Baaghi TV

Category: رمضان

  • رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے حیران کن فوائد

    رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے حیران کن فوائد

    طبی ماہرین کی جانب سے نیم گرم پانی کا استعمال انسانی مجموعی صحت کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے، نیم گرم پانی کے استعمال سے صحت میں اضافہ، جسمانی اعضاء فعال اور بیماریوں سے نجات حاصل ہوتی ہے گرم پانی دل کی شریانوں اور جسم میں موجود خون کی تنگ رگوں کو کشادہ کرتا ہے جس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے اور متوازن بلڈ پریشر کے سبب جسمانی اعضاء کی کارکادگی بہتر ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کی جانب سے رمضان میں نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کے بے شمار فوائد بھی گنوائے جاتے ہیں۔

    سحری کے بعد تقریباً 15 سے 16 گھنٹوں کے بعد افطاری ٹائم گھنٹوں کی بھوک کے بعد اگر پہلا گلاس نیم گرم پانی کا لے لیا جائے افطار کے بعد پیش آنے والی کافی شکایات سے نجات حاصل ہوتی ہے۔

    چقندر الزائمر ختم کرتا ہے اور کینسر سے بچاتا ہے

    گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کی صورت میں وزن میں کمی،ر دل، گردوں اور پھیپھڑوں کی صحت میں اضافہ اور جِلد صاف، خوبصورت ہوتی ہے، انسان خود کو چاق و چوبند اور توانا محسوس کرتا ہے، طبیعت کا بوجھل پن منٹوں میں غائب ہو جاتا ہے ۔

    افطاری میں بنانے والے چند پکوان

    نیم گرم پانی سے روزہ افطار کرنے کی صورت میں انسانی جسم کے اندرونی اعضاء فوراً فعال ہو جاتے ہیں اور جسم میں موجود مضر صحت مادوں کو بھی خارج ہونے میں مدد ملتی ہے۔

    سبز چائے کے طبی فوائد

    گرم پانی جسمانی میٹا بالزم کو تیز کرتا ہے جس سے وزن میں کمی ہوتی ہے، گرم پانی چربی کے خلیات کو بھی توڑنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔

    رمضان کے دوران اکثر اوقات نظام ہاضمہ خراب رہتا ہے، اس کی وجہ سحری اور افطار کے دوران پانی کا کم استعمال اور مضر صحت غذاؤں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، گرم پانی پینے کے نتیجے میں بڑی اور چھوٹی آنتوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، قبض سے بھی نجات ملتی ہے اور افطار کے دوران گرم پانی پینے سے غذا آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے۔

    طبی ماہرین کا روزہ داروں کو سخت احتیاط کا مشورہ

    گرم پانی معدے میں ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں کچھ زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹ دیر تک بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے وزن میں کمی ہوتی ہے –

    طبی ماہرین کے مطابق روزہ افطار کرنے کے دوران میٹھے اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال کرنے کے بجائے نیم گرم پانی کا استعمال لیموں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

    کھجور کا ملک شیک ٹھنڈک اور صحت ساتھ ساتھ

    لیموں میں الکلائن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے جو انسانی جسم میں ’پی ایچ‘ کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے لیموں پانی مضر صحت اجزاء بھی جسم سے نکال دیتا ہے جس سے انسان خود کو تازہ دم اور ہلکا محسوس کرتا ہے۔

    لیموں کا استعمال چہرے کی دلکشی اور شادابی کے لئے فائدہ مند

    نہ صرف سائنسی تحقیق میں بھی گرم پانی کے استعمال کے صحت پر بے شمار فوائد ثابت کیے جا چکے ہیں بلکہ طبی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر خود کی صحت اور خوبصورتی پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ایک ماہ تک مسلسل گرم پانی کا استعمال کر لیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والے صحت اور جِلد پر حیرت انگیز فوائد آپ کو حیران کر دیں گے-

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

  • توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا       بقلم:جویریہ بتول

    توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا بقلم:جویریہ بتول

    توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).

    ہم گزشتہ سال سے ایک اضطراب،وہم اور پریشانی کی کیفیت میں مبتلا ہیں…
    کورونا وائرس کی وبا نے اپنے شکنجے میں کس کر ہر اعتبار سے ہمیں مفلسی کی طرف دھکیلا ہے…وہ تعلیمی اداروں کے بے ترتیب شیڈول ہوں یا کاروبارِ زندگی کے دیگر مرحلے…خوشی و غمی کے مواقع متاثر ہو کر رہ گئے…غریب و دیہاڑی دار طبقہ کام نہ ملنے کی وجہ سے پریشان دکھائی دینے لگا…بڑے کاروباروں کو بھی دھچکا لگا…
    ہم عبادت گاہوں سے بھی دُور ہوئے…
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس دوران ہم نے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کی…تنہائی کے یہ لمحات ہمیں اپنے دریدہ دامن رفو کرنے پر آمادہ کر پائے یا نہیں…
    ہر اعتبار سے گناہوں کی آلودگی سے متاثر ہوتے ہوئے ہم ندامت و توبہ کے چند آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ سچے دل سے بارگاہ الٰہی میں جھک گئے؟
    ہم نے اپنے تمام معاملات درست کرنے کی نیت کر لی ؟
    کیا بے یقینی اور خوف کی اس کیفیت میں ہم سچے دل سے اپنی اصلاح پر آمادہ نظر آتے ہیں؟
    یہ وبائیں اور بلائیں بڑی آزمائش ہوا کرتی ہیں اور انہیں رضائے حق کے نشان بھی نہیں کہا جا سکتا جب کہ قوم میں تمام تر برائیاں پوری شدت سے موجود بھی ہوں…
    تب صرف ایک حل نکلتا نظر آتا ہے اور وہ ہے توبہ کے ارادے سے اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرنا…
    بندے اور رب کے حضور توبہ کے درمیان کوئی حائل نہیں ہو سکتا…
    یاد ہے ناں قرآن تو سب پڑھتے ہوں گے شھر القرآن سے گزرتے ہوئے کہ مشرکینِ مکہ بھی جب سخت ابتلاء میں آتے…سمندری لہروں میں گِھر جاتے…کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا…
    معبودانِ باطل غائب ہو جاتے…بت مدد کو نہ پہنچتے تو اللّٰــــہ واحد کو ہی اخلاص سے پکارتے…
    قرآن میں اللّٰه تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کا نقشہ بیان کرنے کے بعد کئی مقامات پر فرمایا کہ جب ہم انہیں اس مصیبت سے نجات دیتے تو ساحلِ سمندر پر پہنچتے ہی پھر شرک و نافرمانی میں مبتلا ہو جاتے…!
    ایک قوم کا تذکرہ بھی تو ضرور نظروں سے گزرا ہوا ہو گا…
    جسے اللّٰہ تعالٰی نے وہ واحد قوم کہا جنہیں عذاب کی وارننگ دی جا چکی تھی مگر اُن کی بصیرت کی آنکھ کُھل گئی تو سب کے سب گڑگڑاتے ہوئے الٰہ واحد کے دربار میں جھک گئے…توبہ کی سسکیوں کی گونج میں اپنے اوپر آئے عذاب کی گھڑیوں کو ایمان کی دولت سے بدلنے میں کامیاب ہو گئے…
    جن کا تذکرہ کرتے ہوئے رب نے فرمایا کسی سابقہ وارننگ زدہ قوم کو اُن کا ایمان لانا فائدہ نہ دے سکا اِلَّا قوم یونس…مگر یونس علیہ السلام کی قوم کو…!!!
    ہاں وہ قومِ یونس تھی…!
    جس کے پیغمبر نے بھی مچھلی کے پیٹ میں پکارا:
    لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین¤
    توبہ کے طلب گاروں پر تو فرشتوں کا نزول ہوا کرتا ہے…
    صحیح بخاری میں ہے سابقہ قوم کے ایک شخص کی مثال دیتے ہوئے رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ:
    جب سو آدمیوں کو قتل کرنے والا آدمی توبہ کی غرض سے نکل پڑا تو اُس کی روح راستے میں ہی قبض کر لی گئی
    آسمان سے فرشتے اُترے اور اُس کی برائیوں اور گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق سمجھنے لگے…اللّٰہ نے زمین کو نیکی کی بستی کی طرف سمٹ جانے کا حکم دیا اور اُس کی روح جنت والے فرشتوں کے سپرد کر دی گئی…
    کہ وہ توبہ کی نیت سے قدم اُٹھا چکا تھا…
    رب کتنا قدر دان ہے ؟
    یہ ہم نے سوچنا ہے کہ آیا ہم سچے دل سے رب کو پکار کر پھر سچے ہی رہے یا وقت گزرنے پر پھر ملاوٹ کرنے پر آ گئے…؟
    کیا توبہ کرنے کے بعد پھر خیانتوں کی آمیزش کرنے لگ گئے…؟
    جب خلوصِ دل اور سچے عزم کے ساتھ اُس کے در پر جھک جایا جائے تو وہ تو سیئات کو حسنات میں بدل دیا کرتا ہے…کتنا خوب صورت اور احسان بھرا قانون ہے اُس کا کہ:
    من تاب و اٰمن و عمل صالحا فاولئک یبدل اللّٰہ سَیِّاٰتھم حسنٰت و کان اللّٰه غفور رحیما¤
    (الفرقان)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    "گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے گویا اس کے ذمہ گناہ ہے ہی نہیں…!”
    (ابنِ ماجہ_کتاب الزھد)
    یہ بات سچ ہے کہ مسلمان قوم آج بھی روحانیت کے مضبوط ترین اور بلند یقین کے درجہ پر فائز ہے…غیر مسلم بھی آج یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا الٰہ بہت جلد سُن لیتا ہے اور یہی سب سے بڑا سچ اور حقیقت ہے اور ہم نے مل کر اس حقیقت کو دنیا پر آج واضح کرنا ہے…
    وہ تو اپنے بندوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا منتظر ہے…
    وہی بہترین مرجع،بہترین کارساز اور سب سے بڑا مہربان ہے…
    بس کہیں فرق ہے تو اس تعلق میں…!
    سقم ہے تو اس کردار میں…!!
    بھول ہے تو راستوں میں…!!!
    اور ضرورت ہے،عقائد و اعمال کی اصلاح کے ساتھ اخلاص بھرے رجوع اور ندامت بھری توبہ کی…اُس سے خالص اور گہرے سے تعلق کی…نہ کہ وقتی طور پر اور رسمی…!
    پھر اس کی رحمتیں برسیں گی…ہاں یقینًا برسیں گی…اوپر نیچے سے…
    آگے پیچھے سے…
    اور دائیں بائیں سے گھیراؤ کریں گی…یہ اُس کا سچا وعدہ ہے…!!!
    لا ریب ہمارے پلٹنے میں تو دیر اور کوتاہی ہو سکتی ہے…اُس کے راضی ہونے اور بخشش و عطا میں ہر گز نہیں…!!!
    آئیں استغفار کریں…تنہا تنہا سہی مگر وہ تو اقرب من حبل الورید ہے…دلوں میں اُٹھنے والے خیالات سے باخبر…پھر اس استغفار سے گناہ بھی دُھلیں گے…رزق بھی وافر ہو گا اور راستے بھی کُھلنے لگیں گے…اور یاد رکھیے کہ اجتماعی طور پر ابتلاء میں اجتماعی کردار ہی لازم ہو جایا کرتا ہے…
    ہمیں ہر معاملے میں وہ دین کا ہو یا دنیا کا اس کرپشن بھرے کردار سے خود کو بچانا ہے…
    پھر خواص و عوام کی تخصیص نہیں ہوا کرتی اور رب کے حکموں اور لشکروں کے سامنے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی اور وسائل بھی کم کم پڑتے دکھائی دینے لگتے ہیں…اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے…رہے نام اللّٰــــہ کا…
    کل من علیھا فان¤ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام¤
    ہم کمزور و بے بس ہیں اور اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں،فلاح کا راستہ اللّٰــــہ تعالٰی نے ہمیں بتا دیا ہے کہ:
    یا ایھا الذین اٰمنو توبو الی اللّٰــــہ توبۃ نصوحا،عسٰی ربکم ان یکفر عنکم سیِّاٰتکم…(التحریم:8).
    "اے لوگو جو ایمان لائے ہو،توبہ کرو اللّٰــــہ کی طرف خالص و سچی توبہ،قریب ہے تمہارا رب تم سے تمہارے گناہوں کو دُور کر دے…!!!آمین.
    =================================

  • ماہرین نے رمضان میں پروٹین والی غذاؤں کا استعمال کیوں ضروری قرار دیا؟

    ماہرین نے رمضان میں پروٹین والی غذاؤں کا استعمال کیوں ضروری قرار دیا؟

    غذائی ماہرین کے مطابق پروٹین انسانی غذا اور جسمانی نشونما کے لیے اہم اور بنیادی جز ہے جس کی کمی کے نتیجے میں صحت سے متعلق متعدد مسائل جنم لیتے ہیں پروٹین کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے مگر دوران رمضان اس کے استعمال سے جہاں دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں یہ روزہ نہ لگنے کا سبب بھی بنتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماہرین غذائیت کی جانب سے رمضان کے دوران پروٹین سے بھر پور غذاؤں کے استعمال کو بڑھا دینا تجویز کیا جاتا ہے –

    انسانی جسم کے وزن کا 18 سے 20 فیصد حصہ پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے، پروٹین کی کمی کے نتیجے میں جسمانی کمزوری، جسمانی اعضاء کا سوجنا، بال، ناخن اور جِلد کا خراب ہونا، بھوک زیادہ لگنا، چڑچڑاپن محسوس ہونا اور تھکاوٹ شامل ہے۔

    عام طور پر انسانی جسم کے فی کلو گرام وزن کے لیے 0.8 سے1 گرام پروٹین تجویز کی جاتی ہے جبکہ ویٹ لِفٹر یا ایتھلیٹس کے لیے فی کلو گرام وزن کے حساب سے 1.4سے 2 گرام پروٹین حاصل کرنا تجویز کیا جاتا ہے ورزش کرنے کے آدھے گھنٹے کے بعد 15سے 25 گرام پروٹین کی مقدار لینے سے متاثرہ پٹھوں کو آرام ملتا ہے اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔

    پروٹین کی دو طرح کی اقسام ہیں جن میں ’اینیمل پروٹین‘ یعنی کے حلال جانوروں کے گوشت جیسے کہ گائے، بھینس، مرغی مچھلی، دودھ اور انڈوں سے حاصل کیے جانے والا جبکہ دوسرا ’پلانٹ پروٹین ‘ جس میں دالیں، جو، سبزیاں، پھلیاں اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

    پروٹین ہضم ہونے میں وقت لیتا ہے جبکہ اس کے استعمال سے تا دیر بھوک نہیں لگتی، پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو رمضان المبارک میں آئیڈیل غذا قرار دیا جاتا ہے۔

    غذائی ماہرین کی جانب سے بہت زیادہ پروٹین کی مقدار استعمال کرنے کو بھی مضر صحت قرار دیا جاتا ہے لہٰذا پروٹین سے بھر پور غذاؤں کے ساتھ کاربو ہائیڈریٹس اور فائبر کی مقدار لینا بھی ضروری ہے اگر آپ پروٹین ڈائیٹ پر ہیں تو گوشت کے ساتھ کچی سبزیوں کی شکل میں سلاد کا استعمال بھی لازمی کریں، ایک وقت کی غذا میں مکمل گوشت کا استعمال بھی مضر صحت ہے۔

    پروٹین کے بہتر مثبت انداز میں استعمال کے لیے دالوں اور گوشت کو ملا کر استعمال کریں، اگر صبح کے اوقات میں گوشت کھایا ہے تو شام میں دال کا سوپ اور سلاد لے لیں۔

    غذا میں جتنی پروٹین کی اہمیت ہے اتنی ہی اہمیت اس دوران خود کو ہائیڈریٹڈ رکھنے کو دی جاتی ہے، اگر آپ پروٹین حاصل کرنے کی غرض سے گوشت، دالوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں تو اس دوران ساتھ میں پانی کا استعمال بڑھانا بھی لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    سحری کے وقت کوشش کریں کے ایک پیالی دہی یا 2 سے تین گلاس دودھ اور دہی سے تیار لسی کا استعمال لازمی کریں، سحری کے اوقات میں انڈہ بھی غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

  • خوش قسمت لوگ    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    خوش قسمت لوگ تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    خوش قسمت لوگ
    تحریر:حافظ امیرحمزہ سانگلوی

    رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ یہ مہینہ نزول قرآن کا مہینہ ہے۔تو ضروری ہے کہ اس ماہ مبارک میں اس اللہ کے کلام کو خصوصی طور پر ترجیح دی جائے۔ویسے تو ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ سارا سال ہی اس کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے، لیکن اس مہینے میں خاص طور پر پڑھنے اور سمجھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔قرآن پاک کو پڑھنا، اسے زبانی یاد کرنا، اس میں جو احکامات الٰہی ہیں انہیں سمجھنا اور اس کی تعلیم دینا، رب العزت کا قرب حاصل کرنے کا سب سے بہترین اور پاکیزہ ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے جو ہمیں ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید عطا فرمائی، اس کی تعلیم حاصل کرنے اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ اعلان فرما دیا کہ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھتا اور دوسروں کو سکھلاتا ہے“۔(بخاری)

    سیدنا حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم ”صفہ“میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:”تم میں سے کون ہے جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ ہر روز صبح سویرے”بطحان“ یا ”عقیق“ میں جائے،پھر وہاں سے دو موٹی تازی اونٹنیاں مفت میں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے لے آئے؟ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول!ہم سب یہ پسند کرتے ہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تو کیا تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے مسجد میں نہیں جاتا جہاں وہ کتاب اللہ کی دو آیات کا علم حاصل کرے یا ان کی تلاوت کرے،یہ اِس طرح کرنا اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین آیات کی تلاوت کرنا، تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔پھر اسی طرح ہر آیت ایک ایک اونٹ سے بہتر ہوگی۔“(احمد ومسلم) –

    یاد رہے کہ”بطحان“ مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے اور”عقیق“ مدینہ میں ایک وادی کا نام ہے۔اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی مسجد میں نماز پڑھے اور پھر قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی تلاوت کرے تو یہ اس کے لیے دو بڑی، موٹی اور صحت مند اونٹنیوں سے بہتر ہو گا اور تین آیات تین اونٹنیوں سے اور چار آیات چار اونٹنیوں سے اور پچاس آیات پچاس اونٹنیوں سے بہتر ہیں، اگر کوئی اس سے بھی زیادہ آیات پڑھے گا تو اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ اجر وثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ بڑ اہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو ہر روز مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہے اور ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی تلاوت کر کے اتنے بڑے اجر و ثواب کو اپنے نامہ اعمال میں درج کروا لیتا ہے۔ بعض لوگ اس اجر و ثواب سے کئی کئی دن اور کئی کئی مہینے محروم رہتے ہیں۔جو کہ سوائے افسوس اور خسارہ کے کچھ بھی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں کئی مسلمانوں کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا اور عمر بھی بڑی ہوتی ہے، تو وہ بڑی عمر ہونے کی وجہ سے اسے سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے صحابہ کرام ملیں گے جنہوں نے اپنی بڑی عمر کی پرواہ کیے بغیر اسے سیکھنا شروع کیا۔ اسی طرح پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مہمان مہاجر آتا تو اسے قرآن مجید کی تعلیم دلواتے۔ جیسا کہ“سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشغول ہوتے تھے۔ آپ کے پاس جب کوئی مہاجر آتا تو آپ اسے ہم میں سے کسی شخص کے حوالے کر دیتے جو اسے قرآن مجید سکھلاتا۔“قرآن مجید کی تلاوت کے حوالے سے اُس بندے کی بھی بڑی فضیلت ہے جو کوشش کر کے اٹک اٹک کے پڑھتا رہتا ہے۔

    بخاری و مسلم میں روایت ہے”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن مجید پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور پڑھنا اس پر مشکل ہو یعنی کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے تو ایسے شخص کو دوگنا اجر دیا جائے گا۔”ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے حالانکہ یہ پڑھنا اس کے لیے سخت مشکل کا باعث ہے، اس کو دو اجر ملیں گے۔

    امام ابوالفضل الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صدر اول کے لوگ قرآن مجید کو حفظ کرنے اور کروانے کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ بسااوقات بڑی عمر کے لوگ چھوٹی عمر کے لوگوں سے پڑھتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:”قتادہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام دن کو لکڑیاں اکٹھی کرتے اور رات کو قیام کرتے اور ثابت رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے۔ وہ ان لکڑیوں سے اہل صفہ کے لیے کھانا خریدتے تھے اور رات کو قرآن مجید پڑھتے اور اس کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس کو قرآن مجید پڑھنا نہیں آتا اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے کام کاج سے جب فارغ ہو جائے قرآن پاک سیکھنے کے لیے کسی اچھا پڑھنے والے سے ضرور سیکھے۔

    ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن مجید پڑھا کرو،کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔“(مسلم)”حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ رب العزت فرماتا ہے: جس شخص کو قرآن اور میرا ذکر اتنا مشغول کردے کہ وہ مجھ سے کچھ مانگ بھی نہ سکے تو میں اسے مانگنے والوں سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہوں اور تمام کلاموں پر اللہ تعالیٰ کے کلام کی فضیلت اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پرفضیلت ہے۔

  • کراچی کی خاتون نے سب کو حیران کر ڈالا،رمضان ڈیل میں 208 برگر وصول کئے

    کراچی کی خاتون نے سب کو حیران کر ڈالا،رمضان ڈیل میں 208 برگر وصول کئے

    دنیا بھر میں مختلف کمپنیز اور فوڈ چینز کی جانب سے مختلف مواقع پر ڈیلز متعارف کروائی جاتی ہیں جس سے صارفین بھرپور فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔
    پاکستان میں بھی کھانے پینے اور دیگر اشیا کے شوقین حضرات ہر وقت ڈیل کے انتظار میں رہتے ہیں لیکن کراچی میں ایک خاتون صارف کی جانب سے حاصل کی گئی رمضان ڈیل،جس نے سب کو حیران کر دیا۔
    کراچی میں واقع ایک مشہور بین الاقوامی فوڈ چین کی جانب سے ایک بینک کے اے ٹی ایم کارڈ پر ڈیل متعارف کروائی گئی جس کے تحت ایک صارف ایک دن میں 550 روپے کے ذریعے 4 زنگر برگر حاصل کر سکتا ہے اور ایک کارڈ پر 24 گھنٹے میں دو مرتبہ ڈیل سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔تو جناب جب کراچی کی خاتون کو اس ڈیل کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ فوراً ایک دو نہیں پورے 26 اے ٹی ایم کارڈ لیکر کراچی کے علاقے خیابان شہباز میں واقع فوڈ چین پہنچ گئیں اور ہر کارڈ کے عوض دو ڈیلز آرڈر کر ڈالیں۔
    فوڈ چین کے مینیجر نے بتایا کہ خاتون کو برگر دینا تو ہماری مجبوری تھی کیونکہ کمپنی نے یہ ڈیل متعارف کروا رکھی تھی لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ خاتون کو تمام کارڈز کے پن کوڈز بھی یاد تھے یا پھر انہوں نے پن کوڈذ اپنے موبائل میں سیو کر رکھے تھے۔
    بین الاقوامی فوڈ چین کے مینیجر نے بتایا کہ خاتون نے 26800 روپے کا بل ادا کیا اور 208 برگر لیکر چلی گئیں۔