Baaghi TV

Tag: آئین

  • آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی تقریب، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو سیاسی باتیں کی گئیں ان سے اتفاق نہیں کرتا ،قانون میرا میدان ہے، ہم نے تنقید بھی سنی ہے، ہم بھی آئین کے محافظ ہیں، ہم سب نے آئیں کے تحفظ کا حلف لیا ہوا ہے،یہ آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے،اپنی اور سپریم کورٹ کے طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، آئین آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے،پارلیمان اور عدلیہ کا کام لوگوں کی خدمت ہے،جب لوگ یہ بات سمجھ جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہمارا آج محفوظ ہے، لوگ اپنی اچھائی سوچتے ہیں برائی اپنی نہیں سوچتے،ہم اپنی غلطیوں، ناکامیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں،آئین میں سے سب سے اہم بات لوگوں کے حقوق کی ہے،پارلیمان ، بیوروکریسی سب کے وجود کا مقصد ایک ہونا چاہیئے، عوام کی خدمت، ہمارا کام ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد ازجلد فیصلے کریں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 2014 سے آپ کاہمسایہ ہوں، پارلیمان اور عدلیہ کا بنیادی کام لوگوں کی خدمت ہے، ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت پہچان کر اس پرعمل کرناچاہیے آئین کی گولڈن جوبلی کاجشن منانے آیا ہوں،ہم دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی ایک دوسرے سے کرتے ہیں،تقسیم ہند نہ ہوتی تومسلمان بطور اقلیت ہندوستان میں رہتے،کل آپ کہیں کہ آپ کوبلایا بھی اورپھر بھی آپ نے ہمارے خلاف فیصلہ کیا،

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    قومی آئینی کنونشن میں وزیراعظم کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

  • کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    آئین پاکستان کے پچاس سال مکمل، قومی اسمبلی میں آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریب ہوئی

    وزیراعظم شہبازشریف ، سابق صدر آصف علی زرداری، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، جسٹس قاضی فائز عیسی، شاہ اویس نورانی سمیت دیگر وفاقی وزراء شریک تھے

    سابق صدر آصف علی زرداری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جمہوریت بحال کی تھی، ہم نے مذہب کو کبھی سیاست میں استعمال نہیں کیا،بھٹو صاحب کو ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا، میرے رب نے چاہا تو آئین کو کچھ نہیں ہوگا اور نہ اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے دیں گے، میں نے بڑے اونچ نیچ کے مقام دیکھے ہیں، بی بی صاحبہ کی شہادت پر ہم نے پاکستان کا نعرہ لگایا ،میں اپنی نسل کیلئے ٹوٹا پاکستان چھوڑ کر نہیں جاؤں گا،پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ کورٹ نے نوٹس دیا،ہم نے جمہوریت کو بحال کیا،بی بی کو رات کے بارہ بجے اٹھا کر جیل میں ڈالا گیا،

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں، شہباز شریف کے پاس آئیں وہ وزیراعظم ہیں ، جس جس نے ڈائیلاگ کرنا ہے ان کو وزیر اعظم کے پاس آنا پڑے گا۔وزیر اعظم کسی کے پاس نہیں جائیں گے۔میرے پاس وزیر اعظم نہیں آئے کیونکہ میں کچھ نہیں ہوں۔سب کو بات چیت کیلئے وزیراعظم کے پاس آنا پڑے گا۔ہم ملک کو بچاتے آئے ہیں آگے بھی بچائیں گے میرے پاس بہت سارے راز ہیں کچھ شیئر کرسکتا ہوں اور کچھ نہیں،میرے خلاف سوموٹو ہوئے ہیں اور میں نے دیکھے ہیں سب سن لیں ہم کمزور نہیں ہیں پہ کراچی سے ,دوسو افراد کو پکڑ کر اسلام آباد لائے اور میرے خلاف گواہ بنانے کی کوشش کی،ہم نے بلوچستان اور پختونخوا کے حقوق کی بات کی تھی، بلوچستان کے لوگوں سے بات کرنا پڑتی ہے ایسا مفروضہ بنایا ہوا ہے کہ بات نہیں کی جا سکتیمجھے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں ملتی رہی ہیں جب تک دم میں دم ہے جمہوریت کو چلائیں گے ملک کو سنواریں گے،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دس اپریل پاکستان کے آئینی سفر کا دن ہے،آج ہر پاکستانی کیلئے تاریخی دن ہے، دس اپریل 1973 کو آئین کی بنیاد رکھی گئی، پاکستانی عوام، سیاسی و سماجی کارکنان نے مسائل کا مقابلہ کیا،ہم نے ایک نہیں 3-3 آمروں کا مقابلہ کیا،شہید بے نظیر بھٹو نے آئین کی بحالی کیلئے 30 سال جدوجہد کی، آج بھی آمریت سے فائدہ لینے والے ایک پرچم تلے جمع ہیں،آج بھی ہم نفرت اور تقسیم کی سیاست کا مقابلہ کر رہے ہیں،

    سابق چیئرمین سینیٹ ، پیپلز پارٹی کے رہنما میان رضا ربانی کا کہنا تھا کہ میں سپیکر قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو مبارک پیش کرتا ہوں،یہ آئیڈیا خود قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے جنم دیا اور اس کو پورا کیا ،لازم ہے کہ آئین اور آج کے دن کے بارے میں کچھ کہا جائے ،50 سال پہلے یہ آئین منظور کیا گیا، یہ متفقہ دستاویز تھی جسے وفاق کی تمام اکائیوں کے درمیان اتفاق رائے تھا، اس آئین میں واضح تھا کہ یہ ادارے مرتب کرے گا، اداروں میں طاقت کا توازن ہوگا، وفاق اکائیوں کے ذریعے جمہوریت کو مضبوط کرے گا، پوری قوم ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور سمیت 27 رکنی کمیٹی کی شکر گزار ہے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • 9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    شیخوپورہ: وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ 9 رکنی بینچ کے 3 رکنی رہ جانے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : شرقپور میں تقریب سے خطاب میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ 9 رکنی بینچ کے3رکنی رہ جانے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں، یہ اندرونی اختلاف اور کیس پر عدم اتفاق کا نتیجہ ہےاس پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ بالکل درست اور جائز ہے فل کورٹ کے ذریعے عدلیہ آئینی بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کرے ورنہ آئینی اورسیاسی معاملات بند گلی میں چلے جائیں گے۔

    کراچی سے ٹورنٹو جانے والی پی آئی اے پروازکی اوسلو ائیرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ

    رانا تنویر نے کہا کہ حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں نے اتفاق رائے سے اس کیس کو نا قابل سماعت قرار دیا سیاسی جماعتوں کو سیاست کی بجائے ریاست کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا پی ٹی آئی فاشسٹ جماعت بن چکی جسے جمہوری اقدار کا کوئی خیال نہیں، قوم بھی فیصلہ کرےکہ آئین و قانون کی بالادستی کی خاطر کردار ادا کرنا ہے یا آئین و قانون شکنوں کا ساتھ دینا ہے اب عمران خان جس طرح بات کریں گے، اسی طرح کا جواب ملےگا۔

    وزیراعظم کی زیرصدارت ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا

    قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نےکہا کہ 3 مخصوص جج ہیں جو سیاسی فیصلے کرتےہیں، الیکشن کا فیصلہ فل کورٹ کو کرنا چاہیے جس کو ساری قوم تسلیم کرےاگر 3 جج فیصلہ کریں گےتو انتشاررہے گا، ہم تین ججز کے بینچ کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، صدر علوی عمران خان کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔

    بلوچستان: جلگئی سیکٹر میں شہید پاک فوج کے 4 جوانوں کی نماز جنازہ اور تدفین

    انہوں نے مزید کہا پارلیمنٹ نے جو بل پاس کیا ہے صدر اگر دستخط نہیں کرے گا تو 20 دن بعد قانون بن جائے گا، تمام سیاسی جماعتوں کی سوچ ہے کہ جنرل الیکشن ایک وقت میں ہونے چاہئیں، وزیر اعظم کے مفت آٹا فراہم کرنے کے فیصلے سے کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں، عمران خان شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر مارتا ہے۔

  • عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کیلئے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کیلئے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اداروں کو گالی اور دھمکی دینے والا اداروں کا ٹھیکے دار نہ بنے کسی کو بھی آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرنے دیں گے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 100 گنڈے اور 100 چھتر اب عمران صاحب کا مقدر ہیں،عمران خان کو اقتدار میں واپسی کے لیے کھیل کھیلنے نہیں دیں گے عمران خان نے اعتراف کیا حکومت چلانے کے لیے اداروں اور ایجنسیوں کی مدد لی دھونس، دھمکی، گالی سے انصاف کا قتل نہیں کرنے دیں گے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ نوازشریف اور مسلم لیگ ن کا بیانیہ آئین کا بیانیہ ہے اور یہی رہے گا جبکہ فوج اور عدلیہ کو سیاست میں گھسیٹنا بند کیا جائے عمران خان کا نشانہ ادارے ہیں اور ان کی قیادت کو عہدوں سے اتروانا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ منہ پہ خون لگنے کی بات کر کے اب پاؤں نہ پکڑیں عمران خان کا بیرون ملک سازش کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے اور اب اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ شروع ہو گیا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کا فیصلہ دے۔ عمران دھونس، دھمکی کے ذریعے فارن فنڈنگ کیس میں این آر او چاہتے ہیں اور وزیر اعلیٰ ٰپنجاب کے انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت فل کورٹ کرے یہ لاڈلے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،ہم سب لاڈلے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا اور پریس کانفرنس کے ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، طلال چوہدری جیسے بدنام زمانہ اداکار ججز کے خلاف بولنے کے لیے لانچ کر دیے گئے ہیں۔

    ن لیگ اور ش لیگ کے لیے موجودہ صورتحال 100 پیاز اور 100 چھتر کھانےکے مترادف ہے اب تو ن لیگ بھی فوری الیکشن کا مطالبہ کرنے کی دھمکیاں دینےلگ گئی ہے جبکہ دوسری جانب بیگم صفدر اعوان کی گالم گلوچ بریگیڈ میدان عمل میں نکل آئی ہے۔

    جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے تھا سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ 100 پیاز اور 100 چھتر کا محاورہ جیسا ن لیگ پر صادق آتا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے، ن لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کی کوکھ سے جنم لیا ہے، آپس میں طے کیا ایک پرو اسٹیبلشمنٹ سیاست کرے گا اور دوسرا اینٹی اسٹیبلشمنٹ منجن بیچے گا ایک کا منجن ناکام ہو تو دوسرا آگے کر دو، یہی فارمولا اگلی نسل میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، اب ن لیگ کو لگا عمران خان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے نتھی ہو کر بڑی غلطی ہو گئی، مریم نواز اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ چورن بیچیں۔

    فواد چوہدری نے کہا تھا کہ عدلیہ کے خلاف بیانات شروع ہو گئے ہیں، فوج کے خلاف اگلے چند دنوں میں شروع ہو جائیں گے، اس اسکیم میں خامی یہ ہے کہ 1990 والے لوگ اب نہیں اور مقابلہ بھی عمران خان سے ہے ن لیگ کی حکمت عملی اسے سیاست سے مکمل باہر کر دے گی لیکن اداروں کو نقصان ہو گا، اپنی حدود میں رہتے تو کچھ نہیں تھا لیکن بہرحال اب اداروں کو ن لیگ نے ٹارگٹ کرنا ہے۔

  • آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

    آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے فتنہ خان کی جھوٹی سیاست اور سازش والے بیانیے کو اڑا کر رکھ دیا ہے، تاریخ میں پہلا سیاست دان ہے جو جھوٹا بھی ہے اور آئین شکن بھی ہے، سپریم کورٹ کے جج نے کہا یہ آئین توڑنے کا مرتکب ہوا، ان کو ایسی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو، آئین پاکستان کو پاؤں تلے روندنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے، جتنے مشکل فیصلے ہونے تھے ہوچکے، اب خوشخبریاں آئیں گی۔

    آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں: اعتزاز احسن

    کلرسیداں میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سب کو نواز شریف کی طرف سے سلام پیش کرتی ہوں، آپ کی بیٹی آپ کے پاس آئی ہیں، حلقے میں آکر پتا چل گیا ہے ہمارے امیدوار جیت چکے ہیں، جلسے میں ایک انچ زمین بھی خالی نہیں ہے، ہمارے امیدوار کے پیچھے لوگ پیسے لیکر گھومتے رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خوشخبری سے بات شروع کرونگی، فتنہ خان بارودی سرنگیں بچھا کر گیا تھا، جان ہتھیلی پر رکھ کر بارودی سرنگوں کو ہم نے ہٹایا ہے، مشکل دور ختم، آنے والے دنوں میں عوام کے لیے اچھی خبریں آئیں گی، خادم اعظم رات کو قوم سے خطاب کرے گا، فتنہ خان کہتا ہے شہباز شریف تیل کی قیمتیں کم کرو، 4 سال تم قیمتیں بڑھاتے رہے، تمہارا تیل کی قیمتوں سے کیا لینا دینا، کہتا تھا آلو، پیاز کا ریٹ بتانے نہیں آیا، آجکل تقریروں میں دہی، پودینے کے ریٹ بھی بتاتا ہے۔

     

    الیکشن کمیشن کا عمران خان کے الزامات پر نوٹس، پیمرا سے ریکارڈ طلب کرلیا

     

    مریم نواز نے کہا کہ حکومت سے کہتی ہوں یہاں پر بات ختم نہیں کرنی، آرٹیکل 6 اور غداری کے مقدمات چلنے چاہئیں، ان کو ایسی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی آئین کی خلاف ورزی نہ کرسکے، سپریم کورٹ نے اس کے سازش والے بیانیے کو بھی اڑا کر رکھ دیا، اس نے سازش کا جھوٹ بولا تھا، سپریم کورٹ کے جج نے کہا سازش کا کوئی ثبوت نہیں دیا، اس کے پاس ثبوت ہوتا تو دیتا، اس نے سپریم کورٹ کو بھی جلسہ گاہ سمجھا تھا کہ جلسے کی طرح الزامات لگا دے گا، عمران خان! سپریم کورٹ کو ثبوت دینے پڑتے ہیں۔

     

    سپریم کورٹ کے فیصلے نے عمران خان کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا. وزیراعظم شہباز

     

     

    انہوں نے کہا کہ کہتا ہے مسٹر ایکس، مسٹر وائی دھاندلی کر رہا ہے، اے بی سی بھی وائی، ایکس سے شروع کرتا ہے، اپنی اے بی سی تو ٹھیک کرلو، کل کہہ رہا تھا موٹروے پر نواز شریف کی تصویر نظرآئی، تمہیں نواز شریف کی تصویر ہر جگہ نظر آئے گی، جس موٹروے سے تم اترے وہ موٹروے نواز شریف نے بنایا تھا، وعدہ کرتی ہوں شیر پر مہر لگاؤ، جب تک تمہاری زندگیوں میں بہاریں واپس نہیں آتیں چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ترقی کے دشمن عمران خان نے پنجاب کا خون چوسا، اس کو اٹھاؤ اور پنجاب کی سرحدوں سے باہر پھینک دینا،17 جولائی کو کون دھاڑے گا، کہوٹہ والوں نے جس طرح استقبال کیا کبھی نہیں بھول سکتی، جمعیت علما اسلام، پیپلزپارٹی کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں،17 جولائی کو گھروں میں نہیں بیٹھنا۔

  • پارلیمنٹ مقدس مقام:آئین کی بیحرمتی ناقابل قبول:جمعہ کےدن یومِ تحفظِ آئین منائیں گے:مولانا فضل الرحمن

    پارلیمنٹ مقدس مقام:آئین کی بیحرمتی ناقابل قبول:جمعہ کےدن یومِ تحفظِ آئین منائیں گے:مولانا فضل الرحمن

    اسلام آباد :حکومت مخالفت اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ مقدس مقام ہے اور آئین بھی مقدس ہے ، ان کا کہنا تھا کہ آئین کی بیحرمتی کے خلاف جمعے کو یومِ تحفظِ آئین منائیں گے

    اطلاعات کے مطابق اپوزیشن رہنما مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں نگران وزیراعظم کے حوالے سے اپوزیشن کی طرف سے مشترکہ امیدوار لانے پرمشاورت ہوئی ، اس اہم اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ ہمیں ملکرالیکشن کےلیے میدان میں اترنا چاہیے اور پورے ملک میں پی ٹی آئی کے خلاف ہمارے مشترکہ امیدوار ہوں

    ‏سپریم کورٹ کا احترام سر آنکھوں پر مگر آئین کیخلاف کوئی فیصلہ اور جمہوریت پر حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گامطالبہ کرتے ہیں غیر آئینی اقدام کو ختم کیا جائےاداروں کو اپنی غیر جانبداری واضح کرنی چاہئے

    اطلاعات کے مطابق اس اہم ‏اجلا س میں میاں افتخار اور محمود خان اچکزئی ،اعظم نذیر تارڑ، زاہد حامد، خواجہ آصف، اسلم بھوتانی سمیت کئی اہم رہنما بھی شامل ہیں اجلاس میں صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف بھی شامل ہیں‌

     

    ادھر آج مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی توقیر نہیں رہتی تو پاکستان کے وجود پر سوالیہ نشان ہوگا ، ہمارے اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ آئین کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

     

    سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ حکومت کے غیر آئینی اقدامات سے منصفانہ انتخابات کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ، عمران خان کس طرح وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر کام کررہا ہے ؟ عمران خان کیسے بیوروکریٹ کو بلا کر ہدایات دے رہا ہے؟

     مولانا فضل الرحمان نے کہا  کہ ایک ڈکٹیٹر آئین کو اس طرح بے رحمی سے پامال نہیں کرتا،جس طرح آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والے عمران خان نے حالیہ اقدامات کے ذریعے ملک میں آئین بحران پیدا کر دیا ہے۔

  • آئین کی بیحرمتی قابل قبول نہیں:آئین سب سے مقدس اورمقدم:مریم نواز بول اٹھیں

    آئین کی بیحرمتی قابل قبول نہیں:آئین سب سے مقدس اورمقدم:مریم نواز بول اٹھیں

    لاہور:آئین کی بیحرمتی قابل قبول نہیں:آئین سب سے مقدس اورمقدم:مریم نواز بول اٹھیں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں 27 مارچ کے جلسے میں دکھائے جانے والے خط کو وزارت خارجہ میں تیار کیا گیا، عمران خان نے جلسے میں کوئی خط نہیں خالی کاغذ دکھایا۔

    مریم نواز نے کہا کہ آئین کی بیحرمتی ناقابل قبول ہے اور یہ بات یاد رکھیں کہ آئین سب سے مقدس اورمقدم ہے کسی کواس کواپنی مرضی سے تشریح کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن میں جایا جاتا ہے نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی تو جی ٹی روڈ کا سفر ختم ہو گا منصوبے ختم نہیں ہوئے یہ حکومت کارکردگی لینے کی بجائے جعلی خط لے کر ا گئی میں سوال کرنا چاہتی ہوں کہ خط جس کو چھپا کر رکھا ہوا ہے اس میں جو تحریر ہے وہ بتا دیا کہ اپوزیشن اور ممالک شامل ہیں سازش میں تو پھر خط کیوں نہیں دکھایا وہ خط اسلیے نہیں دکھایا کہ وہ خط سرے سے تھا ہی نہیں جلسے میں خالی کاغذ دکھایا اتنی ہی سازش تھی تو سپریم کورٹ کو خط دکھانا چاہیے تھا چند دن کرسی سے چمٹے رہنے کے لیے آئین پر خود کش حملہ کر دیا آئین توڑنا آپ کے لیے آسان ہے خط دکھانا مشکل ہے اس خط میں کوئی ایسی بات نہیں منسٹری آف فارن افیئرز میں بیٹھ کو اس خط کو ڈرافٹ کیا گیا سیاسی نوک پلک درست کی گئی انکو پتہ تھا کہ خط سامنے آئے گا تو پول کھل جائے گا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وزیراعظم کھڑے ہو کر جھوٹ بول دے اور سب یقین کر لیں اب آپکا تیا پانچہ ہو چکا خط کا ڈرامہ کرنے سے پہلے امریکہ میں ایمبسڈر یاںہائی کمشنر کو راتوں رات وہاں سے نکالا گیا سچے ہیں تو انکو میڈیا کے سامنے پیش کرے اب ڈرامہ کھل رہا ہے اور کھلنے والا ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اعلامیہ میں ذکر نہیں کہ سازش ہوئی تو پھر نیشنل سیکورٹی کمیٹی کو کیوں استعمال کیا کس نے حق دیا کہ وہ فورم جو پاکستان کے سیکورٹی مسائل کو دیکھتا ہے اسکو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا وہ عمران بچاؤ کمیٹی نہیں کوئی اس جھوٹ میں آپکے ساتھ شامل نہیں پاکستان کے ملٹری اداروں کو کہنا چاہتی ہے کہ آئیں اور وضاحت دیں سچائی قوم کے سامنے رکھیں ۔ثبوت میں کیا لے کر آئے وہ تصویریں کہ ڈپلومیٹس سے مریم مل رہی ہے مریم نواز نے عمران خان کی امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا یہ کیا ہو رہا ہے یہ بھی پاکستان کے خلاف سازش تھی ڈپلومیٹ سے جب ملتے ہیں تو ملک و قوم کی بات کرتے ہیں پاکستان کی ترقی کی بات کرتے ہیں قوم کا خوبصورت تشخص دکھاتے ہیں اور آپ ثبوت میں میری اور دیگر تصویریں لے آئے ۔ ایک سروے آئے جس میں کہا گیا کہ عمران کی حکومت کو ہٹانے کی زمہ دار مہنگائی ہے قرضہ تمہارے دور میں بڑھا یہ سازش تھی ڈالر 150 سے کراس کر گیا یہ سازش کس نے کیم چینی کی قیمت 50 سے 120 تک پہنچ گئی یہ کس ملک نے سازش کی بھی کھاد آتا سب مہنگا یہ کس ملک نے سازش کی تین سال تک عوام کا خون نچوڑنے رہے اور اب ڈرامہ شروع کر دیا قوم آپکی مہنگائی کو نہیں بھولے گی عوام جب چینی آٹا خریدنے جائیںبگے تو آپ کو بددعائیں دین گے یہ ہے آپکی اصل حقیقت اور اسکے بعد چند دن اقتدار میں رہنے کے لیے پاکستان کے آئین کو توڑ دیا عدم اعتماد سے بھی گھر جانا تھا

    یہ اسمبلی توڑنے کی طرف کیوں گیے انکو پتہ تھا کہ اپوزیشن میں سے کوئی جماعت ا گئی تو یہ مجھے نہیں چھوڑیں گے انکے کرپشن کے بہت سیکنڈل ہیں پاکستان کا آئین ڈکٹیٹر نے اس طرح نہیں توڑا جس طرح عمران خان نے توڑا گرفتاری سے بچنے کے لیے بکرے کی ماں خیر جب تک منائے گی آئیں توڑ کر آئین کو حوالہ دیتے ہیں ۔سپریم کورٹ میں کیس ہے اور وہاں درخواست گزار اپوزیشن نہیں پاکستان کا آئین ہے آرٹیکل فاءیو کی بات کرتے ہیں وہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ نہیں تھی پاکستان یا کسی ملک کے اندر سپیکر آئین کے تابع ہوتا ہے آئین سپیکر کے تابع نہیں ۔ اگر آئین کے خلاف سپیکر کوئی حکم دیتا ہے تو اسکو پارلیمنٹ کی کاروائی کہہ کر نہیں چھپا سکتے سزا آرٹیکل سکس ہے اب یا تو آدھا پاکستان غدار ہے یا عمران غدار ہے یہ بچوں کے کھیل کی بات نہیں یہاں پاکستان کا آئین ٹوٹا ہے اگر یہاں اب سزا نہ ملی تو آئین کی حفاظت ہم سب کی زمہ داری ہے اگر سزا عمران خان کو نہیں دی گئی تو کل کوئی بھی آئیں کو روندتا ہوا نکل جایے گا اور کوئی پوچھے گا نہیں مگر ساز ش ناکام کر رہے تھے تو ڈپٹی سپیکر نے اسد قیصر کا نام کیوں پڑھا وہ آئے ہی نہیں وہ جانتے ہیں سزا کیا ہے ڈپٹی سپیکر بھی ہوشیار ہیں وہ بھی مجرم ہیں لیکن سب سے بڑا مجرم عمران خان ہے جس نے وہ پرچہ لکھ کر دیا سپیکر کہہ دے کہ آئیں کو نہیں مانتا تو اس پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی سپیکر ایک رولنگ سے آئین کی دھجیاں نہیں اڑا سکتا صدر مملکت کو اسمبلیاں توڑنے کی نہیں آئین پاکستان توڑنے کی سفارش کی گئی

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان عبرت کا نشان ہے جو کہتا ہے کہ دس لاکھ لوگ لاؤں گا دس ہزار لوگ بھی نہیں لا سکتے اگلے دل احتجاج میں کل دس لوگ بھی نہیں تھے اگلا الیکشن اب تم بھول جاؤ بطور غدار چہرہ سامنے لے کر جاؤں گے اپوزیشن بخشے گی نہیں ۔ آئیں توڑنے کا لیبل بھی اب لگوا لیا پہلے نااہلی کا تھا آخری مقابلہ کرنے والے کی اصل شکل یہ ہے کہ اپنے لوگ بھاگ گئے تو گرفتاری کے ڈر سے بھاگ گیا پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا رہا یہ دم دبا کر بھاگا ہے آج آپکی حکومت ختم ہو چکی اور ڈھٹائی سے وزیراعظم آفس پر براجمان ہیں پی ٹی وی کو استعمال کر رہے ہیں آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ پی ٹی وی کو استعمال کریں کس نےہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا حق دیا ایک ایک پائی کا جواب آپ کو دینے ہوں گے راتوں رات فرح کو جو بنی گالہ کی فرسٹ پرسن ہے چیف منسٹر بزدار نہیں فرح تھی قوم کے سامنے اب سب راز آنے والے ہیں ہم الیکشن سے بھاگنے والے نہیں جب سیکورٹی کے بغیر اترے گا سٹیج سے تو قوم ٹماٹروں انڈوں سے استقبال کرے گی

    اب نکلو گے تو پتہ چل جائے گا ۔اب الیکشن میں ضرور جائیں گے پہلے آئین توڑنے والے کا فیصلہ ہو گا عمران خان کو تاریخی شکست دیں گے ۔ راتوں رات فرح کو فرار کروایا تین تین کروڑ کا بیگ پکڑا ہوا ہے وہ کہاں سے آیا ۔کوئی تبادلہ ہوںیا کچھ بھی فرح کو رشوت ملتی تھی اگر اس بات میں سچائی نہیں تو راتوں رات کیوں فرار ہو گئی ان سب کے نام ای سی ایل میں ڈال جایے تمہارے آگے پیچھے کون تھا سب سامنے آئے گا پورے پنجاب میں کام نہیں ہوا لیکن فرح کے گاؤں میں ہوا۔ بنی گالہ میں فرح عمران خان کے کتوں کے ساتھ تصویریں بنا رہی ہے ۔اب کہتے ہیں ہمیں پتہ نہیں تھا کرپشن کیا ہوتی ہے تبادلوں کے کروڑوں لیے گیے یہ سب قوم کے سامنے آئے گا اور جواب لے کر رہیں گے بھاگنے نہیں دیں گے

    مریم نواز کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پنجاب کا گورنر کیوں بدلا آج اجلاس تھا تو روزے میں پانی مانگا جا رہا تھا یہ کیا ہے اب یہ بوکھلا چکے ۔ پوزیشن واضح ہو چکی ہے کسی بھی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے

  • پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کا اہم اجلاس

    پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کا اہم اجلاس

    اسلام آباد::پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کا اہم اجلاس ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی آئینی نظرثانی کمیٹی کے اہم اجلاس میں پارٹی آئین حتمی منظوری کے لئے وزیراعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔منگل کوپاکستان تحریک انصاف کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے اجلاس کی صدارت کی ۔

    ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، گورنر پنجاب چوہدری سرور،وزیر بحری امور علی حیدر زیدی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے آئین کے خدوخال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں جماعتی آئین میں ترامیم کے حوالے سے مختلف امکانات کا بھی مفصل جائزہ لیا گیا۔آئینی کمیٹی نے آئین کے حوالے سے اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی جو کہ حتمی منظوری کیلئے وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی خدمت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔