Baaghi TV

Tag: آئس کا نشہ

  • چپل میں آئس چھپا کر نیوزی لینڈ اسمگل کی کوشش ناکام

    چپل میں آئس چھپا کر نیوزی لینڈ اسمگل کی کوشش ناکام

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے کراچی میں ایک کوریئر آفس سے نیوزی لینڈ کے لیے بک کروائے گئے پشاوری چپل کے پارسل میں چھپائی گئی 250 گرام آئس برآمد کرکے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔

    ترجمان اے این ایف کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران 6 کروڑ سے زائد مالیت کی 114.450 کلوگرام منشیات برآمد کرلی جس کے دوران ایک ملزم کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ترجمان کے مطابق کراچی میں ایک کوریئر آفس پر خفیہ اطلاع کے ذریعے کارروائی کی گئی جس کے دوران پارسل کے اندر موجود پشاوری چپل میں چھپائی گئی 250 گرام آئس برآمد کرلی گئی، مذکورہ پارسل نیوزی لینڈ کے لیے بک کروایا گیا تھا۔بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں اسمگلنگ کی غرض سے چھپائی گئی 80 کلوگرام مارفین اور 30 کلوگرام چرس برآمد کی گئی جبکہ جی ٹی روڈ راولپنڈی پر ملزم کے قبضے سے 4.100 کلو چرس برآمد کی گئی۔گرفتار ملزم کیخلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    اورماڑہ پولیس کی کاروائی، کراچی کےرہائشی سے 50کلو آئس برآمد

  • اورماڑہ پولیس کی کاروائی، کراچی کےرہائشی سے 50کلو آئس برآمد

    اورماڑہ پولیس کی کاروائی، کراچی کےرہائشی سے 50کلو آئس برآمد

    اورماڑہ پولیس نے کاروائی کے دوران کراچی کی رہائشی سے 50کلو آئس برامد کرلی ،دوملزمان گرفتار ،گاڑی ضبط کرلی گئی منشیات کراچی سے بزریعہ روڑ گوادر منتقل کیئے جارہے تھے.

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ گوادر پولیس کے پولیس تھانہ صدر اورماڑہ نے ایک کارروائی کے دوران 50 کلو آئس برآمدکرلیئیجبکہ اس دوران دو ملزمان بھی گرفتارہوئے ہیں ڈی آئی جی مکران رینج پرویز عمرانی کی نگرانی اور ایس ایس پی گوادر ضیا مندوخیل کی رہنمائی میں ڈی ایس پی سرکل پسنی زاہد حسین کی نگرانی میں ایس ایچ او پولیس اسٹیشن صدر اورماڑہ عابد علی اور ان کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان عطا اللہ ولد عبدالملک قوم بلوچ سکنہ ضلع واشک اور ریحان ولد جاوید قوم کوہ ستانی سکنہ محمد پور کزیہ کالونی کراچی کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے 50 کلوگرام منشیات کی خطرناک قسم آئس برآمد کیا گیا۔اس کارروائی کے دوران ایک ایکسیو کار بھی ضبط کی گئی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ فرد نمبر 09/2024 بجرم زیر دفعہ CNSA 9(2)9 درج رجسٹر کیا گیا ہے اور مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں اور نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے۔

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

  • راولپنڈی شہر بھر میں آئس کی خریدوفروخت میں خطرناک حد تک اضافہ

    راولپنڈی شہر بھر میں آئس کی خریدوفروخت میں خطرناک حد تک اضافہ

    راولپنڈی شہر بھر میں آئس کی خریدوفروخت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، آئے دن جوان نسل اس نشے مبتلا ہوتی جا رہی ہے پڑھے لکھے نوجوان اس نشے کی عادی بنتے جا رہے ہیں

    آئس کا نشہ کالجوں اور سکولوں میں دیمک کی طرح پھیلتا جا رہا ہے 16سالہ لڑکے اپنی تعلیم اور مستقبل کو داؤ پر لگا کر اس موضی نشے کے عادی بنتے جا رہے راولپنڈی پولیس کو چاہیے ایسے خطرناک نشے کو کنٹرول کیا جائے راول ڈویژن میں اس نشے کی خریدو فروخت کا مرکز بن چکا ہے رتہ ہزارہ کالونی مٹکیال ڈھوک آنسو شکریال النور کالونی اور دیگر علاقوں میں آئس کی خریدو فروخت دیدہ دلیری کے ساتھ کی جانے لگی ڈیلر بھاری منتھلی دے کر اس خطرناک نشے کو پروان چڑھانے لگے متعلقہ پولیس آئس ڈیلروں کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے

    گزشتہ سات سے سال سے زائد عرصہ میں آئس کا پھیلاؤ زیادہ ہوا یہ نشہ انسانی جانوں کے لئے خطر ناک ثابت ہو رہا ہے اس نشے کے عادی چوری ڈکیتی قتل کی وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں جب ان مذکورہ افراد کے پاس اس خطرناک نشہ کرنے کے پیسے نہیں ہوتے تو یہ مزکورہ بالا ڈکیتیاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ آئس ایسا خطرناک نشہ ہے جو انسان کو ایک بھیڑیا بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے آئس پینے والا پورے علاقے کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی بن جاتا راولپنڈی ڈویژن گزشتہ ماہ پہلے ایسے واقعات رونما ہوتے رہے آئس پینے والے عناصر نے اپنی فیملی کے افراد کو قتل کردیا یہ نشہ نہ ملنے پر نوجوان نفسیاتی مریض اور دماغی طور پر پاگل ہو جاتے ہیں

    شہریوں نے آئی جی پنجاب اور سی پی او راولپنڈی کو اپیل کی ہے کہ فی الفور آئس ڈیلروں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جاے اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ جوان نسل اس تباہی سے بچ سکے

    دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان نے خبردار کردیا

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے