Baaghi TV

Tag: آئی پی پیز

  • مزید 11 آئی پی پیز  کا  ٹیرف میں کمی کیلئے نیپرا سے رجوع

    مزید 11 آئی پی پیز کا ٹیرف میں کمی کیلئے نیپرا سے رجوع

    اسلام آباد: وفاقی حکومت کے ساتھ نظرثانی معاہدوں کے بعد مزید 11 آئی پی پیز نے ٹیرف میں کمی کے لیے نیپرا سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نیپرا میں درخواست بیگاس پرچلنے والے 9 پاور پلانٹس اور 2002 کی پاور پالیسی کے تحت لگنے والے 2 آئی پی پیز نے دائر کی ہیں، ٹیرف میں کمی کے لیے آئی پی پیز اور سی پی پی اے نے نیپرا میں مشترکہ درخواست دائر کی ہے اور نیپرا 16 اپریل کو ان درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

    نیپرا کی سماعت میں بیگاس پاور پلانٹس کے ٹیرف فیول کاسٹ کمپونینٹ کاجائزہ لیاجائےگا جب کہ نیپرا میں اس سے پہلے 2002 کی پاور پالیسی کے تحت 7 آئی پی پیز نے درخواست جمع کرائی تھی۔

    رونالڈو کی فیملی کو دھمکی آمیز پیغامات موصول،سیکیورٹی میں تبدیلیاں

    واضح رہےکہ وفاقی کابینہ نے ان آئی پی پیزکے ساتھ دسمبر 2024 اور جنوری 2025 میں نظرثانی معاہدوں کی منظوری دی تھی۔

    نواز شریف وزیراعظم کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر بیلاروس روانہ

  • مزید آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے سےسینکڑوں ارب کی بچت

    مزید آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے سےسینکڑوں ارب کی بچت

    وفاقی حکومت نے مزید 6 آئی پی پیز کیساتھ مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق معاہدے ختم ہونےسے مزید 300 ارب روپے کی بچت کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق 2 ہزار 396 میگاواٹ کے 6 آئی پی پیز کیساتھ معاہدے ختم کیے جائیں گے۔ گل احمد انرجی کے 136میگا واٹ کیساتھ معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اٹک پاور 165 اور 131میگا واٹ کوہ نور انرجی کیساتھ بجلی کےمعاہدے ختم ہوں گے۔ حکومت نے 126میگا واٹ کے ٹپال انرجی کیساتھ بھی معاہدہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کیپکو پاور پروجیکٹ کے 1638 اور 200 میگاواٹ کے معاہدے ختم کیےجائیں گے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید آئی پی پیز کیساتھ معاہدے ختم کرنے سے بجلی ٹیرف میں کمی ہوگی۔ اس سے قبل وفاقی حکومت 13 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کر چکی ہے۔ بگاس سے چلنے والے 8 نجی بجلی گھروں کیساتھ معاہدوں کی منظوری بھی شامل ہے۔

    رینجرز اہلکاروں کی شہادت کا واقعہ عمران خان کے حکم پر ہوا، ایف آئی آر

    چار دنوں میں43 خارجی دہشت گرد جہنم واصل
    وزیراعلیٰ سندھ نے عالمی کتب میلے کا افتتاح کردیا

    کرکٹ چیمپئنز ٹرافی: بھارت نے پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

  • آئی پی پیز سے مذاکرات ، ایک اور کمپنی سے حکومتی معاملات طے

    آئی پی پیز سے مذاکرات ، ایک اور کمپنی سے حکومتی معاملات طے

    پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اور مثبت پیشرفت ہوئی ہے، آئی پی پی کمپنی سیف پاور کمپنی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں پاور پرچیز ایگریمنٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی ہے۔

    وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق سیف پاور کمپنی کے بورڈ نے معاہدے میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جس سے کمپنی اور حکومت کے تعلقات میں ایک نئی سمت سامنے آئی ہے۔سیف پاور کمپنی کے بورڈ نے پاور پرچیز ایگریمنٹ کے تحت ٹیرف میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد، کمپنی ’ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے‘ ٹیرف معاہدے پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی کو اپنے ٹیرف کے حوالے سے ٹاسک فورس کی تجویز کردہ تبدیلیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، جو اس معاہدے کے تحت ہو رہی ہیں۔

    وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق سیف پاور کمپنی نے اس بارے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پانچ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ سیٹلمنٹ اور معاہدوں کا خاتمہ باہمی اتفاق سے کیا گیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں بہتر مالیاتی استحکام کی امید ہے۔ذرائع کے مطابق، 31 دسمبر تک مزید معاہدوں کی توقع کی جارہی ہے، جس سے آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بڑھے گا اور ممکنہ طور پر توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات دیکھنے کو ملیں گی۔

    یہ تمام پیشرفت حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے، تاکہ بجلی کے شعبے میں مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور صارفین کو مناسب قیمتوں پر بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

    یہ معاہدہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون اور مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ اس نوعیت کے مزید معاہدے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • پانچ آئی پی پیزبند،آٹھ کے معاہدوں پر نظر ثانی،خوشخبری ملے گی،عطا تارڑ

    پانچ آئی پی پیزبند،آٹھ کے معاہدوں پر نظر ثانی،خوشخبری ملے گی،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی بجلی کی قیمتوں میں کمی پر بھرپور توجہ ہے، فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا نے ملک بھر میں 86 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی کی ہے، پانچ آئی پی پیز کو بند کر دیا گیا ہے، 8 مزید آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوئے اور معاہدوں پر نظرثانی کی گئی ہے، اس حوالے سے قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔

    جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، ملک شاکر بشیر اعوان اور محترمہ آسیہ ناز تنولی کے توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھاکہ نیپرا نے گزشتہ روز ملک بھر میں 86 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی کی ہے، یہ کمی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی بجلی کی قیمتوں میں کمی پر بھرپور توجہ ہے۔ رواں سال وفاقی حکومت نے ایک یونٹ سے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے 50 ارب روپے جبکہ پنجاب حکومت نے 201 سے 500 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 45 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سبسڈی کے علاوہ ہر سال وفاقی حکومت 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے کنزیومرز کو 276 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرتی ہے۔کے الیکٹرک کو 174 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ لائف لائن اور نان لائف لائن کنزیومرز کو سالانہ بنیادوں پر سبسڈی فراہم کی جاتی ہے، اس سال صارفین کو زیادہ سبسڈی دی گئی۔ پانچ آئی پی پیز کو بند کر دیا گیا ہے، اس اقدام سے معیشت کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا اور کپیسٹی پے منٹس میں کمی واقع ہوگی۔ جولائی سے ستمبر 2024تک سبسڈی، فیول اخراجات ، ایڈجسٹمنٹ اور پانچ آئی پی پیز کے بند ہونے سے بجلی کے بلوں پر بہت بڑا فرق آیا ہے، آٹھ مزید آئی پی پیز کے حوالے سے قوم کو مزید خوشخبری دی جائے گی، ان آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ بات ہوئی ہے ، ان کے ریٹس کم کئے گئے ہیں جس سے کئی سو ارب روپے کی بچت ہوگی۔ سردیوں میں بجلی کے بل کم آتے ہیں،اگلی گرمیوں کے موسم سے پہلے بجلی کی قیمتیں مزید کم ہوں گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، سٹاک مارکیٹ نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، شرح سود میں کمی آئی ہے، معاشی اشاریئے مثبت ہیں۔ہم معاشی بحالی کی طرف جا رہے ہیں، بجلی کے معاملہ پر حکومت کی پوری توجہ ہے۔

    اینٹی ڈرگ ٹریفکنگ پر فلم بنانے کے لئے بجٹ بھی مختص
    منشیات کے تدارک کے لئے نہ صرف بچوں بلکہ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے،عطا تارڑ
    اراکین قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی، زرتاج گل، محمود خان اچکزئی، مسرت رفیق، شگفتہ جمانی اور ثناءاللہ خان مستی خیل کے ضمنی سوالات پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اینٹی نارکوٹکس کنٹرول کے حوالے سے امریکا، برطانیہ، ایران، ترکی، یو اے ای، سعودی عرب کے ساتھ عالمی سطح پر تعاون چل رہا ہے، مختلف ممالک کے ساتھ 37 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، دیگر ممالک میں موجود اینٹی نارکوٹکس کنٹرول اتھارٹیز کے ساتھ ہمارے ٹریننگ پروگرام بھی چل رہے ہیں،جولائی میں ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں صوبوں کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ پوست کی کاشت والے علاقوں کو خالی کرایا جا رہا ہے، وہاں کسانوں کو اضافی زمین فراہم کی جائے، یہ صوبائی معاملہ ہے، صوبوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جولائی سے اکتوبر تک اس پر کیا پیشرفت ہوئی ہے، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں آگاہی مہمات بھی چلائی گئی ہیں، منشیات کے تدارک کے لئے نہ صرف بچوں بلکہ والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ہماری کوشش ہے کہ آگاہی مہم صوبوں تک لے کر جائیں۔ وزارت اطلاعات آئندہ ہفتے سے تمام چینلز پر منشیات کے تدارک کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے گی، ڈرگ فری سوسائٹی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، تعلیمی اداروں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس کے نقصانات کے حوالے سے بچوں کو بھرپور طریقے سے آگاہی ہونی چاہئے۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث ملزمان کیلئے عمر قید اور موت کی سزا ہے، اس میں کوئی چھوٹ نہیں ہے۔ اربوں روپے کی منشیات نذر آتش کی جاتی ہے، گرفتار ملزمان کی اطلاع پر اصل گینگز تک رسائی حاصل کر کے ان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں،انسداد منشیات کے لئے اینٹی نارکوٹکس کی وزارت اور اینٹی نارکوٹکس فورس کا بہت بڑا کردار ہے، منشیات سمگلرز کے خلاف کارروائیوں میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے بہت سے جوان شہید بھی ہوئے۔ تعلیمی اداروں کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں مل کر اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں، اس مسئلے کو والدین اور میڈیا کے ساتھ مل کر حل کرنا چاہئے۔ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،منشیات کی سمگلنگ کے حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومتیں انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا حصہ ہیں، اے این ایف کے پولیس اسٹیشنز ہر صوبے میں موجود ہیں، انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کے اندر بہت سے معاملات مشترکہ حل کئے جا رہے ہیں،سندھ حکومت کو وفاق ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا، انوسٹی گیشن کے لئے سپیشل انوسٹیگیٹرز اے این ایف میں موجود ہیں، وزارت اطلاعات بھرپور مہم چلائی جائے گی، وفاقی حکومت نے اینٹی ڈرگ ٹریفکنگ پر فلم بنانے کے لئے بجٹ بھی مختص کیا ہے، اس پر بھرپور کام کریں گے تاکہ آگاہی پیدا کی جا سکے، پاکستان کے اندر اینٹی نارکوٹکس کی ایک تاریخ ہے، پاکستان اینٹی نارکوٹکس بورڈ پہلی مرتبہ 1957ءمیں بنایا گیا تھا، 70ءکی دہائی میں اس کی تشکیل نو ہوئی، اینٹی نارکوٹکس فعال فورس ہے، دنیا کے ممالک اس فورس کی تعریف کرتے ہیں، اے این ایف کا صوبوں کے اندر سیٹ اپ 18 ویں ترمیم سے پہلے کا موجود ہے، اے این ایف کے تحت منشیات کی سمگلنگ کے خلاف پورے پاکستان میں کارروائیاں کی جاتی ہیں، اے این ایف میں میرٹ پر بھرتیاں کی جاتی ہیں، صوبوں کے پاس 18 ویں ترمیم کے بعد جب یہ معاملہ آیا تو صوبوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی اپنی نارکوٹکس فورس تشکیل دیتے، انٹرایجنسی ٹاسک فورس کا مقصد ہی یہی ہے کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ٹاسک تشکیل دیئے جائیں،دنیا کے اندر کینسر کے علاج میں کیمو تھراپی کی بجائے کینوبس آئل استعمال کیا جاتا ہے، میڈیسن میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے، اس حوالے سے رولز بن جائیں تو کوئی حرج نہیں لیکن تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دینی چاہئے۔چیئر نے یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

    اراکین قومی اسمبلی شازیہ صوبیہ اسلم سومرو اور آغا رفیع اللہ کے ضمنی سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ ایک سنجیدہ اور حساس مسئلہ ہے، بوگس ٹریول ایجنٹس لوگوں کو جھوٹے اور سنہرے خواب دکھا کر ان کا مستقبل خراب کر دیتے ہیں،انسانی سمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے نے پانچ سالہ منصوبہ ترتیب دیا ہے، صوبائی حکومتوں کے تعاون سے انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگز کو گرفتار کیا گیا ہے۔معزز رکن کے پاس کوئی تجاویز ہیں تو فراہم کر دیں۔ ایف آئی اے کے حوالے سے ڈیٹا معزز رکن کو فراہم کر دیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں قومی اسمبلی اجلاس میں عطائے شہریت (ترمیمی) بل 2024ءاور پاکستان شہریت (ترمیمی) بل 2024پیش کر دیئے گئے،جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے شہریت ایکٹ 1926ءمیں مزید ترمیم کا بل عطائے شہریت (ترمیمی) بل 2024ءاور پاکستان شہریت ایکٹ 1951ءمیں مزید ترمیم کرنے کا بل پاکستان شہریت (ترمیمی) بل 2024ءپیش کئے،قومی اسمبلی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سالانہ رپورٹ برائے سال 24۔2023ءپیش کر دی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے بنک دولت پاکستان ایکٹ 1956ءکی دفعہ 39 کی ذیلی دفعہ 1 کے تحت پاکستان کی معیشت کی کیفیت کے بارے میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سالانہ رپورٹ برائے سال 24۔2023ءپیش کی.

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    پانچویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی،بنائی گئی نازیبا ویڈیو

    بچوں کی دینی تعلیم کے نام پر نازیبا ویڈیو بنانے والا گرفتار ، 497 ویڈیوز برآمد

    خواتین اداکاروں کی کپڑے بدلنے کے دوران نازیبا ویڈیو بنائے جانے کا انکشاف

  • ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی : حکومت نے آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز  کو طلب کرلیا

    ادائیگی کے طریقہ کار میں تبدیلی : حکومت نے آئندہ ہفتے 18 آئی پی پیز کو طلب کرلیا

    اسلام آباد: حکومت پاور جنریشن پالیسیز 1994 اور 2002 کے تحت قائم 18 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی-

    باغی ٹی وی: بزنس ریکارڈر نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ توقع ہے حکومت پاور جنریشن پالیسیز 1994 اور 2002 کے تحت قائم 18 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے اعلیٰ حکام کو اگلے ہفتے طلب کرنا شروع کر دے گی تاکہ ان کے پلانٹس کو ”ٹیک یا پے“ سے ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں تبدیل کرنے کا آپشن پیش کیا جاسکے۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق حکومت نے پانچ آئی پی پیز کے پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) ختم کرکے 411 ارب روپے کی بچت کا دعویٰ کیا ہے کابینہ نے 10 اکتوبر 2024 کو پی پی اے کے خاتمے اور حتمی تصفیے کے معاہدے کی منظوری دی تھی لیکن حتمی دستاویزات پر ابھی تک دستخط نہیں ہوئے ہیں۔

    وہ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) جنہیں ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں تبدیل کیا جانا ہے، وہ ممکنہ مالیاتی اثرات سے متعلق اپنی اندرونی تیاری مکمل کر چکے ہیں اور اس پوزیشن کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو وہ وزیر برائے توانائی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت میں کچھ دیگر کلیدی افراد معاملات کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

    کچھ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی ایز) کی میعاد، جنہیں ’باہمی اور باعزت مشاورت‘ کے بعد ”ٹیک اینڈ پے“ موڈ میں منتقل کرنے کا ہدف ہے، 15 سال سے زیادہ باقی ہے۔

    بزنس ریکارڈر کے مطابق مختلف پلانٹس کے ساتھ مذاکرات کے مالی اثرات 3 سے 3.50 روپے فی یونٹ ہوں گے، ری پروفائلنگ کا اثر 3.75 روپے فی یونٹ ہوگا، الیکٹریسٹی ڈیوٹی سے چھوٹ یعنی صوبائی لیوی 0.65 روپے فی یونٹ، پی ٹی وی فری 0.16 روپے فی یونٹ اور سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں کمی سے ٹیرف میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ قلیل مدتی ریلیف ملے گا۔

    وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے مطابق ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) میں کمی اور حکومت کے اپنے پاور پلانٹس کے منافع میں کمی کا اثر ڈیڑھ روپے فی یونٹ تک ہوگا۔

    2002ء کی پالیسی کے تحت قائم آئی پی پیز اور ان کے پی پی اے کی میعاد ختم ہونے کی تاریخوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    (1) اینگرو پاورجن 215.516 میگاواٹ، بقیہ مدت 10.6 سال

    (2) فاؤنڈیشن پاور کمپنی ڈہرکی لمیٹڈ، 173.772 میگاواٹ، بقیہ مدت 11.8 سال

    (3) اوچ ٹو پاور (پرائیوٹ) لمیٹڈ 359.34 میگاواٹ، بقیہ مدت 14.7 سال

    (4) ہالمور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ 200.021 میگاواٹ، بقیہ مدت 17.6 سال

    (5) اورینٹ پاور کمپنی (پرائیویٹ لمیٹڈ) 208.453 میگاواٹ، بقیہ مدت 16.4 سال

    (6) سیف پاور لمیٹڈ، 204.369 میگاواٹ، بقیہ مدت 15.8 سال

    (7) سفیر الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ، 206.48 میگاواٹ، بقیہ مدت 16.3 سال

    (8) لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ 196. 139 میگاواٹ، باقی 9.6 میگاواٹ سال

    (9) حبکو نارووال انرجی لمیٹڈ 213.82 میگاواٹ، بقیہ مدت 11.9 میگاواٹ

    (10) اٹک جین لمیٹڈ 156.181 میگاواٹ، بقیہ مدت 9.6 سال

    (11) نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ، 196.722 میگاواٹ، بقیہ مدت، 11.2 سال

    (12) نشاط پاور لمیٹڈ 195.305 میگاواٹ، 11 سال

    (13) نیو بونگ لاریب ہائیڈرو 84 میگاواٹ ریمنگ ٹرم 14 سال

    (14) اوچ ٹو پاور 404 میگاواٹ، بقیہ مدت 6 سال

    (15) فوجی کبیر والا 170 میگاواٹ، باقی 6 سال

    (16) کوہ نور انرجی، 124 میگاواٹ، بقیہ مدت 3 سال

    (17) پاکجن پاور 365 میگاواٹ، بقیہ مدت 4 سال

    (18) اور لبرٹی ڈہرکی پاور 235 میگاواٹ، بقیہ مدت 2 سال ہے

    پاور جنریشن پالیسی 2002 کے تحت قائم ہونے والے آئی پی پیز کے معاہدوں پر ڈیڑھ روپے فی یونٹ کا اثر پڑے گا۔

    10 اکتوبر 2024 کو وزیر اعظم شہباز شریف نے پانچ آئی پی پیز معاہدوں کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پوری حکومتی ٹیم کی سخت اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہےانہوں نے اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کی حمایت کو بھی تسلیم کیا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ذکر کیا جنہوں نے اس پورے معاملے میں ذاتی دلچسپی لی، وزیر اعظم نے ترقی کو ایک سفر کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی عوام کی ترقی اور خوشحالی میں تبدیل ہوگی۔

  • وفاق کا   5 آئی پی پیز کو  72 ارب روپےدینے فیصلہ

    وفاق کا 5 آئی پی پیز کو 72 ارب روپےدینے فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بند کی جانے والی 5 آئی پی پیز کو 72 ارب روپےدینے فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاور سیکٹر ذرائع کے مطابق جن آئی پی پیز کو ادائیگی کی جائے گی ان میں سب سے زیادہ ساڑھے 36 ارب روپے حب کو ادا کیے جائیں گے بند کی جانے والی 5 آئی پی پیز میں سےحب کو 36 ارب 50 کروڑ اور روش پاور کو ساڑھے 15 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔

    پاور حکام کے مطابق اے ای ایس لال پیرکو 12ارب 80 کروڑ روپے اور ‘اٹلس پاور کو 6 ارب روپے ادا کیے جائیں گے جب کہ صبا پاور کو ایک ارب روپے دیے جائیں گے بند کیے جانے والے ان تمام پاور پلانٹس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2400 میگاواٹ ہے۔

    ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں

    واضح رہے کہ حکومت نے چند روز قبل 5 آئی پی پیز سے معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس حوالے سے آئی پی پیز نے بجلی خریدنے کے معاہدوں کے خاتمے کی دستاویزات پر دستخط بھی کردیے ہیں۔

    قبل ازیں 1994 کی پالیسی کے تحت قائم کیے گئے بجلی پیدا کرنے والے چار آزاد اداروں (آئی پی پیز) اور 2002 کی پالیسی کے تحت قائم کیے گئے ایک آئی پی پی کے مالکان سے دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر بجلی کی خریداری کے معاہدے (پاور پرچیز ایگریمنٹ) منسوخ کر دیں اور ’بجلی دو اور ادائیگی لو‘ کا نظام اختیار کریں بصورت دیگر نتائج کا سامنا کریں جس کے بعد 5 آئی پی پیز نے معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا –

    ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی شہری گرفتار

  • وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی دی منظوری

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،
    وفاقی کابینہ نے پہلے مرحلے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی منظوری دے دی ،معاہدہ ختم ہونے سے بجلی صارفین کو سالانہ 60 ارب اور ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی،کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی کےلئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ذاتی طور پر بے پناہ کوششیں کیں، اُن کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ میرے لئے تازہ اور نیا تجربہ ہے، میں بہت حوصلہ محسوس کر رہا ہوں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستانی معیشت استحکام کی جانب سے گامزن ہوگئی ہے۔ بیرونی ممالک سے آنیوالی سہ ماہی ترسیلات 8.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جس کیلئے بیرون ممالک پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں۔ سعودی عرب پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کر رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے ذریعہ ایسی رفارمز کررہے ہیں جس سے پاکستان سرمایہ کاری کیلئے محفوظ اور سب سے زیادہ منافع بخش سرمایہ کاری کی منزل بنے گا۔

    دیگر آئی پی پیز سے معاہدوں پر بتدریج نظرثانی کر کے بجلی ٹیرف کم کریں گے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 5 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریدنے کے معاہدے ختم کر رہے ہیں، بجلی صارفین کو سالانہ 60 ارب اور ملکی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہوگی،5 آئی پی پیز مالکان نے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی، 5 آئی پی پیز نے رضاکارانہ طور پر ان معاہدوں کو ختم کرنے پر اتفاق کیا، ان 5 آئی پی پیز نے عوامی ریلیف کے شروعات میں کلیدی کردار ادا کیا، مجھ سمیت پوری کابینہ ان آئی پی پیز مالکان کے شکر گزار ہیں، دیگر آئی پی پیز سے معاہدوں پر بتدریج نظرثانی کر کے بجلی ٹیرف کم کریں گے، سہ ماہی ترسیلات ریکارڈ رہی ہیں، سہ ماہی ترسیلات میں اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے،عام آدمی نے مہنگائی سمیت بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا، صبر و تحمل سے مشکلات جھیلنے پر عوام کے شکر گزار ہیں، مشکلات ختم نہیں ہوئیں، نہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، ماضی میں سنگدل حکمران نے کہا مہنگائی سے میرا سروکار نہیں،پاکستان آگے بڑھ رہا ہے اور ہمیں یہ سفر تیزی کے ساتھ طے کرنا ہے، 7 ماہ میں جو مسائل اور چیلنجز درپیش تھے بطور ٹیم ان کا سامنا کیا، بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ تک کے گھریلوں صارفین کو ریلیف دیا گیا،ہ پنجاب میں حکومت نے 500 یونٹ تک کے بجلی صارفین کو 2 ماہ تک ریلیف فراہم کیا، حکومت عوام کی مشکلات سے باخبر ہے، نواز شریف نے بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے کوشش کی اور بار بار تلقین کی،اللہ تعالی کے فضل ہے کہ جو مہنگائی 32 فیصد پر تھی وہ آج 6.7 فیصد پر آچکی ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے منشور میں 2025-26 تک مہنگائی کم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسکو ہم نے 2024 میں ہی پورا کردیا ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • ایک آئی پی پی نے بجلی کی قیمت میں کمی کر دی

    ایک آئی پی پی نے بجلی کی قیمت میں کمی کر دی

    ملک میں پہلی آئی پی پی نے رضاکارانہ طور پر ریٹرن آن ایکیوٹی 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای او آئی پی پی عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم ریٹرن آن ایکیوٹی کو رضا کارانہ 18 فیصد سے 10 فیصد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ رضاکارانہ فیصلہ اس لیے کر رہے ہیں کہ بجلی فروخت ایسا کاروبار بن گیا ہے کہ جس کی خریداری مشکل ہو رہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے نجی بجلی گھر کیلئے ڈالر کے بجائے روپے میں ریٹرن کی پیشکش کی۔ شہریار چشتی نے کہا کہ 2021 میں آئی پی پیز کے ریٹ آف ریٹرن میں 11 فیصد کمی کی گئی تھی اب وقت آگیا ہے کہ دوبارہ ایسا کیا جائے۔ سی ای او آئی پی پی عمران خان نے بتایا کہ حکومت نے آئی پی پیز سے تجاویز مانگی ہیں جبکہ ہم نے اپنی پیشکش حکومت کو بھیج دی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلئے فی یونٹ بجلی ایک روپے 74 پیسے مہنگی کر دی گئی، نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی اپریل تا جون 2024 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق کراچی سمیت ڈسکوز کے صارفین، ستمبر اکتوبر اور نومبر میں ہر ماہ ایک روپے 74 پیسے فی یونٹ اضافی ادا کریں گے۔ صارفین پر 18 فیصد جی ایس ٹی سمیت 51 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

  • ملک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں،مصدق ملک

    ملک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں،مصدق ملک

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت ہوا ۔

    سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ کیپٹو پاور پلانٹس حکومت کی پالیسی کے تحت لگائے گئے اب کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند کی جا رہی ہے انڈسٹری نے اپنی ضروریات کیلئے 50 فیصد ایفیشنسی والے پاور پلانٹس لگائے ڈی جی گیس نے کہاکہ ملک میں 1180 کیپٹو پاور پلانٹس لگائے گئے ہیں ان پلانٹس کو 358 ایم ایم سی ایم ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے یہ پلانٹس حکومت کی 2005 پالیسی کے تحت لگائے گئے ان میں سے 797 پاورپلانٹس سندھ میں ہیں ان پلانٹس کا اڈٹ کرنے کی کوشش کی گئی پر کامیابی نہیں ہوئی پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے تجویز آئی کہ ان کیپٹو پاور پلانٹس کو گرڈ پر منتقل کیا جائے ،پیٹرولیم ڈویژن نے کبھی کیپٹو پاور پلانٹس کو بند کرنے کی کی بات نہیں کی پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو تجویز دی کہ ان کیپٹو پاور پلانٹس کو بند کروایا جائے پاور ڈویژن کا موقف ہے کہ کیپٹو پاور پلانٹس بند کرنے سے صنعتی شعبہ گرڈ سے بجلی لے گا ایسا کرنے سے بجلی گرڈ پر کیپسٹی چارجز ختم کرنے میں مدد ملے گی اب کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس فراہمی پر کوئی سبسڈی فراہم نہیں کی جا رہی ہے ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ مسائل سے نکلنے کا راستہ ہے مگر ہمیں نظر نہیں آرہاہے، کیپٹیو پاور کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ کمیٹی کو دے دیں گے ۔ کمیٹی نے ان کیمرہ اجلاس میں اس معاملے کو ایجنڈا آئٹم کے طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    محسن عزیز نے کہاکہ کیا ہم گیس کی قلت کا شکار ہیں یا ہم کنویں نہیں کھود رہے ہیں؟مصدق ملک نے کہاکہ کنووں سے جو گیس نکلتی ہے وہ سب کی سب پائپ لائن سے نہیں دی جاسکتی ہے ۔ 32سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس پاکستان میں نکلتے ہیں ۔بجلی کی ایل این جی کا استعمال کم ہورہاہے جس کی وجہ سے گھریلو سسٹم میں یہ گیس ڈال دیتے ہیں جس سے قیمت بڑھ جاتی ہے ۔سیکورٹی صورتحال کے باوجود ملک میں تیل گیس کی تلاش چل رہی ہے ۔ کیپسٹی پیمنٹ اشرافیہ کی وجہ سےہے اشرافیہ کے اے سی چلانے کے لیے اضافی کارخانے لگے ہیں ۔ وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ گیس کے کنووں سے گیس کی قلت سالانہ ایک اعشارہ چھ فیصد کمی کا سامنا ہے، مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث ایل این جی منگواتے ہیں درأمدی ایل این جی پاور پلانٹس کو دینی تھی، ایل این جی مہنگی ہونےکے باعث اب پاور سیکٹر بھی نہیں لے رہا .

    سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ نگران حکومت میں اس طرح کی کوئی ڈسکسشن ہوئی ہے، نگران حکومت کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کوئی لانگ ٹرم فیصلہ کر سکے،آئی ایم ایف کے ساتھ اگر کوئی ایسی بات ہوئی ہے تو اسے یہاں ایجنڈے پر ہونا چاہئیے۔ وزیر مصدق ملک نے کہاکہ کراچی میں ایک انڈسٹریل ایریا میں 200 تک انڈسٹریل یونٹس ہیں، 200 میں سے 10 سے 12 کے پاس کیپٹو پاور ہے،کچھ انڈسٹریز کے الیکٹرک سے 60 روپے کی بجلی لے رہی تھی،کچھ انڈسٹری کہیں سے مہنگی کہیں سے سستی بجلی خرید رہی تھی،اس طرح انڈسٹری میں کارٹلائزیشن بن چکی تھی،اس لیے انڈسٹری کیلئے لیول آف پلینگ فیلڈ کا ہونا ضروری ہے، پالیسی ایسی ہوکہ ہمارے بچوں کو لگے کہ ملک میں صرف 10 سے 15 سیٹھ نہیں ہیں، کیپسٹی پیمنٹ بینک کے قرضے کی قمیت ہے دنیا میں حکومتیں بجلی گیس نہیں خریدتیں پاکستان میں حکومت خریدتی ہے، ہم پیٹرولیم سیکٹر کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرینگے، اگر عوام کا تحفظ نہ ہوا تو پھر ڈی ریگولیٹ نہیں کرینگے ،ملک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔چند لوگوں کے ایئر کنڈیشنر کے استعمال کیلئے سب کپیسٹی پیمنٹس لگانی پڑتی ہیں،ان ایئر کنڈیشنز کے لیے ہمیں سال بھر کپیسٹی ادا کرنا پڑتی ہے،اشرافیہ کی ڈیمانڈز کو اب کچھ کم کرنا پڑے گا،کچھ بوجھ تو اب اس اشرافیہ کو بھی اٹھانا پڑے گا،

    محسن عزیز نے کہاکہ اشرافیہ کو ایسے ٹریٹ کریں جیسے ایک عام آدمی کو کیا جاتا یے، آج میں آرہا تھا تو سڑک پر اشرافیہ کی گاڑیاں آتے دیکھیں،اشرافیہ کی گاڑیاں آئیں تو مجھے کہا گیا سائڈ پر ہوجائیں

    آئی پی پیز سے معاہدے ختم نہیں ہوں گے، بجلی کی قیمتوں میں جلد کمی کی امید

    آئی ایم ایف نے کہا آئی پی پیز سے معاہدے بدلیں،لیکن ہمارے وزیراعظم..؟

    حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کی کوشش میں سنگین چیلنچز کا سامنا

    آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا کر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

    آئی پی پیز کا مسئلہ: سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کا فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

    آئی پی پیز کیساتھ معاہدہ فی الفور ختم کیا جائے،مصطفیٰ کمال

    بجلی کا زیادہ، دو بھائیوں میں جھگڑا، بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    گھروں میں بجلی کی لٹکتی ننگی تاریں، شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ،لیسکو کی بے حسی

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    پاکستان ان کمپنیوں کو اربوں کی ادائیگی کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں۔گوہر اعجاز

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

  • آئی پی پیز نے ہر گھر میں مصیبت ڈالی ہوئی ہے،زرقا سہروردی برس پڑیں

    آئی پی پیز نے ہر گھر میں مصیبت ڈالی ہوئی ہے،زرقا سہروردی برس پڑیں

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کمیٹی نے ڈسکوز کی نجکاری نہ کرنے اور انہیں صوبوں کو منتقل کرنے کی سفارش کردی کمیٹی نے وفاقی وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ کو ختم کرنے کی بھی سفارش کردی.
    سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے منتقلی اختیارات کا چیئرپرسن زرقا سہروردی تیمور کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر زرقا سہروردی تیمور آئی پی پیز پر برس پڑیں، کمیٹی نے آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے کنٹریکٹ کی تفصیلات طلب کرلیں ،سینیٹر ضمیر حسین نے کہاکہ ڈسکوز کی تو زبردست کارکردگی ہے ان کی نجکاری کیوں کر رہے ہیں، اسپیشل سیکرٹری پاورنے کہاکہ ہم تو خود چاہتے ہیں ڈسکوز صوبے لے لیں،سینیٹر ضمیر حسین نے کہاکہ آپ آئی پی پیز کا پریشر ہٹانے کے لئے ڈسکوز کی نجکاری کررہے ہیں،تقسیم کا کام تو فیڈرل حکومت کو کرنا ہی نہیں چاہیے 50 سال سے آپ کر رہے ہیں،

    حکام نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں کو لکھ لکھ کر تھک گئے کہ تقسیم کی ذمہ داری آپ اٹھائیں، ہم تو چاہتے ہیں کیسکو بلوچستان حکومت لے لے وہ تیار نہیں ہیں۔سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے کہاکہ آئی پی پیز سے متعلق ورکنگ پیپر ہمیں نہیں دیا گیا،اسپیشل سیکرٹری پاور نے کہاکہ آئی پی پیز والا ورکنگ پیپر آپ کو نہیں دے سکتے، یہ پاور سیکٹر کا پوشیدہ مرض ہے، زرقا سہروردی تیمور نے کہاکہ آپ نے 24 کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور کہہ رہے ہیں پوشیدہ مرض ہے، آپ کیوں ان کو پروٹیکٹ کر رہے ہیں، آپ نے جو بات کہی اس پر پریشان ہوگئی ہوں ،پاکستان کی عوام کا حق ہے کہ آپ وہ کنٹریکٹ ہم سے شیئر کریں، آئی پی پیز نے ہر گھر میں مصیبت ڈالی ہوئی ہے، یہ پبلک ہونا چاہئے کہ آئی پی پیز کے مالک کون ہیں؟ آپ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کیوں نہیں کراتے؟

    آئی پی پیز سے معاہدے ختم نہیں ہوں گے، بجلی کی قیمتوں میں جلد کمی کی امید

    آئی ایم ایف نے کہا آئی پی پیز سے معاہدے بدلیں،لیکن ہمارے وزیراعظم..؟

    حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کی کوشش میں سنگین چیلنچز کا سامنا

    آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا کر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

    آئی پی پیز کا مسئلہ: سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کا فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

    آئی پی پیز کیساتھ معاہدہ فی الفور ختم کیا جائے،مصطفیٰ کمال

    بجلی کا زیادہ، دو بھائیوں میں جھگڑا، بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    گھروں میں بجلی کی لٹکتی ننگی تاریں، شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ،لیسکو کی بے حسی

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    پاکستان ان کمپنیوں کو اربوں کی ادائیگی کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں۔گوہر اعجاز

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف