Baaghi TV

Tag: آئینی ترامیم

  • سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست عابد زبیری، شفقت محمود، شہاب سرکی اور اشتیاق احمد کی جانب سے دائر کی گئی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم کو اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی کیخلاف قرار دیا جائے، وفاقی حکومت کو آئینی ترامیم سے روکا جائےاور بل پیش کرنے کاعمل بھی روکا جائے، پارلیمنٹ اگر آئینی ترمیم کرلے تو صدر مملکت کو دستخط کرنے سے روکا جائے،عدلیہ کی آزادی، اختیارات اور عدالتی امور کو مقدس قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی، سینیٹ میں آئینی ترامیم پیش کی جانی تھیں تا ہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے مزید مشاورت کے لئے وقت مانگا گیا جس پر حکومت نے آئینی ترامیمی بل پیش نہ کیا، قومی اسمبلی،سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو چکا ہے، حکومت کو نمبر پورے کرنے کے لئے مولانا فضل الرحمان کی مدد درکار ہے، دو دنوں میں نصف درجن سے زائد حکومتی نمائندوں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتیں ہوئیں تاہم مولانا فضل الرحمان اس بات پر ڈٹے رہے کہ آئینی ترامیم کا مسودہ دیکھ کر وہ مشاورت کریں گے، تا ہم وہ ایکسٹینشن والی ترامیم کی مخالفت کریں گے،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • قومی اسمبلی اجلاس ملتوی،آئینی ترامیم پر حکومت کی وضاحتیں،اتحادی بھی نالاں

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی،آئینی ترامیم پر حکومت کی وضاحتیں،اتحادی بھی نالاں

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں سے ایک ترامیم کے ڈرافٹ کی بات ہورہی ہے،آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ قانون سازی کریں،جب اس مسودے پر اتفاق رائے آجائے گا تو ایوان میں پیش کیا جائے گا،2006میں نوازشریف اور بینظیربھٹو نے میثاق جمہوریت کیا،حکومتی اتحاد کی دانست میں ترامیم آئین میں عدم توازن درست کرنے کاذریعہ ہے،بطور رکن پارلیمنٹ قانو ن سازی اور آئین کاتحفظ ہمارا فرض ہے،بہت سے جمہوری ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں،پارلیمنٹ 24کروڑ عوام کی امنگوں کامظہر ہے، آئینی عدالت سے متعلق تجویز بھی چارٹرآف ڈیموکریسی کاحصہ ہے،عدلیہ کابوجھ کم کرنے کے لیے ترامیم لارہے ہیں،کسی کاکوئی ذاتی مفاد نہیں جو ووٹ ڈالا جائے اسے گنا جائے تو اس میں کیا سیاسی مفاد ہوسکتا ہے؟کسی ادارے کی حدود توڑنا نہیں چاہتے،پارلیمان کی اہمیت قائم کرنا چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں آئینی ترامیم پر اتفاق راے پیدا ہوجائے،عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ججز کی تعیناتی کاپراسیس طے پایا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں ایک ڈرافٹ آئینی ترامیم کا زیر گردش ہے،یہ ڈرافٹ پارلیمانی پریکٹسز کو درست کر نے کی کوشش تھی، ہمارا حق جو آئین ہمیں دیتا یے کہ 25 کروڑ عوام اور ادارے کی سربلندی کو طاقتور کرنا ہے، اس کا بنیادی ڈاکیومینٹ جمہوریت ہے، اس سارے پراسس میں کوئی سیاست نہیں تھی جبکہ اس کو سیاسی رنگ دیا گیا

    وزیر قانون اور حکومت کے کسی نمائندے کے پاس ڈرافٹ نہیں تھا تو یہ بتائیں یہ ڈرافٹ اور نسخہ کیمیا کہاں سےآیا؟اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے میں آپکا شکریہ ادا کروں گا آپ نے ہمارے 10 اراکین جن پر ناجائز کیس بنایا گیا ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے، میں اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں، مجھے آج اس بات پر بہت افسوس ہے کہ جس طرح اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی، ربڑ سٹمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کوششش کی گئی، مذمت کرتا ہوں، ہمارے جو ایم این ایز ہیں انکی بہادری کو سلام کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا، خواجہ آصف نے نقطہ نظر سامنے رکھا وزیر قانون بیٹھے ہیں، یہ خود فرما رہے تھے کہ میرے پاس کوئی ڈاکومنٹ نہیں ہیں، کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، اگر لا منسٹر کو نہیں پتہ تو بتائیں یہ نسخہ،ڈرافٹ کہاں سے آیا،مجھے سب سے زیادہ افسوس پیپلز پارٹی پر ہے، انکو سب علم ہے، انکے پاس پورا ڈرافٹ تھا، کیا آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 99 انہوں نے ترامیم میں قبول نہیں کیا، یہ بنیادی حقوق کو صلب کرنا چاہتے ہیں، ہم کیا اس ملک کے دشمن ہیں، ہم چاہتے ہیں ریفارم آئے، لوگوں کو سہولت ملے، ہم چاہتے ہیں ترمیم لائیں، بحث کریں، آئینی ترامیم جو یہ لا رہے، یہ سب پر اثر انداز ہوتا ہے، رات کی تاریکی میں ، چھٹی کے دن چوری کی طرح ڈاکہ زنی کرتے ہوئے یہ ترامیم پاس کرنی تھیں،جب قانون سازی کرنی ہے تو سب سے پہلے اسکو سامنے لائیں،بحث کروائیں، سب کو اعتماد میں لیں،، چھپکے سے قانون سازی کوچوری کہتے ہیں، ہمارے 7 لوگوں کواغوا کیا گیا انہیں پنجاب ہاؤس میں رکھا ہے، اس ظلم کے ذریعے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے بہترموت ہے،ہم اس ترامیم کے خلاف رستوں چوک چوراہوں سپریم کورٹ عدالتوں میں لڑیں گے۔

    ملک کے انتظامی معاملات عدالتوں نے نہیں ہم نے طے کرنے ہیں۔وفاقی وزیر قانون
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے جیل میں 8 سال گزارے وہ واپس کس نے دینے ہیں؟ جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے 8 دن گزارے ہیں،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں حاضر ہوں، 8 دنوں کی تلافی اسپیکر نے پونے چار دن کردیا، آپ ہمارے ساتھ ہنستے کھیلتے رہے ہیں،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا نام آپ اس لئے زیادہ لے رہے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ آپ کو خواب میں آتے ہیں،ہم نے بھی بھگتا ہے جوآپ کے کندھوں پر ڈیم بنانے کے علاوہ ہمیں ہی ہانکتے رہتے تھے یہ کس سے انصاف لیں گے، جو آئینی حق ہے ، ہم اپنے سیاسی مقدمات ایک ساتھ بیٹھ کر حل نہیں کرتے، ہم چاہتے ہیں ہمارے مقدمات بھی دیوار کی دوسری طرف سے جائیں ،کچھ دنوں سے ماحول بہتر ہونا شروع ہوا ہے، ہم اس امید کے ساتھ آگے چلیں گے،کہ مفاہمت ہو ،کچھ چیزیں حقائق پوچھنے کے لئے سامنے آئیں، اسد قیصر محترم ہیں، سپیکر رہے، اس ایوان کا رکن ہونا اعزاز ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈرافٹ اس وقت آئے جب بل سامنے آئے، حکومتی بل ہے تو سب سے پہلے حکومتی حلقوں میں مشاورت ہوتی ہے پھر ڈرافٹ بل کابینہ کے سامنے، کابینہ منظوری دیتی ہے پھر کابینہ کمیٹی میں اچھی طرح دیکھا جاتا ہے، اس کمیٹی میں سب کی نمائندگی ہوتی ہے،پھر کابینہ کہتی ہے کہ اسے پارلیمنٹ میں لے جایا جائے،ابھی یہ بل مسودہ بن کر کابینہ میں نہیں گیا کچھ عرصے سے مشاورت جاری تھی، موجودہ الیکشن کے بعد حکومتی اتحاد تشکیل پا رہا تھا تو پہلے دو جماعتوں نے کمیٹیاں بنائیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی، پھر مشاورت ایم کیو ایم سے ہوئی، آئی پی پی سے ہوئی، بلوچستان عوامی پارٹی سے بات ہوئی،اعجاز الحق سے بات ہوئی، اے این پی سے ،ڈاکٹر مالک بلوچ سے بات ہوئی، مولانا فضل الرحمن سے بھی رابطے ہوئے، یہ سیاست کا حسن ہے، حکومت جب بن رہی تھی تو پیپلز پارٹی اور ن کی میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ میثاق جمہوریت کے پارٹ پر کام کیا جائے گا، آئینی عدالت کا قیام، 19 ویں ترمیم،1973 سے لے کر 2008 تک جو جو کھلواڑ آئیں کے ساتھ کئے گئے اس پر اٹھارہویں ترمیم پاس کی گئی،جس کی وجہ سے ہم اکٹھے کھڑے ہیں، ہم چاہتے ہیں پاکستان آگے بڑھے، وفاق مضبوط ہو،اعتزاز احسن سے پوچھیے گا، نوید قمر ،خواجہ آصف سے پوچھیں کہ کون سی طاقت تھی جس نے کہا آئینی عدالت نہیں بنے گی،قاضی فائز عیسی اور شوکت صدیقی کے ساتھ کیا کچھ ہوا،ان ریفرنسز کو کس ڈھٹائی کے ساتھ اپ سپورٹ کرتے رہے،عدالت نے دونوں ریفرنسز منہ پہ مارے،ایسی باتیں نا کریں کوئی ڈاکہ نہیں کوئی چوری نہیں ہے،کوئی رات کا اندھیرا نہیں ہے،بلاول بھٹو کا شکریہ جنہوں نے آئینی ترامیم کے معاملے پر بہت مثبت کردار ادا اور کہا کہ میرے بڑوں کی وراثت ہے کہ پارلیمنٹ کو بالادست ہونا چاہئے ،میں نے قتل کے مقدمے کے دو ملزمان کی اپیل 16 سال قبل سپریم کورٹ میں دائر کی مگر ابھی تک زیرالتوا ہے چند دن قبل دونوں ملزمان عمر قید کاٹ کر میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا شکریہ ہم سزا بھگت کر باہر آگئے ہیں یہ تو حال ہے عدلیہ کا. اسد قیصر کو چیلنج کرتا ہوں اس آئینی پیکچ کی کوئی بار کونسل مخالف نہیں کرے گی،

    جو ڈرافٹ میڈیا پر ہے، یہ متفقہ نہیں ،اس میں کئی شقوں پر ہمیں اعتراض ہے،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرافٹ میڈیا پر ہے، یہ متفقہ ڈرافٹ نہیں ہے،اس میں کئی شقوں پر ہمیں اعتراض ہے، ڈرافٹ حکومت دے گی تو مشاورت ہو گی، کابینہ منظوری کے بعد ایوان میں آئے گا، جو ترامیم سامنے آئی ہیں،کمیٹی میں ایجنڈا رکھا گیا ،

    اپوزیشن کو تو ڈرافٹ نہیں ملا لیکن ہمارا گلہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا،فاروق ستار
    ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو تو ڈرافٹ نہیں ملا لیکن ہمارا گلہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا، جب ہم توجہ دلاتے ہیں تواسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ آتے ہیں اور ہمارے ساتھیو ں سے بات کرتے ہیں، اگر طریقہ کار کو صحیح نہیں کریں گے تو اہم اصلاحات،یہ کیسے ہوں گے، میں نے کمیٹی کی میٹنگ میں محسوس کیا کہ پی ٹی آئی کی اراکین بھی مین اصلاحات کے ایجنڈے سے اختلافات نہیں کر رہے تھے، صرف طریقہ کار سے اختلاف ہو رہا تھا.ہم ن لیگ کے اتحادی ہیں مگر ہماری اپنی شناخت ہے،ہمارے ساتھ رانا ثنا اللہ مصالحت کار ہیں مگر انہوں نے ہم سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا،ہم نے اگر مسائل پہ سنجیدگی سے غور کیا ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی ہم سے الگ نہ ہوتا،ہم نے بار بار مسائل وزیراعظم کے ساتھ اٹھائے لیکن اسکے باوجود کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اپوزیشن کو بھی موقع دیں کہ جو طریقہ اپنایا جاتا ہے وہ ٹھیک ہو مشاورت کریں اور سب کو موقع دیں،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ابھی جو مسودہ لیک ہوا ہے اس کے مطابق تو کوئی بھی ان سے اتفاق نہیں کر سکتا،ہمارے ساتھ آئینی ترامیم کا مسودہ شیئر نہیں کیا گیا، ہمیں صرف انفارمیشن دی گئی تھی اور اسی کے مطابق ہم غور کر رہے تھے، ہمارا مطالبہ تھا کہ مسودہ دے دیں، پہلے ہم اسے دیکھیں اور بحث کریں گے، اگر آپ کے پاس ڈرافٹ ہی نہیں تو ہم نے ڈسکس کس چیز پر کرنا ہے،اس کا مطلب ہے کہ ججز کو جب چاہے ٹرانسفر کر دو، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو کوئٹہ بھیج دیں گے اور نہیں جاتے تو استعفیٰ لے لیں گے،اس طرح عدلیہ پر بہت بڑی قدغن آجائے گی، جس طرح سے نئی عدالت بنا رہے ہیں، سپریم کورٹ کے سارے اختیارات لے لیں گے،میں نہیں سمجھتا کہ یہ آئینی ترامیم ہیں، یہ صرف غلط فہمی ہو رہی ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • مولانا سے ایسی ہی توقع تھی، صاحبزادہ حامد رضا

    مولانا سے ایسی ہی توقع تھی، صاحبزادہ حامد رضا

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ، پی ٹی آئی کے اتحادی صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ مولانا کا کردار خوش آئند ہے، مولانا سے ایسی ہی توقع تھی ،

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ حکومت کو بھی نہیں پتا کہ ترمیم کون لے کر آرہا ہے،جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اس پر مولانا کبھی اتفاق نہیں کریں گے، جو میڈیا پر مسودے کی بھرمار ہے وہ اصل مسودہ نہیں ہے، ہمیں مسودے کے کچھ محرکات معلوم ہوئے ہیں ، اوور آل ہی ہمارا اعتراض ہے لیکن بعض چیزیں بالکل قبول نہیں،حکومت آئینی ترمیم لانے جا رہی دوسری طرف اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی مسودہ شیئر نہیں کیا،ترمیم میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ناقابل قبول ہیں ،

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اچھا کردار ادا کیا، مجھے افسوس بلاول بھٹو پر ہے جو منہ پر جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور اصل میں جمہوریت کا جنازہ نکال رہے ہیں،آ رٹیکل 8 حکومت ترمیم کرنا چا رہی ہے، خبر ملی ہے کہ یہ آئین کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں،

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • سینیٹ اجلاس ملتوی،7 ستمبر کو سرکاری چھٹی کی قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس ملتوی،7 ستمبر کو سرکاری چھٹی کی قرارداد منظور

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ نے 7ستمبر کو یوم ختم نبوت کے طور پر سرکاری سطح پر منانے اور سرکاری چھٹی کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی،سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ۔

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا اجلاس مقررہ وقت سے 8منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔سینیٹر عطاالرحمن نے قرارداد پیش کی کہ 7ستمبر 1974کا تاریخی دن جس دن جس دن پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا کی یاد میں مناتے ہوئے: یہ دیکھتے ہوئے یہ دن بلاشبہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس دن مسلمانوان کی طویل جدوجہد بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی یہ احساس کرتے کہ ان تاریخی لمحات کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے لہذا سینیٹ آف پاکستان حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ یہ دن سرکاری سطح پر نایا جائے اور اس دن کو قومی سطح پر چھٹی کا اعلان کیا جائے ۔قرار متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ ڈپٹی چیئرمین نے سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا

    واضح رہے کہ سینیٹ میں آج آئینی ترامیم کا مسودہ پیش نہ کیا جا سکا، سینیٹ اجلاس اب دوبارہ کب ہو گا؟ اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم حکومت جب آئینی ترمیم کے حوالہ سے ہوم ورک مکمل کر لے گی، مطلوبہ نمبرز پورے ہو جائیں گے تو سینیٹ اجلاس پھر بلایا جائے گا.

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • آئینی ترامیم،حکومت کے لئے درد سربن گئیں

    آئینی ترامیم،حکومت کے لئے درد سربن گئیں

    آئینی ترامیم حکومت کے لئے درد سر بن گئیں، مولانا فضل الرحمان کے گھر کے چکر، منانے کی کوششیں ،پھر مولانا کے کہنے پر ہی اجلاس ملتوی کر دیا گیا،آج کیا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترامیم پیش ہو پائیں گی؟

    آئینی ترامیم کے مسودے بارے بات کی جائے تو گزشتہ 48 گھنٹوں میں مولانا فضل الرحمان سے حکومتی رہنماؤں کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں تا ہم گزشتہ شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسودے کی کاپی ان کے پاس آ چکی ہے، وہیں جے یو آئی کے مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ مسودہ ہمیں نہیں ملا، مسودہ ملنے کے بعد غور خوض کریں گے ،اتنی جلدی ہی کیا ہے، ایک ماہ بھی مشاورت میں لگ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد آئینی ترامیم منظور کی جائیں ،لیکن حکومت نے آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے اس سے قبل کوئی ہوم ورک نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے حکومت کو قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس ملتوی کروانا پڑے، نواز شریف بھی گزشتہ روز اسلام آباد گئے اور آئینی ترامیم کے لئے ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنی تھی مگر نواز شریف اجلاس ملتوی ہونے کے بعد واپس آ گئے اور آج دوبارہ لاہور سے اسلام آباد جائیں گے، نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں سے مشاورت بھی کی ہے.

    دوسری جانب گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوا تو اس دوران صحافیوں نےو فاقی وزیر خواجہ آصف جو نمبر پور ے ہونے کے دعوے کر ررہے تھے کو گھیر لیا اور سوال کیا جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، لگتا ہے نمبر پورے نہیں تھے اس لیے اجلاس ملتوی ہوا،صحافی کی جانب سے وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کیا کہتے ہیں؟ جس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے نہیں پتا میں اسمبلی میں تھامجھے فیکٹس کا نہیں پتا کیا ہوا ہے،

    حکومت کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو منایا جائے، مولانا فضل الرحمان سے حکومت کے مسلسل رابطے جاری ہیں، تحریک انصاف بھی مولانا فضل الرحمان سے رابطے میں ہے،گزشتہ رو زہونے والے خصوصی کمیٹی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے،اجلاس میں پی ٹی آئی نے موقف پیش کیا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے، یہ ایسا آئینی معاملہ ہے جس پر مزید مشاورت درکار ہے، اپوزیشن جماعتوں نے آئینی عدالت کے معاملے پر حکومت کو مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

    علاوہ ازیں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللّٰہ کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم کیا ہیں؟ یہ نہ اپوزیشن کو پتہ ہے، نہ اتحادی جماعتوں کو، وہ قانون سازی ہونی چاہیے جو ملک اور عوام کے مفاد میں ہو،کابینہ ارکان سے بھی آئینی ترامیم کو چھپایا جا رہا ہے، اگر یہ آئینی ترامیم ملکی مفاد میں کی جا رہی ہیں تو انہیں چھپایا کیوں جا رہا ہے؟ یہ ترامیم عدلیہ کی آزادی کے لیے ہیں یا اس کو کنٹرول کرنے کے لیے؟ اگر حکومت مسودہ شیئر کرے تو اس پر ہم اپنا آؤٹ پٹ دیں گے، آپ یہ بتائیں کہ آپ کو کس نے مجبور کیا ہے؟ آپ کو جلدی کیا ہے؟ ججز کی مدتِ ملازمت بڑھانے کے معاملے کی مخالفت کر رہے ہیں، حکومت کے ساتھ نہیں، حکومت ترامیم کا مسودہ دکھائے اور حکومت کو ہمیں منانا ہو گا کہ وجوہات کیا ہیں، اگر آپ عدلیہ میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں، جب مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ مسودے میں ہے کیا؟ تو میں کیا بات کروں

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

  • قومی اسمبلی ،وفاقی کابینہ کا اجلاس کل  تک ملتوی

    قومی اسمبلی ،وفاقی کابینہ کا اجلاس کل تک ملتوی

    آئینی ترمیم کے معاملے پراسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کل دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردیا جبکہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی کل تک موخر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 4 بجے ہونا تھا لیکن بعد ازاں یہ تاخیر کا شکار ہو گیا اور اب یہ چار گھنٹے بعد رات 8 بجے موخر کردیا لیکن 8 بجے بھی اجلاس شروع نہ نہ ہو سکا۔رات 11 بجے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا لیکن چند منٹ تک جاری رہنے والے اجلاس کو اسپیکر قومی اسمبلی نے کل دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا سہ پہر تین بجے ہونے والا اجلاس بھی تاحال شروع نہ ہو سکا۔کابینہ کا اجلاس دن 11 بجے طلب کیا گیا تھا لیکن پھر اسے تین بجے تک موخر کردیا گیا تھا لیکن یہ شام پانچ بجے تک شروع نہ ہو سکا۔بعدازاں وفاقی کابینہ کا اجلاس کل تک موخر کر دیا گیا۔

    پارلیمان میں بولیاں لگ رہی ہیں، امیر جماعت اسلامی

    اس سے پہلے ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوا تھا اور 4 بجے شروع ہونے والا اجلاس 7 بجے تک موخر کردیا گیا تھا لیکن قومی اسمبلی اجلاس میں تاخیر کے سبب سینیٹ کے اجلاس کو بھی رات 10 بجے تک موخر کردیا گیا تھا۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپنے ارکان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے ارکان قومی اسمبلی کو مراسلہ جاری کردیا، مراسلے میں اراکین قومی اسمبلی کو آج کے اجلاس میں حاضری یقینی بنانےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    سینیٹ سے تمام پارلیمانی لیڈرز کمیٹی میں شامل

    دوسری جانب سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے بھی ارکان کو مراسلہ لکھتے ہوئے اراکین کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت دے دی ہے۔آئینی ترمیم کی منظوری اور عدم منظوری کے حوالے سے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز رات گئے بلاول بھٹو اور محسن نقوی نے فضل الرحمن سے طویل ملاقات میں آئینی ترمیم پرمشاورت کی تھی۔مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر حکومتی وفد کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی وفد بھی پہنچ گیا تھا جس کی قیادت چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کی جبکہ وفد میں اسد قیصر، عمر ایوب، شبلی فراز اور صاحبزاہ حامد رضا شامل تھے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے بھی ملاقات میں آئینی ترمیم سے متعلق بات چیت کی تھی لیکن پی ٹی آئی رہنماؤں نے صحافیوں سے بات چیت سے گریز کیا تھا۔

    حکومت کو قومی اسمبلی میں مزید 13 ارکان کی حمایت درکار
    آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو پارلیمنٹ میں دو تہائی ارکان اسمبلی کی منظوری درکار ہے، یعنی 336 کے ایون میں سے تقریباً 224 ووٹ درکار ہیں، تاہم ابھی تک ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے پاس دونوں ایوانوں میں کم از کم ایک درجن ووٹوں کی کمی ہے۔باغی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کی 336 نشستوں میں سے حکومتی بینچوں پر 211 ارکان موجود ہیں جس میں مسلم لیگ (ن) کے 110، پاکستان پیپلز پارٹی کے 68، ایم کیو ایم پاکستان کے 22 ارکان شامل ہیں۔اس کے علاوہ حکومتی ارکان میں استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ق کے 4،4، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے 1،1 رکن بھی شامل ہیں۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن بنچوں پر 101 ارکان ہیں، سنی اتحاد کونسل کے 80 اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 8 آزاد ارکان کے ساتھ 88 ارکان اسمبلی، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 8 جب کہ بی این پی مینگل، ایم ڈبلیو ایم اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن موجود ہے۔

    نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد متوقع

    آئینی ترمیم کے لیے حکومت کو سینیٹ میں 63 ووٹوں کی ضرورت ہے تاہم ایوان بالا میں حکومتی بینچز پر 54 ارکان موجوود ہیں جن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے 24، مسلم لیگ (ن) کے 19، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 اور ایم کیو ایم کے 3، ارکان شامل ہیں، یعنی حکومت کو آئینی ترمیم کیلئے مزید 9 ووٹ درکار ہوں گے۔اعلیٰ ایوان کی اپوزیشن بینچز پر پی ٹی آئی کے17، جے یو آئی کے 5، اے این پی کے 3، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کا ایک ایک سینٹر ہے، اپوزیشن بنچز پر ایک آزاد سینیٹر بھی ہیں، اس طرح سینیٹ میں اپوزیشن بینچز پر 31 سینیٹرز موجود ہیں۔

  • آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس آج ہو گا،حکومت کی بھر پور کوشش ہے کہ آئینی ترامیم منظور کروا لی جائیں، حکومتی وفد نے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رات گئے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں،وزیر داخلہ محسن نقوی نے دو ملاقاتیں کیں تو پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول زرداری بھی مولانا فضل الرحمان کو ملنے گئے،

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج ساڑھے 11 بجے طلب کیا گیا تھا جس کا 6 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا تھا تاہم اب قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا گیا ہے،قومی اسمبلی اجلاس کا اب ساڑھے 11 بجے کے بجائے شام 4 بجے ہوگا، قومی اسمبلی اجلاس کے وقت میں تبدیلی اسپیشل پارلیمانی کمیٹی کی خصوصی سفارش پرکی گئی،کمیٹی نے صبح 10 بجےکی میٹنگ کے بعد اسپیکر سےکہا اہم امور پر فیصلوں کیلئے وقت درکار ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کمیٹی کی درخواست پر آج کے اجلاس کا وقت تبدیل کر دیا اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کے وقت کی تبدیلی کا نوٹس جاری کردیا،آج ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں وقفہ سوالات کے علاوہ 2 توجہ دلاؤ نوٹس شامل ہیں،صدرکے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب پر اظہار تشکر بھی ایجنڈے میں شامل ہے، اس کے علاوہ اراکین کی جانب سے نقطہ اعتراضات اٹھانے کا معاملہ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

    آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لیے جمعیت علماء اسلام ف کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے، چند روز کے دوران وزیراعظم شہباز شریف دو مرتبہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی سربراہ جے یو آئی سے ملاقات کر کے آئینی ترمیم میں ساتھ دینے کی درخواست کی تھی، گزشتہ رات پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائشگاہ پر جا کر ملاقات کی تھی،بعد ازاں بلاول زرداری نے بھی مولانا سے ملاقات کی تھی اور واپسی پر وکٹری کا نشان بنایا تھا،

    ممکنہ آئینی ترمیم معاملہ،ن لیگ نے ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت جاری کر دی،مسلم لیگ ن کی قوی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس ہوئے،اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر وزیرا عظم اور دونوں پارلیمانی پارٹیوں کے لیڈرزنے کی،اجلاس میں کہا گیا کہ تمام ارکان پارٹی فیصلے کے مطابق آئینی ترمیم بل کے حق میں ووٹ دیں،خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پارٹی کی ہدایت کے مطابق ووٹ ڈالنا لازمی ہے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کوشش کرینگے وہ ترمیم لائیں جس میں ساری جماعتیں متفق ہوں، خصوصی کمیٹی کی اگلی میٹنگ 2 بجے ہوگی، کوشش کررہےہیں کہ یہ معاملہ حل ہوجائے، سیاسی بحران کو حل کرنے کیلئے کوشش کررہےہیں، مولانا فضل الرحمٰن کے آگے تمام معاملات رکھتے ہیں ،موجودہ قانون سازی کیلئے پی ٹی آئی کوبھی رویہ تبدیل کرنا چاہئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

  • اتحادیوں کی  وزیراعظم کو ترامیم پر حمایت کی یقین دہانی

    اتحادیوں کی وزیراعظم کو ترامیم پر حمایت کی یقین دہانی

    وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشائیہ دیا، جس میں ارکان پارلیمنٹ کو آئینی ترامیم پر اعتماد میں لیا گیا۔

    اتحادی جماعتوں نے بھی وزیراعظم کو آئینی ترامیم پر حمایت کی یقین دہانی کروائی۔وزیراعظم نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو کل اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت قائم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئینی مقدمات کیلئے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا خاکہ پیش کردیا ہے۔سینیٹ میں نائب وزیراعظم اور قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا، اگر ہم آج اٹھارہ سال بعد یہ کام کرسکتے ہیں تو کیوں نہ کریں؟

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    اسحاق ڈار نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت 25 فیصد آئینی کیسز ہیں، اگر مقدمات کا بوجھ منتقل کیا جا سکتا ہےتو یہ اچھا ہے، اگر نمبر پورے ہوں گے تو کریں گے، نہیں ہوں گے تو نہیں کریں گے، قومی اسمبلی میں بنائی گئی خصوصی کمیٹی میں سینیٹ ارکان بھی شامل کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کی حکمت عملی ہوتی ہے، 2006 میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا خاکہ موجود ہے، اٹھارہ سال ایک چیز التواء میں رہی، اٹھارہ سال بعد ترمیم کر سکتے ہیں تو کیوں نہ کریں، بانی پی ٹی آئی نے بھی بعد میں میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، اگر اس میں اچھی چیز ہے، اگر آپ لوڈ شفٹ کر سکتے ہیں تو وہ اچھا ہے، اب اس کو ہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اسرائیل سے تعلقات آزاد فلسطینی ریاست تک ممکن نہیں، سابق سعودی انٹیلیجنس چیف

    اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی کورٹ کا تصور نیا نہیں، کوئی چھپانے والی بات نہیں، کہا جا رہا ہے ججوں کی دو سال مدت نہ بڑھاؤ، میں نے کہا سول بیورو کریسی کی مدت بڑھا نہیں سکتے تو ججز کی بھی نہ بڑھاؤ، 17 مہینے ملک میں الیکشن کمیشن غیر فعال رہا تھا، کیا اسے درست نہیں کرنا چاہیے، کیا باقی آئینی عہدوں پر نہیں کہ دوسرے کے آنے تک وہ عہدہ خالی رہے۔