سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی
باغی ٹی وی :محمد پور دیوان (محمد جنید خان احمدانی کی رپورٹ ) سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں موضع اسلام پور کے سیلاب متاثرین میں جھوک ایڈ ویلفئر سوسائیٹی اور فاطمہ ویلفئر کی طرف سے مکمل بستر خشک راشن کپڑے تقسیم کئے گئے ہیں اور متاثرین کی مزید امداد جاری ہے ۔ رانا شکیل ہٹواڑی نے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ متاثرین کی جلد بحالی کیلئے تحصیل انظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اسسٹنٹ کمشنر جام پور محترمہ ابگینے خان کی ہدایات پر عمل کرنے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی تک امداد جاری رہے گی حکومت اور مختلف رفاحی اداروں کیطرف سے ملنے والی امداد سیلاب متاثرین میں بروقت پہنچا رہے ہیں .

Category: راجن پور

سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

محمد پور دیوان کے نواحی علاقے مہرے والہ میں فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے سے عوام آلودہ پانی پینے پرمجبور
باغی ٹی وی – محمد پور دیوان(جنید خان احمدانی)محمد پور دیوان کے نواحی علاقے مھرے والہ میں فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے سے عوام زیر زمین آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں مہرے والہ میں تیرا سال سے زیر زمین پانی انتہائی آلودہ اور استمعال کے قابل نہ ہونے کے باوجود عوام فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے کی وجہ صاف پانی پینے سے محروم ہیں اور انتہائی آلودہ پانی پینے سے عوام موزی امراض میں مبتلا ہونے لگی جس سے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اہلیان مھرے والا نے ڈی سی راجن پور اور متعلقہ اداروں سے فوری طور پر فلٹریشن پلانٹ لگانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

روجھان: سینکڑوں حاملہ خواتین ،نوزائیدہ بچے اور مائیں برلب سڑک خستہ حال کیمپوں میں رہنے پرمجبور
روجھان: سینکڑوں حاملہ خواتین ،نوزائیدہ بچے اور مائیں برلب سڑک خستہ حال کیمپوں میں رہنے پرمجبور
باغی ٹی وی ۔(روجھان سے ضامن حسین بکھر کی رپورٹ) چوک ٹاور روجھان سے لے کر موسانی پھاٹک تک رودکوہی سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والے سیلاب متاثرین انڈس ہائی وے تک سینکڑوں خاندان جن میں مرد خواتین حاملہ مستورات اور نوزائیدہ بچوں کی مائیں اور بہنیں بہو بیٹیاں برلب سڑک وقت کی ستم ظریفی کی وجہ سے اب بھی گھروں کے لوٹنے کی امیدیں وابستہ رکھی ہوئی ہیں جب میں نے سڑک پر مقیم سیلاب متاثرین کو دیکھا تو مجھے میں رقت طاری ہو گئی کہ ابھی تک ان متاثرین کو نہ تو خیام ملے اور نہ ہی ان کے اس وقت کوئی فلاحی تنظیمیں دیکھنے کو ملی بہر کیف کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ کی ہدایت پر رودکوہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں گیانمل ،جھوک منجھانی، دلبر، صفدر آباد ،عربی روڈ ایئرپورٹ کی ملحقہ بستیاں، بستی غریب آباد، چک مٹ نمبر1/2/3 ،واہ ماچکہ، بھنڈو والہ، اوزمان، باڑا، میراں پور، کن، گڈاناڑ، شاہ والی، شاخ روجھان کی ملحقہ آبادیاں، بستی سہیجہ، بستی سید سومار شاہ بستی سنجرانی، بستی چونگلی، بستی ڈہوانی، بستی گولاٹھہ، سیالاف، بستی لعلانی، کچی آبادی روجھان بستی گہلانی، بستی قیصر خان سرگانی، بستی عیدگاہ، بستی نصراللہ خان بالاچانی، بستی سیفلانی، بستی، بستی سید بشارت شاہ، بستی بشیر رہواڑی ، سڑی بستی ،بستی ساون، بستی نزر خان بالاچانی، بستی آذادانہ، البدر کالونی، ماڈل ویلیج اور بستی غلام رسول سرگانی، ڈومکی، سیلاچی، میرزاداہ کو بھی رودکوہی پانی کے باعث بہت سا نقصان ہوا جس میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑے کپاس کی فصلات، مال مویشی، جانی نقصان ہوا ہے جس کا اندازہ لگانا سروے کیئے بغیر ناممکن ہے کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ کی ہدایات پر روجھان کے متاثرہ مواضعات کے سروے کا عمل نکاسی آب کے بعد جلد کرنے کا فیصلہ کیا گیا متاثرہ مواضعات کے حلقہ پٹواری کے ساتھ پاک فوج کے جوان بھی سروے کو شفاف بنانے کے عمل میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے اور مستحقین متاثرین کی مالی مدد کے ساتھ ان کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے ٹھوس اقدامات جاری ہیں۔


روجھان۔ شاہ والی ، ہمیں روڈ بند کرنے پرمجبورنہ کریں، دوماہ سے بند بجلی بحال کی جائے ۔عوامی مطالبہ
روجھان۔ شاہ والی ، ہمیں روڈ بند کرنے پرمجبورنہ کریں، دوماہ سے بند بجلی بحال کی جائے ۔عوامی مطالبہ
باغی ٹی وی رپورٹ : روجھان(ضامن حسین بکھر سے) روجھان کے نواحی علاقہ شاہوالی میں بجلی کی عدم فراہمی پر شاہ والی کی عوام غلام اصغر سڈوانی کی قیادت میں سراپاء احتجاج ۔شاہ والی میں رودکوہی سیلابی صورتحال کے بعد سیلابی پانی سے پیدا ہونے والی مختلف وبائی امراض پھوٹنے سے مختلف بیماریوں پیدا ہو گئی ہیں جن میں ملیریا، الرجی، خارش، بخار، پھوڑے، گلے اور سانس کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اور سول اسپتال شاہوالی میں بہت سے مریض زیر علاج ہیں دوسری جانب برقی رو کی سپلائی کی بندش کے سبب مریضوں کو ایکسرے مشین اور دیگر برقی آلات بند ہونے سے جملہ مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اہلیان شاہ والی، زیر علاج مریضوں کے لواحقین اور ایم ایس سول اسپتال شاہوالی نے رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری، ایکسیئن واپڈا راجن پور، ایس ڈی او واپڈا روجھان سے شاہ والی میں بجلی کی سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مریضوں کو جلد طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کا چک اپ اور بروقت علاج معالج ہو سکے ،غلام اصغر سڈوانی نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا..
روجھان ۔ جلد سروے شروع کیا جائے تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ کمشنر ڈیرہ
روجھان ۔ جلد سروے شروع کیا جائے تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ کمشنر ڈیرہ غازیخان
روجھان (ضامن حسین بکھر کی رپورٹ)کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم کے ہمراہ دورہ روجھان اسسٹنٹ کمشنر روجھان ذیشان شریف قیصرانی، سی ای او ہیلتھ راجن پور، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طارق جاوید ثاقب و دیگر نے کمشنر کا خیرمقدم کیا کمشنر ڈیرہ غازی خان نے روجھان میں رودکوہی کے سیلابی ریلوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کیلئے اہم ٹھوس اقدامات کی ہدایت سیلاب متاثرین کی گھروں کی واپسی کے لئے اقدامات کچی آبادی اور نشیبی جگہوں سے سیلابی پانی کی نکاسی کے لئے ڈواٹرنگ سیٹ استعمال کی ہدایت آبادیاتی علاقوں سے جلد پانی نکلا جائے تاکہ متاثرین جلد گھروں کو واپس جائیں کمشنر ڈیرہ غازی خان نے کہا کہ سروے کا عمل جلد شروع کیا جائے تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے انہوں کہا کہ رابطہ سڑکوں کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے، سیلابی پانی سے جنم لینے والی بیماریوں پر قابو پانے کے لئے محکمہ صحت کو جلد ٹھوس اقدامات کی ہدایت کی متاثرین سیلاب کے منہدم ہونے والے گھروں کے سروے کا کام ڈیڑھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی .


روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری
روجھان:روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری سابق ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک بہت بڑے زمیندار بھی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس علاقے میں متاثرین کی مدد تو کررہی ہے مگرسیاسی بنیادوں پر ، جبکہ یہ حالات سیاست کرنے کے نہیں انسانی ہمدردی سب سے پہلے ہے
ڈیرہ غازی خان کا علاقہ روجھان جوسیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا ہے ،سابق ڈپٹی اسپیکردوست مزاری وہاں کی حالت زاربتاتے ہوئے pic.twitter.com/tvSM9Jsb4R
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) September 1, 2022
اس سلسلے میں باغی ٹی وی کےسنیئررپورٹرفیض چغتائی جوکہ اس وقت راجن پور، ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں سیلاب سے متاثرین خاندانوں سے مل رہے ہیں اور ان کے مسائل جان رہے ہیں اس وقت ڈیرہ غازی خان کے اس علاقے میں موجود ہیں جوسیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا ہے ،

یہ روجھان کا علاقہ ہے جس علاقے سے دوست محمد مزاری تعلق رکھتے ہیں، دوست مزاری کا کہنا ہے کہ حکومت امداد کو سیاسی بنیادوں پرتقسیم کررہی ہے ، جبکہ اس علاقے کا ہرخاندان متاثرہے ، حکومت کو چاہیے کہ ایک مکمل سروے کرے اور پھرمتاثرین کوان کی ضروریات کے مطابق امداد دے تاکہ متاثرین پھر سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوسکیں
تونسہ راجن پور،اور روجھان سیلاب سے تباہی،نواحی علاقے بستیاں زیر آب، متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔
بارشوں کے باعث 27 ہزار 860 ایکڑ پر کاشت فصلیں متاثر ہو گئیں، راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کی سفارش ، آبیانہ، زرعی انکم ٹیکس سمیت سرکاری واجبات اور قرض معاف کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے
ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 36 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 162 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 554 افراد زخمی ہوئے۔
باغی ٹی وی : نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257 ، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 30 ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سندھ میں 2 ہزار 328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60 پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا 1 ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔
دوسری جانب ضلع دادو کی تحصیل خیرپورناتھن شاہ میں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی تیزی سے جاری ہے، لوگوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے کرائے دو سے تین گنا مہنگے کردیئے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد لوگ مال و متاع سمیٹ کر نقل مکانی پر مجبور گئے ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ لوگوں پرایک بڑی مشکل یہ آن پہنچی ہے کہ سامان کی منتقلی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں نے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کر کے من مانی شروع کر دی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں
گھروں کو بند کر کے محفوظ مقام پر منتقلی کی کوششوں میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے کبھی اس وقت کا سوچا بھی نہ تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار کو روکنے والا کوئی نہیں، حکومت اور انتظامیہ نے نہ خیمہ دیا نہ راشن، کم از کم برے وقت میں ہمیں ایسے تنہا تو نہ چھوڑتے-
ادھر عمرکوٹ میں بارشوں کا سلسلہ تو تھم چکا ہے مگر متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوئیں، ضلع کے بیشتر علاقوں سے تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی ہے۔
عمرکوٹ میں کئی دن گزرجانے کے باوجود سینکڑوں دیہاتوں میں اب تک برسات کا پانی کھڑا ہے ضلع کی چاروں تحصیلوں عمرکوٹ کنری سامارو اور پیتھورو کے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگی ہیں۔
عمرکوٹ میں حالیہ برساتوں کے باعث ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 05 لاکھ 57 ہزار سے زائد علاقہ مکین بے سروسامانی کے عالم میں ضلع کی مختلف راستوں پر امداد کے منتظر ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات کرے تاکہ ان کی گھروں کو واپسی ممکن ہو سکے-
جبکہ راجن پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح برقرار ہے کئی علاقوں میں سیلاب متاثرین سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو ئے ہیں جبکہ سیلابی پانی جمع رہنے سے مچھروں کی بہتات اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے مکانات کو رہنے کے قابل بنانے کیلئے متاثرین کچھ مقامات پراپنے ٹوٹے گھروں کو بنانے کی کوشش کررہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں مچھروں کی بہتات ہے، رات کو مچھر اور سانپ سونے نہیں دیتے ہیں، سانپوں کے ڈسنے سے کئی افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
ادھر ڈیرہ غازی خان میں سیلابی پانی میں واضح کمی ہوگئی ہے لیکن متاثرین اب بھی ریلیف کیمپس اور بعض مقامات پر کھلے آسمان تلے یا سڑک کنارے بیٹھے ہیں، قبائلی علاقوں کے زمینی راستے جزوی بحال ہوگئے۔
سیلاب کی تباہ کاریاں :سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند

ڈیرہ اسماعیل خان میں سیلابی ریلے میں بہہ جانیوالا بچہ چار دن بعد زندہ سلامت مل گیا
کہاوت ہے کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، ایسی ہی ایک حقیقی مثال ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی جہاں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا بچہ معجزاتی طور پر چار دن بعد زندہ مل گیا۔
باغی ٹی وی : سیلاب کے پانی سے بچنے کے لیے بچے نے چار دن سےدرخت پر پناہ لے رکھی تھی،پانی کم ہوا تو بچہ درخت سے نیچے آیا ، آواز دینے پر ریسکیو اہلکار مدد کو پہنچے۔
سوات میں پھنسے 110 افراد کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا
ڈی آئی خان میں بچہ ٹرک کے مکینک کے پاس کام کرتا تھا اور بچہ اس کا استاد اور ٹرک ڈرائیور چار روز قبل سگو پل کے قریب پانی میں بہہ گئے تھے۔
ریسکیو حکام کو دریا سے ٹرک مل گیا تھا جس کے بعد بچے کے مکینک استاد کی لاش گزشتہ روز سیلابی پانی سے ملی، ڈرائیور تاحال غائب ہے جس کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
مقامی افراد نےبتایا کہ تلاش کیلئے جانے والے افراد کو درخت پر موجود بچے نے دیکھا اور آواز دی، لوگوں نے بچے کو درخت سے نیچے اتارا تو وہ صحیح سلامت اور زندہ تھا۔
آذر بائیجان کا بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان
بچے نے بتایا کہ اُس نے پانی میں بہتے وقت درخت کو پکڑا لیا تھا، جس کے بعد وہ اس پر چڑھ گیا اور چار روز تک سوئے بغیر بھوکا پیسا یہاں پر رہا۔
عینی شاہدین نے بچے کے زندہ بچ جانے کو معجزہ قرار دیا اور کہ خدا کی قدرت سے اس بچے کو ہمت ملی جس کی وجہ سے وہ زندہ رہا بچے کو زندہ دیکھ کر گھروالوں نے شکر ادا کیا اور بچے کو ہار پہنا کر استقبال کیا۔
واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سیلابی ریلوں نے تباہی مچارکھی ہے سیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونےسے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا خطرہ
دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں اور وسیع علاقہ زیر آب آگیا
باغی ٹی وی رپورٹ،ڈیرہ غازیخان میں دریائے سندھ میں طغیانی سے کچہ بیٹ علاقے جن میں شادن لنڈکے دریائے سندھ کی پٹی میں واقع نشیبی علاقے ،شاہ صدردین،پیرعادل،موضع لاڈن ،کلے والی ،موضع کوٹلہ میرحسین،موضع بیٹ ملانہ،موضع نوریہ کوریہ شرقی اور موضع نوریہ کوریہ غربی کامشرقی حصہ،موضع دراہمہ کے دریائی علاقے،موضع سکھیراارائیں،سمینہ سادات کے قریبی علاقوں کے علاوہ جکھڑامام شاہ اوربیٹ بیت والاکے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔

سیلاب سے ہزاروں ایکڑ کپاس،جوار،مونگی اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں سیلاب سے متاثر ہونے والے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مکامات پر منتقل ہوناشروع ہوگئے ہیں۔ڈیرہ غازیخان اور گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش ہے ،ایک ہفتے سے جاری بارشوں سے عوام کوکافی مشکلات کا سامناکرناپڑ رہا ہے اس کے علاوہ بارش کے باعث کوہ سلیمان کے دامن سے نکلنے والی رود کوہی کے سیلابی ریلوں میں طغیانی آئی ہوئی ہے جس سے نشیبی علاقے زیرآب آئے ہوئے ہیں،ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ کوہ سلیمان کی رودکوہیوں کے سیلاب سے نمٹنے میں مصروف ہے ،جس کے باعث ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک دریائے سندھ میں فلڈ کی وارننگ جاری نہیں کی ہے

جبکہ پروونشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی نے مسلسل ہونے والی بارشوں کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان اورراجن پورمیں دریائے سندھ میں سیلاب آنے کی وارننگ جاری کی ہوئی ہے،جس میں کہاگیا ہے دریائے سندھ کے نزدیکی نشیبی علاقوں میں سیلاب آسکتاہے۔دوسری تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق ضلع غازی خان میں رود کوہیوں کے ساتھ دریائی سیلاب کا شدید خدشہ ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ دریائے سندھ میں ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک سیلابی ریلا کی پیشنگوئی کی گئی ہے جو 22 اگست کو ہیڈ تونسہ سے گزرے گا اور کسی بھی وقت ضلع کو متاثر کرسکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ دریائے سندھ کے سیلاب نشیبی علاقے زیر آب آسکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان شہر کے تمام سرکاری ادارے ریلیف کیمپس میں تبدیل کردئیے گئے ہیں اور 55 مختلف مقامات پر فلڈ ریلیف کیمپس کی تیاری کے بھی احکامات جاری کردئیے گئے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان شہر میں موجود یونیورسٹی ،کالجز اور سکولوں کی عمارتوں کو فلڈ ریلیف کیمپس میں تبدیل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے سیلاب سے تین لاکھ کی آبادی اور 200 مواضعات متاثر ہوسکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے عوام سے کہا کہ وہ دریا کے نشیبی علاقے فوری طور خالی کردیں۔عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کےلئے بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔عوام کے انخلاء کےلئے 200 سے زائد گاڑیاں محفوظ مقامات پر پہنچا دی گئی ہیں۔
ڈی جی خان اور راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی ،ایمرجنسی نافذ،ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث تباہی مچ گئی ،سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تونسہ شریف میں بڑے پیمانے پر دیہات اور بستیاں پانی میں گھر گئیں۔ روجھان کی رودکوہی میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا، راجن پور میں داجل کو جام پور سے ملانے والا پل ٹوٹ گیا۔ میراں پور سمیت درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے۔
ڈی جی خان اور راجنپور اضلاع کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی
تونسہ میں انڈس ہائی وے ڈوبنے سے سندھ جانے والی ٹریفک رک گئی۔ بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے سے تین لاشیں بر آمد کی گئیں۔
ڈی جی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی ہدایت پر ریلیف آپریشن تیز کر دیا گیا۔پنجاب کے ریسکیو، ریونیو، ہیلتھ، لائیو اسٹاک اور دیگر محکمے ہائی الرٹ کر دیے گئے۔
کمشنر ڈی جی خان کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان میں سیلاب سے متاثرہ بین الصوبائی شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دی گئی۔ڈی جی خان اور راجن پور میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ۔
ڈی جی خان اور راجن پور کے دونوں اضلاع میں ایک ہزار خیمے نصب کیے گئے ہیں۔فلڈ ریلیف کیمپس میں تین وقت کا کھانا اور ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
کمشنر ڈی جی خان عثمان انور کے مطابق ڈی جی خان اور راجن پور میں امدادی سرگرمیوں کےلیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں،مویشیوں کی ویکسی نیشن کیلئے فکسڈ کیمپ کے علاوہ موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ سیلاب زدگان کے ضروری علاج معالجہ کی سہولیات کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔
بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑ دیا، سیلاب کا خطرہ
ادھر توبہ اچکزئی میں کئی گھنٹوں ہونے والی موسلادھار بارش نے ہر طرف پانی پانی کردیا شدید بارشوں سے سیلابی ریلےقلعہ عبداللہ میں داخل ہوگئے جس سے کئی دیہات اور سڑکیں ڈوب گئیں سیلابی ریلے سے باغات اور فصلیں تباہ جب کہ کئی مویشی بہہ گئے، انتظامیہ نے صورتحال خراب ہونےپر شہریوں کی فوری منتقلی شروع کردی۔
خاران میں 2 لیویز افسران سیلابی ریلے میں بہہ کرجاں بحق ہو گئے جب کہ موسیٰ خیل، دکی، بارکھان اور کوہلو میں سیلاب سے بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی موسیٰ خیل میں سیلابی ریلوں سے 100 سے زائد مکانات گرگئے جب کہ 9 افراد جاں بحق ہوگئے ادھر سبی، جیکب آبادریلوے ٹریک زیر آب آگیا جب کہ مسافروں کو گاڑیوں کے ذریعے سبی ریلوےاسٹیشن پہنچایا گیا۔
دوسری جانب سکھر میں کندھ کوٹ کے قریب دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 3 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے پولیس کے مطابق کشتی الٹنے کا واقعہ کندھ کوٹ کے دریائی علاقے گھوڑا گھٹ میں پیش آیا جہاں دریائے سندھ پار کرتے ہوئےکشتی الٹ گئی۔
حادثے کے نتیجے میں کشتی میں سوار تین افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں متاثرہ کشتی میں 8 افراد سوار تھے جن میں سے 5 افراد کو زندہ بچالیا گیاہے۔
حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے-
محکمہ موسمیات کے مطابق اور کز ئی، کرم،ڈی آ ئی خان اور وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے خیبرپختونخوا، آزادکشمیر ، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں بیشتر مقا مات پر بارش کا امکان ہے علاوہ ازیں اسلام آباد میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے-
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان میں چند مقا مات پر تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،بارکھان،سبی، ژوب ،قلات ، آواران،خضدار،کیچ، پنجگور،گوادر اور لسبیلہ میں بارش کا امکان ہے میانوالی ،سرگودھا، خوشاب ، بھکر،لیہ ، ڈ یر ہ غا زی خان ، گوجرانوالہ اور گجرات میں بارش متوقع ہے-
پنجاب میں سیلاب کا خدشہ، وزیر اعلیٰ پنجاب نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا
محکمہ موسمیات کے مطابق سیالکوٹ، لاہور، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، جھنگ ،منڈی بہاؤالدین ، نارووال اور فیصل آبا د میں بارش کا امکان ہے ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگراور رحیم یار خان میں بھی چند مقامات پر بارش کا امکان ہے-
محکمہ موسمیات کے مطابق تھر پارکر، عمر کوٹ ، میر پور خاص ، بینظیر آباد، بدین ، دادو، حیدر آباد اور کراچی میں بارش متوقع ہے،ٹھٹھہ ، مٹیاری ،جیکب آباد، جامشورو، سکھر،لا ڑ کا نہ ، ٹنڈو جام، ٹنڈ و اللہ یار میں بارش متوقع ہے –
محکمہ موسمیات کے مطابق ٹنڈو محمد خان، سا نگھڑ، خیر پور، نو شہرو فیروز، کراچی، حیدر آباد، میر پور خاص میں بارش کا امکان ہے دیر،چترال،سوات، مالا کنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور،شانگلہ اور بو نیر میں بارش متوقع ہے جبکہ مردان، پشاور ، نو شہرہ، مہمنڈ، کوہاٹ، بنوں، خیبر، با جوڑ، چار سدہ اور لکی مروت میں بارش کا امکان ہے-
دوسری جانب ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کااخراج 2لاکھ 18 ہزازکیوسک ہے تربیلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار 4888 میگاواٹ ، پانی کی آمد 2لاکھ 96 ہزار کیوسک ہے تربیلا ڈیم میں پانی کا لیول 1547 فٹ ،منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1171 فٹ ہے-
تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن :فوج سےمدد مانگ لی گئی














