آئندہ مالی سال کے لیے بڑے اور ترجیحی منصوبوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
دستاویز کے مطابق مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 26 ارب روپے مختص ہوں گے داسو ہائیڈرو پاور کیلئے 21 ارب،کراچی بلک واٹر سپلائی کیلئے 10 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے دانش اسکولز کیلئے 22 ارب مختص وزیراعظم ہیلتھ پروگرام کیلئے 3 ارب، این 25 کوئٹہ کیلئے 100 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، آئندہ مالی سال میں این 25 کوئٹہ کے لیے سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے مختص ہوں گےایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لیے 25 ارب اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب مختص رکھنے کی سفارش کی گئی ہے مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
جبکہ آئندہ مالی سال کےلیے جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینیہ ہے آئندہ مالی سال کے سالانہ پلان کے مطابق زرعی شعبے کا ہدف 3.8 فیصد ، صنعت کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کردیا گیا۔ آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔
دستاویز کے مطابق سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد، آئندہ مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات کا ہدف 11 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کردیا گیا۔ در آمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر ،ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔

