Baaghi TV

Tag: آئیڈیاز

  • پاک فضائیہ کے سربراہ کا بین الاقوامی دفاعی نمائش کا دورہ

    پاک فضائیہ کے سربراہ کا بین الاقوامی دفاعی نمائش کا دورہ

    کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی 12ویں بین الاقوامی دفاعی نمائش IDEAS-2024 کے دوران پاک فضائیہ کے سربراہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے تفصیلی دورہ کیا۔

    یہ نمائش دفاعی اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی میں جدید ترین پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے، جس میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شرکاء شریک ہوتے ہیں۔ ایئر چیف کے دورے نے قومی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں تکنیکی تعاون اور جدت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اپنے دورے کے دوران، ایئر چیف نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے پویلین میں مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا۔ یہ پویلین اسپیس، سائبر، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر، ایرو اسپیس ڈیزائننگ، سینسرز اور سیمولیٹرز جیسے جدید شعبوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے قومی شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی، جس میں تکنیکی تعاون کے اہم کردار پر زور دیا۔ ایئر چیف نے اسٹارٹ اپس کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور ایرو اسپیس سیکٹر میں جدت اور ترقی کے لیے وینچر کیپیٹل ازم کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے قومی صنعتوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور نیشنل انکیوبیشن سینٹر فار ایرو اسپیس ٹیکنالوجی کے ذریعے ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کے مواقع تلاش کرنے پر بھی زور دیا۔

    اس موقع پر ایئر چیف نے غیر ملکی مندوبین سے بھی ملاقات کی، جہاں مقامی طور پر تیار کردہ ایرو اسپیس آلات کی خرید و فروخت کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاکہ ایک خود انحصار دفاعی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ایئر چیف نے ایرو اسپیس سیکٹر میں موجودہ خلا کو پر کرنے اور صنعت کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ ٹیکنالوجی کے روڈ میپ کو ہم آہنگ کیا جا سکے اور پاکستان کو ایرو اسپیس انوویشن میں صف اول میں رکھا جا سکے۔

    IDEAS-2024 میں پاک فضائیہ کی شرکت، نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ذریعے جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کی نمائش کا عزم ظاہر کرتی ہے۔ یہ ادارہ دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور قومی ترقی کی علامت بن چکا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داری کو فروغ دیتا ہے۔

    آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،احتجاج کیلئے سرکاری مشینری،افراد،وسائل پر پابندی

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی دفاعی نمائش اور سیمینار کا دورہ کیا۔

    دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دوست ممالک کے دفاعی مینوفیکچررز کی فعال شرکت کو سراہا۔نمائش میں کل 557 نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں جن میں سے 333 بین الاقوامی نمائش کنندگان ہیں جبکہ 224 ملکی نمائش کنندگان ہیں۔ 36 ممالک نے نمائش کنندگان کے اسٹالز لگائے جن میں سے 17 ممالک پہلی بار شرکت کر رہے ہیں۔تقریب میں 53 ممالک کے 300 سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی اور نمائش اور پاکستان کی دفاعی صنعت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    نمائش کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں موجود غیر ملکی فوجی حکام اور دفاعی مندوبین کے ساتھ بامعنی بات چیت بھی کی،نمائش میں پاکستان کی طرف سے تیار کردہ جدید ترین ڈرون ”شاہپر تھری“ کی خاص نمائش کی گئی، یہ ڈرون 35,000 فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور 24 گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔ شاہپر تھری بموں، میزائلوں اور ٹارپیڈو جیسے گولہ بارود کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    آئیڈیاز 2024 کا 12 واں ایڈیشن 19 نومبر کو شروع ہوا اور 22 نومبر 2024 کو اختتام پذیر ہوگا۔قبل ازیں آرمی چیف کی کراچی آمد پر کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے پرتپاک استقبال کیا۔

    مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہر قائد کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے لوگ آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل پر کامل یقین ہے، ایک سال پہلے چھائے ہُوئے مایوسی کے بادل آج چھٹ چکے ہیں،میں نے گزشتہ نشست میں بھی کہا تھا کہ "مایوسی مسلمان کے لیے حرام ہے”،آج پاکستان کی معیشیت کے تمام اعشاریے مثبت ہیں، اگلے برس تک انشاء اللہ مزید بہتر ہوں گے،کوئی چیز بشمول سیاست ملک سے مقدم نہیں، ہم سب کو ذاتی مفاد پر پاکستان کو ترجیح دینی چاہیے، ریاست ماں کی طرح ہے اور اس کی قدر لیبیا، عراق اور فلسطین کے عوام سے پوچھنی چائیے،یاد رکھیں ! پاکستان کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے، جتنی بھی مشکلات ہوں اگر ہم سب مل کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، آپ اپنا پیسہ لے کر پاکستان آئیں، عوام بھی کمائے اور ملک بھی ترقی کرے،دہشت گردی کی پشت پناہی غیر قانونی کاروبار والے کرتے ہیں جن کے پیچھے مخصوص عناصر ہوتے ہیں، پاکستان کی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت اور عوام کی ڈیجیٹل سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے،