Baaghi TV

Tag: آئین

  • آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب

    پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ایک بنیادی سوال برسوں سے جواب مانگ رہا ہے:کیا اس ملک میں کبھی آئین پر حقیقی معنوں میں عمل ہوا ہے؟آئین کسی بھی ریاست میں عوامی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ضامن ہوتا ہے۔ مگر اگر پاکستان کے زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو آئین اور عملی سیاست کے درمیان ایک گہری خلیج صاف نظر آتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، پانی کی شدید قلت اور توانائی کے بحرا ن جیسے مسائل دہائیوں سے ہمارے سامنے ہیں، مگر فوجی ادوار کے بعد کسی منتخب حکومت نے بڑے آبی ذخائر یا طویل المدتی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح کیوں نہ بنایا؟

    آج پاکستان کی اکثریت بجلی، گیس، صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، حالانکہ یہ تمام حقوق آئین میں واضح طور پر درج ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ جن جماعتوں نے بار بار اقتدار حاصل کیا، انہوں نے ان آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟

    پاکستانی سیاست میں آئین اور جمہوریت زیادہ تر نعروں تک محدود رہے ہیں ہر انتخابی مہم میں عوام کو بہتر مستقبل کے خواب دکھائے گئے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل گئیں احتساب، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے بجائے طاقت، اختیار اور سیاسی بقا مرکزِ توجہ بنی رہی اگر یہ واقعی آئین کی جنگ ہوتی تو آج عام پاکستانی بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر نہ ہوتا۔

    میری نسل کے لوگ اس تلخ حقیقت کے عینی شاہد ہیں کہ کس طرح قوم کو دہائیوں تک بلند بانگ، مگر کھوکھلے نعروں کے سہارے رکھا گیا اسی لیے آج نوجوانوں کے نام ایک سنجیدہ پیغام ضروری ہے: سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے دعوؤں کو صرف الفاظ کی بنیاد پر قبول نہ کریں، بلکہ ان کے ماضی، ان کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں کو کسوٹی بنائیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی بقا میں سب سے زیادہ مسلسل قربانیاں ریاستی اداروں، بالخصوص پاک فوج نے دی ہیں، جو اپنے آئینی عہد کے تحت ملک اور عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اس کے برعکس سیاسی نظام اب تک ایسا فریم ورک فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جو عوامی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دے سکے۔

    دنیا کی مستحکم جمہوریتیں، چاہے وہ یورپ میں ہوں یا امریکہ میں، مضبوط اداروں، شفاف احتساب اور عوامی فلاح کو بنیاد بناتی ہیں وہاں جمہوریت ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک نظام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت اکثر ایک سیاسی کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی دولت اور اثر و رسوخ میں اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

    آج کا نوجوان اگر واقعی پاکستان کا مستقبل سنوارنا چاہتا ہے تو اسے تاریخ کا غیرجانبدار مطالعہ کرنا ہوگا، دعوؤں کے بجائے نتائج کو دیکھنا ہوگا، اور آئین کو صرف ایک مقدس دستاویز نہیں بلکہ قابلِ عمل سماجی معاہدہ بنانے کا مطالبہ کرنا ہوگا یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہےکیونکہ جب تک آئین کو عوامی مفاد کے ساتھ جوڑا نہیں جاتا، جمہوریت محض ایک خواب اور سیاست محض اقتدار کی جنگ ہی رہے گی۔

  • ہمارا آئین ہمارے لوگوں کی امنگوں کا مجسمہ ہے،چیف جسٹس

    ہمارا آئین ہمارے لوگوں کی امنگوں کا مجسمہ ہے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ آئین نہ صرف بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے بلکہ آزادیوں کی حفاظت بھی کرتا ہے،ہمارا آئین ہمارے لوگوں کی امنگوں کا مجسمہ ہے-

    یوم آزادی پر اپنے پیغام میں چیف جسٹس نے کہا کہ پوری قانونی برادری اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ دن ہمارے آباؤ اجداد کے وژن، قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کی پختہ یاد دہانی ہے،ہمارا آئین ہمارے لوگوں کی امنگوں کا مجسمہ ہے-

    انہوں نے کہا کہ آئین یقینی بناتا ہے کہ انصاف ہمارے معاشرے کی بنیاد رہے، کمزوروں کےحقوق کے تحفظ اور اس بات کویقینی بنانے میں ثابت قدم رہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ایسا معاشرہ پروان چڑھانا چاہیے جہاں تنازعات منصفانہ طریقے سے حل ہوں اور ہرشہری اپنی زندگی میں انصاف کی موجودگی محسوس کرے۔

    دریں،اثنا یوم آزادی کے موقع پر سپریم کورٹ سمیت تمام ہائیکورٹس میں پرچم کشائی کی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پرچم کشائی کی، مہمان خصوصی چیف جسٹس آف پاکستان تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں جشن آزادی کی تقریب میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے پرچم کشائی کی، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور دیگر ججز نے پرچم کشائی کے بعد پودے لگائے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں یومِ آزادی کی تقریب میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے عدالت عالیہ لاہور کی عمارت پر پرچم لہرایا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس سید شہباز علی رضوی بھی ہمراہ تھے۔

    اس کے علاوہ پشاور ہائیکورٹ میں بھی یوم آزادی کی مناسبت سے پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے پرچم کشائی کی، تقریب میں پشاور ہائیکورٹ کے ججز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ، وکلا و دیگر نے شرکت کی، پولیس کے چاق و چوبند دستے نے قومی پرچم کو سلامی پیش کی۔

    بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس روزی خان بڑیچ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہمارے اصل اسٹیک ہولڈرز عوام ہیں،چیف جسٹس روزی خان نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو فوری انصاف مہیا کریں، وراثتی عدالتیں قائم کی جا چکی ہیں تاکہ ورثا کو انکے حقوق مل سکیں، خواتین وکلاء بشمول ججز جو اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ عدالت آتے ہیں انکے لیئے سنٹر قائم کیا گیا ہے

  • حکومت کو خوف ہے کہ آئین کے نام پر کانفرنس نہیں ہوسکتی،شاہد خاقان عباسی

    حکومت کو خوف ہے کہ آئین کے نام پر کانفرنس نہیں ہوسکتی،شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین کے معاملے پر بند کمرے میں کانفرنس ہورہی ہے، ہمیں کانفرنس نہیں کرنے دی جا رہی،حکومت کو خوف ہے کہ آئین کے نام پر کانفرنس نہیں ہوسکتی۔

    باغی ٹی و ی: اسلام آباد میں اپوزیشن گرینڈ الائنس کی 2 روزہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں کرکٹ میچ کے لیے پورا ملک بند کرنا پڑتا ہے، آئین کے معاملے پر ایک بند کمرے میں کانفرنس ہے، یہ جلسہ نہیں مگر 3 بار کانفرنس کے لیے جگہ تبدیل کرنا پڑی، آئین کے حوالے سے کانفرنس نہیں کرنے دی جا رہی، حکومت کو خوف ہے کہ آئین کے نام پر کانفرنس نہیں ہوسکتی۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے عمل پر بات ہو گی، قانون کی بالا دستی نہیں ہو گی تو ملک نہیں چلے گا، یہ وہ لوگ ہیں جو ایک زمانےمیں یہی باتیں کرتے تھے، یہ لوگ ملک سے سیاسی انتشار کو ختم نہیں کر سکتے بدقسمتی ہے کہ بات نہیں کر نے دی جاتی، بات نہ کرنے کے حوالے سے قانون بنا دیا جاتا ہے،سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے، عدل کے نظام کی بات ہو گی تو ہم سب اکٹھے ہیں، رات کے اندھیرے میں آئینی ترمیم ہوئی ہے، ملک میں عدل کے نظام کو ختم کر دیا گیا، آج چیف جسٹس وہ آدمی ہے جو ایک بینچ نہیں بنا سکتا، یہ ہمارے عدل کا نظام ہے۔

    ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، عاقب جاوید

    دوسری جانب خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کوئی ملک ریاستی اداروں اور افواج کے بآئینغیر نہیں چل سکتا، ملک کو ملنے والی آزادی کے ثمرات نیچے تک نہیں گئے، ہمارے لوگوں کو حق حکمرانی میں شراکت دار نہیں بنایا گیا، حق مانگنے پر الزامات لگنے شروع ہو جاتے ہیں،سینکڑوں سال جیل ہوئی مگر ہم پاکستان کے خلاف نہیں گئے، 8 فروری کے انتخابات میں آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں، ہم اس ملک میں حق حکمرانی چاہتے ہیں، حق صرف آئین کی حکمرانی سے ہی ملے گاشہباز شریف اور اس کی پارٹی جھوٹ کو پرموٹ کر رہے ہیں۔

    ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، عاقب جاوید

  • 1973کے آئین کی وجہ سے آج پاکستان طاقتور ملک ہے، بلاول

    1973کے آئین کی وجہ سے آج پاکستان طاقتور ملک ہے، بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے

    سندھ ہائیکورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے لائزر فارم کا شکریہ اداکرتا ہوں،میرااس جماعت سے تعلق ہے جس نے ملک کو آئین دیا،ہم تین نسلوں سے آئین سازی کرتے آرہے ہیں ،جتنا میں آپ لوگوں کو جانتا ہوں کوئی نہیں جانتا ،بچپن سے سندھ ہائی کورٹ آرہا ہوں،اگر آج پاکستان موجود ہے، طاقتور ملک ہے تو صرف 73 کی آئین کی وجہ سے ہے، اقلیتوں و خواتین کے حقوق اور پریس فریڈم بھی اسی آئین کی وجہ سے ہی ہے،پیپلز پارٹی نے جمہوریت کی مضبوطی کیلئے قربانیاں دی ہیں، میثاق جمہوریت کے مطابق جوڈیشل ریفارمز لے کر آئیں گے،ہم نے آمرانہ دور بھی دیکھا، ماضی میں آئین کو کاغذ کا ایک ٹکڑا سمجھ کر پھاڑا گیا، ہم جوڈیشل ریفامرز لے کر آئیں گے، ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی ،وفاقی، جمہوری آئین دیا ، بینظیر بھٹو نے آمر کے خلاف آئین کیلئے جدوجہد کی ،پاکستان کے نظام کو ٹھیک کرنے کیلئےچارٹر آف ڈیموکریسی پر عملدرآمد کرنا ہو گا ،چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئین کو اصل روح کے مطابق بحال کرنے کی بات کی گئی.

    وفاقی آئینی عدالت ضروری ہے،مجبوری ہے، بلاول
    قانون سازی اور آئین سازی عدالت کے ذریعے نہیں ہوسکتی، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آئینی وفاقی عدالت ضروری ہے مجبوری ہے،آئینی عدالت ہو جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہو اور چیف جسٹس روٹیشن پر آئیگا ہر صوبے سے ہوگا،آج کل بڑی جلدی جلدی کی بات ہو رہی ہے، جلدی کوئی نہیں ہماری نسلوں کی جدوجہد ہے، مانیں جس ذمہ داری کیلئے آپ بیٹھے ہیں وہ پوری نہیں ہورہی، قانون سازی اور آئین سازی عدالت کے ذریعے نہیں ہوسکتی، ایک آمر کو 11 سال سلوٹ مارا گیا، سیاست دان کو 11 سال جیل میں رکھا گیا، نہتی لڑکی نے 1973 کے آئین کی بحالی کیلئے 30 سال جدوجہد کی،

    میں کسی فرد کیلئے کوئی آئین یا قانون نہیں بناؤں گا ،آئینی عدالت بنا کر رہیں گے، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے انصاف کیلئے 45سال انتظار کرنا پڑا ،ہم عدالتی نظام کو طاقتور بنانا چاہتےہیں ، ہم چاہتے ہیں پاکستان کے شہریوں کو جلد انصاف ملے اگر چاہتے ہیں صوبوں کے درمیان فرق نہ رہے توآئینی عدالت ضروری ہے ، مجبوری ہے ،میں یہاں حکومتی ترمیم کے بارے میں بات کرنے نہیں آیا، چارٹر آف ڈیموکریسی ، آئینی عدالت اور عدلیہ میں ریفارم پر بات کرنے آیا ہوں ،ہم جوڈیشل ریفارمز اور آئینی عدالت کا ذکر کرتے آ رہے ہیں ،آئینی عدالت سیاسی کیسز کو دیکھے گی ،وفاقی آئینی عدالت میں ہر صوبے کی برابر نمائندگی ہو گی ، وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس روٹیشن پر ہو گا ،وفاقی عدالت میں ہر صوبے کو چیف جسٹس کی نمائندگی کی باری ملے گی ،ان کیلئے یہ نئی چیز ہے جن کی تاریخ عدم اعتماد سے شروع ہوتی ہے ،آئینی ترمیم کے بغیر ججز کی تعداد کیسے بڑھے گی ، ہم عدالتی نظام کو ٹھیک کرنے نکلے ہیں ، آئین کی بالادستی کیلئے ہم ہی لڑیں گے ، آئینی عدالت بنا کر رہیں گے ،ہم عوام کو انصاف کی فراہمی کیلئے آئینی عدالت بنا کر رہیں گے ،ہم پارلیمان میں آئین و قانون بنانے کیلئے بیٹھے ہیں ، بہتر ہو گا آئین دوسری جماعتوں کیساتھ ملکر بنائیں ،میں کسی فرد کیلئے کوئی آئین یا قانون نہیں بناؤں گا ،

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے کیس نہ سنیں،عمران خان کی پھر درخواست

    پاکستان بار کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار

    پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کیس،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کا اختلافی نوٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ ،جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    بریکنگ،سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو قانونی قرار دے دیا

  • آئین توڑنے والوں کو قوم سے معافی مانگنا ہوگی،تحریک تحفظ آئین کا مطالبہ

    آئین توڑنے والوں کو قوم سے معافی مانگنا ہوگی،تحریک تحفظ آئین کا مطالبہ

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کا محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کرنا ہمارا آئینی قانونی اور جمہوری حق ہے۔ جلسے ہر صورت کیے جائیں گے۔محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی، اجلاس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، اسد قیصر، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا ،بی این پی مینگل کے رہنما ساجد ترین، ثناءاللہ بلوچ ،ایم ڈبلیو ایم کے اسد شیرازی ،ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی بھی شریک ہوئے

    اجلاس میں اپوزیشن اتحاد نے فیصلہ کیا کہ آئین کی بحالی کے لیے ملک گیر مہم چلائی جائے گی،اجلاس میں تحریک کو آگے بڑھانے،حقیقی آزادی کے حصول کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غورکیا گیا ،فیصل آباد اور کراچی کے جلسوں کے لیے انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ ہوا، اجلاس میں شریک رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی اجتماعات کرنا ہمارا آئینی قانونی اور جمہوری حق ہے۔ جلسے ہر صورت کیے جائیں گے، اس وقت ملک میں جمہوریت ختم ہو چکی اور آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، ہماری تحریک آئین کی بحالی تک جاری رہے گی۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے 7 مئی کی پریس کانفرنس غیر آئینی، غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور مطالبہ کیا کہ ملک میں آئین توڑنے والو کو قوم سے معافی مانگنا ہوگی، اجلاس میں رہنماؤں نے گوادر میں پیش آنے والے دہشتگری کے واقعہ میں سات بے گناہ اور نہتے افراد کے قتل کی مذمت اور ان کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہارکیا،لاہور ہائیکورٹ بار کے وکلا پر بہیمانہ تشدد ، گرفتاریوں اور پنجاب میں کسانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بھی شدید مذمت کی گئی اور کہا ہے کہ ہم کسانوں کے مطالبات کے حق میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں.

    جو لوگ ہم سے معافی کا کہہ رہے ہیں وہ ہم سے معافی مانگیں،عمر ایوب
    تحریک انصاف کے رہنما قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے فیصل آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معافی کس سے؟ ہم لوگ خود متاثرین میں شامل ہیں، تشدد ہم پر ہوا، 15 ہمارے نوجوان شہید ہوئے ہیں، ہم لوگ کس چیز کی معافی مانگیں؟ جو لوگ ہم سے معافی کا کہہ رہے ہیں وہ ہم سے معافی مانگیں،معافی رب سے گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے، شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، بوگس مقدمے ختم ہوجائیں گے، ایک وقت میں کئی مقامات پر میں کیسے ہو سکتا تھا؟ملکی حالات سامنے ہیں، گندم میں ٹیکہ لگایا گیا، محسن نقوی اور ن لیگ کے لوگ ملوث ہیں،یہ سب کرپشن میں ملوث ہیں، ملک کے اقتصادی حالات خراب ہیں، انوارلحق کاکڑ نے خود کہا ہے کہ فارم 47 کے پول کھول دوں گایہ تو انکی حقیقت ہے،

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • آئین پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان حادثے کا شکار ہو سکتا ہے،جاوید لطیف

    آئین پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان حادثے کا شکار ہو سکتا ہے،جاوید لطیف

    سابق وفاقی وزیر،مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین ہونے کے باوجود ناانصافی پر مبنی روایات ملک کو چلا رہی ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے جاوید لطیف کاکہنا تھا کہ آئین پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان حادثے کا شکار ہو سکتا ہے،آج بیرونی دباؤ سے نظام انصاف پر دباؤ ڈالا جا رہاہے، 16 ماہ کی حکومت کا حصہ نہ بنتے تو اداروں اور عوام کے درمیان تصادم کا خطرہ تھا، نواز شریف پر آج بھی طعنہ زنی کا سلسلہ جاری ہے،نواز شریف نے ملک بچانے کے لیے 16 ماہ کی حکومت کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا،فیصلہ اس لیے کیا کہ عوام اور اداروں کے مابین خلیج کم ہو، نواز شریف نے لڑائی کی بجائے امن اور مذاکرات کا راستہ اپنایا،تمام سازشوں کی جڑیں عدل کے نظام سے پھوٹتی ہیں،پاکستان میں ایک قانون ہے مگر طبقے دو ہیں،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ عدت پر مذہب اور پاکستان کا قانون بہت واضح ہے، 190 ملین پاؤنڈ کھا جانا کیا چیئرمین پی ٹی آئی کی ذاتی زندگی ہے؟ ریٹائرڈ لوگ اداروں میں موجود لوگوں کے ساتھ مل کر 9 مئی سے پہلے کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،نواز شریف کو انصاف ملتا ہے تو بیلنس کرنے کے لیے مجرم کو رعایت دینے کی بات ہو رہی ہے، کیا عدل بیلنس کرنے کی بنیاد پر ہوتا ہے؟ کہا گیا 2018 میں آپ کو باہر رکھا گیا 2024 میں کسی اور کو باہر رکھا جائے گا،

     بشری بی بی المعروف پنکی صاحبہ اور فرح گوگی نے بھی لوٹا،

    فیض آباد دھرنا،ماسٹرمائنڈ کا نام لینے کی طرح فیصلے میں بھی دس سال نہ لگیں،جاوید لطیف

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی،مرتضٰی سولنگی

    نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی،مرتضٰی سولنگی

    اسلام آباد: نگراں وزیراطلاعات مرتضی سولنگی کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔

    باغی ٹی وی: نگراں وزیراطلاعات مرتضٰی سولنگی کا کہنا تھا کہ آئین میں لکھا ہے ملک منتخب نمائندے چلائیں گے، 8 فروری جمعرات کو الیکشن ہوں گے، مذاکرات، تحفظات شکایات اور آوازیں جموریت کا حسن ہے،جمہوری نظام کا حسن ہے،نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی،نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی، صدر کے خط کا جواب خط سے دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 8 نومبر کو بنیادی حقوق اور ہموار سیاسی میدان کے حوالے سے تحریک انصاف کے خدشات پر غور کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے نام خط ارسال کیا تھا صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا صدر کے نام خط بھی آگے نگراں وزیر اعظم کو ارسال کیا، خط میں سیاسی میدان کے حوالے سے پی ٹی آئی کے خدشات پر غور کرنے کا کہا گیا۔

    لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے اور منی لانڈرنگ کیلئے فرح گوگی کا خفیہ پاسپورٹ منظر …

    صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ عوام کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد میڈیا کے ذریعے رائے کا اظہار کرنا ہی جمہوریت کی روح ہے جبکہ آزادانہ، منصفانہ اور مستند الیکشن پر پورے پاکستان میں اتفاق ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انہیں منتخب کرنے کا حق ہے، سیاسی وابستگیاں رکھنے والے افراد کی جبریوں گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر میڈیا میں بھی بحث ہوئی، لوگوں کی سیاسی وابستگیاں اور وفاداریاں بدل جانے پر ایسے واقعات تشویش کا باعث بنتے ہیں، خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی یا عدالت کی جانب سے ریلیف کے بعد بار بار دوبارہ گرفتاریاں معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہیں-

    پی ٹی آئی کے خدشات پر صدر مملکت نے نگراں وزیر اعظم کو خط لکھ دیا

  • الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

    اسلام آباد: لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کمیشن کو وقت دینا پڑے گا، فروری کے آخریا مارچ میں الیکشن ہو جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین الیکشن کمیشن کو صاف شفاف الیکشن کرانے کی ذمہ داری لگاتا ہے الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،ضروری ہے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے تاکہ شک دور ہو جائے ،الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو نیوٹرل ہونا چاہیے، توقع ہے نگران حکومت 5سے 6ماہ تک چلے گا، نگران حکومت کی مدت پر الیکشن کمیشن کو سامنے آکر ابہام دور کرنا چاہیےسی سی آئی کے فیصلے میں پیپلز پارٹی بھی شامل تھی، پیپلز پارٹی کا آفٹرتھا ٹ کہہ لیں یا سیاسی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی کو حق حاصل ہے کہ ہر سیاسی حربہ استعمال کرے۔

    نئی حلقہ بندیوں کے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں،ایم کیو ایم

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست دانوں کے بغیر حکومتیں نہیں چلتیں، تمام اسٹیک ہولڈر کو ساتھ بیٹھ کر سوچنا ہو گاکہ ہم فیل کیوں ہیں ، چوری شدہ الیکشن کی وجہ سے ہم فیل ہوتے رہے ہیں وہ لوگ اسمبلیوں میں لائے گئے، جن کہ جگہ نہیں تھی، علم نہیں تھا کہ حالات اس حد تک خراب ہیں-

    دوسری جانب گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2022 کے درمیان پاکستان غیرمعمولی دور سے گزرا، اس تبدیلی کے اثرات بہت دیر سے جائیں گے سوشل میڈیا کے زریعے پیالے میں طوفان کھڑا کیا گیا، 9 مئی کے اثرات بہت دور رس تھے، 9 مئی کو مختلف شہروں میں تنصیبات پر حملے ہوئے۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان

    گورنر پنجاب نے کہا کہ ہر جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا حق ہے، لیکن نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، گرفتار افراد کا ٹرائل کہاں چلایا جائے اس پر دو رائے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ حملے ہوئے، الیکشن ایکٹ 2017 بڑا واضح ہے، اور وہ بتاتا ہے کہ انتخابات کی تاریخ الیکشن کمیشن نے صدر کی مشاورت سے طے کرنی ہے اس مشاورت میں دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ یہ بھی آئین کی ضرورت ہے کہ جب مردم شماری نوٹیفائی ہوجائے تو اس کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں، حلقہ بندیاں چار مہینے کا عمل ہیں اور الیکشن کے عمل کیلئے 60 دن مانگے جاتے ہیں،میری رائے میں الیکشنز ’فروری 2024 میں ہوتے نظر آرہے ہیں اس سے آگے جانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی نوے دن میں الیکشنز کرائیں تو حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں، حلقہ بندیاں کرائیں تو الیکشنز 90 دن میں ممکن نہیں۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

  • نظر بندی کے قانون  3 ایم پی او کے خلاف درخواست ،دلائل طلب

    نظر بندی کے قانون 3 ایم پی او کے خلاف درخواست ،دلائل طلب

    لاہور ہاٸی کورٹ میں نظر بندی کے قانون 16 اور 3 ایم پی او کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کر لیے،دائر درخواست میں کہا گیا کہ اس قانون کے تحت بغیر کسی وجہ سے حکومت گرفتاریاں کر رہی ہے،960 کا آرڈیننس آئین سے متصادم ہے،یہ آرڈیننس 1960 میں مارشل لاء دور میں بنایا گیا، آرڈیننس آئین کے آرٹیکل دس اے،اور چودہ کی خلاف ورزی ہے،سیاسی عدم استحکام میں اسے استعمال کیا جاتا ہے،اس آرڈیننس کے تحت کسی بھی شخص کو تین ماہ تک قید میں رکھا جا سکتا ہے بلاوجہ وجہ گھروں پر چھاپے مار کر توڑ پھوڑ کی جارہی ہے ، لوگوں کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے ، عدالت ریکارڈ منگوائے کہ اب تک اس قانون کے تحت کتنے دہشتگرد گرفتار کیے گئے ہیںاگر قانون رکھنا بھی ہو تو اس کے باقاعدہ آئین کے ڈھانچے میں لایا جائے،

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     ثاقب نثار کے بیٹے نے بھی پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی لوٹ سیل لگا دی ،آڈیو لیک

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندیوں اور گرفتاریوں کیخلاف درخواست پر اعتراض کا معاملہ ،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی ،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے درخواست اعتراض کیساتھ چیف جسٹس کو بھجوا دی ،جسٹس علی ضیا باجوہ کے روبرو درخواست اعتراض کیساتھ پیش کی گئی ،درخواست میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے ،اور استدعا کی گئی ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کے جاری کردہ نظربندیوں کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے

  • لاہورانتظامیہ نےپی ٹی آئی کولاہورمیں ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا

    لاہورانتظامیہ نےپی ٹی آئی کولاہورمیں ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو لاہور میں ریلی کی مشروط اجازت مل گئی۔

    باغی ٹی وی : انتظامیہ نے پی ٹی آئی کی زمان پارک سےلکشمی چوک تک ریلی کا مشروط اجازت نامہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق عدلیہ اور اداروں کے خلاف تقاریرکی اجازت نہیں ہوگی جب کہ پبلک پراپرٹی کونقصان پہنچا توپی ٹی آئی انتظامیہ ذمہ دارہوگی جبکہ ریلی کے دوران کارروباری مراکزبند کرنےکی بھی اجازت نہیں ہوگی،کارکن ڈنڈے اور اسلحہ ساتھ نہیں لائیں گے۔

    پرویز الٰہی کے گھر چھاپہ: ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت دیگر افسران کی غیر مشروط …


    دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اس لیے بغیر اجازت ریلیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نےکہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح ہدایات کےباوجود کےریلی نکالنا آئینی حق ہے، انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ پر امن ریلی آئین اور سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے نکالی جا رہی ہے۔ یعنی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے عدالتوں کو صاف پیغام کے ہم آپ کا حکم نہیں مانتے-

    توشہ خانہ کیس میں نیب میں طلبی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بشریٰ بی بی کی درخواستوں …

    واضح رہے کہ آج پی ٹی آئی آئین اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھرپوراظہارِیکجہتی کے لئے ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے اس حوالے سے اپنے پیغام میں چئرمین پی ٹی آئی نے عوام سے اپیل ہے کہ اپنے آئین اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھرپوراظہارِیکجہتی کیلئے آج شام ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ کے درمیان گھروں سے باہر نکلیں!

    کانگو میں بارشوں کے باعث سیلاب سے 200 سے زائد افراد ہلاک اور 130 کے …