Baaghi TV

Tag: آئینی عدالت

  • باپ سے پہلے فوت ہونے والے بیٹے کے وراثتی حقوق بحال

    باپ سے پہلے فوت ہونے والے بیٹے کے وراثتی حقوق بحال

    وفاقی آئینی عدالت نے باپ سے پہلے وفات پانے والے بیٹے کے وراثتی حقوق بحال کر دیئے ،عدالت نے قرار دیا ہے کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی بھی وارث کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور ہدایت دی کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کریں، عدالت نے والد عبداللہ خان کی وراثت کو دوبارہ تقسیم کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ اس مقدمے میں حقائق کے مطابق متوفیہ سردار بیگم، جو عبداللہ خان اور فاطمہ بی بی کی بیٹی تھیں، کے وراثتی حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق سردار بیگم کا انتقال 1957 میں ہوا جبکہ ان کے والد عبداللہ خان کا انتقال 1968 میں ہوا۔ وراثت کی تقسیم کا عمل 1969 میں شروع ہوا اور 1989 میں مکمل کیا گیا، تاہم اس دوران سردار بیگم کے ورثاء کو تقسیم کے عمل میں شامل نہیں کیا گیا سردار بیگم کے بچوں کو مقدمے میں فریق بنانے کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور انہیں بھی وراثتی عمل میں شامل کیا جائے، وراثتی حقوق کسی بھی صورت صرف تکنیکی بنیادوں پر ختم نہیں کیے جا سکتے اور مکمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق دوبارہ تقسیم کی جائے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • آئینی عدالت میں  ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف

    آئینی عدالت میں ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف

    وفاقی آئینی عدالت میں سائلین اور وکلاء کے لیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف کروا دی گئی۔

    وفاقی آئینی عدالت نے شفافیت اور سہولت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کے اندراج اور سماعت کی تاریخ سے آگاہی اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگی، عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات اب بروقت موبائل پر دستیاب ہوں گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ایس ایم ایس سروس سے عدالتوں میں غیر ضروری غیر حاضری میں کمی متوقع ہے موجودہ اور نئے تمام مقدمات کے لیے ایس ایم ایس سہولت دستیاب ہوگی،فاقی آئینی عدالت میں ڈیجیٹل اصلاحات کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا جس کے تحت عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

    جلد پاکستان سے پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں،وزیراعظم

    اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، معلومات تک رسائی کو آسان بنانا اور معمولی نوعیت کی معلومات کے لیے عدالت کے غیر ضروری دوروں میں کمی لانا ہے’ایس ایم ایس نوٹیفیکیشن سروس عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر عدالتی انتظامی امور کو مزید مؤثر اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔‘

    ایلون مسک نے واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار

    اعلامیے کے مطابق اس سہولت کے ذریعے مقدمات کے انتظام اور متعلقہ فریقین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا، جبکہ عدالتی عمل کی شفافیت، بروقت اطلاع رسانی اور بہتر ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا،عدالت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنایا جائے گا، ساتھ ہی عدالتی عمل کی رازداری اور وقار کا مکمل تحفظ بھی یقینی رکھا جائے گا، یہ ایس ایم ایس سروس وفاقی آئینی عدالت میں درج پرانے اور نئے دونوں طرح کے مقدمات کے لیے دستیاب ہے، جبکہ آئندہ مرحلہ وار مزید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کا بھی منصوبہ ہے۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ

  • وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت میں منتقل کرنے کافیصلہ، نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت میں منتقل کرنے کافیصلہ، نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی سے متعلق فیصلے کی صدرمملکت آصف علی زرداری نے منظوری دے دی ہےنوٹفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو موجودہ وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں بنائی گئی تھی جہاں چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان اور دیگر ججوں نے مقدمات کی سماعت شروع کی تھی، 27 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے بجائے الگ سے وفاقی آئینی عدالت بنانے کی منظوری دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور دیگر ججوں کی تعیناتی کی گئی۔

    عادل راجا نے سابق فوجی افسر سے معافی مانگ لی

    سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ

    یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر جعلی ڈاکٹر کےآپریشن نے خاتون کی جان لے لی

  • آئینی عدالتوں کیخلاف سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی

    آئینی عدالتوں کیخلاف سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ نے آئینی عدالتوں کخلاف درخواست کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی ہے ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آئینی عدالتوں کخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار نے کہا کہ آئینی بینچز کا قیام ہوگیا ہے، درخواست غیر موثر ہوگئی ہے۔ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست میں وکیل بیرسٹر علی طاہر کہاں ہیں درخواستگزار نے کہا کہ وہ شہر سے باہر ہیں، پیش نہیں ہوسکتے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا وکالت نامہ درخواست میں ہی درخواستگزار نے کہا کہ میں پٹیشنر ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ درخواست میں ایک پٹیشنر ہیں۔ آپ سب کی طرف سے درخواست کیسے واپس لے سکتے ہیں۔ اس طرح درخواست واپس نہیں لی جاسکتی۔ بیرسٹر علی طاہر تمام درخواست گزاروں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی بیرسٹر علی طاہر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔

    70سالہ خاتون سے گینگ ریپ کرنےوالادرندہ صفت ملزم گرفتار

    فائیو جی ٹیکنالوجی جون سے پاکستان میں لانچ ہوگی

    کراچی: سندھ کابینہ کی 8 ہزار الیکٹرک بسوں کی منظوری

  • سول سوسائٹی کی آئینی عدالت بارے سفارشات،پی ٹی آئی سینیٹر نے تائید کی تھی،بلاول

    سول سوسائٹی کی آئینی عدالت بارے سفارشات،پی ٹی آئی سینیٹر نے تائید کی تھی،بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےوفاقی آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ اگست 2023 میں سول سوسائٹی نے میثاق جمہوریت 2.0 کا مطالبہ کیا،

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کے میثاق جمہوریت 2.0 کے مطالبے کا مقصد میثاق کے نامکمل ایجنڈے کو پورا کرنا تھا، سول سوسائٹی کے میثاق جمہوریت 2.0 کے مطالبے کا مقصد عمران خان، جنرل پاشا، جنرل فیض کے جمہوریت پر حملوں کے نتیجے میں کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنا تھا،سول سوسائٹی کی 2023 کی سفارشات میں ایک وفاقی آئینی عدالت کا قیام بھی شامل تھا، جس کی تائید ایک پی ٹی آئی سینیٹر نے بھی کی تھی، عدالتی اصلاحات کے لئے سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی میں بھی اتفاق رائے پایا جاتا ہے،موجودہ سیاست یا کسی فرد سے متعلق اپنی ذاتی رائے کو آئینی عدالت کی جائز ضرورت پر حاوی نہ ہونے دیں،

    بلاول بھٹو کا آئینی عدالت کے قیام اور آئینی اصلاحات کی ضرورت پر زور

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    آئینی ترامیم، اپوزیشن بھی تجویز دے،اللہ بہتر کرے گا،وفاقی وزیر قانون

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

  • وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا، بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام قائداعظم کا خواب تھا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے سب سے پہلے وفاقی آئینی عدالت کی تجویز پیش کی، قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلی مرتبہ وفاقی آئینی عدالت کی تفصیل 27 اکتوبر 1931 کو لندن میں منعقدہ گول میز کانفرنس میں پیش کی، قائداعظم محمد علی جناح کی یہ تجویز تقریباً پی پی پی کی پیش کردہ تجویز سے مماثلت رکھتی ہے، قائداعظم نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے نفاذ کے لئے وفاقی آئینی عدالت، ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیل کیلئے سپریم کورٹ اور ایک فوجداری اپیل کی عدالت کی تجاویز دیں،قائداعظم نے کہا کہ کوئی بھی سوال جو وفاقی آئین سے متعلق ہو یا آئین سے پیدا ہو، اسے وفاقی عدالت میں جانا چاہئے، قائداعظم نے ایک ہی عدالت کو “وفاقی قوانین” پر وسیع دائرہ اختیار دینے کی بھی مخالفت کی،قائداعظم نے کہا کہ “میں یہ مؤقف رکھتا ہوں کہ کسی بھی شہری کو، اگر اس کے حق پر حملہ کیا جائے یا اسے چیلنج کیا جائے، ظاہر ہے کہ یہ آئین سے متعلق ہونا چاہئے، قائداعظم نے کہا کہ شہری کے حقوق پر حملے کا معاملہ براہ راست وفاقی عدالت میں جانے کا حق حاصل ہونا چاہئے، قائداعظم نے کہا کہ اس طرح کی حد بندی کے ساتھ، وفاقی عدالت اتنی زیادہ مصروف نہیں ہوگی، اور اس لئے مقدمات کو جلد نمٹایا جا سکے گا، قائداعظم کے مطابق اس عدالتی نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ الگ وفاقی عدالت کی تقرری کے دوران ایسے افراد کا انتخاب کریں جو آئینی معاملات میں خاص مہارت رکھتے ہوں، تو آپ ایسا نظام قائم کریں گے جو سب سے زیادہ قابل ترجیح ہو گی، قائد اعظم نے گول میز کانفرنس میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ماہرین کا دور ہے اور ہندوستان میں ہم ابھی اس سطح پر نہیں پہنچے ہیں، صبح کے وقت آپ ہندو قانون کے ایک پیچیدہ سوال پر دلائل دے رہے ہوتے ہیں، اور دوپہر میں آپ روشنی اور ہوا اور آسانی کے معاملات پر بحث کر رہے ہوتے ہیں،اگلے دن آپ ایک تجارتی مقدمے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور تیسرے دن آپ شاید ایک طلاق کے مقدمے سے نمٹ رہے ہوتے ہیں، اور چوتھے دن آپ ایک ایڈمرلٹی مقدمے کی سماعت کر رہے ہوتے ہیں، بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ یہ قائداعظم کی جانب سے عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ کو کم کرنے کا حل تھا جو ان کو دیے گئے وسیع دائرہ اختیار کی وجہ سے تھا، قائداعظم کی تجاویز بعد میں جرمنی کے 1949 کے بنیادی قانون سے بھی مماثلت رکھتی تھیں جس نے وفاقی آئینی عدالت قائم کی.

    آئینی ترامیم، اپوزیشن بھی تجویز دے،اللہ بہتر کرے گا،وفاقی وزیر قانون

    آئینی ترامیم، حکومتی مسودہ سامنے آ گیا، خصوصی کمیٹی کا اجلاس آج پھر

    وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں،بلاول

    آئینی ترامیم، آج حکومتی ڈرافٹ ملا،دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی،مولانا فضل الرحمان

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو،بلاول بھٹو

    چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو،بلاول بھٹو

    کوئٹہ:چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئینی ترمیم سے متعلق میں موجودہ چیف جسٹس کے لیے جدوجہد نہیں کررہا،

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں بلوچستان ہائیکورٹ بارسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ 1973کے آئین کو مثیاق جمہوریت کے ذریعے بحال کیا، آمر کےکالے قانون کو کسی جج میں ہمت نہیں تھی کہ وہ غیرآئینی کہے مگر سیاسی لوگ اس وقت ظلم بھگت رہے تھے، میرے والد نےکسی سزا کے بغیر قید بھگتی، اس وقت بھی یہی عدالت کا نظام تھا،کہاں مکمل انصاف تھا۔

    انہوں نے کہا کہ وکلا سےایسا لگاؤ ہے جو کوئی سیاستدان یا ادارہ کلیم نہیں کرسکتا، دہشت گردی واقعے کےبعد بلوچستان آیا بڑےوکلا سےملاقات ہوئی، جو آج کل وکلا کےچیمپئن بنے ہوئے ہیں اسوقت مذاق اڑیا تھا، میں آپ میں سے ہوں لاہور یا اسلام آباد سے نہیں آیاسابق چیف جسٹس افتخار چوہدری، اُس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل کیانی، اُس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل پاشا کے درمیان مک مکا ہوا کہ اگر چارٹر آف ڈیموکریسی لاگو ہو گا، اگر ہم 1973 کے آئین کو اصل صورت میں بحال کریں گے تو اسٹیٹس کو کا کیا ہوگا، ہمارا ڈیموکریسی کا کنٹرول کیا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ آپ کسی وزیراعظم کو نکالیں اور ہم چوں تک نہ کرسکیں، کہا گیا ریاست ہوگی ماں کی جیسی مگر پھر ریاست باپ کی طرح ہوگئی اور اس میں زیادہ ہاتھ افتخار چوہدری کا تھا جن کے وقت میں فل بینچ رات 12 بجے بیٹھ جاتا تھا۔آئینی ترمیم سے متعلق میں موجودہ چیف جسٹس کے لیے جدوجہد نہیں کررہا، میرا نہیں آپ کا ایجنڈا کسی خاص شخصیت کے لیے ہوسکتا ہے، ملک سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس منصور علی شاہ میرے لیے سب سے محترم ہیں، پہلی بار جسٹس فائزعیسیٰ اور جسٹس منصور کے زمانے میں امید نظر آرہی ہے، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ان دو ججوں میں کوئی بھی آکر آئینی عدالت میں بیٹھے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر آئین کہے کہ آئینی عدالت ہوگی تو آپ مانیں گے، عدالت کا کام آئین اور قانون پر عملدرآمد کرانا ہے ، ہم نے 30 سال کی جدوجہد کےبعد یہ فیصلہ لیا کہ آئینی عدالت بنے، ملک میں کسی کو مقدس گائے نہیں بننا چاہیے نئے میثاق جمہوریت میں پہلا مطالبہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت بننا چاہیے، کیا آپ یقین دلائیں گے کہ پوری 18 ویں ترمیم اڑانے کی دھمکی نہیں دی جائے گی، اتنے سارے کیسز ہیں جو سنے نہیں جاتے ہر چند ماہ بعد ایک سیاسی کیس اٹھ جاتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ چاہتا ہوں صوبائی سطح پر بھی آئینی عدالت ہو، ہم اب تک جو حکومت سے طےکرچکے ہیں وہ وفاقی آئینی عدالت ہے، ہم کہہ رہے ہیں کہ کمیٹی اتفاق رائے سے جج کا فیصلہ کرے، کمیٹی جس کو اتفاق رائے سے جج بنائے اسی کو جج بننا چاہیے، ہم ایسا نظام بنائیں جو آگے جاکر ہمیں تحفظ دلاسکے۔

    وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور صدر ہائی کورٹ بار افضل حریفال نے بھی تقریب میں شرکت کی اور بار کے صدر نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور آئینی ترامیم کے معاملے پر وکلا کے تحفظات کا اظہار کیا اور پیپلز پارٹی کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    صدر ہائی کورٹ بار افضل حریفال نے اپنی تقریر میں کہا کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے وکلا کے تحفظات ہیں، اگرعدالتی نظام انصاف نہیں دے رہا، وکلا عدالت پر عدالت کا قیام نہیں چاہتے۔ پیپلز پارٹی سے توقع رکھتے ہیں کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہ کریں، عدالتوں میں مقدمات تاخیر کا شکار ہیں تو ججوں کی تعداد بڑھا دیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے زمین بوس ہورہے عدالتی نظام کو ختم نہیں ہونے دینگے، آئین کی شق 199 میں ترمیم کرنے سے تو بہتر ہے حکومت مارشل لا لگا دیں ہائی کورٹ آئین میں موجود بنیادی انسانی حقوق کی شقیں ختم کرنے سے جنگل کا قانون بنے گامیثاق جموریت کے بعد آئینی ترامیم کیوں نہیں لائیں گئی، میثاق جموریت میں سلامتی کونسل ختم کرنے اور میڈیا کی ازادی کی بات کی گئی لیکن ایسا نہ ہوا، الیکشن کمیشن خور مختار آج تک نہیں ہوسکا، کوئٹہ 25 اکتوبر کے بعد نادیدہ چیف جسٹس کو قبول نہیں کریں گے۔

  • آئینی عدالت پر تحریک انصاف کے پاس کوئی تجویز ہے تودے،شازیہ مری

    آئینی عدالت پر تحریک انصاف کے پاس کوئی تجویز ہے تودے،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ ملک میں فیملی کورٹس کی بھی ضرورت ہے۔ عدالتوں میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس میں انصاف لینے کےلیے 45 سال لگ گئے،آٸینی وفاقی عدالت کا قیام ضروری ہے۔ میثاق جمہوریت د وبڑی سیاسی جماعتوں میں طے ہوا تھا اس میں بھی آئینی عدالتوں کے قیام کا ذکر ہے، پپلز پارٹی کے منشور میں بھی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا ذکر ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ شہریوں کو جلد انصاف ملے تو آئینی عدالت ضروری ہے، اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس ملک کا نظام ٹوٹ چکا ہے، نہ حکومت کی جانب سے ریلیف مل رہی نہ عدالت کی جانب سے، لاکھوں کیسز زیر التوا ہیں، انصاف نہیں مل رہا، ہمارے ذاتی تجربے کو دیکھیں 45 برس پیپلز پارٹی کے کارکنان کو لگ گئے بھٹو کو انصاف دلوانے کے حوالے سے، 45 برسوں بعد جو فیصلہ آیا اس میں بھی مکمل انصاف نہیں لیکن اتنا انصاف تو ملا کہ اس ٹرائل کو غلط قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں موت کی سزا پاکستان کے ایک مقبول لیڈر کو سنائی گئی تھی،سندھ ہائیکورٹ بار کے ممبران کے ساتھ خطاب میں بلاول نے کہا کہ عدالت نے شہید عوام کو قتل کیا، جب یہ کہتے ہیں اسکے پیچھے بیک گراؤنڈ ہے، کالے فیصلے کے نتیجے میں بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی،آج بھی عدالت اسکی ذمہ دار ہے، اسی لئے ہم نہیں چاہتے کہ عوام جو جائز کیسز کے فیصلوں کے منتظر ہیں انہیں بھی سالہا سال انتظار کرنا پڑے.

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں تمام جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں، بلاول نے کہا کہ آئینی عدالت صوبوں میں بھی بنائی جا سکتی ہے تا کہ عوام کو ریلیف ملے ، اس میں کوئی بھی قدغن نہیں ہے، ایسا ہو سکتا ہے، آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہو گی،اس عدالت میں ہر صوبے کو سربراہی کا موقع ملے گا، کسی بھی شخص سے منسوب ہماری کوئی سوچ نہیں، پیپلز پارٹی تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے، پروپیگنڈا کر کے یہ تاثر دیا جا رہا شاید کسی شخصیات کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے، آئینی عدالت بنانے کی بہت ضرورت ہے، ایک سیاسی جماعت جج صاحب کو متنازع بنا رہی ہے، آئینی عدالت پر تحریک انصاف کے پاس کوئی تجویز ہے تو دیں،آئینی عدالت پاکستان کی ضرورت ہے، وقت کی ضرور ت ہے،

    ایف اے کی جعلی ڈگری، جنرل( ر )باجوہ کے بھائی کی پی آئی اے ملازمت ختم

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

  • صوبوں میں مشورہ کرکے الگ عدالت کیوں نہیں بنا سکتے؟ بلاول

    صوبوں میں مشورہ کرکے الگ عدالت کیوں نہیں بنا سکتے؟ بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ عدالت سے سیاست کی امید رکھیں گے تو جمہوریت اور عوام کا نقصان ہوگا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ جب سی او ڈی پر دستحط ہوئے تو افتخار چوہدری مشرف کا چیف جسٹس تھا ،بے نظیر بھٹو نے اس وقت کہا تھا کہ ملک میں آئینی عدالتیں ہونی چاہئیں ،پی پی وکلا نے ہر آمریت کے دور میں صف اول کا کردار ادا کیا ،پیپلزلائز فورم کی وجہ سے ضیا کی آمریت کے بعد جمہوریت بحال کی ،وکلا کی محنت سے ہی ہم آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ، ہم آمریت کو ختم کرکے جمہوریت واپس لائے ،ججز کی تقرری کے عمل میں شفافیت بینظیر بھٹو کا مطالبہ تھا ،وکلا نے ہمیشہ آمروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، عدالتی نظام درست کرنے کیلئے آئینی عدالت ضروری ہے،پاکستان میں روایت چلی آرہی ہے کہ آپکی رشتہ داری ہے تو آپ جج بنیں گے ،نواز شریف کوسمجھایا تھا کہ 58 ٹو بی کا غلط استعمال ہوگا اور پھر وہ خود اس کا شکار ہو ئے ،کیا یہ مناسب نہیں کہ جو 50 فیصد کیس 90 فیصد وقت لیتے ہیں ان کیلئے الگ بینچ یا عدالت ہو،چوری اورقتل کے مقدمے میں کیا لوگوں کو 50،50 سال انتظار کرنا پڑیگا، کیا ہم ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں گے ؟ یس مائی لارڈ، وفاق میں آئینی عدالت بنا سکتے ہیں تو صوبوں میں مشورہ کرکے الگ عدالت کیوں نہیں بناسکتے،شکر ہے کہ 50 سال بعد فیصلہ دیا گیا کہ بھٹو کیخلاف عدالتی کارروائی یکطرفہ تھی،مجھے اتنا انتظار کرنا پڑا تو سوچیں عام آدمی کو کتنا انتظار کرنا پڑتا ہے ،

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • آئینی ترامیم  میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی و سینیٹ میں پیش کرنے کے لئے تیار کی گئی مجوزہ آئینی ترامیم کا مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا،

    آئینی ترمیمی بل میں مجموعی طور پر 54 تجاویز شامل ہیں،عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم سے متعلق بل حکمران اتحاد کی بھرپور کوششوں کے باوجود اتوار کو بھی پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکا تھا، اس ضمن میں حکومت بل پاس کروانے کے لئے اپنے نمبر پورے کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے

    مجوزہ آئینی ترامیم میں 54 تجاویز شامل ہیں، آئین کی63،51،175،187، اور دیگر میں ترامیم کی جائیں گی، آئین کے آرٹیکل63 میں ترمیم کی جائیں گی، منحرف اراکین کے ووٹ سے متعلق آرٹیکل 63 میں ترمیم بھی شامل ہے، آئینی عدالت کے فیصلے پر اپیل آئینی عدالت میں سنی جائےگی،آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے، چیف جسٹس کی مدت ملازمت نہیں بڑھائی جائےگی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دوسرے صوبوں کی ہائیکورٹس میں بھیجا جاسکےگا، چیف جسٹس پاکستان کا تقرر سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز کے پینل سے ہوگا، حکومت سپریم کورٹ کے 5 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس لگائےگی، آئینی عدالت کے باقی 4 ججز بھی حکومت تعینات کرےگی،آئینی عدالت کے فیصلے پراپیل آئینی عدالت میں سنی جائے گی، آئین کے آرٹیکل 181 میں بھی ترمیم کیے جانےکا امکان ہے،آئینی عدالت میں آرٹیکل 184،185،186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوگی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کو اکٹھا کیا جائےگا۔

    آئین کا آرٹیکل 181 ججزکی عارضی تقرری سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 184 از خود نوٹس اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 185 فیصلوں پر اپیل سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 186 صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے مشاورتی اختیار سماعت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 رکن پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 63 اے ڈی فیکشن کلاز ہے اورپارٹی سربراہ کے اختیار سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 51 مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی تشکیل اور ججز تقرریوں سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل 175 اے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کی تعیناتی سے متعلق ہے۔آئین کا آرٹیکل187 مکمل انصاف سے متعلق ہے۔

    آئینی ترمیمی بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جا رہی ہے،چونکہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طریقے سے اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے مقاصد کے لیے مزید ترمیم کرنا مناسب ہے۔ یہ ایکٹ آئین (چھبیسویں ترمیم) ایکٹ، 2024 کہلائے گا۔یہ ایکٹ فوراً نافذ ہو جائے گا۔آئین کے نئے آرٹیکل 9A کا اندراج۔- آئین میں، آرٹیکل 9 کے بعد، مندرجہ ذیل نئی دفعہ 9A کو داخل کیا جائے گا، یعنی:-"9A. صاف ستھرا اور صحت مند ماحول، ہر شخص کو صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کا حق حاصل ہوگا۔آرٹیکل 17 میں ترمیم، لفظ سپریم کورٹ کو وفاقی آئینی عدالت سے تبدیل کردیا جائے۔حکومت پاکستان کے خلاف کام کرنے والی جماعت کا معاملہ سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے گی۔تیسری ترمیم آرٹیکل 48: وزیراعظم، کابینہ کی صدر کو ایڈوئز کسی عدالت اور ٹربیونل میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔وضاحت: آرٹیکل 48 میں سے ایڈوائز میں سے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کو نکال دیا گیا ہے۔
    آرٹیکل 63 اے میں تین ترامیم تجویز، ووٹ شمار ہوگا، ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت میں جائے گا،آرٹیکل 68: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے خلاف پارلیمان میں بات نہیں ہو سکتی۔ آرٹیکل 78: آئینی عدالت میں جمع ہونے والی رقم وفاقی حکومت کو جائے گی۔ آرٹیکل 81: تین ترامیم شامل، لفظ وفاقی آئینی عدالت شامل کیا جائے۔ آرٹیکل 100: اٹارنی جنرل پاکستان وہ شخص تعینات ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو۔آرٹیکل 111: ایڈوائزرز صوبائی اسمبلیوں اور کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔ آرٹیکل 114: صوبائی اسمبلی میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بات نہیں ہو سکے گی۔ آرٹیکل 165اے: انکم ٹیکس شق میں وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ ہوگا۔ آرٹیکل 175 اے: آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی اور ہائی کورٹ کے ججز کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے، جوڈیشل کمیشن میں تبدیلی، وفاقی آئینی عدالت کا سربراہ چیئرپرسن ہو گا۔جوڈیشل کمیشن میں چیئرمین کے علاوہ 12 ارکان ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن میں وفاقی آئینی عدالت کے دو ججز، چیف جسٹس سپریم کورٹ، سپریم کورٹ کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ وزیر قانون، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کا نمائندہ جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہو گا۔ قومی اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن کے دو، سینیٹ سے حکومت اور اپوزیشن کے دو نمائندے شامل ہوں گے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے۔ آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی کی سفارش اسپیکر کی نامزد کردہ 8 رکنی قومی اسمبلی کی کمیٹی کرے گی۔پہلی بار آئینی عدالت کے ججز کی تعیناتی صدر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی مشاورت سے کریں گے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی،چیف جسٹس سپریم کورٹ کا نام کمیٹی تین سینئر ترین ججز میں سے کرے گی۔ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی کا کمیشن سالانہ جائزہ لے گا۔ اگر کسی جج کر کارکردگی تسلی بخش نہیں تو وقت دیا جائے گا ورنہ کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل کو رپورٹ بھیجے گی۔آرٹیکل 175 بی میں ترمیم: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کی تعیناتی اور دائرہ کار،آرٹیکل 176 میں ترمیم: چیف جسٹس پاکستان کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کہا جائے گا۔ آرٹیکل 176اے کی شمولیت: دوہری شہریت کا مالک وفاقی آئینی عدالت کا جج نہیں ہو سکتا۔ آرٹیکل 177: سپریم کورٹ ججز کی اہلیت سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 177 اے: چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کے حلف سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 178اے: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال ہو گی۔آرٹیکل 179: چیف جسٹس سپریم کورٹ کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہو گی۔ 179 اے، 179 بی: وفاقی آئینی عدالت کے جج کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ کا جج صدر مملکت عارضی طور پر تعینات کریں گے۔آرٹیکل 182اے کی شمولیت: وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد میں ہو گی۔ آرٹیکل 184: دو یا اس سے زیادہ حکومتوں کے درمیان تنازعہ وفاقی آئینی عدالت دیکھے گی۔

    مفاد عامہ کے معاملات پر تمام مقدمات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ مفاد عامہ کے تمام مقدمات سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت منتقل ہو جائیں گے۔ 184 اے کی شمولیت: ہائی کورٹس کے آئینی معاملات پر فیصلے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج ہو سکیں گے۔آرٹیکل 185: ہائیکورٹس کی اپیلیں سپریم کورٹ سنے گی، آئینی سوالات وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ آرٹیکل 186: صدرارتی ریفرنس پر سماعت آئینی عدالت کرے گی۔ آرٹیکل 186 اے: سپریم کورٹ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی مقدمہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائیکورٹ کو بھجوا سکے گی۔ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی ہائی کورٹ کے سامنے معاملے کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا خود کو منتقل کر سکتی ہے۔رٹیکل 187 میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کسی بھی متعلقہ شخص کو طلب کر سکتی ہے۔آرٹیکل 188: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار رکھیں گی۔آرٹیکل 189: وفاقی آئینی عدالت کا کسی بھی قانونی اصول حکم نامہ سپریم کورٹ سمیت ساری عدالتوں پر بائنڈنگ ہو گا۔سپریم کورٹ کا قانونی اصول پر کوئی بھِی فیصلہ وفاقی آئینی عدالت پر بائنڈنگ نہیں ہو گا۔ آرٹیکل 190: تمام جوڈیشل اتھارٹیز وفاقی آئینی عدالت کی مدد کی پابند ہوں گی۔ آرِٹیکل 191: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت اپنے قواعد و ضوابط بنائیں گے۔ آرٹیکل 192: ہائی کورٹس کے ججز کی تعداد کا تعین ایکٹ آف پارلیمنٹ سے ہو گا۔ آرٹیکل 193: ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، دوہری شہریت رکھنے والا ہائی کورٹ کا جج نہیں ہو سکتا۔ ہائیکورٹ جج کے لیے ہائیکورٹ وکالت کا کم از کم 15 سال کا تجربہ، 15 سال جوڈیشل آفس کا تجربہ ضروری قرار دیا گیا،آرٹیکل 199: ہائی کورٹ از خود آرڈر جاری نہیں کر سکے گی۔قومی سلامتی سے متعلقہ کسی شخص پر ہائی کورٹ حکم جاری نہیں کر سکے گی۔آرٹیکل 200: صدر مملکت جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر کسی جج کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر کر سکیں گے۔ آرٹیکل 202: ہائیکورٹ قواعد و ضوابط ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت بنائے جا سکیں گے۔ آرٹیکل 204: توہین عدالت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی، آرٹیکل 205: وفاقی آئینی عدالت کی تنخواہیں مقرر کرنے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 206: وفاقی آئینی عدالت کے جج کے استعفے کو شامل کیا گیا ہے۔آرٹیکل 207: جج آفس آف پرافٹ نہیں لے سکتا، وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 208: وفاقی آئینی عدالت کے افسران کی تعیناتیوں سے متعلق الفاظ کی شمولیت ہے،آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں تبدیلیاں، سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت، چیف جسٹس سپریم کورٹ، آئینی عدالت کا سینئر ترین جج، ہائی کورٹس کے دو سینئر ترین ججز شامل ہوں گے۔ آرٹیکل 210: کسی شخص کو طلب کرنے کا کونسل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کا اختیار ہو گا۔ آرٹیکل 215: چیف الیکشن کمشنریا الیکشن کمیشن کا کوئی ممبر نئی تعیناتیوں تک عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ آرٹیکل 215 میں ون اے کا اضافہ: چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کا کوئی بھی رکن قومی اسمبلی اور سینیٹ کی اکثریتی قرار داد سے دوبارہ نئی ٹرم کے لیے تعینات ہو جائیں گے۔ آرٹیکل 239: آئینی ترمیم کے خلاف کسی عدالت کا کوئی حکم نامہ موثر نہیں ہو گا۔

    آرٹیکل 243: مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتیوں، دوبارہ تعیناتیوں، ایکسٹیشن، مدت ملازمت پاک فوج کے قوانین کے مطابق ہوں گے اور انہیں دو تہائی اکثریت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 248: صدر، گورنرز کو آئین و قانون کے تحت قائم عدالتوں سے آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔رٹیکل 255: حلف سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کے ججز کو شامل کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 259: صدارتی ایوارڈز میں سائنس و ٹیکنالوجی، ادویات، آرٹس اور پبلک سروس کا اضافہ، آرٹیکل 260: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ،: شیڈول تین میں اضافہ: حلف نامے میں وفاقی آئینی عدالت کا حلف شامل ہے،شیڈول چار میں تبدیلی: کنٹونمنٹ ایریاز میں الفاظ لوکل ٹیکس، سیس، فیس، ٹول اور دیگر چارجز کو شامل کیا گیا ہے۔شیڈول پانچ میں ترمیم: وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ کا اضافہ شامل ہے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/further-to-amend-the-Constitution-of-the-Islamic-Republic-of-Pakistan.pdf” title=”further to amend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan”]

    ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لئے کمیشن ہو گا جس کے چیئرپرسن وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس ہوں گے،دو سینئر جج وفاقی آئینی عدالت کے کمیشن کے رکن ہوں گے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینئر جج، وفاقی وزیر قانون،اٹارنی جنرل بھی رکن ہوں گے،ایک سینئر ایڈووکیٹ یا ایک وکیل جس کی سپریم کورٹ میں کم از کم بیس سال کی پریکٹس ہووہ بھی رکن ہو گا ،سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دودو اراکین بھی کمیشن کے رکن ہوں گے. ایک رکن حکومت اور ایک اپوززیشن کی طرف سے ہو گا، نامزدگی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کریں گے،

    "(2B) سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شق (2) میں کمیشن کے چیئرپرسن ہوں گے اور اس عدالت کے پانچ اگلے سینئر ترین جج اس کے ممبر ہوں گے۔ شق (2) کے پیراگراف (iv)، (v) (vi) اور (vii) میں کمیشن کے دیگر ارکان ہوں گے۔(xiii) شق (2B) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا داخل کیا گیا، درج ذیل نئی شق (2C)،داخل کیا جائے گا:”(2C) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر، قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارش پر، وفاقی آئینی عدالت کے تین سینئر ترین ججوں میں سے کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔جس کا مقصد، نامزد شخص کا نام وزیراعظم کو بھیجا جائے گا، وزیراعظم تقرری کے لیے اسے صدر کے پاس بھیجیں گے،بشرطیکہ وفاق کے پہلے چیف جسٹس آئینی عدالت کا تقرر صدر اعظم کے مشورے پر کرے گا۔

    "(2D) قومی اسمبلی کی کمیٹی، اس کے بعد اس آرٹیکل میں کمیٹی کہلائے گی، قومی اسمبلی کے سپیکر کے نامزد کردہ آٹھ اراکین پر مشتمل ہوگی۔(2E) ہر پارلیمانی پارٹی کو، جہاں تک ممکن ہو، کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہوگی۔(2F) کمیٹی، اپنی کل رکنیت کی اکثریت سے، متعلقہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سات دنوں کے اندر نامزدگی بھیجے گی جیسا کہ اس آرٹیکل کی شق (2C) اور (3) میں فراہم کیا گیا ہے۔(2G) کمیشن یا کمیٹی کی طرف سے لیا گیا کوئی بھی اقدام یا فیصلہ صرف اس میں خالی جگہ ہونے یا اس کے کسی اجلاس سے کسی رکن کی غیر موجودگی کی بنیاد پر غلط یا سوالیہ نشان نہیں ہوگا۔(2H) کمیٹی کے اجلاس ان کیمرہ منعقد کیے جائیں گے اور اس کی کارروائی کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔(21) آرٹیکل 68 کی دفعات کارروائی پر لاگو نہیں ہوں گی۔(2J) کمیٹی اپنے طریقہ کار کو منظم کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔ "(3) شق (1) یا شق (2) میں موجود کسی بھی چیز کے باوجود، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر، کمیٹی کی سفارش پر، تین سینئر ترین افراد میں سے کیا جائے گا۔

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    صدر مملکت کسی بھی جج کو عہدے سے ہٹا سکتا ہے:
    (7) وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کو عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا سوائے اس آرٹیکل کے فراہم کردہ۔(8) کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جس کا مشاہدہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کریں گے۔کونسل کی طرف سے بنائے گئے قواعد کے تابع، کونسل کا ایک سیکرٹریٹ ہوگا جس کی سربراہی ایک سیکرٹری کرے گا اور اس میں ایسے دیگر افسران اور عملہ شامل ہوگا، جیسا کہ ضروری ہو۔”

    آئین کے آرٹیکل 210 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے جہاں کہیں بھی واقع ہو، الفاظ "وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ” کے متبادل ہوں گے۔ اور(ii)شق (2) میں، الفاظ "سپریم کورٹ” کے لیے "وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ” کی جگہ دی جائے گی۔آئین کے آرٹیکل 215 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں(i)شق (1) میں(ا)موجودہ پہلی شرط کے بعد، مندرجہ ذیل نئی شرط ڈالی جائے گی:”مزید یہ کہ کمشنر اور ایک رکن اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود، جب تک اس کا جانشین دفتر میں داخل نہیں ہوتا اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا:”؛ اورموجودہ دوسری شرط میں، لفظ "مزید” کے لیے لفظ "بھی” بدل دیا جائے گا۔شق (1) کے بعد، جیسا کہ مذکورہ بالا ترمیم کی گئی، درج ذیل نئی شق (1A) داخل کی جائے گی:”(1A) وہ شخص جو کمشنر کے عہدے پر فائز ہو یا،ایک رکن، ہر ایوان میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی اکثریت کے ووٹوں سے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے،ایک اور مدت کے لیے اسی دفتر میں دوبارہ تعینات کیا گیا۔”آئین کے آرٹیکل 239 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 239، شق (5) کے لیے، درج ذیل کو تبدیل کیا جائے گا،

    سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے باوجود،یا ہائی کورٹ، آئین کی کوئی شق یا اس میں کوئی ترمیم کسی بھی عدالت بشمول وفاقی آئینی عدالت یا ہائی کورٹ میں کسی بھی بنیاد پر سوال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس کوئی بھی فیصلہ، حکم یا اعلان کوئی قانونی اثر اور باطل نہیں ہوگا۔”

    آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل 243 میں، شق (4) کے بعد، درج ذیل نئی شق (5) ڈالی جائے گی، شق (4) میں مذکور سروسز چیفس کی تقرری، دوبارہ تقرری، توسیع، سروس کی حدود، ریٹائرمنٹ یا برطرفی مسلح افواج سے متعلق قوانین کی دفعات کے مطابق ہوگی،آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ دینے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ مجوزہ بل کے تحت سروسز چیف کی تقرری اور ایکسٹینشن کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا، اور ان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہو گی۔ اس سے آرمی ایکٹ کو مزید مستحکم اور محفوظ بنایا جائے گا۔

    آئین کے آرٹیکل 255 میں ترمیم۔ آئین میں، آرٹیکل میں 255، شق (2) میں، الفاظ "وہ شخص” کے لیے، دوسری بار آنے والے الفاظ”ایک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، صوبے کے معاملے میں اور چیف جسٹس کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت، دیگر تمام معاملات میں” کو تبدیل کیا جائے گا۔ہائی کورٹس کے سوموٹو اختیار کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے ہائی کورٹس کے اختیارات میں کمی آئے گی۔ ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے نظام کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے تاکہ عدالتی نظام میں مزید نظم و ضبط اور شفافیت لائی جا سکے

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/09/the-President-may-remove-the-Judge-from-office.pdf” title=”the President may remove the Judge from office”]