Baaghi TV

Tag: عراق

  • پاکستان اور عراق کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    پاکستان اور عراق کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

    بغداد:صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی –

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراقی صدر ڈاکٹر عبداللطیف جمال رشید سے بغداد پیلس میں ملاقات کی جہاں ان کی آمد پر صدر آصف علی زرداری کو شان دار گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور سرکاری استقبالیہ تقریب میں قومی ترانے بجائے گئے، صدر مملکت آصف علی زرداری نے عراق کے صدر کو ملک کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کی جبکہ دونوں ممالک نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا۔

    اعلامیے کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر تفصیلی ملاقات ہوئی اور عراقی صدر نے صدر آصف علی زرداری اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے عراقی قیادت اور عوام کے پرت پاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بغداد تہذیب، تاریخ اور استقامت کی علامت عظیم شہر ہے اور عراق میں کامیاب پارلیمانی انتخابات پر عراقی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی،انہوں نے کہا کہ پاکستان عرا ق کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی اتحاد کی بھرپور حمایت کرتا ہے، صدر پاکستان نے عراق کےاستحکام، ترقی اور جمہوری عمل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ملاقات میں پاک-عراق دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورت حال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح پر را بطوں اور مشترکہ کمیشن کے اجلاس پر اطمینان کا اظہار کیا،صدر مملکت نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، دفاعی پیداوار میں تعاون بڑ ھا نے پر زور دیا اور ساتھ ہی آئی ٹی، تعمیرات، ادویات اور متعلقہ صنعتوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر بات چیت کی۔

    ملاقات کے دوران صدر زرداری نے بزنس ٹو بزنس روابط اور تجارتی وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بینکاری چینلز کے قیام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مالیاتی سہولتیں ناگزیر ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے عراق کی تعمیر نو میں پاکستان کے کردار کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موجودہ ایم او یو کے تحت ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہےانہوں نے طبی سہولیات، مالیاتی مہارت اور ڈیجیٹل گورننس میں تعاو ن کی بھی پیش کش کی اور محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ سمیت تکنیکی تجربات عراق کے ساتھ شیئر کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

    صدر پاکستان نے عراقی زیارات پر جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے سہولتوں میں بہتری کا مطالبہ کیا اور زائرین مینجمنٹ ایم او یو کی جلد حتمی منظوری اور نفاذ پر زور دیا گیا غیر قانونی داخلے اور زائد قیام کرنے والے پاکستانیوں کی روک تھام کے لیے مکمل تعاون کریں گے، پاکستان عراقی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا حامی ہے۔

    دونوں صدور نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا، پاک-عراق قیادت نے سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت عالمی فورمز پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    عراقی صدر نے مسلم امہ کو متحد کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی تاریخی اور مسلسل حمایت کی تعریف کی۔

  • صدر آصف زرداری 4 روزہ سرکاری دورے پر بغداد پہنچ گئے

    صدر آصف زرداری 4 روزہ سرکاری دورے پر بغداد پہنچ گئے

    صدر مملکت آصف علی زرداری عراق کے چار روزہ سرکاری دورے پر بغداد پہنچ گئے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا بغداد پہنچنے پر عراقی حکام کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیاعراق کے وزیر ثقافت و سیاحت پروفیسر ڈاکٹر احمد فکاک احمد البدرانی، عراق میں پاکستان کے سفیر محمد ذیشان احمد اور دیگر سینئر حکام نے استقبال کیا۔

    صدر مملکت نے دورے کے دوران اعلیٰ عراقی قیادت سے ملاقاتوں میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت متوقع ہے،اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر کا دورہ پاکستان اور عراق کے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔

  • 35 سال بعد پہلی یورپی پرواز عراق میں لینڈ

    35 سال بعد پہلی یورپی پرواز عراق میں لینڈ

    بغداد: عراق کی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی ملک یونان سے پہلی پرواز بغداد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراق میں 35 سال وقفے کے بعد کسی یورپی ملک کی پرواز نے لینڈ کیا ہےوزارت نے کہا کہ یونان کی اس پرواز کی آمد عراق کے سول ایوی ایشن کے شعبے کی بحالی کے مرحلے کی علامت ہے، ابتدائی طور پر بغداد اور ایتھنز کے درمیان یہ فضائی سلسلہ ہفتے میں دو پروازوں پر مشتمل ہو گا، جس میں مسافروں کی تعداد کے مطابق اضافہ یا کمی کی جا سکے گی۔

    واضح رہے کہ 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد یورپی فضائی کمپنیوں نے عراق کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں،عراقی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ معیشت میں بہتری لائی جا سکے اس سے قبل اسی سال یونان نے شمالی کردستان کے خودمختار علاقے میں اپنی پروازیں شروع کی تھیں، اور اب بغداد میں بھی اسی سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    صدر مملکت نے وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی سے عہدے کا حلف لے لیا

    وقت آ گیا ہے کہ ہر ادارہ اپنے کردار اور ذمہ داری کا سنجیدگی سے جائزہ لے،عظمٰی بخاری

    زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر 3.203ارب ڈالر اضافہ ریکارڈ کیاگیا،اسٹیٹ بینک

  • عراق :شاپنگ میں خوفناک آتشزدگی، کم از کم 60 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتہ

    عراق :شاپنگ میں خوفناک آتشزدگی، کم از کم 60 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتہ

    عراق کے مشرقی شہر الکوت کی ہائپر مارکیٹ میں خوفناک آتشزدگی نے کم از کم 60 افراد کی جان لے لی، جب کہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، شہر کی محکمہ صحت اور دو پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق کے مشرقی شہر کوت میں ایک ہائپر مارکیٹ اور ریستوران میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جب کہ متعدد افراد لاپتہ بھی ہیں۔

    حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید لاشیں جلے ہوئے ملبے تلے دبی ہو سکتی ہیں،سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانچ منزلہ عمارت آگ کی لپیٹ میں ہے، اور فائرفائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    https://x.com/RudawTurkce/status/1945719034034495992

    شہر کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم نے 59 افراد کی شناخت کرلی ہے، لیکن ایک لاش اتنی بری طرح جھلس چکی ہے کہ اس کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔”

    الکوت کے ایک اعلیٰ اہلکار علی المیاحی نے کہا کہ "کئی لاشیں ابھی ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے کی کوشش جاری ہے۔”

    واسط صوبے کے گورنر محمد المیاحی نے واقعے کو ’المناک المیہ‘ اور ’قومی سانحہ‘ قرار دیا ان کے مطابق، آگ رات کے وقت پانچ منزلہ عمارت میں لگی، جہاں شہری خریداری اور کھانے میں مصروف تھے فائر بریگیڈ نے متعدد افراد کو بچا لیا اور آگ پر قابو بھی پا لیا۔

    https://x.com/anadoluagency/status/1945732932821545190

    واقعے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے، جس کی رپورٹ 48 گھنٹوں کے اندر جاری کی جائے گی،عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق، گورنر محمد المیاحی نے بتایا کہ واقعے کے بعد عمارت اور مال کے مالک کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے ہیں،ابھی تک آگ لگنے کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔

  • پاکستان کی ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    پاکستان کی ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران، عراق، لبنان اور شام کے غیر ضروری دوروں سے اجتناب کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے ان ممالک کے لیے سفری وارننگ جاری کی گئی ہے، جس میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایران، عراق، لبنان اور شام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر نہ کریں۔بیان میں ان ممالک میں موجود پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں، بلا ضرورت سفر سے پرہیز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔

    وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ان ممالک میں موجود پاکستانی اپنے قریبی سفارتخانوں سے رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد حاصل کی جا سکے۔

    اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت بند کی جائے،یورپی یونین کے 9 ممالک کا مطالبہ

    کراچی میں فائرنگ،بچی اور خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق، 2 ڈاکو ہلاک

    ایران کے’وعدہ صادق سوم’ کے 15ویں مرحلے میں تل ابیب و حائفہ پر حملے

    ایران کے’وعدہ صادق سوم’ کے 15ویں مرحلے میں تل ابیب و حائفہ پر حملے

  • عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہے،اسحاق ڈار

    عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہےکہ عراقی فضائی حدود بند ہونے سے زائرین کی محفوظ رہائش و انخلاء کی تیاری جاری ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانی طلبہ کے انخلاء کے پہلے مرحلے میں 154طلبہ کی واپسی کاانتظام کیا جا رہا ہے،عراق میں پھنسے پاکستانی زائرین سے سفارتخانہ رابطے میں ہےعراقی فضائی حدود بند ہونے سے زائرین کی محفوظ رہائش و انخلاء کی تیاری جاری ہے۔

    وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے مطابق دفتر خارجہ میں کرائسز منیجمنٹ یونٹ 24/7 فعال ہے، کرائسز منیجمنٹ یونٹ کے نمبر 0092519207887 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، کرائسز منیجمنٹ یونٹ سے ای میل cmu1@mofa.gov.pk پر بھی رابطہ کیاجاسکتاہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایران کے ’ایٹمی پروگرام کے ہیڈکوارٹر‘ پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی اسرائیل کے حق میں ریلی

    یہود و ہنود کا بڑھتا ہوا اتحاد خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ بن گیا

  • عراقی صدر وزیر اعظم کیخلاف عدالت پہنچ گئے

    عراقی صدر وزیر اعظم کیخلاف عدالت پہنچ گئے

    عراق کے صدر نے کردستان کے خود مختار علاقے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق عراق کے صدر نے کردستان کے خود مختار علاقے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کے خلاف درخواست دائر کی جس سے ملک کی قیادت میں دراڑ پیدا ہو گئی ہے،صدر عبداللطیف راشد نے گزشتہ ماہ السوڈانی اور وزیر خزانہ طائف سمیع کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا لیکن وفاقی مشیر حواری توفیق نے اس کا اعلان حال ہی میں کیا۔

    عراق کی عدالت میں جمع کرائے جانے والے مقدمے میں بغداد اور علاقائی دارالحکومت اربیل کے درمیان جاری مالی تنازعات کے باوجود کردستان میں تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے فوری حکم کی درخواست کی گئی ہے۔

    ترک صدر کل پاکستان کے دورے پرپہنچیں گے

    وفاقی مشیر حواری توفیق نے کہا کہ وزیر اعظم کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردستان کے دوسرے سب سے بڑے اور صدر کے آبائی شہر سلیمانیہ میں تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ عراق کا پبلک سیکٹر نااہلی اور بدعنوانیوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور صدر مملکت کے درمیان طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں، اگرچہ عراق کے پبلک سیکٹر کے ملازمین کو جنوری کی تنخواہیں ملی ہیں تاہم وہ اب بھی اپنی دسمبر کی تنخواہوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

    جائیداد کا تنازع ، 2 سوتیلے بھائیوں نے ایک دوسرے کو مار ڈالا

  • عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    پاکستان اور عراق کے تعلقات میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ آ رہا ہے۔

    حالیہ پیش رفت نے ایک پیچیدہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے جو قانونی زائرین کے ساتھ غیر قانونی پاکستانیوں کی موجودگی کو بھی شامل کرتا ہے۔ عراقی حکومت نے غیر قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنائی ہیں جن میں زائرین کی تمام داخلی راستوں پر تفتیش، ان کے پاسپورٹس کو قبضے میں لینا اور گروپوں کے سفر کی زیادہ نگرانی شامل ہے۔اگرچہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت کو روکنا ہے، لیکن ان کا اثر قانونی زائرین پر بھی پڑا ہے جو اب غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے اتنی ہی نگرانی کا سامنا کر رہے ہیں جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر بوجھ ڈال دیا ہے۔عراقی حکومت خاص طور پر اس لیے متنبہ ہے کیونکہ عراق میں تقریباً 40,000 سے 50,000 پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جن میں سے بیشتر انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے عراق پہنچے ہیں۔

    غیر قانونی بحران اور اس کا اثر

    عراق کی سخت امیگریشن تدابیر کی بنیاد غیر قانونی ہجرت ہے۔ پاکستان کے کئی غریب علاقوں جیسے وزیرآباد، گجرات، گجرانوالہ، پاراچنار اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانیوں کو انسانی اسمگلروں کا شکار بنایا جاتا ہے۔یہ غیر قانونی تارکین وطن اکثر اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد عراق میں غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں اور انہیں زیادہ تنخواہوں کا وعدہ کیا جاتا ہےجو کبھی $700 ماہانہ تک پہنچتی تھی۔تاہم، جب سے ان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ان کی اجرتیں کم ہو کر $300 سے $400 ماہانہ تک پہنچ چکی ہیں، اور وہ شدید استحصال اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2023 میں عراق میں کم از کم 50 پاکستانی کارکن ہلاک ہوئے تھے جن کی وجہ یہ خطرناک کام کے حالات تھے اور 2024 میں بھی تقریباً اتنے ہی افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عراق کی بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں پاکستان نے گجرات اور گجرانوالہ جیسے علاقوں میں سرگرم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے کردار کی تحقیقات کی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان غیر قانونی نیٹ ورکوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی وسعت اور مقامی ایجنٹوں اور سرحدی سیکیورٹی اہلکاروں کی مداخلت کی وجہ سے قانون کی عملداری کو یقینی بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

    انسانی بحران کا بڑھنا

    غیر قانونی تارکین وطن کو عراق میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ ان کی زندگی اور کام کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں چھپ کر رہتے ہیں، جہاں وہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی گرفتاری اور بدسلوکی کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ افراد اسمگلروں اور عراقی حکام کے ہاتھوں تشدد اور حتیٰ کہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈی پورٹیشن کا عمل بھی سست اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے گرفتار شدگان طویل عرصے تک بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔پاکستانی زائرین جو مذہبی مقصد کے لیے عراق آتے ہیں، ان کے لیے عراقی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ داخلے اور اخراج کے وقت پاسپورٹس کو ضبط کرنے کا عمل ایک اہم لاجسٹک مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی زائرین جو گروپوں میں سفر کرتے ہیں اور جن کا ایک مخصوص رہنما (سالار) ہوتا ہے، اکثر پاسپورٹ کی واپسی میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کی ناقص کارکردگی نے زائرین اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    مفاہمت کا معاہدہ: مسئلے کا حل

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کے سفر کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ عراق کی غیر قانونی ہجرت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں دونوں حکومتیں ایک مفاہمت کا معاہدہ (MoU) تیار کر رہی ہیں جس کے تحت پاکستانی عازمین کو ایمرجنسی کی صورت میں گروپ سے علیحدہ ہونے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ زائرین کو درپیش سخت سفری پابندیوں میں کمی لائی جا سکے۔پاکستان نے پاسپورٹ کی ضبطی کے عمل پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور عراقی حکام سے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کی جانچ کریں تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے اور پاسپورٹس کی واپسی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔عراق نے اس عمل کا جائزہ لینے کی کچھ آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کب تک اس پر عملدرآمد ہوگا۔ مزید برآں، پاسپورٹس کی تاخیر اور گم ہونے کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں،تاہم، انسانی اسمگلنگ کا بڑا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔عراقی حکام نے اسمگلروں اور ایجنٹوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن ان نیٹ ورکوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان نے غیر قانونی ٹور آپریٹرز اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ان قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے جو زائرین کو استحصال سے بچا سکیں۔

    آگے کا راستہ: ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پاکستان سے عراق جانے والے غیر قانونی تارکین وطن، خاص طور پر وہ نوجوان جو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے عراق جاتے ہیں، نے زائرین کے سفر کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی عازمین اور غیر قانونی تارکین وطن دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان اور عراق کو متعدد اقدامات پر تعاون کرنا ہوگا۔ان میں زائرین کے سفر کے قانونی فریم ورک کو بہتر بنانا، ایجنٹوں کے مافیا کے خلاف کارروائی کرنا، پاسپورٹ کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مؤثر ڈی پورٹیشن میکانزم بنانا شامل ہے۔جب کہ دونوں حکومتیں مفاہمت کے معاہدے کے تفصیلات پر بات چیت کر رہی ہیں، یہ واضح ہے کہ زائرین کے سفر کا مستقبل مؤثر دو طرفہ تعاون پر منحصر ہے۔ اگرچہ کچھ مسائل کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انسانی اسمگلنگ کو روکنے، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے اور دونوں طرف کے ادارہ جاتی میکانزم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہو۔صرف مسلسل تعاون کے ذریعے دونوں ممالک یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ زائرین کا سفر روحانی اور محفوظ رہے، جو استحصال اور مشکلات سے آزاد ہو۔

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • پاک بحریہ کے خلیج میں تعینات جہازوں کا عراقی، کویتی بندرگاہوں کا دورہ

    پاک بحریہ کے خلیج میں تعینات جہازوں کا عراقی، کویتی بندرگاہوں کا دورہ

    پاک بحریہ کے جہازوں نے خلیج عرب میں تعیناتی کے دوران کویت اور عراق کا دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پی این ایس رسدگار اور پی این ایس عظمت نے کویت کی بندرگاہ الشویخ کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی کے جہاز "دشت” نے عراق کی بندرگاہ ام قصر کا دورہ کیا۔ دونوں بندرگاہوں پر آمد کے موقع پر پاکستانی سفارتی اور میزبان بحریہ کے اعلیٰ حکام نے پاک بحریہ کے جہازوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ مشن کمانڈر نے جہازوں کے کمانڈنگ افسرز کے ہمراہ دونوں ممالک کی بحری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، میری ٹائیم سیکیورٹی میں تعاون، اور بحری افواج کے مابین رابطے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں، کویتی اور عراقی بحریہ کے جہازوں کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی گئیں۔ مشقوں کا مقصد بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو بہتر بنانے اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو فروغ دینا تھا۔ پاک بحریہ کے فلوٹیلا کا کویت اور عراق کا دورہ دوست ممالک کے ساتھ موجودہ سفارتی اور بحری تعلقات کو مزید فروغ دے گا.

    مریم نواز کا پارا چنار کو ادویات کی فراہمی کا وعدہ پورا

    آن لائن فراڈ سے شہری پریشان، اذیت کا شکار ہوگئے

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    سندھ حکومت کا صوبے کے اسکولوں کو سولرائزڈ کرنے کا اعلان

    عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

  • زائرین کو سہولیات  ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو  کی ہدایت

    زائرین کو سہولیات ،وفاقی وزیر کی عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کی ہدایت

    وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آنگی چوہدری سالک حسین سے عراق میں پاکستانی سفیر محمد ذیشان احمد نے ملاقات کی،

    ملاقات میں عراق جانے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے مختلف اقدامات کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا،وفاقی وزیر مذہبی امور چوہدری سالک حسین نے کہا کہ زائرین مینجمنٹ پالیسی وفاقی کابینہ نے اپریل 2021 میں منظور کی گئی، پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستانی زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے، وزارت مذہبی امور اور عراق کی وزارت مذہبی امور کے مابین ایم او یو کا ڈرافٹ وزارت خارجہ کو بھجوایا گیا ہے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی زائرین کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے جلد از جلد عراقی حکومت کے ساتھ ایم او یو کرنے کی ہدایت، ایم او یو کے تحت پاکستانی زائرین کو عراق میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں گی،

    چوہدری سالک حسین نے کربلا میں پاکستان ہائوس اور وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ کا قیام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے، محرم، سفر اور اربعین کے موقع پر ذائرین کو ذیادہ سے ذیادہ سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، پاکستانی سفیر کی عراق میں پاکستانی ویلفیئر اتاشیوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی۔

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو