Baaghi TV

Tag: آئی جی

  • خیبرپختونخوا میں نئے آئی جی کی تعیناتی،علی امین کو گرفتاریوں کا خوف

    خیبرپختونخوا میں نئے آئی جی کی تعیناتی،علی امین کو گرفتاریوں کا خوف

    پشاور: وزیر اعلیٰ کے پی کا خیبرپختونخوا میں نئے تعینات آئی جی ذوالفقار حمید سے کہنا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ آپ کسی کےکہنے پر غیر قانونی گرفتاریاں کریں،جبکہ آئی جی ذوالفقار حمید نے وزیر اعلیٰ کو غیر جانبداری کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز حکومت نے آئی جی کے پی اختر حیات خان کو ہٹا کر ان کی جگہ ذوالفقار حمید کو نیا آئی جی کے پی تعینات کیا تھا،آئی جی ذوالفقار حمید کی تقرری پر کے پی اور وفاقی حکومت دونوں کی مرضی شامل تھی، ذوالفقار حمید کا نام کے پی حکومت کے تجویز کردہ ناموں میں تیسرے نمبر پر تھا۔

    نجی خبررساں ادارے نے‌ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ذوالفقار حمید کی تعیناتی کی زیادہ خواہش وفاقی حکومت کی تھی جبکہ وزیراعلیٰ کے پی چاہتے تھے کہ خیبر پختونخوا کا ہی کوئی سینئر افسر آئی جی پولیس بنے آئی جی کی تقرری پر وزیر اعلیٰ کے پی کا وفاقی سطح پر بھی رابطہ ہوا تھا، وزیراعلیٰ کے پی سے چند روز قبل نو تعینات آئی جی ذوالفقار حمید کی ملاقات ہوئی تھی، آئی جی ذوالفقارحمید نے وزیر اعلیٰ کو غیر جانبداری کے ساتھ کام کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والا عراقی شخص قتل

    ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پی کا ملاقات میں ذوالفقار حمید سے کہنا تھا ایسا نہ ہو کہ آپ کسی کےکہنے پر غیر قانونی گرفتاریاں کریں، جس پر ذوالفقار حمید کا کہنا تھا محکمے کو آئین اور قانون کے مطابق چلایا جائےگا، وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا پولیس نے کوئی غیر قانونی کام کیا تو ہمارا ردعمل سخت ہو گا۔

    اس حوالے سے مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ذوالفقار حمید ہمارے تجویز کردہ ناموں میں شامل تھے، ذوالفقار حمید ایک تجربہ کار اور پروفیشنل پولیس آفیسر ہیں، امید ہےکہ نئے آئی جی امن و امان قائم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کریں گے۔

    سدھو نے 5 ماہ سے بھی کم عرصے میں 33 کلو وزن کیسےکم کیا؟

    واضح رہے کہ پولیس سروس گریڈ 21 کے ذوالفقار حمید کو نیا آئی جی کے پی کے تعینات کردیا گیا ہے، ذوالفقار حمید اس سے قبل پنجاب حکومت میں خدمات سر انجام دے رہے تھے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اختر حیات گنڈاپور کے تبادلے اور ذوالفقار حمید کی تعیناتی کے کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔

    واضح رہے کہ اختر حیات گنڈاپور کو فروری 2023 میں معظم جاہ انصاری کی جگہ آئی جی خیبرپختونخوا تعینات کیا گیا تھا اختر حیات اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

    پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا امریکی خاتون کا انوکھا مطالبہ

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) احمد اسحاق جہانگیر کو عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں او ایس ڈی بنایا گیا ہے ،نئے ڈی جی ایف آئی اے کیلئے عثمان انور کا نام سر فہرست ہے جبکہ آئی جی پنجاب کے لئے بلال کمیانہ کا نام ہارٹ فیورٹ ہے۔

  • ہم ہر گلی یا چوک پر پولیس اہلکار نہیں کھڑا کر سکتے،آئی جی اسلام آباد

    ہم ہر گلی یا چوک پر پولیس اہلکار نہیں کھڑا کر سکتے،آئی جی اسلام آباد

    اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے ارکان کے غصے کا سامنا کر گئے۔

    کمیٹی کے ارکان نے آئی جی اسلام آباد پر سخت تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔کمیٹی کے چیئرمین نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ تو ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہاں پرندہ بھی نہیں مار سکتا، لیکن بینک ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہو رہی ہیں۔ لوگوں کو خوف ہے کہ کہیں کوئی موٹرسائیکل سوار آ کر واردات نہ کر جائے۔”اس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ "یہ سب سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی سنسنی ہے، اسلام آباد کی صورتحال مکمل طور پر پرسکون ہے۔ ہم ہر گلی یا چوک پر پولیس اہلکار نہیں کھڑا کر سکتے۔”سینیٹ کمیٹی نے پولیس کے موجودہ انتظامات پر سوالات اٹھائے اور یہ بھی کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں جرائم بڑھ چکے ہیں، اسلام آباد میں ڈکیتی کی ایک اور واردات میں ایس ایم جی گن کا استعمال ہوا ہے بری امام کے علاقے میں ڈاکو موبائل دکان لوٹ کر فرار، جاتے ہوئے فائرنگ بھی کرتے گئے۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کیا گیا،ملزمان موبائل شاپ سے 6لاکھ 30ہزار روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے،دو موٹر سائیکلوں پر چار ملزمان آئے تھے،ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیکر ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • شعیب شاہین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    شعیب شاہین کو عدالت پیش کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی بازیابی درخواست پر آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو آج دن اڑھائی بجے طلب کر لیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے شعیب شاہین کے بھائی کی درخواست پر احکامات جاری کیے ،شعیب شاہین کو کل پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو بھی طلب کر لیا ،عدالت نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بھی اڑھائی بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ چونکہ یہ درخواست صرف شعیب شاہین کی بازیابی کی ہے، مگر آئی جی صاحب پھر بھی پوچھ رہا ہوں کہ نیشنل لیول کے لوگ ہیں سب،کیا کسی کو غیر قانونی طور پر گرفتار رکھا گیا ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ نہیں سب کی باقاعدہ گرفتاری ڈالی گئی ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ شعیب شاہین نے کسی بھی کارکن کو کسی قسم کی کوئی ہدایت نہیں دی،آپ نے سارا اسلام آباد بند کر دیا تھا این او سی دے کر لوگوں پر شیلنگ کی گئی ،لا انفورسمنٹ نے لوگوں کی حفاظت کرنا تھی ،لیکن انھوں نے شیلنگ کی،یہ وزیر داخلہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کی حفاظت کرے،وزیر داخلہ کا کام کیا رہ جاتا ہے اسے کس لیے رکھا گیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن نون نے گرفتار کیا تو کیا کسی اور تھانے کا ایس ایچ او بھی گرفتاری کے لیے گیا؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے شعیب شاہین کی گرفتاری کے ڈاکومنٹس مانگ لیے اور کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ گرفتاری کے بعد بند حوالات سی آئی اے کیا گیا،یہ بھی لکھا ہے کہ گرفتار ملزم کو پیش مجاز عدالت کیا جائے گا،کیا گرفتاری کے بعد شعیب شاہین کی تحویل سی آئی اے کو دی گئی تھی؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شعیب شاہین کو پیش کر کے جسمانی ریمانڈ مانگا گیا ہے اور سماعت اے ٹی سی میں چل رہی ہے،ووکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ دوران گرفتاری پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی۔جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ شعیب شاہین مختلف دفعات کے تحت گرفتار ہیں۔میں اس سارے معاملے کو دیکھ لیتا ہوں۔تمام افراد کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے۔

    شعیب شاہین عدالت پیش، پولیس کو کہا میں ڈیجیٹل نہیں کلاشنکوف والا دہشتگرد ہوں،شعیب شاہین
    دوسری جانب شعیب شاہین کو انسداد دہشت گردی عدالت پیش کر دیا گیا،شعیب شاہین نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں وکٹری کا نشان بنا دیا وکلاء کو نعرے بازی نہ کرنے اور استقامت کی ہدایت کی،شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے تھانہ رمنا میں رکھا گیا پھر سی آئی اے لے گئے،رات کو گرفتار ہونے والے تمام ارکان اسمبلی بھی سی آئی اے میں ہیں، ارکان اسمبلی کو علی الصبح سی آئی اے میں لایا گیا،میں زیادہ بڑا دہشتگرد ہوں اس لئے مجھے کل ہی سی آئی اے لے گئے تھے، تفتیش میں مجھ سے موبائل کا پاسورڈ مانگا گیا،پولیس کو جواب دیا کہ مقدمہ دہشتگردی کا درج کیا ہے وہ سوال کرو، پولیس کو کہا میں ڈیجیٹل نہیں کلاشنکوف والا دہشتگرد ہوں، مجھ پر مقدمہ تو کلاشنکوف اور بم والا ہے تو سوال بھی وہی پوچھیں،

    شعیب شاہین کا 15 روزہ ریمانڈ مانگ لیا گیا
    بعد ازاں سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی.پراسیکیوٹر کی جانب سے مقدمے کا متن پڑھنا شروع کر دیا گیا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ بقیہ ملزمان کے آنے کا بھی انتظار چاہ رہاتھا، کیس شروع کرتے ہیں،شعیب شاہین سے کیا چاہیے ؟ پراسکیوٹر نے مقدمے کا متن پڑھا اور کہا کہ شعیب شاہین نے کارکنان کو اکسایا ، ہمیں ریمانڈ دیا جائے ہم نے شعیب شاہین سے ڈنڈے ، راڈ پولیس کی کٹ برآمد کرنی ہے، 15 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج ہے، اس میں ہم 90 دن کی ریمانڈ لے سکتے ہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جلسہ کب سے کب تک تھا؟ جلسے کا بتائیں،پراسکیوٹر نے کہاکہ جلسے کا وقت 4 سے 7 بجے تک تھا، امن و امان کا ایکٹ نیا آیا ہے، تحریک انصاف کا جلسہ چلتا رہا، انتظامیہ نے بہت کوشش کی امن و امان قائم رہے، جلسہ کی جگہ سے بارود بھی برآمد آیا، تحریک انصاف کی قیادت نے اشتعال پیداکیا،پراسیکیوٹر راجہ نوید کے دلائل مکمل ہوئے،شعیب شاہین کے وکیل نے دلائل شروع کر دئیے

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جلسے کا این او سی 7 بجے تک کا تھا اور مقدمہ 6:30 بجے درج کیا گیا ،اس مقدمے میں شعیب شاہین کا زکر کیا گیا شعیب شاہین اس جگہ پر موجود بھی نہیں تھے ، شعیب شاہین شئیر وکیل ہیں ، یہاں بندہ سانس لیتا ہے تو مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے ،مقدمے میں لکھا ہے شعیب شاہین ڈکیت ہے ، میرے بھائی کو کمانڈنگ للکار کا پتہ ہی نہیں،شعیب شاہین اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر رہے، سپریم کورٹ کا وکیل ہے، اور ایک بڑی سیاسی جماعت کا اہم ممبر ہے،کہا جارہا ہے کہ شعیب شاہین اور عامر مغل نے کارکنوں کو اکسایا جو کہ شعیب شاہین وہاں موجود ہی نہیں،شعیب شاہین کا ریمانڈ نہیں بلکہ ڈسچارج کا کیس ہے،وکیل صفائی ریاست علی نے کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی،کہا کہ شعیب شاہین کو تو پولیس کو ہی ڈسچارج کردینا چاہیے تھا،شعیب شاہین کے ریکارڈ پر کوئی ماضی میں مقدمات نہیں،اتنی شاپر میں جگہ نہیں جتنی تحریک انصاف والوں کے خلاف مقدمات درج ہورہےہیں، ایسے تو جناب کا یا میرا نام لیں گے تو کیا ہم ملزم ہونگے؟ ،یہ کس چیز کی تفتیش کررہے ہیں کیا شعیب شاہین سے ایٹم بم برآمد کررہے، اس کیس میں ریمانڈ کی مخالفت نہیں کرو ں گا بلکہ شعیب شاہین کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے ،شکر ہے انتظامیہ نے تحریک انصاف کو یونیفارم میں جلسہ کرنے کی ہدایت نہیں کی،مقدمہ میں پورے کا پورا پاکستان پینل کوڈ درج کردیاہے،مجھے شرم آرہی ہے کہ سینئیر اور پروفیشنل وکیل شعیب شاہین کو ملزم کہوں ،معاشرے میں ایک عزت دار شخص کی آپ توہین کررہے ہیں آپ اسے دہشت گرد پیش کررہے ہیں،یہ صرف اور صرف اختیارات کے ناجائز اور غیر قانونی استمعال کیا جارہا ہے،ہم عدالت کو سی سی ٹی وی فوٹیجز دکھایں گے کہ لاء چیمبر سے اٹھایا گیا،

    جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ شعیب شاہین کا کیا کردار ہے وہ بتا دیں ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہوں نے ہدایت دی تھی ، وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ یہ ہدایت ہدایت کہ رہے اللہ انکو ہدایت دے،وکیل کے چیمبر کو تحفظ فراہم ہوتاہے،شعیب شاہین اپنی پیشہ ورانہ زمہ داری نبھا رہے تھے شعیب شاہین کو ایک اور مقدمہ میں بھی نامزد کررکھاہے، پراسکیوٹر راجہ نوید نے کہا کہ تحریک انصاف کا پورا گینگ ہے، وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ جی بہت بڑا ڈکیت گینگ ہے ، جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جلسہ کب سے کب تک تھا؟ کیا خلاف ورزی کی ہے ؟ پراسیکیوٹرراجانوید نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایگریمنٹ کیاتھاکہ این او سی کی مکمل پابندی کریں گے، عدالت نے استفسار کیا کہ سنگجانی جلسہ گاہ اور 26 نمبر چونگی میں کتنا فاصلہ ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ دونوں مقامات میں 7 سے 8 کلومیٹر کا فاصلہ ہے ، عدالت نے کہا کہ تو پھر یہ ہجوم وہاں پہنچ کیسے گیا ؟،

    صدر اسلا م آباد بار نے کہا کہ شعیب شاہین کے کلائنٹس ان کے آفس بیٹھے ہوئے تھے کیا میسج دیا گیا،ہم سب کے لیے کلائنٹس بہت عزیز ہیں،مگر کیا ہوا سب نے دیکھ لیا،چیف جسٹس آف پاکستان کہتے ہیں پارلیمان مقتدر ہے،مقدمے میں جو کہا گیا وہ مفروضے ہیں، کیونکہ شعیب شاہین نے کب کس جگہ کارکنوں کو ہدایت دی، جو شخص ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے آفس جاکر این او سی لیتے ہیں وہ کسی کو یہی کہے گا،کہاں پر شعیب شاہین نے کہا کس کو کہا؟،جلسے کی این او سی جب دی تو راستے کیوں بند کردئیے گئے؟،کارکنوں نے اپنے جلسے میں جانا تھا انہوں نے راستے بند کردیے تھے،

  • لاہور ہائیکورٹ،راضی نامے کی بنیاد پر نمٹائے گئے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب

    لاہور ہائیکورٹ،راضی نامے کی بنیاد پر نمٹائے گئے تمام مقدمات کی تفصیلات طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں منشیات کےملزم عمران علی کے کیس کی سماعت ہوئی۔
    ہائی کورٹ نے عدالتوں میں بروقت چالان نہ بھجوانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے راضی نامے کی بنیاد پر نمٹائے گئے تمام ترمقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں،عدالت نے دو لاکھ دو ہزار مقدمات کےچالان کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مقدمات کےاندراج کےنظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت کردی۔دوران سماعت لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی بتائیں پنجاب میں کیا ہو رہا ہے، تین لاکھ باسٹھ ہزار مقدمات درج ہوئے، اب پتہ ہی نہیں کہ ان مقدمات کو زمین کھا گئی یا آسمان، بتایا جائے سب سے زیادہ مشکلات کن اضلاع میں آرہی ہے؟آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ گیارہ ہزار آٹھ سو کے قریب تفتیشی افسران کو شوکاز نوٹس دیے ہیں، گیارہ ہزار مرتبہ اہلکاروں کو سزائیں دی گئی ہیں، کئی روز سے مسلسل اجلاس بلا کرڈیڑھ لاکھ مقدمات کو ٹریس کرکے چالان مرتب کئے، ڈیڑھ سال میں مقدمات کے اندراج کی تعداد میں چھالیس فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ سال پچھتر ہزار بجلی چوری کے مقدمات درج ہوئے، اس سال بجلی چوری کے مقدمات کی تعداد بڑھ کر80 ہزار ہوگئی، لودھراں میں مقدمات کے چالان زیرو فیصد تک لے آئے ہیں، لاہور میں 59 ہزارمقدمات اور فیصل آباد میں 81ہزار مقدمات درج ہوئے۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے کہا کہ جن مقدمات میں راضی نامہ ہوا ان کی تفصیلات سے متعلقہ عدالت کو آگاہ کیا گیا یا نہیں، 2017 سے ریکارڈ طلب کیا پتہ نہیں اس پہلے کا کیا حال ہے، کیسز کے چالان پیش نہ کرنے سے امور متاثر ہوتے ہیں،آئی جی پنجاب نے بتایا کہ سالانہ 160 کیسز ہر تفتیشی کے حصے میں آتے ہیں،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے کہا کہ تو اس طرح سے روزانہ کے حساب سے تو تفتیشی افسر کیلئے چالان پیش کرنا مشکل نہیں۔

    کارساز حادثہ،ملزمہ نتاشا نشے میں تھی، میڈیکل رپورٹ میں تصدیق

    نتاشا کے شوہر دانش اقبال نے گرفتاری کے ڈر سے حفاظتی ضمانت کروا لی

    کارساز حادثہ،ملزمہ "پاگل” نہیں بالکل تندرست ہے، ڈاکٹرکی تصدیق

    کارساز حادثہ،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،جیل بھجوا دیا گیا

    کارساز حادثہ،پولیس کی سنگین غفلت، ملزمہ کو بچانے کی کوشش

    کارساز حادثہ،ملزمہ کی ضمانت مسترد،جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری فیضان کی بازیابی کیلئے آئی جی کو مہلت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری فیضان کی بازیابی کیلئے آئی جی کو مہلت

    اسلام آباد ہائیکورٹ لاپتہ شہری فیضان عثمان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کیس نے سماعت کی، سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دو تین دن کا مزید وقت دیا جائے،آئی جی اسلام آباد پیش ہوئے اور کہا کہ میں نے لاپتہ فیضان کے والد کے ساتھ آدھا گھنٹہ گزارا، فیضان کی لوکیشن پہلے اسلام آباد اور 17 اگست کو پھر لاہور کی لوکیشن آئی، اس حوالے سے فوٹیجز دیکھی ہیں، کچھ لوگوں کے چہروں پر ماسک ہیں، دوسری فوٹیج میں نظر آنے والے لوگوں کے چہرے واضح نہیں ہیں، فوٹیج میں گاڑیاں واضح نظر آ رہی ہیں،وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع کو گاڑیوں سے متعلق معلومات کے لیے لکھا ہے، سیف سٹی کا ریکارڈ ایک مہینے تک ہوتا ہے، اس واقعے کو 2 ماہ ہو چکے ہیں.

    عدالت نے کہا کہ لاپتہ کرنے کا الزام ایجنسی کے اوپر ہے تو ڈائریکٹ ان سے پوچھیں،عدالت نے آئی جی کو آئی ایس آئی سے پیر تک بات کرنے کا وقت دیدیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیضان کو بازیاب کرانے کیلئے 10 ستمبر تک کی مہلت دے دی.گزشتہ روز کی سماعت کے آرڈر کے مطابق عدالت نے سیکرٹری دفاع ، داخلہ ، آئی جی ، سیکٹر کمانڈر سے ایک ہفتے میں بیان حلفی بھی طلب کر رکھا ہے

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

  • اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس میں آئی جی کو طلب کرنے کا عندیہ

    اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کیس میں آئی جی کو طلب کرنے کا عندیہ

    لاہور ہائیکورٹ ،پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پولیس کو جیو فینسنگ کا ڈیٹا حاصل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی، ایڈوکیٹ اشتیاق اے خان نے کیا کہ 24 جون کے آڈر میں جیو فینسنگ کا کہا گیا، پھر ابھی تک اس کا انتظار ہے، ایس پی پولیس نے کہا کہ ہم نے ٹیلیفون کمپنیوں کو درخواست کی ہے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ابھی تک رپورٹ کیوں نہیں آئی، ایک ماہ گزر گیا ہے، ایس پی پولیس نے کہا کہ ابھی صرف ایک کمپنی کا ڈیٹا آیا ہے، باقی کمپنیوں کا ڈیٹا آنا ہے،عدالت نے کہاکہ اگر پیر کے دن پولیس ریکارڈ نہ لائی تو آئی جی پنجاب کو طلب کر لیں گے, اظہر مشوانی کی والد قاضی حبیب الرحمن عدالت میں پیش ہوئے ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے قاضی حبیب الرحمن کی درخواست پر سماعت کی

    اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
    ‏تحریک انصاف سوشل میڈیا انچارج اظہر مشوانی کے 2 بھائیوں کی بازیابی کےلیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی،درخواست والد قاضی حبیب الرحمن کیجانب سے دائر کی گئی ہے،دائر درخواست میں آئی جی پنجاب، سی ٹی ڈی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست سلمان اکرم راجہ،ایڈوکیٹ ابوزر سلمان خان نیازی کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں کہا گیا کہ پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو رات گئے گھر سے اغواء کیا گیا، سادہ لباس اور پولیس یونفارم میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا، اغواء کرنے والوں نے نہیں بتایا کہ انہیں کیوں لے کر جا رہے ہیں، اس سے قبل پروفیسر ظہور کو 100 سے زائد غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، عدالت پروفیسر ظہور اور پروفیسر مظہر کو بازیاب کروانے کا حکم دے،

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی ماڈل ٹاون  اور اے ایس پی عبداللہ کو معطل کرنیکا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا ایس پی ماڈل ٹاون اور اے ایس پی عبداللہ کو معطل کرنیکا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نےغلام شبیر کو بازیاب نہ کرنے کےخلاف درخواست کاتحریری فیصلہ جاری کیا ہے
    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ غلام شبیر کو بازیاب نہ کرنے کےخلاف درخواست پر جسٹس امجد رفیق نے دوصفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب ،ایس پی ماڈل ٹاون اخلاق اور اے ایس پی عبداللہ کو معطل کریں،آئی جی سینئیر پولیس افسر کو تعینات کرے جومغوی کی بازیابی کی رپورٹ پیش کرے،عدالتی فیصلے پر ایس پی نے عدالت سے غیرمشروط معافی مانگی،ایس پی نے آئندہ سماعت تک مغوی کی ہرصورت بازیابی کے لئے عدالت کویقین دہانی کرائی، عدالت نےمغوی کی بازیابی کےلئے ایس پی کے بیان پراسے ایک اور موقع دے دیا،آئی جی پنجاب ایس پی اخلاق کی مغوی کی برآمدگی کی کوشش اورنگرانی کےلئے سینئیرافسرتعینات کرے، مغوی کو بازیابی کے لئے گھر سے فیصل آباد اور اسلام تک جدید آلات کااستعمال کرکے ڈھونڈا جائے ،مغوی کوجیوفینسنگ،سی سی ٹی وی کیمروں،سیف سٹی، موٹروے اور دیگر ذرائع سے اگلی سماعت تک ٹریس کیا جائے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مغوی کی بازیابی کےلئے میڈیا کا ذرائع بھی استعمال کیا جائے،عدالت نے10جون کو مغوی کی بازیابی کا حکم دیا،تحریری فیصلے می کہا گیا کہ اے ایس پی مغوی کی بازیابی کے لئے عدالت کو مطمئن نہ کرسکا۔عدالتی حکم پرایس پی اخلاق نے پیش ہو کر عدالت کے سامنے سرد مہری کامظاہرہ کیا ،ایس پی نے معصومیت سے کہا کہ اگر درخواست گزار پولیس سے تعاون کرے تو مغوی کوب ازیاب کرانے کی کوشش کی جائے گی، پولیس افسروں کا رویہ واضع طور پرعدالتی حکم عدولی ہے،پولیس نے 4 دنوں میں مغوی کی بازیابی کے لئے کوشش ہی نہیں کی۔

  • آئی جی صاحب، عدالت کا مذاق نہ بنائیں، عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    آئی جی صاحب، عدالت کا مذاق نہ بنائیں، عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائی کورٹ ،اے ٹی سی سرگودھا کے جج کو ہراساں کرنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ملک شہزاد احمد خان نے از خود نوٹس پر سماعت کی،آئی جی پنجاب عدالت پیش ہوئے اور کہا کہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے، یہ عدلیہ کی آزادی سے جڑا ہوا ہے،یہ رپورٹ صرف آپ کی عدالت کے لیے اور صرف آپ کے لیے ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارے بہت اچھے جوڈیشل افسر ہیں جنہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کے بندے کے ملنے کا پیغام پہنچایا گیا، کیا آپ نے وہ بندہ ڈھونڈا ہے جو جج صاحب سے ملنا چاہتا تھا؟سرگودھا عدالت کے باہر فائرنگ کے معاملے پر کیا اپ ڈیٹ ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہمیں وہاں سے 17 گولیوں کے خول ملے ہیں ۔ ہم نے یہ معاملہ سی ٹی ڈی کو ریفر کر دیا ہے۔ عدالت کے باہر فائرنگ ہوئی، جج صاحب کے حکم پر ہم نے انکوائری کروائی، ہمیں سب سے پہلے عدالت کے علاقے کی جیو فینسنگ کروانی ہو گی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیلیفون کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی کو موبائل ڈیٹا نہیں دیں گی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ پھر کرفیو نافذ کر دیں، آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی ڈی آر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،

    آپ نے کس قانون کے تحت وکلا اور سائلین کے عدالت میں جانے پر پابندی لگائی،عدالت
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر جیو فینسنگ کی اجازت نہیں ملتی تو آپ بندے کو گرفتار نہیں کریں گے؟ بہاولپور میں جج صاحب کے گھر کے باہر جو میٹر توڑا گیا، اس کی کیا معلومات ہیں ؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے پتہ کروایا ہے، ہمیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی،جج صاحب کا خیال ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسی کے بندوں نے ان کا میٹر توڑا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ بتائیں آپ نے کس قانون کے تحت وکلا اور سائلین کے عدالت میں جانے پر پابندی لگائی، ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے تھریٹ الرٹ ملا تھا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ چاہتے تھے کہ جج صاحب کے پاس جو کیس لگے ہیں ان پر کارروائی نہ ہو سکے.ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ہم نے جج صاحب کو کام سے نہیں روکا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ نے وکلا اور سائلین کو عدالت میں گھسنے نہیں دیا، اور کام سے روکنا کیا ہوتا ہے؟ آپ نے راولپنڈی کے جج کے ساتھ بھی یہی کیا، راولپنڈی کے جج نے درخواستیں کیں کہ آپ لوگ ان کے ساتھ سلوک کیا کر رہے ہیں، آپ بتائیں کہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے ؟ ڈی پی او سرگودھا نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے تھریٹ الرٹ ملا تھا،

    ملک میں دوہرا معیار ، جو جج پسند نہ ہو اس کے خلاف بیان بازی شروع کر دیتے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ پھر پورے پاکستان کی عدالتوں کو بند کر دیں، سارے پاکستان میں ہی تھریٹ الرٹ ہے، جج صاحب اپنے کام سے نہیں رکے، انہوں نے خط میں بھی لکھا ہے کہ وہ ڈرنے والے نہیں، جو کام انہوں نے کرنا تھا، آپ نے اس کام سے انہیں روکا، آپ کا حساب تو انہوں نے لینا ہے جنہیں آپ خوش کر رہے ہیں، آئی جی صاحب، براہ کرم عدالت کا مذاق نہ بنائیں، کور کمانڈر کے گھر حملہ ہوا، اس پر عدالتوں نے فیصلے کرنے ہیں، صوبے کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ ہو تو آپ نے کسی کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا،آئی جی پنجاب نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حوالے سے آپ نے مجھے شاباش دی تھی،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ٹھیک ہے میں نے شاباش دی، آپ نے اچھا کام کیا،اس ملک میں دوہرا معیار ہے، جو جج پسند نہ ہو اس کے خلاف بیان بازی شروع کر دیتے ہیں، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر پروگرام چلوائے جاتے ہیں،

    واضح رہے کہ اے ٹی سی جج سرگودھا نےچیف جسٹس کو خط میں کہا تھا کہ مرضی کا فیصلہ نہ دینے پر عدالت کے باہر ہوائی فائرنگ کی گئی راستے بلاک کردئیے گئے تحفظ فراہم کیا جائے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے اے ٹی سی جج سرگودھا کے خط پر از خود نوٹس لیا تھا

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • آئی جی اسلام آباد نے 22 دن بعد چارج سنبھال لیا

    آئی جی اسلام آباد نے 22 دن بعد چارج سنبھال لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نئے آئی جی علی ناصر رضوی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے

    علی ناصر رضوری لاہور سے اسلام آباد پہنچے اور عہدے کا چارج لے لیا،آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نےنوٹیفیکشن جاری ہونےکے 22 دن بعد عہدے کا چارج سنبھالا، ان کی بطور آئی جی اسلام آباد تعیناتی کا نوٹیفکیشن 30 مارچ کو جاری ہوا تھا۔

    آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے آئی جی اسلام آباد کے عہدے کا چارج سنبھالنے سے قبل یادگارِشہداء پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی،ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد کو پولیس کے دستے نے سلامی دی،
    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق سید علی ناصر رضوی کا تعلق پاکستان پولیس سروس کے 31 کامن سے ہے، علی ناصر رضوی نے مختلف عہدوں پر پنجاب کے 9 اضلاع میں خدمات سرانجام دے رکھی ہیں، علی ناصر رضوی نے بطور اے ایس پی، ایس پی، ایس ایس پی، سی پی او اور ڈی آئی جی خدمات انجام دی ہیں،سید علی ناصر رضوی نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی خدمات انجام دے رکھی ہیں

    دوسری جانب ڈی پی او سرگودھا کامران فیصل کو ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تعینات کردیا گیا ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے کامران فیصل کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے،

    ‏نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی کا معاملہ تنازعات کا شکار رہا تاہم اب معاملہ حل ہو گیا ہے جس کے بعد نئے آئی جی اسلام آباد نےچارج لے لیا ہے ،ڈی آئی جی سیف سٹی خرم جانباز اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز حسن رضا خان نئے آئی جی سے ایک سال سنئیر ہیں،ڈی آئی جی سیکورٹی محمد اویس نئے تعینات ہونے والے آئی جی اسلام آباد سے دو سال سنئیر ہیں، نئے تعینات ہونے والے آئی جی اسلام آباد کا تعلق پولیس سروس کے 31 ویں کامن سے ہے، ڈی آئی جی سیف سٹی اور ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز کا تعلق 30 ویں کامن سے ہے-

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا پولیس کو جدید اسلحہ ،آلات گاڑیاں نائٹ ویژن اور ڈرون فراہم کا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا پولیس کو جدید اسلحہ ،آلات گاڑیاں نائٹ ویژن اور ڈرون فراہم کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت مری میں خصوصی اجلاس ہوا،

    اجلاس میں صوبہ بھر میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا،انسپکٹر جنرل پولیس نے امن امان کی مجموعی صورت حال پر بریفنگ دی ،آرگنائزڈ اور سائبر کرائم کے خاتمے کے لئے سپیشل یونٹ اور آئی ٹی ٹریننگ کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا، عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات کے لئے تجاویز اور سفارشات پیش کر دی گئیَں،پولیس میں کرپشن اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی نشاندھی کے لئے سپیشل آڈٹ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی،کرپٹ اور مجرموں سے ساز باز کرنے والے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کا سپیشل کورٹ مارشل ہوگا، رشوت مانگنے پر سی ایم کے سپیشل ڈیش بورڈ پر شکایت درج ہو سکے گی ،سمگلنگ روکنے کے لئے باڈر سیکورٹی فورسز قائم کرنے کی تجویز پر غورکیا گیا،ہر کرائم کے لئے فنکشنل سپیشلائزڈ پولیس فورس قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا، منشیات کے خاتمے کےلئے مہم مسلسل جاری رکھنے کی منظوری دی گئی،عورتوں اور بچوں سے زیادتی کے مقدمات میں سزائے موت کے لئے قانون سازی کا فیصلہ کر لیا گیا،پنجاب میں ناجائز اسلحہ کلچر کے خاتمے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی گئی،پتنگ بازی اور دھاتی تار کے سدباب کے لئے مزید فول پروف انتظامات کرنے کا حکم دیاگیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ سزا یقینی بنا کر جرائم میں کمی یقنی بنائی جاسکتی ہے۔ بچوں اور عورتوں سے زیادتی کے مقدمات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا یا جائے۔پنجاب کے ہر شہری کا تحفظ حکومت کی بنیادی زمہ داری ہے، پولیس کو جدید اسلحہ ،آلات گاڑیاں، نائٹ ویژن اور ڈرون فراہم کرینگے ۔دہشت گردی ، سمگلنگ اور گینگز کے مستقل خاتمے کیلئے موثر کارروائی یقینی بنائی جائے ۔پراسکیوشن اور انوسٹی گیشن کا سسٹم میں بہتری کی ضرورت ہے۔

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار