Baaghi TV

Tag: آئینی ترمیم

  • زین قریشی کس کے کہنے پر روپوش ہوئے؟ویڈیو بیان جاری

    زین قریشی کس کے کہنے پر روپوش ہوئے؟ویڈیو بیان جاری

    ملتان: 26 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پی ٹی آئی کے ایم این اے زین قریشی کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ میری کسی حکومتی اہلکارسے ملاقات ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا-

    باغی ٹی وی : ویڈیو بیان میں زین قریشی نے کہا کہ اپنے والد شاہ محمود قریشی کے کہنے پر روپوشی اختیار کی،والد نےلاہور بلایا اور کہا کسی صورت آئینی ترمیم منظورنہیں ہونی چاہیے، آئینی ترمیم کی حمایت سے متعلق میرے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، میرا قومی اسمبلی جانا تو دور کی بات میں قریب سے بھی نہیں گزرا، میری کسی حکومتی اہلکارسے ملاقات ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا، پارٹی پالیسی اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    واضح رہے کہ رکن قومی اسمبلی زین قریشی کچھ دنوں سے منظر عام سے غائب تھے اور ان کی ہمشیرہ مہر بانو قریشی کی جانب سے زین قریشی سے رابطہ نا ہونے اور ان کو اغوا کیے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا،گزشتہ روز پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ

  • 26ویں آئینی ترمیم:چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    26ویں آئینی ترمیم:چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

    اسلام آ باد: سینیٹ اور قومی اسمبلی نے26ویں آئینی تر میم کے بل کی منظوری سے پارلیمانی تاریخ کاا یک نیا باب رقم ہوا ہے تاہم 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت اب چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 26ویں آئینی ترامیم کی تمام 27 شقیں منظور کرلی گئی ہیں، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہی ، مسودہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے، صدر آصف زرداری کے مسودہ پر دستخط کے ساتھ ہی چھبیسویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز کا انتخاب

    سینئر ترین جج چیف جسٹس کے لیے آٹو میٹک چوائس نہیں ہوگا اس کے برعکس چیف جسٹس پاکستان کا انتخاب 3 سینئر ججز میں سے کیا جائے گا نئی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کے نام کا فیصلہ 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی 2 تہائی اکثریت سے کرے گی،کمیٹی وزیراعظم کو چیف جسٹس کا نام بھیجے گی جس کے بعد وزیراعظم اب صدر مملکت کو منظوری کے لیے نام بھیجیں گے 26 ویں آئینی ترمیم کے مطابق 3 سینئر ججز میں سے کسی جج کے انکارکی صورت میں اگلے سینئرترین جج کا نام زیرغورلایا جائے گا جب کہ چیف جسٹس پاکستان کی عہدے کی مدت 3 سال یا ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 65 سال ہوگی۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    یہ تر میم پارلیمنٹ کی بطور ادارہ کا میابی ہےججز کی تقرری میں اب پارلیمنٹ کااختیار پوسٹ آفس کا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کی اجتماعی بصیرت کا مظہر ہو گا،جو 12 رکنی جوڈیشل کمیشن سپر یم کورٹ کے ججز کی تقرری کرے گا اس کمیشن کے سر براہ چیف جسٹس آف پا کستان ہوں گے ان کے علا وہ پریزائیڈنگ جج اور تین سینئر موسٹ جج اس کے ممبر ہوں گے دو ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان سینیٹ اس کے رکن ہوں گے۔

    وفاقی وزیر قانون و انصاف، اٹا ر نی جنرل آف پا کستان اور پا کستان بار کونسل کے نامز وکیل بھی اس کے ممبرہوں گے، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے جو چار ارکان نامزد کئے جائیں گے ان میں سے دو کا تعلق حکومتی بینچوں اور دو کا اپو زیشن سے ہوگا لہٰذا یہ تاثر دینا کہ اس ترمیم کا مقصد حکومت کا اثر بڑھانا ہے درست نہیں ہے۔

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    آئینی ترمیم کے مطابق وزیراعظم یا کابینہ کی جانب سے صدرکو بھجوائی گئی ایڈوائس پرکوئی عدالت،ٹریبونل یا اتھارٹی سوال نہیں اٹھاسکتی،جبکہ سپریم کورٹ کے ججز کے تقررکے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی متناسب نمائندگی ہوگی، 8 ارکان قومی اسمبلی 4 سینیٹ سے ہوں گے اور آرٹیکل184 تین کے تحت سپریم کورٹ اپنے طورپرکوئی ہدایت یا ڈکلیئریشن نہیں دے سکتی، جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ میں آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی، وہ عزت سے گھر جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ بات سینیٹ کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کیلئے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہی ،انہوں نے کہا کہ چند سال سے عدلیہ میں جو جھگڑا چل رہا ہے وہ صرف ایک گروپ کی اجارہ داری کیلئے ہے، ہمیں عدلیہ کو آزاد کرنا تھا لیکن اتنا نہیں کہ وہ ہماری آزادی ہی چھین لے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ جو چار ووٹرز ایوان میں آئے ہیں وہ پی ٹی آئی کے نہیں، آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر اسمبلی میں آئے تھے ،انہوں نے سوال کیا کہ جب فوج میں آرمی چیف کیلئے 5 بندوں کا پینل آتا ہے تو عدلیہ میں کیوں نہیں آ سکتا؟

    خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں کیا کچھ ہوا وہ یاد نہیں، قاسم سوری نے 30 منٹ میں 54 بل منظور کیے تھے جو الفاظ ادا کیے گئے ہیں انہیں کچھ تو شرم و حیا اور احساس ہونا چاہیے، وقت کے ساتھ پارٹیاں بدلنے سے انسانوں کے ضمیر نہیں بدلنے چاہئیں، بھڑکیں مارنے والا بانی مکافات عمل بھول گیا تھا، جیل میں بانی کو ملنے والا کھانا بڑے ہوٹلوں میں بھی نہیں ملتا۔

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    لاکھوں لوگ انصاف کیلئے ترس رہے ہیں، اس ترمیم سے انصاف آسان ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف

    آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وزیراعظم شہبازشریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے الحمدللہ، یہ صرف ترمیم نہیں بلکہ اتفاق رائے اور یکجہتی کی مثال ہے، آج نیا سورج طلوع ہوگا جس کی روشنی پورے ملک میں ہوگی۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ اس سے پہلے حکومتوں کو گھر بھیجا جاتا تھا، ملک کو اربوں کا نقصان ہوا، لاکھوں لوگ انصاف کیلئے ترس رہے ہیں، اس ترمیم سے انصاف آسان ہوگا میثاق جمہوریت پر دستخط 2006 میں لندن میں ہوئے تھے، میثاق جمہوریت پر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے دستخط کئے، میثاق جمہوریت پر مولانا فضل الرحمان نے بھی دستخط کئے۔

    آئینی ترمیم :ایوان سے منظوری کے بعد بل پر صدر مملکت آج دستخط کریں …

    وزیراعظم نے کہا کہ آج حکومت، اتحادی جماعتوں، جے یو آئی اور آزاد ارکان نے ووٹ ڈالے، آج طے ہوگیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے لیکن ابھی وقت نہیں کہ ان کا جواب دوں ملک کی تاریخ میں اچھے اور بڑے بڑے ججز بھی آئے ہیں، ایک پاناما تھا جو ختم ہوگیا، پھر اقامہ پر سزا دی گئی، آج میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، ماضی میں جو ہوا اب کسی وزیراعظم کو گھر نہیں بھیجا جاسکے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بلاول بھٹو نے خلوص دل سے بے پناہ محنت کی، مولانا فضل الرحمان کا بھی دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، اپنی ناراضی اور زوردار دلائل کے بعد مولانا نے اہم کردار ادا کیا، کاش پی ٹی آئی بھی اس میں شامل ہوتی تو بہت اچھا ہوتا، ملک کو پیغام گیا کہ ہاؤس میں موجود پارٹیوں نے ملک کیلئے ذاتی مفاد کو قربان کیا تمام جماعتوں نے آگے بڑھ کر 26 ویں ترمیم منظور کی، جو پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھے گی۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

    26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے ضروری تھی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بیان میں کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پارلیمنٹ کو مکمل آئینی اختیار اور وقار واپس ملا ہے، ترمیم سے بروقت انصاف ہوگا اور ہوتا نظر بھی آئے گا، 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے ضروری تھی۔

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم سے عدالتی نظام میں مثبت اصلاحات کا باب کھل گیا، یہ ترمیم پاکستان کو دنیا کی مثالی جمہور یت کی صف میں کھڑا کرے گی سود کے خاتمے کی شق کا خیرمقدم کرتی ہوں، عدلیہ کو خودمختار اور مزید مستحکم کیا گیا ہے اور انصاف تک عوامی رسائی کو یقینی بنایا گیا، 26 ویں آئینی ترمیم عوام کی آواز سب سے بلند ہونے کا واضح پیغام ہے۔

    اختر مینگل نے اپنے دو سینیٹرز سے استعفیٰ مانگ لیا

  • جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا،فاروق ستار

    اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے، جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : ایوان میں اظہار خیال کرےے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آئین بنانے میں ہمیں 9 سال لگے، ہمیں مہنگائی اور بے روزگار ی ختم کرنا ہوگی، ایک باختیار، موثر بلدیاتی نظام ہی جمہوریت کو مضبوط بناسکتا ہے، بااختیار بلدیاتی نظام کو موثر بنایا جائے، پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کیلئے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیں، سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کے لیے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیں۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں بھی 26ویں آئینی ترامیم کی تمام 27 شقیں منظور کرلی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی سے بھی منظوری کے بعد مسودہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے، صدر آصف زرداری کے مسودہ پر دستخط کے ساتھ ہی چھبیسویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی۔

    آئینی ترمیم :ایوان سے منظوری کے بعد بل پر صدر مملکت آج دستخط کریں …

  • 26 ویں آئینی ترمیم :صدر مملکت کے دستخط کے بعد  گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    26 ویں آئینی ترمیم :صدر مملکت کے دستخط کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن قومی اسمبلی کی جانب سے جاری کیا گیا جس کے بعد 26ویں آئینی ترمیم بل 2024 ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گیا، گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد 26ویں آئینی ترمیم لاگو ہوگئی۔

    26ویں آئینی ترمیم کے بعد سب سے پہلے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر کرے گی آرٹیکل 175اے کی شق 3 کے تحت نئے چیف جسٹس کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔

    چیف جسٹس آف پاکستان آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق تین کے تحت تین سینیئر ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین ججز میں سے ایک جج کا تقرر کرے گی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر کر کے نام وزیر اعظم کو ارسال کرے گی اور وزیراعظم چیف جسٹس کے تقرر کی ایڈوائس صدر کو بھجوائیں گے۔

    آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق 3اے کے تحت قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی 12ممبران پر مشتمل ہوگی۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں 8اراکین قومی اسمبلی اور 4 سینیٹ سے لیے جائیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان آرٹیکل 175اے کی ذیلی شق 3سی کے تحت ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل 3 سینیئر ججز پر مشتمل پینل پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے، اسپیکر قومی اسمبلی خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

    قبل ازیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی حتمی منظوری کا مرحلہ شروع ہوگیا وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کیلئے دستخط کرنے کے بعد اپنی ایڈوائس صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھجوا ئی تھی، جس پر صدر مملکت آصف علی زرداری آج دستخط کریں گے۔

    قبل ازیں ایوان صدر سیکرٹریٹ کے مطابق آئینی ترمیم پر صدر مملکت کے آج دستخط کرنے کی صبح 6 بجے منعقدہ تقریب ملتوی کردی گئی تھی ، تقریب کیلئے صبح 8 بجے کے وقت کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    وفاقی وزیر خزانہ امریکہ کے دورے پر روانہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ …

    واضح رہے کہ سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی ہے، حکومت دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

    قومی اسمبلی میں 26 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی، ایوان سے ترمیم کی منظوری کیلئے 224 ووٹ درکار تھے جبکہ ترمیم کے حق میں 225 ووٹ کاسٹ ہوئے،شق وار منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کی گئی، نوازشریف نے ڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں سب سے پہلے ووٹ دیا آئینی ترمیم کیلئے 6 منحرف اراکین نے بھی اپنے ووٹ کاسٹ کیے، 5ارکان کا تعلق پی ٹی آئی سے بتایا جا رہا ہے جبکہ ایک کا تعلق ق لیگ سے تھا۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کیلئے حکومتی اتحاد کو 224 ووٹ درکار تھے جبکہ حکومتی اتحاد 211 ارکان پر مشتمل ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش: جمہوری اصلاحات اور عدلیہ میں اہم تبدیلیاں متعارف

    حکومتی بینچز پر قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن 111، پیپلزپارٹی کی 69 نشستیں ہیں، حکومتی بینچز پر ایم کیو ایم 22، ق لیگ 5، آئی پی پی کے 4 اراکین ہیں جبکہ مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن ہیں۔

    حکمران اتحاد کے 3 افراد کے خلاف ریفرنس دائر ہے، اس طرح یہ تعداد 211 ہے اور جے یو آئی کے 8 اراکین کی حمایت کے ساتھ یہ تعداد 219 ہوگی اور اب حکومت کو آئینی ترمیم پاس کروانے کیلئے مزید 5 ارکان کی ضرورت تھی کہ قومی اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران چوہدری الیاس، عثمان علی، مبارک زیب، ظہورقریشی اورنگزیب کھچی سمیت 5 آزاد اراکین ایوان میں پہنچ گئے تھے پانچوں ارکان پی ٹی آئی کی حمایت سےانتخابات میں کامیاب ہوئےتھے۔

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر …

  • ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی ، قوم حیران- تجزیہ : شہزاد قریشی

    ترمیم ترمیم کے کھیل میں سیاست دھندلا گئی،قوم حیران
    ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش،25کروڑ عوام کی کسی کو فکر نہیں
    پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے فلاحی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی سازش
    دو اور دو چار ہوتے ہیں،سیاستدانوں کا آئین پر حساب کتاب کمزورکیوں ؟
    تجزیہ،شہزاد قریشی

    سیاست کی دنیا میں دھند بڑھتی ہی جا رہی،باران رحمت کاانتظار،قوم حیران،کسی کو پچیس کروڑ عوام کی فکر نہیں،پنجاب میں عوام کی اس دھند زدہ سیاست میں فکر نظر آرہی،پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوامی خدمت کے ایجنڈے پر نوجوانوں کے ذریعے حملہ کیا گیا،من گھڑت کہانی بنا کر ترقی کرتے پنجاب کو عالمی سطح پر بدنام کیا گیا،ایسے تماشوں کا وزیراعلیٰ پنجاب کو مزید انتظار کرنے اور ان تماشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ تماش بینوں کا کام صرف تماش بینی ہوتا ہے،اسلام آباد میں آئین کو لے کر سیاسی تماشے ہو رہے ہیں آئین کو ڈھال بنا کر سیاسی و مذہبی جماعتیں کون سا کھیل کھیلنے میں اور ایک دوسرے سے جیتنے میں مصروف ہیں جبکہ آئین تو دو اور دو کی طرح بالکل آسان ہے آئینی سوال کو مشکل ترین بنا دیا گیا،سب کو معلوم ہے آئین کیا ہے اکثریت کیا ہے معلوم نہیں ہمارے سیاستدانوں کا آئین کو لے کر حساب کتاب کیوں کمزور ہے؟ تاہم بات سمجھ سے بالاتر ہے کون کس کے ساتھ کیا گیم کھیل رہا ہے،امریکی سیاستدان الیکشن میں مصروف ہیں،دنیا کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہیں ڈونلڈ ٹرمپ یا کملا ہیرس ،وائٹ ہائوس کانیا مکین کون ہوگا امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی کامیابی یقینی ہو سکتی ہے امریکی عوام کی اکثریت کوئی معاوضہ لئے بغیر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلا رہی، اگر ٹرمپ کامیاب ہو گئے تو ان کی بھرپور توجہ معیشت پر ہوگی،امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے اپنی صدارت کا آخری دورہ یورپ کا کر لیا ہے، یورپی یونین کی چند ریاستیں ٹرمپ کی دوسری صدارت کا خیر مقدم کریں گی۔
    تجزیہ

  • مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس :بلاول کا راکین کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت

    مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس :بلاول کا راکین کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت

    اسلام آباد: چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے اراکین کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایات جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی : آئینی ترامیم سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے، جس میں بلاول بھٹو نے اپنے اراکین کو آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایات جاری کی ہیں، پیپلز پارٹی کے تمام ارکان سینیٹ و قومی اسمبلی کو اجلاس میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں چھبیسویں آئینی ترمیم پر ہونے والے رابطوں پر بریف بھی دی، بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو پر بھی ارکان کو بریف کیا۔

    26ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کا 11 اراکین سے رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ

    دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے آئینی ترامیم پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات کی جس میں ایم کیو ایم کی جانب سے آئینی ترامیم پر حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ایم کیو ایم کی جانب سے ربا سمیت چند شققوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    جبکہ آئینی ترامیم کے مسودے پر حتمی بات چیت کے لیے پی ٹی آئی کا وفد پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی زیر صدارت جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پہنچ چکا ہے۔

    آئینی ترامیم: ایم کیو ایم پاکستان کا حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ

  • کوشش ہے کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے،عطا تارڑ

    کوشش ہے کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے،عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے دیگر آپشنز موجود،لیکن ہماری پہلی کوشش ہے کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے-

    باغی ٹی وی : کابینہ اجلاس سے پہلے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آئینی ترامیم کیلئے تمام تیاریاں مکمل ہیں، لیکن رانا ثناءاللہ نے درست کہا کہ آج یہ معاملہ طے ہو جائے گا آئینی ترامیم کی منظوری کے لئے دیگر آپشنز موجود ہیں، تاہم ہماری پہلی کوشش ہے کہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے۔

    کابینہ کا اجلاس آج سہ پہر کو ہوگا جس میں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جائے گی، ذرائع کے مطابق آئینی یا قانونی بلز کی کابینہ سے منظوری قانونی ضرورت ہے جس کیلئے اجلاس بلایا گیا ہے۔

    26ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کا 11 اراکین سے رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 ارکان کا پارٹی سے رابطہ نہیں ہورہا ہے ذرائع پی ٹی آئی نے بتایا کہ اراکین میں 2 سینیٹرز اور9 ارکان قومی اسمبلی شامل ہیں اپوزیشن لیڈرعمرایوب کی بھی7 ارکان سے رابطہ نہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے زین قریشی، ظہور قریشی، اسلم گھمن، عثمان علی، ریاض فتیانہ، مقداد حسین اورچوہدری الیاس سے رابطہ نہیں ہورہا، اورنگزیب خان کھچی اور مبارک زیب خان سے بھی رابطہ قائم نہیں ہورہا 2 سینیٹرز سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے جن میں سینیٹر فیصل سلیم اور سینیٹر ڈاکٹر زرقا شامل ہیں-

    جیل میں کوکونٹ اور چقندر کا جوس پینے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہور قریشی پی ٹی آئی قیادت کو ٹال مٹول کرنے لگے، ظہور قریشی ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ملک سے باہر ہوں جبکہ وہ ملک میں ہی موجود ہیں،پی ٹی آئی کے آزاد اراکین کی جانب سے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کو متنازع اور غیر شفاف قرار دیتے ہوئے اس کا حصہ نہ بننے اور ووٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    آج ہم ترمیم کے بعد کیک اور باقی سب دھول کھائیں گے،فیصل واوڈا

  • آج ہم ترمیم کے بعد کیک اور باقی سب دھول کھائیں گے،فیصل واوڈا

    آج ہم ترمیم کے بعد کیک اور باقی سب دھول کھائیں گے،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے آج آئینی ترمیم کی منظوری کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو آتا ہے بسم اللہ ورنہ تعداد سے زیادہ نمبرز موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : سابق وفاقی وزیر اور موجودہ سینیٹر فیصل واوڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایکس پر لکھا کہ ان شاء اللہ آج ہم ترمیم کے بعد کیک اور باقی سب دھول کھائیں گے، جو آتا ہے بسم اللہ ورنہ تعداد سے زیادہ نمبرز موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں فیصل واوڈا نے کہا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم پاس ہوجائے گی،یہ ملک کے لیے بہتر ہوگا، عدالتی فیصلوں کا احترام کرناچاہیے، میں نے کہا تھا 21اکتوبرکو میری سالگرہ ہے سب کچھ اس سے پہلے ہوجائیگا، سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ کیوں پریشان ہیں؟ حالانکہ آئینی ترمیم کیلیے نمبرز پورے ہیں اور نمبری بھی۔

    26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے جارہی ہے،اگرآجائیں گے توعزت بچ جائے گی،فیصل واوڈا

    انہوں نے کہا تھا کہ کوئی اجلاس میں آئے یا نہ آئے 26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے جارہی ہے، اگرآجائیں گے توعزت بچ جائے گی، نہیں آئیں گے توبھی آئینی ترمیم کا بل پاس ہو جائے گا لیکن پھرعزت نہیں رہے گی، ’ہیرو سے زیرو ہونے میں دیر نہیں لگتی‘،رونے دھونے سے کچھ نہیں ہو گا، اب کوئی وضاحت پیش نہیں کی جائے گی، جو ابھی سے رونا دھونا کر رہے ہیں تو جاؤ کوئی وضاحت نہیں ہے، آپ لوگ پریشان نہ ہوں ترمیم ہو گی، کوئی الزام قبول نہیں کیا جائے گا-

    26ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کا 11 اراکین سے رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ

  • 26ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کا 11 اراکین سے رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ

    26ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کا 11 اراکین سے رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ

    اسلام آباد:آئینی ترمیم سے قبل پی ٹی آئی کے کیمپ میں ہلچل، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 ارکان کا پارٹی سے رابطہ نہیں ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع پی ٹی آئی نے بتایا کہ اراکین میں 2 سینیٹرز اور9 ارکان قومی اسمبلی شامل ہیں اپوزیشن لیڈرعمرایوب کی بھی7 ارکان سے رابطہ نہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے زین قریشی، ظہور قریشی، اسلم گھمن، عثمان علی، ریاض فتیانہ، مقداد حسین اورچوہدری الیاس سے رابطہ نہیں ہورہا، اورنگزیب خان کھچی اور مبارک زیب خان سے بھی رابطہ قائم نہیں ہورہا۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق 2 سینیٹرز سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے جن میں سینیٹر فیصل سلیم اور سینیٹر ڈاکٹر زرقا شامل ہیں-

    26 ویں آئینی ترمیم: قومی اسمبلی اجلاس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

    پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہور قریشی پی ٹی آئی قیادت کو ٹال مٹول کرنے لگے، ظہور قریشی ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ملک سے باہر ہوں جبکہ وہ ملک میں ہی موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کو متنازع اور غیر شفاف قرار دیتے ہوئے اس کا حصہ نہ بننے اور ووٹنگ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس:بانی پی ٹی آئی سمیت ملزمان پر مجموعی طور پر 27 …

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کی دوڑ سے باہر ہونا عمران خان کی ساکھ کے …