آئین، جمہوریت اور پاکستان: ایک بے لاگ احتساب
پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ایک بنیادی سوال برسوں سے جواب مانگ رہا ہے:کیا اس ملک میں کبھی آئین پر حقیقی معنوں میں عمل ہوا ہے؟آئین کسی بھی ریاست میں عوامی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا ضامن ہوتا ہے۔ مگر اگر پاکستان کے زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو آئین اور عملی سیاست کے درمیان ایک گہری خلیج صاف نظر آتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، پانی کی شدید قلت اور توانائی کے بحرا ن جیسے مسائل دہائیوں سے ہمارے سامنے ہیں، مگر فوجی ادوار کے بعد کسی منتخب حکومت نے بڑے آبی ذخائر یا طویل المدتی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح کیوں نہ بنایا؟
آج پاکستان کی اکثریت بجلی، گیس، صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، حالانکہ یہ تمام حقوق آئین میں واضح طور پر درج ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل کیوں ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ جن جماعتوں نے بار بار اقتدار حاصل کیا، انہوں نے ان آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کیا کردار ادا کیا؟
پاکستانی سیاست میں آئین اور جمہوریت زیادہ تر نعروں تک محدود رہے ہیں ہر انتخابی مہم میں عوام کو بہتر مستقبل کے خواب دکھائے گئے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل گئیں احتساب، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی فلاح کے بجائے طاقت، اختیار اور سیاسی بقا مرکزِ توجہ بنی رہی اگر یہ واقعی آئین کی جنگ ہوتی تو آج عام پاکستانی بنیادی سہولتوں کے لیے دربدر نہ ہوتا۔
میری نسل کے لوگ اس تلخ حقیقت کے عینی شاہد ہیں کہ کس طرح قوم کو دہائیوں تک بلند بانگ، مگر کھوکھلے نعروں کے سہارے رکھا گیا اسی لیے آج نوجوانوں کے نام ایک سنجیدہ پیغام ضروری ہے: سیاستدانوں اور مذہبی جماعتوں کے دعوؤں کو صرف الفاظ کی بنیاد پر قبول نہ کریں، بلکہ ان کے ماضی، ان کی کارکردگی اور ان کے فیصلوں کو کسوٹی بنائیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی بقا میں سب سے زیادہ مسلسل قربانیاں ریاستی اداروں، بالخصوص پاک فوج نے دی ہیں، جو اپنے آئینی عہد کے تحت ملک اور عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اس کے برعکس سیاسی نظام اب تک ایسا فریم ورک فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جو عوامی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دے سکے۔
دنیا کی مستحکم جمہوریتیں، چاہے وہ یورپ میں ہوں یا امریکہ میں، مضبوط اداروں، شفاف احتساب اور عوامی فلاح کو بنیاد بناتی ہیں وہاں جمہوریت ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک نظام ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت اکثر ایک سیاسی کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اقتدار عوامی خدمت کے بجائے ذاتی دولت اور اثر و رسوخ میں اضافے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آج کا نوجوان اگر واقعی پاکستان کا مستقبل سنوارنا چاہتا ہے تو اسے تاریخ کا غیرجانبدار مطالعہ کرنا ہوگا، دعوؤں کے بجائے نتائج کو دیکھنا ہوگا، اور آئین کو صرف ایک مقدس دستاویز نہیں بلکہ قابلِ عمل سماجی معاہدہ بنانے کا مطالبہ کرنا ہوگا یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہےکیونکہ جب تک آئین کو عوامی مفاد کے ساتھ جوڑا نہیں جاتا، جمہوریت محض ایک خواب اور سیاست محض اقتدار کی جنگ ہی رہے گی۔









