Baaghi TV

Tag: آئینی ترمیم

  • پیپلز پارٹی نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کر دی

    پیپلز پارٹی نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کر دی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی اِی سی) کا اجلاس کل تک کے لیے موخر کر دیا گیا ہے، تاہم اجلاس میں آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تجاویز منظور کر لی گئیں۔

    کراچی میں اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ پارٹی نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آئینی ترمیم سے متعلق دیگر بعض تجاویز کی بھی تائید نہیں کی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کے معاملے پر پارٹی کی رائے ہے کہ چاروں صوبوں کو اس میں برابر نمائندگی دی جائے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید بتایا کہ سی اِی سی کا اگلا اجلاس نمازِ جمعہ کے بعد ہوگا، جس میں آئینی عدالت کے قیام سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    بیوی کی اجازت کے بغیر شوہر دوسری شادی نہیں کر سکتا، کیرالہ ہائی کورٹ

    ایران کی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش

    راولپنڈی میں خاتون ریپ کے بعد قتل، تین ملزمان گرفتار

    مریم نواز برازیل روانگی سے قبل لندن پہنچ گئیں

  • آئینی ترمیم پر اگلے ہفتے پیشرفت متوقع ہے،خواجہ آصف

    آئینی ترمیم پر اگلے ہفتے پیشرفت متوقع ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آئینی ترمیم پر کیا بحث ہو رہی ہے، اعتراضات کیے گئے ہیں لیکن اس وقت کمنٹ کرنا مناسب نہیں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی کوئی نہ کوئی شکل اگلے ہفتے سامنے آ جائے گی۔ بلاول بھٹو کا حق ہے کہ وہ اپنے مؤقف کا اظہار کریں۔وزیر دفاع نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل پیش کی جائے گی۔پاک افغان مذاکرات سے متعلق خواجہ آصف نے بتایا کہ وفد افغانستان روانہ ہوچکا ہے اور مذاکرات کل سے شروع ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت تبھی ہوتی ہے جب پیشرفت کی امید ہو، بصورت دیگر یہ وقت کا ضیاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے افغان فریق کو دانش مندی سے کام لینا ہوگا

    جرمنی میں آن لائن فراڈ اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی، 18 گرفتار

    بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے یوتھ فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ

  • کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،بینچزکے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    طلبی پررجسٹرار سپریم کورٹ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ رجسٹرار نے جواب دیا کہ کیس آئینی بینچ کا تھا، غلطی سے ریگولر میں لگ گیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بینچ میں مجھے شامل کرنا تھی، جسٹس عقیل عباسی نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس کو ہائی کورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے بینچ میں شامل کرنا غلطی تھی کیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھاگیا؟ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا،رجسٹرار سپریم کور ٹ نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ عدالت میں پیش کردیا

    جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، نوٹ میں آپ لکھ رہے ہیں کہ 16 جنوری کو آرڈر جاری ہوا ،نوٹ میں آپ آرڈر کی بنیاد پر نیا بینچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے؟ رجسٹرار نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا،آئینی بینچز کی کمیٹی نےترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے،ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بینچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بینچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی،جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ہمارے کیس سننے سے کم از کم آئینی ترمیم کا مقدمہ تو مقرر ہوا،پہلے تو شور ڈلا ہوا تھا لیکن ترمیم کا مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تھا، ٹیکس کیس میں کونسا آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جانا تھا جو یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا، عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ جو دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں یہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا دفاع ہے، دفاع میں پیش کیے جانے والے موقف پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ درست ہے یا نہیں،

    یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو مقدمہ واپس لینے کا اختیار کہاں سے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ کمیٹی کیسز مقرر کر سکتی ہے تو واپس بھی لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی رہے، آپکو چیزوں کا علم تو ہوگا،ججز کمیٹی کا عدالتی بنچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت ججز کمیٹی عدالتی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو کل کوئی کیس اس وجہ سے واپس لے لیا جائے گا کہ حکومت کیخلاف فیصلہ ہونے لگا ہے، میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں، 17 جنوری کو ججز کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، مجھے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا گیا،میں نے جواب دیا جوڈیشل آرڈر دے چکا ہوں، کمیٹی میں بیٹھنا مناسب نہیں،پھر 17 جنوری کو ہی آرٹیکل 191 اے فور کے تحت آئینی بنچز ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس وقت عدالتی بنچ میں کیس تھا اس وقت دو اجلاس ایک ہی دن ہوئے،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ججزآئینی کمیٹی نے منٹس میں کہا 26ویں آئینی ترمیم کیس آٹھ ججز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کیس آئینی بنچ میں بھیجا جاتا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تو ہم کیس سن ہی نہیں رہے تھے، چلیں اچھا ہے، اس کیس کے بہانے کیسز تو لگنا شروع ہو گئے،

    ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،اٹارنی جنرل طلب،منیر اے ملک اور حامد خان عدالتی معاون مقرر
    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا،سینئر وکیل منیر اے ملک اور حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلا کو کل سنیں گے،یہ اہم معاملہ ہے کہ ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ صلاح الدین نے بینچ کے سامنے استدعا کی کہ کچھ ججز کے اختیارات باقی ججز سے کیوں زیادہ ہیں اس معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے تو کمیٹی میں پہلے اس بات کی ریکوئسٹ کردی تھی۔ جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایاکہ کیا ہم توہین عدالت کی سماعت میں ایسا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اس سے متعلق وکلاء ہمیں آگاہ کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل کھڑے ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے فل کورٹ بنا سکتی ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

  • 26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ

    سپریم کورٹ،26 ویں آئینی ترامیم کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا گیا

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف 12 سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی ،بلوچستان بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے دائر درخواستوں کو بھی نمبر لگا دیا گیا ،بلوچستان بار کونسل کی طرف سے دائر درخواست کو 49/24 اور بلوچستان ہائی کورٹ بار کی درخواست کو 50/24 نمبر لگایا گیا،جماعت اسلامی کی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست کو بھی نمبر لگا دیا گیا،رجسٹرار آفس نے 12 درخواستوں کو نمبر الاٹ کردیا ہے

    چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں آٹھویں درخواست دائر

    اسلام آباد،26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں بی این پی سربراہ اختر مینگل فہمیدہ مرزا، محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے 26 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، درخواست میں 26 ویں آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے،دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لیے جس طرح ووٹ مینج کیے گئے اس کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا جائے، آئینی ترمیم کی شق 7، 14، 17 اور 21 کو غیر آئینی قرار دیا جائے،درخواست میں وفاق، جوڈیشل کمیشن، خصوصی پارلیمانی کمیٹی، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور الیکشن کمیشن کے افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست دائر کرنے کے موقع پر محسن داوڑ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات چیت بھی کی،محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو پورے ملک نے دیکھا کس طرح پاس کیا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم کو ہم نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے،فہمیدہ مرزا اور اختر مینگل بھی درخواست گزاروں میں شامل ہیں، پارلیمنٹ میں عوامی رائے کا مذاق اڑایا گیا، نہ اس پر کوئی بحث ہوئی اورنہ کوئی طریقہ کار فالو کیا گیا، کے پی کی سینیٹ میں نمائندگی نہیں تھی، مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ میں اور محسن داوڑ 26 ویں آئینی ترمیم چیلنج کرنے سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف آج دوسری اور مجموعی طور پر آٹھویں درخواست دائر کی گئی ہے،چار نومبر کو جماعت اسلامی پاکستان نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، درخوا ست وکیل عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے درخواست میں استدعا کی کہ 26 ویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی صرف سینیارٹی کے اصول پر ہی ممکن ہے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے چیف جسٹس کا تقرر غیر آئینی ہے26 ویں آئینی ترمیم اختیارات کے تقسیم کے اصول کے منافی ہے، یہ کالعدم قرار دی جائے۔

    آئینی بینچ بننے سے چیف جسٹس کی حیثیت میں کمی نہیں آئی،فاروق ایچ نائیک

    جماعت اسلامی پاکستان نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سارے مقدمات آئینی بینچز میں نہ لے کر جائیں،جسٹس منصور علی شاہ

    ملک بھر کی جیلوں کی صورتحال تشویشناک ہے،چیف جسٹس پاکستان

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    ہمارے آئینی اداروں نے ہی آئین اور ملک کا ستیاناس کیا،نواز شریف

  • سروسز چیف کی مدت ملازمت  تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    سروسز چیف کی مدت ملازمت تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ

    آرمی ایکٹ میں ترمیم لا کر سروسز چیف کی مدت ملازمت کو تین سے پانچ سال بڑھانے کا خوش آئند فیصلہ ہے

    آرمی ایکٹ کے مطابق سروسز چیف کی مَدت ملازمت تین سال مقرر تھی جسکو قومی اسمبلی میں با ذریعہ ترمیمی بل تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا ہے یہ ایک انتہائی اہم اور خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی خاطر یہ قدم انتہائی ضروری تھا،سروسز میں اور نیشنل پالیسی لیول پر تین سال کے قلیل عرصے میں کسی بھی بڑی پالیسی فیصلہ سازی اور انیشییٹو کو منطقی انجام تک پہنچانا کافی مشکل کام تھا کیونکہ بڑے فیصلوں کی تکمیل وقت مانگتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کے ایک پالیسی پر عمل داری کے درمیاں جب مُدت ملازمت ختم ہونے کے بعد نئی لیڈرشپ آتی ہے اُس سے جاری پالیسی بھی اثر انداز ہوتی ہے اور نئے سرے سے کام از سرے نو  شروع ہو جاتا ہے اور نتیجتاً سروس اور ملک دونوں اُس تبدیلی سے متاثر ہوتے ہیں اب سروسز چیف کی مُدت ملازمت پانچ سال ہو چکی ہے جس سے پالیسیوں کے تسلسل میں اور استحکام میں کافی فائدہ ہوگا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں اہم ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”

  • سینیٹ اجلاس،اراکین کی عدم دلچسپی،ایک بھی وزیر نہ آیا

    سینیٹ اجلاس،اراکین کی عدم دلچسپی،ایک بھی وزیر نہ آیا

    سینیٹ کا اجلاس پریزائڈنگ آفسر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔
    ایوان میں ایک بھی وزیر نہیں تھا جبکہ حکومت کے 4سینیٹر ایوان میں موجود تھے ،پریزائیڈنگ آفسر سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ ایوان 30منٹ کے لیے ملتوی کردیتے ہیں ایوان میں ارکان نہیں ہیں اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں کل 7سینیٹرز موجود تھے ،قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز ان کہاکہ آئینی ترمیم کے لیے بندوں کا لایا جاتا ہے مگر ایوان میں نہیں آتے ہیں کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ایوان کو ملتوی نہ کیا جائےارکان کو بات کرنے دی جائے ۔ اے این پی کے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ کل سینیٹ کا بڑا دن تھا روس کے فیڈیشن کے سپیکر آئی تھیں کل حاضری بہت ضروری تھی قائد حزب اختلاف کو کل ایوان میں ہونا چاہیے ۔ ہم پاکستان کی حکمرانی نہیں چاہتے ہیں جو خواہش مند ہیں ان کو پاکستان کا خیال رکھنا چاہیے ۔ فلسطین کا معاملہ پورے امت مسلمہ کا معاملہ ہے فلسطین کے آل پارٹی میں تحریک انصاف کو ہونا چاہیے تھا یہ بھی اسرائیل کی مخالفت کریں گے ۔

    گالیاں دینا تحریک انصاف کا پیشہ ،میں ان سے بڑا بدمعاش ہوں،ایمل ولی خان
    ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ مجھے پی ٹی آئی والے گالیاں دیتے ہیں یہ پیٹھ پیچھے گالیاں دیتی ہیں ۔بیرسٹر گوہر کو تحریک انصاف چیئرمین نہیں مانتی ہے ۔ ان کے لوگ مجھے گالیاں دیتے ہیں میں کیا کروں؟ ہم اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرتے ہیں۔ میں سیاسی بات کرتاہوں یہ بھی سیاسی جواب دیں ۔اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم بدمعاش ہیں تو میرے سے بڑا کوئی بدمعاش نہیں ہے ۔ گالیاں دینا تحریک انصاف کا پیشہ ہے ۔ دنیش کمار نے کہاکہ وزیر موجود ہیں تو سوالات کیوں موخر کئے جارہے ہیں تیسیری مرتبہ سوالات موخر کئے جائیں ۔

    سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ایمل ولی خان بات کرکے بھاگ گئے ہیں ۔ یہ سب فکس میچ ہے 26آئینی ترمیم فکس تھی جو غیر متعلق ہوجائے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ہے یہ سب عمران خان کے خلاف بات کرتے ہیں۔ یہ ایوان نامکمل ہے جو بھی کسی کے خاندان کے بارے میں غلط بات کرئے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ بھاگنے والی باتیں ہورہی ہیں ۔ ہم آئینہ دیکھانا ہے۔گالیاں نہیں دینی ہیں۔ سینیٹ انتظامیہ کی طرف سے سینیٹر شبلی فراز کی تقریر کے دوران مائیک بند کیا جاتا رہاہے ،سینیٹر منظور کاکڑ نے کورم کی نشاندہی کردی کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ اجلاس 30منٹ تک ملتوی کردیا گیا۔

    ایوان میں 21 سینیٹرز موجود ہیں، اجلاس 30 منٹ کے لئے ملتوی کردیا گیا سینیٹر مانڈوی والا نےاپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ ساڑھے 12 بجے اجلاس دوبارہ ہوگا، یقین دلاتا ہوں،

    جوڈیشل کمیشن کے لیے اپوزیشن کے نام کل تک دے دیں ۔چیئرمین سینیٹ
    سینیٹ کا اجلاس 12بج کر 49منٹ پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت دوبارہ شروع ہوا۔یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کے لیے اپوزیشن کے نام کل تک دے دیں ۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ 2024میں سینیٹ الیکشن میں صوبہ کے پی کے کے علاوہ تمام صوبوں سے سینیٹرز آئے ہیں ۔ یہ وفاق کو کمزور کررہاہے ۔ اس سے غلط پیغام جاتا ہے ۔ ایک صوبے کو محروم رکھا جارہاہے ۔وہاں سے دس سینیٹر تحریک انصاف کے بنیں گے قومی اسمبلی بھی نامکمل ہے مخصوص نشستیں بھی وہاں نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن اس معاملے میں فریق بن گیا ہے الیکشن کمیشن فیصلے پر عمل نہیں کررہاہے ۔الیکشن کمیشن نے جس طرح الیکشن کرایا ہمیں انتخابی نشان سے محروم کیا گیا ۔ نامکمل ایوانون نے قانون سازی کی ہے ۔ یہاں سے قرار داد منظور ہونی چاہیے کہ کے پی کے میں سینیٹ الیکشن کرائے جائیں ۔ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے ممبران کو تسلیم کیامگر اس کے فیصلے پر عمل نہیں کیا جارہاہے ۔قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف فیصلے دیئے ۔ اگر تحریک انصاف اور عمران خان غیر متعلق ہوتے تو ہر کوئی ان کے نام نہ لیتا ۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں عمران خان کا نام لیتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ مینڈیٹ عوام نے تحریک انصاف کو دیا ہے ۔ آئینی ترمیم کے لیے ظلم و جبر کا استعمال کیا گیا میرے گھر پر بھی پولیس نے چھاپے مارے ہمارے خاندان کاروبار تباہ و برباد ہوگئے ہیں ۔(ناصر بٹ نے کہاکہ ابھی تو شروعات ہیں ) شبلی فراز نے کہاکہ ہمارے ایک اقلیتی رکن کو ایک سینیٹر نے کال کی کہ اتنے پیسے مل رہے ہیں جس پر اس نے کہاکہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ناصر بٹ نے کہاکہ نام بتائیں جھوٹ بول رہے ہیں۔ ورنہ اپنا الزام واپس لیں۔شبلی فراز نے کہاکہ جھوٹ بولنے پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس سے ہمارے ایوانوں کا استحقاق مجروح ہوا۔ یہاں قانون کی عملداری نہیں ہو رہی ہے عمران خان کے جیل کی بجلی بند کردی گئی ہے جیل مینوئل پر عمل نہیں ہو رہا ہے ۔اس سے نہیں لگتا کہ ہم جمہوری ملک ہیں ۔فسطائیت کی نئی انتہاء پر ہیں۔ حکومت کی عدلیہ کے ساتھ جنگ ختم ہونی چاہیے ۔ جب عدلیہ کی آزادی پر سوال ہوتو بیرون ملک سے کون سرمایہ کاری کرے گا. آئینی ترمیم کی وجہ سے پوری دنیا ہماری مذمت کر رہی ہے ۔ کے پی کے کے عوام نے تیسری مرتبہ مینڈیٹ دیا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ ہم سے خوش ہیں ورنہ وہ دوسری مرتبہ کسی کو چانس نہیں دیتے ہیں ۔ 26ویں ترمیم ہضم نہیں ہوئی 27ویں کی بات شروع ہوگئی ہے ۔ جو ترمیم ہورہی ہے کل آپ بھی اس کا شکار ہوں گے آپ مستقل حکومت اور ہم اپوزیشن میں نہیں ہوں گے ۔ عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں مشکلات ہیں ۔عمران خان نے ملک میں رہنا ہے وہ عوام کے لیے جیل میں ہے ۔عمران. خان نے پاکستان کے نوجوانوں کو متحدی رکھا ہوا ہے ۔

    سینیٹر کامل علی آغا نے وقفہ سوالات موخر کرنے کی تحریک پیش کی گئی تحریک منظور کرلی گئی،سینیٹر دنیش کمار نے تحریک کی مخالفت کی۔ دنیش کمار نے کورم کی نشاہدہی کردی۔ کورم مکمل نکل آیا ۔ رانا تنویر نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر چیئرمین نےجھاڑ پلاتے ہوئے کہاکہ آپ اپنی بات کہیں ۔رانا تنویر نے سیڈ ترمیمی بل 2024ایوان میں پیش کیا ۔ اپوزیشن لیڈرشبلی فراز نے کہاکہ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیں ۔ سینیٹ نے کثرت رائے سے سیڈ ترمیمی بل 2024پاس کرلیا۔ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی طرف سے وزیر فواد سیکورٹی رانا تنویر نے قانون اعانت وانصاف اتھارٹی ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا ۔ اپوزیشن نے بل قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کی درخواست کردی. بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔ وزیر فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر نے بورڈ آف ڈائریکٹرز سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ مالی سال 2023-24 ایوان میں پیش کی سٹیٹ بینک کے حصول میں کامیابی مالیاتی پالیسی کے انعقاد معیشت کی صورت حال اور مالی نظام پر گونر سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ مالی سال 2023-24 پیش کیا.سینیٹ کا اجلاس یکم نومبر بروز جمعہ 10بج کر 30منٹ تک ملتوی کردیا گیا

    رپورٹ: محمد اویس، اسلام آباد

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • ملک میں زبردست پرامن مزاحمتی تحریک کی ضرورت ہے،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں زبردست پرامن مزاحمتی تحریک کی ضرورت ہے،حافظ نعیم الرحمان

    لاہور:جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پوری حکومت جھوٹ پر کھڑی ہے، آئینی ترمیم سے عدلیہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی –

    باغی ٹی وی : لاہور کے مقامی ہوٹل میں کالجوں، یونیورسٹیوں کی طالبات، مختلف طبقہ ہائے فکر کی نمائندہ خواتین کے کل پاکستان سیشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پوری حکومت جھوٹ پر کھڑی ہے، یہ فیک نیوز کو فیک کہتے ہیں تو عوام نہیں مانتے آئینی ترمیم سے عدلیہ پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، یقین سے کہتا ہوں کہ ترمیم آج نہیں تو کل واپس ہو جائے گی، وکلا اس کے خلاف ہیں اور جماعت اسلامی بھی عدالت جائے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں 77برسوں سے معیاری تعلیم دستیاب نہیں، دنیا کی ٹاپ 200 یونیورسٹیز میں پاکستان کی ایک جامعہ بھی شامل نہیں، پونے دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صرف 19لاکھ نوجوان یونیورسٹیوں میں موجود ہیں جوعمر کے تناسب سے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں دھند کا …

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پرائمری سطح پر ڈھائی لاکھ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں ڈھنگ کی تعلیم میسر نہیں، حکومت پنجاب مزید 14ہزار اسکولوں سے جان چھڑا کر انہیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا چاہتی ہے، چاروں صوبوں کی مجموعی تعلمی بجٹ دو ہزار ارب ہے، اس کے باوجود بھی یہ عوام کو تعلیم نہیں دے رہے ہیں جماعت اسلامی ملک میں ایک نصاب، ایک نظام کے تحت تعلیم چاہتی ہے، حکمرانوں نے تعلیم تجارت بنا دی ہے، عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ معیاری تعلیم ان کا بنیادی حق ہے جو انہیں دستیاب نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہی صورت حال صحت اور امن کی ہے، مجموعی طور پر مایوسی کی فضا قائم ہے، نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ حالات سے تنگ ہو کر ملک نہ چھوڑیں، یہ مسائل کا حل نہیں، منظم جدوجہد کریں، ملک میں زبردست پرامن مزاحمتی تحریک کی ضرورت ہے اور ہمیں مل کر اس طبقے سے جان چھڑانی ہے جو بیوروکریسی اور جاگیرداروں کی صورت میں وسائل پر مسلط ہے۔

    پاکستانی تن ساز عبدالمجید مسٹر یونیورس بن گئے

    ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ ٹیکس بھی نہیں دیتے، یہ آئی پی پیز، شوگر، ادویات، آٹا، گندم مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں ہر حکمران پارٹی میں موجود اور نظام میں سرایت کر چکے ہیں، یہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط نہیں کرنا چاہتے، یہ بلدیاتی نظام اور اسٹوڈنٹس یونین کو بحال نہیں کرتے. شخصیت نہیں پوری پارٹی بہترہونی چاہیے اور یہ صرف جماعت اسلامی کی صورت میں موجود ہے، نوجوان اندھی تقلید نہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کسی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سے نہیں بلکہ عوام کی تائید سے حکومت میں آنا چاہتے ہیں، ہم چور دروازے سے نقب نہیں لگانا چاہتے، بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے فارم 47سے متعلق بیانیہ پر کمپرومائز کر لیا، وہ اب نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسی نظام کے تحت نئے الیکشن ہی ہو جائیں تو کیا حاصل ہوگا۔

    ڈیرہ غازی خان: کمانڈنٹ اسد چانڈیہ کا ایکشن، "کالی” قرار دی گئی خاتون بازیاب

    امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں خواتین کے بے شمار مسائل ہیں، انھیں وراثت میں حق نہیں ملتا، ہراسمنٹ اور ٹرانسپورٹ کے ایشو ہیں، زینب زیادتی کیس کے موقع پرمطالبہ کیا تھا مجرم کو سرعام پھانسی دیں، اس وقت سبھی پارٹیوں نے مل کر مخالفت کی بدقسمتی سے ہمارے یہاں اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ اپنے آپ کو ریاست سمجھتی ہے، اسلامی نظام قائم ہو گا تو عوام کی رائے اور عدل کی بنیاد پر ہوگا۔

    تقریب میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثمینہ سعید، ناظمہ ضلع لاہور عظمیٰ عمران بھی موجود تھیں، جماعت اسلامی کے حلقہ خواتین کے زیراہتمام سیشن میں ملک بھر سے خواتین نے آن لائن بھی شرکت کی۔

    سپریم کورٹ کا آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری

  • پی ٹی آئی نے جلسے میں شرکت کی دعوت دی تو سوچوں گا،مولانا فضل الرحمان

    پی ٹی آئی نے جلسے میں شرکت کی دعوت دی تو سوچوں گا،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سرگودھا میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے جلسے میں شرکت کی دعوت دی تو سوچوں گا،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم پر حکومت نے 56 شقیں پیش کیں جو بعد میں 22 پر آ گئے ،5 شقیں ہم نے ڈالیں، 27 کا ڈرافٹ سینیٹ اوراسمبلی سے منظور ہوا،آئین میں بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ برقرار ہے،ہم نے آرٹیکل 8 میں ترمیم کی تجویز سے انکار کیا،بنیادی انسانی حقوق آئین کے آرٹیکل 8 سے وابستہ ہے،ہم نے جو کچھ کیا فریق کے طور پر کیا، حکومت کی کوئی نئی آئینی ترمیم کی سوچ سامنے نہیں آئی، پی ٹی آئی سے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس پر احتجاج مؤخر کریں،حکومت کو کہا کہ آئینی ترمیم اس کانفرنس کے بعد لائی جائے، 2108ء کےبعد جو معاشی تباہی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے، اس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، سب کوششوں میں لگے ہیں،سود کے معاملے میں شریعت کورٹ کا فیصلہ حتمی ہو گا جو 2028ء سےنافذ العمل ہو گا۔

    مولانا فضل الرحمان سے صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے آپ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں، جس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ابھی میرے تک ایسی کوئی خواہش نہیں پہنچی،

    دوسری جانب جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کی دمڑ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے، صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی نے 26 ویں آئینی ترمیم میں سودی نظام کے خاتمے اور سوسائٹی ایکٹ ترمیمی بل مدارس رجسٹریشن کی منظوری پر مبارک باد اور خراج تحسین پیش کیا۔ملاقات میں چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی وائس چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان پیر جی خالد محمود قاسمی، مولانا ابراہیم عبداللہ، صاحبزادہ حسین احمد قاسمی، مجیب دمڑ، جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے امیر میاں عرفان، سیکرٹری جنرل فیصل آباد مفتی شاہد معاویہ اور جمعیت علماء اسلام ضلع فیصل آباد کے عہدیداران بھی موجود تھے۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ26ویں آئینی ترمیم میں سود کے خاتمے سے متعلق منظوری پوری قوم کیلئے باعث افتخار ہے،سودی نظام کے خاتمہ کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا اور یہ اللہ کا نظام ہے جب ہم پی ڈی ایم کے اقتدار میں تھے اس وقت ڈرافٹ تیار ہوا اور ہم اب حزب اختلاف میں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ خیر کاکام لیا اس پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں،باز گشت سنائی دی جا رہی ہیں کہ 27ویں آئینی ترمیم بھی آئے گی جو26 ویں ترمیم میں نہیں ہو سکا وہ اس ترمیم میں کیا جائے گا ہم یہ ترمیم نہیں ہونے دیں گے اگر آئی تو بھر پور مزاحمت کریں گے،اس موقع پر صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے اور جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے عہدیداران 26 ویں آئینی ترمیم میں سودی نظام کے خاتمے اور سوسائٹی ایکٹ ترمیمی بل مدارس رجسٹریشن کی منظوری پر مولانا فضل الرحمن کو مبارک باد اور خراج تحسین پیش کیا۔

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست

    26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست

    26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی ہے

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف نئی درخواست ایڈووکیٹ میاں آصف کی جانب سے 184(3) کے تحت دائر کی گئی ہے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت ،وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کو فریق بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ 26 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے، پارلیمان عدلیہ کی آزادی کے خلاف ترمیم نہیں کر سکتی، عدلیہ کی آزادی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا جزو ہے،پارلیمان کی عدالتی امور میں مداخلت عدلیہ کی آزادی اور انصاف کی فراہمی کو متاثر کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل بھی سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی تھی، افراسیاب خٹک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں ن لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، 26ویں آئینی ترمیم میں ارکان اسمبلی نے ووٹ رضا کارانہ طور پر ڈالا یا دباؤ کے تحت انکوائری کی جائے،سپریم کورٹ معاملے کے خود انکوائری کرے یا جوڈیشیل کمیشن کے ذریعے ارکان پر دباؤ کے معاملے کی انکوائری کروائے،

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے