Baaghi TV

Tag: آئینی بینچز

  • ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی فوری بحالی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی فوری بحالی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    آئین کے آرٹیکل 202 اے کے تحت آئینی بینچز کو فوری طور پر فعال کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے-

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے چیئرمین اظہر صدیق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاق، لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی سمیت وفاقی اور صوبائی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے باوجود لاہور، اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان ہائیکورٹس میں تاحال آئینی بینچز قا ئم نہیں کیے گئے، جبکہ صرف سندھ ہائیکورٹ نے آرٹیکل 202 اے کے تحت مطلوبہ نظام پر خاطر خواہ عملدرآمد کیا ہےآرٹیکل 202 اے میں آئینی بینچز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر ہونے والی درخواستوں کی سماعت صرف انہی خصوصی بینچز کو کرنی چاہیے۔

    درخواست گزار کے مطابق آئینی بینچز کے قیام میں تاخیر سے ملک میں آئینی انصاف کا دوہرا نظام وجود میں آ گیا ہے، سندھ کے شہریوں کو خصوصی آئینی بینچز تک رسائی حاصل ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں آئینی مقدمات اب بھی عام بینچز کے سامنے سنے جا رہے ہیں، مؤثر اور فوری متبادل قانونی چارہ جو ئی نہ ہونے کے باعث عوامی مفاد میں لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔

    درخواست میں لاہور ہائیکورٹ کےکیس فائلنگ برانچ کے اس طریقہ کار کو بھی چیلنج کیا گیا ہےجس کے تحت درخواست کی باقاعدہ سماعت سے قبل قا بلِ سماعت ہونے، دائرہ اختیار، درخواست گزار کے قانونی حق (لوکس اسٹینڈی) اور متبادل قانونی چارہ جوئی جیسے نکات پر ابتدائی اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔

    درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ تمام معاملات عدالتی نوعیت کے ہیں جن کا فیصلہ صرف جج ہی کر سکتے ہیں، انتظامی عملہ نہیں رجسٹری کی جانب سے اس نوعیت کی جانچ پڑتال انصاف تک رسائی میں غیر آئینی رکاوٹ ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10A اور 25 کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ درخواست میں پاکستان، بھارت اور برطانیہ کی عدالتی نظیروں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    درخواست میں عدالتی نظام میں ججوں کی شدید کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اس کے مطابق ملک بھر کی ہائیکورٹس میں منظور شدہ 200 ججوں کی آسا میو ں میں سے 76 خالی ہیں، جس کے باعث مقدمات کے مؤثر عدالتی انتظام کے بجائے انتظامی سطح پر چھان بین کا رجحان بڑھ گیا ہے لاہور ہائیکورٹ کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ایک لاکھ 98 ہزار 5 مقدمات زیر التوا ہیں، جو ملک بھر کی ہائیکورٹس میں زیر التوا مقدمات کا تقریباً 56.8 فیصد بنتے ہیں۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ زیر التوا نمائندگیوں پر 30 روز کے اندر وجوہات پر مبنی تفصیلی فیصلے جاری کریں اور یہ قرار دیا جائے کہ مبہم یا غیر مدلل مراسلت آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی، متعلقہ اداروں کو آرٹیکل 202 اے پر فوری عملدرآمد، تعمیلی رپور ٹس جمع کرانے اور عدالتی کارروائی میں انتظامی رکاوٹوں کے مستقل خاتمے کا حکم دیا جائے۔

  • الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    الیکشن ایکٹ ،لاپتہ افراد ،آئی پی پیز ،قرضے معافی ،درخواستیں سماعت کیلیے مقرر

    سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم، لاپتہ افراد کی بازیابی، آئی پی پیز معاہدے اور قرضوں کی معافی کے خلاف دائر درخواستیں آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، رکن پاکستان بار اشتیاق احمد کی جانب سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے معاملے پر الیکشن ایکٹ 2024 میں ترمیم کے خلاف دائر کی گئی ہیں اور مذکورہ درخواستیں 4 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا چھ رکنی آئینی بنچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مذکورہ درخواستوں پر اعتراضات عائد کر رکھے ہیں تاہم آئینی بینچ نے درخواستیں اور اعتراضات کے خلاف اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں ۔یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا۔الیکشن ترمیمی ایکٹ کے تحت ترجیحی فہرستیں جمع کرانے اور سیاسی وابستگی برقرار رکھنے والے ہی مخصوص نشستوں کے حق دار ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومتی اتحاد کی جانب سے کی گئی اس ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی تھی۔دوسری جانب آئینی بینچ نے پی ٹی آئی کی تارکین وطن کو ووٹ کو حق دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، جسٹس امین الدین خان سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ دو دسمبر کو سماعت کرے گا۔ رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے،اسی طرح سپریم کورٹ میں آڈیوز لیک کیس دو دسمبر کو آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ 2 دسمبر کو سماعت کرے گا، رجسٹرار آفس نے بانی تحریک انصاف اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔

    کنٹینر سے گرنے والاشخص زندہ ، پی ٹی آئی پروپیگنڈا بے نقاب، ماں کے انکشافات

    عالمی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کیلئے اقدامات کرے، آصف زرداری

    شرجیل میمن کا یوم تاسیس پر پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا اعتراف
    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    چینی شہریوں پر حملہ، تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

  • جوڈیشل کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچز کیلئے 9 ججز کی نامزدگی کر دی

    جوڈیشل کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچز کیلئے 9 ججز کی نامزدگی کر دی

    اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچز کے لیے 9 ججز کی نامزدگی کر دی –

    باغی ٹی وی:جسٹس کے کے آغا آئینی بینچز اور آئینی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے،آئینی کمیٹی جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال اور محمد سلیم جیسر پر مشتمل ہو گی ، آئینی بینچز کے لیے جسٹس ذوالفقار علی سانگی ، جسٹس ارباب علی ، جسٹس یوسف علی سید ، جسٹس خادم حسین سومرو ، جسٹس ثنا منہاس اکرام شامل ہیں-

    ذرائع کے مطابق آئینی بینچز کی تشکیل کے لیے جوڈیشل کمیشن میں اکثریتی رائے سے فیصلہ ہوا ،آئینی بینچز کے لیے 9 ججز کے حق میں گیارہ ووٹ آئے ،جسٹس منصور علی شاہ جسٹس منیب اختر اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے اختلافی رائے دی ، چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے حق یا مخالفت میں ووٹ نہیں دی، اجلاس کے دو ممبران عمر ایوب اور شبلی فراز شریک نہیں ہوئے،اجلاس میں دونوں ممبران کا تقریباً دو گھنٹے تک انتظار کیا گیا-

  • سپریم کورٹ، آئینی بینچز میں مقدمات کی سماعت 14 نومبر سے

    سپریم کورٹ، آئینی بینچز میں مقدمات کی سماعت 14 نومبر سے

    سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں آئینی مقدمات اور بینچز کی تشکیل کے معاملے پر آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں آئینی بینچ کے سامنے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچز 14 نومبر سے سماعت کا آغاز کریں گے، آئینی بینچ کی ججز کمیٹی کی میٹنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی، کمیٹی میٹنگ جسٹس جمال مندوخیل کی چین سے واپس آنے کے بعد بلائی گئی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے ٹیلیفون پر کمیٹی میٹنگ میں شرکت کی، کمیٹی میں پہلے آنے والی درخواستوں کا جائزہ لیا گیا اور ہر درخواست کو اس کی باری پر لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

  • سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    سپریم کورٹ، برطرف ملازمین کی بحالی درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج دی گئیں

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ پر سکون زندگی ہر شہری کا آئینی حق ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں آئینی سوال ہے،26 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا آئینی کیسز آئینی بنچز سنیں گے، اعلیٰ بنچز بنیں گے وہی تعین کریں گے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ یہ کیس اہم آئینی بنچ ہی سنے گا، 26 ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں آئینی سوال کے کیسز آئینی بنچز سنیں گے،درخواستیں آئینی بنچز کو بھیج رہے ہیں،

    وزارت پٹرولیم نیچرل ریسورس کے سات ملازمین نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا