے سامنے یا نزدیک کہیں پر کوئی ٹریفک حادثہ ہو یا کسی کو ابتدائی طبی امداد کی ضرورت ہو تو بڑھ چڑھ کر مدد کرتا ہے۔ رشید خان ذاتی پیسوں سے خریدا ہوا اپنے ساتھ فرسٹ ایڈ کا سامان رکھتا ہے جو ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کرتا ہے ۔ کہیں بھی حادثہ ہو ساتھی اہکار رشید خان کو فون کرکے بلاتے ہیں ۔ کچھ روز قبل خاتون شارع فیصل ڈیوٹی فری شاپ کے قریب ٹریفک حادثے میں مرد اور خاتون کے پاوں زخمی ہوگئے

    ساتھی ٹریفک پولیس اہلکاروں نے اطلاع دی تو ایمبولینس سے پہلے پہنچ کر مرد اور خاتون کی ابتدائی طبی امداد کی اور پھر اسپتال منتقل کروایا۔ رشید خان خان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب انسانی ہمدردی کی لئے کرتا ہے۔

  • پاکستان میں خوفناک حادثات کی شرح میں خطرناک اضافہ

    پاکستان میں خوفناک حادثات کی شرح میں خطرناک اضافہ

    پاکستان کی شاہراہوں پرسالانہ ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی،

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز اتھارٹی کے مطابق ملک کی بڑی شاہراہوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات میں سالانہ 15 سے 16 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،

    بڑے شہروں کے اندر ہونے والے حادثات کو بھی شامل کرلیا جائے تو تعداد 30 ہزار سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔ ریلوے اور فضائی حادثات میں ہونے والی اموات اس کے علاوہ ہیں۔

    ملک میں گزشتہ 10 سال کے دوران 3 بڑے اور 15 چھوٹے فضائی حادثات بھی ہوئے جن میں 620 افراد جاں بحق ہوئے۔

    قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران ریل کے 339 سے زائد حادثات ہوئے جن میں 120 افراد لقمہ اجل بنے۔ ان تمام بڑے فضائی اور ریلوے حادثات کی تحقیقات تو ہوئیں لیکن انہی محکموں نے کی جو خود ذمہ دار تھے، یوں حادثے کی ذمہ داری جاں بحق ڈرائیورز یا پائلٹ پر ڈال کر جان چھڑا دی گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جان لیوا حادثات کی تحقیقات کے لئے ایک مستقل ادارہ بنتا ہے جس کا مقصد نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے سفارشات بھی مرتب کرنا ہوتا ہے،
    واضح رہے کہ ملک میں ہر سال دہشت گردی سے اتنے لوگ جاں بحق نہیں ہوتے جتنی
    انسا نی جانیں مختلف حادثات کی نذر ہوجاتی ہیں
    بدقسمتی سے پاکستان میں آزادانہ تحقیقاتی بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کے تحفظ کے لیے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جاسکی.

  • ضلع راجن پور،دھمکیوں کے باوجود ہڑتال ناکام، دکانیں کھل گئیں

    ضلع راجن پور،دھمکیوں کے باوجود ہڑتال ناکام، دکانیں کھل گئیں

    جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں دھمکیوں کے باوجود تاجروں نے دکانیں کھول لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی، اور ٹیکسز کے خلاف تاجر برادری نے ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، مختلف شہروں میں ہڑتال جاری ہے ،

    حکومت تاجر برادری کو نہ منا سکی، ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال

    دوسری جانب جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور سے انکشاف ہوا ہے کہ تاجروں کو ہڑتال کرنے کے لئے دھمکیاں دی گئیں ،اور انہیں دکانیں بند رکھنے کا کہا گیا اس کے باوجود تاجروں نے دکانیں کھول لیں اور ہڑتال کی زبردستی کی کوشش ناکام بنا دی، تاجروں کا کہنا ہے کہ بڑے لوگوں کے مفاد کے لٸے ہم چھوٹے دوکانداروں کو استعمال کیا جارہا ہے.

    کوٹلہ نصیر اور ارد گرد قصبوں اور راجن پور کی سینکڑوں دکانیں کھلی ہوئی ہیں،ضلع راجن پور میں ہڑتال مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے، تمام مارکیٹیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں،

  • ڈی پی او راجن پور کی کھلی کچہری ، سائلین کے مسائل سنے اور احکامات جاری کیے

    ڈی پی او راجن پور کی کھلی کچہری ، سائلین کے مسائل سنے اور احکامات جاری کیے

    راجن پور کے ڈی پی او ہارون رشید اور اے ڈی سی نے مشترکہ طور پر کھلی کچہری میں لوگوں کے مسائل سنےاور موقع پر احکامات جاری کیے.

    باغی ٹی وی رپوٹ کے مطابق :ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر راجن پورہارون رشید اور اے ڈی سی آر کی مشترکہ کھلی کچہری میں ساٸلین کے مساٸل سنے اور موقع پر احکامات جاری کیے۔کھلی کچہری میں سول ڈیفنس,محکمہ صحت سمیت تمام اداروں کے نماٸندے موجود تھے۔کھلی کچہری کا مقصد عوام کے مساٸل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہے۔ڈی پی او راجن پور ہارون رشید کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کوتاہی قطعی برداشت نہیں کی جاٸے گی