Baaghi TV

Tag: آئی جی سندھ

  • آئی جی سندھ غلام نبی میمن ریٹائر

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن ریٹائر

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن مدتِ ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو گئے ہیں۔

    ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ حکومت نے کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کو قائم مقام آئی جی سندھ تعینات کر دیا ہے اس حوا لے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق جاوید عالم اوڈھو کو آئی جی سندھ کے تقررتک اضافی چارج دیا گیا ہے، وہ اس دوران صوبے بھرمیں پولیس کے انتظامی امور اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کی نگرانی کریں گےجاوید عالم اوڈھو اس وقت کراچی پولیس چیف کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہیں شہر میں جرائم کی روک تھام اور پولیس اصلاحات کے حوالے سے تجربہ حاصل ہے۔

    بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ذرائع کے مطابق قائم مقام آئی جی سندھ کی تعیناتی سے پولیس کے روزمرہ امور میں تسلسل برقرار رہے گا غلام نبی میمن کی ریٹائر منٹ پر پولیس افسران اور ملازمین کی جانب سے ان کی خدمات کو سراہا گیاسندھ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے پولیس قیادت کو مکمل اختیارات اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

    بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

  • فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی بنادی گئی ہے،  آئی جی سندھ

    فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی بنادی گئی ہے، آئی جی سندھ

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ملیرجیل سے 213 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 78 کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ملیر جیل میں ٹوٹل 6 ہزار قیدی ہیں، گزشتہ روز زلزلے کے جھٹکوں کے بعد2 سرکل کے قیدیوں کو باہر نکالا گیا جس کے بعد قیدیوں نے جیل کے مرکزی دروازے کی طرف بھاگنا شروع کردیا جبکہ دونوں سرکل میں منشیات کے مقدمات کے قیدی موجود تھے۔

    غلام نبی میمن نے کہا کہ مرکزی دروازے کے اندر جیل پولیس اور باہر ایف سی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، قیدیوں کے ہجوم کو دیکھ کر جیل پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی،ملیر جیل سے 213 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 78 کو گرفتار کرلیاگیا ہے جبکہ دیگر فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی بنادی گئی ہے، جیل کے اندراور اطراف میں بھی سکیورٹی کے انتظامات کو بڑھایا گیا ہے، پولیس کی اضافی نفری جیل کے اطراف کی آبادیوں میں سرچ آپریشن کررہی ہے۔

    ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قاتل گرفتار

    ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

  • آئی جی سندھ کا ہیلمٹ نہ ہونے پر موٹر سائیکل بند کرنے کا اعلان

    آئی جی سندھ کا ہیلمٹ نہ ہونے پر موٹر سائیکل بند کرنے کا اعلان

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر مزید سختی کریں گے، جن کے پاس ہیلمٹ نہیں ہو گا اس کی موٹر سائیکل بند کر کے کہا جائے گا کہ اپنا ہیلمٹ لے کر آئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں آئی جی سندھ نے کہا کہ چاہتے ہیں ٹریفک پولیس پبلک فرینڈلی ہو۔آئی جی سندھ نے کہا کہ 2 ہزار تفتیشی افسر بطور اے ایس آئی بھرتی ہو کر جوائن کریں گے تو بڑا فرق پڑے گا۔غلام نبی میمن نےمزید کہا کہ کوئی پولیس افسر جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف کریمنل کارروائی ہوتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 640 کیسز پولیس افسران کے خلاف رجسٹرڈ ہوئے، کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

    پی ایس ایل، نامناسب اشارے،عامر جمال پر جرمانہ

    بھارتی پروپیگنڈا مسترد ، انڈین فالس فلیگ آپریشن پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    پہلگام حملہ را اور بھارتی میڈیا کا گھٹ جوڑ ہے، مشعال ملک

  • گزشتہ رمضان کے مقابلے میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، آئی جی سندھ

    گزشتہ رمضان کے مقابلے میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، آئی جی سندھ

    کراچی: آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ گزشتہ رمضان کے مقابلے میں اس بار اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں کمی آئی ہے اس سال جنوری، فروری اور مارچ میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے کیسز میں بھی واضح کمی آئی ہے-

    باغی ٹی وی : سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ پچھلے سال رمضان میں روزانہ 249 اسٹریٹ کرائمز کے کیسز رپورٹ ہوتے تھے جبکہ اس سال رمضان میں روزانہ 175 اسٹریٹ کرائمز کےکیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، رمضان میں عمو ماً اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس سال جنوری، فروری اور مارچ میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے کیسز میں واضح کمی آئی ہے جس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، حکومت نے اس بجٹ میں تفتیش کے لیے 60 کروڑ روپے رکھے ہیں، زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام بڑھایا جا رہا ہے۔

    بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے،سرفراز بگٹی

    آئی جی سندھ نے کہا کہ تفتیش میں بہتری آئی ہے جس سے ملزمان کی سزاؤں میں اضافہ ہوا ہے اور سزاؤں کی شرح میں اضافے سے ہی جرائم میں کمی آرہی ہے، سندھ حکومت کو 2 ہزار نئے تفتیشی افسران بھرتی کرنے کا بھی کہا ہے،چاہتے ہیں پولیس کےنظام کو ڈیجیٹلائز کریں اس سے سزاؤں کی شرح میں مزید کمی ہوگی،کوشش کر رہے ہیں کہ انویسٹی گیشن افسران کے تبادلے زیادہ نہ ہو، 1460 سے زائد تفتیشی افسران ہیں ان کا تبادلہ نہیں کر رہے، مصطفیٰ عامر کیس میں اجتماعی طور پر مقدمے کے حل کے لیے کوشش کررہے ہیں، پراسکیوشن کی گائیڈ لائنز کے مطابق انوسٹی گیشن کی ہے۔

    تین دن میں 10 لاکھ روپے جمع کرنے والا بھکاری گرفتار

  • شاہ زین مری کی گرفتاری، آئی جی سندھ نے بلوچستان حکومت سے مدد مانگ لی

    شاہ زین مری کی گرفتاری، آئی جی سندھ نے بلوچستان حکومت سے مدد مانگ لی

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے چیف سیکریٹری داخلہ سندھ سے 2 ملزمان شاہ زین مری اور غلام قادر کی گرفتاری کا معاملہ چیف سیکریٹری بلوچستان کے ساتھ اٹھانے کے لیے درخواست کردی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آئی جی غلام نبی میمن کی جانب سے لکھے گئے خط میں ڈی آئی جی سائوتھ سید اسد رضا کی جانب سے 28 فروری کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیا گیا ہے، جس روز محافظوں کو گرفتار کیا گیا تھا.ڈی آئی جی جنوبی کے خط میں سندھ پولیس کے سربراہ سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ شاہ زین مری اور غلام قادر کی گرفتاری کے لیے آئی جی بلوچستان سے رابطہ کریں۔ڈی آئی جی کے خط کے مطابق 5 سیکیورٹی گارڈز کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایک اور ملزم غلام قادر کی لوکیشن بلوچستان سے ملی ہے۔یہ گرفتاری سندھ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے عہدیدار برکت علی سومرو کی جانب سے بوٹ بیسن تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کے بعد عمل میں آئی تھی۔

    ڈی آئی جی کے خط کے مطابق برکت علی سومرو نے اپنی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ 19 فروری کی صبح 3 بجے 5،6 افراد نے انہیں اور ان کے دوست وقاص احمد کو پستول کے بٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکایا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ برکت علی سومرو اپنے دوست وقاص احمد کے ساتھ اپنی کار میں جا رہے تھے کہ پیچھے سے ایک سرف جیپ آئی، جب وہ بوٹ بیسن کے قریب سروس روڈ پر پہنچے تو گاڑی کو راستہ دینے کے باوجود جیپ ڈرائیور نے اپنی گاڑی ریورس کرکے ان کی گاڑی سے ٹکرائی اور 5/6 نامعلوم مسلح ملزمان گاڑی سے باہر نکل آئے۔

    خط میں ایف آئی آر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر شراب کے نشے میں دھت تھے، انہوں نے برکت علی اور ان کے دوست پر حملہ کیا، انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور انہیں پستول کے بٹ سے پیٹا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔گزشتہ ہفتے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوٹ بیسن میں ایک 4×4 گاڑی آلٹو کار سے ٹکرائی، جس کے بعد ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی مسلح افراد گاڑی سے باہر نکلے اور برکت علی سومرو اور وقاص احمد کو مارنا شروع کر دیا۔

    چارجڈ پارکنگ ختم کرنیکا فیصلہ ہوا اور ایکشن لیا گیا،شرجیل میمن

    جرمنی میں ڈرائیور نے گاڑی ہجوم پر چڑھا دی، 1 شخص ہلاک

    امریکی جنگلات میں پھر خوفناک آگ بھڑک گئی؛ ایمرجنسی نافذ

    کراچی سے لاپتا لڑکی بازیاب، جسم پر متعدد زخم

  • قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ

    قائمہ کمیٹی داخلہ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ کیس میں اے این ایف، ایف آئی اے اور سائبر کرائم کو متحرک ہوجانا چاہیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چئیرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ممبران نے وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر اعتراض کر دیا۔ نبیل گبول نے کہا کہ کمیٹی میں پی ایس ڈی پی 2025-26 بجٹ کی منظوری ہونی ہے، کم از کم سیکریٹری داخلہ تو کمیٹی میں موجود ہوں۔ اس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ہم دو ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ موجود ہیں۔کمیٹی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس پر آئی جی سندھ کی بریفنگ کا معاملہ اٹھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پہلے مصطفی عامر قتل کیس پر بریفنگ دی جائے۔ ایڈشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ کمیٹی نوٹس دیر سے موصول ہونے کی وجہ سے آج آئی جی سندھ نہیں آئے، آئندہ اجلاس تک بریفنگ کا وقت دیا جائے۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مقدمہ ہے جس میں کم از کم آئی جی کو آنا چاہیے تھا۔

    رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ایک ڈی ایس پی کو دو گولیاں لگی ہیں۔ انہوں ںے انکشاف کیا کہ مصطفی عامر کیس میں ملزم کے خلاف تحقیقاتی ٹیم میں اس کا رشتہ دار موجود ہے، یہ انتہائی حساس مقدمہ ہے اس پر اب تو سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔نبیل گبول نے کہا کہ مصطفی عامر کیس میں اے این ایف، ایف آئی اے سمیت اداروں کو متحرک ہو جانا چاہیے تھا۔عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ مصطفی عامر کیس میں اغوا اور قتل کی حد تک سندھ پولیس کا معاملہ ہے، ایک کال سینٹر اور 62 لیپ ٹاپ برآمد ہوئے اور کرپٹو کرنسی کا معاملہ ہے، مصطفی عامر کیس میں جعل ساز بینک اکاؤنٹ کھولے گئے، مصطفی عامر کیس میں نشہ اسلام آباد سے کراچی کورئیر کے ذریعے جاتا رہا، ڈارک ویب سے خرید و فروخت اور اسلحہ کی خریداری کیسے ہوئی؟ مصطفی عامر کیس اگر کسی اور ملک میں ہوا ہوتا تو ساری ایجنسیاں متحرک ہوجاتیں۔ ہماری ایف آئی اے سمیت وفاقی ایجنسیاں کہاں ہیں؟

    ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے وقار الدین سید نے کہا کہ ابھی سندھ پولیس تحقیقات کر رہی ہے جب ہمارے پاس آئے گا تو تحقیقات کریں گے۔ اس بیان پر چڑ کر رکن کمیٹی ایم این اے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ کیس آپ کے پاس چل کر آئے گا؟ آپ کو خود اس پر تحقیق کرنی ہے۔قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے مصطفیٰ عامر کیس میں آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے وزارت داخلہ کو بذریعہ ایف آئی اے اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ذریعے تحقیقات کی ہدایت کردی۔رکن کمیٹی جمشید دستی نے کہا کہ مجھ پر پیکا ایکٹ لگا دیا گیا، کمیٹی نے نوٹس کی یقین دہانی کروائی لیکن نوٹس نہ ہوا ایک ممبر پر اتنی زیادتی کی جا رہی ہے۔

    رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ چئیرمین صاحب آپ نے اس پر رپورٹ مانگی تھی، معزز ممبر پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ کیوں درج ہوا اگر آپ کا کوئی مطالبہ ہے وہ ویسے ہی مان لے گا۔دوسری جانب مصطفی عامر قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پولیس کی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ملزمان کے کرائم ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا اور ملزمان کے بیانات کی روشنی میں کیس سے جڑے تمام کرداروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مختلف کیسز میں ملزمان نامزد ہیں، ہر کیس کو الگ الگ دیکھا جا رہا ہے۔ جلد ہی حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

    شازیہ مری کی وزراء کی فوج بھرتی کرنے پرحکومت پر تنقید

    سیکیورٹی فورسز کی شمالی وزیرستان میں کارروائی، 6 خوارج ہلاک

    صدر اور وزیر اعظم کی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کی مذمت

    کراچی پولیس چیف نے ارمغان کیس میں نااہلی تسلیم کرلی

    گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

  • صطفی عامر قتل کیس: آئی جی سندھ اورکراچی پولیس چیف وزیراعلیٰ ہاؤس طلب

    صطفی عامر قتل کیس: آئی جی سندھ اورکراچی پولیس چیف وزیراعلیٰ ہاؤس طلب

    مصطفی عامر قتل کیس میں آئی جی سندھ اورکراچی پولیس چیف کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں طلب کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مصطفٰی عامر قتل کیس میں وزیراعلیٰ سندھ کی پھرتیاں شروع ہوگئیں، 54 دن بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ آخرجاگ اٹھے اورقومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس سے ایک دن قبل آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر حکام کو طلب کر لیا ہے۔آئی جی اور کراچی پولیس چیف کے علاوہ ڈی آئی جی سی آئی اے، ایس ایس پی اے وی سی سی اور ایس ایس پی ایس آئی یو بھی سی ایم ہاؤس میں طلب کیے گئے ہیں، جہاں پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو مصطفیٰ عامر قتل کیس سے متعلق بریفنگ دیں گے۔

    بریفنگ کے دوران تفتیش میں کیا کیا کامیابی حاصل ہوئیں، اس کا احوال بتایا جائے گا،علاوہ ازیں گرفتار ملزمان ارمغان ، ساحرحسن نے دورانِ تفتیش کیا کیا سنسی خیز انکشافات کیے ہیں، اس حوالے سے بھی حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔پولیس حکام کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس بریفنگ کے علاوہ آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی بات ہوگی۔واضح رہے کہ یہ سب اس وقت ہوا ارمغان گرفتار اور ریمانڈ پر ہے اورایک اور ملزم ساحر حسن کو جیل کسٹڈی کیا جاچکا ہے۔یاد رہے کہ مصطفٰی قتل کیس میں مجرمان کے بڑے بڑے نام سامنے آرہے ہیں، کیس کی جے آئی ٹی تشکیل دی جاچکی ہے، وزیراعلی سندھ کو ایسے وقت خیال آیا کہ کیوں نہ کیس کی بریفننگ لی جائے.

    سندھ میں 13 جعلی ادویات کمپنیوں کے ناموں سے فروخت ہونے کا انکشاف

    صدر آصف زرداری کی لاہور آمد، نواز شریف سے ملاقات کا امکان

    مسلم لیگ ن نے سیاسی جماعت کی بڑی وکٹ گرادی

    انڈونیشیا : ہم جنس پرستی پر 2 افراد کو سر عام کوڑے مارے گئے

    ایک اور امریکی اداکارہ کی لاش گھر سے برآمد

  • جماعت اسلامی وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات ،ٹریفک حادثات میں اموات پر اظہار تشویش

    جماعت اسلامی وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات ،ٹریفک حادثات میں اموات پر اظہار تشویش

    منعم ظفر خان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے ملاقات کیاور حادثات بالخصوص ڈمپرزو ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی بڑھتی ہوئی اموات ، بدترین ٹریفک جام اور ٹریفک پولیس کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے تبادلہ ٴ خیال کیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات مٰن وفد کا کہنا تھا کہ ٹریفک حادثات میں اس قدر بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات نہایت تشویش ناک امر ہے ، ان حادثات کا سبب بے ہنگم ٹریفک اور بے قابو ہیوی وہیکل کی شہر میں غیرقانونی آمد ورفت ہے ، ڈمپرز ، ٹینکرز اور ٹرالرز مقرر اوقات اور مقررہ راستوں سے ہٹ کر سارے شہرمیں چلتے نظر آتے ہیں ،ان کے اکثر ڈرائیورز غیر لائسنس یافتہ اور ٹریفک کے اُصولوں سے ناواقف ہیں ، حادثہ میں ضمانت اور نرم سزائوں کے قانون نے ان ڈرائیو رز کو قانون کی گرفت سے بے خوف کردیا ہے ، جماعت اسلامی کے وفد میں پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے صدر و اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ ،نائب امراء جماعت اسلامی کراچی راجہ عارف سلطان اور مسلم پرویز شامل تھے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ لائسنس کے اجراء کو آسان بنایا جائے ، چنگ چی رکشائوں کو متعین جگہوں پر پارکنگ کا سختی سے پابند کیا جائے ، سڑکوں پر موجود تجاوزات ختم کی جائیں ، ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو یونین کمیٹیز کے تعاون سے بہتر بنایا جائے اور ہر سطح پر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بنایا جائے ،انہوں نے آئی جی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سارے شہر میں چنگ چی اور رکشائوں کی بے ہنگم پارکنگ نے شہر میں ٹریفک جام معمول بنادیا ہے ، ایک جانب شہری صوبائی حکومت اور کے ایم سی کی نااہلی کے سبب سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سے اذیت میں مبتلا ہیں دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی لاقانونیت اور ٹریفک پولیس کی خراب کارکردگی نے بھی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ، کراچی اگر ذمہ دار صوبائی حکومت اور حقیقی منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں ہوتا توشہر میں موثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ہوتا ،شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بہترین بسیں مہیا ہوتیں جس کا سلسلہ نعمت اللہ خان کے دور میں شروع ہوا تھا اور کراچی کے 65فیصد شہری موٹر سائیکلوں اور چنگ چی رکشائوںمیں سفر کرنے پر مجبور نہ ہوتے .

    منعم ظفر خان نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک حادثات سے کسی بھی صورت میں شرپسندوں کو فائدہ اُٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے اور ان معاملات کو لسانی رنگ دینے اور مختلف طبقات میں کشیدگی کا سبب نہیں بننے دیں گے ۔ملاقات میں سیف سٹی پروجیکٹ کی جلد تکمیل پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی ، آئی جی سندھ نے اس موقع پر ٹریفک کی بہتری اور سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے پولیس کے اقدامات پر بریفنگ دی اور جماعت اسلامی کی جانب سے مثبت تجاویز کا خیر مقدم کیا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    بارودی مواد کا سراغ لگانے والی جدید مشینیں اے ایس ایف کو دینے کا فیصلہ

    حکومت کا ججز کے خلاف ریفرنس لانے کا ارادہ نہیں، عرفان صدیقی

    پاکستان کو شکست، نیوزی لینڈ نے سہ ملکی ون ڈے سیریز جیت لی

    ،پنجاب میں خشک سالی کا الرٹ جاری

    افغان طالبان نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت بنا لی

  • سندھ پولیس کے آئی جی پی شکایتی شعبے کو ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ

    سندھ پولیس کے آئی جی پی شکایتی شعبے کو ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ

    سندھ پولیس کے آئی جی پی شکایتی شعبے کو ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ کیاہے۔یہ فیصلہ آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت آئی جی پی شکایتی سیل کی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں ڈی آئی جیز،ہیڈکواٹرز،آئی ٹی، اے آئی جیز،ایڈمن، کمپلین سیل، اور آپریشنز نے شرکت کی۔اجلاس کو اے آئی جی کمپلین نے شعبہ کی کارکردگی اور ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کروانے کے حوالے سے بریفنگ دی۔ڈیجیٹل ایپلیکیشن متعارف کروانے سے عوامی شکائیتوں کی وصولی،جواب طلبی اور اذالہ اقدامات جیسے امور کے درمیان اوقات میں کمی لائی جاسکے گی۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ آئی جی سندھ سے لے کر ایس ایچ او تک تمام انچارجز کو "ڈیجیٹل ڈیش بورڈ” فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے شکائتوں کو متعلقہ یونٹ تک ارسال کرنا اور ازالہ کے بعد جواب دیناانتہائی آسان اور مختصر ہوجائے گا۔

    بریفنگ میں بتایاگیاکہ ڈیش بورڈ کے ذریعے یونٹس کو ارسال کی گئیں شکایتوں کی نگرانی،دورانیہ اور ازالہ کے ضمن میں کیئے جانے والے اقدامات کو باآسانی مانیٹر بھی کیا جاسکے گا۔ڈیجیٹل ایپلیکیشن کے ذریعے شکایتوں سے متعلق مرتب کردہ ڈیٹا کی باآسانی دستیابی بھی یقینی ہوجائیگی۔آئی جی سندھ نے کہاکہ ڈیجیٹل اصلاحات دور جدید کا تقاضہ اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔شکایتی سیل کے تمام انچارجز عوامی شکایتوں کی وصولی اور ازالہ میں پروفیشنلزم سے کام لیں۔آئی جی سندھ نے کہاکہ ایپلیکیشن کے استعمال سے متعلق شکایتی شعبے کے اسٹاف کو ٹریننگ کروائی جائے۔انہوں نے کہاکہ فری رجسٹریشن آف ایف آئی آرز کو یقینی بنایا جائے۔سنگین نوعت کے جرائم سے متعلق شکایات میں نامزد و نامعلوم ملزمان کے خلاف فوری مقدمات کا اندراج کیا کیا جائے۔

    تنخواہ لینے آئی دوشیزہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن گئی

    وزیراعلی سندھ کا جامعات کی قانون سازی واپس نہ لینے کا اعلان

    توہین رسالت کے چار مجرموں کو پھانسی کی سزا

    شب معراج پرسندھ میں عام تعطیل کا اعلان

  • سندھ کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ

    سندھ کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ

    آئی جی سندھ نے شہر قائد سمیت اندرون سندھ کے تمام تھانوں کی مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایس ایس پیز کو کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کی تنصیب کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تھانوں کے مرکزی گیٹ، احاطے، ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کے کمروں، ڈیوٹی افسر و رپورٹنگ سینٹر روم اور لاک اپ میں بھی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ضروری ہو گی۔مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ایس ایس پیز کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ تھانوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ موثر طریقے سے کی جائے۔

    اس کے علاوہ ان کی فعالیت کی تصدیق کر کے رپورٹ آئی جی آپریشن روم سینٹرل پولیس آفس میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پولیس افسران و اہلکاروں کی ڈیوٹی کے دوران نگرانی کو مزید مؤثر بنائے گا، جس سے تھانوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور عوامی تحفظ میں اضافہ ہو گا۔

    ریلوے نے مزید 620بوگیوں کی پاکستان میں تیاری شروع کر دی

    سینئر وزیر پنجاب کو مریم اورنگزیب کو مزیدوزارتیں دے دی گئیں