Baaghi TV

Tag: آئی ایس آئی

  • پاکستانی اور ترک خفیہ ایجنسی کا اہم کامیاب آپریشن، داعش کا سینیئر ترک رہنما گرفتار

    پاکستانی اور ترک خفیہ ایجنسی کا اہم کامیاب آپریشن، داعش کا سینیئر ترک رہنما گرفتار

    پاکستانی انٹیلی جنس کی مدد سے ترکی کی خفیہ ایجنسی کا اہم کامیاب آپریشن، داعش کا سینیئر ترک رہنما گرفتار

    ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ کی خفیہ ایجنسی ”ملی استخبارات تنظیمی“ (ایم آئی ٹی) نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی ”نارنجی“ (Orange) فہرست میں شامل انتہائی مطلوب داعش کمانڈر ”ابو یاسر الترکی“ کو گرفتار کر لیا ہے، جو ”اوغزور التون“ کے نام سے مشہور ہے۔

    ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایم آئی ٹی کی جانب سے کی گئی خفیہ تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ اوغزور التون ایک ترک نژاد شدت پسند ہے جو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داعش کے لیے سرگرم تھا وہ یورپ اور وسطی ایشیا سے شدت پسند عناصر کو افغان-پاک خطے میں منتقل کرنے، میڈیا پروپیگنڈا چلانے اور داعش کی کارروائیوں کی نگرانی میں ملوث تھا اس نے ترکی اور یورپ میں کنسرٹ جیسے عوامی اجتماعات پر حملوں کی منصوبہ بندی کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

    بنگلا دیشی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن بحال کر دی

    اوغزور التون کو داعش کے اندر ”سب سے اہم ترک میڈیا آپریٹو“ قرار دیا گیا ہے، جو ترک اور انگریزی زبان میں شدت پسند مواد تیار کرتا رہا اور داعش کی بھرتی، مالی معاونت اور لاجسٹک سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہا۔

    ترک میڈیا کے مطابق ایم آئی ٹی کو اطلاع ملی تھی کہ ابو یاسر غیر قانونی طور پر ترکیہ سے افغانستان منتقل ہوا اور وہاں سے پاکستان جانے کی تیاری کر رہا ہے اس اطلاع پر ایم آئی ٹی نے آئی ایس آئی کو آگاہ کیا، جس پر پاکستانی ادارے نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرا تے ہوئے کہا کہ ترکیہ کا دشمن، پاکستان کا بھی دشمن ہے۔

    بھارتی وفد عالمی سطح پر مزاق بن گیا

    اس معلومات کی بنیاد پر ایم آئی ٹی اور آئی ایس آئی نے پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب مشترکہ ٹارگٹڈ کارروائی کی، جس میں ابو یاسر کو گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں اسے ترکیہ کے حوالے کر دیا گیا گرفتاری کے بعد اپنی ابتدائی تفتیش میں اوغزور التون نے اعتراف کیا کہ وہ افغا نستان-پاکستان خطے میں شدت پسندوں کی منتقلی کا نگران تھا، داعش کی میڈیا ٹیم کا سینیئر رکن تھا اور دنیا بھر میں دہشت گردی پر اکسا نے کے لیے پروپیگنڈا مہمات چلا رہا تھا۔

    ترک خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں داعش کی ترکیہ میں ممکنہ دہشت گرد کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا، تنظیم کے متعدد منصوبے بے نقاب ہوئے، اور دہشت گردوں کے زیر استعمال اہم ڈیجیٹل مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

    پاکستان و افغان وزرائے خارجہ کا رابطہ ، اعتماد کے فروغ کیلئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

  • سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ بار کا فیض حمید کیخلاف کاروائی کا خیر مقدم

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے کورٹ مارشل کا خیر مقدم کیا ہے

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے مواخذے کا خیرمقدم کرتی ہے،یہ ادارہ جاتی خود شناسی کی طرف ایک اہم قدم ہے، فیض حمید کا کورٹ مارشل ظاہر کرتا ہے کہ مقدس گائے کے تصور کو اب ختم کر دیا گیا ہے، اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے تمام افراد کا احتساب کیا جائے،ان افراد نے اپنے اقدامات سے سرکاری خزانے پر بھی اضافی بوجھ ڈالا ہے، ایسے افراد نے اداروں کی ساکھ کو داغدار کیا، ادارے اور عوام کے درمیان دوری پیدا کی،ان افراد نے نہ صرف اپنے ادارے کے قوانین بلکہ اپنے آئینی مینڈیٹ سے بھی تجاوز کیا ہے، تمام اداروں کے کیلئے ضروری ہے کہ وہ آئینی حدود میں کام کریں، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں رؤف عطا کا کہنا تھا کہ ان افراد کیخلاف کارروائی کا آغاز اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، سپریم کورٹ بار جمہوری اقدار، آئین پرستی، سویلین اور ادارہ جاتی فریم ورک کی بالادستی کی حمایت جاری رکھے گی،

    فیض حمید کیخلاف ٹرائل سبوتاژ کرنے کیلیے سول نافرمانی کی کال دی گئی،طلال چودھری

    فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ جاری ہونا اہم پیشرفت ہے۔مصطفیٰ کمال

    فیض حمید کیخلاف چارج شیٹ،عمران کا بچنا ممکن نہیں، فیصل واوڈا

    فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل

  • ریاست کیخلاف پروپیگنڈہ،شناخت کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ریاست کیخلاف پروپیگنڈہ،شناخت کیلئے ٹاسک فورس قائم

    وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والی شخصیات و عناصر کی شناخت کے لیے ایک جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے۔ یہ ٹاسک فورس مختلف سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کے اعلیٰ افسران پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد حالیہ احتجاجات اور نازیبا پروپیگنڈے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ جوائنٹ ٹاسک فورس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں 10 اہم اداروں کے نمائندے شامل ہیں، جن میں پاکستان کی ایجنسیوں کے افسران بھی شامل ہیں۔ٹاسک فورس کی سربراہی چیئرمین پی ٹی اے کریں گے جبکہ آئی ایس آئی، ایم آئی کا رکن، ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس،ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم،جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی ،جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ،وزارت اطلاعات کا رکن ٹاسک فورس کے اراکین میں شامل کیے گئے ہیں

    جوائنٹ ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد حالیہ احتجاجات کے دوران پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانے والے افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔ یہ ٹاسک فورس سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو ٹریک کرے گی تاکہ ملوث عناصر کا پتہ چلایا جا سکے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ٹاسک فورس کو اپنے کام کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی ہے، اس دوران وہ اس پروپیگنڈے میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تحقیق کرے گی اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔ حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ پاکستان کی سالمیت اور عزت کا دفاع کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کریں گے اور پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

    social

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض نیازی گٹھ جوڑ سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئےہیں، فیض حمید اور عمران نیازی گٹھ جوڑ کو سابق آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ اور موجودہ آرمی قیادت نے توڑا

    عمران خان آئی ایس آئی کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ فیض حمید نے ان کی ہدایت پر عمران خان کے مخالفین کے لئے مشکلات کھڑی کیں،اپوزیشن کو عمران خان کے کہنے پر رگڑا دینے میں پیش پیش رہے، جس کے بعد فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا گیا،فیض حمید کو ہٹانے کے بعد اس وقت آرمی میں بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا،اس وقت کے آرمی چیف جنرل ر قمر جاوید باجوہ فیض نیازی گٹھ جوڑ میں اس وقت رکاوٹ بنے جب انہوں نے فیض حمید کو عہدے سے ہٹایا، تاہم فیض حمید کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے لئے سہولت کاری جاری رہی، پیغامات اور مراسلات بھجوانے میں بھی فیض حمید کااہم کردار تھا

    عمران خان فیض حمید کے ساتھ ملکر اپوزیشن کو لتاڑ رہے تھے اور وہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی اس قسم کی توقع کر رہے تھے، جنرل ر قمر جاوید باجوہ کو جب صورتحال کا پتہ چلا کہ فیض نیازی گٹھ جوڑ کس طرح چل رہا تو انہوں نے اس گٹھ جوڑ کو توڑا،15 اگست کو نیازی نے اڈیالہ میں خود تسلیم کیا کہ وہ ایسا نہیں چاہتا تھا اور فیض کو ہٹائے جانے پر ناراض تھا، فیض نے اپنی ٹیمیں بنائی ہوئی تھیں جو نیازی کی سہولت کاری کے لئے کام کر رہی تھیں، فیض کی یہ ٹیمیں سارے پیغام رسانی کا کام کر رہی تھیں،یہ تحریک انصاف کے معاملات کو بھی چلا رہے تھے، فوج نے ستر سال میں پہلی بار ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی تو یہ معاملہ بہت ہی سنگین ہے.اگر فوج نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر ہاتھ ڈال دیا ہے تو پاکستان میں پھر کسی اور کی بچت کیسے ممکن ہے؟

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • فیض حمید کی گرفتاری پر امریکا کا رد عمل

    فیض حمید کی گرفتاری پر امریکا کا رد عمل

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید اور اسکے ساتھی ریٹائرڈ فوجی افسران کی گرفتاریوں پر امریکا کا ردعمل سامنے آیاہے

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نےکہا کہ پاکستان میں سابق فوجیوں کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر کاکہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مستحکم شراکت داری ہے،سابق فوجیوں کی گرفتاری کی رپورٹ سے آگاہ ہیں،پاکستان میں سابق فوجیوں کی گرفتاری پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکا پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے،علاقائی سلامتی اور مشترکا اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کی مدد کرتے رہیں گے،دونوں ممالک کی فوجی اور سیاسی قیادت میں دو طرفہ امور پر بات ہوتی رہتی ہے۔

    واضح رہے کہ فیض حمید کو کچھ دن قبل فوج نے حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی شروع کی گئی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نےفیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کیلئے کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہوچکی ہیں،گزشتہ روز آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ فیض حمید سے تعلق کی بنا پر 3 سابق فوجی افسران کو بھی فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے، تین ریٹائرڈ افسران فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے سلسلے میں گرفتار کئےگئے ہیں ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں سے مزید تفتیش جاری ہے، کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں،ریٹائرڈ افسران نے ملی بھگت سے سیاسی مفادات کے لیے عدم استحکام کو ہوا دی،ان افسران نے فوجی نظم و ضبط کے خلاف کام کیے۔

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • حساس ادارے  کو فون ٹیپ کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    حساس ادارے کو فون ٹیپ کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    لاہور: حساس ادارے آئی ایس آئی کو فون ٹیپ کرنے کا اختیار دینے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں شہری فہد شبیر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،شہری کی جانب سے دائردرخواست میں وزیراعظم ، وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سمیت دیگرکو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن میں آئی ایس آئی کو لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کی اجا زت دی ہے، پی ٹی اے ایکٹ کے جس سیکشن کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس کے ابھی تک رولز نہیں بنے پاکستا ن کا آئین شہریوں کو پرائیویسی اور آزادی اظہار رائے فراہم کرتا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق بھی لوگوں کے فون ٹیپ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، عدالت حکومت کا آئی ایس آئی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کی کارروائی معطل کرے، حکومت کو ہدایت جاری کی جائے کہ پی ٹی اے ایکٹ کے سیکشن 56 کے رولز بنائے جائیں۔

  • حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دینے کی منظوری

    حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دینے کی منظوری

    وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دے دیا

    وفاقی کابینہ نے حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنےکا اختیار دینے کی منظوری دی،منظوری سرکولیشن کے ذریعے دی گئی ہے، اس ضمن میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کال ٹریس کے کی منظوری قومی سلامتی کے مفاد میں کسی جرم کے خدشے کے پیش نظر دی گئی ،کابینہ نے یہ اختیار پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا ہے، ‎ایجنسی جس افسر کو نامزد کرے گی وہ گریڈ 18 سے کم درجے کا نہیں ہوگا۔

    آئی ایس آئی کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی ریکارڈنگ کر سکے گی، ایجنسی کو کال ریکارڈ،میسجز اور کال ٹریس کرنے کا اختیار ہو گا،موبائل کال ،واٹس آپ کال میسجز اور دیگر اپلیکیشنز کی ریکارڈنگ ہو سکے گی ،

    کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے سب عدالتوں میں پھرتے نظر آئیں گے، عمر ایوب
    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ حساس ادارے کو کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے کل خود کال ٹریسنگ کی زد میں آئیں گے،کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے جیل جائیں گے، اسی قانون کے ذریعے آصف زرداری، نواز شریف ، شہباز شریف، بلاول اور مریم جیل جائیں گے کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے سب عدالتوں میں پھرتے نظر آئیں گے، فارم 47 کے وزیراعظم شہباز شریف اور اس کی حکومت نے خود اپنا بلیڈ لے کر اپنی شہ رگ کاٹی ہے،بجلی کا یونٹ پی ٹی آئی کے دور میں 17 کا تھا آج 85 کا تھا،ڈالر کی قیمت مصنوعی رکھی گئی ہے، بجٹ میں 30 ارب کی پرائیوٹائزیشن ہے حالانکہ ان اداروں کی قیمت ہزار ارب ہے، 970 ارب کہاں گیا، بین الاقوامی دنیا میں تیل کی قیمت بڑھے گی تو یہ پھر قیمت بڑھائیں گے، لوگ سڑکیں پر نکلیں گے، عمران خان پر سب مقدمے ختم ہونے والے ہیں، عدت کا کیس بھونڈا کیس ہے.

    عمر ایوب کا حساس ادارے کو فون ٹیپنگ کی اجازت کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کرنے اعلان
    قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب نے آئی ایس آئی کو فون ٹیپنگ کی اجازت کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کرنے اعلان کر دیا ،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ فارم 47 والی حکومت کی طرف سے ایس آر او 1005 (I)/2024 نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اس نوٹیفکیشن میں آئی ایس آئی کو قومی سلامتی کو جواز بناکر کسی بھی شخص کی فون پر گفتگو کو ٹیپ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، ایک فاشسٹ حکومت کی جانب سے ہی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کو شہریوں کی فون ٹیپنگ کا مکمل اختیار دیا جاسکتا ہے،یہ ایس آر او وہ آلہ ہوگا جسے آئی ایس آئی بلاول بھٹو، آصف زرداری، مریم نواز سمیت تمام سیاستدانوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو بلیک میل اور مغلوب کرنے کے لیے استعمال کرے گی،میں اس غیر قانونی نوٹیفکیشن کو اپنے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کے توسط سے عدالت میں چیلنج کروں گا، یہ ایس آر او غیر آئینی اور آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے،

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

  • سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس

    سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے،جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ،آزاد کشمیر کے مغوی شہری خواجہ خورشید کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی ،سرکاری وکیل نے کہا کہ خواجہ خورشید کے خلاف پولیس کے پاس کوئی مقدمہ درج نہیں ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور ایف آئی اے کی رپورٹ آ گئی، وزارت دفاع کی رپورٹ کدھر ہے؟ نمائندہ وزارت دفاع نے عدالت میں کہا کہ ہمیں کل نوٹس موصول ہوا ہے، تھوڑا وقت دے دیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز سے کہیں اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ جمع کرائیں، سیکرٹری دفاع کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے، دونوں افسران کے دستخط کے ساتھ پیر کو رپورٹ عدالت میں پیش کریں،

    وکیل نے کہا کہ اٹھارہ، اُنیس دن ہو گئے ایک شخص لاپتہ ہے، چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، سب پریشان ہیں، عدالت نے کہا کہ رپورٹ آ جائے تو پھر دیکھ لیتے ہیں،

    انہیں نہیں معلوم ایسے اقدامات سے ریاست کیخلاف نفرت پیدا ہوتی ،جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    لڑکی سمیت 9 لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس، پیشرفت نہ ہونے پرعدالت برہم

    آٹھ برس سے لاپتہ شہری بازیاب کیوں نہ ہوا،عدالت برہم،رپورٹ طلب

    ججز سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ادارے اپنی حدود میں کام کریں،جسٹس محسن اختر کیانی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

    لاپتہ شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس پر سماعت کی، درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری اور سینئر صحافی حامد میر بھی عدالت میں موجود تھے،احمد فرہاد کیس میں احمد فرہاد کو پیش نا کیا جا سکا،وفاقی حکومت نے احمد فرہاد کی بازیابی کے لیے مزید وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل منصور اعوان روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کچھ سی ڈی آرز ملی ہیں، ان کے زریعے ٹریسں کر رہے ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ریاست ناکام ہو چکی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی اس کو ریاست کی ناکامی نا کہیں، اگر ہم نا پیش کر سکے تو مان لوں گا کہ ریاست ناکام ہو گئی ،جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ احمد فرہاد کی بازیابی کا کیس نہیں رہا، یہ پوری قوم کی بازیابی کا مقدمہ ہے،

    آئی ایس آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور بجٹ سمیت تمام تفصیلات طلب
    جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکرٹری دفاع سے آئی ایس آئی کے کام کرنے کے طریقہ کار اور بجٹ سمیت تمام تفصیلات مانگ لیں ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہے، سیکٹر کمانڈر کا کیا کام ہے؟ طے کرنا ہے کہ ایجنسیاں چھپ کر نہیں بلکہ ایک واضح طریقہ کار کے تحت کام کریں گی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ سیکریٹری دفاع کو کہیں کہ پیش ہو کر ان سوالات کا جواب دیں کہ کیسے کسی شخص سے متعلق آئی ایس آئی تحقیق کرتی ہے؟ کون کون سی سطح پر کام کیا جاتا ہے؟ آئی ایس آئی عوامی پیسے پر ہی کام کر رہی ہے، ہر ادارہ عوام کو جواب دہ ہے،ہم ججز بھی جوابدہ ہیں،اگر ادارے قابل احتساب نا ہوں اور ان کے احتساب کا کوئی طریقہ کار بھی نا ہو تو ہم کیا کریں گے؟”احمد فرہاد کا بازیاب ہونا پیچھے رہ گیا اب پورے پاکستان کے لاپتہ افراد سے متعلق گائیڈ لائن اس کیس میں طے ہو گی،آئی ایس آئی اور ایم آئی کا دائرہ اختیار کیا ہے؟ میں تو ابھی بھی یہی مانتا ہوں کہ متعلقہ ادارہ صرف پولیس کا ہے، ایف آئی اے تحقیقاتی ادارہ ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی پولیس کی ہی معاونت کرنا ہوتی ہے،”ایسی کوئی ایجنسی پاکستان میں کام نہیں کر سکتی جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نا ہو، ہم ایجنسیز کے طریقہ کار سے متعلق judge made law بنائیں گے،

    طے کرنا ہے ایجنسیاں چھپ کر نہیں واضح طریقہ کار کے تحت کام کرینگی،جسٹس محسن اختر کیانی
    کانگریس میں کئی کئی گھنٹے سی آئی اے ایجنٹ جواب دیتا ہے، آپ بھی ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا لیا کریں ،جسٹس محسن اختر کیانی
    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئی ایس آئی تو وزیر اعظم آفس کے ماتحت ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا یہ تو اور آسان ہو گیا، کل کو وزیراعظم کو بلا کر پوچھیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کام کرنے کا اندرونی طریقہ کار کیا ہے یہ واضح ہونا چاہئے، ان ایجنسیوں نے کئی اچھے کام کیے ہیں، بندہ برآمد کر لینا حل نہیں ہے بلکہ قانونی طریقہ کار بنانا ہے کہ آئندہ پولیس خفیہ ایجنسیوں والوں کو بلا کر پوچھ سکے، ایجنسیوں کے رول آف بزنس بتانا ہوں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ انٹیلے جنس اہجنسیوں کا سیکیورٹی کے حوالے سے طریقہ کار تو طے ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکانگریس میں کئی کئی گھنٹے سی آئی اے ایجنٹ جواب دیتا ہے، آپ بھی ڈی جی آئی ایس آئی کو بلا لیا کریں ،دس دن ہو گئے، پتا نہیں اس بیچارے کا کیا حال ہو گا، اس کیس میں صحافیوں، انسانی حقوق کے نمائندوں اور سابق آئی جیز کو معاون مقرر کروں گا، دیکھیں نا ایجنسیوں پر الزام لگا ہے، موجودہ کیس میں واضح الزام آئی ایس آئی پر ہے، جن کا بندہ مرا ہو یا غائب ہو انہیں پتا ہوتا ہے کہ براہ راست کون ملوث ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس الزام کی واضح نفی کر چکا کہ احمد فرہاد آئی ایس آئی کے پاس نہیں ہے، ابھی احمد فرہاد کی بازیابی کی امید ختم نہیں ہوئی، ہو گی تو عدالت کو خود بتا دوں گا۔وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ احمد فرہاد سے وڈیو بیان لینا چاہ رہے ہیں کہ وہ باہر آ کر ویسے نہیں بولے گا جیسے بولتا تھا، مشروط رہائی کا کہا جا رہا ہے، احمد فرہاد کی جان کو خطرہ لاحق ہے،

    تحفظ قانون دے گا، کسی سے دشمنی کی بات نا کریں۔جسٹس محسن اختر کیانی
    صحافی احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی کے سامنے حامد میر پیش ہو گئے اور کہا کہ گزشتہ سماعت کے بعد حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ شروع کردیا ہے۔ جو سوال آپ نے ایجنسیز سے پوچھے ہیں کیا ہم ان کی کوریج کر سکتے ہیں؟جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بالکل آپ اس عدالت کی کارروائی کور کریں، اس پر کوئی پابندی نہیں، میں اس کیس کی آئندہ سماعت براہ راست دکھانے کا حکم دوں گا اور آئندہ جو بھی لاپتہ افراد کا کیس اس عدالت میں ہوگا وہ براہ راست دکھایا جائے گا، پیمرا کی پابندی عدالت پر تو نہیں ہے، پیمرا کا نوٹیفکیشن تو میرے سامنے نہیں ہے مگر آرڈر کروں گا سماعت براہ راست ہو، ہر دور میں کچھ صحافیوں کی آواز کسی کو ناپسند ہوتی ہے، یہ چلتا ہوا سلسلہ ہے۔وزیر قانون نے جو بھی پریس کانفرنس کی وہ تو اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے، یاد رکھیں گے یہ صرف وقت کی بات ہے کل کو آپ دوسری جانب کھڑے ہوں گے،، تحفظ قانون دے گا، کسی سے دشمنی کی بات نا کریں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگ پولیس کو جانتے ہیں، ایجنسیوں کو نہیں، یا تو ایجنسیوں کے بھی تھانے بنا دیں تا کہ لوگ سیدھا انہی کے پاس جائیں، یا قانون بنا دیں کہ ایجنسیاں 90 یا 100 دن کسی کو تحویل میں رکھیں گی،احمد فرہاد کیس میں لاپتہ افراد کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے اپنا طریقہ کار بتایا تو جسٹس محسن اختر کیانی نے کہامجھے ایسی کوئی مثال دیں کہ پولیس نے انٹیلی جنس افسر کو مس کنڈکٹ پر پکڑا ہو۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ جو اخبار بھی اپنے اینگل سے جبر چھاپتا ہے تو لوگوں کو پتا چلتا ہے،کوئی پارلیمنٹ میں ہمارے متعلق بات کر کے گا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب سے براہ راست دکھائیں گے تا کہ سب خود ہی فیصلہ کر لیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ احمد فرہاد کیس کی آئندہ سماعت پر سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی سیکریٹری دفاع کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ایک ایس ایچ او سے اوپر نہیں، وہ ایک کھرا انسان ہے، پہلے بیان دیں پھر پیش ہوں۔عدالت نے کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    احمد فرہاد کی بازیابی درخواست ،سیکرٹری دفاع و داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب

  • نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز

    نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز

    فوج نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر فیض حمید کیخلاف انکوائری کمیٹی بنا دی۔

    ذرائع کے مطابق کمیٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گی۔ انکوائری کمیٹی اعلی عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں قائم کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی الزامات ثابت ہونے پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر ہاؤ سنگ سوسائٹی کے حوالے سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، ہاؤ سنگ سوسائٹی کے معاملات کی اعلی عدلیہ سماعت کرچکی ہے۔

    ٹاپ سٹی سکینڈل کیس میں جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کا حکم
    8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں انہوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فائل کی گئی پیٹیشن میں یہ الزام لگایا کہ سابقہ DG ISI لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو ان کے اور ان کی فیملی کے خلاف غیر قانونی طور پر استعمال کیا،معیز احمد خان کی طرف سے جو پٹیشن سپریم کورٹ میں فائل کی گئی اس میں یہ کہا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افیشلز نے ٹاپ سٹی آفس اور معیز احمد کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران اُن کے گھر سے قیمتی اشیاء جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل ہیں، ریڈ کے دوران آئی ایس آئی آفیشلز اٹھا کر لے گئے – پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ سابقہ DG ISI لیفٹیننٹ جنرل حمید فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا – اس پٹیشن میں یہ کلیم بھی کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سے خود ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی دلائی کہ ان میں سے کچھ چیزیں جو کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی کے آفیشلز ساتھ لے گئے تھے وہ ان کو واپس کر دی جائیں گی البتہ 400 تولہ سونا اور کیش ان کو واپس نہیں کیا جائے گا – پٹیشن میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آئی ایس آئی آفیشلز نے ان سے زبردستی چار کروڑ روپیہ کیش بھی لیا – پٹیشن میں مختلف آئی ایس آئی آفیشلز اور سابقہ DG ISI جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ٹاپ سٹی کو غیر قانونی طور پر ٹیک اوور کرنا چاہتے تھے

    معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اور ان سنگین الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ جس میں چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس قاضی فائض عیسی، جسٹس عطر من اللہ اور جسٹس امین الدین شامل تھے اس کیس کو سنا اور فیصلہ دیا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے کی سنگین نوعیت ہونے کی وجہ سے ادارے کی عزت اور توقیر میں حرف ا سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – معاملے کی مزید انویسٹیگیشن کے لیے سپریم کورٹ نے ا پٹیشنر کو یہ کہا کہ وہ اس مسئلے کو وزارت دفاع کے ساتھ اٹھائے – اٹارنی جنرل اف پاکستان نے اعلی عدلیہ کو یہ یقین دہانی دلائی کہ اس معاملے پر مکمل تعاون کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے اوپر ایکشن لیا جائے گا ،اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں، پاکستان فوج نے اپنے احتساب کے عمل کو اگے بڑھاتے ہوئے تمام معاملات کو ایک ہائی لیول ادارتی انکوائری کے ذریعے انویسٹیگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان سنگین الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی ایک میجر جنرل کے نیچے بنا دی گئی ہے جو اس معاملے سے جڑے ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھے گی،پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور انتہائی شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کو اگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام الزامات کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے اور ذمہ داران کو کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کے خود احتسابی کے شفاف عمل پر کوئی انچ نہ آ سکے

    فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی،عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے، درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،

    سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،

    کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی‌نے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،

    زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،

    فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
    راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے